-->

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

21 جنوری، 2021

آغاخان ہسپتال کی بڑی کامیابی ، اے کے یو ایچ کے ڈاکٹروں نے دوسری بار کامیاب سرجری سے 9 ماہ کے جڑے ہوئے بچوں کو الگ کردیا، دونوں صحت مند ہیں

 

آغاخان ہسپتال کی بڑی کامیابی ، اے کے یو ایچ کے ڈاکٹروں نے دوسری بار کامیاب سرجری سے 9 ماہ کے جڑے ہوئے بچوں کو الگ کردیا، دونوں صحت مند ہیں



کراچی (ٹائمزآف چترال نیوز 21 جنوری 2021): آغاخان ہسپتال کے ڈاکٹروں نے سرجری سے کامیابی سے 9 ماہ جڑے ہوئے بچوں کو الگ کردیا، دونوں صحت مند ہیں۔ مسٹر اور مسز اسرار احمد کے ہاں جڑواں بچے پیدا ہوئے جو آپس میں جڑے ہوئے تھے جن کے نام انہوں نے محمد عیان اور محمد امان  رکھا تھا۔ اسرار احمد نے بچوں کو اے کے یو لے کر گئے جہاں  12 دسمبر 2020 کو آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (اے کے یو ایچ) میں کامیاب سے سرجری کے بعد علیحدہ کریدیا گیا ہے اب دونوں بچے صحتمند زندگی گزار رہے ہیں۔

ایان اور اماں اومفالوپگس قسم کے مشترکہ جڑواں بچے تھے ، اومفالوپگس  دونوں بچے پیٹ سے آپس میں جڑے ہوئے ہوتے ہیں اور کئی اندرونی اعضاء مشترک ہوتے ہیں جیسا کہ جگر اور کبھی کبھی آنت بھی ۔ ان جڑواں بھائیوں نے جگر کا ایک چھوٹا سا حصہ شیئر کیا۔

بچوں کے والد نے کہاکہ بچوں کی پدائش کے بعد وہ خاصے پریشان تھے لیکن انہوں نے خواب مٰں دیکھا تھا کہ دونوں بچے الگ الگ تھے۔ اس خواب نے مجھے امید دلائی کہ میرے بچے صحیح سلامت الگ الگ ہوسکتے ہیں۔
اسرار نے کہا  ان باتوں کو جو وہ اے کے یو ایچ کے بارے میں سنی تھی۔ کو بیان کرتے ہوئے کہا  ‘میں اور میرے اہل خانہ کو یقین تھا کہ یہ اسپتال امیروں کے لئے ہے اور یہاں سے علاج کروانا ہمارے لئے کبھی ممکن نہیں ہوگا۔ 

لیکن ، میرے اللہ نے آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کو میرے بچوں کا نجات دہندہ بنا دیا۔ ڈاکٹروں نے ہمیں اخراجات کی فکر نہ کرنے کا کہا ، کیونکہ مریضوں کی فلاح و بہبود کے پروگرام کے ذریعہ ان کا خیال رکھا جائے گا۔

اس غیر معمولی مشکل سرجری کو انجام دینے کے اعلی سطحی  ہنر مند نگہداشت سے متعلق ماہرین کی ایک کثیر الشعبہ ٹیم نے مل کر احتیاط سے منصوبہ بندی کی ۔ ان ٹیموں میں ڈاکٹرز ، نرسز اور پیڈیاٹرک سرجری ، اینیستھیسیالوجی ، اور ریڈیالوجی کے تکنیکی ماہرین کو فعال طور پر شریک کیا گیا اور معدے کے ماہرین ، معدے کی سرجری اور نیورو سرجری کے ماہرین کو بھی شامل کیا گیا تھا۔ اس قسم کی پیچیدہ سرجری کو کامیابی سے انجام دینے کے لئے دونوں ٹیموں کے وسائل کو دوگنے انداز میں استعال کرنے کی ضرور ہوتی ہے۔ تاکہ دونوں کی جانوں کو سنبھالا جا سکے اور بچایا جاسکے۔

آغاخان ہسپتال کے ڈاکٹر ظفر نذیر نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا  'یہ ایک غیر معمولی سرجری ہے جو ہسپتال نے دوسری بار انجام دی ہے۔ اس سرجری کو کامیابی سے انجام دینے کے لئے آپریٹنگ روم کے اندر اور باہر دونوں وسائل کو میسر بنانے کے لئے بڑی حد تک کوشش ہوئی۔  لیکن، اس طریقہ کار کے اختتام پر، دونوں لڑکوں کو نئی زندگی ملتے ہوئے دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔

سرجری سے پہلے ، ایک اعلی درجے کی امیجنگ اور سہ جہتی پروٹو ٹائپنگ استعمال کی گئی۔ جسے نوعیت کو مکمل طور پر سمجھنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔ آغا خان یونیورسٹی اسپتال کے پیڈیاٹرک سرجن ڈاکٹر ظفر نذیر نے 50 سے زائد کلینیکل اور انتظامی عملے کی مدد سے 8 گھنٹے طویل سرجری قیادت کی۔
اینستھیسیولوجسٹ کا کردار بہت اہمیت کا حامل تھا ، کیونکہ انہیں یہ یقینی بنانا تھا کہ دونوں بچے پورے طریقہ کار میں مستحکم ہیں۔

اسرار احمد اور اس کی اہلیہ ہی واحد والدین نہیں ہیں جو مناسب علاج تلاش کرنے کے لئے اس تکلیف سے گزرے ہیں۔ بہت سارے ایسے خاندان ہیں جن کو شفقت کی نگہداشت اور اعلی معیار کے علاج کی اشد ضرورت ہے۔ اب اسرار اور اس کی اہلیہ بہت خوش ہیں کہ ان کے بچے الگ الگ ہوگئے اور ما شاء اللہ صحت مند زندگی گزار رہے ہیں۔




کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

www.myvoicetv.com

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں