-->

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

20 فروری، 2021

رکن قومی اسمبلی مولانا صلاح الدین ایوبی نے چترال سے تعلق رکھنے والی 14 سالہ لڑکی سے شادی کر لی

 

رکن قومی اسمبلی رکن قومی اسمبلی مولانا صلاح الدین ایوبی  نے چترال سے تعلق رکھنے والی  14 سالہ لڑکی سے شادی کر لی



چترال سے تعلق رکھنے والی لڑکی کی شادی بلوچستان کے رکن قومی اسمبلی مولانا صلاح الدین ایوبی سے کرائی گئی،پولیس نے تفتیش کا آغاز کر دیا

چترال (کرٹیسی اُردو پوائنٹ ۔ 20 فروری2021ء) رکن قومی اسمبلی مولانا صلاح الدین ایوبی نے 14 سالہ لڑکی سے شادی کر لی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ چترال سے تعلق رکھنے والی 14 سالہ لڑکی کی شادی بلوچستان کے رکن قومی اسمبلی مولانا صلاح الدین ایوبی سے کرائی گئی ہے، پولیس نے تمام صورتحال پر تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔چترال خواتین کی فلاح وبہبود کے لہے کام کرنے والی تنظیم کی درخواست پر پولیس نے کارروائی شروع کر دی ہے۔

کم عمری کی اس شادی کے خلاف چترالی خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی تنظیم نے پولیس میں درخواست دائر کی تھی۔ چترال پولیس نے درخواست موصول ہونے کی تصدیق کی ہے۔ آن لائن کی رپورٹ کے مطابق اس کیس کے انکوائری آفیسر ایڈیشنل ایس ایچ او رحمت عظیم کا کہنا ہے کہ اس کیس پر تفتیش شروع ہو چکی ہے۔

لڑکی کے خاندان والوں کا تعلق چترال کے قصبے دروش سے ہے، لیکن اس وقت یہ لوگ ضلع سے باہر ہیں۔

جب چترال آئیں گے تو کیس میں پیش رفت ہو گی۔ سکول ریکارڈ کے مطابق لڑکی کی تاریخ پیدائش ستمبر 2006 ہے اس طرح اس کی عمر 14 برس بنتی ہے۔ اس بارے میں انور علی خان ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ ملکی قانون کے مطابق شادی کے لیے لڑکی کی کم از کم عمر کی حد 16 سال مقرر ہے، اس سے کم عمر بچی سے شادی جرم کے زمرے میں آتی ہے۔ 16 سال سے کم عمر کے بچی کے شادی میں اگر والدین یا سرپرست کی رضامندی شامل ہو، تو وہ بھی جرم میں برابر کے شریک ہوں گے اور اس کے علاوہ نکاح خواں اور گواہ بھی جرم میں معاون سمجھے جائیں گے۔

تنطیم کے صدر جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ یہ کیس سوشل میڈیا پر آنے کے بعد ہم تفتیش کے لیے چترال پولیس کو باقاعدہ طور پر درخواست دی ہے۔تنظیم کے سربراہ کا کہنا ہے اس کیس میں چترال کی مقامی تنظیم اور پولیس دونوں کو بائی پاس کیا گیا ہے۔ لڑکی والد نے ہمیں لکھ کر دیا تھا کہ وہ اپنی بیٹی کی شادی چترال سے باہر نہیں کرائیں گے، اگر ایسا کچھ ہوا تو پولیس اور تنظیم کو اعتماد میں لیں گے۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اور تحریک تحفظ حقوق چترال کے چیئرمین پیر مختار نبی کا کہنا تھا کہ اس کیس میں قانونی ماہرین سے مشاورت جاری ہے اور وہ اس کے خلاف رٹ پٹیشن دائر کریں گے، تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔ ڈی پی او لوئر چترال سونیا شمروز خان کا کہنا ہے کہ لڑکی کے والد نے ہمیں سٹامپ پیپر پر لکھ کر دیا تھا کہ وہ ایسا کوئی کام نہیں کرے گا اور اگر اپنی بیٹی کی شادی چترال سے باہر کرانے سے پہلے لوکل پولیس کو اعتماد میں لے گا۔ ہماری اطلاعات کے مطابق لڑکی کا نکاح چترال سے باہر ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ ابھی اس کیس میں تفتیش جاری ہے۔اس کیس کے سلسلے میں مولانا صلاح الدین ایوبی سے موقف لینے کی کوشش کی لیکن کوئی کامیابی نہیں مل سکی۔

اس خبر کو اصل سورس پر پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں: اردو پوائنٹ

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

www.myvoicetv.com

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں