-->
اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

1 اپریل، 2021

آیون کے سامنے پشاور چترال مین شاہراہ پر لٹکتا ہوا پہاڑی تودہ دو ماہ گزرنے کے باوجود نہیں ہٹایا گیا۔ کسی بھی وقت بڑے حادثے کا باعث بن سکتا ہے۔

آیون کے سامنے پشاور چترال مین شاہراہ پر لٹکتا ہوا پہاڑی تودہ دو ماہ گزرنے کے باوجود نہیں ہٹایا  گیا۔ کسی بھی وقت بڑے حادثے کا باعث بن سکتا ہے۔
چترال(گل حماد فاروقی) پشاور چترال شاہراہ پر آیون گاؤں کے سامنے پہاڑ میں بہت بڑا دراڑ آیا ہوا تھا اس کے ماہ گزرنے کے باوجود اس حطرناک پہاڑ کو نہیں گرایا گیا جو کسی بھی وقت بڑے حادثے کا باعث بن سکتا ہے۔نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) نے اس سڑک کی تعمیر اور کشادگی کے دوران پہاڑ کو نیچے سے کاٹا تھا جس کا اوپر والا حصہ ہوا میں لٹکا ہوا تھا پچھلے ماہ اچانک یہ جگہہ ٹوٹ گیا اور سارا ملبہ سڑک پر گر گیا جس کے باعث ٹریفک بھی کئی گھنٹے بند رہی۔ تاہم این ایچ اے حکام نے اگلے روز سڑک سے ملبہ ہٹاکر ٹریفک کیلئے کھول دیا مگر جو لٹکا ہوا پہاڑ ہے اسے نہیں گرایا گیا۔ اس پہاڑ میں بہت بڑے بڑے سوراح بن گئے اور پورے پہاڑی سلسلے میں دراڑ کی وجہ سے آر پار روشنی بھی نظر آتی ہے۔ 

اسی حطرناک جگہہ میں سڑک کے نیچے دس گھرانے بھی آباد ہیں جو نہایت حطرے میں ہیں۔ دروش کے سماجی کارکن شہاب الدین نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ اس پہاڑ کی گرنے کا دوسرا مہینہ جاری ہے مگر ابھی تک اسے نہیں ہٹایا گیا جو کسی بھی وقت بڑے حادثے کا باعث بن سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ این ایچ اے حکام کو چاہئے کہ اس پہاڑ ی کو بارود سے گرائے یا اس کو کسی اور محفوظ طریقے سے گراکر لوگوں کو حادثے سے بچائے۔ انہوں نے اس بات پر نہایت افسوس کااظہار کیا کہ بدقسمتی سے چترال کے عوام کا کسی کو بھی فکر نہیں ہے۔ یہ پہاڑ مین سڑک پر ٹوٹا ہوا ہے اور صاف نظر آتا ہے کہ اس پہاڑ میں بڑے بڑے دراڑ بن چکے ہیں جو کسی بھی وقت گر کر تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔ انہوں نے چئیرمین این ایچ اے اور وفاقی وزیر مواصلات سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ اس حطرناک پہاڑ ی حصے کو محفوظ طریقے سے ہٹا کر لوگوں کی جانوں کا محفوظ کرے تاکہ یہ پہاڑی اچانک گر کر کسی بڑے تباہی کا باعث نہ بنے کیونکہ اس سڑک پر دن رات ٹریفک جاری رہتا ہے اور یہ ٹوٹا ہوا پہاڑ اگر اچانک کھسک کر نیچے گر گیا تو اس سے نہ صرف راہگیر وں کی جانوں کو حطرہ ہے بلکہ اس کے نیچے مقیم دس گھرانوں کو بھی حطرہ ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

www.myvoicetv.com

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں