کسی نے جوش یا جذبہ اُبھارا ، مارا جائے گا، مکمل شاعری پڑھنے کے لئے لنک پر کلک کریں

کسی نے جوش یا جذبہ اُبھارا ، مارا جائے گا

کسی نے جوش یا جذبہ اُبھارا ، مارا جائے گا
مدد کو جوکئی اب کے پُکارا ، مارا جائے گا

جو جیتا اب لڑائی میں وہی زندہ رہے گا بس
یہاں مدِ مقابل سے جو ہارا، مارا جائے گا

فقط اعمال ہی زندہ رہیں گے رہتی دنیا تک
کوئی جتنا بھی ہے پیارے سے پیارا ، مارا جائے گا

مجھے پہلے بھی سولی پر اسی سچ نے چڑھایا تھا
مجھے لگتاہے مجھ کو اب دوبارہ ، مارا جائے گا

جو اپنی حد سے آگے بڑھنے کی کوشش کریگا تو
ہر اِ ک شیطان کے سرپر ستارا ، مارا جائے گا

کوئی روزی کو نکلا تھا ، کوئی تعلیم کی خاطر
خبر کس کو تھی کہ ایسے بچارا ، مارا جائے گا

نویدہرزا سرائی کہتے ہیں اس کو جہاں والے
کوئی حق کیلئے اب کے پکارا ، مارا جائے گا

نویدؔ ستاری

Post a Comment

Thank you for your valuable comments and opinion. Please have your comment on this post below.

Previous Post Next Post