فضائی آلودگی قومی مسئلہ ، سرفہرست ممالک میں پاکستان کا نمبر چوتھا

فضائی آلودگی قومی مسئلہ

فضائی آلودگی یوں تو پوری دنیا کا مسئلہ ہے کسی ملک میں کم اور کسی میں زیادہ، خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارہ اطفال نے اپنی حالیہ رپورٹ میں بتا یا ہے کہ دنیا بھر میں دو ارب بچے زہریلی فضا میں سانس لے رہے ہیں۔ فضائی آلودگی سے متاثرہ علاقوں میں جنوبی ایشیاء سر فہرست ہے۔ پاکستان میں فضائی آلودگی ایک گھمبیر مسئلہ تھا مگر اب تیزی کے ساتھ شدت اختیار کر چکا ہے جو انتہائی تشویشناک ہے۔ عالمی ادارے صحت کی رپورٹ میں بدترین فضائی آلودگی سے متاثر 184ممالک کی فہرست میں پاکستان کو فضائی آلودگی کے حوالے سے چوتھا بد ترین ملک قرار دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں ہر سال 19,241 اموات ہو رہی ہیں مجموعی طور پر ایک لاکھ شہریوں میں سے 33افراد فضائی آلودگی کے سبب جاں بحق ہو رہے ہیں، عالمی ادارہ صحت اس سے قبل بھی یہ انتباہ جاری کر چکا ہے کہ گاڑیوں پاورپلانٹس،، فیکٹریوں اور دیگر ذرائع سے خارج ہونے والا زہریلا مواد ہر سال انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بنتا ہے۔ یہ درست ہے کہ فیکٹریوں کارخانوں سے نکلنے والا دھواں اور مختلف کیمیکلز فضائی آلودگی کو بہت تیزی سے بڑھاتے ہیں۔تا ہم اسے واحد سبب قرار نہیں دیا جا سکتا۔

پاکستان میں دوسرے اسبا ب بھی فضا کو آلودہ کر رہے ہیں۔کون نہیں جانتا؟کہ درخت اور جنگلات فضائی آلودگی کو کنٹرول کرنے اور آلودگی کی سطح کو کم رکھنے میں انتہائی مدد گار ہوتے ہیں۔پاکستان میں جنگلات کی شرع عالمی معیار سے بہت کم ہے یعنی کل رقبے کے 25فیصد کے بجائے 4فیصد سے بھی کم ہے۔ جو جنگلات ہیں وہ منظم ٹمبر مافیا کے ہاتھوں چٹیل میدانوں میں تبدیل ہو رہے ہیں اور جنگلات کا وجود ختم ہونے کو ہے، جنگلات کی کمی فضائی آلودگی میں اضافے کا سبب ہے۔ موجود ہ جنگلات کٹ رہے ہیں نئے جنگلات اگانے کے لیے کسی کی توجہ نہیں ہے۔نہ تو حکومت کی جانب سے اور نہ ہی پرائیویٹ سیکڑ کی جانب سے یہ کوشش کی گئی کہ جنگلات بچاؤ مہم چلائی جائے۔ عوام میں آگاہی پید اکی جائے کہ جنگلات ہمارے ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں ان کے کیسے ہرا بھرا رکھا جا سکتا ہے۔سال میں ایک بار ملک کی کسی حصے میں ٹوٹل پورا کرنے کے لیے شجر کاری مہم چلائی جاتی ہے سو دو سو پودے لگا دیے جاتے ہیں لگائے گئے پودوں کو محفوظ بنانے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا جاتا اس لیے زیادہ پودے سوکھ کی ختم ہو جاتے ہیں۔


 بد قسمتی سے حکومت نے فضا کو آلودگی سے پاک کرنے کیلیے عالمی ادارہ ماحولیات سے جو وعدے کیے تھے ان میں سے اکثر پورے نہیں کیے۔گزشتہ برس سپریم کورٹ نے ملک بھر میں بڑھتی ہوئی آلودگی کے خلاف سو موٹو کیس کی سماعت کے دوران وفاق اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ کو مسترد کر دیا تھااور آلودہ ماحول کو قومی معاملہ قراد دیا تھا اس کے باوجود ملک میں فضائی آلودگی کے خاتمے کے لیے حکومتی سطح پر وہ اقدامات نہیں کی جا رہے ہیں جو کیے جانے چاہیے۔ فضائی آلودگی کا سبب بننے والی فیکڑیوں اور کارخانوں کے خلاف کاروائی کے ساتھ ساتھ فضائی آلودگی کا سبب بننے والے دوسرے عوامل پر کنٹرل کرنا ضروری ہے۔حکومت کو چاہیے کہ برطانیہ کی طرز پر کلین ائیر ایکٹ لائے جو برطانیہ میں 1966سے نافذ ہے اس ایکٹ کے تحت برطانیہ میں چونے کی بھٹیاں، اینٹیں بنانے والے بھٹے، پرانی دھوا ں چھوڑتی گاڑیوں پر پابندی عائد ہے۔وہ تمام فیکٹریاں اور کارخانے جن سے دھویں کا اخراج ہوتا ہے آبادی سے 50کلو میٹر دور ہی قائم ہو سکتی ہیں۔

 اس کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹ میں اضافے کی شرح کو کنٹرول کیا جائے اور ماحول دوست ایندھن استعمال کا پابند بنایا جائیے، کچر ا کنڈی میں آگ لگا کر کچرے سے اٹھنے والا دھواں فضا کو زہریلا کرتا ہے۔ضروری ہے کہ اس عمل کو کنٹرول کیا جائے۔کراچی میں نیم، ببول، برگد، شیشم اور جامن کے سایہ دار درختوں کی انتہائی ضرورت ہے۔ جنگلات کا رقبہ بڑھانے کے لے ٹھوس اور عملی اقدامات کیے جائیں جس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ سال میں دو مرتبہ پورے ملک میں ایک ساتھ شجر کاری کی جائے اور لگائے گئے پودوں کی مناسب دیکھ بھال کی ذمہ داری بلدیاتی اداروں کو دی جائے تا کہ پودے درخت بن سکیں اور فضائی آلودگی کم کرنے میں ہمارے مدد گا رہو سکیں اور سب سے اہم قدم یہ کہ ٹمبر مافیا اور ان کے سہولت کاروں کو قومی مجر م سے حیثیت سے سزائیں دی جائیں تاکہ ہماری آنے والی نسلیں صحت مند ماحول میں زندگی گزار سکیں۔ 

مجاہد الآفاق، کراچی

Post a Comment

Thank you for your valuable comments and opinion. Please have your comment on this post below.

Previous Post Next Post