پاکستان میں تیار کردہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین ملک میں انتخابی عمل کو شفاف ، منصفانہ اور قابل اعتماد بنانے میں معاون ہوگی : وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی شبلی فراز

پاکستان میں تیار کردہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین ملک میں انتخابی عمل کو  شفاف ، منصفانہ اور قابل اعتماد بنانے میں معاون ہوگی :  وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی شبلی فراز

اسلام آباد: وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ نئی تیار کردہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) ملک میں انتخابی عمل کو منصفانہ ، شفاف اور قابل اعتماد بنائے گی۔ پیر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں نمائش کے لئے رکھی گئی الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے موقع دورے کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین تیار کرنے کا جو ہدف دیا تھا، وہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے 90 دنوں میں حاصل کرلیا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ انتخابی عمل میں ٹیکنالوجی کا استعمال منصفانہ اور قابل اعتماد انتخابات کو یقینی بنائے گا اور ملک میں انتخابات سے متعلق تمام تنازعات کو ختم کرے گا، الیکٹرانک ووٹنگ مشین الیکشن کمیشن آف پاکستان کی 98 فیصد شرائط کو پورا کرے گی۔ شبلی فراز نے کہا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین تمام صوبائی اسمبلیوں میں بھی نمائش کے لئے رکھی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹیرینز اور انتخابات کی نگرانی کرنے والی تمام قومی اور بین الاقوامی تنظیموں کو دعوت دی جائے گی کہ وہ مشین کا معائنہ کریں جبکہ میڈیا کو ای وی ایم کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کیا جائے گا۔ سینیٹر شبلی فرازنے کہا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین سادہ اور صارف دوست ہے، انہوں نے کہا کہ اس مشین کو سادہ بنایا گیا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ دیگر ممالک کی مشین انٹرنیٹ پر مبنی ہے لیکن اس مشین کو کسی بھی قسم کے انٹرنیٹ کی ضرورت نہیں ہے، یہ مکمل طور پر انٹرنیٹ کے بغیر کام کرتی ہے اور 24 گھنٹے چارج رہ سکتی ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین 2023 کے عام انتخابات میں استعمال ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں عام انتخابات کے انعقاد کے لیے تقریبا چار لاکھ الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں درکار ہونگی۔ وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ مشین پاکستان میں سو فیصد تیار کی گئی ہے۔ اے پی پی 

Post a Comment

Thank you for your valuable comments and opinion. Please have your comment on this post below.

Previous Post Next Post