پانی حیات : آپ پانی کے بغیر کتنی دیر تک زندہ رہ سکتے ہیں؟

آپ پانی کے بغیر کتنی دیر تک زندہ رہ سکتے ہیں؟

دریا زیادہ دور نہیں تھا۔ چاز پاول دریائے زمبیزی کو چند سو میٹر کے فاصلے پر گھاٹی میں پتھروں کے ساتھ ٹکرا کے گھومتا ہوا دیکھ سکتے تھے۔ یہ بہت زیادہ قریب تھا، لیکن پھر بھی ان کی پہنچ سے باہر تھا۔ پاول کہتے ہیں کہ ’ میں یہ بیان نہیں کرسکتا کہ میں کتنا پیاسا تھا۔‘

اونچی چٹان کی چوٹی پر چڑھتے ہوئے ان کے پاس پانی ختم ہو گیا تھا اور وہ نیچے اتر کر اسے ندی سے نہیں لا سکتے تھے۔ اپنے آپ کو لاحق ایک خطرناک صورتحال کو یاد کرتے ہوئے پاول کہتے ہیں کہ انھیں گھبراہٹ کا ایک زبردست احساس ہوا تھا اور انھیں اس بات پر تشویش ہو رہی تھی کہ پینے کے لیے پانی وہ کس طرح حاصل کر سکیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اس وقت تک میں واقعی میں بیمار ہونے لگا تھا۔ میں زیادہ گرم ہونا شروع ہو گیا تھا اور میرے جسم کا درجہ حرارت انتہائی زیادہ ہو گیا تھا۔‘

پاول، جو کہ برطانیہ کے علاقے شروپ شائر کے ایک گائیڈ ہیں، ایسا تجربہ حاصل کرنے والے تھے کہ کیا ہو اگر ہم اس چیز کے بغیر کہیں پھنس جائیں جس کے متعلق ہم میں سے اکثر کچھ سوچتے ہی نہیں اور بغیر کسی شکریے کے اپنا حق سمجھ کر لے لیتے ہیں۔

زیادہ تر ترقی یافتہ ممالک میں، صاف پانی تک رسائی اتنی ہی آسان ہے جتنا نل کی ٹونٹی کو گھومانا۔ ان جگہوں پر لوگ بغیر کچھ سوچے سمجھے روزانہ دانت صاف کرتے ہوئے، شاور اور ٹوائلٹ فلش کرتے ہوئے اس کے کئی گیلن ضائع کر دیتے ہیں لیکن دنیا بھر میں تقریباً 1.1 ارب افراد کو پینے کے صاف پانی تک رسائی نہیں ہے، اور مجموعی طور پر 2.7 ارب افراد کے لیے سال میں کم از کم ایک مہینے تک پانی تک رسائی مشکل ہوتی ہے۔

پانی زمین پر زندگی کے لیے ایک بنیادی جز ہے اور ہمارے جسم بنیادی طور پر اس سے بنے ہوئے ہیں۔ جب ہمیں مجبوراً پانی کے بغیر رہنا پڑتا ہے تو واقعی چیزیں بہت تیزی سے بری ہو سکتی ہیں۔ پاول کو اس کا تجربہ اس وقت ہوا جب وہ زیمبیا میں دریائے زمبیزی کے منبع سے اس کے ساتھ ساتھ دو مہینے اکیلے پیدل چلے۔ انھوں نے نمبیا اور بوٹسوانا کی سرحد کے ساتھ مشرقی انگولا میں دریا کا راستہ اپنایا، اور آخر کار وہ وکٹوریا فالز کے بعد زیمبیا اور زمبابوے کی سرحد پر گھاٹیوں کے نزدیک جا پہنچے۔ اس جگہ سے آگے پیدل جانا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔

پاول کہتے ہیں کہ گھاٹیاں بہت ڈھلوان والی چٹانیں ہیں اور وہ 150 میل دور تک اس کے لینڈ سکیپ میں پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ 2016 میں اگست کا مہینہ تھا اور سال کا گرم ترین وقت تھا، اور دن میں درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا تھا۔ پاول جو اس وقت 38 سال کے تھے، سال کے انہی دنوں میں یہاں پیدل چلتے تھے تاکہ بیروٹسے فلڈپلینز سے بچا جا سکے جو سارا وقت 90 فیصد پانی ہی میں ڈوبے رہتے ہیں۔ ان کا ٹریک اچھا جا رہا تھا، اور وہ ہر دن 20 میل کے قریب سفر کر لیتے تھے لیکن گھاٹیوں میں پہنچنے کے بعد پاول کی رفتار کافی کم ہو گئی تھی۔ ’میں بڑے پتھروں کے اوپر سے گزرتا ہوا پورے دن میں شاید کچھ ہی میل پیدل چلتا۔ وہ بہت سست تھا۔‘

پاول نے اندازہ لگایا کہ اگر یہی رفتار رہی تو انھیں گھاٹیوں کے دوسری طرف جانے میں ایک مہینے سے زیادہ لگ جائے گا، میلوں تو کہیں کوئی لوگ نہیں تھے اور ان کا کھانا بھی ختم ہونا شروع ہو گیا تھا۔ ’جب میں وہاں تھا تو جو واحد چیز مجھے نظر آئی وہ پتھر پھینکتے ہوئے لنگور اور اس بڑی گھاٹی میں دریا کے نشیب میں جاتے ہوئے تیز دھارے تھے۔ ‘

دو ہفتے گھاٹی میں راستہ تلاش کرنے کے بعد پاول نے فیصلہ کیا کہ انھیں کوئی اور راستہ اپنانا چاہیئے۔ نقشے پر انھوں نے دیکھا کہ ایک اور دریا زمبیزی کی طرف جا رہا ہے اور یہ کافی بڑا دریا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میں نے اپنے آپ سے کہا کہ اگر میں اوپر چڑھ جاؤں تو اس دوسرے دریا تک پہنچنے میں تقریباً 12 میل لگ جائیں گے لیکن مجھے اس وقت یہ علم نہیں تھا کہ زمین کے اوپر کی جگہ کیسی ہو گی۔ میں نے سوچا کہ ممکنہ طور پر چار گھنٹے پیدل چلنا ہو گا، میں یہ کر سکتا ہوں۔‘

پاول نے دو لیٹر پانی کی بوتلوں کے ساتھ صبح چار بجے گھاٹی پر چڑھنا شروع کیا۔ وہ پہلے زمبیزی سے ہی پانی پی لیا کرتے تھے، اس لیے انھوں نے اس طرف دھیان ہی نہیں دیا کہ انھیں مزید پانی ساتھ لے لینا چاہیئے۔ جب انھوں نے پیدل چلنا شروع کیا تو اس وقت ہی درجہ حرارت 48 ڈگری پر پہنچ چکا تھا، وہ تین گھنٹے کے بعد گھاٹی سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے، جو کہ ان کے خیال میں 2,475 فٹ اور ایک کلو میٹر کے درمیان کی چڑھائی تھی۔ اس وقت تک ان کے پاس پانی کی صرف ایک بوتل رہ گئی تھی لیکن جب وہ چوٹی پر پہنچے تو انھوں نے جو دیکھا وہ اس کی توقع نہیں کر رہے تھے۔

پاول کہتے ہیں کہ ’میرے ذہن میں تھا کہ چوٹی بالکل ہموار ہو گی اور اس پر چلنا آسان ہو گا، لیکن وہاں بہت زیادہ تعداد میں کانٹے اگے ہوئے تھے اور وہ بس پاڑیوں کا ایک سلسلہ تھا جو گھاٹی کی طرف نیچے جا رہا تھا۔‘ راستے کی تلاش میں تین گھنٹے دائروں میں چلنے کے بعد ان کے پاس پانی بالکل ختم ہو گیا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں شاید کچھ کلو میٹر ہی پیدل چل سکا تھا۔ اور میں گھاٹی سے بھی نہیں نکل پایہ تھا۔ سو میں نے فیصلہ کیا کہ میں واپس نیچے جانے کی کوشش کروں گا۔‘ لیکن وہ جس جگہ سے اوپر آئے تھے وہ اب اس سے کہیں دور تھے، اور وہ چوٹی کے بالکل سرے پر تھے۔ وہ دور نیچے گھاٹی میں دریا دیکھ سکتے تھے، لیکن نیچے جانے کا کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا تھا۔

اوسطاً، پانی انسانی جسم کا تقریباً 60 ، 70 فیصد حصہ ہوتا ہے، جس کا انحصار زیادہ تر آپ کی عمر پر ہوتا ہے۔ ہمارے جسم سے پانی پیشاب، پسینے، فضلے اور سانسوں کے ذریعہ نکلتا ہے، لہذا ہمیں اس کی کمی کو مستقل طور پر پانی پی کر اور کچھ کھا کر پورا کرنا ہوتا ہے۔ (جو پانی ہم استعمال کرتے ہیں اس کا ایک تہائی حصہ ہمارے کھانے سے آتا ہے)۔ اگر ہم ایسا نہیں کرتے ہیں تو، ہمارے جسم پانی کی کمی کا شکار ہو سکتے ہیں۔

پانی کی کمی کا پہلا مرحلہ پیاس کا ہوتا ہے، جو اس وقت شروع ہوتا ہے جب ہمارے جسم کا 2 فیصد وزن کم ہو چکا ہوتا ہے۔ گیسٹرو انٹیسٹائنل سرجری کے پروفیسر دلیپ لوبو کہتے ہیں کہ ’جب پیاس لگتی ہے تو آپ کا جسم باقی تمام نمی نچوڑنے کی کوشش میں لگ جاتا ہے۔ آپ کے گردے آپ کے مثانے میں کم پانی بھیجتے ہیں، جس سے آپ کا پیشاب گہرا ہو جاتا ہے۔ جیسے جیسے آپ کو کم پسینہ آتا ہے، آپ کے جسم کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے۔ آپ کا خون گاڑھا اور سست ہو جاتا ہے۔ آکسیجن کی سطح کو برقرار رکھنے کے لیے آپ کے دل کی دھڑکن کی شرح میں اضافہ ہو جاتا ہے۔‘

جس شرح سے ڈی ہائیڈریشن یا پانی کی کمی ہوتی ہے، وہ جسم کے ساتھ ہونے والی شدت کے مطابق بدلتی رہتی ہے، لیکن اگر 50 ڈگری سینٹی گریڈ کے درجہ حرات پر پانی نہ ہو، اور اس کے ساتھ ساتھ انتہائی ورزش بھی ہو رہی ہو تو پانی کی کمی بہت تیزی سے مہلک بھی ہو سکتی ہے۔ لوبو کہتے ہیں کہ ’انسانوں میں گرمی کی شدت برداشت کرنے کی ایک حد ہے، اس سے آگے ہم گرمی کے تناؤ اور یہاں تک کہ موت کا بھی شکار ہوتے ہیں۔ انتہائی سردی کے دنوں میں بھی اموات کی شرح بڑھتی ہے، لیکن انتہائی گرم دنوں میں اس میں تیزی سے اضافہ ہو جاتا ہے۔‘

گرم ماحول میں ورزش کرتے وقت انسانی جسم میں ہر گھنٹے میں 1.5 سے 3 لیٹر تک پانی نکل جاتا ہے۔ اس کے علاوہ 100 سے1500 ملی لیٹر پانی سانس کے ساتھ خارج ہونے والی نمی سے نکل سکتا ہے، لیکن اس کا انحصار آس پاس کی ہوا کی نمی پر بھی ہوتا ہے۔

اس کا انسانی جسم پر بہت گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔ یہاں تک کہ ہلکی سی پانی کی کمی بھی ہمیں تھکا دیتی ہے اور ہماری جسمانی کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے۔ جیسے ہی ہمارا زیادہ پانی نکلتا ہے تو ہماری پسینے کے ذریعے ٹھنڈا ہونے کی صلاحیت بھی کم ہوتی رہتی ہے، جس سے زیادہ گرمی مزید خطرہ بن جاتی ہے۔

جب ہمارے جسم سے زیادہ پانی نکلتا ہے اور کم اندر آتا ہے تو ہمارا خون گہرا ہونا شروع ہونے لگتا ہے اور زیادہ مرتکز یا گہرا ہو جاتا ہے، مطلب کہ ہمارے قلبی نظام کو ہمارے بلڈ پریشر کو برقرار رکھنے کے لیے زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے۔ ہمارے گردے کم پیشاب پیدا کر کے زیادہ سے زیادہ پانی برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، ہمارے خلیوں سے بھی پانی باہر نکل کر ہمارے خون کے دھارے میں شامل ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کا سائز سکڑ جاتے ہیں۔ جب ہم اپنے جسم کا 4 فیصد پانی کھوتے ہیں تو ہمارا بلڈ پریشر گر جاتا ہے اور ہم بے ہوش ہو سکتے ہیں۔

جب جسم کا سات  فیصد وزن کم ہو جاتا ہے تو پھر تیسرا مرحلہ آتا ہے جب اعضاء کو نقصان پہنچنا شروع ہوتا ہے۔ لوبو کا کہنا ہے کہ ’آپ کے جسم کو بلڈ پریشر کو برقرار رکھنے میں پریشانی ہو رہی ہے۔ زندہ رہنے کے لیے جسم کے غیر اہم اعضاء ، جیسا کہ گردے اور آنتیں، کو خون کی فراہمی آہستہ ہو جاتی ہے، جس سے نقصان ہوتا ہے۔ آپ کے گردوں کے خون کو فلٹر کرنے کے بغیر خلیوں کے فضلے جلدی سے جمع ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ اور آپ واقعی ایک گلاس پانی نہ ملنے پر مر رہے ہیں۔‘ لیکن اس کے باوجود بھی کچھ لوگ نہ صرف اس طرح کی شدید پانی کی کمی سے بچ سکتے ہیں بلکہ وہ اعلیٰ سطح پر پرفارم بھی کرتے رہتے ہیں۔

لانگ ڈسٹنس (لمبی دوڑ) کے رنر اور کوچ البرٹو سلازار نے 1984 کے اولمپک میراتھن کے دوران لاس اینجلس کی گرمی میں ایک تخمینے کے مطابق فی گھنٹہ 3.06 لیٹر پسینہ بہایا اور ان کا جسمانی وزن 8 فیصد کم بھی ہو گیا تھا۔ تاہم سالازار نے میراتھن کے بعد اپنے آپ کو جلدی سے دوبارہ ہائیڈریٹ کیا اور طبی ماہرین کی ایک ٹیم نے ان کی دیکھ بھال کی۔

جب آبی وسائل تک پہنچنے کا کوئی طریقہ نظر نہ آیا تو پاول نے مدد لینے کا فیصلہ کیا۔ وہ اپنے ساتھ ایک ایس او ایس فون لے کر آئے تھے جو امریکہ میں قائم ایک کمپنی کے ساتھ منسلک تھا۔ انھوں نے اس فون کو ایکٹیویٹ کیا لیکن جب ان کا فون کنکٹ ہوا تو کمپنی والوں کو ان کے آس پاس مدد کے لیے کوئی شخص بھی نہ مل سکا۔ ان میں گھبراہٹ شروع ہو گئی۔

پاول نے مایوس ہو کر خشک مٹی میں ایک سوراخ کیا تاکہ اپنے آپ کو ٹھنڈا رکھ سکیں، اور دوبارہ ہائیڈریٹ کرنے والے ایک ساشے کے ساتھ اپنے ہی پیشاب کو ملا کر پینا شروع کر دیا۔ ایک صحت مند بالغ کے پیشاب میں 95 فیصد پانی ہوتا ہے اور باقی فضلہ جو گردوں سے آتا ہے، اس میں نمکین پانی اور امونیا شامل ہوتا۔ جب کوئی ڈی ہائیڈریٹ ہوتا ہے تو اس میں پانی کے اجزا نمایاں طور پر کم ہو جاتے ہیں، جس سے یہ پانی سمندر کے پینے جیسا ہو جاتا ہے۔

لوبو کہتے ہیں کہ ’اگرچہ قلیل مدت میں ری ہائیڈریٹ کرنے کے لیے پیشاب پینا محفوظ ہے، پانی کی کمی کا جسمانی ردعمل نمک اور پانی کو بچانا ہے۔ پیشاب کی پیداوار میں کمی واقع ہو جاتی ہے، اور بالآخر انسان گردے کی شدید تکلیف اور انوریا (جہاں گردے پیشاب پیدا کرنے میں ناکام ہوجاتے ہیں) میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ لہذا، درمیانی مدت میں پیشاب کی مقدار کافی حد تک ہائیڈریشن برقرار رکھنے کے لیے کافی نہیں ہو گی۔‘

پانی کی اچھی مقدار کے بغیر ری ہائیڈریشن والی نمکیات شامل کرنے سے پاول میں نمک اور چینی کی کمی پوری ہو سکتی ہے، لیکن اس سے اس کے جسم میں مزید منفی عدم توازن پیدا ہونے کا خطرہ بھی ہے۔ انتہائی کیسز میں نمک کی سطح میں عدم توازن دوروں اور یہاں تک کہ دماغی ہیمرج یا دماغ کی نس پھٹنے کا باعث بن سکتی ہے۔

پاول اپنے سوراخ میں تو ٹھنڈے ہو رہے تھے لیکن اس ساتھ ہی ان میں تیزی سے مزید پانی کی کمی واقع ہو رہی تھی۔ انھیں ’والکنگ دی نائیل‘ نامی ایک دستاویزی فلم یاد آئی جس میں صحافی لیویسن ووڈ کو دریا کی لمبائی ماپتے ہوئے لو لگ گئی تھی۔ پاول کہتے ہیں کہ ’مجھے یاد ہے کہ میں نے سوچا یہ واقعی جلدی ہو گیا تھا۔ لہذا، میرے دماغ میں تھا کہ میں بہت زیادہ گرم ہو رہا ہوں، یہ میرے ساتھ ہو رہا ہے، میں واقعی بیمار ہو رہا ہوں۔‘

آخر کار ایس او ایس ٹیم نے پاول کو بتایا کہ وہ اس کے پاس ایک ہیلی کاپٹر بھیج سکتے ہیں، لیکن اس میں چار گھنٹے لگیں گے۔ ان کو یاد ہے کہ انھوں نے سوچا کہ ’چار گھنٹوں میں تو میں مر جاؤں گا۔۔۔ آخر کار میں نے اپنے آپ سے کہا کہ میں یہاں بیٹھنے کے بجائے بہاڑ سے گرنے کو ترجیح دوں گا۔‘ انھوں نے پہاڑ کا معائنہ کیا اور دیکھا کہ کچھ درختوں کی جڑیں باہر کی طرف نکلی ہوئی تھیں جنھیں پکڑا جا سکتا تھا، سو انھوں نے نیچے اترنے کی کوشش کا فیصلہ کیا ، لیکن وہ 15 فٹ نیچے گر گئے اور اس دوران ان کی ناک بھی پھٹ گئی۔

ان کے اترنے کی کوشش کرنے کے فیصلے کے پیچھے بھی پانی کی کمی کا کچھ ہاتھ ہو سکتا ہے۔ جیسا ڈی ہائیڈریشن خراب ہوتی جاتی ہے تو اس سے ہمارے دماغوں کے کام کرنے پر بھی اثر پڑتا ہے، اور اس سے ہمارے مزاج اور واضح طور پر سوچنے کی صلاحیت میں خلل پڑتا ہے۔ ہمارے دماغوں میں خون کا بہاؤ، اور خود دماغ کا حجم کم ہو جاتا ہے۔ ہلکی سے لے کر اعتدال پسند سطح تک ڈی ہائیڈریشن ہماری مختصر مدت کی یادداشت، ہماری چوکسی، ریاضی کی صلاحیت اور ہم آہنگی کی مہارت کو خراب کر سکتی ہے، خصوصاً جب ہم گرم ماحول میں سخت سرگرمیاں انجام دے رہے ہوتے ہیں۔ کچھ تحقیق بتاتی ہیں کہ ڈی ہائیڈریشن کی وجہ سے ڈیلیریم یعنی ذہنی خلفشار بھی ہو سکتا ہے۔ ایسا خصوصاً عمر رسیدہ مریضوں میں ہوتا ہے۔

اڈرینالین اور زندہ رہنے کی خواہش کی وجہ سے پاول چلتے گئے، اور پہاڑ پر انھیں جو بھی ملا اسے پکڑ کر آگے بڑھتے گئے۔ جب وہ ایک کنارے پر پہنچے تو کچھ دیر کے لیے بے ہوش بھی ہوئے، لیکن پھر انھیں ہوش آ گیا۔

وہ کہتے ہیں ’میرے ہاتھوں سے خون بہہ رہا تھا، میرا چہرا خون میں نہایا ہوا تھا، میری ٹانگیں زخمی تھیں۔‘ لیکن اس کے باوجود پاول تقریباً ایک گھنٹہ اپنے آپ کو پہاڑ سے نیچے دھکیلتے رہے، یہاں تک کہ وہ دریا تک پہنچ گئے۔ وہ وہاں ایک گھنٹہ بیٹھے، سانس درست کیا اور پانی پیا، اس کے بعد انھوں امدادی کارکنوں کو سیٹلائٹ فون کے ذریعے بتایا کہ وہ اب بہتر ہیں۔

لندن میں کام کرنے والی نیٹلی ککسن، جو کہ ہنگامی میڈیکل ٹرینی ڈاکٹر ہیں، کہتی ہیں کہ ’چاز نے اپنے آپ پانی اور سایہ کی فراہمی کی وجہ سے بچایا… سائے میں آرام کرنے سے جسم کے درجہ حرارت میں کمی آتی ہے، جس سے ڈی ہائیڈریشن کا عمل سست ہوتا ہے۔‘

سب سے اہم بات یہ ہے کہ جب پاول بالآخر پینے کے پانی تک پہنچے تو ان کا کھویا ہوا مادہ پانی پینے سے واپس آ گیا۔ کوکسن کہتی ہیں کہ ’ڈی ہائیڈریشن واپس کی جا سکتی ہے اور جسم کو پانی ملنے کے بعد مکمل صحت یابی ہو سکتی ہے۔‘

اگر وہ ری ہائڈریٹ کرنے میں کامیاب نہ ہوتے تو پاول کے گردے ناکارہ ہونا شروع ہو جاتے۔ پانی کی مناسب فراہمی کے بغیر جو گردوں میں سے گزر رہا ہوتا ہے، زہریلا مادہ بننا شروع ہو جاتا ہے، جس سے گردے صحیح طور پر کام کرنا بند کر دیتے ہیں۔ اس سے گردوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے جسے ایکیوٹ ٹیوبلر نیکروسس کہتے ہیں، جو کئی مرتبہ ری ہائیڈریشن کے باوجود بھی مکمل ٹھیک ہونے میں ہفتوں لیتا ہے۔

ان کے دل پر اضافی دباؤ بھی دل کی دھڑکن کو بے قابو کر سکتا ہے، بلڈ پریشر گر سکتا اور ممکنہ طور پر دورے کا سبب بھی بن سکتا تھا۔ ڈی ہائیڈریشن بھی قلبی نظام کے اہم حصوں، جیسا کہ خون کی نالیاں، کو سخت کرنے کا سبب بن سکتی ہے، جس سے دل کے دورے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

گرم آب و ہوا میں ڈی ہائیڈریٹ ہونے سے مسئلہ اور بڑھ جاتا ہے۔جسم اس حرارت کو کنٹرول کرنے سے قاصر ہوتا ہے جس کی وجہ سے معمول کے میٹابولک پاتھویز میں اہم اینزائم یا خمرے تباہ ہوجاتے ہیں ، جس کے نتیجے میں دماغ، دل اور پھیپھڑوں جیسے اعضاء￿  غیر فعل ہوجاتے ہیں۔ آخر کار اس سے دورے پڑ سکتے ہیں، انسان کوما میں جا سکتا ہے اور جب اعضاء  فیل ہونا شروع ہو جائیں تو موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔

قطعی طور پر اس پر ابھی بھی بڑی بحث ہوتی ہے کہ پانی کے بغیر انسان کتنی دیر تک زندہ رہ سکتا ہے۔ زیادہ تر سائنس دان اس بات پر متفق ہیں کہ انسان بغیر کچھ کھائے پیے صرف کچھ دن ہی زندہ رہ سکتا ہے۔ 1944 میں دو سائنس دانوں نے خود کو پانی سے محروم رکھا۔ ایک نے تین دن کے لیے اور دوسرے نے چار دن کے لیے لیکن وہ خشک خوراک کھاتے رہے لیکن اپنے تجربے کے آخری دن دونوں کو خوراک نگلنے میں دشواری دشواری ہو رہی تھی، ان کے چہرے ’کسی حد تک بیمار اور اور زرد‘ ہو چکے تھے، لیکن انھوں نے اپنی حالت مزید خراب ہونے سے پہلے ہی تجربے کو روک دیا۔

پانی کے بغیر رہنے کی صلاحیت بھی مختلف لوگوں میں مختلف ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ایسی بھی شہادت ہے کہ انسانی جسم پانی کی اس سطح کے مطابق ڈھل سکتا ہے جو ایک شخص باقاعدگی سے استعمال کرتا ہے۔ پانی کے بغیر سب سے طویل عرصہ تک رہنے والے آسٹریا کے 18 سالہ آندرے میہاویچ ہیں جو 1979 میں 18 دن تک پولیس سیل میں بند رہے تھے اور انھیں گرفتار کرنے والا ڈیوٹی پر مامور افسر ان کے بارے میں بھول گئے تھے۔ ان کی مثال گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی دی گئی ہے۔

اگرچہ ہم میں سے بہت کم لوگوں کو ہی اس طرح کی شدید ڈی ہائیڈریشن کا سامنا پڑ سکتا ہے، لیکن تقریباً چار ارب افراد سال کے کم از کم ایک مہینے میں پانی کی شدید قلت کا سامنا کرتے ہیں۔ آب و ہوا کی تبدیلی سے بھی دنیا کے بہت سارے حصوں میں صاف پانی کی فراہمی تک رسائی مشکل ہو سکتی ہے۔ کچھ اندازوں کے مطابق ، 2025 تک دنیا کی تقریباً دو تہائی آبادی کو پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

جہاں تک پاول کا تعلق ہے، ان کی آزمائش تو سخت گرمی میں پانی کے بغیر صرف 10 گھنٹے رہنے کی تھی۔ وہ خوش قسمت تھے۔ لیونگسٹن لوٹ آنے اور ایک ہفتہ آرام کرنے کے بعد، وہ ایک مختلف راستہ اختیار کرتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھنے میں کامیاب رہے تھے۔ انھوں نے اپنا پیدل سفر 137 دن میں مکمل کیا۔ اگرچہ ان کا تجربہ صبر کا ایک سبق تھا، لیکن اس نے انھیں یہ بھی سکھایا کہ پانی کتنا ضروری ہے۔ 

وہ کہتے ہیں ’میں یقینی طور پر اس کو فار گرانٹڈ نہیں لوں گا۔‘

( بشکریہ بی بی سی )

Post a Comment

Thank you for your valuable comments and opinion. Please have your comment on this post below.

Previous Post Next Post