15 فروری، 2019

چترال: وادی مڈگلشٹ میں سنو فیسٹیول مقامی طور پر منایا جارہا ہے۔ سنو سکینگ کا کھیل آج دو بجے شروع ہوگا جو 17 فروری اتوار تک جاری رہے گا

چترال: وادی مڈگلشٹ میں سنو فیسٹیول مقامی طور پر منایا جارہا ہے۔ سنو سکینگ کا کھیل آج دو بجے شروع ہوگا جو 17 فروری اتوار تک جاری رہے گا۔ شہزادہ حشام الملک صدر ہندوکش سنو سپورٹس ایسوسی ایشن۔

چترال (گل حماد فاروقی) چترال کے جنت نظیر وادی مڈگلشٹ میں پہلی بار سنو سکینگ کا تین روزہ تہوار منایا جارہا ہے۔ سنو سکینگ فیسٹیویل میں ملک بھر سے کھلاڑیوں نے حصہ لینا تھا مگر مسلسل بارش اور برف باری کے بعد اکثر راستے بند ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ضلعی انتظامیہ نے اس کھیل کو سرکاری طور پر منانے سے گریز کرکے اسے ملتوی کیا ہے تاہم اس کھیل کو مقامی طور پر کھیلا جاتا ہے۔ 


ہمارے نمائندے سے فون پر باتیں کرتے ہوئے ہندوکش سنو سپورٹس ایسوسی ایشن کے صدر شہزادہ محمد حشام الملک نے بتایا کہ اس کھیل کو بڑے پیمانے پر منانے کا پروگرام تھا مگر موسم نے ساتھ نہیں دیا اس لئے اسے مقامی طور پر منایا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کھیل جمعہ کے روز دو بجے شروع ہوگا جو اتوار تک جاری رہے گا اور اس میں مقامی کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں تاہم مقامی کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کیلئے باہر سے بھی چند کھلاڑی آئیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ راستہ صاف ہے اور کسی قسم کا حطرہ نہیں ہے۔ واضح رہے کہ وادی مڈگلشٹ کے پہاڑی علاقہ قدرتی طور پر سنو سکینگ کیلئے نہایت موزوں ہے اور یہاں پہلے بھی مقامی لوگ سنو سکینگ کھیلتے تھے مگر اس بار اسے بڑے پیمانے پر کھیلنے کا پروگرام تھا



ہلاک ہونے والے بھارتی فوجیوں کی تعداد 44 ہوگئی، تعداد بڑھ سکتی ہے: واقعے کی ذمہ داری کس نے قبول کی، جاننے کے لئے پڑھیں



ہلاک ہونے والے بھارتی فوجیوں کی تعداد 44 ہوگئی، تعداد بڑھ سکتی ہے: واقعے کی ذمہ داری کس نے قبول کی، جاننے کے لئے پڑھیں



مقبوضہ جمو کشمیر کے علاقے پلوامہ میں بھارتی فوجی گاڑی پر خود کش حملے میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد 44 تک جا پہنچی ہے، تاہم بعض زخمی ہیں اور مختلف فوجی ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ واقعے پر بھارت نے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا ہے، تاہم واقعے کی ذمہ داری جیش محمد نے قبول کی ہے۔ بھارتی حکام پاکستان پر الزام لگا رہےہیں کہ پاکستان نے حملے کے لئے سہولت کاری کی ہے۔ خود کش کار بم دھماکے میں بھارتی کی سنٹرل ریزور پولیس فورس (سی آر پی ایف) کی گاڑی کو نشانہ بنایا تھا۔ جس سے فوجی گاڑی تباہ ہوگئی تھی اور فوجیوں کے چھیتڑے دور دور تک پھیل گئے تھے۔ ہزاروں کمشیریوں کا قاتل بھارت فوجیوں کی ہلاکت پا سیخ ہوگیا ہے۔ واقعے کے بعد بھارتی میڈیا زہر اگلنا شروع کیا ہے۔
ٹائمزآف چترال مانیٹرنگ ڈیسک






کار بم دھماکہ 18 بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے، کشمیر میں بھارتی فوج پر خود کش حملے شروع
مقبوضہ کشمیر (ویب ڈیسک) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں پر خودکش حملے شروع ہوگئے۔ مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں کار بم دھماکے میں 18 بھارتی سیکیورٹی اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سینٹرل ریزرو پولیس فورس کی بس پر کار بم دھماکا ضلع پلوامہ میں سری نگر جموں ہائی وے پر لٹھ پورا کے مقام پر ہوا۔
بھارتی پولیس حکام کے مطابق کار میں سوار حملہ آور نے دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی سی آر پی ایف کی بس سے ٹکرائی اور پھر اسے دھماکے سے تباہ کر دیا۔  حکام کے مطابق دھماکے میں 18 سی آر پی ایف اہلکار ہلاک اور کئی زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو بھارتی فوج کے 92 بیس اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
دھماکے کے بعد بھارتی سیکیورٹی فورسز کی بڑی تعداد نے علاقے کا محاصرہ کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

14 فروری، 2019

کار بم دھماکہ 18 بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے، کشمیر میں بھارتی فوج پر خود کش حملے شروع

کار بم دھماکہ 18 بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے، کشمیر میں بھارتی فوج پر خود کش حملے شروع


مقبوضہ کشمیر (ویب ڈیسک) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں پر خودکش حملے شروع ہوگئے۔ مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں کار بم دھماکے میں 18 بھارتی سیکیورٹی اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سینٹرل ریزرو پولیس فورس کی بس پر کار بم دھماکا ضلع پلوامہ میں سری نگر جموں ہائی وے پر لٹھ پورا کے مقام پر ہوا۔

بھارتی پولیس حکام کے مطابق کار میں سوار حملہ آور نے دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی سی آر پی ایف کی بس سے ٹکرائی اور پھر اسے دھماکے سے تباہ کر دیا۔  حکام کے مطابق دھماکے میں 18 سی آر پی ایف اہلکار ہلاک اور کئی زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو بھارتی فوج کے 92 بیس اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

دھماکے کے بعد بھارتی سیکیورٹی فورسز کی بڑی تعداد نے علاقے کا محاصرہ کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔



لوس ترپی میں گراڈی کا رسہ ٹوٹنے سےتین سالہ بچی دریا میں گر کر لاپتہ، تین افراد زخمی

لوس ترپی میں گراڈی کا رسہ ٹوٹنے سےتین سالہ بچی دریا میں گر کر لاپتہ، تین افراد زخمی

استور: استور کے نشیبی گاوں لوس ترپی میں گراڈی کا رسہ ٹوٹنے سےتین سالہ بچی لاپتہ ۔ مقامی افراد نے تین افراد کو زخمی حالت میں دریائے استور سے نکل کر ڈسٹرکٹ ہسپتال پہنچا دیا۔


علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ لوس ترپی کے باسی آج بھی پھتر دور کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہاں ایک لکڑی کا پل تک تعمیر کیا گیا ۔ آج بھی چین گراڑی سے دریا کاس کرتے ہے۔ اس حادثےکی تمام تر ذمہ داری حکومت گلگت بلتستان اور منتخب ممبران اسمبلی اور استور انتظامیہ کی ہے۔

حکام بالا اور ضلعی انتظامیہ کی نوٹس میں لانے کے باوجود پل کی تعمیر کے لیئے اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔  

کرٹیسی پامیر ٹائمز




پاکستان سپر لیگ فورتھ ایڈیشن-فوجی فوڈز نے کراچی کنگز کے ساتھ اشتراک کرلیا

پاکستان سپر لیگ فورتھ ایڈیشن-فوجی فوڈز نے کراچی کنگز کے ساتھ اشتراک کرلیا 

کراچی (ٹائمزآف چترال نیوز) پاکستان کی مشہور فوڈ اور بیوریج کمپنی اور ہاؤس آف نور پور برانڈ کے مالکان فوجی فوڈز لمیٹڈ نے پاکستان سپر لیگ کے چوتھے ایڈیشن کو کامیابیوں کی نئی بلندیوں تک پہنچانے کے لئے کراچی کنگز کے ساتھ اشتراک کیا ہے۔ پی ایس ایل 2019 کا آغاز 14 فروری 2019 سے ہورہا ہے جس میں مجموعی طور پر 34 میچز کھیلے جائیں گے جن میں 8 میچز پاکستان میں کھیلے جائیں گے۔ 



اس اشتراک کے ذریعے فوجی فوڈز پاکستانی نوجوانوں کے پسندیدہ کھیل کی نمائندگی کے ذریعے کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور اور صحت و غذائیت کی حوصلہ افزائی کے فلسفے کی توثیق کرے گا۔ فوجی فوڈز لمیٹڈ کے جی ایم سیلز اینڈ مارکیٹنگ عمران خٹک نے کہا، " ہم پاکستان میں کرکٹ سے وابستہ جذباتی وابستگی کے ذریعے دہائیوں پرانی روایت کے تصور کو سراہتے ہیں ۔ پاکستان میں 50 سال سے زائد عرصہ سے غذائیت کی روایت کی نمائندگی رکھنے والا ہمارا برانڈ اس اشتراک کو سامنے لانے کے لئے قدرتی طور پر موزوں نظر آتا ہے اور ہر اس بات پر خوشی مناتا ہے جس سے پاکستان کے مثبت امیج کو آگے بڑھایا جائے۔" 

فوجی فوڈز لمیٹڈ صحت، توانائی اور ذائقہ کے ساتھ مکمل زندگی کے اہم اجزاء کی اہمیت کو تسلیم کرتا ہے۔ یہ ملک کی نوجوان نسل کے لئے نئے مواقع کی فراہمی پر مستحکم انداز سے یقین رکھتا ہے۔ کرکٹ صرف پاکستان کا پسندیدہ کھیل ہی نہیں بلکہ یہ صحت مند ذہن اور جسم کے ذریعے کامیابی حاصل کرنے کے تصور کی بھی نمائندگی کرتا ہے اور یہ نوجوانوں کے لئے سب سے اہم سبق ہے۔ 

پاکستان سپر لیگ نے انتہائی مختصر وقت میں ملک کے اندر کرکٹ کے ٹیلنٹ کو فروغ دینے کے لئے قابل ذکر مقبولیت کے ساتھ سب سے بڑے پلیٹ فارم کے طور پر اپنی پہچان بنا لی ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے بہت سے نوجوان کھلاڑیوں کو اپنے خوابوں کی تعبیر کا احساس ہوگیا ہے اور وہ پرامید ہیں ایک روز وہ قومی کرکٹ اسٹار بن جائیں گے۔ فوجی فوڈز رواں سال دلچسپ آن لائن سرگرمیوں کے ذریعے اپنے پرستاروں کے ساتھ پی ایس ایل کو مزید دلچسپ بنانے کا عزم رکھتا ہے جس سے ان کے اندر مزید جوش بڑھ جائے گا۔ 




جوبلی لائف انشورنس پاکستان سپرلیگ کے چوتھے سیزن کا گولڈ اسپانسر بن گیا

جوبلی لائف انشورنس پاکستان سپرلیگ کے چوتھے سیزن کا گولڈ اسپانسر بن گیا


کراچی (پی آر) پاکستان میں صف اول کی لائف انشورنس فراہم کرنے والے ادارے اور ملک میں کھیلوں کے فروغ کے لئے مشہور کمپنی جوبلی لائف انشورنس نے 14 فروری 2019 سے شروع ہونے والی پاکستان سپرلیگ کے چوتھے سیزن کے لئے گولڈ اسپانسرشپ کا اعلان کیا ہے۔ جوبلی لائف ،پاکستان سپرلیگ کی میزبانی میں ایک بار پھر اہم کردار ادا کرنے پر فخر کرتا ہے جس کے ذریعے کرکٹ کی دنیا کے شائقین کو ایک ماہ تک عالمی معیار کی کرکٹ سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملے گا۔

گزشتہ سال میں پی ایس ایل کے شاندار سیزن کے ساتھ اس بار شائقین کرکٹ کی جانب سے پہلے سے کہیں زیادہ توقعات وابستہ ہوگئی ہیں اور وہ رواں سال مزید دلچسپ سیزن کی امید کرتے ہیں۔ جوبلی لائف انشورس کے منیجنگ ڈائریکٹر اور سی ای او جاوید احمد نے کہا، "ہم پاکستان میں کرکٹ کے فروغ کے لئے پرعزم ہیں جس کا ثبوت وقتا فوقتا سامنے آتا رہتا ہے اور اس سے ملک میں نئے ٹیلنٹ کو سامنے لانے اور اسے پروان چڑھانے میں مدد ملتی ہے۔

پاکستان میں کرکٹ کی بحالی کے لئے مضبوط ستون کا کردار ادا کرنے پر ہمیں انتہائی مسرت ہے۔ رواں سال پی ایس ایل کے مختلف میچوں کی اپنے ہوم گراؤنڈ میں میزبانی کی خبر سے پاکستانی شائقین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور وہ اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں سے سنسنی خیز پرفارمنس کی توقع کر رہے ہیں۔" پی ایس ایل کے چوتھے سیزن کے دوران متحدہ عرب امارات میں 26 میچز کھیلے جارہے ہیں جبکہ آخری مراحل کے 8 میچز پاکستان میں کھیلے جائیں گے۔ پی ایس ایل کا فائنل کراچی میں کھیلا جائے گا۔



13 فروری، 2019

چترال کے محمد رفیع، منصور علی شبابو ہواز 2 بو شیلی باشونو پیش خدمت شینی: کارکوری شیئر دی کورور پلیز

چترال کے محمد رفیع، منصور علی شبابو ہواز 2 بو شیلی باشونو پیش خدمت شینی: کارکوری شیئر دی کورور پلیز
چترال کے محمد رفیع، منصور علی شبابو ہواز 2 بو شیلی باشونو پیش خدمت شینی: کارکوری شیئر دی کورور پلیز



12 فروری، 2019

اشکومن میں طالب علم کو جنسی درندگی کے بعد قتل کیا گیا، مجرمان گرفتار، اقبال جرم کرلیا


اشکومن میں طالب علم کو جنسی درندگی کے بعد قتل کیا گیا، مجرمان گرفتار، اقبال جرم کرلیا



غذر (ویب ڈیسک) اشکومن تشنلوٹ میں درندہ صفت افراد نے ساتویں کلاس کے طالب علم دیدارحسین ولد عجائب خان کو جنسی زیادتی کا نشانے بنانے کے  بعد بے دردی سے  قتل کرکے نعش دریا میں پھینک دی تھی ، اس وقت واقعے کی خبر ملتے ہی ورثاء اور اہل علاقہ کا ایمت پولیس اسٹیشن کے باہر نعش سمیت زبردست مظاہرہ کیا تھا۔

طالب علم کو جنسی تشدد  کا نشانہ بنانے والے 4 درندوں نے اقبال جرم کیا ہے، سازش تیار کرنے والا ملزم کو بھی پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔ ایس ایس پی غذر سلطان فیصل نے گاہکوچ میں میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ اشکومن تشنالوٹ میں کلاس ہفتم کے طالب علم دیدار حسین کے ساتھ جنسی تشدد اور قتل کرنے والے تمام ملزمان کو پولیس نے گرفتار کرکے ان کے خلاف 377،302اور34ت پ کا مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کر دی ہے۔

تمام ملزمان کو تھانہ چٹورکھنڈ منتقل کر دیا گیا جہاں اس اہم کیس کی تفتیش سب انسپکٹر سعادت علی کر رہے ہیں۔ چار ملزمان کو جائے وقوعہ لے جایا گیا جہاں انھوں نے کلاس ہفتم کے طالب علم کے ساتھ جنسی تشدد کے بعد قتل کر دیا تھا۔ انھوں نے کہا کے دو ملزمان نے مقتول کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جبکہ دو نے مفلرسے ان کا گلا دباکر قتل کر دیا اور اس کیس کا پانچواں اور اہم ملزم جس نے یہ سازش تیار کی تھی اس کو بھی پولیس نے گرفتار کرکے تفتیش شروع کر دی ہے۔

اس جرم میں ملوث تمام ملزمان کو پولیس نے گرفتار کرلی اور ملزمان کے خلاف کارروائی مکمل کرنے کے بعدان کو جوڈیشل کیا جائے گا۔ اس کیس کی تفیش کے لئے ڈی ایس پی لیاقت علی کی نگرانی میں سب انسپکٹرسعادت علی کو خصوصی طور پر یہ اہم کیس سونپ دی تھی جس نے بہت ہی کم ٹائم میں ملزمان تک پہنچنے میں کامیابی حاصل کی۔ ملزمان کے خلاف سخت سے سخت سزا کے لئے پولیس اپنی تمام کارروائی مکمل کرکے ملزمان کا چالان عدالت میں پیش کرےگا۔

(نیوز ایجنسی اینڈ گلگت نیوز ویب سائیٹس)




دلہ زاک میں مغل دور کا تاریحی گنبد حکام کی عدم توجہ کی وجہ سے زمین بوس ہورہا ہے۔

دلہ زاک میں مغل دور کا تاریحی گنبد حکام کی عدم توجہ کی وجہ سے زمین بوس ہورہا ہے۔

گنبد کے اوپر چھ سال سے درخت اگا ہوا ہے۔ محکمہ آثار قدیمہ کے اہلکاروں کو اس درخت کو ہٹانے کی توفیق نصیب نہیں ہوئی۔




پشاور (گل حماد فاروقی) مغل دور کا بنا ہوا ہوا تاریحی گنبد جو دلہ زاک روڈ پر گنبد گاؤں میں واقع ہے وہ حکام کی عدم توجہ کی وجہ سے اپنی اصلیت کھو رہی ہے۔ یہ گنبد اکبر بادشاہ کے دور میں شاہ قطب زین العابدین نے بنا یا تھا جو ایک بزرگ صوفی کا مزار تھا۔ یہ گنبد باریک اینٹوں سے بنا ہوا ہے جس کے ساتھ اوپر منزل کو چڑھنے کیلئے سیڑھیاں بھی بنائی گئی ہیں۔ 

چترال یونین آف پروفیشنل جرنلسٹ ز کے صدر ، پشاور یونیورسٹی کے باٹنی ڈیپارٹمنٹ کے سابق چئیرمین پروفیسر ڈاکٹر عبد الرشید، باٹنی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر لال بادشاہ اور باٹنی کے بی ایس کے طالب علم عبد الرب نے اس گنبد کا دورہ کیا جہاں اس بات کا انکشاف ہوا کہ گنبد کی حالت نہایت ناگفتہ بہہ ہے۔ گنبد کے اوپر ایک درخت بھی اگا ہوا ہے تقریباً پانچ سال کا ہے۔ ڈاکٹر عبد الرشید نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ یہ درخت اس تاریحی گنبد کی وجود کیلئے نہایت حطرناک ہے اور اس کی جڑیں اس گنبد کے بالائی حصے کو کسی بھی وقت گراسکتا ہے۔ 

باٹنی کے پروفیسر ڈاکٹر لال بادشاہ نے کہا کہ اس درخت کی جڑوں سے جو کیمیاوی مواد نکلتی ہے وہ اس گنبد کی عمارت کیلئے نہایت حطرناک ہے اور اسے بہت نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں جب محکمہ آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدالصمد سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اسسٹنٹ ریسرچ آفیسر نواز الدین کا نمبر دیا جن سے فون پر بات ہوئی۔ اور اس گنبد کے حوالے سے معلومات حاصل کی گئی تاہم ماہرین کے دورے کے دوران نہ تو کوئی چوکیدار تھا نہ کوئی اور سٹاف۔

یہاں تک کہ اس تاریحی گنبد کے ساتھ کوئی بورڈ بھی نہیں لگا ہوا ہے جس پر آنے والے سیاحوں، طلباء اور تحقیق کاروں کیلئے معلومات درج ہو۔ 
مقامی لوگوں سے جب بات ہوئی تو انہوں نے بھی شکایت کی کہ ہمارا گاؤں اس گنبد کی وجہ سے مشہور ہے مگر عملہ کے لوگ تنخواہیں تو لیتے ہیں مگر اپنی ڈیوٹی نہیں کرتی۔ نہ تو کوئی اس کے معائنہ کیلئے آتا ہے نہ اس درخت کو ابھی تک کسی نے اکاڑا۔ 

مقامی لوگوں نے یہ بھی بتایا کہ اس گنبد میں جو مزار ہے اس کے چاروں طرف تھالے لگے ہوئے ہیں اور گندا نالی کی بدبو سے بھی اس عمارت کی سیر کرنے والے کو سخت تکلیف ہوتی ہے۔ یہ چونکہ وفاقی محکمہ آثار قدیمہ کے زیر اثر تھا اب اسے صوبائی حکومت کو حوالہ کیا گیا ہے ۔ مقامی لوگوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس گنبد پر مامور تمام عملہ اور اس کے نام پر نکلی ہوئی فنڈ کے بابت تحقیقات کی جائے کہ عملہ اپنا فرائض کیوں انجام نہیں دیتے اور اس کی حفاظت کیلئے چاردیواری تعمیر کی جائے نیز اس پر بورڈ بھی نصب کیا جائے جس پر تمام معلومات درج ہو۔ 



11 فروری، 2019

موسمیاتی تبدیلیاں: ’سنہ 2100 تک ہمالیہ، ہندوکش کے 36 فیصد گلیشیئر ختم ہو جائیں گے‘

موسمیاتی تبدیلیاں: ’سنہ 2100 تک ہمالیہ، ہندوکش کے 36 فیصد گلیشیئر ختم ہو جائیں گے‘



ماہرین نے ایک نئی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہمالیہ اور ہندو کش کے سلسلہ ہائے کوہ میں واقع گلیشیئرز کو لاحق خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگر کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج پر قابو نہ پایا گیا تو ان گلیشیئرز کا دو تہائی حصہ ختم ہو سکتا ہے۔

حتی کہ اگر اس صدی میں دنیا کے بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت کو ایک اعشاریہ پانچ ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود بھی کر دیا جائے تو بھی ان گلیشیئرز کا ایک تہائی حصہ ختم ہو جائے گا۔

یہ گلیشیئرز آٹھ ممالک میں رہنے والے تقریبا 25 کروڑ افراد کے لیے پانی کی فراہمی کا اہم ترین ذریعہ ہیں۔

کے ٹو اور ماؤنٹ ایورسٹ کی بلند و بالا چوٹیاں بھی ہمالیہ اور ہندو کش کے پہاڑی سلسلوں کا حصہ ہیں، قطبی علاقوں کے علاوہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ برف انھی علاقوں میں پائی جاتی ہے۔

لیکن سائنسدانوں کے مطابق بڑھتے درجۂ حرارت کے باعث یہ برفانی میدان ایک صدی سے بھی کم عرصے میں خالی چٹانوں میں تبدیل ہو جائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ آنے والی چند دہائیوں میں آبادی میں اضافے کی وجہ سے پیدا ہونے والی فضائی آلودگی اور بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت سے برف پگھلنے کا عمل تیز ہو سکتا ہے۔

فضائی آلودگی دنیا کے سب سے آلودہ خطے انڈو گینگیٹک میدانوں سے آتی ہے۔ آلودہ ہوا برف پر گرد اور سیاہ کاربن چھوڑتی ہے جس سے ان گلیشئرز کے پگھلنے کا عمل مزید تیز ہو رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
اور اگر عالمی درجہ حرارت دو ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ گیا تو سنہ 2100 تک ان گلیشیئرز کے نصف حصے کا وجود باقی نہیں رہے گا۔

اگر اس صدی کے اختتام تک درجہ حرارت میں اضافے کو ایک اعشاریہ پانچ سنٹی گریڈ تک محدود رکھنے کے لیے ہنگامی اقدامات کر بھی لیے گئے تو بھی ان گلیشیئرز کا 36 فیصد حصہ ختم ہوجائے گا۔

انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈویلپمنٹ کے بین الاقوامی مرکز کے فلپس ویسٹر کا کہنا ہے کہ ’اس سے قبل ایسے موسمیاتی بحران کے بارے میں آپ نے کبھی نہیں سنا ہو گا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ اس خطے میں جس کا شمار پہلے ہی دنیا کے سب سے مشکل اور خطرناک پہاڑ ی علاقوں میں ہوتا ہے، وہاں کے لوگوں پر پڑنے والے اثرات میں بدترین آلودگی سے لے کر شدید موسمیاتی تبدیلیاں شامل ہوں گی۔ لیکن سب سے بڑا اثر مون سون کے موسم میں تبدیلی اور مون سون سے قبل دریاؤں کے بہاؤ میں کمی سے شہری علاقوں میں پانی ،خوراک اور توانائی کی پیداوار پر پڑے گا‘۔

ان تبدیلیوں سے جو علاقہ متاثر ہو گا اس کا رقبہ تقریباً 3500 کلومیٹر ہے اور یہ افغانستان، بنگلہ دیش، بھوٹان، چین، بھارت، میانمار، نیپال اور پاکستان میں واقع ہے۔

ہمالیہ اور ہندوکش کے گلیشیئر دنیا کے اہم ترین دریاؤں گنگا، سندھ، ییلو، می کانگ اور اراوادی کو پانی مہیا کرنے کے علاوہ، بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر اربوں لوگوں کے لیے خوراک، توانائی، صاف ہوا اور آمدن کا بھی ذریعہ ہیں۔

سائنسدانوں کو خطرہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلیاں صرف پہاڑی علاقوں میں رہنے والوں کو ہی نہیں بلکہ دریا کے گرد رہنے والے تقریباً ایک ارب پینسٹھ کروڑ لوگوں کی زندگیوں پر بھی اثر انداز ہوں گی، جو سیلاب اور فصلوں کی تباہی کی وجہ سے غیر محفوظ ہو جائیں گے۔

برطانوی انٹارکٹک سروے کے ڈاکٹر ہمیش پرت چارڈ کے مطابق پانی ایک ایسا مسئلہ ہے جو صرف پہاڑوں پر ہی نہیں بلکہ پہاڑوں سے نیچے رہنے والے لوگوں کے لیے بھی اہم ہے۔ یہ رپورٹ نشاندہی کرتی ہے کہ کس طرح برف پگھلنے سے ان دریاؤں میں تبدیلی آئے گی اور آنے والے برسوں میں ان کا پانی کا بہاؤ بڑھے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میرے لیے ضروری سوال یہ ہے کہ آنے والے سالوں میں جب بارش ہو گی تو ان اہم دریاؤں کی ترائی میں کیا ہو گا؟ ان پہاڑوں پر برف کے ذخائر نہ ہونے کی وجہ سے برف پگھلنے کے موسم میں زمینی علاقوں میں سخت خشک سالی ہو سکتی ہے۔

’یہ وہ خطہ ہے جس میں پانی روزمرہ استعمال کے علاوہ سیاسی اور معاشی اہمیت کا بھی حامل ہے اور سخت خشک سالی سے پہلے سے موجود کمزور نظام کو مزید دھچکا لگ سکتا ہے‘۔

اصل سورس پر پڑھیں: بی بی سی اردو



رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں زرعی قرضوں کی فراہمی میں 22 فیصد اضافہ ہوا، سٹیٹ بینک آف پاکستان

رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں زرعی قرضوں کی فراہمی میں 22 فیصد اضافہ ہوا، سٹیٹ بینک آف پاکستان


اسلام آباد (اے پی پی) رواں مالی سال 2018-19ء کی پہلی ششماہی میں جولائی تا دسمبر کے دوران زرعی قرضوں کی فراہمی میں 22 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی رپورٹ کے مطابق جولائی سے دسمبر 2018ء کے دوران بینکوں کی جانب سے زرعی شعبہ کو 527.3 ارب روپے کے قرضے جاری کئے گئے ۔ رپورٹ کے مطابق جاری مالی سال کے لئے زرعی شعبہ کو قرضوں کی فراہمی کا ہدف 1250 ارب روپے مقرر کیاگیا ہے اور مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں شعبہ کو 527.3 ارب روپے کے قرضے جاری کئے جاچکے ہیں جو ہدف کے 42.2 فیصد کے مساوی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں اسلامی بینکوں کی جانب سے زرعی شعبہ کو قرضوں کی فراہمی گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے مقابلہ میں 80 فیصد زائد رہی ہے تاہم اسلامی بینکاری کے شعبہ کی جانب سے زرعی شعبہ کو فراہم کردہ قرضہ جات مجموعی قرضوں کے 3 فیصد تک بڑھ گئے ہیں۔



صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کی طویل ملاقات

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کی طویل ملاقات

اسلام آباد (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے طویل ملاقات کی، ملاقات کے دوران وفاق اور صوبہ سندھ کے درمیان ورکنگ ریلیشن اور تعاون کو مزید بہتر بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ ایوان صدر سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ وفاقی حکومت کے سندھ میں جاری منصوبوں کو جلد از جلد مکمل کیا جائے گا۔ملاقات کے دوران سندھ میں پانی کی فراہمی یقینی بنانے پربھی اتفاق ہوا اور وفاقی حکومت کے کراچی میں جاری منصوبوں کی پیش رفت پر بھی غور کیا گیا۔ اجلاس میں اعادہ کیا گیا کہ کراچی میں جاری ماس ٹرانزٹ منصوبوں کو جلد از جلد مکمل کیا جائے گا۔ منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لئے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے وزیر اعلی سندھ کی جلد دوبارہ ملاقات ہو گی۔


8 فروری، 2019

وزیراعظم عمران خان کی امریکن بزنس کونسل کے وفد سے گفتگو

وزیراعظم عمران خان کی امریکن بزنس کونسل کے وفد سے گفتگو

اسلام آباد (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد ملک میں دولت کی پیداوار، سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنا اور کاروبار میں آسانی ممکن بنانا ہے، ان پالیسیوں سے ملک میں روزگار کے مواقع میسر ہوں گے، غربت میں کمی آئے گی اور نوجوانوں کو ہنرمند بنانے کے مواقع فراہم ہوں گے۔ انہوں نے یہ بات امریکن بزنس کونسل کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہی جنہوں نے جمعرات کو وزیراعظم آفس میں ان سے ملاقات کی۔ امریکن بزنس کونسل پاکستان میں 65 امریکی کمپنیوں کی نمائندہ تنظیم ہے، یہ امریکی کمپنیاں معیشت کے ہر شعبہ میں موجود ہیں۔ وفد کے اراکین نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے حکومتی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کےلئے سفر میں سہولت اور کاروبار میں آسانی کے ضمن میں حکومتی اقدامات مثالی ہیں۔ 

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے، سرمایہ کار دوست پالیسیوں کی بدولت عالمی سرمایہ کار کمپنیاں پاکستان میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں جو موجودہ حکومت کی معاشی اور اقتصادی پالیسیوں پر بھرپور اعتماد کا مظہر ہے۔

وزیراعظم نے وفد کو پاکستان کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری میں حکومت کی طرف سے سہولیات فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی اور ملکی ترقی و خوشحالی میں کردار ادا کرنے پر بھرپور حوصلہ افزائی کی۔ وفد میں معروف امریکی اور بین الاقوامی سرمایہ کار کمپنیز کے نمائندے شامل تھے۔ وزیر خزانہ اسد عمر، وزیراعظم کے مشیر عبد الرزاق داو¿د اور چیئرمین بورڈ آف انوسٹمنٹ ہارون شریف بھی ملاقات کے موقع پر موجود تھے۔



7 فروری، 2019

روسی کمپنی کا پاکستان کیساتھ 10 ارب ڈالر کا معاہدہ، کمپنی گیس ذخیرہ کرنے کی سہولت بھی فراہم کرے گی

روسی کمپنی کا پاکستان کیساتھ 10 ارب ڈالر کا معاہدہ، کمپنی گیس ذخیرہ کرنے کی سہولت بھی فراہم کرے گی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) روسی کمپنی پاکستان کے تیل اور گیس کے شعبے میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔ وزیر پیٹرولیم کے مطابق معاہدے کے تحت روس پاکستان کو یومیہ 1 ارب کیوبک فٹ گیس بھی فراہم کرے گا۔ وزیر پٹرولیم غلام سرور کا کہنا ہے کہ انٹر سٹیٹ گیس سسٹم اور گاز پروم کمپنی میں معاہدہ طے پا گیا۔ معاہدہ پاکستان اور روس کے باہمی تعاون کی روشن مثال ہے۔

روسی وفد نے وفاقی وزیر پیٹرولیم غلام سرور خان سے اسلام آباد میں ملاقات کی جس میں پاکستان اور روس کے مابین تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار سے متعلق بیشتر امور زیر بحث آئے۔  اس موقع پر روسی کمپنی اور انٹر سٹیٹ گیس سسٹم پاکستان کے درمیان معاہدہ طے پا گیا۔ روسی کمپنی پاکستان میں تیل، گیس کی تلاش اور پیداوار کے شعبے میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ روسی کمپنی گیس کی زیر زمین سٹوریج سے متعلق سہولیات کی فراہمی میں بھی دلچسپی رکھتی ہے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر پٹرولیم غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ روس کی پاکستان میں تیل اور گیس کے شعبے میں سرمایہ کاری میں دلچسپی خوش آئند ہے۔

معاہدے کے تحت روس پاکستان کو روزانہ 500 ملین سے 1 ارب کیوبک فٹ گیس فراہم کرے گا جو سمندری راستے سے پاکستان پہنچائی جائے گی جبکہ پائپ لائن کی تعمیر آئندہ 3 سے 4 سال کے دوران مکمل کر لی جائے گی۔



خاکروپ کی 14 اسامیوں کے لئے 4 ہزار 6 سو لوگوں نے اپلی کیشن دیئے، جن میں اکثریت ایم بی ایز اور انجنئرز ہیں جبکہ ایم ٹیک اور بی ٹیک بھی شامل ہیں

خاکروپ کی 14 اسامیوں کے لئے 4 ہزار 6 سو لوگوں نے اپلی کیشن دیئے، جن میں اکثریت ایم بی ایز اور انجنئرز ہیں جبکہ ایم ٹیک اور بی ٹیک بھی شامل ہیں

تامل ناڈو بھارت (ٹائمزآف چترال نیوز ڈیسک ) بھارت فلموں میں جیسا دکھتا ہے، حقیقت اس کے بر خلاف ہے۔ حال ہی میں تامل ناڈو کی اسمبلی میں 14 سوئپرز کی خالی اسامیوں کے لئے ایک اشتہار دیا گیا جس  کے لئے  4 ہزار 6 سو لوگوں نے اپلی کیشن دیئے، جن میں اکثریت ایم بی ایز اور انجنئرز ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ اس عہدے کے لئے ایم ٹیک، بی ٹیک افراد نے بھی درخواستیں دے رکھی تھی۔ تامل اسمبلی سیکڑیٹیریٹ میں 10 سویئپر اور 4 سینیٹری ورکر کی خالی اسامیوں کےلئے کئی ڈپلومہ ہولڈرز نے بھی قسمت آزمائی کی۔ جبکہ ان اسامیوں کے لئے درکار کولیفیکیشن کوئی نہ تھا جبکہ عمر 18 سال تھی اور اس سے زائد ہونا تھی۔ ان اسامیوں کے لئے ایم بی ایز، انجنئرز، ایم ٹیک، بی ٹیک اور  ڈپلومہ ہولڈرز افراد نے درخواستیں دیں۔ کل 14 خاکروپ کی اسامیوں کے لئے 4607 درخواستیں موصول ہوئیں۔



6 فروری، 2019

سینئر وزیر علیم خان کو نیب لاہور نے حراست میں لے لیا

سینئر وزیر علیم خان  کو نیب لاہور نے حراست میں لے لیا


لاہور (نیوز ڈیسک) قومی احتساب بیورو (نیب) نے پنجاب کے سینئر وزیر علیم خان کو حراست میں لے لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق نیب لاہور نے علیم خان کو آف شور کمنپی اسکینڈل اور آمدن سے زائد اثاثوں کی تفتیش کے لیے آج طلب کیا تھا جس کے لیے وہ نیب آفس پہنچے جہاں انہیں حراست میں لے لیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہےکہ نیب نے علیم خان کو آف شور کمپنی اسکینڈل میں حراست میں لیا ہے۔  قومی احتساب بیورو (نیب) نے وزیر بلدیات پنجاب علیم خان کو آف شور کمپنی کیس میں نیب لاہور میں طلب کیا تھا جہاں سینئر وزیر پیش ہوئے اور نیب کے سوالوں کے جوابات دیے لیکن تسلی بخش جواب نہ دینے کے باعث نیب نے انہیں حراست میں لے لیا۔

ذرائع کے مطابق سینئر صوبائی وزیر نیب لاہور اپنے اسٹاف کے ہمراہ پیش ہوئے تھے جو باہر کھڑے ان کا انتظار کرتے رہے لیکن علیم خان کے نیب آفس سے باہر نہ آنے پر ان کا اسٹاف اکیلے ہی واپس روانہ ہوگیا۔

بعد ازاں نیب لاہور کی جانب سے علیم خان کی گرفتاری کے حوالے سے اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ نیب نے سینئر صوبائی وزیر علیم خان کو حراست میں لے لیا ہے، علیم خان کو آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا جب کہ علیم خان کو ریمانڈ کے لیے کل احتساب عدالت میں پیش کیا جائے گا۔


تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں