اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

19 جون، 2019

ایل جی الیکٹرونکس نے دنیا کے پہلے 8 کے،88 انچ اولیڈ ٹی وی کی فروخت شروع کردی

ایل جی الیکٹرونکس نے دنیا کے پہلے 8 کے،88 انچ   اولیڈ ٹی وی کی فروخت شروع کردی


88 انچ   8 کے اولیڈ ٹی وی ناقابل یقین دیکھنے والوں کو نیا تجربہ دیتا ہے، ٹی وی اولیڈ ٹیکنالوجی سے مزین ہے



کراچی : ایل جی الیکڑونکس نے  دنیا کے پہلے 8 کے اولیڈ ٹی وی کی فروخت شروع کردی ہے ، کمپنی نے اولیڈ ٹی وی (ماڈل 88Z9) کے پری آرڈر لینا شروع کردیا ہے۔ ٹی وی شمالی امریکہ اور یورپ کی مارکیٹوں میں  بھی جلد دستیاب ہوگا۔

ایل جی اب تک کے سب سے بڑے 8 کے اولیڈ ٹی وی  میں جدت اور  بے جوڑ  ڈسپلے ٹیکنالوجی کو ممکن بنایا ہے۔ اولیڈ ٹی وی کا نیا ماڈل موجودہ ایل ای ڈی ڈسپلیز کے  مقابلے ٹیلی ویژن دیکھنے کا  بہترین اور پر لطف تجربہ فراہم کرتا ہے۔ ٹی وی پر انتہائی جدید  پینل  نصب کیا گیا ہے  جو  33 ملین سے زائد خودسے روشن  اور دھیمے ہونے والی پکسلز  پر مشتمل ہے جو ایل جی اولیڈ ٹیلی ویژنز کے جانے  مانے والی پکچر کوالٹی کے ساتھ  وسیع اینگل میں دیکھنے کے مزے کو  حقیقت سے قریب تر کردیتا ہے۔ 88 انچ ٹی وی پر 8 کے الٹرا ایچ ڈی ریزولوشن  (7,680 x 4,320)  کی بدولت کی  تصاور زیادہ  بالکل شارپ نظر آتی  ہیں۔ فل ایچ ڈی کے مقابلے میں 16 گنا جبکہ الٹرا ایچ ڈی کے مقابلے 4 گنا بہتر ہے۔

ایل جی 8 کے اولیڈ ٹی وی پینل کی کارکردگی کو  کمپنی کی سیکنڈ جنریشن  اے(ّ الفا) 9 جن 2 8کے پروسیسر کے ذریعے  بہترین بنایا گیا ہے۔   پروسیسر تصویر اور آواز کے معیار کو ڈیپ لرننگ ٹیکنالوجی  اور ویژول انٖفارمیشن کے وسیع ڈیٹا بیس تک  رسائی  کے ساتھ بڑھاتا ہے ۔  پروسیسر   سورس کوالٹی  کی جانچ کرکے چپ کو ٹی وی پر ظاہر ہونے والی تصاویر کاحقیقی منظر دکھانے کے لئے بہترین الگورتھم  لاگو کرتاہے ۔ اے 9 جن 2 ،  8کے پروسیسر کے ساتھ ایل جی 8کے  88انچ اولیڈ ٹی وی  میں  پروسیسنگ کی بہترین صلاحیت موجود ہے۔ یہ پروسیسر  ماحول   کا جائزہ  لیکر اس کے مطابق بہترین برائٹنس دیتا ہے۔  ٹیلی ویژن کی آواز  بھی محسورکن ہے جس سے دیکھنے اور سننے  والے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ آواز  کا معیار ایک ذہین الگورتھم کے ذریعے بڑھایا گیا ہے  جو دو چینل آڈیو کو ملاکر سراؤونڈ  5.1 آواز کو یقینی بناتا ہے۔ 

غیر معمولی ایچ ڈی آر تجربے کو یقینی بنانے کے لئے ایل جی 8 کے اولیڈ  ٹی وی  ڈولبے اٹموس کے ساتھ آرہا ہے اور ڈولبے ویژن کےناقابل یقین  حقیقی آواز ذہین فائن ٹیونز کونٹنٹ کی قابلیت کے ساتھ اس عمل کو یقینی بناتا ہے۔ ٹیلی ویژن ایچ ڈی ایم آئی 2.1  کو سپورٹ کرتا ہے، جس سے دیکھنے والے تیز ترین 60 فریم فی سیکنڈ  کے ساتھ 8 کے کنٹنٹ سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ 

ایل جی موبائل کمونیکیشن اور ہوم اینٹر ٹینمنٹ کمپنیز کے صدر برین کون نے کہا  کہ ’’ دنیا کے پہلے سب سے بڑے 8 کے اولیڈ ٹی وی کو سب سے پہلے مارکیٹ میں لاکر ہم نے الٹر پریمیم ٹی وی سگمنٹ میں اولین ہونے کے اپنے عزم کو ثابت کردیا ہے۔ یہ ٹی وی ناظرین اور ہمارے صارفین کو ناقبل یقین تجرہ فراہم کرے گا۔ ایل جی نے ہی سب سے پہلے اولیڈ کو مارکیٹ میں لایا تھا، اور آئندہ بھی ہم اسٹیٹ آف دی آرٹ ٹی وی ٹیکنالوجیز پیش کرنے کے سلسلے کو جاری رکھیں تاکہ صارفین کو گھریلو تفریخ میں جدت محسوس ہو۔‘‘ 






ضلع اپر چترال کے تحصیل انتظامیہ کی عمارت میں پہلا بجٹ اجلاس، ضلع کونسل میں پونے 4 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا گیا

چترال کے بالائی علاقے بونی میں ضلعی اپر چترال کے تحصیل انتظامیہ کی عمارت میں پہلا بجٹ اجلاس منعقد کیا گیا۔ ضلع کونسل میں پونے چار ارب روپے کا بجٹ پیش کیا گیا۔



چترال (گل حماد فاروقی) ضلع اپر چترال کے ضلعی ہیڈ کوارٹرز بونی کے مقام پر ضلع کونسل کا پہلا بجٹ اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت کنونیر مولانا عبد الشکور کرر ہے تھے۔ ضلع ناظم مغفرت شاہ نے سال 2018-19کا بجٹ پیش کیا جس پر ضلع کونسل کے اراکین نے بحث کیا۔ بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ضلع ناظم مغفرت شاہ نے کہا کہ چار سال قبل ان کے ساتھ جو وعدے کئے گئے تھے کہ احتیارات کی نچلی سطح پر منتقل کئے جائیں گے اور بڑے دعوے ہوئے تھے مگر چار سال گزرنے کے باوجود نہ تو احتیارات نچلی سطح پر منتقل ہوئے اور نہ ہمارے ساتھ کئے گئے وعدے پورے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی حکومت نے بیرونی امداد سے ایک ملٹی سیکٹورل منصوبہ لانے کی کوشش کی تھی۔مگر صوبائی اور مرکزی حکومت کی سرد مہری کی وجہ سے یہ پراجیکٹ چترال نہ آسکا۔ 

بجٹ اجلاس میں رحمت غازی، نابیگ کیلاش ایڈوکیٹ، مولوی عبد الرحمان، عبدالقیوم، رحمت الہی، شیر عزیز بیگ، یعقوب خان، مولوی جاوید حسین، خاتون رکن حصول بیگم، مفتی محمود الحسن، شیشی کوہ سے شیر محمد، ارندو سے شیر محمد، مولوی جاوید حسین، تحصیل ناظم مولوی محمد یوسف وغٖیرہ بحث میں حصہ لیا۔ 

بجٹ اجلاس میں محکمہ صحت پر کافی تنقید کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ جن بنیادی مراکز صحت اور یگر ہسپتالوں کو یہ ادویات فراہم کررہی ہے ان کا احتساب کیا جائے تاکہ اتنا حطیر رقم خرچ ہونے کے باجود بھی عوام کو کیوں ایک ڈسپرین کی گولی تک نہیں ملتی۔

بعد میں کافی بحث مباحثے کے بعد ضلع کونسل نے اپنا بجٹ پیش کیا جس کی تفصیلات کچھ یوں ہے۔ 

ہائر سیکنڈری سکولوں کی خود محتاری کیلئے گرانٹس، 5.511ملین، سکولوں میں داحلہ مہم اور آگاہی کیلئے گرانٹ 0.339 ملین، ایس ڈی اوز کے دفاتر کیلئے فرنیچر کی فرنیچر کی خریداری کیلئے گرانٹس 1.204ملین، ایس ڈی اوز کے دفاتر کیلئے IT آلات کی خریداری کیلئے گرانٹس، 1.090 ملین، گرانٹ برائے ادائگی معاوضہ LPR سرکاری ملازمین80.000 ملین، بنیادی مراکز صحت میں ادویات کی خریداری کیلئے گرانٹس12.370 ملین، بہترین کارکردگی دکھانے والے سکولوں کیلئے گرانٹس، 1.800 ملین کل 102.314 ملین بجٹ منظور ہوا۔ 

اسی طرح ملازمین کی سیلری یعنی تنخواہ اور الاؤنس کیلئے نظر ثانی شدہ تخمینہ3,95,92,40,000، نان سیلری اخراجات جاریہ کیلئے 30,34,61,000ڈسٹرکٹ کونسل گرانٹ (لوکل کونسل گرانٹ کا 20 فی صد) 1,54,33,000، ضلعی سالانہ ترقیاتی فنڈ، 31,35,03000

یہ بجٹ ضلع کونسل میں منطور ہوا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اپر چترال کے نئے ڈپٹی کمشنر شاہ سعود نے تمام اراکین کو یقین دلایا کہ وہ ان کا حادم ہے اور جب بھی کسی بھی وقت کسی کو اگر کوئی ان کے دفتر سے متعلق کوئی مسئلہ ہو تو وہ حاضر ہے۔ 

ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ اگر چہ نئے ضلعے کو کافی مشکلات کا سامنا ہے مگر ہم پرامید ہے کہ صوبائی حکومت ان کو گرانٹ دیکر اور یہاں کے قدرتی وسائل سے استفادہ کرتے ہوئے یہ ضلع ایک خود محتار ضلع ثابت ہوگا انہوں نے کہا کہ جتنے بھی ملازمین کا تعلق اپر چترال سے ہو ان کا لور چترال سے تبادلہ کرکے یہاں بلایا جائے گا تاکہ یہاں کا انتظامی امور جاری رکھ سکے۔ 


اسلامی علماء اور سیاسی علماء : سیاسی علماء نے اسلام کو بہت نقصان پہنچایا ہے: اس مولانا صاحب کی دل کو لگنے والی باتیں ذرا سنیں

  اسلامی علماء اور سیاسی علماء : سیاسی علماء نے اسلام کو بہت نقصان پہنچایا ہے: اس مولانا صاحب کی دل کو لگنے والی باتیں ذرا سنیں

  اسلامی علماء اور سیاسی علماء : سیاسی علماء نے اسلام کو بہت نقصان پہنچایا ہے: اس مولانا صاحب کی دل کو لگنے والی باتیں ذرا سنیں






18 جون، 2019

چین کے سیچوان صوبے میں خوفناک زلزلہ، 12 افراد ہلاک، 135 سے زائد زخمی

چین کے سیچوان صوبے میں خوفناک زلزلہ، 12 افراد ہلاک، 135 سے زائد زخمی



چین (ٹائمزآف چترال ویب ڈیسک) چین کے سیچوان صوبے میں خوفناک زلزلے سے 12 افراد ہلاک، 135 سے زائد زخمی  ہوئے ہیں۔ زلزلے کی شدت 6.0 تھی۔ ہزاروں افراد نقل مکانی کر چکے۔ زلزے سے درجنوں مکانات زمین بوس ہوگئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں سے 5 ہزار افراد کو ریسکیو کرلیا گیا ہے۔ زلزلے کے بعد متاثرہ علاقے میں 4 آفٹر شاکس آئے ہیں جن کی شدت 5.1 ریکارڈ کی گئی۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کی شدت 5.8 ریکارڈ کی گئی۔

زلزلے سے متعلق سرکاری ایجنسی شنوا نے بتایا کہ مختلف ہائی ویز پر دراڑیں پڑ گئیں اور یبن اور زویونگ کاؤنٹی کو ملانے والے بڑے ہائی وے کو بند کردیا گیا۔ زلزلے سے ایک منٹ قبل صوبائی دارالحکومت چنگدو میں انتباہی الارم کا نظام بجا تھا جبکہ یبن میں زلزلے سے 10 سیکنڈ قبل انتباہی گھنٹی بجی تھی۔ زلزلے سے قبل 3 سیکنڈ پہلے ہیڈ اسٹارٹ ہونے سے ہلاکتوں میں 14 فیصد روک سکتے ہیں۔



17 جون، 2019

چترال میں ڈسٹرکٹ کپ پولو ٹورنمنٹ کا آغاز۔ پہلے دن دس میچ ہوئے جن میں بیس پولو ٹیموں نے حصہ لیا۔

چترال میں ڈسٹرکٹ کپ پولو ٹورنمنٹ کا آغاز۔ پہلے دن دس میچ ہوئے جن میں بیس پولو ٹیموں نے حصہ لیا۔


پہلی بار نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم شندور پولو کلب کے کھلاڑیوں نے بھی اس میں حصہ لیا۔ 


چترال(گل حماد فاروقی) پولو گراؤنڈ چترال میں ڈسٹرکٹ کپ پولو ٹورنمنٹ کا آغاز ہوچکا ہے جو کہ 25 جون تک جاری رہے گا۔ پہلے دن ٹورنمنٹ میں بیس ٹیموں نے حصہ لیکر دس میچ ہوگئے۔ ان میں دروش سے لیکر مستوج اور شندور تک کے پولو ٹیمو ں نے حصہ لیا۔ پہلی بار اس ٹورنمنٹ شندور پولو کلب کے نوجوان کھلاڑیوں نے بھی حصہ لیا۔ 

ٹیم کیپٹن نظام علی نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ شندور پولو کلب کا آغاز ایک نیک شکون ہے اور اس میں نوجوان کھلاڑیوں کو بھی موقع ملتا ہے کہ وہ بھی کھیلے اور پولو کے ذریعے چترال کا نام روشن کرے۔ انہوں نے کہا کہ ان کو ناردرن سیٹیزن کمیونٹی بورڈ اور الکوثر ویلی جو فلاحی ادارہ ہے نے گھوڑے مفت فراہم کئے ہیں۔ 

ایک سوا ل کے جواب میں شہزادہ انیس جو نوجوان کھلاڑی ہے نے کہا کہ اس کمر توڑ مہنگائی گھوڑا پالنا بہت مشکل ہے کیونکہ ایک گھوڑے پر اوسطاً ماہوار بارہ ہزار روپے خرچ ہوتا ہے جو کہ ایک غریب کھلاڑی کیلئے مشکل ہے۔ 

سید ناصر علی شاہ نے کہا کہ ٹورزم کارپوریشن خیبر پحتون خواہ جو شندور کیلئے اور سیاحت کے فروغ کیلئے باون کروڑ روپے کا اعلان کرچکا ہے اگر وہ رقم کسی جیب میں جانے کی بجائے صحیح معنوں میں خرچ کی جائے تو تمام کھلاڑیوں کو گھوڑے پالنا اور ان کو ماہوار وظیفہ بھی اس سے مل سکتا ہے مگر TCKP اور صوبائی حکومت کی اعلان کردہ رقم صحیح معنوں میں خرچ نہیں ہوتا اس کا بھی نیب یا دیگر اداروں کے ذریعے احتساب ہونا چاہئے۔ 




انہوں نے کہا کہ ایک اعلےٰ نسل کا گھوڑا پانچ لاکھ روپے کا آتا ہے اور اس پر ماہوار ٹھیک ٹاک خرچہ آتا ہے جو کہ ایک متوسط طبقے کے کھلاڑی کیلئے مشکل ہوتا ہے۔ 

محبوب علی بیگ لال بھی ایک نوجوان کھلاڑی ہے جس نے مہربانی کرکے ہمارے نمائندے کو اپنا گھوڑا بھی فراہم کیا جس پر انہوں نے بیٹھ کر رپوررٹنگ کی محبوب علی بیگ لال نے کہا کہ وہ شوق سے کھیلتا ہے اور گھوڑے کو بھی اسی شوق کی تکمیل کیلئے پالتا ہے مگر اس دور میں گھوڑے جیسے مہنگا سواری پالنا نہایت مشکل پڑتا ہے۔ کیونکہ سردیوں میں اس کا چارہ لانا اور اس کا حوراک بہت مہنگا ملتا ہے۔ 

پولو کے کھلاڑیوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے ساتھ مالی طور پر مدد کرے تاکہ وہ گھوڑے پال سکے اور ان کی چار ا ڈالنے اور ان کی نگہداشت کیلئے ایک ملاز بھی رکھ سے بصورت دیگر ان کیلئے گھوڑا رکھنا بہت مشکل ہوگا جس سے پولو کا یہ روایتی کھیل حتم ہوکر صرف ا کی تصاویر کتابوں میں ملے گی۔ 


چترال کے بالائی علاقے کوشت میں محتلف انواع و اقسام پر مشتمل خوبصورت باغ۔ پتھروں پر اللہ اور محمدﷺ کے نام قدرتی طور پر کندہ ہیں۔ باغ سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

چترال کے بالائی علاقے کوشت میں محتلف انواع  و اقسام پر مشتمل خوبصورت باغ۔ پتھروں پر اللہ اور محمدﷺ کے نام قدرتی طور پر کندہ ہیں۔ باغ سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔



چترال (گل حمادفاروقی)  چترال کے بالائی علاقے کوشت گاؤں میں نغور مولی  میں ایک ایسا باغ بھی موجود ہے جس میں ہر رنگ، ہر قسم  یعنی محتلف انواع و اقسام کے پھول  موجود ہیں اس باغ کے علاقے کے ایک سماجی کارکن حبیب اللہ نے اپنی مدد آپ کے تحت تیارکیا ہے جس میں ہر قسم   اور ہر رنگ کے محتلف انواع  کے پھول موجود ہیں۔

اس باغ کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس میں ایسے  پتھر بھی رکھے گئے ہیں جن پر قدرتی طور پر اللہ اور رسول کے نام کندہ ہیں۔ حبیب اللہ کے بڑے بیٹے نعیم الدین کا کہنا ہے کہ میرے والد صاحب کا یہ شوق ہے اور ہر رنگ و نسل کے پھولوں کے بیج  لاکر اس باغ میں لگاتے ہیں اور جہاں سے بھی ان کو ایسے مقدس پتھر ملتے ہیں جن پر خدا اور رسول کا نام کندہ ہو تو ان نوادرات کو بھی دور دراز سے  لاکر اپنے باغ کا زینت بناتا ہے۔ 

جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ اس باغ اوران میں رکھے ہوئے  ان مقدس پتھروں کی حفاظت کیلئے کسی نے کوئی تعاون کیا ہے  تو جواب نفی میں تھا۔ 

یہ باغ  کوشت گاؤں کے بالکل شروع میں واقع ہے اور جو بھی کوئی سیاح  اس گاؤں میں داحل ہوتا ہے وہ ضرور اس باغ کا ایک چکر لگاکرتھوڑی دیر کیلئے خود کو محظوظ کرتا ہے اور قدرت کے ان نشانوں سے  اپنا قوت ایمانی تازہ کرتاہے۔ 
چترال کے  محتلف علاقوں  میں ایسے پراسرار پتھر اور غار کئی جگہہ موجود ہیں جن پر تحقیق کی ضرورت ہے اس کے علاوہ کئی پہاڑی اور پرانے سٹوپا کے طرز پر  عجیب قسم کے مقامات موجود ہیں جن پر ابھی تک کسی ادارے نے کام نہیں کیا ہے اور آثار قدیمہ کے طلباء کیلئے ان میں بہت مواد مل سکتا ہے۔ 



15 جون، 2019

چترال شاہی بازار میں ملکی سیاحوں کا خاصا رش، چترالی ٹوپی، واسکٹ، کوٹ، پروں والی چترالی ٹوپی اور اون سے بنے ہوئے ملبوسات میں دلچپسی اور خریداری

چترال میں غیر مقامی سیاحوں کا شاہی بازار میں رش۔ چترالی ٹوپی، واسکٹ، کوٹ اور اون سے بنے ہوئے ملبوسات کے دکان پر خریداروں کا رش لگا ہوا ہے۔ 



چترال(گل حماد فاروقی) چترال میں ابھی تک سیاحوں کی آمد کا سلسلہ جار ی ہے۔ یہ سیاح چترال کے محتلف علاقوں میں سیر کیلئے جاتے ہیں جبکہ چترال بازار میں بھی خریداری کرتے ہیں۔ چترال کے شاہی بازار میں  چترالی پٹی یعنی اون سے بنے ہوئے ملبوسات کے مشہور دکان چترال پٹی ہاؤس میں ان سیاحوں کا ہر وقت رش لگا رہتا ہے۔ پنجاب سے آئے ہوئے چند سیاحوں نے ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس دکان میں چترالی ٹوپی بہت پسند کی اور حصوصی طور پر جس ٹوپی میں مر غ ذرین کا تاج یا مور  کا پر لگا ہوا ہو وہ بہت خوبصورت لگتا ہے۔

اس کے علاوہ  دوسرے سیاحوں نے یہاں سے خواتین کا پرس اور شال خریدے۔ چند اور سیاحوں نے بچوں کیلئے  چترالی پٹی سے بنی ہوئی واسکٹ اور کوٹ خریدے۔ ان سیاحوں کا کہنا ہے کہ پنجاب میں ان چترالی سوغات کے بہت چرچے ہیں اور لوگ بہت شوق سے سردیوں میں یہ چیزیں استعمال کرتے ہیں نہ صرف خود کو سردی سے بچانے کیلئے بلکہ یہ چیزیں زیب تن کرکے خوبصورت بھی لگتے ہیں اور اس سے شحصیت میں نکھار آتی ہے۔ 



چترال کے وکلاء کا عدالتوں کابائکاٹ۔ جسٹس فائز عیسیٰ کے حق میں ریلی نکالی گئی، احتجاجی جلسہ بھی منعقد ہوا۔

چترال کے وکلاء کا عدالتوں کابائکاٹ۔ جسٹس فائز عیسیٰ کے حق میں ریلی نکالی گئی، احتجاجی جلسہ بھی منعقد ہوا۔


چترال (گل حماد فاروقی) پاکستان بار کونسل اور خیبر پحتون خواہ بار کونسل کے کال پر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے اراکین نے  جسٹس فائز عیسیٰ کے ساتھ یکجہتی کے طور پر عدالتوں سے بائکاٹ کرکے احتجاجی جلسہ کیا۔ اس سلسلے میں ایک ریلی بھی نکالی گئی  اور چترال کے وکلاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینر پکر تھے جس پر محتلف نعرے درج تھے۔ چترال کے وکلاء برادری نے جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف بے بنیاد اور نام نہاد ریفرنس  کے حلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔ انہوں نے ڈسٹرکٹ کونسل کے سامنے سڑک پر جلسہ بھی کیا جس کی صدارت خورشید حسین مغل صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن چترال کر رہے تھے۔ 

جلسہ میں وکلاء برادری کے علاوہ کثیر تعداد میں سول سوسائٹی کے  افراد نے بھی شرکت کی۔  جلسہ سے رکن خیبر پحتون خواہ بار کونسل  عبد الولی خان ایڈوکیٹ، صدر  خورشید حسین مغل ایڈوکیٹ، نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ،ایم آئی خان سرحدی ایڈوکیٹ وغیرہ نے  خطاب کیا۔  جلسہ میں متفقہ طور پر ایک قرارد داد منظور کی گئی  کہ ججز کے حلاف نام نہاد  اور بے بنیاد ریفرنس فوراً واپس لیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ججز کے حلاف ریفرنس واپس نہیں لیا گیا تو چترال بار کونسل مکمل  ہم آہنگی کے ساتھ  پاکستان بار کونسل اور  صوبائی بار کونسل  کے فیصلہ جات کو آئندہ بھی مکمل طور پر مان کر ان کی پیروی کریں گے اور اس تحریک کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے بعد میں شرکاء جلسہ پر امن طور پر منتشر ہوئے۔ 



14 جون، 2019

ضلع دیامر میں گاڑی دریا میں جا گری، گاڑی میں تیرہ افراد سوار تھے، 7 افراد جان بحق

ضلع دیامر میں گاڑی دریا میں جا گری، گاڑی میں تیرہ افراد سوار تھے، 7 افراد جان بحق



گلگت (ٹائمزآف چترال نیوز ڈیسک) گلگت کے ضلع دیامر میں چلاس کے قریب گاڑی میں دریا میں جا گری جس کے نتیجے میں 7 افراد جان بحق ہو گئے ہیں واقعہ منگل کے روز پیش آیا۔ گاڑی 13 مسافر سوار تھے، حادثہ سے قبل ڈرائیور گاڑی کا اسٹیرنگ ڈرائیور کے ہاتھ سے نگل گیا تھا۔ پولیس کے مطابق گاڑی (جیپ) خانباری سے چلاس جارہی تھی۔ زخمیوں میں دو کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔ جان بحق ہونے والوں کے نام اس مطابق ہیں، ٹیکہ خان، سید رحمت، ثنا اللہ، جاوید، عبدالوہاب، اوتال اور ان کا بیٹا۔ مقامی افراد کے مطابق گاڑی خستہ حال تھی، عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ گاڑیوں کا فٹنس چیک یقینی بنایا جائے تاکہ قیمتی انسانوں کے ضیاع کو روکا جاسکے۔



عطیہ خون کا عالمی دن : خون کا عطیہ کرنا ایک بہترین اخلاقی فریضہ: پاکستان میں 20 لاکھ لوگوں نے خون کا عطیہ دینے کے لئے فیس پر سائن پر کیا

عطیہ خون کا عالمی دن : خون کا عطیہ کرنا ایک بہترین اخلاقی فریضہ: پاکستان میں 20 لاکھ لوگوں نے خون کا عطیہ دینے کے لئے فیس پر سائن پر کیا 



کراچی : دنیا کے متعدد ممالک میں خون عطیہ کرنے کا عالمی دن منایا گیا۔ اس دن کو منانے کا مقصد محفوظ انتقال خون کے بارے میں آگہی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ خون کا وطیہ دینے والے افراد  کا  زندگی بچانے کے لئے دیئے گئے تحفے پر اظہار تشکر کرنا تھا۔

پاکستان میں اس عالمی دن کے موقع پر قومی سطح پر صحت کے شعبے سے منسلک اداروں نے محفوظ انتقال خون کے بارے میں آگہی پیدا کرنے کیلئے متعدد پروگرام منعقد کئے۔ ملک میں اس وقت صاف خون کی شدید قلت ہے۔

خون کی دستیابی ان مریضوں کیلئے نہایت ضروری ہے جو جان لیوا بیماریوں کا شکار ہیں۔ زچکی کے دوران اور اس کے بعد نومولود کیلئے بھی خون کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ پاکستان میں اس وقت خون کی شدید قلت ہے۔ حسن عباس ظہیر، پروجیکٹ ڈائریکٹر  اور  نیشنل کو رڈینیٹر، سیف بلڈ ٹر انسفیوژن پروگرام، کے مطابق پاکستان میں محفوظ خون کی شدید قلت ہے اور اس کمی کو جلد از جلد پورا کرنے کیلئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ صاف خون کی قلت کو دور کرنے کیلئے ملک کی آبادی کے تین فیصد حصے کو خون کا عطیہ دینا چاہیئے۔ 

 حسن عباس ظہیر نے بتا یا  ”پاکستان میں تھیلسیمیاء کے مریضوں کی بہت بڑی تعداد کی موجودگی کی وجہ سے انتقال خون کی ضرورت بہت زیادہ  بڑھ جاتی ہے۔ اس صورتحال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری آبادی کا تین فیصد حصہ باقاعدگی سے سال میں دو یا تین مرتبہ رضاکارانہ طور پر خون عطیہ کرے تاکہ ہم اپنے انتقال خون کے نظام کو 100   فیصد  بلامعاوضہ اور رضا کارانہ بنیاد پر برقرار رکھ سکیں۔“

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بھی اس مقصد میں کامیابی کیلئے مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔ فیس بک نے پاکستان میں خو ن عطیہ کرنے کا  فیچر  2017 میں متعارف کروایا تھا۔ اس فیچر کی مدد سے لوگ اپنے آپ کو خون عطیہ کرنے والی کی حیثیت سے رجسٹر کر واکر ان لوگوں سے براہ راست رابطہ کرسکتے ہیں جن کو خون کی ضرورت ہے یا پھر اپنا قریبی خون کا عطیہ وصول کرنے کا ادارہ تلاش کر کے خون عطیہ کر سکتے ہیں۔ سال 2018میں دنیا بھر سے پینتیس لاکھ لوگوں نے رضا کارانہ طور پر خون کا عطیہ دینے والے کے طور پر سائن آپ کیا تھا اور ان میں سے  بیس لاکھ سے زیادہ افراد کا تعلق پاکستان سے تھا۔  

ظہیر نے پاکستان کے  ’مضبوط انسان دوستی‘ کے جذبے کو سراہا، یہ ایک پہلو ہے جو پاکستان میں خون کے عطیات میں اضافے میں مدد کرتا ہے۔ 


ہیش ٹیگس #SafeBloodForAll، #DonateBlood سوشل میڈیا پر جمعے کے روز  آگاہی کے لئے استعمال کئے گئے۔

دنیا بھر میں 117.4 ملین خون کے عطیات جمع کئے گئے، جن میں سے 42 فیصد ترقی یافتہ ممالک جو کہ دنیا کی کل آبادی کا 16 فیصد ہیں۔  ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن سے موصول ڈیٹا کے مطابق ترقی پزیر ممالک میں 52 فیصد سے زائد لوگوں سے لئے گئے خون کے عطیات  5 سال سے کم عمر کے بچوں کو دیئے گئے۔ محفوظ خون زیادہ مقدار اور قابل بھروسہ طریقوں سے حاصل کرنے کے لئے مستحکم، رضاکار اور غیر منافع بخش بلڈ ڈونرز کے ذریعے یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ یہ ڈونرز عطیات خون کے سب سے محفوظ ڈونرز گروپ ہیں جن میں خون سے پھیلنے والے انفیکشنزکا تناسب سب سے کم ہے۔

اپنے قریبی بلڈ بینک تلاش کریں یا خون کی ضرورت کے وقت نوٹیفیکیشن حاصل کریں 
www.facebook.com/donateblood



13 جون، 2019

سمندری تیل بردار جہازوں پر حملہ، 2 جہاز تباہ کر دیئے گئے، تباہ جہازوں میں ایک سمند برد ہوگیا: تفصیلات پڑھیں

سمندری تیل بردار جہازوں پر حملہ، 2 جہاز تباہ کر دیئے گئے، تباہ جہازوں میں ایک سمند برد ہوگیا: تفصیلات پڑھیں


عمان( آن لائن ) شپنگ کمپنیوں اور صنعتی ذرائع کا کہنا ہے کہ خلیج عمان میں 2 تیل بردار جہازوں پر مبینہ حملہ کیا گیا ہے، جس میں حملوں کا شکار دونوں جہاز تباہ ہوگئے ہیں ان میں ایک جہاز تباہ ہوگیا ہے جہازوں کے عملے کو باحفاظت نکال لیا گیا ہے۔ امریکی ففتھ فلیٹ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ خطے میں موجود امریکی بحری فورسز کو مقامی وقت کے مطابق صبح 6 بج کر 12 منٹ پر ایک اور صبح 7 بجے دوسری پریشان کن فون کالز موصول ہوئی تھی۔بیان کے مطابق امریکی بحریہ کےجہاز سمندری علاقے میں موجود ہیں اور مشتبہ حملے کا شکار بحری جہازوں کی معاونت کررہے ہیں۔امریکی بحریہ نے یہ بیان برطانوی بحریہ کے ماتحت میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے بعد دیا جس میں انہوں نے علاقے میں ایک حادثے کا دعوی کرتے ہوئے الرٹ جاری کیا تھا۔

انہوں نے مزید وضاحت نہیں دی لیکن کہا کہ وہ حادثے کی تحقیقات کررہے ہیں اور امریکا ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافے کی وجہ سے انتہائی احتیاط برتنے پر اصرار بھی کیا ہے۔دوسری جانب 4 شپنگ اور تجارتی ذرائع کے حوالے سے موصول اطلاعات پر کہنا ہے کہ ایک نامعلوم حادثے کے بعد 2 ٹینکرز کو نکال لیا گیا تھا۔ذرائع کا کہنا تھا کہ بحری جہازوں کی شناخت فرنٹ آلٹائر کے نام سے ہوئی جس پر جزائر مارشل کا جھنڈا نصب تھا جبکہ کوکوکا کریجیئس پر پاناما کا جھنڈا نصب تھا۔کوکوکا کریجیئس کی انتظامی کمپنی، بی ایس ایم شپ مینیمجنٹ ( سنگاپور) کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ بحری جہاز کو حادثے کے بعد عملے کے 21 افراد نے جہاز چھوڑ دیا تھا۔ بیان میں کہا گیا کہ بحری جہاز متحدہ عرب امارات میں واقع ریاست فجیرہ سے 70 ناٹیکل مائلز ( 130 کلومیٹر) اور ایرانی کی ساحلی بندرگاہ سے 14 ناٹیکل مائلز (26 کلومیٹر) کے فاصلے پر تھا۔اس حوالے سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ' کوکوکا کریجیئس علاقے میں موجود ہے اور اس کے ڈوبنے کا کوئی خطرہ نہیں، میتھانول کا کارگو صحیح حالت میں موجود ہے۔بیان میں بتایا گیا کہ حادثے کے دوران عملے کا ایک شخص زخمی بھی ہوا جسے قریبی علاقے میں موجود دوسری کشتی پر علاج فراہم کیا گیا ہے۔ دوسری جانب سی پی سی پیٹروکیمیکل بزنس ڈویژن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) نے رائٹرز کو بتایا کہ فرنٹ آلٹائر تائیوان کی سرکاری آئل ریفائنر سی بی سی کارپوریشن کی جانب سے 75 ہزار ٹن نیفتھا ( پیٹروکیمیکل) لے کر جارہا تھا جب تائیوان کے مقامی وقت کے مطابق دوپہر 4 بجے کے قریب مشتبہ طور پر تارپیڈو کا نشانہ بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ عملے کے تمام افراد کو باحفاظت جہاز سے نکال لیا گیا تھا۔فرنٹ آلٹائر جہاز کی کمپنی ناروے فرنٹ شپنگ کمپنی نے کہا کہ ان کے جہاز پر آگ لگی ہوئی ہے۔ادھر ایرانی میڈیا نے کسی ثبوت کے بغیر رپورٹ کیا کہ خلیج عمان کے علاقے میں آئل ٹینکرز پر دھماکا ہوا تھا۔خیال رہے کہ گزشتہ ماہ فجیرہ کے ساحلی شہر کی بندرگاہ پر 4 جہازوں میں تخریب کاری کی کوشش پر متحدہ عرب امارات کی جانب سے مذمتی بیان سامنے آیا تھا، تاہم اس سے قبل وہ ساحلی علاقے میں کسی بھی قسم کے حملوں کی تردید کررہے تھے۔



چترال آیون سے 4 روز قبل لاپتہ نوجوان کی تشدد زدہ لاش نالے سے برآمد کرلی گئی، پولیس لاش ورثاء کے حوالے کرکے تفتیش شروع کردی: چترال بازار میں چور سرگرم

چترال آیون سے 4 روز قبل لاپتہ نوجوان کی تشدد زدہ لاش نالے سے برآمد کی گئی۔ پولیس نے لاش ورثاء کے حوالہ کرکے تفتیش شروع کردی۔


چترال(گل حماد فاروقی) چترال کے علاقے آیون سے چار دن پہلے لاپتہ ہونے نوجوان کی لاش کیسو میں برساتی نالے سے برآمد ہوئی۔ ایس ایچ او تھانہ آیون کے مطابق چند دن پہلے ایون سے ذاکر احمد ولد میاں گل لاپتہ ہوچکے تھے۔ ان کے والد کے مطابق ذاکر احمد کیسو گاؤں میں اپنے رشتہ داروں کے ہاں عید کے دنوں گیا تھا مگر گھر واپس نہیں لوٹا۔ ان کی تلاش جاری رکھی گئی۔ تاہم اس کی لاش کیسو گاؤں میں ایک برساتی نالے سے برآمد کی گئی۔ ذرائع کے مطابق لاش کافی حراب ہوچکی تھی اور پولیس کے مطابق لاش پر تشدد کے نشانات بھی موجود تھے۔متوفی کی تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال دروش میں پوسٹ مارٹم کی گئی جسے بعد ازاں آیون گاؤ ں میں آبائی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ تاہم پولیس نے ابھی تک FIRدرج نہیں کی مگر تفتیش شروع کرکے نامعلوم ملزمان کی تلاش شروع کردی جن پر بعد ازاں مقدمہ درج کیا جائے گا۔ 


چترال بازار میں چور سرگرم۔ پولیس سورہی ہیں چور جاگ رہے ہیں دکانداروں کا موقف۔ 


چترال بازار میں گزشتہ چند دنوں میں کئی دکانوں کے تالے توڑ کر ان سے چوری کی گئی۔ پی آئی اے چوک میں سموسے، پیکوڑے، جلیبی کا مشہور دکان بھی چوروں نے نہیں بحشا۔ اس دکان کی رات کی تاریکی میں تالہ توڑ کر غلہ میں پڑی ہوئی رقم چرایا گیا۔ اس سے قبل نثار احمد نامی دکاندار جو غیر مقامی ہے اس کے دکا ن کا بھی تالہ توڑ کر اس دکان سے تقریبا چالیس ہزار روپے چرائے گئے۔ اس کے علاوہ دکاندارو ں نے بتایا کہ چار دکانوں کو شاہی بازار میں اور ایک جغور کی جانب ان کی تالہ توڑ کر اس میں پڑی ہوئی رقم چرایا گیا۔ 

اس سلسلے میں ایس ایچ او تھانہ چترال سب انسپکٹر انور شاہ سے مل کر ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس سلسلے میں پولیس نے ان چوروں کے حلاف کوئی مقدمہ بھی درج کیا ہے کہ نہیں تو جواب نفی میں ملا ان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں نے تھانہ آکر کوئی رپورٹ درج نہیں کروائی۔ جب پیکوڑے، سموسے والے دکاندار سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پولیس کو بلایا تھا پولیس کے ہمراہ بازار کا صدر شبید احمد بھی آیا تھا مگر مقدمہ درج کرنا تو پولیس کا کام ہے۔ آزاد ذرائع نے بتایا کہ پولیس اکثر ایسے معاملات میں مقدمہ درج کرنے سے گریز کرتے ہیں تاکہ نہ ان کو ملزم کو تلاش کرنا پڑے او ر نہ وہ اپنے لئے درد سر ڈھونڈے۔ 

جس دکان سے چوری ہوئی ہے وہ دکان تھانہ چترال سے تقریباً سو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ 


چترال میں سیاحوں کی آمد کا سلسلہ تاحال جاری ، سیاحوں کی آمد سے دکانداروں کا کاروبار بھی پھل پھولنے لگا، خشک میوہ جات کی دکانوں میں رش بڑھ گیا

چترال میں ابھی تک سیاحوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ سیاحوں کی آمد سے دکانداروں کی بھی وارے نیارے۔ ڈرائی فروٹ کے دکانوں پر خریداروں کا رش۔

چترال (گل حماد فاروقی) عید کے چار اور اس کے بعد مزید چھٹیوں سے سیاحوں کو لمبے سفر پر نکلنے اور گھومنے پھر نے کا خوب موقع ملا۔ویسے تو چترال کا ہر حصہ خوبصورت ہے مگر وادی کیلاش کی بات کچھ اور ہے۔ اس کے علاوہ کثیر تعداد میں سیاحوں نے گر م چشمہ، بونی، مستوج، شندور اور گولین کا بھی سیر کیا۔ وادی کیلاش کے بمبوریت گاؤ ں میں ایک چھوٹے سا کوکا چلانے والے دکاندار نے کہا کہ عید کے بعد آنے والے سیاحوں کی وجہ سے میرا ایک دن میں چالیس ہزار روپے کی سیل ہوئی۔



اس وقت چترال بازار میں بہت بڑے تعداد میں سیاح گھومتے پھرتے ہیں اور چترالی سوغات خریدتے ہیں پرانے PIA چوک میں حاجی عبد الحمید کا ڈرائی فروٹ کا قدیمی دکان ہے جو پچھلے چالیس سالوں سے عوام کو معیاری خشک میوہ فراہم کرتا ہے اس دکان میں سیاحوں کا بہت رش لگا رہتا ہے۔ یہاں پڑے ہوئے محتلف انواع اور اقسام کا ڈرائی فروٹ خرید رہے ہیں۔ 

ٹیکسلا سے آئے بارہ سیاحوں پر مشتمل ایک گروپ جو ایک گاڑی اور چار موٹر سائیکل لیکر آئے ہیں وہ بھی اس دکا ن میں کھڑے ڈرائی فروٹ خرید رہے ہیں بلال نامی ایک سیاح نے کہا کہ چترال بہت خوبصورت علاقہ ہے مگر کاش اس کی سڑکیں بھی اتنی اچھی ہوتی جتنے اچھے یہاں کے لوگ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے چترال کے بارے میں جتنا سنا اور پڑھا تھا اس سے زیادہ خوبصورت ہیں لوگ بہت اچھے ہیں پر امن ہیں، مہمان نواز ہیں، یہاں کوئی چوری، ڈاکہ، راہزنی کا کوئی خطرہ نہیں ہے مگر اگر تکلیف اور مشکل ہے تو وہ صرف سڑکوں کی حراب حالت کی وجہ سے ہے۔

ایک دوسرے سیاح نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے جتنے بھی وعدے کئے تھے ان میں بہت کم ایفاء ہورہے ہیں حاص کر تبدیلی سرکار نے جو سیاحت کو فروغ دینے کا بلند بانگ دعویٰ کیا تھا اس میں صفر فی صد بھی کام نہیں ہوا ہے۔ ہم گرم چشمہ گئے جہاں کا سڑک کھنڈرات کا منظر پیش کررہا ہے، اسی طرح دنیا کا بلند ترین پولو گراؤنڈ شندور جہاں دنیا بھر سے سیاح آتے ہیں مگر وہاں کا سڑک بھی انتہائی حراب حالت میں ہے۔ اس نے کہا کہ میں نے سنا تھا کہ پچھلے سال ٹورزم کارپوریشن خیبر پحتون خواہ نے شندور کیلئے چار کروڑ روپے منظور کئے تھے مگر زیادہ تر سیاحوں نے شکایت کی کہ عام سیاحوں کیلئے کوئی بھی کام نہیں ہوا ہے نہ اس کو کوئی سہولت فراہم کی گئی بلکہ چند اہم شحصیات کی عیاشی پر وہ رقم خرچ کی گئی جو شندور میں بار بی کیو اور حصوصی طعام ان کو کھلایا گیا عام سیاح کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوا انہوں نے تجویز پیش کی کہ اگر یہ چار کروڑ روپے ان سڑکوں کی مرمت اور بہتری پر خرچ کرتے تو کم ازکم سیاحوں کو اس سڑک پر گزرنے سے تکلیف میں کمی ہوتی انہوں نے تبدیلی سرکار سے مطالبہ کیا کہ آئندہ بھی شندور کے نام پر جو حطیر رقم صرف چند محصوص طبقے کو خوش کرنے کیلئے محتص کیا جاتا ہے ان کو خوش کرنے کی بجائے اس رقم کو سڑک کی مرمت اور پحتگی پر خرچ کی جائے تو اس سے سیاحوں کی تعداد میں چار گنا اضافہ ہوگا۔

ان سیاحوں نے بتایا کہ ہم ابھی وادی کیلاش جارہے ہیں مگر ہم جتنے بھی سیاحوں سے ملے ان سب کی زبان پر ایک ہی شکایت تھی کہ جو بھی وادی کیلاش جائے گا وہ دوبارہ وہاں جانے کو سوچے بھی نہیں وجہ یہ ہے کہ وہاں کی سڑکیں بہت حراب ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ کیلاش ثقافت اپنی محصوص نوعیت اور خوبصورتی کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہیں مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے حکمران اتنے نا اہل اور نالائق ہیں کہ انہوں نے دعوے تو بہت کئے مگر سیاحوں کی سہولت اور ان کی مشکلات میں کمی لانے کیلئے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا وادی کیلاش کا سڑک موت کا کنواں سمجھا جاتا ہے کیونکہ سڑک اتنا تنگ ہے کہ ایک طرف دریا بہتا ہے دوسری طرف سنگلاح پہاڑ ہے۔ اس میں گاڑیاں کراس کرنے کی جگہہ بھی نہیں ہے

ان سیاحوں نے کہا ہم چترالی عوام کی جانب سے حکومت وقت سے اپیل کرتے ہیں کہ کم از کم چترال کی سڑکوں کی حالت بہتر کرے۔ انہوں نے کہا کہ لواری سرنگ سے پہلے اور بعد کی سڑک بہت حراب ہے دوسری بات لواری سرنگ میں موٹر سائکل نہیں چھوڑتے بلکہ اسے گاڑی پر رکھ کر اسے دو سو روپے کرایہ دینا پڑتا ہے جو سیاحوں کیلئے ایک اضافی بوجھ ہے 




12 جون، 2019

گزشتہ روز زارداری کمرہ عدالت پہنچنے کے بعد کیا کیا : جاننے کے لئے پڑھیں

زر داری نے کمرہ عدالت میں پہنچ کر سگریٹ سلگایا اور کش لگائے


اسلام آباد (این این آئی) سابق صدر آصف علی زر داری نے کمرہ عدالت میں پہنچ کر سگریٹ سلگایا اور تین سے چار کش لگائے۔ منگل کو نیب ٹیم کی جانب سے سابق صدر آصف علی زرداری کو احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کے سامنے پیش کیا گیا ،سابق صدر آصف زرداری نے کمرہ عدالت میں پہنچ کر سگریٹ سلگایا اور تین چار کش لگائے،سابق صدر آصف علی زرداری نے وکیل فاروق ایچ نائیک سے مصافہ کیا ، سابق صدر آصف علی زداری نے کمرہ عدالت میں رخسانہ بنگش سے فون پر گفتگو بھی کی، پھر سابق صدر آصف زرداری نے کمرہ عدالت میں دوسرا سگریٹ بھی سلگا لیا ۔وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ آصف زرداری کے ساتھ موجود تھے ۔ آصف علی زر داری کی عدالت میں پیشی کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ۔ ذرائع کے مطابق سیکورٹی انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی،پولیس سپیشل برانچ اور کاؤنٹر ٹیرارزم سکواڈ کے پندرہ سو اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق کسی بھی غیر متعلقہ شخص احاطہ عدالت میں جانے کی اجازت نہیں تھی۔ احتساب عدالت کو جانے والی سڑکوں کو خاردار تاریں اور کنکریٹ بیریئر لگاکربند کردیا گیا ہے۔


بوسیدہ گاڑیاں : دیر بالا می گاڑی خراب ہونے کی وجہ سے چترالی مسافررل گئے، گاڑی راستے میں بند ہوگئی مسافروں میں بیمار، بچے اور خواتین بھی شامل

بوسیدہ گاڑیاں : دیر بالا می گاڑی خراب ہونے کی وجہ سے چترالی مسافررل گئے، گاڑی راستے میں بند ہوگئی مسافروں میں بیمار، بچے اور خواتین بھی شامل



دیربالا (نمائندہ ٹائمزآف چترال) پرانی اور بوسیدہ گاڑیاں، دیر بالا می گاڑی خراب ہونے کی وجہ سے چترالی مسافر رل گئے۔  گاڑی میں موجود مسافروں میں بیمار خواتین بھی شامل ہیں جو گاڑی کی خرابی کی وجہ سے راستے میں گھنٹوں موجود ہیں۔

ذرائع کے مطابق چترال سے پشاور روٹ پر پرانی گاڑیوں کی سروس سے مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا ہوتا ہے ،اسی طرح آج صبح بھی ایک گاڑی دیر بالا میں پہنچ کر خراب ہوگئی۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ وہ صبح دس بجے سے وہاں پر بیٹھے ہوئے ہیں جن میں بوڑھے ،بچے اور بیمار خواتین بھی شامل ہیں ۔  انھوں نے شکایت کی کہ اڈہ مالکان ایک طرف زیادہ کرایہ وصول کررہے جبکہ دوسری طرف دور جدید میں بھی پرانی گاڑیاں استعمال کی جارہی ہیں جس کی وجہ سے اکثر گاڑیاں راستے میں خراب ہوجاتی ہیں ۔ انھوں نے ٹی۔ایم۔او چترال سے مطالبہ کیا کہ وہ اڈہ مالکان کو پابند بنائے تاکہ معیاری اور آرام دہ گاڑیوں کی سروس کو بحال کیا جائے تاکہ مسافروں کو سفرکے دوران کسی بھی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑ سکے ۔


شاعر مشرق علامہ اقبال کی خوبصورت شاعری : دگرگوں ہےجہاں ، تاروں کی گردش تیز ہےساقی

دگرگوں ہےجہاں ، تاروں کی گردش تیز ہےساقی
دل ہر ذرہ میں غوغائے رستا خیز ہے ساقی

متاع دین و دانش لٹ گئی اللہ والوں کی
یہ کس کافر ادا کا غمزۂ خوں ریز ہے ساقی

وہی دیرینہ بیماری ، وہی نا محکمی دل کی
علاج اس کا وہی آب نشاط انگیز ہے ساقی

حرم کے دل میں سوز آرزو پیدا نہیں ہوتا
کہ پیدائی تری اب تک حجاب آمیز ہے ساقی

نہ اٹھا پھر کوئی رومی عجم کے لالہ زاروں سے
وہی آب و گل ایراں ، وہی تبریز ہے ساقی

فقیر راہ کو بخشے گئے اسرار سلطانی
بہا میری نوا کی دولت پرویز ہے ساقی

نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

علامہ محمد اقبالؒ  



نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں