-->
اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

15 جولائی، 2021

چترال میں زیر تعمیر 69 میگا واٹ لاوی پن بجلی گھر تعطل کا شکار۔ تعمیراتی کمپنی سب کنٹریکٹر اور مزدوروں اور مزدور پریشان، عید سے پہلے فنڈ کا مطالبہ

 

چترال میں زیر تعمیر 69 میگا واٹ لاوی پن بجلی گھر تعطل کا شکار۔ تعمیراتی کمپنی  سب کنٹریکٹر اور مزدوروں  اور مزدور پریشان، عید سے پہلے فنڈ کا مطالبہ

  • چترال میں زیر تعمیر 69 میگا واٹ لاوی پن بجلی گھر تعطل کا شکار ہوگیا 
  • تعمیراتی کمپنی  سب کنٹریکٹر جو فنڈز نہ مل سکے 
  • جس کی وجہ سے مزدور کو تنخواہیں نہ مل سکیں ، مزدوروں کو عید قبل معاوضے کا مطالبہ

چترال (گل حماد فاروقی 15 جولائی 2021) 69 میگا واٹ لاوی  پن بجلی گھر  جس کا افتتاح عمران خان نے جولائی 2017 میں کیا تھا اس کا ٹنڈر جاری ہونے کے بعد چین اور پاکستانی کمپنی کو اس کا تعمیراتی کام حوالہ کیا تھا تھا۔  مگر بدقسمتی سے یہ پن بجلی گھر بری طرح تعطل کا شکار ہوا اور اس پر نہایت سست رفتاری سے کام جاری ہے۔اس بجلی گھر کو دسمبر 2021 کو مکمل ہونا تھا مگر اس پر کام کی رفتار کو دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ یہ اگلے چھ سالوں میں بھی مشکل ہے کہ مکمل ہوسکے۔ 




اس پراجیکٹ میں کام کرنے والے سب کنٹریکٹر اور مزدوروں کا  کہنا ہے کہ وہ پچھلے دو سالوں سے اس پن بجلی گھر کے تعمیراتی کمپنی یعنی ٹھیکدار کے ساتھ کام کررہے ہیں مگر ان کو ان کا معاوضہ نہیں دیا جارہا ہے۔ خائستہ خان کا تعلق سوات سے ہے اور دو سالوں سے اس پراجیکٹ میں بطور سب کنٹریکٹر کام کررہا ہے جس کے ساتھ بیس سے زیادہ مزدور بھی کام کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ میں سرور اینڈ کمپنی کے ساتھ دو سالوں سے کام کررہا ہوں میرا چودہ لاکھ روپے کا بل بن گیا مگر جب میں اپنا رقم مانگتا ہوں تو کمپنی کا کنسلٹنٹ  شوکت علی کہتا ہے کہ کمپنی کے مالک شہریار بھٹی سے مانگو۔ خائستہ خان  کا کہنا ہے میں دو مرتبہ اس کے پاس اسلام آباد بھی گیا وہاں دس دن گزارے مگر کمپنی کا  چیف ایگزیکٹیو مجھ سے نہیں ملا ان کا کہنا ہے کہ میرے ساتھ جن بیس مزدوروں نے کام کیا ہے وہ عید کے موقع پر اپنے بچوں کیلئے نئے کپڑے خریدنا چاہتے ہیں مگر  سرور اینڈ کمپنی ان کو ان کا معاوضہ دینے کو تیار نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میں نے دروش کے اسسٹنٹ کمشنر کو بھی درخواست دی ہے۔ 

ایک اور مزدور شیرامین نے بتایا کہ میں نے تین ماہ کام کیا ہے اور ا ب ایک ماہ سے میں اس کمپنی سے نکل چکا ہوں میرے اسی ہزار روپے ان کے ذمے ہیں ایک ماہ سے ان کے دفتر کا چکر لگا رہا ہوں مگر مجھے ابھی تک میری مزدوری نہیں دی گئی۔

اس سلسلے میں پختون خواہ انرجی ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن PEDO کی جانب سے لاوی پن  بجلی گھر کا پراجیکٹ ڈائریکٹر  فلک تاج جو کنسلٹنٹ اور دیگر عملہ کے ساتھ اس منصوبے کا معائنہ کررہے تھے ان سے بھی بات ہوگئی جنہوں نے سرور اینڈ کمپنی سے اس کے کام کا تصدیق کرنے کے بعد ان کو ہدایت کردی کہ تمام مزدوروں کو ادایگی ہونا چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ تعمیراتی کمپنی  کو تقریباً ڈیڑ ھ ارب روپے ایڈوانس میں مل چکی ہے۔ 

ہمارے نمائندے نے تعمیراتی کمپنی کے مالک شہریار بھٹی،ان کے ساجھی شریف بٹ، ڈپٹی پراجیکٹ منیجر رمضان سے بھی بات کرنے کی کوشش کی مگر انہوں نے فون اٹنڈ نہیں کیا۔

اس پن بجلی گھر میں اتنی تاخیر سے ایک طرف اگر صوبائی حکومت کو مالی نقصان کا سامنا ہورہا ہے تو دوسری طرف بجلی کی شدید بحران سے عوام بھی کئی مشکلات سے دوچار ہیں۔ 

خائستہ خان اور دیگر مزدوروں نے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ، وزیر اعلےٰ خیبر پحتون خواہ اور صوبائی وزیر برائے توانائی سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ سرور اینڈ کمپنی سے ان  کی مزدوری کا رقم ان کو دلوایا جائے تاکہ وہ عید کے موقع پر اپنے ببچوں کیلئے نئے کپڑے اور جوتے خرید سکے۔ 

نیز چترال کے سیاسی اور سماجی طبقہ فکر نے اعلےٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سلسلے میں تحقیقات کیا جائے کہ یہ کام کیوں اتنا تاحیر کا شکار ہوا اور اس منصوبے پر نہایت سست رفتاری سے کام جاری ہے ذمہ دار لوگوں کے حلاف تادیبی کاروائی کی جائے۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

www.myvoicetv.com

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں