25 جولائی، 2017

علاقہ اوی، چترال میں ٹیلی نار کی ناقص سروس سے صارفین پریشان

بونی چترال (نمائندہ : ٹائمز آف چترال ) بونی سے ملحقہ علاقہ اوی میں ٹیلی نار کی ناقص سروس نے صارفین کو پریشان  کر دیا ہے علاقہ مکینوں نے اوی اور بونی کے بیشتر علاقوں میں ٹیلی نار کی ناقص کاکردگی پر شدید غم و غصے کا اظہار کررہے ہیں۔ صارفین کا کہنا ہے کہ  ٹیلی نار کی کارکردگی مذکورہ علاقے میں
بالکل صفر ہے اکثر اوقات نمبر مصروف رہتے ہیں  اور کال مل بھی جائے تو گھروں کے اندر بالکل سگنلز نہیں آتے۔ باہر نکلنے سے صرف موبائل کال بمشکل ہوجاتی ہے ٹیلی نارصارفین ناقص سروس کی وجہ سے انٹرنیٹ فری کال کی سہولت سے محروم ہیں۔ 

صارفین نے ٹیلی نار چترال کے ذمہ داروں سے مطالبہ کیا ہے کہ فی الفور علاقہ اوی اور بونی سمیت ملحقہ علاقوں میں ٹیلی نار سروس بہتر بنانے کی کوشش کی جائے تاکہ صارفین انٹرنیٹ کے سستے ترین کالز اور دیگر سہولیات سے فایدہ اٹھا سکیں۔

لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں میڈیکل ٹیکنشن کی مریضہ سے زیادتی، ہسپتال میں ہنگامہ، واقعہ کی تحقیقات کرنیکا فیصلہ

لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں میڈیکل ٹیکنشن کی مریضہ سے زیادتی، ہسپتال میں ہنگامہ، واقعہ کی تحقیقات کرنیکا فیصلہ

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک: ٹائمز آف چترال ) لیڈی ریڈنگ ہسپتال (ایل آرایچ) میں ایک میڈیکل ٹیکنشن کی جانب سے مریضہ کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔  ہسپتال انتظامیہ نے مذکورہ شخص کو گرفتار کرکے واقعے کی انکوائری کے لئے ٹیم تشکیل دے دی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق ایک مریضہ کو انتہائی  نازک حالت میں بٹ خیلہ سے ایل آر ایچ لایا گیا تھا ۔ ابتدائی معائنے کے بعد ڈاکٹروں نے کمپیوٹرائز  ٹیموگرافی یعنی سی ٹی سکین کا مشورہ دیا ، جس کے بعد مریضہ کو ریڈیالوجی روم لے جایا گیا ،  جیسا کہ عام طور پر ہوتا ہے کہ ریڈیشن افیکٹ کی وجہ سے مریض کے علاوہ کسی کو اندر جانے نہیں دیتے ، یہاں بھی ایسا ہی ہوا۔ مریضہ کے رشتہ داروں کو باہر انتظار کے لئے کہا گیا۔ 

سی ٹی سکین کے دوران مریض کے رشتہ داروں نے  شکایت کی کہ سی ٹی سکین ٹیکنشن نے مریضہ  سے بد سلوکی کی ۔  مریضہ کے گھر والوں کے مطابق  مریضہ  کی چلانے کی آواز سن کر وہ  ریڈیالوجی روم کے اندر گئے  اور انہوں نے غیر اخلاقی طور پر  ٹیکنشن کو مریضہ کو چھوتے ہوئے دیکھ لیا۔ تاہم  یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ محض الزام ہے کیونکہ مریضہ کی حالت ایسی نہ تھی  کہ وہ بول پائے۔ یہ محض شک کی بنیاد پر مریضہ کے عزیزوں نے الزام لگایا ہے۔ 
تاہم پاکستان پینل کوڈ 354 اور 509 کے تحت مذکورہ ٹیکنشن کے خلاف خان رزاق پولیس اسٹیشن ، قصہ خوانی میں ایف آئی آر  درج کیا گیا ہے۔
انتظامیہ نے ہسپتال میں ٹیکنشن کیجانب سےمریضہ کومبینہ طور پرزیادتی کا نشانہ بنانے کے واقعہ کی تحقیقات کیلئے کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے، کمیٹی کی جانب سے واقعہ کے حوالے سےانکوائری کی جائے گی جس کےبعد کمیٹی حقائق سامنے لانے کیساتھ ساتھ سفارشات انتظامیہ کو پیش کرے گی، واضح رہےکہ اتوار کے روز ایل آرایچ میں علاج کیلئے آنے والی خاتون مریضہ کو ایکسرے کے دوران عزت خان نامی ٹیکنیشن نے مبینہ طور پر زیاتی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی تاہم مریضہ اور انکے لواحقین کیجانب سے ہنگامہ آرائی کے بعد ملزم کو گرفتار کرلیا گیا،جس کے بعد ہسپتال انتظامیہ نے بھی اندرونی طور پر انکوائری کیلئے کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ واقعہ کے حقائق سامنے آسکیں۔

پاکستانی سمارٹ فون مارکیٹ میں کمپنیوں کے مابین حصص کی جنگ، چار بڑی چانیز کمپنیز بھی میدان میں

پاکستانی سمارٹ فون مارکیٹ میں کمپنیوں کے مابین حصص کی جنگ،  چار بڑی چانیز کمپنیز بھی میدان میں

ٹیکنالوجی (ٹائمز آف چترال ریسرچ)   بڑے عرصے تک
پاکستان کی موبائل فون مارکیٹ کا بادشاہ سمجھا جانے والا پاکستانی موبائل ساز ادارہ کیو #QMobile موبائل کی گرفت کمزور پڑتی جارہی ہے۔ چانیز کمپنی #Oppo  جارحانہ  انداز میں پنجے جمارہی ہے اور پاکستانی مارکیٹ میں کیو موبائل کا جم کر مقابلہ کررہی ہے۔  دیکھا جائے تو چائنیز موبائل فون بنانے والی کمپنیاں پاکستان میں  آچکی ہیں جن میں شیامومی، اوپو، ویوو ، ہواواے بڑے نام   شامل ہیں، اس کے علاوہ بھی چھوٹی غیر مقبول چانیز موبائل بنانے والی کمپنیاں پاکستان میں اپنی مصنوعات لانچ کر چکی ہیں ۔ پاکستانی مارکیٹ  کی بڑی  کمپنیاں سام سنگ، موٹورولا، ایپل، ایل جی ، بلیک بیری، نوکیا بھی موجود ہیں۔ لیکن اپنے مہنگے مصنوعات کی وجہ سے  مارکیٹ حصص کم ہے۔ 

گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان طارق بجوا کی شہباز شریف سے ملاقات

گورنر سٹیٹ بینک کی شہباز شریف سے ملاقات

لاہور (ٹائمز آف چترال نیوز ڈیسک) گورنر سٹیٹ بینک آف
پاکستان طارق بجوا نے لاہور میں وزیر اعلیٰ پنجاپ شہباز شریف سے ملاقات کی ہے۔  شہباز شریف نے بجوا کو سٹیٹ کا گورنر  مقرر ہونے پر  مبارک باد دی۔  شہباز شریف نے کہا کہ ملک کی معیشت بہتر ہوئی ہے اور عوام معاشی ترقی سے مستفید ہورہے ہیں۔  شریف نے مزید کہا ہے کہ معاشی سرگرمیاں میاں نواز شریف کی قیادت میں بہتر بنائی گئیں ہیں ، اور عوام تیز ترین معاشی ترقی کا فائدہ حاصل کر رہےہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام کے لئے  پالیسیز کا تسلسل اہم ہے ۔  انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن  کی ٹھوس پالیسیز کی بدولت قومی معیشت مستحکم ہوئی ہے اور رکاوٹوں کے باوجود ترقی کی رفتار تیز ہوئی ہے  جس کی غیر ملکی  اداروں نے بھی تائید کی ہے۔

22 جولائی، 2017

خیبر پختونخواہ کے بجلی کے محکمے پیڈو کی نااہلی کے سبب رینٹل پاؤر ہاؤس کا معاملہ حل نہ ہوسکا


بونی (کریم اللہ: ٹائمز آف چترال ) سن دو ہزار پندرہ کے تباہ کن بارشوں اور سیلابوں کی وجہ سے چار اعشاریہ دو میگا واٹ کے پیداواری صلاحیت کے حامل ریشن پاؤر ہاؤس  بھی تباہ ہوگیا۔ جس کی تاحال بحالی نہ ہوسکی۔ حکومتی نااہلی اور عوامی نمائندوں کی غفلت کی وجہ سے گزشتہ دو برسوں سے سب ڈویژن مستوج اور سب ڈویژن چترال کا بڑا حصہ تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے۔ البتہ طویل انتظار کے بعد سال روان کے آغاز میں صوبائی حکومت نے پرائیوٹ سیکٹر سے مل کر ریشن بجلی گھر صارفین کو ہنگامی بنیادوں پر بجلی کی سہولیات فراہم کرنے کے لئے رینٹل پاؤر پراجیکٹ شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ اور اس سلسلے میں کئی ایک کمپنیوں نے ٹینڈر میں حصہ لیا۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق رمضان کے آغاز ہی میں رینٹل بجلی گھر کو کام شروع کرنا چاہئے تھا۔ لیکن محکمہ پیڈو کی غفلت اور عوامی نمائندگان کی بے رخی کے سبب کئی ماہ گزرنے کے بعد ابھی تک وہ رینٹل پاؤر ہاؤس تیار نہ ہوسکے۔ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو مزید کئی مہینوں تک رینٹل پاؤر ہاؤس کی تکمیل شروع ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ 
ماہرین کا خیال ہے کہ اگر رینٹل پاؤر ہاؤس کو چلانے میں مزید تاخیر ہوئی تو کمپنی اپنا ٹینڈر منسوخ بھی کرسکتا ہے اور بارشوں کی صورت میں انفراسٹریکچر کے خراب ہونے کے امکانات ہے، جو کہ جنریٹرز کو مقررہ جگہہ تک پہنچانا ممکن نہیں رہے گا اور یوں اس رینٹل پراجیکٹ سے بھی صارفین کو کچھ فائدہ نہیں پہنچنے والا۔ اس تاخیر کا اصل ذمہ دار محکمہ پیڈو اور ریشن پاؤر ہاؤس کے آر ای ہے جو ٹھیکیدار کو جلد از جلد کام نمٹانے کا پابند نہیں بنا رہے ہیں۔عوامی حلقوں نے ایم پی اے مستوج سید سردار حسین، تحصیل ناظم مولانا یوسف، صدر پی ٹی آئی چترال عبدالطیف، ایم پی اے بی بی فوزیہ اور پی ٹی آئی کے سنئیر رہنما رخمت غازی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے جلد از جلد رینٹل پاؤر ہاؤس کو چالو کرکے عوام کو ریلیف پہنچانے کا بندوبست کریں۔ وگرنہ جشن شندور کے موقع پر چترال شندور روڈ کو بلاک کرکے دھرنا دیا جائے گا اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی زمہ داری مزکورہ بالا افراد اور محکمہ پیڈو پر عائد ہوگی۔

21 جولائی، 2017

بیالیس (42) برس بعد ہی سہی، لواری ٹنل آخرکار مکمل ہو گئی

بیالیس (42) برس بعد ہی سہی، لواری ٹنل آخرکار مکمل ہو گئی

کرٹیسی:
www.dw.com/ur

پاکستان کی تاریخ کا ’طویل ترین ترقیاتی منصوبہ‘ لواری ٹنل بلآخر بیالیس برس بعد مکمل ہوگیا۔ ستّر کی دہائی میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں شروع ہونے والے منصوبے کا افتتاح وزیراعظم نواز شریف نے کیا۔
وزیراعظم نواز شریف نے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے اپنے سیاسی مخالفین کو حدف تنقید بنانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ سیالکوٹ کی طرح اپیر دیر میں بھی نواز شریف نے پانامہ لیکس پر سپریم کورٹ کی سماعت کے حوالے سے مخالفین کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پانامہ لیکس کو جواز بناکر جوکچھ کیا جارہا ہے وہ احتساب نہیں، استحصال ہے اور اس احتساب کو ملک میں کوئی تسلیم نہیں کرے گا۔

نواز شریف نے کہا کہ انہیں سب سے زیادہ اپنی عزت پیاری ہے اور ’ایسے بے ہودہ الزامات ناقابل برادشت ہیں، روز صبح صبح اٹھ کر استعفٰی کی بھیک مانگنا شروع کردیتے ہیں، کیا نواز شریف ان کے ووٹوں سے وزیر اعظم بنا ہے؟ یہ کھیل تماشے اور سرکس بہت ہوچکے بہت دھرنے دیئے جاچکے عوام نے انہیں 2002 میں ٹھکرایا، 2008 میں ٹھکرایا، پھر 2013 میں ٹھکرایا اور انشااللہ 2018 میں بھی ٹھکرائے جائیں گے‘۔

خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے ملکی وزیر اعظم کا کہنا تھا، ’’ہم نے مخالفین کو موقع دیا کہ کم ازکم نیا خیبر پختونخوا ہی بنالو، لیکن وہ بھی ہم ہی بنا رہے ہیں اور نیا پاکستان بھی نواز شریف ہی بنائے گا۔‘‘ اسٹیج پر بیٹھے چترال سے آل پاکستان مسلم لیگ کے واحد رکن قومی اسمبلی افتخار الدین کو مخاطب کرتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف نے کہا، ’’آپ نے علاقے کے لیے جتنے ترقیاتی منصوبے مانگے ہیں، سب کی منظوری دیتا ہوں مگر یہ آپ کی مرضی ہے کہ آل پاکستان مسلم لیگ میں رہیں یا نواز لیگ میں شامل ہوں میری طرف سے کوئی زبردستی نہیں ہے۔‘‘

لواری ٹنل دو حصوں پرمشتمل ہے جس پر مجموعی طور پر 22 ارب روپے لاگت آئی ہے۔ پہلا حصہ تقریباﹰ 9 کلومیٹر اور دوسرا حصہ 3 کلو میٹر پر محیط ہے جو پشاور سے چترال دیر، ملاکنڈ، مردان اور اطراف کے علاقوں کو ملاتا ہے۔ پشاور سے چترال کی چودہ گھنٹے کی مسافت اب نصف وقت میں طے ہوسکے گی۔

خیبر پختونخوا کے دور افتادہ پہاڑی ضلعے، چترال کے عوام کے لیے موسم سرما میں لائف لائن کی حیثیت رکھنے والی ملک کی سب سے بڑی سرنگ پر کام کا آغاز 1975 میں ہوا تھا، تاہم ملک میں تیسرے مارشل لا کے نفاذ کے بعد جنرل ضیاالحق نے فنڈز کی عدم دستیابی کو جواز بنا کر کام روک دیا تھا۔ گیارہ سال قبل جنرل مشرف نے ٹنل کی تعمیر کا کام دوبارہ شروع کیا، مگر ریل ٹنل کو روڈ ٹنل میں تبدیل کردیا گیا جس کے باعث بھی یہ منصوبہ مزید تاخیر کا شکار ہوا۔

ٹنل کی تعمیر سے چترال اور اطراف کے علاقوں میں آباد پانچ لاکھ سے زائد افراد کو ہر موسم میں سفر کی سہولت دستیاب ہوگی۔ ٹنل کے منصوبے میں چار پل اور دونوں جانب رابطہ سڑکیں بھی شامل ہیں جس سے تین گھنٹے کا سفر اب محض پندرہ منٹ میں طے کیا جاسکے گا۔ دوسری ٹنل کی تعمیر سے پہاڑی کا بیشتر حصہ ختم ہوگیا ہے اور اب گاڑیاں ایک ٹنل سے نکل کر ایک پل کو عبور کرتے ہوئے دوسری ٹنل میں داخل ہوجائیں گی۔

مبصرین کے مطابق لواری ٹنل کا منصوبہ ایسے وقت میں مکمل ہوا ہے جب نواز شریف سیاسی طور پر مشکل حالات کا سامنا کررہے ہیں لہذا عوامی خطابات کے ذریعے مخالفین خصوصاٰ عمران خان کو جواب دینے اور اپنے آپ کو اعصابی طور پر مضبوط ظاہر کرنے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں۔

اصل اشاعت ڈی ڈبلیو ٹی وی

افتتاح کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا منصوبہ لواری ٹنل کا ایک اور افتتاح انجام پایا، اس پہلے اسکا تین دفعہ افتتاح اور دو مرتبہ سنگ بنیاد رکھا جاچکا

افتتاح کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا منصوبہ لواری ٹنل کا ایک اور افتتاح انجام پایا، اس پہلے اسکا تین دفعہ افتتاح اور دو مرتبہ سنگ بنیاد رکھا جاچکا

بلاگ: تحریر عبدالحسیب حیدر

اہل چترال کیلیے اس منصوبے کی اہمیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں , یہ بلاشبہ چترال کیلیے ایک انقلابی سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے، لواری ٹنل کی عام ٹریفک کیلیے مستقل کھلنے پر چترال میں اشیاء کے نرخوں میں واضح کمی دیکھنے میں آئیگی، دوسرا ٹرانسپورٹ اور سپلائی لائن بحال ہونے پر سرکاری محکموں کی کارکردگی اور بنیادی سہولیات کی فراھمی میں بھی واضح بہتری دیکھنے میں آئیگی۔



لواری ٹنل کی تعمیر کا کریڈٹ بلاشبہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے سر ہے انہی کے دور میں پراجیکٹ کا 60 سے 70 فیصد کام تیز ترین رفتار سے مکمل ہوا اور پراجیکٹ کی مکمل تکمیل 2009 میں ہونا قرار پائی بظاہر لگ بھی ایسا ہی رہا تھا کہ مقررہ مدت میں یہ پراجیکٹ پایہ تکمیل کو پہنچ جائیگا لیکن قدرت کو ابھی اہلیان  چترال کا مزید امتحان لینا مقصود تھا، جنرل پرویز مشرف کا اقتدار سے فارغ ہونے اور پیپلز پارٹی کا اقتدار میں آنے کے بعد لواری پراجیکٹ " عجب کرپشن کی غضب کہانی " بن گیا، لواری ٹنل کی تعمیری پراجیکٹ کا حصہ ہونے کے ناطے یہ بات وثوق سے کہتا ہوں کہ اس بڑے پراجیکٹ میں ہونے والی کرپشن پہ 10 والیوم کی رپورٹ شائع کی جاسکتی ہے , جس میں سب بڑا حصہ ن لیگ کی حکومت کے دوران کا ہے , تعمیراتی کمپنی " سامبو " نے بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ ہی نہیں دھوئے بلکہ سر تا پیر اشنان کیا , پاک فوج کے کالے بھیڑوں نے بھی اپنا حصہ بقدر حبثہ وصول کیا، امیر مقام ن لیگ کیطرف سے اس کرپٹ کہانی کے ایک کردار کے طور پر اپنا رول ادا کرتے رہے ، ن لیگ کے اعلان کردہ 28 ارب میں ن لیگی حصہ 5 سے 7 ارب کے درمیان رہا، اب یہ کس کس کے جیب میں گیا , کتنا کتنا گیا یہ امیر مقام ہی بہتر طور پہ بتا سکتے ہیں۔ پراجیکٹ کا آٹھ سال تک تاخیر کا شکار ہونے کے پیچھے بھی یہی کرپٹ مافیا ہی ہے۔

اہل چترال کیلیے اس خوشی کے موقع پر ایک بری خبر یہ کہ پراجیکٹ ابھی مکمل طور پہ پایہ تکمیل کو نہیں پہنچا، اور یہ افتتاح بھی پچھلے افتتاحوں کیطرح محص سیاسی ہی ہے , کیونکہ ٹنل سے ملحقہ روڈز , پل اور آبی گزرگاہیں ابھی تعمیر ہونا باقی ہیں، جسکے بغیر ٹنل کی افادیت نہ ہونے کے برابر ہے اور ٹرانسپورٹر طبقہ ہنوز ٹاپ کو ٹنل پہ ترجیح دے رہے ہیں، شنید ہے کہ اس ضمن میں ایک اور افتتاح پہ تالیاں بجانے کا موقع میسر آئے۔


شکریہ نواز شریف: تحریر طاہرالدین شادان

آج ہم تاریخ کے ایک نئے موڑ میں داخل ہوچکے ہیں جہاں سے ترقی اور خوشحالی کا نیا دور شروع ہو چکا ہے یقینا لواری کے سنگلاخ پہاڑ ہمارے لئے موت کی وادی سے کم نہ تھے ہمارے کتنے عزیز و اقارب کو ان خونخوار پہاڑیوں نے نگل لئے 1972 میں موت کی اس وادی سے چترالیوں کو بچانے کے لئے اتالیق جعفر علی شاہ نے سوچا اس کے سامنے وادی موت سے چترالیوں کو بچا کر نکالنے کا ایک ہی راستہ تھا کہ یہاں کے سنگلاخ اور آسمان سے باتیں کرتی ہوئی پہاڑیوں کا سینہ چیر کر اس کے اندر سے راستہ بنایا جائے لیکن اس وقت اتنے وسائل کا انتظام کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا اس کے باوجود ہمارے محسن اتالیق جعفر علی شاہ مرحوم نے ہمت نہیں ہاری بلکہ اس کام کے لئے منصوبہ بندی کی انسان اگر ہمت نہ ہارے تو پہاڑوں کا سینہ چیرنا اس کے لئے معمولی بات ہے اتالیق جعفر علی شاہ مرحوم اس سوچ کو لے کر آگے بڑھے اور اس کے لئے موثر قدم اٹھایا آواز بلند کی جس کی گونج ایوان اقتدار میں بھی سنائی دی اس وقت کے غریب پرور وزیر اعظم مرحوم ذوالفقار علی بھٹو نے چترالیوں کی مشکلات کا احساس کرتے ہوئے جعفر علی شاہ مرحوم کے مطالبے کو نہ صرف منظور کیا بلکہ پروجیکٹ پر 1975 میں کام کا آغاز بھی ہوگیا بد قسمتی سے ایک سال بعد بھٹو مرحوم کی حکومت ختم کی گئی اور لواری ٹنل کا خواب حقیقت کا روپ دھارنے میں کامیاب نہ ہوسکا اس کے بعد یہ پروجیکٹ تیس سال تک بند رہا تیس سال بعد محسن چترال ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے چترالیوں کے ساتھ دلی محبت اور خلوص کی بنا پر اس ٹنل میں کام کا دوبارہ آغاز کر دیا اور ان کی دور حکومت کے خاتمے تک ٹنل کی کھدائی کا کام مکمل ہوگیا بعد میں پی پی پی کی حکومت آئی تو پی پی پی کے اس دور کے رہنماؤں نے بھٹو مرحوم کے اس یاد گار منصوبے پر کام میں رکاوٹ ڈال دئیے اگرچہ اس دور میں بھی کچھ فنڈ ریلیز ضرور ہوئے تاہم تین سال تک کام بند رہا جس کی وجہ سے پروجیکٹ کے تین قیمتی سال ضائع ہوگئے الیکشن 2013 میں مسلم لیگ نون کی حکومت بنی اور ٹنل میں دوبارہ کام شروع ہوگیا جو کہ بلا تعطل آج بھی جاری ہے چونکہ ذاتی طور میں پرویز مشرف اور نواز شریف کا مخالف ہوں لیکن مجھے لواری ٹاپ سے دو بار موسم سرما میں پیدل گزرنے کا اتفاق ہوا ہے اور جو تکالیف میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھی وہ ناقابل بیان ہیں حالانکہ دونوں مرتبہ جب میں وہاں سے گزر رہا تھا موسم بالکل صاف تھا اس کے باجود میرے وجود کے تمام اعضا جواب دے چکے تھے ایک لمحے کے لئے میں نے شدید برف باری تیز ہوا اور بارش میں وہاں سے گزرنے والوں کے بارے میں سوچا تو مجھے احساس ہوا کہ پرویز مشرف سچ مچ محسن چترال ہیں اور نوازشریف سچ مچ ہمدرد چترال ہیں آج کا دن یقینا ہمارے لئے ایک یادگار دن ہے اس دن میں تمام تر اختلافات کو بالائے طاق رکھ قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو محسن چترال پرویز مشرف اور ہمدرد چترال میاں نواز شریف کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں لواری ٹنل پروجیکٹ کی تکمیل کی صورت میں نواز شریف نے چترالی قوم سے کیا گیا ایک وعدہ بھی احسن طریقے سے نبھایا ہے جبکہ مجھے اپنے چند دوستوں کے وہ الفاظ آج بھی یاد ہیں جب نواز شریف کی حکومت بنی تو انہوں نے کہا تھا کہ اب لواری ٹنل پر مزید پانج سال کام بند رہے گا کیونکہ نوازشریف چترالیوں کا دشمن ہے میری اپنی بھی یہی رائے تھی لیکن نوازشریف نے ہمارے موقف کو غلط ثابت کردیا اور خلاف توقع ٹنل پر نہ صرف کام کو جاری رکھا بلکہ ذاتی طور پر دلچسپی لے کر اس اہم ترین پروجیکٹ کو پایہ تکمیل تک پہنچایا ۔

اب رہی یہ بات کہ کیا اس شاندار کارکردگی کے مقامی سیاست پر کچھ اثرات مرتب ہوں گے ؟

میری ذاتی رائے یہ ہے کہ پروجیکٹ کی تکمیل سے مسلم لیگ کے ووٹ بنک میں پندرہ سے بیس فیصد اضافہ ضرور ہوگا تاہم اگر مسلم لیگ نون چترال میں اپنا قابل ذکر ووٹ بنک بنانا چاہے تو کم از کم اعلان کردہ دو پروجیکٹس یعنی چترال یونیورسٹی اور چترال ہسپتال کا سنگ بنیاد الیکشن سے پہلے پہلے رکھنا ہوگا کیونکہ یہ وہ پروجیکٹ ہوں گے جن کا کریڈٹ براہ راست وفاقی حکومت کو جائے گا ہم پر امید ہیں کہ وزیراعظم شندور کے موقع پر بھی تشریف لائیں گے اور ان دو منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھ کر چترال کو ترقی کی راہ پر گامزن کر کے مخالفین کو بھرپور عملی جواب دیں گے

کراچی ایئرپورٹ پر جیریز ڈناٹا نے نئے مرحبا لاؤنج کا افتتاح کردیا


کراچی:  پاکستان کے سب سے بڑے گرؤنڈ ہینڈلر جیریز ڈناٹا (Gerry's dnata) نے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی میں مرحبا (marhaba) کے نام سے نیا لاؤنج کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ نئے لاؤنج سے اسکے پورٹ فولیو میں اضافہ اور ملک میں اہم ایوی ایشن پارٹنر کے طور پر اسکی پوزیشن مزید مستحکم ہوئی ہے۔ اس لاؤنج کا افتتاح جیریز ڈناٹا کے پریذیڈنٹ گیری چیپ مین اور گورنر سندھ محمد زبیر نے کیا۔ 


انٹرنیشنل ڈیپارچرز پر واقع یہ لاؤنج دبئی سے یومیہ آنے والی ایمریٹس کی پانچ پروازوں کے مسافروں کو خدمات پیش کرے گا۔ نیا لاؤنج انٹرنیشنل مرحبا لاؤنج نیٹ ورک کا ایک حصہ ہے جسے جیریز ڈناٹا کی جانب سے آپریٹ کیا جائے گا اور یہ کراچی ایئرپورٹ سے جانے والے مسافروں کو بھرپور سہولیات پیش کرے گا تاکہ سفر کے دوران ان کا وقت اطمینان سے گزرے۔ نئے لاؤنج میں سہولیات کی آسانی سے فراہمی کے لئے 40 سے زائد افراد پر مشتمل مقامی عملہ بھرتی کیا گیا ہے۔ 

24 گھنٹے فعال رہنے والے مرحبا لاؤنج میں پورا دن کھانے، بچوں کے کھیلنے کی خصوصی جگہ، بزنس سینٹر، آرام کی جگہ اور ان مسافروں کے لئے مختص لفٹ کی سہولت موجود ہے جنہیں ویل چیئر کی ضرورت ہو یا جن کے پاس بھاری سامان ہوتا ہے۔ 

اس لاؤنج میں مفت وائی فائی، کھانے کی وسیع سروس کے ساتھ بوقت ضرورت مرحبا کے نمائندوں کی جانب سے مسافروں کی معاونت کی سہولت بھی پیش کی جاتی ہے۔ 

ڈناٹا کے پریذیڈنٹ گیری چیپ مین نے بتایا، 
"جیریز ڈناٹا انڈسٹری میں جدت لانے میں پیش پیش ہے اور ہم ہمیشہ اپنے صارفین کو فراہم کی جانے والی سروس میں اضافہ لانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔ مرحبا ایک انتہائی مقبول لاو ¿نج ہے اور ہمیں بہت خوشی ہے کہ ہم اس بڑے برانڈ کو کراچی میں کامیاب کرانے کے قابل ہوگئے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ اس سے مسافروں کی ضروریات پوری ہوں گی۔ کراچی ایئرپورٹ پر بڑھتے ہوئے ٹریفک کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں امید ہے کہ ہم ایک سال میں 20 ہزار مسافروں کو خدمات پیش کریں گے۔ ہماری سروس کی بدولت جتنے زیادہ مسافر سفر کے دوران آسانی اور سہولیات سے روشناس ہوتے ہیں، اس کے نتیجے میں ہم مزید روشن مستقبل کی امید کرتے ہیں۔ "

مرحبا دسمبر 1991 میں متعارف ہوا جس کا مقصد یہ تھا کہ دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر آنے یا جانے والے مسافروں کو سہولت فراہم کی جائے۔ یہاں آمد (Arrivals) یا روانگی (Departures) میں تیزرفتاری سے کلیئرنس سے لیکر ٹرانسفرز میں سہولت ، سامان اور فیملی ٹریول میں مرحبا لاﺅنج دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ٹرمینلز 1، 2 اور 3 ، المختوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور بحرین انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ذریعے تیزرفتاری کے ساتھ محفوظ راستے کو یقینی بناتا ہے۔ اس کا منصوبہ ہے کہ رواں سال نیٹ ورک میں مزید توسیع لائی جائے گی۔ 

19 جولائی، 2017

تحریک انصاف دوسروں کے منصوبوں پر اپنی تختیاں لگوارہی ہے، عوام با شعود ہیں: پیپلز پارٹی ایم پی اے چترال

چترال(پریس یلز : ٹائمز آف چترال ) کیارکریم آبادمیں ایک کروڑ55لاکھ روپے کی لاگت سے بننے والی واٹرسپلائی اسیکم کاافتتاح کرتے ہوئے چیئرمین ڈیڈک و ممبرصوبائی اسمبلی سلیم خان نے کہاکہ واٹرسپلائی اسیکم کیارکی منظوری میں اپنے صوابدیدی فنڈسے کروایاہے جوکہ گذشتہ سال کیارکے عوام کے مشترکہ مطالبے پرمیں نے منظورکیاتھا مگرمجھے افسوس ہوتاہے کہ ممبرڈسٹرکٹ کونسل اویر عبدالطیف کس حیثیت سے میرے اسیکم کاافتتاح کررہاہے حالانکہ ڈسٹرکٹ کونسل میں ان کاصوبدیدی فنڈسال کا20لاکھ روپے ہے جوکہ یوسی اویرکے علاوہ کہیں اورنہیں لگاسکتاہے پی ٹی آئی والے خالی تختیاں لگاکرکریم آبادکے عوام کوبے قوف نہیں بناسکتاہےآج کل میڈیاکادورہے اورعوام باشعورہوگئے ہیں تبدیلی کانعرہ لگانے والے آخرکارچترال میں کونسی تبدیلی لیکرآئے ہیں ان کے وزیراعلیٰ اورعمران خان جب چترال آئے تھے تب بھی وہ چترال کوکوئی نیاترقیاتی پیکج دینے کے بجائے میرے دورحکومت کے منظورشدہ اسکیموں پرتختیاں لگاکرچلے گئے ۔انہوں نے کہاکہ میں اپناحق صوبائی حکومت سے چھین کرلیتاہوں اورترقیاتی کاموں کوضرورت کے بنیاد پر پورے حلقے میں کررہاہوں ۔یوسی کریم آبادمیں اس وقت مختلف ترقیاتی کاموں پر12کروڑروپے کی لاگت کاکام چل رہے ہیں اورانشااللہ تعالیٰ مزیدترقیاتی منصوبوں کاآغاکرکے علاقے کی پسماندگی کودورکریں گے۔



18 جولائی، 2017

چترال جیپ حادثے کی تفصیلی رپورٹ: سینیر صحافی جی ایچ فاروقی سے


آرکاری سے چترال آنے والا جیپ حادثے کا شکار۔ جیپ میں سولہ لوگ دریا میں ڈوب گئے مقامی لوگوں نے نو افراد کو زندہ نکالے۔ تین لاشیں برآمد چار افراد ابھی تک لاپتہ۔

چترال( گل حماد فاروقی) وادی ارکاری کے اویر آرکاری سے چترال آنے والا جیپ چیو پل کے قریب چنار کے پاس حادثے کا شکار ہوگیا۔ یہ مسافر جیپ اچانک دریا میں گر گیا جس کے نتیجے میں جیپ میں سوار سولہ افراد پانی میں ڈوب گئے۔ مقامی رضاکاروں نے فوری طور پر نو افراد کو پانی سے زندہ نکالے جبکہ جیپ کو بھی چترال سکاؤٹس کے کرین کی مدد سے پانی سے نکالا جس کی فرنٹ سیٹ پر راحیلہ بی بی دختر گل رحیم سکنہ اویر ارکاری نامی ایک جوان لڑکی کی لاش بھی پڑی تھی۔

اس حادثے میں زندہ بچنے والا بشیر الدین جو اس تمام واقعے کا عینی شاہد بھی ہے اسے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال چترال میں داحل کیا گیا جہاں ڈاکٹر آصف علی شاہ کے مطابق ان کی جان حطرے سے باہر ہے۔ بشیر الدین ولد گل بیاز نے بتایا کہ وہ صبح اوویر ارکاری سے چترال آرہا تھا اس جیپ میں پندرہ سولہ لوگ سوار تھے جبکہ دو خواتین بھی ان میں شا مل تھے۔ جوں ہی یہ بدقسمت گاڑی چیو پل کے قریب پہنچ گیا تو اچانک دریا ئے چترال میں گرگیا ۔ سڑک کے کنارے دریا کی جانب بنائے گئے حفاظتی دیوار بھی انتہائی ناقص میٹریل سے بنایا گیا تھا ۔ وہاں موجود ایک عینی شاہد نے کہا کہ جس وقت یہ حادثہ پیش آیا وہ وہاں قریب تھا ان کا کہنا ہے کہ محکمہ مواصلات یعنی کمیونیکیشن اینڈ ورکس (سی اینڈ ڈبلیو) نے دریا کے جانب سڑک کے کنارے جو حفاظتی جنگلے یعنی دیوار بنائے تھے اس میں صرف پتھر ہی تھے اوپر سے سیمنٹ کا ہلکا سا پلستر کروایا تھا جونہی یہ جیپ اس حفاظتی دیوار سے ٹکرایا گیا وہ معمولی جھٹکے سے دریا میں گرگیا اور ساتھ ہی جیپ بھی دریا برد ہوا۔

ان کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل محکمہ سی اینڈ ڈبلیو نے سڑک کے کنارے پہاڑ کے جانب کھدائی کرکے نالے بنانا تھا مگر ابھی تک اس پر کوئی نالہ نہیں بن سکا اور اب فنڈ نہ ہونے کی وجہ سے اسے بند کروارہے ہیں جس کی وجہ سے سڑک مزید تنگ ہوا اور اس قسم کے حادثات پیش آتے ہیں۔

پچھلے سال بھی اسی مقام کے قریب ایک مسافر پک اک ڈاٹسن دریا میں گر گیا تھا جس کے نتیجے میں نو افراد جاں بحق ہوئے تھے انہوں نے شکایت کی کہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو با اثر افراد کی عمارتوں کو بچانے کیلئے سڑ ک کی بیچ میں حفاظتی دیواریں تو بناتے ہیں مگر دریا کے کنارے پر سڑ ک پر کوئی حفاظتی دیوار نہیں ہے اور اگر ہے بھی تو انتہائی ناقص۔

ہمارے نمائندے نے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کی موقف جاننے کیلئے ان کے دفتر گیا تو پتہ چلا کہ ایگزیکٹیو انجنیر مقبو ل اعظم کئی دنوں سے پشاور میں تھے چند لوگوں نے یہ بھی شکایت کی کہ ایکسین صاحب کا مکان پشاور میں زیر تعمیر ہے اور وہ اس کی نگرانی کرنے کیلئے زیادہ تر پشاور میں رہتا ہے۔ تاہم سب ڈویژنل آفیسر طارق علی کہا کہ وہ میڈیا کے سامنے بات کرنے کے مجاز نہیں ہے اور جب ایکسئن پشاور سے آئے تو وہ خود بتا سکتے ہیں۔

لاپتہ افراد میں افضل خان ولد گل بہار،محمد عارف ولد شیر غازی، حسن شاہ ولد زار نبی، سمیر خان ولد مراد خان، محمد حسن ولد شیر غزب، اصلاح الدین ولد رحیم خان ساکنان اویر ارکاری شامل ہیں جبکہ زحمیوں میں شیر الدین ولد شیر غزب، گل رحیم ولد میاں گل، انور میاں ولد پہلوان، محمد ولی ولد گل عجب، سلمان ولد محمد اسماعیل، شیر عزب ولد شیر غازی، اور سمیرا انار ولد شیر عذب شامل ہیں۔ ان سب زحمیوں کو ابتدائی طبعی امداد کے بعد ہسپتال سے فارغ کیا گیا اور ان میں سے صرف بشیر الدین ولد گل بہار ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر اسرار اللہ بھی ضلع سے باہر ہے ان کے بارے میں بھی یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ مہینے میں پندرہ پشاور میں اور پندرہ دن چترال میں گزار تے ہیں۔

اس واقعے کی اطلاع سنتے ہی چترال سکاؤٹس کے کمانڈنٹ کرنل نظام الدین شاہ نے ریسکیوں کے کاموں کا خود نگرانی کی اور ہر قسم تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

واضح رہے کہ جیپ کے ڈرائیور افضل امان جو اس حادثے میں بال بال بچ گئے تھے جب پانی سے نکلا تو اپنے گاڑی کی مسافروں کو دریا میں تیرتے ہوئے اور ڈوبتے ہوئے دیکھا جس پر وہ نہایت دل برداشتہ ہوکر خود بھی دریا میں چھلانگ لگا کر خود کشی کرلی جس کی لاش ابھی تک دریا سے نہیں ملی۔

17 جولائی، 2017

ارکاری سے #چترال آنے والی گاڑی بلچ کے مقام پر دریا میں جا گری، 7 افراد لاپتہ

ارکاری سے #چترال آنے والی گاڑی بلچ کے مقام پر دریا میں جا گری، 7 افراد لاپتہ

چترال (ٹائمزآف چترال : نیوز ڈیسک) بلچ کے مقام پر بے قابو گاڑی دریائے بے رم موجوں کی نذر ہوگئی۔ تفصیلات کے مطابق لوٹ کوہ ارکاری سے چترال آنے والی گاڑی نمبر اے جے کے 1373 تیز رفتاری کے باعث بے قابو ہوکر درائے چترال میں جاگری۔ جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار 14 میں سے 7 افراد لاپتہ جبکہ 7 زخمی ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال چترال منتقل کردیا گیا ہے۔ حادثے کا شکار افراد کی ریسکیو کے لئے چترال سکاؤٹس، پولیس اور فوکس ہیومینٹرین کے رضا کار موقع پر پہنچ گئے اور امدادی کاموں میں حصہ لیا۔ آخری اطلاعات تک ایک خاتون کی لاش دریا سے نکال لی گئی ہے باقی کی تلاش جاری ہے۔  فوری امداد فراہم کرکے جانوں کے زیادہ ضیاع کسی حد تک روکا گیا۔

چترال گاڑی حادثے کے  متاثر ہونے والے تمام افراد کا تعلق آرکاری، لوٹ کوہ سے ہے۔ پولیس کے ذرائع کے سے معلوم ہوا ہے کہ لاپتہ افراد میں افضل ولد محمد عارف ولد شیر غازی ، گل بہار ، حسن علی شاہ ولد زار نبی ، سمیر ولد مراد خان، محمد حسن ولد شیر غزب ، راحیلہ دختر گل رحیم اور  اصلاح ولد رحیم خان ساکنان آرکاری شامل ہیں، جبکہ شیر الدین ولد شیر غزب، گل رحیم ولد میاں گل ، انور میاں ولد پہلوان، محمد ولی ولد گل عجب، سلمان ولد محمد اسماعیل، شیر غزب ولد شیر غازی اور سمار آنار دختر شیر غزب زخمیوں میں شامل ہیں۔

15 جولائی، 2017

پیپلز پارٹی چترال: ابولیث رامداسی صدر اور سردار حسین بطور جنرل سیکرٹری نامزدگی کا امکان

پارٹی کے بہتر مفاد میں سب ڈویژن مستوج کے لئے ابولیث رامداسی کو صدر اور سردار حسین کو جنرل سیکرٹری نامزد کرنے کا امکان۔

مستوج (کریم اللہ: ٹائمز آف چترال) سن دوہزار تیرہ کے انتخابات میں ضلعی قیادت کی شاندار کارکردگی پر جہاں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری نے چترال کے پرانے پارٹی سیٹ اپ کو برقرار رکھتے ہوئے سلیم خان کو ضلعی صدر اور حکیم خان ایڈوکیٹ کو جنرل سیکرٹری مقرر کیا ہے۔ وہیں پاکستان پیپلز پارٹی چترال کے اندرونی
ذرائع نے بتایا کہ پارٹی آئین اور اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے سب ڈویژن مستوج کے لئے بھی پرانے ہی سیٹ اپ کو برقرار رکھنے کا امکان ہے۔ ذرائع  کے مطابق ابولیث رامداسی کو سب ڈویژن مستوج کا صدر اور سردار حسین کو جنرل سیکرٹری شپ پر بحال کرنے کا حتمی فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ پارٹی کے وسیع تر مفاد کے پیش نظر تحصیل لیول پر بھی پرانے ہی سیٹ اپ کو بحال رکھا جائےگا۔

پی پی پی کے اندورونی ذرائع نے بتایا کہ چونکہ سن دوہزار تیرہ کے انتخابات میں انتہائی نامساعد حالات کے باؤجودجس ضلعی و سب ڈویژنل و تحصیل تنظیمیوں نے چترال سے پاکستان پیپلز پارٹی کو صوبائی اسمبلی کی دونوں نشستوں پر کامیابی دلائی تھیں، انہیں تنظیموں کو ان کے شاندار پرفارمنس کی بنیاد پر دوبارہ بحال کیا جا رہاہے۔ تاکہ  سن دوہزار آٹھارہ کے انتخابات میں ضلع سے تینوں نشستین جت سکتے۔ اس فیصلے پر جیالوں میں ملا جلا رد عمل سامنے آیا ہے بعض کا کہنا ہے کہ ضلعی صدر نے بونی میں سب ڈویژن مستوج کے کارکنوں سے ملاقات کرکے ان کے تحفظات کے آزالے کا جو عندیہ دیا تھا اس کو پاؤں تلے روند کر پھر سے پرانے سیٹ اپ کو بحال کررہے ہیں جس  سے سب ڈویژن مستوج میں پارٹی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ جبکہ بعض جیالوں نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

13 جولائی، 2017

ڈائمنڈ جوبلی سے ڈائمنڈ جوبلی تک: (فکر فردا) کریم اللہ

ڈائمنڈ جوبلی سے ڈائمنڈ جوبلی تک: (فکر فردا) کریم اللہ

آج سے اکہتر برس قبل سن انیس سو چھیالیس عیسوی میں نزاری اسماعیلی برادری کے آڑتالیسوین امام ہزہائی نس سر سلطان محمد شاہ آغاخان سوئم کا ڈائمنڈ جوبلی منایا گیا۔ اس موقع پر جمع ہونے والی رقم کو ہزہائی نس سرآغاخان نے حیدر آباد، سندھ، کراچی، ممبئی، ہنزہ، گلگت، غذر، چترال اور بدخشان جیسے پسماندہ علاقوں کی جماعتوں اور دوسری برادری کے تعلیم پر خرچ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسی ڈائمنڈ
جوبلی کی مناسبت سے ڈے جے یعنی ڈائمنڈ جوبلی سکولوں کا قیام وجود میں آیا۔ اس سلسلے میں حیدر آباد، ممبئی، کراچی، ہنزہ، گلگت اور غذر میں ڈے جے سکول قائم ہوئے۔ گلگت بلتستان بالخصوص ہنزہ میں جو علمی انقلاب اور مادی ترقی آئی اس کے پیچھے انہی سکولوں کا بنیادی کردار ہیں۔ بدقسمتی سے چونکہ اس دور میں چترال پر ایسے سخت گیر حکمران مسلط تھے جو علم و تعلیم اور رعایا کی ذہنی ترقی کو اپنی حکومت کے لئے بدشگون خیال کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ چترال میں ان اداروں کے قیام کی اجازت نہیں دی گئیں۔ اور نہ خود ریاست چترال کے پاس اتنے وسائل اور ویژن تھے کہ وہ اپنے رعایا کے لئے تعلیم وتعلم کا بندوبست کرتے۔ اسی وجہ سے اس دور کے مہتر چترال ہزہائی نس محمد مظفر الملک نے چترال میں ڈائمنڈ جوبلی سکولوں کے قیام کی اجازت نہیں دیں۔

اس کے پیچھے کئی ایک تاریخی عوامل کافرما تھے، جن میں آج سے ٹھیک ایک سو برس قبل یعنی انیس سو سترہ کو مستوج سے پیر بلبل شاہ کی قیادت میں جنم لینے والی اس تحریک کا بھی کردار تھا جس میں مستوج کے عوام پر مسلط کی جانے والی ناجائز ٹیکسوں یعنی عشر کے خلاف عوام بغاوت پر اتر آئے تھے، اور ریاست کو ٹیکس یعنی عشر ادا کرنے سے انکار کیا تھا۔ اس نافرمانی کو بھولنا ریاستی حکمرانوں کے لئے ممکن نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بیسویں صدی کے ابتدائی پانچ عشرے تو چترال کے اسماعیلیوں کے لئے انتہائی تکلیف دہ ادوار میں شمار ہوتا ہے۔ اس دوران دو مرتبہ مہتران چترال کی جانب سے اسماعیلیوں کو زبردستی مذہب تبدیل کروانے اور انکار پر تشدد، سماجی بائیکاٹ، جائیدادوں سے بے دخلی اور ریاست بدر تک کی سزائیں دی گئیں۔ انیس سو چوبیس عیسوی میں شاہ شجاع الملک حج سے واپسی کے بعد چترال میں سینکڑوں برسوں سے مقیم اسماعیلیوں کو بزورطاقت مذہب تبدیل کروانے کا سلسلہ شروع کیا۔ اگر کسی نے انکار کیا تو ان کو ہر طرف سے ذدو کوب کیا گیا، ان کی جائیدادین ضبط کی گئیں اور انہیں گھروں سے بے دخل کردیا گیا۔ جو بالآخر حکومت برطانوی ہند کی مداخلت کے باعث اختتام پزیر ہوا۔ اس کے بعد انیس سو چھتیس عیسوی میں مہتر محمد ناصرالملک نے ایک مرتبہ پھر اپنے اسماعیلی رعایا کے گرد گھیرا تنگ کیا۔ اس مرتبہ ریاست نے سارے حدود پھلانگ دئیے۔ سنی العقیدہ مورخ اور استاد پروفیسر رحمت کریم بیگ کے مطابق''

A second attempt to impose Sunni Islam on the Ismailis was made in 1936 by Mohammad Nasirul  Mulk soon after he was installed as
Mehtar. This time round, the Mehtar threatened to confiscate  property and withdraw privileges, while at the same time offering land, money, clothing and horses as bait to those who converted.
There were some who could not resist the temptation but the majority of Ismailis refused to compromise and instead fled their homes, taking refuge outside Chitral. Many went to Bombay,
which was by that time the seat of their spiritual leader, Sir Sultan Mahomed Shah, Aga Khan III. Others travelled to Kashghar in eastern Turkistan and to Zebak in the Badakhshan province of
Afghanistan. Following this exodus, in Chitral itself a large-scale boycott of Ismailis was organised. For several months, members of the community were denied access to critical resources and facilities such as roads and water channels.
(Chitral A Study in Statecraft pg 88)

یہی وہ تاریخی عوامل تھیں جس کی بنا پر حکمرانان چترال یہاں پر کسی بھی قسم کی تعلیمی سرگرمیوں کی اجازت دینے کو تیار نہیں تھیں۔ اور جب آغاخان سوئم نے علاقے کی تعمیر وترقی کے لئے یہاں ڈائمنڈ جوبلی سکول قائم کرنے کا فیصلہ کیا تو مہتر چترال نے ان سکولوں کے قیام کی اجازت نہیں دی۔ دیکھا جائے توچترالی قوم کو پسماندہ رکھنے میں ہمارے ریاستی حکمرانوں نے ایک سے بڑھ کر ایک کردار ادا کرتے رہے۔

لیکن چترال سے کٹورشاہی خاندان کے پرآشوب تاریک دور کو بھی گزرے عشرے بیت گئے۔ اسی دوران آج سے ساٹھ برس قبل آغاخان سوئم کی انقلابی قیادت کے بعد پرنس کریم کی صورت میں ایک اور ولولہ انگیز رہنما کی قیادت اسماعیلیوں کو نصیب ہوئی۔ حالات میں دھیرے دھیرے بہتر ہوتی چلی گئیں۔ لیکن چترال کے اسماعیلی قیادت اور اے کے ڈی این کے اہلکاروں نے پرنس کریم کے وژن کو آگے بڑھانے میں کوئی انقلابی کردار ادا نہیں کیا۔ بس معاشرہ جس سمت میں چل رہا ہے اس سے صرف چند ہی قدم آگے ہم بھی محو سفر ہیں۔ آغاخان ایجوکیشن سروس تقریبا انیس سو پچاسی سے چترال میں کام شروع کیا۔ لیکن دو ہزار دس تک آغاخان سکولوں میں بھی وہی روایتی انداز سے تعلیم دی جاتی رہیں۔ گرچہ خواتین کو تعلیم حاصل کرنے میں حوصلہ افزائی ضرور ہوئی لیکن معیار نہ ہونے کی وجہ سے آغاخان سکولوں کے طالبات ماسوائے نرس بننے کے اور کسی اعلی پوسٹوں پر نظر نہیں آتے۔ اب بھی یہی سلسلہ جاری ہے۔ دنیا کس سمت میں روان ہے اور ہماری ترجیحات کیا ہے؟ اس پر آج ہی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔

’چائے والا ‘سے مشہور ہونے والا ارشد خان کی اصلیت سامنے آ گئی، پاکستانی شہری نہیں بلکہ ….



اسلام آباد(ٹائمز آف چترال ۔ مانیٹرنگ ڈیسک) سوشل میڈیا اور پاکستانی میڈیا کی جانب سے راتوں رات ہیرو بنائے جانے والے چائے والا ، یعنی ارشد خان دراصل پاکستانی ہی نہیں ۔ اس کے پاس نہ تو پاکستانی کوئی شناخت نامہ ہے اور نہ کسی اور ملک کا۔ اور نہ ہی پاکستان میں رہنے کے لئے کوئی اجازت نامہ ۔ یہ بات آج جب میڈیا پر آئی تو سارے ادارے جاگ اٹھے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے یہ بات باعث شرم بھی کہ آج تک اس لڑکے کے بارے میں ان کو علم نہ ہوا وہ بھی اس وقت جب ارشد بہت زیادہ مشہور ہوا۔ اسلام آباد کے اتوار بازار میں چائے بنانے والے ارشدکو پاکستانی میڈیا اور سوشل میڈیا نے راتوں رات شہرت کی ان بلندیوں تک پہنچادیا تھا کہ ارشد کو جگہ جگہ سے ماڈلنگ اور اشتہارات کی پیشکشین آنے لگیں۔ یہانتک کہ انہیں فلموں کی بھی آفر ہوئیں۔ اب معلوم ہوا ہے کہ ارشد خان پاکستانی نہیں بلکہ افغان شہری نکلا۔ اور ایسے افغان شہری کہ جس کے پاس پاکستان میں رہنے کے لئے کوئی اجازت نامہ بھی نہیں ، غیر قانونی طریقے سے پاکستان میں سالوں سے مقیم ہے۔

تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ نادرا کے ریکارڈ کے مطابق ارشد خان پاکستانی شہری نہیں بلکہ افغان شہری ہے ۔ نادرا میں ارشد خان کا افغان شہری کے طور پر اندراج ہے تاہم ارشد خان کے پاس افغان مہاجر کارڈ بھی نہیں۔ واضح رہے کہ اسلام آباد میں چائے بنانے والے ایک نوجوان کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔ اس چائے والے کی تصویر نے دھوم مچادی اور بھارتی خواتین میں اس نوجوان نے بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی۔بھارتی لڑکیوں نےنوجوان کو دنیا کا حسین ترین مرد قرار دیدیا تھا اوربہت سے لوگ تصویر کی خوبصورتی کی تعریف کرتے نظر آ رہے ہیں۔ چائے فروش مردان کا 18 سالہ ارشد خان ہے جو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے پشاور موڑ بازار میں چائے کی دکان چلاتا تھا۔ارشد خان پر قسمت کی دیوی اس وقت مہربان ہوئی تھی جب اسلام آباد کے ایک اتوار بازار میں چائے بیچتے ہوئے بنائی گئی ان کی تصویر سوشل میڈیا پروائرل ہوئی اور یوں ’چائے والا‘ کی شہرت ملک کی سرحدوں سے نکل کر پورے جہاں میں پھیل گئی اور چائے والا سوشل میڈیا ویب سائٹس کا ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔

اب انہیں کوئی ’چائے والا‘ کہہ کر پکارے تو یہ فخر محسوس کرتے ہیں ۔ پاکستان کے میڈیا اور سوشل میڈیا نے انہیں بہت جلد وہ شہرت دلا دی ہے جس کی لوگ تمنا کرتے اور اسی حسرت میں زندگی گزار دیتے ہیں ۔ارشد خان کو ان کی خوب صورتی کی بدولت ماڈلنگ کرنے کی کئی پیشکشیں موصول ہوئیں اور ان میں سے کچھ کو انہوں نے قبول بھی کرلیا۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے لاہور میں ہونے والے برائیڈل شو میں بھی ریمپ پر واک کی اور دیکھنے والوں کو حیرت میں ڈال دیا۔

پیپلزپارٹی کے رہنماء معظم جتوئی، عامر وارن، جہانزیب وارن پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے

اسلام آباد (ویب ڈیسک) تحریک انصاف میں شمولیت کا سلسلہ جاری ہے۔ کپتان کی سوئنگ سے پی پی کی وکٹیں اڑنے کا سلسلہ جاری ہے: پی پی کے معظم جتوئی، جہانزیب وارن اور عامر وارن بنی گالہ میں عمران خان سے ملاقات کرکے جیالے سے  کھلاڑی بننے کا اعلان کردیا۔ 

معظم جتوئی، جہانزیب وارن اور عامر وارن نے بنی گالہ میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات کے موقع پر تینوں رہنماؤں نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا باضابطہ اعلان کردیا۔ ملاقات میں وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی اور پارٹی کے سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین بھی موجود تھے۔

ملاقات میں تینوں رہنماؤں نے تحریک انصاف کی قیادت اور منشور پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ عمران خان نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنے والے رہنماؤں کا خیر مقدم کیا ۔



مشہور اشاعتیں


تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget