اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

16 جولائی، 2019

چترال رواں ہفتے میں خودکشیوں کے تین واقعات۔ تین لڑکیوں نے خودکشی کرتے ہوئے زندگی کا حاتمہ کر لی۔ ایک لڑکی کی لاش ابھی تک دریا سے برآمد نہ ہوسکی: پولیس

چترال رواں ہفتے میں خودکشیوں کے تین واقعات۔ تین لڑکیوں نے خودکشی کرتے ہوئے زندگی کا حاتمہ کر لی۔ ایک لڑکی کی لاش ابھی تک دریا سے برآمد نہ ہوسکی: پولیس



چترال (گل حماد فاروقی) چترال میں رواں ہفتے میں تین لڑکیوں نے خودکشی کرلی۔ ایک لڑکی کی لاش ابھی تک دریا میں لاپتہ ہے جس کی تلاش جاری ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق مسماۃ سفیرہ بی بی دختر لغل خان سکنہ واشیچ تورکہو حال مقیم جغور نے دریائے چترال میں چھلانگ لگاکر خودکشی کرلی۔اسکی لاش ابھی تک دریا سے برآمد نہیں ہوسکا اور مقامی رضاکار، لڑکی کی رشتہ دار لاش کی تلاش کررہے ہیں۔ 

متوفیہ نے حال ہی میں میٹرک کے امتحان بھی اچھے نمبروں سے پاس کیا تھا مگر اس کے باوجود اس نے خودکشی کرلی جس کا کوئی معقول وجہ بھی معلوم نہ ہوسکا۔ پچھلے سال جب میٹرک اور ایف اے کا رزلٹ آیا تھا تو تقریباً سات طالبات اور طلباء نے بھی خودکشی کی تھی کیونکہ ان کے نمبر کم آئے تھے مگر اس لڑکی کی نمبر زیادہ ہونے کے باوجود اس نے خودکشی کرلی قریبی رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ اس کی دماغی توازن بھی ٹھیک نہیں لگ رہی تھی۔

چترال کے تاریحی قصبے دروش کے علاقہ جنجیریت کوہ کے پینگا ئگول گاؤں میں رضیہ بی بی دختر عمرا خان عمر پندرہ سال اپنے گھر کے اندر پستول سے فائرنگ کرکے خودکشی کرلی تھی۔ رضیہ بی بی کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ میرگی کی مریض تھی اور اس نے پہلے بھی کئی بار خودکشی کی کوشش کی تھی۔وہ پہلی بھی کئی بار پہاڑی سے گری تھی۔ مقامی پولیس نے زیر دفعہ 156 تفتیش شروع کی ہے۔ 

آج صبح شغور کے علاقہ پرسن میں ایک اور لڑکی نے زہر کھا کر خودکشی کرلی۔ شغور پولیس کے مطابق شازیہ بی بی دختر گل حکیم نے حال ہی میں میٹر کے امتحان میں کم نمبر لئے تھے جس پر وہ دل برداشتہ ہوکر زہریلی دوا کھالی جسے فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال چترال لایا گیا جہاں وہ جاں بحق ہوئی۔ پولیس نے تفتیش شروع کردی۔

چترال کے خواتین میں خودکشیوں کی بڑھتی ہوئی رحجان سے علاقے کے عوام میں کافی تشویش پایا جاتا ہے۔ مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ پورے چترال میں کوئی سائکاٹرسٹ یعنی دماغی امراض کا ماہر ڈاکٹر تک نہیں ہے۔ اور بے سہارا اور مایوس خواتین کیلئے کوئی دار الامان، پناہ گاہ یا کوئی بھی محفوظ جگہہ سرکار کی طرف سے نہیں ہے جہاں یہ جاکر پناہ حاصل کرسکے اور خودکشی سے بچ سکے۔ چترال کے سابق ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر منصور امان نے ان خواتین کیلئے تھانہ چترال کے اندر ایک زنانہ رپورٹنگ سنٹر بھی کھولا تھا جہاں صرف خواتین عملہ ڈیوٹی کررہی ہے تاکہ اگر کسی خاتون کو کوئی مسئلہ ہو جسے مرد پولیس اہلکار کے سامنے بیان نہیں کرسکتی تو وہ زنانہ پولیس عملہ کے سامنے اپنی دل کی بات کرکے رپورٹ درج کرواسکے۔

چترال کے سماجی اور سیاسی طبقہ فکر ریاست مدینہ کے حکمرانوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ چترال میں ڈیڑھ سو ڈاکٹروں کی آسامیاں جو کئی سالوں سے حالی پڑے ہیں ان کو فوری پر کیا جائے اور چترال کے ہر بڑے ہسپتال میں ایک، ایک سائکاٹرسٹ ڈاکٹر بھی تعینات کیا جائے تاکہ اس قسم ذہنی مریضوں کا بروقت علاج کرواکر ان کو خودکشی سے بچایا جاسکے۔


خطیب شاہی مسجد چترال خلیق الزمان کی بیٹی کے نکاح کی تقریب شاہی مسجد میں ادا کی گئی۔ تقریب کا اہتمام نہایت سادگی سے کیا گیا

خطیب شاہی مسجد چترال خلیق الزمان کی بیٹی کے نکاح کی تقریب شاہی مسجد میں ادا کی گئی۔ تقریب کا اہتمام  نہایت سادگی سے کیا گیا



چترال(گل حماد فاروقی) خطیب شاہی مسجد چترال مولانا خلیق الزمان کی بیٹی عادلہ حنیف جو عالمہ فاضلہ اور ایم اے عربی پاس ہے اس کی نکاح حافظ محمد عالم گیر ولد فضل عظیم مہتر جو سکنہ بروز کے ساتھ شاہی مسجد میں ایک نہایت سادہ تقریب میں منعقد ہوئی۔نکاح شاہی مسجد کے پیش امام قاری محمد شبیر نے پڑھائی۔

نکاح کے دوران موصوفہ کی مہر فاطمی مقرر کی گئی جو شرعی لحاظ سے 131 تولہ 3 ماشہ چاندی مقرر کی گئی۔ جس کی قیمت ایک لاکھ اسی ہزار روپے بنتی ہے۔ نکاح پڑھانے کے بعد تمام شرکاء میں کھجور تقسیم کئے گئے جو سادگی کی مثال قائم کی گئی۔

نکاح کے تقریب میں مفتی انور نبی، مفتی اسحاق، انٹیلیجنس کے اعزازی کپتان ریٹائرڈ فضل قادر، مفتی جمی اللہ، مہتر جو عنایت اللہ اسیر اور حصوصی طور پر بین الاقوامی سطح پر کار ریسنگ کے عالمی ریکارڈ یافتہ سلطان گولڈن نے بھی شرکت کی۔ 





ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے خطیب خلیق الزمان نے کہا کہ میں نے اپنی بیٹی جو ایک عالمہ، فاضلہ اور عربی میں ماسٹر پاس ہے اس کی نکاح اسلئے شاہی مسجد میں ایک نہایت سادہ تقریب میں پڑھوائی تاکہ دوسرے لوگوں کیلئے ایک مثال بن سکے اور وہ بھی اپنی جوان بیٹیوں کی نکاح نہایت سادگی سے پڑھائے اور فضول خرچیوں سے بچ جائے۔ خلیق لزمان نے بتایا کہ جہاں نکاح آسان ہوتی ہے وہاں بے حیائی حتم ہوتی جاتی ہے اور ہمیں چاہئے کہ اسلام کے ذرین اصولوں پر عمل کرکے نکاح جو سنت نبویﷺ ہے اسے آسان سے آسان طریقے سے منائے تاکہ لوگ تنگی محسوس نہ کرے۔ 

عالمی شہرت یافتہ کار ریس ریکارڈ ہولڈر سلطان گولڈن نے بتایا کہ اس سے ایک سنت زندہ ہوگیا اور اس سے بہت فائدہ ہوگا دونوں فریق کیلئے یہ آسان ہے لڑکی کیلئے بھی اور لڑکے کیلئے بھی۔ ہمیں چاہئے کہ اپنے بچوں اور بچیوں کی نکاح اس طرح سادہ طریقے سے منائے تاکہ فضولیات سے بچ سکے اور معاشرے میں نکاح کو فروغ دے کر بے حیائی کا حاتمہ کیا جاسکے۔ تقریب نکاح میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ 



15 جولائی، 2019

چترال، گولین گول میں سیلاب نے تباہی مچا دی ہے۔ گولین بجلی گھر کے راستے اور لوگوں کی زمینوں کو کافی نقصان پہنچایا ہوا ہے، انفراسٹرکچر تباہ ہوچکا ہے، تباہی کے مناظر ویڈیو میں ملاحظہ کریں

چترال، گولین گول میں سیلاب نے تباہی مچا دی ہے۔ گولین بجلی گھر کے راستے اور لوگوں کی زمینوں کو کافی نقصان پہنچایا ہوا ہے، انفراسٹرکچر تباہ ہوچکا ہے، تباہی کے مناظر ویڈیو میں ملاحظہ کریں

چترال، گولین گول میں سیلاب نے تباہی مچا دی ہے۔ گولین بجلی گھر کے راستے اور لوگوں کی زمینوں کو کافی نقصان پہنچایا ہوا ہے، انفراسٹرکچر تباہ ہوچکا ہے، تباہی کے مناظر ویڈیو میں ملاحظہ کریں



چھ (6) ارب ڈالرز کا جرمانہ معاہدہ کرنے والوں سے وصول کیا جائے: پروفیسر ڈاکٹر شاہدہ وزارت

چھ  (6) ارب ڈالرز کا جرمانہ معاہدہ کرنے والوں سے وصول کیا جائے: پروفیسر ڈاکٹر شاہدہ وزارت


  • یہ وقت معاہدہ کرنے کے ذمہ داروں سے ہمدردی یا ان کی پشت پناہی کرنے کا نہیں، نہ ہی فیصلے پر رویا پیٹا جائے

  • اس موقع پر ہی ہم مصلحت کا شکار ہو گئے تو مورخ ہمیں بھی قصور وار قرار دے گا

  • کرپشن کیسز کا انجام افسوسناک ہے کہ ملک کے ہاتھ کچھ نہیں آرہا ور لوٹی گئی دولت باہر ویسے ہی پڑی ہے

  • آہنی عزم کیا جائے تا کہ کوئی بھی سربراہ حکومت کسی سے معاہدہ کرے تو ملک کے مفاد کے خلاف جانے کے لئے دس بار سوچے

  • آئی ایم ایف کے پاس جانے سمیت حالیہ اقدامات ملک کو معاشی بدحالی کی طرف لے جانے کے امریکی اسٹریٹجک پلان کا حصہ ہیں 

  • ریکو ڈک کیس میں پاکستان پر بھاری مالیت کا جرمانہ عائد ہونے پر پروفیسر ڈاکٹر شاہدہ وزارت کا رد عمل 

کراچی (نیوز ڈیسک) ممتاز ماہر معاشیات اور پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی اکنامکس افیئرزڈویژن کی وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر شاہدہ وزارت نے کہا ہے کہ6 ارب ڈالرز کا جرمانہ معاہدہ کرنے والوں سے وصول کیا جائے.یہ وقت معاہدہ کرنے کے ذمہ داروں سے ہمدردی یا ان کی پشت پناہی کرنے کا نہیں، نہ ہی فیصلے پر رویا پیٹا جائے۔کرپشن کیسز کا انجام افسوسناک ہے کہ ملک کے ہاتھ کچھ نہیں آرہا ور لوٹی گئی دولت باہر ویسے ہی پڑی ہے۔آئی ایم ایف کے پاس جانے سمیت حالیہ اقدامات ملک کو معاشی بدحالی کی طرف لے جانے کے امریکی اسٹریٹجک پلان کا حصہ ہیں۔ تفصیلات کے مطابق پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ اپنے رد عمل میں پروفیسر ڈاکٹر شاہدہ وزارت نے مزید کہا ہے کہ ریکوڈک کیس میں 6 ارب ڈالرز کا جرمانہ درحقیقت پاکستان کے خلاف امریکہ کی سربراہی میں بننے والے اس اسٹریٹجک پلان کا حصہ ہے جس کے نتیجے میں اور ایسے کئی اقدامات کر کے پاکستان کو معاشی بدحالی کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔ پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس لے جانا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا۔ ایک اور ایسے ہی کیس میں بھی پاکستان پر 3 ارب ڈالر جرمانے کی خبریں آچکی ہیں۔ یہ تمام معاملات وطن عزیز کو ایک بہت بڑی دلدل میں پھنسانے کی سازش ہیں۔ اس معاملے میں بھی یہی کیا گیا ہے کہ ہماری عدالتوں نے جو کچھ کیا اسی کی نفی کر کے ہمیں معاشی بحران میں پھنسانا شروع کر دیا گیا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر شاہدہ وزارت نے کہا کہ اس تمام صورت حال کو وسیع تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ 


وقت آگیا ہے کہ ہم ان حکمرانوں کی پکڑ دھکڑ شروع کریں، ان کے گرد گھیرا تنگ کریں جنہوں نے ان معاہدوں پر دستخط کئے تھے اور معاہدے میں ایسی شرائط ڈالیں جس کے نتیجے میں آج ملک کو اتنا بڑا اور خوفناک نقصان اٹھا نا پڑ رہا ہے۔ کرپشن کیسز بھی جس رفتار سے چل رہے ہیں ان کے نتیجے میں ملک کو کچھ ہاتھ نہیں آرہا ہے بلکہ لوٹی گئے کھربوں روپے کی دولت اسی طرح محفوظ ہاتھوں میں ملک سے باہر پڑی ہے۔ یہ قدم اٹھانے کے لئے ہمیں آہنی عزم کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نے ایک بار آہنی عزم کر لیا تو آئندہ کوئی بھی سربراہ مملکت کسی سے بھی کوئی معاہدہ کرتے وقت دس بار سوچے گا۔ یہ ہمارا المیہ ہے کہ ماضی کے حکمرانوں نے مختلف ممالک اور طاقتور کاروباری اداروں سے ایسے معاہدے کرلئے جس کے نتیجے میں پاکستان کو تو کچھ نہیں ملا، الٹا اربوں ڈالرز کا جرمانہ بھگتنا پڑا لیکن ان طاقتور ملکوں اور کمپنیوں کو سب کچھ مل گیا اور ذاتی طور پر ہمارے ان حکمرانوں کو بھی بہت کچھ مل گیا۔ ہم جب تک یہ بھاری جرمانے ان سابقہ حکمرانوں کو پاس اون نہیں کریں گے ہمارے عوام غربت کی چکی میں بری طرح پستے رہیں گے۔ حکومت ریکوڈک اور دیگر ایسے تمام معاہدے از سر نو دیکھے اور ملک کے مفاد میں فیصلے کرے۔ ریکوڈک کیس میں متعلقہ کمپنی کو 18 سال کا وقت اور 400 اسکوائر یارڈ کی جگہ فراہم کی گئی تھی لیکن کمپنی نے صرف 3 کلومیٹر میں کھدائی کی اور اس کی رپورٹ بھی حکومت کو نہ دی۔ کمپنی کی کارکردگی انتہائی ناقص تھی جس کے نتیجے میں جرمانہ بنتا تو نہیں ہے لیکن اب عدالتی فیصلوں پر رونا پیٹنا بیکار ہے۔ یہ وقت ان معاہدوں کے ذمہ داروں سے ہمدردی یا ان کی پشت پناہی کرنے کا نہیں بلکہ غلط اور ملک کے لئے نقصان دہ معاہدے کرنے والوں کو عبرتناک سزا دینے اور یہ جرمانہ ان سے وصول کرنے کا وقت ہے۔ اگر اس موقع پر بھی ہم نے مصلحت سے کام لیا تو پھر ہم بھی قصوروار ہوں گے اور وقت کا مور خ ہمیں بھی معاف نہیں کرے گا۔ 


14 جولائی، 2019

میرے بیٹے کا مفت علاج کروانے پر آرمی چیف کا شکریہ۔ چترال میں بھی فوجی فاوئنڈیشن ہسپتال قائم کیا جائے صوبیدار ریٹائرڈ شہاب الدین

میرے بیٹے کا مفت علاج کروانے پر آرمی چیف کا شکریہ۔ چترال میں بھی فوجی فاوئنڈیشن ہسپتال قائم کیا جائے صوبیدار ریٹائرڈ شہاب الدین




چترال(نامہ نگار) چترال کے تاریحی قصبے دروش کے ریٹائرڈ صوبیدار شہاب الدین نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور کور کمانڈر پشاور لفٹنٹ جنرل شاہین مظہر محمود کا ایک خبری کانفرنس میں شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ان کے معصوم بچے کے پکار پر لبیک کہہ کر ان کا مفت علاج کروایا۔ شہاب الدین نے مقامی صحافیوں کو بتایا کہ میرے معصوم بیٹے محمد عثمان کا انگلی ٹوٹ چکی تھی جسے دروش ہسپتال لے گیا تھا مگر وہاں اس کا علاج صحیح نہ ہوسکا بلکہ الٹا مزید خراب ہوگیا بعد میں اسے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال چترال بھی لایا مگر یہاں بھی کوئی آرتھوپیڈک (ہڈیوں کا ڈاکٹر) نہ ہونے کی وجہ سے اس کا علاج نہ ہوسکا۔

بعد میں اسے پشاور لے گیا جہاں آرتھوپیڈک سرجن نے انکشاف کیا کہ اس کا غلط علاج ہوا ہے اور بچے کی معذور ہونے کا حطرہ ہے۔ اس کے بعد میں نے چترال پریس کلب میں پریس کانفرنس بھی کیا جہاں سپیشل برانچ کے اہلکار بھی بھیٹے تھے مگر اس پریس کانفرنس کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا جس پر میں نے پریس کلب کے اراکین کو شکوہ بھی کیا کہ انہوں نے پیسے تو مجھ سے لے لئے مگر کوریج نہیں ہوئی۔

شہاب الدین نے بتایا کہ بعد میں، میں نے فری لانس صحافی (گل حماد فاروقی) کو بلایاجو پریس کلب کا رکن نہیں ہے اور میں نے اس کے ساتھ پریس کانفرنس کرکے چیف آف آرمی سٹاف اور کور کمانڈر پشاور سے اپیل کی تھی کہ وہ میرے بیٹے کا سی ایم ایچ پشاور میں مفت علاج کرائے۔ 

شہاب الدین نے کہا کہ اس وقت میری خوشی کی انتہا ء نہ رہی جب میری پریس کانفرنس نشر ہونے کے بعد تھوڑی ہی دیر بعد مجھے ایک میجر صاحب نے فون کرکے کہا کہ فوری طور پر دروش چھاؤنی پہنچ جائے اور بچے کو بھی ساتھ لائے۔ 

شہاب الدین نے بتایا کہ میں نے اپنے بیٹے عثمان کو بھی میجر صاحب کے پاس لے گیا جہاں ان کی تصاویر لی گئی اور اسے الیون کور کو بھجودی گئی ساتھ ہی مجھے ہدایت کی گئی کہ فوری طور پر بچے کو لیکر CMH ہسپتال پشاور پہنچے۔ ان کاکہنا ہے کہ جب میں کمبائنڈ ملٹری ہسپتال پشاور پہنچ گیا تو ڈاکٹر میرے انتظار میں تھے اور انہوں نے میرے بیٹے کا مفت علاج شروع کیا اور اب بچے کی انگلی کافی حد تک ٹھیک ہورہی ہے۔ 

شہاب الدین نے سیاسی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک چترال میں ایک آرتھوپیڈک سرجن کیوں نہیں ہے اور دروش ہسپتال کا تو خدا ہی حافظ کیونکہ وہاں کئی اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کی آسامیاں کافی عرصے سے حالی ہیں مگر سیاسی قیادت نے ابھی تک اس مسئلے کی حل کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ 

انہوں نے صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ چترال کے ڈومیسائل پر جتنے طلباء و طالبات کو میڈیکل کالج یا ڈنٹل کالجوں میں داحلہ مل کر ڈاکٹر بن جاتے ہیں ان سب کو پابند کرے کہ وہ کم ازکم پانچ سال کیلئے چترال میں خدمات سرانجام دے یا پھر حکومت یہ کوٹہ سسٹم حتم کرے کہ اوپن میرٹ پر داحلہ لے۔

شہاب الدین نے سیاسی قیادت پر زور دیا کہ وہ اسمبلی میں ایسی قانون سازی کرے کہ جن ڈاکٹروں نے چترال کی ڈومیسائل استعمال کرکے ان کو چترال کے کوٹہ میں جو ہر سال چھ نشستوں پر داحلہ ملتا ہے ان کی داحلہ اس بات سے مشروط کیا جائے کہ وہ ڈاکٹر بننے کے بعد چترال میں لازمی پانچ سال تک ڈیوٹی کرے جو ڈاکٹر اس شرط کو نہیں مانتا ان کو پھر چترال کے ڈومیسائل پر داحلہ نہ دیا جائے بلکہ اوپن میرٹ پر کوشش کرے مگر مجھے نہیں لگتا کہ ان کو اوپن میرٹ پر داحلہ ملے گا۔ 


نجی ٹی وی اینکر مرید عباس سمیت دو افراد کے قتل میں مزید اہم پیشرفت، 50لاکھ کے تنازع سے شروع ہونیوالی رقم 1 ارب تک پہنچ گئی

نجی ٹی وی اینکر مرید عباس سمیت دو افراد کے قتل میں مزید اہم پیشرفت، 50لاکھ کے تنازع سے شروع ہونیوالی رقم 1 ارب تک پہنچ گئی



کراچی(این این آئی)کراچی کے علاقے ڈیفنس میں نجی ٹی وی اینکر مرید عباس سمیت دو افراد کے قتل میں مزید اہم پیشرفت سامنے آگئی ، 50 لاکھ کے تنازع سے شروع ہونیوالی رقم ایک ارب روپے تک پہنچ گئی۔ ملزم عاطف زمان نے برطانوی خاتون کے بھی 17 کروڑ روپے دینے تھے۔

ذرائع کے مطابق کراچی میں اینکر مرید عباس کا قتل معاملے کی تہہ تک پہنچنا پولیس کے لئے چیلنج بن گیا، تفتیشی حکام نے مزید شواہد اکھٹے کرلیے، کیس میں مزید انویسٹرز کا انکشاف ہوا ہے۔تفتیشی حکام کے مطابق ملزم عاطف زمان نے برطانوی شہریت رکھنے والی خاتون سے بھی رقم لی تھی، خاتون مختلف چینلز میں اینکر بھی رہ چکی ہیں، برطانوی خاتون کے 17 کروڑ روپے عاطف نے دینے تھے،ادھر تفتیش حکام کا کہنا ہے کہ کیس میں پانچ افراد کے بیانات قلمبند کیے جاچکے ہیں، تین کاروباری شراکت داروں کو طلب کر لیا گیا ہے جبکہ کیس میں ملوث ملزم عدنان زمان کی گرفتاری کے لیئے تفتیشی ٹیم کسی بھی وقت بالاکوٹ روانہ ہوگی۔



فیس بک پر 5 ارب ڈالر جرمانہ عائد، امریکی فیڈرل ٹریڈ کمیشن نے منظوری دے دی

فیس بک پر 5 ارب ڈالر جرمانہ عائد، امریکی فیڈرل ٹریڈ کمیشن نے منظوری دے دی




واشنگٹن(این این آئی) امریکا کے فیڈرل ٹریڈ کمیشن نے فیس بک پر پانچ ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس جرمانے کی حتمی منظوری امریکی محکمہ انصاف کے دیوانی شعبے نے نظرثانی کے بعد دینی ہے۔فیس بک پر یہ جرمانہ صارفین کے ڈیٹا اور نجی معلومات کے تحفظ میں ناکامی کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ ناقدین نے اتنے بڑے جرمانے کو غیر مناسب قرار دیا ہے۔ یہ جرمانہ فیس بک کے خلاف ڈیٹا کے تحفظ میں متعدد ناکامیوں کے حوالے سے جاری تفتیشی عمل پر فریقین کے درمیان ڈیل کی روشنی میں طے کیا گیا ہے۔ کمیشن کے ری پبلکن پارٹی کے اراکین اس مجوزہ ڈیل کی حمایت کر رہے ہیں جب کہ ڈیموکریٹک اراکین مخالفت میں ہیں۔ جرمانے کی حتمی منظوری ہو جاتی ہے تو یہ کسی ادارے پر عائد کیا جانے والا سب سے بڑا جرمانہ ہو گا۔



13 جولائی، 2019

موٹرسائیکل چوری کے واقعات کا نوٹس لیا جائے اور عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے: پاسبان

موٹرسائیکل چوری کے واقعات کا نوٹس لیا جائے اور عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے: پاسبان 

شہر کراچی میں موٹرسائیکلیں چوری ہوکرکہاں جارہی ہیں،کیا پولیس سورہی ہے؟: عبدالحاکم قائد



کراچی (نیوز ڈیسک) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کراچی کے صدر عبدالحاکم قائد نے شہر کراچی میں موٹرسائیکلوں کی چوری کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ شہر سے چوری شدہ موٹر سائیکلیں آخر کہاں جارہی ہیں؟کیا پولیس سورہی ہے؟ پاسبان ہیلپ لائن پر کراچی کے درجنوں شہریوں نے آگاہ کیا ہے کہ وہ اپنی موٹرسائیکلوں سے محروم ہوگئے ہیں،رش والے مقامات،دفاتر اور مصروف بازاروں کے باہر موٹرسائیکلیں چوری کے واقعات بڑھ گئے ہیں،ان واقعات پر پولیس اور سادہ لباس خفیہ پولیس حرکت میں نہیں آرہی۔ پولیس نے موٹرسائیکل چوروں کو کھلی چھٹی کیوں دے رکھی ہے؟ 

کیا موٹرسائیکل گروہوں نے پولیس کو بھی ماہانہ بھتہ دے کر پولیس اہلکاروں کی آنکھیں بند کردی ہیں؟موٹرسائیکل چوری کے واقعات پر ہنگامی بنیادوں پر قانون نافذ کرنے والے ادارے الرٹ ہوجائیں تو چوری شدہ موٹرسائیکلوں کی بروقت بازیابی اور ملزمان کی گرفتاری کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔آئی جی سندھ موٹرسائیکلیں چوری کے واقعات کا سختی سے نوٹس لیں۔ پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں عبدالحاکم قائد نے کہا کہ شہریوں کی جان و مال کی حفاظت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اولین ذمہ داری ہے۔ شہر بھر میں خفیہ کیمروں کی مانیٹرنگ کیوں نہیں کی جارہی،فوری چیکنگ،ملزمان پر ہاتھ ڈالنے کے لئے باقاعدہ نظام تشکیل دیا جائے۔ جن علاقوں میں موٹرسائیکلیں چوری  ہونے کے واقعات بڑھ چکے ہیں ان علاقوں کے ایس ایچ اوز،ڈیوٹی آفیسر ز، پٹرولنگ پر مامور باوردی اور خفیہ سادہ لباس اہلکاروں کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے تو اس طرح کے اقدامات سے  جرائم کے واقعات پر قابو پایا جاسکتا ہے۔دریں اثنا پاسبان ہیلپ لائن نے موٹرسائیکل چوری کے ایک تازہ ترین واقعہ پر آئی جی سندھ کلیم امام کولکھے گئے خط میں کہا ہے کہ عمر شیخ کی نئی موٹرسائیکل نمبر KMR-4534ِسپر پاور برنگ سیاہ ماڈل 2019نیوٹاؤن تھانے کی حدود سے مورخہ10جولائی کو چوری ہوئی ہے جس کی ابتدائی رپورٹ سیریل نمبر 136/19درج کرادی گئی لیکن تھانہ پولیس کی جانب سے کوئی عملی کاروائی سامنے نہیں آئی۔ مذکورہ شہری عمر شیخ سمیت دیگرمتاثرہ شہریوں کی موٹرسائیکلوں کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے اور موٹرسائیکلوں کی چوری کے واقعات کی روک تھام کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں ۔


چترال ٹاسک فورس کے کمانڈنٹ کرنل معین الدین کی ہدایت پر چترال سکاوٹس نے جمعہ کے روز گولین کے متاثرہ گاؤں بوبکہ کے مقام پر فری میڈیکل کیمپ لگایا، اور راشن تقسیم کیا

چترال ٹاسک فورس کے کمانڈنٹ کرنل معین الدین کی ہدایت پر چترال سکاوٹس نے جمعہ کے روز گولین کے متاثرہ گاؤں بوبکہ کے مقام پر فری میڈیکل کیمپ لگایا، اور راشن تقسیم کیا






چترال (گل حماد فاروقی ) چترال ٹاسک فورس کے کمانڈنٹ کرنل معین الدین کی خصوصی ہدایت پر چترال سکاوٹس نے جمعہ کے روز گولین کے متاثرہ گاؤں بوبکہ کے مقام پر فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا جس میں 180سے زائد مریضوں جن میں بڑی تعداد خواتین،بچے اور بوڑھے شامل تھے کا معائنہ کرنے کے بعد ان کو مفت ادویات فراہم کی گئی۔ میڈیکل کیمپ لیفٹیننٹ کرنل ڈاکٹر شہزاد، میجر ڈاکٹر فیصل، کپٹن ڈاکٹر حمزہ اور نرسنگ اسٹا ف پر مشتمل تھی۔ 

اس موقع پر میجر عثمان نے 30متاثرہ گھرانوں میں فوڈ اور نان فوڈ آئٹمز تقسیم کئے جن میں خیمہ، چاؤل،آٹا،پینے کا پانی. دال، چینی، سولر لائٹس شامل تھے۔ گاؤں کے عمائیدیں نے کہاکہ کرنل معین الدین نے چوبیس گھنٹوں سے پہلے پہلے اپنا وعدہ پورا کردیکھایا جس نے جمعرات کے دن علاقے کا دورہ کرکے متاثرین کے لئے امدادی پیکج اور فری میڈیکل کیمپ کا اعلان کیا تھا۔ اس موقع پر ضلع ناظم مغفرت شاہ نے کہاکہ ہمارا سب سے بڑا ترجیح سڑک کی بحالی ہے جس پر کام جاری ہے جبکہ پانی کی سپلائی کو بھی بحال کرنا ناگزیر ہے کیونکہ اس وادی سے چترال ٹاؤن سمیت کئی دیہات کو ابپاشی اور ابنوشی کے لئے پانی مہیاہوتا تھا۔ انہوں نے متاثرین کے لئے امدادی اشیاء کی فراہمی پر کمانڈنٹ چترال سکاوٹس کا شکریہ ادا کیا۔ علاقہ عمائدین نے پاک فوج کی طرف سے امداد کی فراہمی اور میڈیکل کے انعقاد پر اُن کا شکریہ ادا کیا۔


11 جولائی، 2019

ریستوران اور بیکریاں ایف بی آر کے ریڈار پر آگئے، ایف بی آر نے آمدنی جانچنے کے لئے کیشن کاؤنٹر پرسافٹ ویئر لگانے کا فیصلہ کرلیا

ریستوران اور بیکریاں ایف بی آر کے ریڈار پر آگئے، ایف بی آر نے آمدنی جانچنے کے لئے کیشن کاؤنٹر پرسافٹ ویئر لگانے کا فیصلہ کرلیا 



کراچی (این این آئی) شہر قائد کے ریستوران اور ہوٹلز بھی ایف بی آر کے ریڈار پر آگئے، ایف بی آر نے ان کی آمدنی جانچنے کے لیے کیش کائونٹر پر جدید سافٹ ویئر انسٹال کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق عوام سے سیلز ٹیکس وصول کرکے منافع خوری کرنے والے ریسٹورنٹس کی نگرانی کے لیے جدید سافٹ ویئر سسٹم استعمال کیا جائے گا، ایف بی آر نے ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کی نگرانی کے لیے ریسٹورنٹس اور ہوٹلوں کے بلنگ اور کیش سسٹم سے منسلک سافٹ ویئر کراچی کے ہوٹلوں اور ریستورنوں میں انسٹال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔یکم جولائی سے ریسٹورنٹ اور بیکریوں پر سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد سے کم کرکے 7.5 فیصد کردی گئی ہے تاہم ریسٹورنٹس اور بیکریوں نے یہ کمی عوام کو منتقل کرنے کے بجائے قیمتوں میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ 

اس سے قبل بھی ریسٹورنٹس عوام سے 17 فیصد سیلز ٹیکس اور صوبائی ٹیکسز وصول کرتے رہے ہیں لیکن انہیں قومی خزانے میں جمع نہیں کرایا۔اب ایف بی آر نے سیلز ٹیکس کے اعداد و شمار مرتب کرنے کے لیے یومیہ بنیادوں پر ریسٹورنٹس کی سیلز کا ڈیٹا مرتب کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے جدید سافٹ ویئر استعمال کیا جائے گا۔ اس طرز کا سافٹ ویئر اسلام آباد کے ہوٹلوں میں بھی استعمال کیا جارہا ہے جس سے بہتر نتائج حاصل ہوئے ہیںذرائع نے بتایا کہ اس تجربہ کو کراچی میں بھی دہرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ان لائن مینجمنٹ سافٹ ویئر سے ریسٹورنٹس کی ٹیکس چوری روکنے میں مدد ملے گی۔ ایف بی آر کا مینجمنٹ سافٹ ویر ریسٹورنٹس کے کمپیوٹرز میں انسٹال ہوگا۔ایف بی آر حکام کے مطابق سافٹ ویر تنصیب سے اصل فروخت پر صحیح ٹیکس کا اندازہ ہوگا، ٹیکس چوری کرنے والے ریسٹورنٹس کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے لیے 600 سرفہرست ریسٹورنٹس کی فہرست مرتب کرلی گئی ہے جن سے فروخت کا ڈیٹا حاصل کرنے کے ساتھ ان ہوٹلوں بیکریوں اور ریستورانوں کو مرغی، گوشت، سبزیاں، مسالہ جات اور دیگر لوازمات سپلائی کرنے والے سپلائرز کا بھی ڈیٹا حاصل کیا جائے گا تاکہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جاسکے۔


حسن ابدال کے قریب بس کھائی میں گرگئی، 13مسافر جاں بحق، بیس میں 59 افراد سوار تھے

حسن ابدال کے قریب بس کھائی میں گرگئی، 13مسافر جاں بحق، بیس میں 59 افراد سوار تھے



حسن ابدال (نیوز ڈیسک)  سوات سے لاہور جانے والی بس حسن ابدال کے پاس براہمہ انٹرچینج کے قریب الٹ گئی، جس کے نتیجے میں 13 افراد جاں بحق اور 34 زخمی ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق آج صبح سوات سے لاہور جانے والی بس جس میں 59 افراد سوار تھے حسن ابدال کے قریب براہمہ انٹرچینج کے قریب موٹر وے پر الٹ گئی۔ ریسکیو 1122 اور موٹر وے پولیس نے زخمیوں اور جاں بحق افراد کو ٹیکسلا ہسپتال منتقل کر دیا۔

حادثے میں بچ جانے والے مسافر کے مطابق بس حادثہ ڈرائیور کی تیز رفتاری، لاپرواہی اور مسلسل موبائل فون کے استعمال کی وجہ سے پیش آیا ہے جبکہ تھانہ واہ پولیس نے بس ڈرائیور احمد خان کو حراست میں لے لیا ہے۔

حسن ابدال کے پاس براہمہ انٹرچینج کے قریب سوات سے لاہور جانے والی بس الٹ گئی، حادثے میں 13 افراد جاں بحق اور 34 زخمی ہوگئے۔ ریسکیو 1122 اور موٹر وے پولیس نے زخمیوں اور جاں بحق افراد کو ٹیکسلا ہسپتال منتقل کر دیا۔



شیخ رشید کے ویزر ریلوے بننے کے بعد سے اب تک 79 ریلوے حادثات ہوچکے ہیں، آئے روز کوئی نہ کوئی حادثہ ہوتا ہے

شیخ رشید کے ویزر ریلوے بننے کے بعد سے اب تک 79 ریلوے حادثات ہوچکے ہیں، آئے روز کوئی نہ کوئی حادثہ ہوتا ہے



کراچی (ویب ڈیسک) شیخ رشید کے ویزر ریلوے بننے کے بعد سے اب تک 79 ریلوے حادثات ہوچکے ہیں، آئے روز کوئی نہ کوئی حادثہ ہوتا ہے۔ اگست 2018ء سے جولائی 2019ء تک 79 ٹرین حادثے ہوچکے ہیں۔ سب سے زیادہ جون میں 20 حادثے ہوئے جس میں انسانی جانوں کے ساتھ ساتھ محکمہ کو کروڑوں روپے کا نقصان بھی برداشت کرنا پڑا۔ یکم جون کو لاہور یارڈ میں ریلف ٹرین ڈی ریل ہوگئی۔ 3 جون کو عید اسپیشل ٹرین لالہ موسی اسٹیشن کے قریب پٹری سے اتر گئی۔ 5 جون کو فیصل آباد اسٹیشن کے قریب شاہ حسین ٹرین کی بوگیاں پٹری سے اترگئیں۔ 5 جون کو ہی کراچی ڈویژن میں کینٹر ٹرین کو حادثہ ہوا اور تھل ایکسپریس ٹرین کی پانچ بوگیاں بھی کندھ کوٹ کے قریب پٹری سے اترگئیں۔

20 جون کو حیدرآباد اسٹیشن کے قریب جناح ایکسپریس ٹرین مال بردار ریل گاڑی سے ٹکراگئی جس کے نتیجے میں ٹرین ڈرائیور اور اسسٹنٹ ٹرین ڈرائیور جاں بحق ہوگئے۔

18 جون کو ملتان ڈویژن میں ہڑپہ اسٹیشن کے قریب جناح ایکسپریس ٹرین کی ڈائننگ کار کو آگ لگ گئی۔ 22 جون کو لاہور ریلوے اسٹیشن کے یارڈ میں کراچی جانے والی تیزگام کی بوگیاں پٹری سے اترگئیں۔


ریلوے حادثے میں 11 افراد جان بحق : شیخ رشید کا جاں بحق افراد کے لواحقین کیلئے 15 لاکھ کا اعلان



ریلوے حادثے میں 11 افراد جان بحق : شیخ رشید کا جاں بحق افراد کے لواحقین کیلئے 15 لاکھ کا اعلان



رولپنڈی (ویب ڈیسک) آج رحیم یار خان، اکبر ایکسپریس مال گاڑی سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں 11 افراد جاں بحق اور 60 زخمی ہوگئے ہیں۔    وزیر ریلوے شیخ رشید نے جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے 15 لاکھ روپے، شدید زخمیوں کے لیے 5 لاکھ اور معمولی زخمیوں کے لیے 2 لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا ہے۔

میڈیا سے گفت گو کرتے ہوئے وزیر ریلوے نے اکبر ایکسپریس کو پیش آنے والے حادثے پر انتہائی دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حادثہ انسانی غفلت کا نتیجہ ہے، اس میں کانٹے والا ملوث ہے، واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔



انہوں نے کہا کہ ریلوے میں بہت کرپشن ہے جسے ٹھیک کرنے میں وقت لگتا ہے، حادثات کی مکمل تحقیقات ہوتی ہیں، محکمے میں باہر سے لوگ نہیں آتے۔

شیخ رشید نے کہا کہ جی ایم ریلوے اور متعلقہ حکام کو حادثے کی جگہ روانہ کر دیا گیا ہے، ریلیف اور ریسکیو کا کام ضلعی انتظامیہ کی مدد سے جاری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حادثے کا جائزہ لے رہا ہوں، ریلوے حکام کو ریلیف اور ریسکیو کا کام تیز کرنے کا حکم دیا ہے، امدادی کیمپ قائم کر دیا ہے، ریلیف ٹرین روانہ کر دی ہے، ڈی ایس ریلوے سکھر سے جائے حادثہ پر پہنچے ہیں۔

شیخ رشید نے مزید بتایا کہ حیدرآباد ٹرین حادثے پر 2 سیکشن افسران کو نوٹس جاری کیا ہے، جبکہ 2 افراد کو محکمے سے نکالا گیا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ نیا سسٹم اور نئے لوگ لائے ہیں، نئی ٹرینیں تو شروع کی گئی ہیں لیکن نیا ٹریک نہیں ڈالا گیا، لوگ چھتوں پر چڑھ کر سفر کرتے تھے، نئی ٹرینیں شامل کر کے چھتوں پر سفر کرنے والوں کو بوگیوں میں بٹھایا۔

چیئرمین ریلوے سکندر سلطان راجہ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اکبر ایکسپریس کا مال گاڑی سے ٹکرانا ریلوے سسٹم کی ناکامی ہے۔

رحیم یار خان، اکبر ایکسپریس مال گاڑی سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں 11 افراد جاں بحق اور 60 زخمی ہوگئے

رحیم یار خان، اکبر ایکسپریس مال گاڑی سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں 11 افراد جاں بحق اور 60 زخمی ہوگئے


صادق آباد (نیوز ڈیسک) رحیم یار خان کے قریب اکبر ایکسپریس مال گاڑی سے ٹکرا گئی، حادثے میں 11 افراد جاں بحق اور 60 زخمی ہوگئے۔ اکبر ایکسپریس لاہور سے کوئٹہ جا رہی تھی۔

 صادق آباد میں ولہار سٹیشن پر اکبر ایکسپریس مال گاڑی سے ٹکرا گئی، حادثہ اتنا شدید تھا کہ مسافر ٹرین کا انجن اور تین بوگیاں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں۔ المناک حادثے کے بعد رحیم یار خان اور صادق آباد کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔

ڈی سی رحیم یار خان کے مطابق حادثے کے بعد امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔ ڈی پی او نے سگنل تبدیل نہ ہونے کے باعث حادثہ پیش آنے کے خدشے کا اظہار کر دیا۔ مسافروں نے بھی کانٹا تبدیل نہ ہونے کی تصدیق کر دی۔ حادثے کا شکار ہونے والی اکبر ایکسپریس کے مسافروں کو بزنس ایکسپریس کے ذریعے روہڑی روانہ کر دیا گیا ہے۔

 وزیراعظم عمران خان نے ٹرین حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا، انہوں نے زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی۔



10 جولائی، 2019

کراچی میں دنیا کے سب سے بڑے کتب میلے کا اعلان : 26جولائی سے 11 روز تک 24 گھنٹے جاری کتابی میلے میں 50 فیصد سے 90 فیصد تک کتابوں پرڈسکاؤنٹ

کراچی میں دنیا کے سب سے بڑے کتب میلے کا اعلان : 26جولائی سے 11 روز تک 24 گھنٹے جاری کتابی میلے میں 50 فیصد سے 90 فیصد تک کتابوں پرڈسکاؤنٹ



کراچی، 10 جولائی، 2019۔ بگ بیڈ وولف بک سیل کی جانب سے دنیا کی سب سے بڑی کتابوں کی نمائش لاہور کے بعد رواں مہینے اب کراچی میں منعقد ہورہی ہے۔ کتابوں کے شوقین افراد 10 لاکھ سے زائد کتابوں کی قیمت پر 50 فیصد سے 90 فیصد تک دی جانے والی رعایت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ کراچی میں منعقدہونے والے کتابوں کے سب سے بڑے میلے کا آغاز 26 جولائی 2019 کو صبح 9 بجے ہوگا اور اس کا اختتام 5 اگست 2019 کو رات 12 بجے ہوگا۔ یہ نمائش مسلسل 11 روز تک 24 گھنٹے کراچی ایکسپو سینٹر کے ہال 5 میں عوام کے لئے کھلی رہے گی۔ 
  
