-->

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

23 دسمبر، 2020

چترال کے علاقے لاسپور میں 11 سالہ بچی کی شادی، لڑکی اعویٰ یا والدین کی رضا مندی : تفصیل پڑھیں

 

چترال کے علاقے لاسپور میں 11 سالہ بچی کی شادی، لڑکی اعویٰ یا والدین کی رضا مندی : تفصیل پڑھیں

چترال (مانیٹینرنگ ڈیسک) چترال کے دور دراز علاقے لاسپور میں 11 سال کی بچی کی شادی 29 سال کے جوان سے کرادی گئی۔ پاکستان میں  لڑکی اور لڑکے کے لئے شادی کی عمر 18 سال ہے۔ جس سے کم عمر میں شادی قانوناً جرم ہے۔ اور قانون پاکستان کی شدید خلاف ورزی ہے۔ 

پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے نکاح خوان اور 29 سالہ جوان کر گرفتا کر لیا ہے اور واقعے میں ملوث دیگر افراد کے خلاف میرج ایکٹ کی خلاف ورزی پر مقدمہ درج کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بچی کے والد نے درخواست دائر کردی تھی کہ اس کی معصوم بچی کو پھنسا کر شادی کی گئی ہے۔ والد نے ایف آئی آر میں شکایت درج کرائی ہے کہ نوجوان نے بہلا پھسلا کر بچی کو اغوا کیا۔ ۔ بچی کے والد کا یہ بھی کہنا ہے کہ اغوا کے بعد بچی کو دوسرے گاؤں لے جاکر نکاح پڑھوایا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق دو تین روز پہلے ان کی بیٹی گھر سےغائب ہوئی تھی۔ والد کی جانب سے بیٹی کو بہلا پھسلا کر اس کا نکاح کرنے کا مقدمہ درج کروایا گیا ہے۔ والد کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی کو اغوا کر کے بہلا پھسلا کر شادی کرنے والے ان کے قریبی رشتہ دار ہیں جن کا ان کے گھر آنا جانا تھا۔

پولیس ذرائع  کے مطابق نکاح کی باقاعدہ تقریب بھی ہوئی۔ ڈی پی او نے بی بی سی کو بتایا کہ کہ چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت کارروائی کی گئی ہے اور ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ نکاح پڑھوانے والے مولوی اور ایک گواہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے معاملہ اب ایف آئی آر کے بعد کورٹ میں جائے گا۔

ڈی پی او کا کہنا ہے کہ چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت کارروائی کی گئی ہے اور ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ بچی ملزم کے ساتھ اپنی مرضی سے گئی تھی وہ ان کا رشتہ دار تھا۔ انہوں نے خوشی سے وہاں نکاح کر لیا تھا۔ ہمیں پتہ چلا چونکہ یہ چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کے تحت آتا ہے اس لیے ہم نے اس کے خلاف پرچہ کاٹا ہے۔ لڑکی بھی بازیاب کروا لی ہے اور لڑکے کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔

سن 2019 میں ، پاکستانی سینیٹر شیری رحمان کے ذریعہ متعارف کرایا جانے والا بل ، پاکستانی سینیٹ میں منظور کیا گیا تھا تاکہ خواتین کی شادی کی کم از کم عمر 18 سال کردی جائے۔  اس بل کا مقصد پاکستان میں بچوں کی شادی کو ختم کرنا تھا۔ یہ بل بھاری اکثریت سے منظور کیا گیا۔ تاہم ، کچھ پاکستانی مذہبی سیاسی جماعتوں جیسے جمیعت علمائے اسلام (جے یو آئی-ف) اور جماعت اسلامی (جے آئی) نے اس بل کی مخالفت کی۔ فریقین نے دعوی کیا کہ یہ بل اسلام کے خلاف ہے۔ تاہم ، سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ عمان ، ترکی اور متحدہ عرب امارات جیسے مسلم ممالک نے شادی کی کم از کم عمر کے طور پر پہلے ہی 18 سال مقرر کر رکھے ہیں۔ 

مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 جو 15 جولائی ، 1961 میں لاگو ہوا تھا۔ جس میں بچی کی عمر میں 14 سے بڑھا کر 16 سال کردی گئی تھی۔ اور مسلم شہریوں کے لئے مردوں کی عمر 21 سال سے کم کرکے 18 سال کردیا گیا تھا۔ 

اس ایکٹ میں1961 کے آرڈیننس میں ترمیم کے بعد کہا گیا ہے کہ جو بھی 18 سال سے زیادہ عمر کا مرد ہے ، 16 سال سے کم عمر کی لڑکی سے شادی کرتا ہے ، اسے ایک ماہ تک کی عمومی قید کی سزا ہوسکتی ہے ، یا 1000 روپے تک جرمانہ یا دونوں کے ساتھ۔ (یہ سزا بہت کم اور معمولی ہے)


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

www.myvoicetv.com

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں