چترال کی وادی ، کیلاش کے لوگوں نے نرالی انداز سے وطن کے ہیروز کے خراج عقیدت پیش کی۔ کیلاشی زبان میں قومی نغمہ پیش کیا

چترال کی وادی ، کیلاش کے لوگوں نے نرالی انداز سے وطن کے ہیروز کے خراج عقیدت پیش کی۔ کیلاشی زبان میں قومی نغمہ پیش کیا

چترال(گل حماد فاروقی) وادی کیلاش کے لوگوں نے نرالی انداز سے قومی ہیروز کو خراج عقیدت پیش کیا۔ کیلاش خاتون نے کیلاشی زبان میں قومی نغمہ گاکر حاضرین کو حیران کردیا۔مسرت جبین نے کیلاش لڑکی نے اپنی زبان میں قومی نغمہ پیش کرتے ہوئے  وطن کے ہیروز کو خراج عقیدت پیش کی۔ جشن آزادی کا ہفتہ منانے کے سلسلے میں وادی کیلاش کے  انیش گاؤں میں ایک پر وقار تقریب منعقد ہوا۔ جس میں اقلیتی امور پر وزیر اعلےٰ خیبر  پحتون خواہ کے اقلیتی امور پر معاون حصوصی وزیر زادہ کیلاش مہمان حصوصی تھے جبکہ تقریب کی صدارت بریگڈیئر ریٹارئڈ  اعظم خان افندی نے کی۔ تقریب میں کیلاش لڑکوں اور لڑکیوں نے ٹیبلو، قومی نغمے، تقاریر،مزاحیہ حاکے جبکہ مسلمان بچوں نے تلاوت، حمد اور نعت شریف پیش کی۔ 
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر زادہ کیلاش نے کہا کہ کیلاش کمیونٹی کی پوری دنیا میں ایک حاص اہمیت ہے اور کیلاش لوگ بھی خود کو پاکستانی ہونے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جتنے حقوق اقلیت قبیلوں کو حاصل ہیں اتنے حقوق شائید کسی دوسرے ملک میں اقلیتیوں کو ملا ہو۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کا چترال اور حاص کر کیلاش قبیلے کو ایک حاص تحفہ یہ دیا ہے کہ اقلیتی نشست پر کیلاش قبیلے سے رکن صوبائی اسمبلی لیا گیا اور مزید یکہ ان کو وزیر اعلےٰ کے معاون حصوصی بھی بنایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر چہ کیلاش وادیوں کی سڑکیں اچھی نہیں ہیں مگر موجودہ حکومت سیاحت کو ترقی دینے کیلئے کوشاں ہے یہی وجہ ہے کہ بطور ٹوکن فنڈ اس سڑک کیلئے پانچ کروڑ روپے جاری کیا ہے جبکہ اس پر کل چار ارب  سے زائد لاگت آئے گی اور پہلے زمین خریدی جائے گی  اس کے بعد سڑک کی تعمیر پر کام شروع ہوگا۔
اس تقریب کو دیکھنے کیلئے حصوصی طورپر امریکہ سے آئے ہوئے الیاس مسیح جو امریکہ میں  آل لیبر انٹرنیشنل کا فاؤنڈر ہے  ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پہلی بار وادی کیلاش میں ایسا پر وقار تقریب دیکھا جس میں کیلاش خواتین اپنی محصوص نرالی لباس میں ملبوس  وطن کے ہیروز جنہوں نے اس ملک کیلئے قربانیاں دی ہیں ان کو حراج تحسین پیش کرتی ہیں اور وہ پاکستان کی حفاظت کیلئے تن من دھن کی بازی لگانے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔
سیموئل پیارا جو انٹرنیشنل مینارٹی  رائٹس فورم کے چئیرمین ہے  ان کا کہنا تھا  کہ وہ بھی پہلی بار اس وادی میں آیا اور پاکستان کو یہ شرف حاصل ہے کہ کیلاش قبیلے کے لوگ جو اپنی محصوص ثقافت کیلئے دنیا بھر میں مشہور ہیں  یہ تحفہ صرف پاکستان میں اور چترال میں ہے انہوں نے کہا کہ اگر اس وادی تک آنے والی سڑکوں کی حالت بہتر کی جائے تو یہ خوبصورت علاقہ مزید ترقی کرے گا اور زیادہ سے زیادہ سیاح یہاں آئیں گے۔
ٹیسٹور  ٹینی گائی  کا تعلق امریکہ سے ہے جو حصوصی طور پر ان رنگا رنگ تقریبات کو دیکھنے کیلئے وادی کیلاش آیا تھا انہوں نے بھی یہاں کی خوبصورتی، مثالی امن اور لوگوں کی مہمان نوازی کی بہت تعریف کی۔انہوں نے کہا کہ مغربی میڈیا میں پاکستان کے حلاف جو منفی پراپیگنڈہ چل رہا ہے اس کی مذمت کرتا ہوں اور اسے سراسر غلط قراردیتا ہوں کیونکہ پاکستان اور حاص کر یہ علاقہ نہایت پر امن ہے۔ 
فیسٹو جوہن نیزیم بھی امریکہ سے آیا ہوا ہے  انہوں نے کیلاش ثقافت، یہاں کی قدرتی خوبصورتی، مہمان نوازی اور محصوص لباس کو نہایت پسند کیا  انہوں نے کہا کہ پاکستان اور حصوصی طور پر چترال بہت پر امن ملک اور علاقہ ہے اور میں دنیا بھر کے سیاحوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ ضرور یہاں آئے اور یہاں کے مثالی امن  والے خوبصورت علاقے سے لطف اندوز ہوجائے۔
تقریب کے دوران کیلاش روایات کے مطابق آنے والے مہمانوں کو کیلاشی چوغہ  بھی اکرام کے طور پر پہنایا گیا۔قبل ازیں گورنمنٹ ہائی سکول بمبوریت میں بھی ایک تقریب منعقد ہوئی تھی  جس میں وزیر زادہ کیلاش مہمان حصوصی تھے اس تقریب میں بھی  طلباء  اور اساتذہ نے قومی ہیروز کو سلام پیش کیا۔ اس تقریب میں وزیر اعلےٰ کے معاون حصوصی نے بچوں پر زور دیا کہ یہ ملک بڑی قربانی سے حاصل ہوا ہے اور اب یہ تمھاری ذمہ داری ہے کہ اس کی حفاظت کریں اور اس کی ترقی کیلئے دن رات محنت کرے۔
کیلاش قبیلے سے تعلق رکھنے والی لڑکی  گل بہار نے کہا کہ ہم اس ملک میں بہت خوش ہیں اور ہم بھی دیگر پاکستانیوں کی طرح اپنے ملک سے پیار کرتے ہیں اور وقت آنے پر ہم کسی بھی قربانی سے دریغ  نہیں کریں گے۔
کیلاش خاتون اجرم ہیک نے بتایا کہ ہم اپنے وطن سے اتنا ہی پیار کرتے ہیں جتنا ہمارے مسلمان بہن بھائی اور ہم اپنے وطن کیلئے ہر وقت قربان ہونے کیلئے تیار رہتے ہیں۔ اگر چہ ہماری وادی نہایت پسماندہ ہے اور حکومت نے ہمارے لئے کچھ نہیں کیا ہے مگر پھر بھی ہم کہتے ہیں کہ پاکستان زندہ باد۔
مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے  ظاہر خان نے بتایا کہ اس وادی میں کیلاش اور مسلمان نہایت پیار محبت سے رہتے ہیں اور ہم پوری دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم ایک جان دو قالب ہیں اور دیگر ملکوں کے لوگوں کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے اقلیتوں کے ساتھ صلہ رحمی کا برتاؤ کرے۔
اس موقع پر بریگیڈیر اعظم خان افندی نے اعلان کیا کہ چترال میں میرے زمینات پر دس ہزار لوگ رہتے ہیں ان سب کے نام یہ زمین الاٹ کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔ اس کے علاوہ چترال میں میڈیکل سٹی، سپورٹس سٹی کیلئے، ایجوکیشن سٹی کیلئے ببھی زمین دینے کا اعلان کرتا ہوں انہوں نے کہا میرا والد مرحوم چترال سکاؤٹس میں کمانڈنٹ تھے  اور میرا چترال کے ساتھ ایک حاص جذباتی لگاؤ ہے۔
تقریب میں سوالاات پوچھنے کا بھی مقابلہ ہوا اور بچوں میں انعامات بھی تقسیم ہوئے۔ اس رنگا رنگ تقریب میں کثیر تعداد میں کیلاش خواتین، و حضرات اور مسلم کمیونٹی کے لوگوں نے بھی شرکت کی۔
Previous Post Next Post