کراچی کی پڑھی لکھی نوجوان نسل میں اضافہ ہورہا ہے اور وہ بگ بیڈ وولف بک سیل کراچی 2019 نمائش میں عالمی معیار کے ادب سے بھرپور رسائی حاصل کریں گے۔ اس نمائش میں پہلے وی آئی پی ڈے میں شرکت کے لئے بگ بیڈ وولف بک سیل پاکستان کے سوشل میڈیا پیجز پر مقابلوں کے ذریعے وی آئی پی پاسز حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ وی آئی پی ڈے کا پاس رکھنے والے افراد ایک روز قبل یعنی 25 جولائی 2019 نمائش میں شرکت کرسکیں گے اور ایک روز پہلے اپنی پسندیدہ کتابیں تلاش کرسکیں گے۔ 
  
بگ بیڈ وولف بک سیل کے بانی اینڈریو یاپ نے کراچی میں بگ بیڈ وولف بک سیل کی جانب سے کراچی میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہا، "کراچی میں بگ بیڈ وولف میلہ کو متعارف کرانے کا ہمارا عزم آخرکار اب حقیقت کی جانب بڑھ رہا ہے۔ لاہور میں کامیابی کے بعد ہمیں احساس ہوا کہ اس خطے میں انگریزی کی معیاری کتابوں کے متلاشی وسیع تعداد میں موجود ہیں۔ اس لئے ہم نے کراچی آنے کا فیصلہ کیا اور بڑھتی ہوئی آبادی والے اس بڑے شہر میں انگریزی کتابوں کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کا چیلنج قبول کیا۔ اس کتب میلے میں ہماری خواہش ہے کہ ایسا پلیٹ فارم تخلیق کیا جائے جہاں لوگوں نہایت کم قیمت میں کتابیں حاصل کر سکیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ سستی اور آسانی سے دستیاب کتابوں کے ذریعے ان کی معلومات میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔ "





اس میلے میں ہر مزاج کے قارئین اپنے ذوق کے مطابق پسندیدہ موضوعات، بیسٹ سیلرز، نوجوانوں کے فکشن، رومانوی، جرم و سسپنس، سائنس فکشن، بزنس، سیلف ہیلپ، آرکیٹکچر، ڈیزائن، کوک بکس اور دیگر موضوعات کی کتابیں شامل ہوں گی۔ اپنے بچوں کے ہمراہ آنے والے والدین مختلف اقسام کی کتابوں جیسے اسٹوری بکس، ایکٹویٹی بکس، بورڈ بکس، کلرنگ بکس، پکچر بکس، اور انٹرایکٹو بکس سمیت دیگر کتابوں کی موجودگی سے نہایت خوش ہوں گے۔ 

بگ بیڈ وولف بک سیل میلہ ایشیاء میں خاص طور پر میجکل بکس یا آگمنٹڈ ریالٹی (اے آر) بکس کے نام سے بھی مشہور ہے۔ ان میجکل بکس کے ذریعے نئی نسل جدید ترین اے آر ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے مطالعہ، کھیل اور سیکھنے سے لطف اندوز ہوسکے گی۔ یہ بچوں کے لئے جادوئی جیسا تجربہ ہوگا جس میں وہ اپنے پسندیدہ کرداروں کو گفتگو اور فعال انداز سے دیکھ سکیں گے۔ اس میلہ میں کلاسیک بچوں کی کہانیوں میں سنڈریلا، لٹل ریڈ رائیڈنگ ہڈ، اور گولڈی لاکس یا تعلیمی عنوانات جیسے گنتی سیکھیں اور اے بی سی سیکھیں جیسی کتب بھی دستیاب ہوں گی۔ 

بگ بیڈ وولف بک سیل کراچی 2019 کے منتظم اویس اختر بٹ نے کہا، "رواں سال لاہور میں ہمارے کتابی میلے میں عوام کی بھرپور دلچسپی لینے پر ہم نے کراچی میں کتب میلہ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا۔ کراچی کے شہریوں کو پہلی بار ایسا موقع میسر آئے گا جب وہ مسلسل جاری کتب میلہ میں شریک ہوسکیں۔ بگ بیڈ وولف بک سیل بین الاقوامی طور پر 24 گھنٹے کتابوں کی خریداری کے لئے مشہور ہے اور ہم پاکستان کے مزید شہروں میں اس کتب میلہ کو لے جانے کے لئے پرجوش ہیں جس سے مزید لوگوں کو کم قیمت میں معیاری انگریزی کتب کے مطالعہ کا موقع ملے گا۔" 
  
اپنے آغاز سے لییکر اب تک یہ میلہ ہر سال کتابوں سے محبت کرنے والے لاکھوں افراد، طالب علموں اور والدین کو اپنی جانب متوجہ کرچکا ہے۔ سال 2009 میں ملائیشیا میں قیام کے بعد بگ بیڈ وولف بک سیل گزشتہ دہائی کے دوران 10 ممالک کے متعدد شہروں میں کتب میلے کامیابی سے منعقد کر چکی ہے جن میں دبئی، جکارتا، منیلا، کیبو، کولمبو، بینکاک، تائی پی، ینگون، مانڈالے، سیؤل اور لاہور شامل ہیں۔ کراچی میں اولین کتب میلے کا انعقاد بگ بیڈ وولف بک سیل کے مشن’ایک وقت میں ایک کتاب سے ذہن کی دنیا کی تبدیلی‘  (Changing the World One Book at a Time) کی عکاسی ہوتی ہے۔ 

بگ بیڈ وولف بک سیل معاشرے کی بہتری کے لئے اپنا حصہ ڈالنے پر یقین رکھتا ہے اور اس حوالے سے اپنے کاروباری سماجی ذمہ داری کے شعبہ ریڈ ریڈر ہڈ پروگرام (Red Readerhood) کے ذریعے فعال ہے۔ ادارہ اپنے اس یقین پر پرعزم ہے کہ معاشرے کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے شخص کو مطالعہ کے ذریعے علم حاصل ہو۔ اس سلسلے میں بگ بیڈ وولف سیل کراچی 2019 نے مقامی فلاحی اداروں کے ساتھ اشتراک قائم کرے گا اور شائقین کتب کی حوصلہ افزائی کی جائے گی کہ وہ نمائش کے دوران خریدی گئی کتابیں ریڈ ریڈرہڈ کارنر میں عطیہ کریں۔ 

بگ بیڈ وولف بک سیل کراچی 2019 کے انتظام میں پاکستان کے سب سے بڑے بڑے تعلیمی نیٹ ورک پنجاب گروپ آف کالجز، کتابی میلہ کے مشن میں موجود مطالعہ کی اہمیت اجاگر کرنے سے ہم آہنگ مقای ادارے کے ساتھ اشتراک جاری رہے گا۔ کراچی کے شہری اس کتب میلے میں چلڈرنز پبلیکیشن کی جانب سے اردو کی مختلف اقسام کی کتابیں بھی خریدسکیں گے۔ 

کتابوں کے شوقین افراد بگ بیڈ وولف بک سیل کراچی 2019 سے متعلق خبروں، تحائف اور دیگر معلومات خصوصی سوشل میڈیا پیجز اور ویب سائٹس سے حاصل کر سکتے ہیں۔



9 جولائی، 2019

ڈبلیو ڈبلیو ایف۔ پاکستان کا ملک میں پلاسٹک کے کچرے سے نمٹنے کیلئے کوکا۔کولا فاؤنڈیشن سے اشتراک

ڈبلیو ڈبلیو ایف۔ پاکستان کا ملک میں پلاسٹک کے کچرے سے نمٹنے کیلئے کوکا۔کولا فاؤنڈیشن سے اشتراک

کراچی، 4جولائی، 2019۔ عالمی ادارہ ڈبلیو ڈبلیو ایف۔ پاکستان نے دی کوکا۔کولا فاؤنڈیشن کے اشتراک سے پہلی بار کچرے کے تاجروں اور کچرا جمع کرنے والوں کے ساتھ کام کرنے کے لئے باقاعدہ رابطہ کرلیا ہے۔ کوکا۔کولا کمپنی کی پیکیجنگ کا پائیدار ویژن 'Pakistan Without Waste" ' ہے جس کے تحت اہم اسٹیک ہولڈرز کو جامع انداز سے ملا کر کام کیا جائے گا۔ 

اس سلسلے میں ڈبلیو ڈبلیو ایف۔پاکستان پلاسٹک (PET) بوتلوں کے استعمال، جمع اور تلف کرنے کے ساتھ ری سائیکل ہونے والی ان بوتلوں کی تعداد کا جائزہ لے رہی ہے جبکہ پلاسٹک آلودگی کے بارے میں عوامی آگہی کی سطح کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔ اس تحقیق کے سلسلے میں فعال اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے رواں ہفتے دو مشاورتی ورکشاپس کراچی اور لاہور میں منعقد ہوئیں جن کا مقصد یہ تھا کہ کچرا چننے والے، کچرے کے ڈیلرز اور ری سائیکلنگ کا کام کرنے والے افراد کے ذریعے اس کام کو آگے بڑھایا جائے اور ری سائیکلنگ کی مہارت میں اضافہ لایا جائے۔ ان ورکشاپس کے انعقاد سے لوگوں اور تعلیمی اداروں میں پلاسٹک آلودگی سے متعلق آگہی بڑھے گی۔ 

کوکا۔کولا پاکستان و افغانستان ریجن کے جنرل منیجر رضوان خان نے کہا، "کوکا۔کولا نے سال 2030 تک اپنی تیار ہونے والی پلاسٹک (PET) کی ہر بوتل کو ری سائیکل کرنے کا پرعزم اور جرات مندانہ اعلان کرکے اس انڈسٹری میں پیش قدمی کی ہے۔ اس وقت اگرچہ اسے پایہ تکمیل تک پہنچانا بظاہر ناممکن سا لگتا ہے لیکن ہم نے پیکیجنگ سے پیدا ہونے والے کچرے کا ادراک کرکے درست سمت میں پہلا قدم اٹھایا ہے اور اشتراک قائم کرکے اس اہم معاشرتی مسئلہ کے مستقل حل کے لئے کام کررہے ہیں۔ یہ ورکشاپس 9 شہروں میں منعقد کی جائیں گی جو کچرے سے متعلق جائزاتی تحقیق کا حصہ ہیں اور اس میں ہماری موجودہ پالیسیوں اور کام کے دائرہ کار میں چور راستوں کی نشاندہی کی جائے گی۔" 

عالمی سطح پر سمندروں میں سالانہ 8 ملین ٹن پلاسٹک شامل ہورہا ہے۔ مزید یہ کہ پاکستان جنوب مشرقی ایشیاء میں بھارت کے بعد پلاسٹک کی دوسری بڑی مارکیٹ ہے اور اس میں سالانہ 15 فیصد کی رفتار سے اضافہ ہورہا ہے۔ ورکشاپ میں ڈبلیو ڈبلیو ایف۔ پاکستان کے ڈائریکٹر کلائمٹ، انرجی اور واٹر ڈاکٹر مسعود ارشد نے کہا، "استعمال کے بعد پیکیجنگ سے پیدا ہونے والے کچرے اور اسکی ری سائیکلنگ پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ اس لئے عوامی شعبے، نجی شعبے اور کچرے کے روایتی و غیر روایتی شعبوں میں کام کرنے والے کاروباری اداروں کے لئے انتہائی ضروری ہے کہ وہ اس اہم مقصد کیلئے اشتراک قائم کرکے مل جل کر کام کریں۔ اس ضمن میں پہلا قدم یہ ہونا چاہئے کہ اس مسئلہ کے دائرہ کار کا جائزہ لیا جائے جس کے لئے ہم پہلے سے ہی تجزیاتی تحقیق کررہے ہیں اور اسے اگست 2019 میں عوام کے سامنے لایا جائے گا۔" 

ڈبلیو ڈبلیو ایف۔ پاکستان کی منیجر انوائرمینٹل اسیسمنٹ / پروجیکٹ لیڈ نزیفہ بٹ نے مہمانوں کا پرتپاک خیرمقدم کیا اور صحت و پلاسٹک سے پاک سمندروں سے متعلق اپنے خصوصی کام پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر کوکا۔کولا کمپنی کی نمائندہ نتاشہ ہارون نے بھی شرکا کو کوکا۔کولا کے World Without Waste'پروگرام سے آگاہ کیا اور بتایا کہ کمپنی عالمی سطح پر ری سائیکلنگ کا کام کررہی ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف۔ پاکستان کی جانب سے ورکشاپ میں شرکاء کے سامنے ہر اسٹیک ہولڈر کے مشاہدات و تجربات اور اسکے کردار کو سامنے لایا گیا۔ کراچی اور لاہور میں منعقدہ ورکشاپس میں ماہرین تعلیم، لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی، سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ، گرین ارتھ ری سائیکلنگ، ٹریش مستی، گل باہو، اولیو  ریڈلے پروجیکٹ، گو گرین ویلفیئر اور ری سائیکلنگ کا کام کرنے والے دیگر اداروں کے افراد موجود تھے۔ 

اس اجلاس کا اختتام اس گفتگو پر ہوا کہ اگلے مرحلے میں کچرے کے ڈیلرز اور کچرا چننے والوں سے رابطے قائم کرکے ان کے تحفظات سے آگہی حاصل کی جائے اور قابل عمل کام سرانجام دیا جائے۔ پینل ڈسکشن کے دوران تمام اسٹیک ہولڈرز نے اشتراک کے نکتہ پر اتفاق کیا کہ اگر وسائل فراہم ہوں، پلاسٹک (PET) بوتلوں کی فراہمی جاری رہے، نقل و حمل کی دستیابی کی یقین دہانی ہو، ان کی ذمہ داریاں متعین ہوں اور مینجمنٹ پلان واضح ہو، کچرا چننے سے متاثر افراد کی دیکھ بھال ہو، اور کچرے میں سے پلاسٹک (PET)بوتلوں کو الگ کرکے اسکی ری سائیکلنگ میں اضافہ سے متعلق رویہ میں تبدیلی لائی جائے۔ مباحثے کے دوران شرکاء کی جانب سے شہریوں اور کچرا چننے والے افراد سمیت تمام شعبوں کو شامل کرکے پلاسٹک میں کمی لانے پر اظہار خیال کیا جاتا رہا تاکہ کچرا چننے والوں کو اس کام میں شامل کیا جائے اور انہیں غربت کے دائرے سے باہر نکالا جائے۔ 


پلاسٹک آلودگی کے سدباب کے لئے مختلف اداروں کے درمیان اشتراک قائم کرکے کام کرنے سے متعلق کوکا۔کولا اور ڈبلیو ڈبلیو ایف۔ پاکستان کی جانب سے منعقدہ مشاورتی ورکشاپ میں شرکاء موجود ہیں۔ 



نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں