-->

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

21 دسمبر، 2020

خوبصورت شاعری : بدن چراتے ہوئے روح میں سمایا کر

 

بدن چراتے ہوئے روح میں سمایا کر 
میں اپنی دھوپ میں سویا ہوا ہوں سایا کر 

یہ اور بات کہ دل میں گھنا اندھیرا ہے 
مگر زبان سے تو چاندنی لٹایا کر 

چھپا ہوا ہے تری عاجزی کے ترکش میں 
انا کے تیر اسی زہر میں بجھایا کر 

کوئی سبیل کہ پیاسے پناہ مانگتے ہیں 
سفر کی راہ میں پرچھائیاں بچھایا کر 

خدا کے واسطے موقع نہ دے شکایت کا 
کہ دوستی کی طرح دشمنی نبھایا کر 

عجب ہوا کہ گرہ پڑ گئی محبت میں 
جو ہو سکے تو جدائی میں راس آیا کر 

نئے چراغ جلا یاد کے خرابے میں 
وطن میں رات سہی روشنی منایا کر 

ساقی فاروقی

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

www.myvoicetv.com

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں