-->
اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

7 اپریل، 2021

جوگیوں میں رہنے والے بچوں اور بچیوں کیلئے پہلی بار مفت تعلیم کے ساتھ دو وقت کا کھانا بھی مفت دیا جاتا ہے تاکہ ان کو مفید شہری بنایا جاسکے۔

جوگیوں میں رہنے والے بچوں اور بچیوں کیلئے پہلی بار مفت تعلیم کے ساتھ دو وقت کا کھانا بھی مفت دیا جاتا ہے تاکہ ان کو مفید شہری بنایا جاسکے۔



لاہور (گل حماد فاروقی)  ڈور آف اویرنیسDoor of Awareness  لاہور شہر میں جوگیوں میں رہنے والے ہزاروں بچوں کو مفت تعلیم دیتی ہے۔ مسز ربا ہمایون  جو پہلے سو غریبوں میں مفت کھانا تقسیم کیا کرتی تھی  ان کو احساس ہوا کہ جوگیوں میں رہنے والے بچے بھی سیکھ سکتے ہیں اور ان کو بھی مفید شہری بنایا جاسکتا ہے۔ ربا ہمایون نے  ان بچوں میں مفت کھانا تقسیم کرتے وقت ان کو قطار میں کھڑا ہونے کا اور شور شرابا نہ کرنے کا کہا تو بچوں کا جواب تھا کہ ان کی تو کسی نے اچھی تربیت ہی نہیں کی ہے۔ اس وقت ربا ہمایون نے ان بچوں کو جاکر ان جوگیوں میں مفت تعلیم دینا شروع کیا بعد میں اس نے دو استانیاں بھرتی کرکے جو کبھی تو فٹ پاتھ پر اور کبھی کسی پارک میں جاکر ان بچوں کو مفت تعلیم دیتی تھی  مگر اس میں بعض اوقات کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا۔
رباہمایون نے ان غریب بچوں کو پڑھانے کیلئے باقاعدہ اپنے خرچے پر سکول کھولا اور ان کو مفت کھانا دینے کے لئے یہاں بلاتے تھے اور ان کو تعلیم بھی دیتی تھی۔ اب ان سکولوں کی تعداد 25 تک پہنچ گئی جہاں سے بیس ہزار بچے مستفید ہوچکے ہیں 2007  ڈور آف  اویرنیس کا بنیاد رکھا گیا اوراب یہ ایک تناور درخت بن چکا ہے۔ یہ بچے ان سکولوں میں دسویں جماعت پاس کرنے کے بعد ان کو کسی ٹیکنیکل ادارے میں داحلہ دلوایا جاتا ہے تاکہ وہاں کوئی ہنر سیکھ کر والدین کیلئے کچھ کمانے کے قابل بن سکے۔ 




ان سکولوں میں محلوط تعلیم ہیں جہاں بچوں اور بچیوں دونوں کو مفت تعلیم دی جاتی ہے۔ بڑی عمر کے لڑکیوں اور لڑکوں کیلئے ربا ہمایون نے ووکیشنل سنٹرز قائم کئے جن کی تعداد 7 ہیں جہاں سے چھ سو لڑکیوں اور لڑکوں کو محتلف ہنر سکھاکر اس قابل بنایا گیا جو اپنے اہل حانہ کیلئے رزق حلال کماسکے۔ ان فلاحی مراکز میں 100 سے زیادہ محتلف شعبوں میں کام کرنے والے ماہرین نے رضاکارانہ طور پر 70 ہزار گھنٹے  کام کیا ہیں۔ ڈور آف اویر نیس اب بھی یتیم بچوں او ر نادار لوگوں میں مفت کھانا تقسیم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ ادارہ نفسیاتی اور ذہنی مریضوں کا علاج معالجہ کی عرض سے 10 ماہرین نفسیات کی خدمات حاصل کرکے ان مریضوں کے ساتھ آن لائن مشاور ت کی جاتی ہے اور ان کا علاج کرنے  کے بعد ان کو اس بیماری سے نکالتی ہے۔ 

فری میچ میکنگ کے نام پر بنا ہوا ادارہ مناسب جوڑوں کی شادی کرانے کیلئے مفت خدمات سرانجام دیتی ہیں جو اہل سنت اور اہل تشیع دونوں کیلئے ہیں۔ اس ادارے کے تحت چلنے والے تھریفٹ شاپ میں مخیر حضرات سے ان کے استعمال سے زاید چیزیں وصول کرکے ان کی صفائی کی جاتی ہے اور انہیں غریب لوگوں میں نہایت کم قیمت پر فروخت کرتے ہیں۔ موسم سرما میں فٹ پاتھ پر سونے والے بے سہارا اور دیگر غریب لوگوں میں مفت رضاییاں  اور بسترے بھی تقسیم کرتی ہیں تاکہ ان کو سردی سے بچایا جاسکے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر سال ان بچوں سے شجر کاری بھی کرائی جاتی ہے تاکہ ان میں پودوں کی اہمیت کا بھی ادراک ہو۔ان بچوں کو محتلف سماجی سرگرمیوں میں بھی شریک کرتے ہیں تاکہ ان میں دوسروں کی خدمت کا جذبہ بھی اجاگر ہوسکے۔ 

مسز ربا ہمایون نے ہمارے نمائندے کو حصوصی انٹر ویو دیتے ہوئے  بتایا کہ یہ کام نہایت مشکل اور کھٹن ضرور ہے مگر سب لوگ اگر مل کر اس میں ہمارے ساتھ تعاو ن کرے تو ان جوگیوں میں رہنے والے لاکھوں بچے بھی تعلیم حاصل کرکے مفید شہری بن سکتے ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر حکومت پاکستان کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی ادروں اور محٰیر حضرات سے بھی اپیل کی کہ ان بے سہارا بچوں کو مفت تعلیم دلوانے میں اپنا کردار ادا کرے تاکہ ان بچوں کو جرائم سے بچاکر تعلیم یافتہ بنادے اور یہ بھی بڑے ہوکر ملک و قوم کی خدمت کیلئے کلیدی کردار ادا کرے۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

www.myvoicetv.com

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں