Mulla Nasirudding kay lateefay - Jokes of Mulla Nasiruddin

 ملا نصیرالدین کے لطیفے :  مزے مزے کے لطیفے 



 ملا نصیرالدین کے لطیفے

ملا نصیرالدین

مُلا نصیرالدین 1208ء کو ”حورتو“ نامی گاؤں میں پیدا ہوئے جو تُرکی کے صوبہ حشار میں واقع ہے ۔ ان کے والد کا نام آفندی اور والدہ کا نام صدیقہ خانم تھا ۔ والد ایک مسجد کے پیش امام تھے ۔ ملا نصیرالدین بعد میں ”اک شہر“ نامی شہر میں جا کر بس گئے تھے ۔ 1284ء میں اسی شہر میں ان کا انتقال ہوگیا ۔

👇👇

ایک دن ملا نصیر الدین بازار سے ایک سیر گوشت لے

ایک دن ملا نصیر الدین بازار سے ایک سیر گوشت لائے اور ایک  دوست کو کھانے پر بلایا. جب کھانا شروع کیا تو پلیٹ میں

گوشت کا ٹکڑا موجود نہیں تھا۔ بیوی سے پوچھنے پر پتہ چلا کہ گوشت بلی نے کھا لیاہے۔ بلی سامنے ہی موجودتھی۔ ملا نے بلی پکڑی اور ترازو میں ڈالا کر بلی کا وزن کیا تو بلی ایک سیر

نکلی۔ ملا کو غصہ آیا اور بیوی سے کہنے لگا بیگم ایک سیر بلی تو گوشت کہاں ہے اور ایک سیر گوشت ہے تو بلی کہاں ہے؟ 

👇👇

ملا نصیر الدین ایک دفعہ ایک استاد سے باجا سیکھنے گئے تو پوچھا۔

آپ کی فیس کتنی ہے۔

استاد نے جواب دیا۔

پہلے مہینے کی تین دینار . اور پھر ہر مہینے ایک دینار۔

ملا بولے۔

اچھا تو پھر میرا نام لکھ لیں میں دوسرے مہینے سے آؤں گا۔

👇👇

ایک بار ملا نصیر الدین کا گدھا مر گیا تو گاؤں کے شریر بچوں نے مذاق میں رونا شروع کردیا۔

گاؤں کے چودھری نے انہیں منع کیا تو ملا نصیر الدین نے کہا " انہیں رونے دیجئے۔ مرحوم ان کا بھائی تھا۔"

👇👇

ملا نصیر الدین نے بازار میں ایک مزدور سے کہا:میرا یہ سامان لے چلو

مزدور:ٹھیک ہے جناب ،لیکن آپ کا گھر کہاں ہے؟

ملا سخت غصے سے:بدمعاش! تم یقیناً چور ہو تم کیا سمھتے ہو میں تمھیں اپنے گھر کا پتا دوں گا ☺

👇👇

ایک ان پڑھ زمیندار خط لے کر ملا نصیر الدین کے پاس پہنچا۔ملا نے اتفاقاً بڑی پگڑی پہنی ہوئی تھی پگڑی اس زمانے میں عالموں کی نشانی ہوتی تھی

زمیندار نے ان کو خط پڑھنے کو کہا۔ ملا نے کہا:   میں خط نہیں پڑھ سکتا

زمیندار بولا:اتنی بڑی پگڑی باندھی ہوئی ہے اور خط نہیں پڑھ سکتے

ملا نے فورا پگڑی اپنے سر سے اُتار کر زمیندار کے سر پر کھ دی اور کہا:

 👇👇

اب پگڑی تمھارے سر پر ہے خود ہی پڑھ لو اپنا خط ۔ ۔ ۔ ۔!۔ ☺ 


😃😃

ملا نصیر ایک دفعہ ایک استاد سے باجا سیکھنے گئے تو پوچھا:

آپ کی فیس کتنی ہے؟

استاد نے جواب دیا:پہلے مہینے کی تین دینار ۔ ۔ ۔ ۔اور پھر ہر مہینے کا ایک دینا

ملا بولے:اچھا تو پھر میرا نام لکھ لیں میں دوسرے مہینے سے آؤں گا ☺

😂😂

ملا نصیر الدین اپنے دوستوں کو شکار کے فرضی قصے سناتا رہتا تھا کہ ایک مرتبہ دوست اسے شکار پر لے گئے ایک مرغابی پانی کی سطح پر تیرتی ہوئی نظر آئی

سب نے ملا سے کہا کہ وہ نشانہ بازی کے جوہر دکھائیں

ملا نے بندوق چلائی تو نشانہ خطا گیا اور مرغابی اُڑ گئی

ملا بالکل شرمندہ نہ ہوا بلکہ اس اُڑتی ہوئی مرغابی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حیرت سے کہنے لگے:

میں نے زندگی میں پہلی مرتبہ مری ہوئی مرغابی کو اُڑتے ہوئے دیکھا ہے





Previous Post Next Post