کم ماہانہ آمدن والے سرکاری ملازمین اور بیرون ملک سفر کرنے والا محنت کش طبقہ بھی احساس راشن پروگرام کے لئے اہل ہونگے

کم ماہانہ آمدن والے سرکاری ملازمین اور بیرون ملک سفر کرنے والا محنت کش طبقہ بھی احساس راشن پروگرام کے لئے اہل ہو گا ، پروگرام کے اگلے مرحلے میں پٹرول اور کھادوں پر سبسڈی کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے، ڈاکٹر ثانیہ نشتر



اسلام آباد (اے پی پی 4نومبر  2021) وزیراعظم کی معاون برائے تخفیف غربت سینیٹر ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا ہے کہ احساس راشن پروگرام کے اگلے مرحلے میں پٹرول اور کھادوں پر سبسڈی کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے، 31 ہزار روپے سے کم ماہانہ آمدن والے سرکاری ملازمین اور بیرون ملک سفر کرنے والا محنت کش طبقہ بھی اس پروگرام کے لئے اہل ہو گا، آئی ایم ایف کو علم ہے کہ یہ پروگرام شفاف، منظم اور ڈیجیٹل انداز میں افراط زر کے تناظر میں عوام کی مدد کے لئے شروع کیا گیا ہے، یہ مشکل حالات پوری دنیا میں آئے ہیں ۔اس پروگرام کے حوالے سے آئی ایم ایف کے ساتھ ایک پیج پر ہیں۔

جمعرات کو پاک چائنا فرئنڈ شپ سنٹر میں قائم پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں مشیر خزانہ کے ترجمان مزمل اسلم کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام کے تحت ایک نیا پروگرام شروع کیا جا رہا ہے جس کا نام احساس راشن ہو گااور اس پروگرام سے مستفید ہونے والے اپنے موبائل فون کے ذریعے باقاعدہ ایپ ڈائون لوڈ کر کے اس میں شامل ہوسکیں گے۔

انہوں نے کہاکہ مستحقین کو تصدیق کے دو مراحل سے گزرنا ہو گا۔ ایک تو شناختی کارڈ کے ذریعے تصدیق کی جائے گی اور دوسرا یہ کہ مستحقین کے موبائل نمبر پر کوڈ بھیجا جائے گا، کریانہ سٹور یا یوٹیلیٹی سٹور اس کی تصدیق کے بعد اشیا فراہم کریں گے اور مستحقین موبائل فون سے یہ ایپ ڈائون کر سکیں گے۔ انہیں آٹا،چینی، گھی اور خوردنی تیل خریدنےکی سہولت حاصل ہو گی ۔ کوڈ کی باقاعدہ تصدیق کی جائے گی جس کےبعد مستحق خریدار کو حتمی پیغام موبائل فون پر آئے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس ایپ کے تمام آئیکن اردو میں ہوں گے، آن لائن رجسٹریشن کے لئے رجسٹریشن پورٹل کھولا جائےگاجس میں مستحقین کی رجسٹریشن کا عمل ہو گا۔ مستحق خریدار ماہانہ ایک ہزار روپے تک کی اشیا خرید سکیں گے۔ تین سے چار ہفتوں میں رجسٹریشن کا عمل مکمل ہو جائے گا۔ مستحق خریدار کو اشیا کی فراہمی کے لئے اب یوٹیلٹی سٹورز کے ساتھ کریانہ سٹور بھی اہل ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ رجسٹریشن پورٹل میں لوگوں کی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور موبائل فونز کی تفصیلات بھی آ جائیں گی۔ 31 ہزارروپے سے کم آمدن والے افراد اس پروگرام سے مسفید ہوں سکیں گے جبکہ ملک کی آبادی کا 60 فیصد اس سے فائدہ اٹھائے گا ۔ اس میں آٹے، گھی اور دالوں پر 30 فیصد سبسڈی دی جائے گی۔ ہر گھرانہ ایک ہزار روپے ماہانہ کاریلیف لے سکےگا ۔

انہوں نے کہا کہ یہ ا س پروگرام کی شروعات ہیں ، اس کو آئندہ مزید بہتر بنایا جائےگا جبکہ اس پروگرام کو پٹرول اور کھاد پر سبسڈی کے لئے استعمال کیا جاسکے گا۔ یہ پروگرام خالصتاً مہنگائی کے تناظرمیں لایا جا رہا ہے ۔ ہم غریب ، امیر کو یکساں سبسڈی سے مستفید ہونے کی بجائے ٹارگٹڈ سبسڈی کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ افراط زر کے حساب سے سبسڈی کی رقم بڑھانے پر بھی غور کیاجا سکتا ہے تاہم اس وقت ہمارا ہدف یہ ہے کہ یہ نظام چلےاور اس میں شفافیت کو لوگ قبول کریں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس حوالےسے پورٹل پیر کو کھلے گا ۔ اس موقع پر مزید تفصیلات سے آگاہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ احساس کفالت سے 60 لاکھ خاندان مستفید ہورہے ہیں۔

احساس کے دیگر پروگراموں سے مستفید ہونےوالے راشن پروگرام سے بھی مستفیدہ سکیں گے۔ اس پروگرام میں 2 کروڑ گھرانے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ میں 31 ہزار روپے سے کم آمدن کے حامل سرکاری ملازمین کو اس پروگرام میں شامل کرنے کے حوالے سے بات چیت ہوئی ، یہ ملازم بھی اس پروگرام سے مستفید ہوں گے جبکہ بیرون ملک سفر کرنے والے محنت کش بھی اس پروگرام سے استفادہ حاصل کر سکیں گے۔

ایک سوا ل کےجواب میں ثانیہ نشتر نے کہا کہ اس پروگرام کے لئے 6 ماہ کے دورانیہ کے لئے 120 ارب روپے کا بجٹ رکھا گیا ہے ، اس پر کوئی آپریشنل لاگت نہیں ۔ اس کا 65 فیصد حصہ صوبا ئی حکومتیں دیں گی۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومتوں نے اس پروگرام میں شمولیت کے لئے رضا دے دی ہے ۔پروگرام میں وفاق کا حصہ 35 فیصد ہو گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت مشیر خزانہ کررہے ہیں۔ آئی ایم ایف کو علم ہے کہ یہ پروگرام شفاف، منظم اور ڈیجیٹل انداز میں افراط زر کے تناظر میں عوام کی مدد کے لئے شروع کیا گیا ہے۔ یہ مشکل حالات پوری دنیا میں آئے ہیں ۔اس پروگرام کے حوالے سے آئی ایم ایف کے ساتھ ایک پیج پر ہیں۔ اس پروگرام کو قابل قبول بنانے اور اس کے لئے شفاف نظام لانا چاہتے ہیں۔

Post a Comment

Thank you for your valuable comments and opinion. Please have your comment on this post below.

Previous Post Next Post