تہمت لگا کے ماں پہ جو دشمن سے داد لے ; ایسے سخن فروش کو مر جانا چاہئے

کچھ فیصلہ تو ہو کہ کدھر جانا چاہئے
پانی کو اب تو سر سے گزر جانا چاہئے

نشتر بدست شہر سے چارہ گری کی لو
اے زخم بے کسی تجھے بھر جانا چاہئے

ہر بار ایڑیوں پہ گرا ہے مرا لہو
مقتل میں اب یہ طرز دگر جانا چاہئے

کیا چل سکیں گے جن کا فقط مسئلہ یہ ہے
جانے سے پہلے رخت سفر جانا چاہئے

سارا جوار بھاٹا مرے دل میں ہے مگر
الزام یہ بھی چاند کے سر جانا چاہئے

جب بھی گئے عذاب در و بام تھا وہی
آخر کو کتنی دیر سے گھر جانا چاہئے

تہمت لگا کے ماں پہ جو دشمن سے داد لے
ایسے سخن فروش کو مر جانا چاہئے
پروین شاکر




Post a Comment

Thank you for your valuable comments and opinion. Please have your comment on this post below.

Previous Post Next Post