-->
اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

8 فروری، 2021

چترالی کی وادی ، وادی مڈکلشٹ میں برفانی کھیلوں کا ٹورنمنٹ احتتام پذیر ہوا۔ اس ٹورنمنٹ میں علاقے کے بچیوں نے بھی حصہ لیا

 

چترالی کی وادی ، وادی مڈکلشٹ میں برفانی کھیلوں کا ٹورنمنٹ احتتام پذیر ہوا۔ اس ٹورنمنٹ میں علاقے کے بچیوں نے بھی حصہ لیا




چترال(گل حماد فاروقی)  جنت نظیر وادی مڈکلشٹ میں برفانی کھیلوں کا ٹورنمنٹ سنو سپورٹس فیسٹیول احتتام پذیر ہوا۔ برفانی کھیلوں کا یہ دوسرا راؤنڈ تھا۔ اس ٹورنمنٹ کا اہتمام ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر نے کیا تھا۔ اس ٹورنمنٹ میں سنو سکینگ، سنو سکیٹنگ، میراتھن ریس، خواتین بیڈ منٹن وغیرہ شامل تھے۔ مقامی تنظیم نے اس ٹورنمنٹ میں حصوصی طور پر مڈگلشٹ کے بچیوں کو بھی کھیلنے کا موقع دیا تھا تاکہ وہ بھی ان کھیلوں میں حصہ لے سکے اور ان کی بھی حوصلہ افزائی ہو۔

سنو سکینگ اور سنو سکیٹنگ کے دوران لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیوں نے بھی برفانی میدان میں کھیل کر اپنی فن کا مظاہرہ کیا اور یہ ثابت کیا کہ ہم بھی کسی سے کم نہیں ہیں۔سنو سپورٹس فیسٹیول کے دوران بعض سیاحوں نے بھی قسمت آزمائی کی مگر وہ چند گز کے فاصلے پر جا کر اوندھے منہ جب گر پڑتے تو یہ شعر یاد آیا کہ، گرتے ہیں شاہ سوار ہی میدان جنگ میں، وہ طفل کیا کرے کہ جو گھٹنوں کے بل چلے۔

برفانی کھیلوں کے دوران کھلاڑیوں کی خون گرمانے کیلئے ثقافی شو کا بھی مظاہر ہ جاری تھا اور مقامی فن کار دف، ستار اور جیری کین کے ذریعے روایتی موسیقی بھی پیش کرتے تھے۔ اس دوران دستکاری کے مقامی فن پاروں کا نمائش بھی ہوا جس میں علاقے کے خواتین نے ہاتھ سے بنے ہوئے گرم بنیان، ٹوپی، شال وغیرہ نمائش اور فروخت کیلئے رکھے تھے۔

کھیل کے احتتام پر تقسیم انعامات کا بھی تقریب منعقد ہوا جس میں خیبر پحتون خواہ کی جانب سے سیاحت کا برانڈ سفیر کبیر افریدی مہمان حصوصی تھے جبکہ تقریب کی صدارت ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر فاروق اعظم نے کی۔ مہمانوں نے کامیاب کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کئے۔

ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر فاروق اعظم نے بتایا کہ ان کا مڈکلشٹ میں آنے کا بنیادی مقصد انڈر 21 کیلئے بچوں کے ساتھ ساتھ بچیوں کا بھی انتحاب کرنا ہے تاکہ وہ بھی ان کھیلوں میں حصہ لے سکے اور آگے بڑھ کر بین الاقوامی سطح پر اپنے ملک کا نام روشن کرے۔ اس کھیل کو دیکھنے کیلئے آنے والے سیاحوں نے ان کو بے حد سراہا اور یہ شکایت کی کہ یہاں تک آنے والی سڑکوں کی حالت بہت حراب ہے۔

برانڈ ایمبیسیڈر کبیر افریدی کا کہنا ہے کہ وہ پہلی بار مڈکلشٹ آئے ہوئے ہیں اور یہاں آکر ان کو بڑی خوشی محسوس ہوئی کیونکہ یہاں کے لڑکوں اور لڑکیوں دونوں میں کھیل کی نہایت قابلیت کے ساتھ ساتھ یہاں کے لوگ بھی بہت پر امن اور مہمان نواز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان بچوں اور بچیوں کو موقع دیا جائے اور ان کو تربیت کے ساتھ ساتھ کھیل میں استعمال ہونے والا سامان بھی فراہم کرے تو وہ دن دور نہیں کہ یہاں کے ذہین کھلاڑی بین الاقوامی سطح پر ان کھیلوں میں حصہ لے سکے۔

لوکل کونسل کے صدر نے کہا کہ یہاں جو بھی کھیل ہوتے ہیں تو اس میں مقامی لوگوں کو فائدہ پہنچنا چاہئے اگر سب کچھ باہر سے منگوایا جائے اور یہاں کے مقامی لوگ جو کام کرسکتے ہیں وہ ان سے نہ لے تو یہ بے انصافی ہوگی۔امید ہے آیندہ مقامی لوگوں کو بھی فائدہ پہنچایا جائے گا۔

ٹورنمنٹ کے آرگنائزر عدنان سمیع کا کہنا ہے کہ ان کی کوشش ہے کہ وہ لڑکوں کے ساتھ ساتھ علاقے کی لڑکیوں کو بھی کھیلنے کا موقع دے تاکہ وہ بھی ان مثبت اور صحت افزا سرگرمیوں میں حصہ لے سکے اور منفی سوچ اور منشیات کی لعنت سے بچ سکے۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر فاروق اعظم نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیل کود اور مثبت سرگرمیوں اور ہم نصابی کاموں میں بھی حصہ لے کیونکہ جن قوموں کا کھیل کا میدان حالی ہوتا ہے ان کے ہسپتال مریضوں سے بھرا رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نوجوان نسل میں تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیل کا شوق پیدا کرنے اور ان کی ضروریات پوری کرنے کیلئے ہر ممکن کوشش کرتی ہے۔ اس نہایت دلچسپ کھیل اور رنگا رنگ تقریبات کو دیکھنے کیلئے کثیر تعداد میں سیاح برف پوش میدان میں جمع تھے اور مفنی پانچ ڈگری سنٹی گریڈ میں بھی ان کا خون گرم تھا۔مقامی لوگوں کے ساتھ ساتھ سیاحوں نے بھی حکومتی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وادی مڈکلشٹ کی سڑکیں جلد سے جلد تعمیر کی جائے تاکہ یہاں آنے والے کھلاڑیوں اور سیاحوں کو آمد ور فت میں تکلیف کا سامنا نہ ہو اور سیاحت کو فروغ دینے ہی سے اس پسماندہ علاقے سے غربت کا حاتمہ ہوسکے۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

www.myvoicetv.com

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں