22 نومبر، 2017

کوغذی تباہ سڑکیں، عوام زندگی اجیرن ہوگئی

کوغذی تباہ سڑکیں، عوام زندگی اجیرن ہوگئی : ایم فاروق کوغذی


ذرائع مواصلات انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے جہاں سڑکیں ہوں وہ علاقہ ترقی کرتا ہے لیکن یہاں کوغزی میں  یہ اس کے برعکس ہے ۔ ایک تو پہلے ہی سے سڑکیں تنگ اور دوسری طرف گولین گول پاور پراجیکٹ میں کام کرنے والی بھاری ٹرکوں کی آمدورفت کی وجہ سے پکّی سڑکیں بھی ویران ہوگئیں ، جگہ جگہ پر کھڈے اور ٹوٹی پھوٹی سڑک نظر آتی ہے جو کسی بھی وقت حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ محکمہ واپڈا جو کہ پراجیکٹ کے شروع سے ہی عوام کوغزی کے ساتھ نا انصافی کا سلوک کرتا آرہا ہے اور آج بھی اس کے منہ بولتا ثبوت واضح طور پر نظر آرہے ہیں لیکن عوام اور حکومتی نمائندے خاموش دیکھائی دے رہے ہیں ۔ خیال رہے کہ گزشتہ دنوں کوغزی میں محکمہ واپڈا کی جانب سے مین پکی سڑک(جو کہ اپر چترال اور گلگت کو ملاتی ہے)  کے ساتھ ساتھ ٹرانسمیشن لائن کے کھمبے نصب کئے جارہے ہیں جو کہ مستقبل کے کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ٹریفک کے نظام کیلئے رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

لہزا اس پر غور کیا جائے۔

ایم فاروق کوغذی

سعودی عرب کے مکہ ریجن میں شدید بارشیں، 400 افراد کو ریسکیو کیا گیا، 2 جان بحق


جدہ (ٹی او سی : مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب کے مکہ ریجن میں شدید باشیں ہوئیں ہیں۔ بارشوں سے راستے سیلابی منظر پیش کر رہے تھے۔ سعودی سول ڈیفنس کے مطابق 400 افراد کو ریسکیو کیا گیا ہے۔ سول ڈیفنس کے مطابق مخلتف جگہوں سے 250 کرنٹ لگنے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ سول ڈیفنس کے ترجمان کرنل سعید کے مطابق کرنٹ لگنے والوں میں سے 2 افراد جان بحق ہوئے ہیں اور 3 حالت نازک ہے۔

ڈیزاسٹر منجمنٹ سینٹر نے بارش کے جاری رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ ان کے مطابق بارشیں آل لیتھ تک پھیل سکتی ہیں۔ لوگوں کو مختاط رہنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔ مکہ کے گورنر پرنس خالد الفیصل حالات کی مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔ میٹرولوجی ڈپارٹمنٹ اور انوائرمنٹ پروٹیکشن کے مطابق بارشوں کا سلسلہ ریجن میں جاری رہے گا اور جدہ، دہبان، خولیس، مکہ اور طائف تک پھیل جائے گی۔

ڈیرہ اسماعیل خان دہشت گردوں کے خلاف سرچ آپریشن، پاک فوج کا میجر اسحاق شہید



ڈیرہ اسماعیل خان (ٹائمز آف چترال نیوز 22 نومبر 2017)  سیکیوریٹی فورسز نے ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کلاچی میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر سرچ آپریشن کیا۔ دہشت گردوں سے فائرنگ کے تبادلے میں میجر اسحاق جام شہادت نوش کیا۔ 28 سالہ میجر اسحاق کا تعلق خوشاب سے تھا۔ پسامندگان میں بیوہ اور ایک سال کا بیٹا ہے۔ شہید کی نماز جنازہ ڈیرہ اسماعیل خان میں ادا کی گئی، چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر باجوہ اور دیگر افسروں نے شرکت کی۔




دل تو ہے جماعتی : تحریر کریم اللہ

انجینئر فضل ربی جان صاحب  کاجماعت اسلامی کو خیر باد کہے اور پیپلز پارٹی میں شمولیت کے بعد پہلا انٹرویو پبلش ہوا۔ انٹرویو کا زیادہ حصہ جماعت اسلامی کی تعریف پر محیط ہے۔جس میں وہ دعوی کرتے ہیں کہ جماعت اسلامی کے نظرے سے بے حد متاثر ہے جماعت اسلامی انسانی فلاح وبہبود کے لئے کام کررہی ہے ۔ اس انٹرویو کو پڑھنے کے بعد یہ احساس ہوا کہ انجینئر صاحب کو جماعت سے رخصت ہوئے کئی ماہ گزر گئے لیکن ان کا دل اب بھی جماعتی ہے ۔ یہ بھی احساس ہوا کہ انجینئر صاحب جماعتی لٹریچر کے علاوہ کچھ نہیں پڑھا  ہو ورنہ جماعت اسلامی کی اس قوم پر احسانات کی ایک لمبی فہرست ہے  جس کے تذکرے کی ضرورت نہیں ۔

انجینئر صاحب کیوں جماعت اسلامی کو خیر باد کہا اپنے انٹرویو میں اس کی وضاحت سے گریزان ہے ، البتہ ضلع ناظم حاجی مغفرت شاہ کو ٹکٹ دینے پر دھبے الفاظ میں شکایت کی۔ انجینئر صاحب اگر معاملہ ٹکٹوں کا نہیں تھا اور آپ جماعت اسلامی میں نظریات کی وجہ سے شامل تھے تو پھر جماعت کو خیر باد کہنے کی ضرورت کیا تھی؟ کیا یہ اچھا نہ ہوتا کہ جماعت اسلامی جیسے نظریاتی جماعت (جس کی آپ آج بھی مدح سرائی کرتے نہیں تھکتے)  کے بہتر مفاد میں قربانی دیتے اور جماعت کے اندر ہی رہتے ہوئے مسائل کی نشاندھی کرتے یا اگلے پانچ سال کے لئے انتظار ہی کرتے ۔ اگر نظریاتی سیاست کی بات کی جائے تو جماعت اسلامی اور پاکستان پیپلز پارٹی نظریاتی طورپر ایکدوسرے کے بالکل ضد ہے پھر ایک  سخت گیر مذہبی جماعت کو خیر باد کہہ کر خالص سیکولر جماعت میں شمولیت چہ معنی دارد؟ اگر پیپلز پارٹی واقعی ملک وقوم کی خدمت میں مصروف ہے تو پھریہ احساس ساڑھے دو دھائی بعد کیوں ہوااس قت جبکہ پیپلز پارٹی اسٹبلشمنٹ مخالف اور عوام دوست سیاست (محترمہ بے نظیر بھٹو کے دور میں ) کررہی تھی تو اس وقت اس جماعت کی نظریات یا خدمات کیوں نظر نہ آئی؟ 

اس سے قبل خاکسار نے حاجی غلام محمد صاحب کا انٹرویو کیا تھا ان کا موقف تھا کہ میں پیپلز پارٹی میں ٹکٹ کے لئے نہیں بلکہ پارٹی کے نظریات اور ملک کے لئے ان کی خدمات سے متاثر ہو کر شامل ہوا ہوں( یہی بات انجینئر صاحب بھی فرما رہے ہیں )  بندہ پوچھے جناب کیا پیپلز پارٹی کے نظریات اور خدمات کا آج پتہ چلا جبکہ حاجی صاحب زندگی بھر پیپلز پارٹی کو برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رکھی تھیں۔ اور اب انجینئر صاحب کا انٹرویو پڑھنے کے بعد  سیاسیات کے اس طالب علم کو شدید کنفیوژن ہوئی یہ کہ اگر جماعت اسلامی اتنی ہی اچھی تھی کوئی اختلافات نہیں تھے اور ٹکٹ کی تلاش نہیں تھیں تو پھر پارٹی چھوڑا ہی کیوں ؟ خاکسار کی رائے یوں ہے کہ سیاسی جماعتیں تبدیل کرنا کوئی گناہ نہیں لیکن جس بنیاد پر وفاداریاں تبدیل کی جاتی ہے یہ سب سے اہم سوال ہے ۔ انجینئر صاحب سے گزارش یوں ہے کہ اب چونکہ سیاسی وفاداری تبدیل ہی کی ہے تو تو پھر کیوں ناساری کشتیاں جلا کر نئی زندگی کا آغاز کیا جائے وگرنہ دو کشتیوں کی سواری کا منزل مقصود تک پہنچنا ممکن نہیں۔


شریفاں بی بی اور خیبرپختونخوا پولیس : کالم ظہور احمد دھریجہ

شریفاں بی بی اور خیبرپختونخوا پولیس : کالم  ظہور احمد دھریجہ ۔ سرائیکی وسیب

اپنی بات شروع کرنے سے پہلے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ٹانک سے اپنی جماعت کے ممبر قومی اسمبلی داور کنڈی کو اپنی پارٹی سے نکال دیا ہے ان کا قصور یہ ہے کہ انہوں نے امین اللہ گنڈاپور کے خلاف بات کی کہ وہ سانحہ درابن پر اثر انداز ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔ داور کنڈی کا ایک قصور یہ بھی ہے کہ وہ سرائیکی صوبے اور سرائیکی وسیب کی محرومیوں کے خاتمے کی بات کرتے ہیں۔

ڈی آئی خان کی گلالائی، مجھے نہیں معلوم کہ یہ میرے کالم کا عنوان بنتا ہے یا نہیں مگر میںیہ بات اچھی طرح جانتا ہوں کہ ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل درابن میں 16 سال کی دو شیزہ شریفاں بی بی کے ساتھ جوواقعہ پیش آ یا اگر یہی واقعہ، اﷲ معاف کرے، کسی پشتون لڑکی کے ساتھ پیش آیا ہوتا تو متعلقہ تھانے کے تھانیدار سے لےکر آئی جی تک معطل ہو چکے ہوتے اور عمران خان بھی تمام کام چھوڑ کر جائے حادثہ پر پہنچے ہوتے، کتنی شرمناک بات ہے کہ اتنی قیامت گذر گئی مگر عمران خان کو ابھی تک اظہار افسوس کا بھی وقت نہیں ملا، تبدیلی جو ہم نے صوبہ سرحد میں دیکھی وہ یہ کہ پولیس کی ملی بھگت اور ساز باز سے ایک بے گناہ بچی کو برہنہ کر کے ایک گھنٹہ گلیوں میں گھمایا گیا۔ اگر یہی تبدیلی ہے تو ایسی تبدیلی پر ڈوب مرنا چاہئے۔ عمران خان مسلسل دعویٰ کرتے ہےں کہ خیبر پختونخوا کی پولیس کو ماڈل پولیس بنا دیا ہے، سوال یہ ہے کہ کیا یہی ماڈل پولیس ہے ؟ جو کرائم ڈیزائن کر کے ایک معصوم دوشیزہ کو سر عام بے لباس کرا دے اور اسے ایک گھنٹہ دن دیہاڑے سر عام گلیوں میں ننگا گھمائے۔ آپ واقعے کی پوری تفصیل دیکھئے پورے واقعے کا محور مرکز تھانیدار اور پولیس نظر آئے گی۔

واقعات کے مطابق تحصیل د را بن کے تھا نہ چوڈواں کی حدود مےں واقع گر ہ مٹ کی کو کب برا دری نے سا جد سیا ل نا می با ئیس سالہ نو جوا ن پر اپنے خا ند ان کی کسی لڑ کی سے خفیہ محبت کا الزام لگا یا،جس کے بعد دونوں خا ند انو ں مےں کشید گی پیدا ہو گئی،اس تنا زعہ کو حل کر ا نے کے لئے تحصیل نا ظم ہما یو ں خا ن نے مدا خلت کر کے فریقین کو ثالثی پر راضی کر لیا،دونو ں کا مو قف سننے کے بعد پنچا ئت نے کو مب بر ادری کی بد نا می کے ازالہ کی خا طر سا جد سیال پر دو لا کھ روپے جر ما نہ عا ئدکیا، ادا ئیگی کے بعد فریقین مےں صلح ہو گئی۔پھر کیا ہوا؟ اس واقعے کی تفصیل پڑ ھتے ہوئے کلیجہ منہ کوآتا ہے، کومب خا ند ان کے دس مسلح افرا د نے جمعہ کی صبح ساجد سیال کی سولہ سا لہ بہن شریفا ں بی بی کو اس وقت پکڑ کے بے لبا س کر دیا جب وہ بار شی جوہڑ سے پانی بھر کے گھر واپس لو ٹ رہی تھی،کلا شنکوفوں سے مسلح افرا د نے معصو م شر یفا ں بی بی کو بر ہنہ کرنے کے بعد گا ﺅ ں مےں گھما یا، چیختی چلا تی معصوم بچی پنا ہ کی خا طر بھا گ کر جب بھی کسی گھر مےں دا خل ہو تی، مسلح حملہ آور زبر دستی اسے با ہر نکلو الیتے،خو ف و دہشت سے لر زتی معصو م بچی کی آہ و فغا ں سے زمین و آسما ن تو لر زتے رہے لیکن ظا لم حملہ آوروں کو رحم نہ آیا مد د کیلئے آ گے بڑ ھنے والو ں پر بھی کلاشنکو فےں تا ن لی گئےں،عینی شا ہدین کے مطا بق کم و بیش ایک گھنٹے تک گاﺅں کی گلیو ں مےں کلا شنکو فو ںکی تڑتڑا ہٹ مےں ایک معصوم بچی کے سا تھ بے حیا ئی اور بے غیر تی کا کھیل کھیلا گیا ظلم کی دا ستا ن یہی پر ختم نہیں ہو ئی آگے سنئے۔

معصو م بچی کو بے لبا س کر نے والے ملزما ن نے مقامی پو لیس سے مبینہ ساز با ز کر کے واردا ت سے قبل تھا نہ مےں شر یفا ں بی بی کے اکلو تے بھائی سا جد سیا ل کے خلاف اپنی خا تو ن( متو بی بی ) سے چھیڑ خا نی کی جھو ٹی ر پو رٹ در ج کر انے کے فو ری بعد مو با ئل فو ن پر گھا ت مےں بیٹھے اپنے مسلح افرا د کو کار روا ئی کا اشا رہ دے کر ستم گری کا با زار گر م کر ایا،جس کے بعد نہا یت بیبا کی کے ساتھ ظالموں نے بے گنا ہ بچی کو بے لبا س کر کے اس کی ویڈیو بنا کر اپنی آتش انتقا م کو ٹھنڈ ا کیا،ستم ظر یفی کی انتہا ہ دیکھئے کہ مظلو مہ کے ورثا جب متا ثرہ لڑ کی کو سا تھ لے کر مقد مہ درج کر ا نے تھا نہ پہنچے تو ایس ایچ او نے ستم رسیدہ لڑ کی کی داد رسی کی بجا ئے پہلے شر یفا ں بی بی کے بھا ئی کے خلاف جھو ٹی ایف آر نمبر 209در ج کی،بعد مےں شریفا ں کی اصل رپو رٹ لکھنے کی بجا ئے ایف آئی آر نمبر 210مےں اپنی طر ف سے من گھڑ ت کہا نی لکھ کر ملزمان کو بچا نے کی کو شش کر کے عدل و انصا ف اور احترام انسا نیت کو مو ت کے گھا ٹ اتا ر دیا اور صا ف بتا دیا کے وہ بھی شر یکِ جر م ہے اور سب کچھ اس کی آشیر با د سے ہو ا۔

ظلم تو یہ ہے کہ اتنے بڑے واقعے پر صوبائی حکومت کے ساتھ ساتھ وفاقی حکومت بھی خاموش ہے۔ اےسا لگتا ہے لوگ ابھی نواب پور ملتان مختاراں مائی مظفر گڑھ اور حال ہی میں ملتان کے تھانہ مظفر آباد میں دو شیزہ کے ساتھ ہونیوالی بربریت کو نہ بھولے تھے کہ ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل درابن میں نیا واقعہ پیش آ گیا۔ اگر پہلے واقعات کے ملزمان کو قرار واقعی سز ا مل جاتی تو اس طرح کے واقعات رونما نہ ہوتے، روز اول سے لےکر روز آخر اور قیامت قائم ہونے کے بعد بھی قانون یہی ہے کہ جس نے جرم کیا سزا صرف اسے ملے گی۔ بےٹے کی سزا باپ کو اور باپ کی بےٹے کو نہیں ملے گی اسی طرح بھائی کے جرم کی سزا بہن کو دےنے کا دنیا میں کہیں قانون نہیں ہے لیکن یہ کہاں کا اصول یا انصاف ہے کہ بھائی، خواہ وہ کتنا ہی مجرم کیوں نہ ہو، اس کی سزا بہن کو ملے، اےسے عمل کو جسے بے شرم اور بے حیا قسم کے لوگ غیرت کا نام دےتے ہےں،حالانکہ یہ پر لے درجے کی بے غیرتی ہے، عورتوں کے ساتھ یہ روےے اس امتیازی سلوک کے غماز بھی ہےں جسے ضیا الحق دور سے لیکر آج تک طالبائزیشن کی شکل پروان چڑھایا گیا، عورت سے امتیازی سلوک کیوں؟ خدا کے بندو کچھ تو خیال کرواگر ہم اپنے مذہب کا مطالعہ کریں تو عورت پیغمبر نہیں مگرا س کی ماں ضرور ہے۔

مجھے حیرانی ہے کہ اس مسئلے پر علماءخاموش کیوں ہےں؟ مولانا فضل الرحمان سمیت جن مولویوں کو ڈیرہ اسماعیل خان کے سرائیکیوں نے ووٹوں کے ساتھ وظےفے بھی دےے، وہ بھی خاموش ہےں۔ جماعت اسلامی کے ارکان صاحبزادہ طارق، صاحبزادہ یعقوب شیر اکبر اور عائشہ سید نے نہایت تاخیر سے قومی اسمبلی میں محض مذمتی قرارداد جمع کرائی، سوال یہ ہے، کیا اتنا کافی ہے ؟ جماعت اسلامی سرائیکی وسیب اور سرائیکی قوم کو تقسیم کرنے کےلئے بہاولپور صوبے کے نام پر ریلیاں نکالتی ہے کیا اس پر لازم نہ تھا کہ وہ ایک بچی کو بے لباس کرنے والوں کے خلاف سڑکوں پر آتی۔ سرائیکستان عوامی اتحاد کے احتجاجی جلسے میں معصوم بچی کا نام لیا تو آواز آئی کہ اسے بے لباس کرنے والے بھی سرائیکی تھے میں نے جواب دیا کہ جس طرح چور ڈاکو قاتل اور کنجر کی کوئی ذات نہیں ہوتی اسی طرح جو لوگ اس طرح کے عمل کرتے ہےں اےسے سفاک لوگوں کی بھی کوئی ذات نہیں، قانون سازی کر کے اےسے بے شرم لوگوں کو تختہ دار پر چڑھا دینا چاہےے،جو مرد کے جرم کی سزا مظلوم دو شیزہ کو دےتے ہےں۔

عمران خان نے لاہور میں اپنے خطاب کے دوران کہا تھا کہ پولیس کے ذہنی روےے معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہےں ہم پولیس کی مادر پدر آزادی کو ختم کریں گے اور جو ابدہی کا قانون سامنے لائیں گے۔ آج سوال یہ ہے کہ کہاں ہے وہ قانون ؟ سرائیکی میں کہتے غصہ اور قانون طاقتور پر آتا نہیں اورکمزور سے اترتا نہیں۔ پولیس تشدد کا شکار پنجاب اور خیبر پختونخوا میں سرائیکی ہوتے آرہے ہےں کہ وہ محکوم اور کمزور ہےں۔ ایم ایم اے اور اے ین پی کے بعد خیبر پختونخواہ میں سرائیکیوں کو امید ہو چلی تھی کہ انہیں انصاف ملے گا مگر نہ صرف یہ کہ انصاف یاریلیف نہیں ملا بلکہ ظلم بڑھ گیاہے، جس طرح پنجاب میں اپر پنجاب کی بیوروکریسی راج کررہی ہے اس سے بڑھ کر پشتون بیوروکریسی ڈی آئی خان ڈویژن میں سرائیکی وسیب پر ظلم بر سار ہی ہے، یہی وجہ ہے کہ اتنے بڑے واقعے کے بعد بھی خیبر پختونخواہ کے انسپکٹر جنرل پولیس صلاح الدین محمود پر جوں تک نہیں رینگی اور نہ اصل ملزم سجاول گرفتار ہوا۔

(کالم نگار سرائیکی دانشور اور زیادہ تر سرائیکیوں کے مسائل پر لکھتے ہیں)

بشکریہ خبریں :  اشاعت 22 نومبر 2017


جماعت اسلامی کی سیاسی ناکامی : کالم سلیم صافی

جماعت اسلامی کی سیاسی ناکامی : کالم سلیم صافی

ملکی سیاست کرپشن کے ایشو کے گرد گھوم رہی ہے اور اس میں دو رائے نہیں ہوسکتی کہ جماعت اسلامی کی قیادت پر کرپشن کا کوئی داغ نہیں۔ نہ نوازشریف اور زرداری کی طرح جماعت اسلامی کی قیادت کی بیرون ملک جائیدادیں ہیں اور نہ عمران خان طرح وہ سینکڑوں کنال رقبے پر محیط گھر میں شاہانہ زندگی گزار رہی ہے۔ گزشتہ پانچ سالوں میں سراج الحق نے نتھیاگلی کے وزیراعلیٰ ہائوس میں ایک دن بھی نہیں گزارا لیکن عمران خان صاحب نے اسے جتنا استعمال کیا، اتنا شاید گزشتہ بیس سالوں میں بھی استعمال نہیں ہوا۔ مسلم لیگ(ن)اور پیپلز پارٹی کی طرح جماعت اسلامی خاندانی جماعت ہے اورنہ پی ٹی آئی کی طرح شخصی۔ اس کے اندر جمہوریت کا یہ عالم ہے کہ کبھی کراچی کے اردو بولنے والے درویش سید منور حسن امیر منتخب ہوجاتے ہیں تو کبھی افغان سرحد پر مسکینی گائوں کے دیہات میں ایک مولوی کے گھر جنم لینے والے پختون سراج الحق قیادت سنبھال لیتے ہیں۔سیاسی قائدین کی صف میں اگر کوئی رہنما سب سے زیادہ محنت کررہے ہیںتو وہ بلاشبہ سراج الحق ہی ہیں۔ صبح کراچی میں، دوپہر لاہور میں تو شام کو کہیں ملاکنڈ میں نظرآتے ہیں۔ تاہم ان سب کچھ کے باوجود جماعت اسلامی کی عوامی مقبولیت میں کمی آرہی ہے بلکہ وہ دن بدن قومی سیاست سے غیرمتعلق ہوتی جارہی ہے۔ وہ کراچی جہاں کسی زمانے میں جماعت اسلامی کا طوطی بولتاتھااور مئیر تک جماعت اسلامی سے منتخب ہوا کرتا تھا، وہاں آج انتخابی میدان میں جماعت اسلامی مقابلے کے بھی قابل نہیں رہی۔ لاہور جو کسی زمانے میں جماعت اسلامی کا گڑھ سمجھا جاتا تھا، سے جماعت اسلامی کے امیدوار منتخب نہ بھی ہوتے تو دوسرے نمبر پر ضرور آتے لیکن وہاں بدحالی کا یہ عالم ہے کہ این اے 120کے ضمنی انتخاب میں جماعت کا امیدوار ایک ہزار ووٹ بھی حاصل نہ کرسکا۔بلوچستان میں توجماعت اسلامی پہلے عوامی سطح پرمقبول جماعت تھی اور نہ اب بن سکتی ہے۔ جہاں تک خیبر پختونخوا کا تعلق ہے تو وہاں پر بھی عملاً جماعت اسلامی کی عوامی مقبولیت صرف ملاکنڈ ڈویژن تک محدود ہوکر رہ گئی ہے اور اب تو یہ لطیفہ نما فقرہ زبان زدعام ہوگیا ہے کہ جماعت اسلامی سیاسی جماعتوں کی نان کسٹم پیڈ گاڑی ہے جو صرف ملاکنڈ ڈویژن میں چل سکتی ہے۔چنانچہ جماعت اسلامی کی قیادت خواب تو کچھ اور دیکھ اور دکھابھی رہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر یہ صور تحال برقرار رہی تو اگلے انتخابات میںعوامی میدان میں جماعت اسلامی مزید سکڑ کر رہ جائے گی۔ 

جماعت اسلامی کا المیہ یہ ہے کہ وہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کی طرح خالص سیاسی جماعت بن سکی اور نہ اس طرح کی دعوتی جماعت رہ سکی جس طرح کہ مولانا مودودی نے ابتدا میں اسے بنایا تھا۔ یہ جماعت اب بھی سیاست اور دعوت کو ساتھ ساتھ چلانے کی کوشش کررہی ہے جو بیک وقت دو کشتیوں پر سواری ہے۔ دعوت بغیر کسی صلے کے مخاطب کی خیرخواہی کے جذبے کا تقاضا کرتی ہے جبکہ سیاست حریفانہ کشمکش کا نام ہے۔ دعوت مخاطب سے کہتی ہے کہ تم اپنی جگہ رہو لیکن ٹھیک ہوجائو جبکہ سیاست مخاطب کو ہٹا کر اس کی جگہ خود کو بٹھانے کی کوشش کا عمل ہے۔ قاضی حسین احمد مرحوم کے بعد اب سراج الحق صاحب بھی بھرپور کوشش کررہے ہیں کہ جماعت اسلامی کو زیادہ سے زیادہ عوامی بنالیں لیکن جب تک دعوت اور سیاست کی اس دوئی کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاتا، تب تک جماعت اسلامی نہ تو دعوتی بن سکتی ہے اورنہ مکمل سیاسی۔ 

دوسرا بڑا المیہ یہ ہے کہ جماعت اسلامی کے اندر تخلیقی اور تنقیدی سوچ کو پروان نہیں چڑھایا جارہا۔ پہلے سے موجود لٹریچر اور سخت تنظیمی ڈھانچے کے جہاں بہت سارے فوائد ہیں، وہاں اس کا نقصان یہ ہے کہ تقلید کی ایک غیرمحسوس روش پروان چڑھ گئی ہے۔ کئی حوالوں سے سالوں سے لگے لپٹے راستے پر جماعت گامزن ہے جبکہ روزمرہ کے معاملات میں قیادت جو فیصلہ کرلیتی ہے، اسے بلاسوچے سمجھے من وعن قبول کرلیا جاتا ہے۔ اسی طرح گزشتہ عشرے کے دوران میڈیا اور ٹیکنالوجی کی غیرمعمولی ترقی کی وجہ سے پاکستانی معاشرہ جس تیزی کے ساتھ تبدیل ہوگیا، جماعت اسلامی اسی حساب سے اپنے آپ کو تبدیل نہ کرسکی۔ 

تیسرا بڑا المیہ یہ ہے کہ جماعت اسلامی نے اپنے آپ کو دیگر مذہبی اور مسلکی جماعتوں کے ساتھ نتھی کرلیا ہے جس کی وجہ سے عام لوگوں کی نظروںمیں جماعت اسلامی بھی ایک روایتی مذہبی جماعت بنتی جارہی ہے۔ جماعت اسلامی پہلے دفاع افغانستان کونسل کا حصہ رہی اور جس کی قیادت مولانا سمیع الحق کے پاس تھی۔ پھر ایم ایم اے کا حصہ بنی اور ظاہر ہے کہ وہاں بھی ڈرائیونگ سیٹ پر مولانا فضل الرحمان بیٹھے تھے۔ اسی طرح جماعت اسلامی دفاع پاکستان کونسل کا بھی حصہ ہے جو دراصل اسٹیبلشمنٹ کے مذہبی مہروں کا فورم ہے۔ دوسری طرح وہ ملی یکجہتی کونسل کا بھی حصہ ہے جس میں فرقہ پرست تنظیمیں براجماں ہیں۔ یوں جماعت اسلامی کا اپنا تشخص برقرار نہیں رہا اور نئی نسل اس کو بھی روایتی مذہبی اور فرقہ پرست جماعتوں کی طرح ایک جماعت سمجھنے لگی جس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ میڈیا میں بعض اوقات اچھے بھلے صحافی بھی سراج الحق کو مولانا کہہ کر پکارلیتے ہیں۔ 

قاضی حسین احمد مرحوم کے دور میں جماعت اسلامی کی سوچ کو جس طرح بین الاقوامی بنا دیا گیا، اس کی وجہ سے بھی جماعت اسلامی کو شدید نقصان پہنچا۔ جماعت اسلامی نے افغانستان اور کشمیر کو اپنی سیاست کا محور بنالیا تھا اور وہاں بری طرح مار پڑگئی لیکن جماعت اسلامی اب بھی ان ایشوز سے جان نہیں چھڑاسکی۔ آپ جماعت اسلامی کے احتجاجی جلوسوں کا ریکارڈ نکالیں تو پتہ چلے گا کہ پچاس فی صد سے زیادہ بنگلہ دیش، ترکی، امریکہ اور میانمار وغیرہ کے ایشوز پر نکالے گئے لیکن پاکستان کے داخلی اور عوام سے متعلقہ ایشوز پر بہت کم سرگرمیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔اس حد سے زیادہ بین الاقوامیت نے بھی جماعت اسلامی کے وابستگان کو عوام سے بڑی حد تک لاتعلق کردیا ہے۔

عوامل اور بھی بہت سارے ہیں لیکن ماضی قریب میں جماعت اسلامی کو سب سے زیادہ نقصان تحریک انصاف نے پہنچایا ہے۔ یہ جماعت اپنی ساخت میں اور مقصد کے لحا ظ سے جماعت اسلامی سے کوسوں دور ہے لیکن چونکہ اس کی نوک پلک امپائروں نے درست کی، اس لئے اس کی قیادت کو زیادہ تر جماعت اسلامی کے نعرے تھمادئیے گئے۔ اس نے جماعت اسلامی کے کرپشن کے خلاف نعرےکو بھی اپنا لیا۔ چونکہ عمران خان ایک سیلیبرٹی تھے اور ان کے ساتھ وابستگی کی صورت میں انہیں جماعت اسلامی کی طرح پابندیوں کا بھی سامنا نہیں کرنا پڑ رہا تھا (جماعت اسلامی کی صفوں میں کئی سال تک اس بات پر بحث ہوتی رہی کہ تصویر حلال ہے یا حرام ہے جبکہ موسیقی کے بارے میں اب بھی یہ بحث جاری ہے جبکہ تحریک انصاف میں ہر طرح کے حدودو قیود سے آزاد رہ کر بھی انسان انقلاب کا نعرہ لگاسکتا ہے)اس لئے اس نے میدان میں آتے ہی نوجوان نسل میں انقلابی سوچ رکھنے والے جماعت اسلامی کے ووٹروں اور سپورٹروں کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ اس وجہ سے جماعت اسلامی کے اندر خالص سیاسی ذہن رکھنے والے رہنمائوں کی ایک بڑی تعداد بھی پی ٹی آئی میں چلی گئی۔ تاہم جماعت اسلامی کی قیادت نے اپنی عوامی سیاست کے تابوت میں آخری کیل خیبرپختونخوا میں چند وزارتوں کی خاطر پی ٹی آئی سے اتحاد کرکے خود ہی ٹھونک دی۔ اس اتحاد کی خاطر جماعت اسلامی کی قیادت نے جن مصلحتوں سے کام لیا، اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ وہ احتساب کا نعرہ لگاتی رہی لیکن خیبرپختونخوا میں احتساب کے ساتھ بدترین مذاق پر خاموش رہی۔ آفتاب شیرپائو کے نکالے جانے، پھر منتیں کرکے منانے اور پھر نکالے جانے پر خاموشی کے لئے کسی جماعت کے لئے بڑا بے ضمیر ہونا پڑتا ہے جس کی توقع جماعت اسلامی سے نہیں کی جاسکتی تھی۔وہ قانون کی بالادستی کے نعرے لگاتی رہی لیکن اس اتحاد کی خاطر سول نافرمانی کے اعلان کی مذمت بھی نہ کرسکی۔ بینک آف خیبر کے معاملے نے تو جماعت اسلامی کو عوام کی نظروں میں رسوا کرکے رکھ دیا۔ دوسری طرف قومی سطح پر سیاست کا مہار یا تو نوازشریف کے ہاتھ آگیا ہے یا پھر عمران خان کے ہاتھ میں۔ جماعت اسلامی کو تحریک انصاف کا دم چھلا تصور کیا جانے لگا۔ اس کی تازہ مثال پانامہ کیس ہے۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ سپریم کورٹ میں پہلے سراج الحق گئے اور جب لاک ڈائون ناکام ہوا تو امپائروں نے خان صاحب کو سراج الحق کی اقتدا میں سپریم کورٹ بھجوادیا لیکن کریڈٹ سارا عمران خان لے گیا۔ دوسری طرف خیبرپختونخوا میں بھی اگر کریڈٹ ہوتو وہ پی ٹی آئی لے جارہی ہے جبکہ ڈس کریڈٹ وہ پی ٹی آئی کے ساتھ شیئر کررہی ہے۔ مثلاً بلدیاتی اداروں کے قانون کا کریڈٹ ملکی سطح پر تحریک انصاف نے لیا حالانکہ یہ وزارت جماعت اسلامی کے پاس ہے۔ اسی طرح پشاور کی سڑکوںکا کسی حد تک حلیہ درست کرنے کا کریڈٹ بھی جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے بلدیات کے وزیر عنایت اللہ کو جاتا ہے لیکن اس کا کریڈٹ ملک بھر میں الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے تحریک انصاف لے گئی۔دوسری طرف اگر احتساب کا مذاق اڑایا گیا یا پھر اینٹی کرپشن کا ڈائریکٹر ایک من پسند پولیس افسر کو لگادیا گیا ہے تو اس میں جماعت اسلامی کا براہ راست کوئی کردار نہیں لیکن بدنامی جماعت اسلامی کے حصے میں بھی آرہی ہے کیونکہ وہ ان معاملات پر مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔

جماعت اسلامی کے متحرک امیر سراج الحق اگر جماعت اسلامی کی طرف عوام کو متوجہ کرنا چاہتے ہیں تووہ یہ منزل صرف ذاتی طور پربے پناہ محنت کرکے ہر گز حاصل نہیں کر سکتے بلکہ اس کے لئے انہیں مذکورہ عوامل کی طرف توجہ دے کر انقلابی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ نہیں تو اگلے انتخابات میں حشر حلقہ این اے 120سے بدتر ہو گا اور اگر ایم ایم اے بنا کر دوبارہ اپنے آپ کو مولانا فضل الرحمان کی جماعت کا دم چھلا بنایا گیا تو رہی سہی سیاست بھی ختم ہو جائے گی۔ جماعت اسلامی کی موجودہ سیاست میں بدنامی بھی ہے اور ناکامی بھی مقدر ہے۔ 

آئین نو سے ڈرنا، طرز کہن پہ اڑنا

منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں

کرٹیسی جنگ: اکتوبر 3،  2017

اقتدار اہلیہ کو منتقلی میں ناکامی 37 سالہ حکمرانی کا خاتمہ ، صدر مستعفی ہوگئے

ہرارے (ٹی او سی نیوز 22 نومبر 2017) موگابے کی 37 سالہ حکمرانی کا خاتمہ ہوگیا۔ عوام خوشیاں منانے سڑکوں پر نکل آئے۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے عوام کا ڈانس کرکے اظہار مسرت۔

زمبابوے کی پارلیمنٹ کے سپیکر نے موگابے کا بھیجا ہوا خط پڑھ کر پارلیمنٹ میں سنا دیا اوراعلان کیا کہ صدر رابرٹ موگابے نے اپنے عہدے سے استعفیی دے دیا ہے اور یہ وہ اپنی خوشی سے کیا ہے اور اب ان کے مواخذے کے حوالے سے جاری بحث کا خاتمہ ہو گیا ہے۔

سپیکر جیکب مودینا کے مطابق صدر موگابے کے مواخذے کے حوالے سے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس مقامی ہوٹل میں ہوا اور اس دوران انہوں نے اپنا تحریری استعفیٰ پارلیمنٹ کو بھجوا دیا ہے، صدر موگابے کی عمر 93 سال ہے اور وہ 1980سے اقتدار پر قابض ہیں ۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق گذشتہ ہفتے زمبابوے کی حکومت پر فوجی قبضے کے بعد پیدا ہونے والی صورت کو کم کرنے کے لئے صدر موگابے نے اپنے استعفے کا اعلان کردیا ہے۔ 

فوج کی جانب سے زبردستی ماگابے اقتدار سے بے دخلی نے ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کردیا تھا، موگابے اپنے پیش رو کے طور پر اقتدار اپنی اہلیہ کو سپرد کرنا چاہتے تھے جسے فوج نے ہونے نہ دیا اور موگابے کا ہاؤس ایریسٹ کرکے ان کے اقتدار کا خاتمہ کردیا۔

ڈیجیٹل میڈیا کا عروج - برانڈز کو نئے رابطوں اور مارکیٹنگ کے شعبوں میں درپیش چیلنجز

لاہو(نیوز ڈیسک)  ٹیٹرا پیک انڈیکس 2017 نے آن لائن اور سوشل میڈیا کے پہلے سے زیادہ بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے تناظر میں صارفین سے متعلق دلچسپ معلومات کے علاوہ رابطوں اور مارکیٹنگ کو درپیش نئے چیلنجز کو اجاگر کیا ہے۔ یہ تحقیق پاکستان میں بڑھتے ہوئے ریٹیل شعبے میں مارکیٹ رجحانات کی پیشگوئی کے لئے انتہائی معاون ہوسکتی ہے۔ 


یہ انڈیکس ایک سالانہ رپورٹ ہے جو انڈسٹری میں دلچسپی رکھنے والوں کو جدید ترین حقائق کے ساتھ عالمی سطح پر ڈیری اور جوس کی صنعتوں کے رجحانات سے متعلق معلومات فراہم کرتی ہے۔ یہ معلومات ٹیٹرا پیک اور بیرونی ذرائع سے حاصل کی جاتی ہے اور ٹیٹرا پیک کے مارکیٹ ماہرین کی جانب سے ان معلومات کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ 

رواں سال اس تحقیق کے اہم حقائق درج ذیل ہیں۔ 

ڈیجیٹل میڈیا اپنے عروج پر ہیں۔ آن لائن دنیا میں جہاں ہر شخص کو اظہار کی آزادی ہے، برانڈز اپنے بارے میں خود زیادہ اظہار نہیں کرسکتے۔ انہیں فعالیت کے ساتھ صارفین کے نکتہ نظر سے مواد کو مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ بلاگرز کے ساتھ شراکت داری اور سوپر لیڈرز کی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے اپنا پیغام پھیلانے پر توجہ دینا چاہیے۔ 

آن لائن دنیا میں موبائل کا استعمال بالخصوص ترقی پذیر ممالک میں بڑھتا جارہا ہے جس کے باعث اب اکثر ڈیسک ٹاپ کا استعمال نظر نہیں آتا۔ چین جدید رجحانات کے مطالعے میں قابل ذکر طور پر آگے ہے۔ یہ موبائل کے شعبے میں ترقی کا اظہار ہے، تقریبا نصف ای کامرس موبائل کے ذریعے ہوتی ہے اور دنیا بھر میں موبائل کے استعمال کے ساتھ کیش لیس ادائیگی بڑھ رہی ہے۔ برانڈز کو ڈیجیٹل میڈیا اور ای کامرس کے شعبے میں زیادہ ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔ درحقیقت، امریکہ میں ایسے لوگ ہیں جو ہر کام فورا کرنے کے خواہاں ہیں اور وہ صرف موبائل فون پر انحصار کرتے ہیں ۔ 

ہنگامی صورتحال میں ادارہ جاتی سطح پر اعتماد کے ساتھ صارفین کا ان لوگوں پر اعتماد بڑھتا جارہا ہے جو انکی اقدار، ترجیحات اور زندگی کے بارے میں نکتہ نظر پر اظہار خیال کرتے ہیں۔ برانڈز کو یہ بات ظاہر کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ بھی انہی خصوصیات کو آگے بڑھاتے ہیں، یہ کام زیادہ شفاف انداز سے ہوتا ہے جس میں زیادہ ایمانداری اور اعتبار کو ملحوظ رکھا جاتا ہے جبکہ برانڈ سے متعلق حقیقی لوگوں کے اظہار سے انہیں برتری حاصل ہوتی ہے۔ 

آن لائن رویے روایتی آبادی کی سطح سے آگے نکل جاتے ہیں اور اسکے لئے نئی سطح کے صارفین کا شعبہ تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے فعال اور سب سے زیادہ سوشل گروپ کے تمام کنیکٹڈ صارفین سوپر لیڈرز ہیں۔ یہ سب سے پہلے تبدیلی کو قبول کرلیتے ہیں، یہ بااثر ہونے کے ساتھ رجحان ساز بھی ہوتے ہیں۔ بہت زیادہ کنیکٹڈ اور فعال صارفین برانڈ کی ترجمانی اور مارکیٹ سے متعلق معلومات کے ہمراہ بہت فائدہ مند ثابت ہوسکتے ہیں۔ 

صارفین سے براہ راست بات چیت کی اہمیت کے ساتھ ویلیو چین میں پہلے سے زیادہ لنکس آرہے ہیں اور چینلز پھیل رہے ہیں۔ برانڈ کو صارفین سے متعلق مسلسل پیغامات بھیجنے کی کافی زیادہ ضرورت ہے اور ملنے جلنے کے مختلف مقامات پر برانڈز صارفین کے ساتھ بلاتعطل چل سکتے ہیں۔ موبائل تیزی سے اومنی چینل کے استعمال کو ملانے کا ذریعہ بن رہا ہے۔ 

فوڈ اور بیوریجز بدستور عام دکانوں سے بڑی تعداد میں خریدے جاتے ہیں ، اس لئے اسٹورز میں پروڈکٹ کی مہمات کے لئے مارکیٹنگ بدستور اہم ہے۔ لیکن یہاں ڈیجیٹل کا میدان بھی اہمیت کا حامل ہے جو اسٹور کے نصف سے زائد خریداریوں پر اثر رکھتا ہے۔ 

آج ہر طرف ای کامرس پھیل رہا ہے اور 2021 تک تمام فوڈ کی 10 فیصد تجارت اس پر منتقل ہونے کی توقع ہے۔ یہ ویلیو چین میں رکاوٹ ڈال رہی ہے۔ اس کے ساتھ ایمزون جیسے بڑے ادارے بھی پہلے سے بہتر سہولیات کے ساتھ سامنے آرہے ہیں۔ 

صارفین اب برانڈز کے ساتھ کام کے خصوصی موقع تلاش کرتے ہیں جس میں منفرد ڈیجیٹل پیکجز، آگمنٹ ریالٹی اور خصوصی پرنٹنگ سے آراستہ ہیں ۔ یوں ، برانڈز کے لئے نئے مواقع فراہم ہوتے ہیں کہ وہ بات کریں ،اپنے تعلقات کو گہرا کریں اور ان سے براہ راست رابطہ رکھیں۔ 



21 نومبر، 2017

ڈیرہ اسماعیل خان کی بیٹی اور عمراں خان کا انوکھا انصاف : سلیم صافی

ڈیرہ اسماعیل خان کی بیٹی اور عمراں خان کا انوکھا انصاف : سلیم صافی

تبھی تو میں انہیں لاڈلہ سیاستدان کہتا ہوں۔ میڈیا اور میڈیا کو کنٹرول کرنے والی قوتوں کا لاڈلہ۔ ڈی آئی خان کا المناک واقعہ سندھ یا پنجاب میں وقوع پذیر ہوتا تو نہ جانے میڈیا میں کیا قیامت برپا ہوتی لیکن چونکہ یہ واقعہ اس خیبرپختونخوا میں رونما ہوا ہے جہاں کے حکمران لاڈلے سیاستدان ہیں، اس لئے سب کی زبانوں کو تالے لگ گئے ہیں۔ یہ سانحہ اندرون سندھ، جنوبی پنجاب یا بلوچستان میں نہیں بلکہ اسی خیبر پختونخوا میں وقوع پذیر ہوا جس کے بارے میں پی ٹی آئی کی قیادت دعوے کر رہی ہے کہ وہاں پولیس کو غیرسیاسی بنا دیا گیا ہے۔ 27اکتوبر 2017ء کو یہ واقعہ اس ڈی آئی خان کے اس علاقے میں رونما ہوا جہاں ایم پی اے اور ایم این اے بھی پی ٹی آئی کے ہیں اور وزرا بھی۔

دن دہاڑے ایک معصوم اور یتیم بچی کو برہنہ کرکے گلیوں میں گھمایا گیا اور ساتھ اس معصوم کی ویڈیو بھی بنائی گئی۔ مظلوم خاندان تھانے پہنچا تو ایس ایچ او نے حکمران خاندان کے قریب سمجھے جانے والے مبینہ ملزم سجاول کو بچانے کے لئے الٹا متاثرہ خاندان کو ڈرایا دھمکایا اور ملزمان کے سرغنہ کے کہنے پر متاثرہ خاندان کے خلاف ایف آئی آر کاٹ دی۔ اس ظلم کی کہانی اسی روز سوشل میڈیا پر عام ہوئی لیکن عمران خان صاحب حرکت میں آئے اور نہ وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے اپنے ہیلی کاپٹر کو حرکت دی۔ روزانہ ٹی وی ٹاک شوز میں گلے پھاڑ پھاڑ کر انصاف انصاف کے نعرے لگانے والے خیبر پختونخوا کے کسی ایم این اے کو لب کشائی کی توفیق ہوئی اور نہ کسی ٹی وی چینل کو آواز اٹھانے کی ہمت۔ ہمت ہوئی تو بس پی ٹی آئی کے ایک مغضوب ایم این اے داور کنڈی کو ہوئی۔ وہ متاثرہ لڑکی کے گھر پہنچے تو انہوں نے اپنا دکھڑا سناتے ہوئے یہ بھی بتا دیا کہ ملزم سجاول کی سرپرستی مبینہ طور پر صوبائی وزیر علی امین گنڈاپور کے قریبی عزیز کر رہے ہیں۔ داور کنڈی نے ایس ایچ او کے ظلم کے خلاف اعلیٰ پولیس حکام سے رابطہ کیا لیکن چونکہ دعوئوں کے برعکس تمام ایس ایچ اوز، خان صاحب اور وزیراعلیٰ صاحب کے چہیتے ممبران قومی و صوبائی اسمبلی کی مرضی سے لگائے گئے ہیں اور چونکہ داورکنڈی چہیتے نہیں بلکہ مغضوب ہیں، اس لئے وہ ایس ایچ او کا کچھ نہیں بگاڑسکے۔ اس لئے انہوں نے عمران خان صاحب کو خط تحریر کرکے پوری صورت حال بتادی (خط کی کاپی میرے پاس موجود ہے) لیکن پھر بھی ایس ایچ او کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی اور نہ متاثرہ خاندان کی داد رسی کے لئے صوبائی حکومت حرکت میں آئی۔

چنانچہ 12 نومبر کو داور خان کنڈی میرے’’ جرگہ‘‘ میں تشریف لائے اور میرے سوالات کے جواب میں سانحہ کی تفصیل بیان کردی۔ حکومت خیبر پختونخوا کا موقف جاننے کے لئے میں نے صوبائی وزیرعلی امین گنڈاپور کو زحمت دی۔ سچ یہ ہے کہ داورکنڈی نے اپنی طرف سے کوئی الزام نہیں لگایا بلکہ جو کچھ انہوں نے متاثرہ خاندان سے سنا تھا، وہی بیان کر دیا البتہ علی امین گنڈاپور سے متعلق ماضی کے ان الزامات کا بھی اعادہ کیا جو دو سال سے وہ اور پی ٹی آئی کے بعض دیگر ممبران اسمبلی لگاتے آ رہے ہیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ وقوعہ کے دن ( 27 اکتوبر) اور داور خان کنڈی کے جیو نیوز کے پروگرام ’’جرگہ‘‘ میں اظہار خیال کے دن ( 12 نومبر ) تک دو ہفتے گزر چکے تھے۔ ان دو ہفتوں میں نہ تو متاثرہ خاندان کے خلاف غلط درج کی گئی ایف آئی آر مکمل طور پر واپس لی گئی تھی، نہ ملزمان کا سرغنہ سجاول گرفتار ہوا تھا، نہ عمران خان صاحب متاثرہ خاندان کی داد رسی کے لئے گئے تھے، نہ شادیوں کے لئے جانے کی خاطر سرکاری ہیلی کاپٹر استعمال کرنے والے پرویز خٹک نے نوٹس لیا تھا اور نہ اس علاقے کے خان صاحب کے چہیتے وزیر علی امین گنڈا پور نے بچی کے سر پر ہاتھ رکھنے کے لئے وہاں جانے کی زحمت گوارا کی تھی۔ اور تو اور ان دو ہفتوں میں عمران خان صاحب، ان کے کسی ترجمان یا پھر وزیراعلیٰ نے مذمتی بیان تک جاری نہیں کیا تھا۔

ریحام خان صاحبہ کے متاثرہ خاندان کے پاس پہنچ جانے اور میرے ٹی وی پروگرام کے اگلے روز ایس ایچ او کو لائن حاضر کیا گیا اور متاثرہ خاندان کے خلاف جھوٹی اور غلط ایف آئی آر واپس کرنے کا اعلان کیا گیا تاہم اصل ملزم تادم تحریر گرفتار نہیں ہوا۔ البتہ میرے پروگرام میں جب میں نے علی امین گنڈاپور سے پوچھا کہ وہ ابھی تک متاثرہ بچی کے گھر کیوں نہیں گئے تو انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ کل جائیں گے اور اگلے روز وہ متاثرہ بچی کے گھر چلے گئے۔ اب ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ عمران خان صاحب دو ہفتے تک معاملے پر خاموش رہنے پر قوم سے معافی مانگتے اور پرویز خٹک سے باز پرس کرتے کہ ان کے صوبے میں یہ کیا ہورہا ہے۔ اسی طرح ہونا تو یہ بھی چاہئے تھا کہ وہ اپنے ایم این اے داورکنڈی کو شاباش دیتے کہ وہ متاثرہ خاندان کے پاس سب سے پہلے پہنچے اورخط لکھ کر معاملے کو خود ان کے نوٹس میں لے آئے۔ پھر علی امین گنڈاپور کے کردار سے متعلق تحقیقات کے لئے ایک آزاد اور خودمختار کمیٹی بناتے لیکن انہوں نے الٹا علی امین گنڈاپور کو شاباش دے کر داور کنڈی کو پارٹی سے نکالنے کا اعلان کیا۔ اسے کہتے ہیں انصاف کے نام لیوائوں کا انصاف۔

دلیل یہ دی کہ انہوں نے آئی جی سے معلوم کیا ہے اور آئی جی نے داور کنڈی کے الزامات کو غلط قرار دیا ہے۔ ویسے اگر سانحہ ماڈل ٹائون کے بارے میں میاں نوازشریف یہ موقف اپناتے کہ آئی جی پنجاب کو فون کرکے انہوں نے معلوم کیا ہے اور پنجاب حکومت کا کوئی قصور نہیں تو کیا عمران خان صاحب ان کو معاف رکھتے۔ لیکن عمران خان صاحب میڈیا اور میڈیا چلانے والوں کی طرف سے معاف ہیں کیوں کہ لاڈلے جو ہوئے۔ لیکن اس انوکھے انصاف کا مظاہرہ انصاف کے نام لیوا خان صاحب نے پہلی مرتبہ نہیں کیا۔ خان صاحب کے پاس جو بھی شکایت لایا ہے، اس نے ہمیشہ شکایت کرنے والے کو سزا دی۔ جاوید ہاشمی نے شکایت کی کہ امپائر ان سے غلط کام کروا رہے ہیں تو امپائروں سے پوچھنے کی بجائے خان صاحب نے جاوید ہاشمی کی چھٹی کرا دی۔ جسٹس وجیہہ الدین نے الیکشن کمشنر کی حیثیت سے شکایت کی کہ پارٹی انتخابات میں بے ضابطگی ہوئی ہے تو بے ضابطگیاں کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے والوں کی بجائے انہو ں نے جسٹس وجیہہ الدین کی چھٹی کرا دی۔ مشکل دنوں کے ساتھی اور پی ٹی آئی کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے شکایت کی کہ پارٹی فنڈز خوردبرد ہوئے ہیں تو خورد برد کی تحقیقات کی بجائے انہوں نے ان کی چھٹی کرا دی۔ ضیاء اللہ آفریدی نے پرویز خٹک پر کرپشن کے الزامات لگائے تو تحقیقات کی بجائے انہوں نے ان کو گرفتار کروایا۔ صوبائی احتساب کمیشن کے وہ سربراہ (جنرل حامد خان ) جنہیں خود خان صاحب نے چنا تھا، نے جب وزیراعلیٰ اور وزرا کی کرپشن کی طرف توجہ دلا دی تو ان کے خلاف کارروائی کی بجائے جنرل حامد خان کی چھٹی کرا دی گئی۔ دوسری طرف شوکت یوسفزئی اور یاسین خلیل پر خود کرپشن کے الزامات لگا کر وزارتوں سے الگ کیا اور اپنے مذکورہ اصولوں کے تحت ہونا توچاہئے تھا کہ خود اپنے خلاف کارروائی کرتے لیکن اپنے خلاف کارروائی کی اور نہ ان کو پارٹی سے نکالا بلکہ اب ان کو عہدے دئیے گئے۔

اسی طرح آفتاب شیرپائو کی جماعت کے وزراء کے خلاف کرپشن کے الزامات لگا کر حکومت سے الگ کیا لیکن پھر خود ہی اسد قیصر کی قیادت میں وزراء کا جرگہ بھیج کر اس وزیر (بخت بیدار) سے معافی مانگی جن کے خلاف کرپشن کا الزام لگایا تھا اور اس کے بعد اس جماعت کو دوبارہ منتیں کر کے حکومت میں شامل کروایا اور اب دوبارہ علیحدہ کیا۔ اسے کہتے ہیں تحریک انصاف کا انصاف اور اب وہ اس انوکھے انصاف کو پورے ملک میں رائج کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ سندھ، پنجاب اور بلوچستان کے عوام کی مرضی ہے۔ وہ اگر اپنے اپنے صوبوں میں اسی طرح کا نظام انصاف رائج کرنا چاہتے ہیں تو بسم اللہ۔ خیبر پختونخوا کے لوگ تو ان شاء اللہ دوبارہ یہ غلطی نہیں دہرائیں گے۔ کسی کو یقین نہ آئے تو گزشتہ بلدیاتی انتخابات کے موقع پر پی ٹی آئی کے وزرا اور اراکین اسمبلی کے یونین کونسلوں کے نتائج ملاحظہ کر لیں۔


اثاثہ جات کیس میں عدم پیشی : احتساب عدالت نے اسحاق ڈار کو مفرور ملزم قرار دے دیا

اسلام آباد (ٹی او سی ویب ڈیسک)  اثاثہ جات ریفرنس کیس میں اسلام آباد کی احتساب عدالت نے عدم پیشی پر وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی حاضری سے استثنی اور نمائندہ مقررکرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو اشتہاری قرار دے دیا۔ عدالت نے اسحاق ڈار کے ضامن کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے اسحاق ڈار کو مفرور ملزم قرار دے دیا۔ عدالت نے اسحاق ڈار کے خلاف اثاثہ جات ریفرنس کی مزید سماعت 4 دسمبر تک کے لئے ملتوی کر دی ہے۔


احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف نیب کی جانب سے دائر آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے ریفرنس کی سماعت کی۔ سماعت شروع ہوئی تو اسحاق ڈار کے وکیل حسین فیصل مفتی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اسحاق ڈار نے ریحان رشید کے نام پاور آف اٹارنی بھجوایا اور انہیں اپنا نمائندہ مقرر کرنے کا اختیار دیا ہے، اگر ضرورت ہو تو اسحاق ڈار آڈیو یا وڈیو لنک پر دستیاب ہو سکتے ہیں۔

 وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ اسحاق ڈار کو حاضری سے استثنیٰ اور ان کی جگہ نمائندہ مقرر کرنے کی اجازت دے جس پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔ اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر عمران شفیق نے استدعا کی کہ اسحاق ڈار مفرور ہیں اس لئے ملزم کو اشتہاری قرار دینےکی کارروائی شروع کی جائے۔ جب کہ اسحاق ڈار کے وکلا کی جانب سے تیسری میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی جس کے مطابق اسحاق ڈار کے دل کی ایک شریان درست کام نہیں کر رہی جس پر انہیں علاج کے لئے 27 نومبر کو دوبارہ طبی معائنے کے لئے بلایا گیا ہے۔

اسحاق ڈار کے وکیل حسین فیصل مفتی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اب تک پیش کی گئی تینوں میڈیکل رپورٹس میں کوئی تضاد نہیں، ڈاکٹر نے اسحاق ڈار کو بین الاقوامی سفر سےمنع کیا ہے جس کا ذکر میڈیکل رپورٹ میں موجود ہے۔ اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر عمران شفیق نے میڈیکل رپورٹ کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ برطانیہ کے ڈاکٹر کی میڈیکل رپورٹ برطانوی قوانین کے مطابق بھی نہیں ہے۔ اسحاق ڈار کے وکیل نے کہا کہ عدالت نے 8 نومبر کو میڈیکل سرٹیفکٹ کی تصدیق کا حکم دیا جس پر عمل نہیں کیا گیا، میڈیکل رپورٹ کی برطانیہ سے تصدیق نہ کروانا نیب کی بدنیتی ظاہر کرتا ہے۔

 اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ میڈیکل رپورٹ تصدیق کے لئے بذریعہ فارن آفس بھجوائی جا چکی ہے نیب کی جانب سے اسحاق ڈار کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی جس میں کہا گیا ہے کہ وارنٹ کی تعمیل کے لئے لاہور اور اسلام آباد میں رہائش گاہوں پر چھاپے مارے لیکن ملزم اہل خانہ کے ہمراہ بیرون ملک فرار ہو چکا ہے۔

نیب رپورٹ میں بتایا گیا کہ گلبرگ لاہور میں اسحاق ڈار کی رہائش گاہ پر مالی کے سوا کوئی نہیں تھا جس نے اسحاق ڈار کے ذاتی مالی نے وارنٹ گرفتاری موصول کیے۔ جج محمد بشیر نے سوال کیا کہ آپ نے لاہور میں اسحاق ڈار کے مالی کو وارنٹ کی اطلاع دی۔ کیا پتا تصور حسین مزید 10 گھروں کا مالی ہو۔ جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ مالی نے بتایا کہ ڈھائی سال کے دوران کبھی اسحاق ڈار کو نہیں دیکھا۔


خیرپور میں بد ترین حادثہ، کوئلے سے بھرا ٹرک وین پر الٹ گیا، 21 افراد جاں بحق، 5زخمی

خیرپور(ٹی او سی نیوز ڈیسک) خیر پور میں کوئلے سے بھرا ٹرک وین پر الٹ گیا جس سے20افراد جاں بحق اور5 زخمی ہو گئے ،میڈیا رپورٹس کے مطابق وین خیرپور سے سکھر جا رہی تھی کہ شاہ حسین بائی پاس پر کوئلے سے بھرا ٹرک وین پر الٹ گئے ،جس کے نتیجے میں 20افراد جاں بحق اور5 زخمی ہو گئے،حادثے میں وین مکمل طورپر بیٹھ گئی اور گاڑی کی باڈی کاٹ کر لاشوں کو نکالا گیا،موٹروے پولیس اور ریسکیو ادارے امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں،ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثہ دھند کے باعث پیش آیا،جاں بحق اور زخمی افراد کو طبی امداد کیلئے ہسپتال منتقل کر دیاگیا،ہلاکتوں میں اضافہ کا خدشہ ہے.


بھارت خفنہ ایجنسی ’را‘ کی مدد سے سی پیک کو سبوتاژ کرنے کے لئے 50 کروڑ ڈالر کا سیل قائم کردیا ہے : جنرل زبیر

اسلام آباد (ویب ڈیسک) چیئرمین جوائنٹ چیف سٹاف کمیٹی کے چیئرمین جنرل زبیر محمود حیات نے انکشاف کیا ہے کہ ہے بھارتی خفیہ ایجنسی ‘‘ را’’ نے پاک چین معاشی راہداری کے منصوبہ کو سبوتاژ کرنے کیلئے 50 کروڑ ڈالر کی لاگت سے نیا سیل قائم کر رکھا ہے۔ 


پاکستان کے خلاف بھارت کی روایتی اور نیم روایتی جاری جنگ کسی بھی وقت بڑی جنگ میں بدل سکتی ہے۔ مسئلہ کشمیر ایٹمی جنگ کے خطرات کی وجہ بن سکتی ہے۔ بھارت سے بہتر تعلقات کا راستہ صرف کشمیر سے ہو کر گزرتا ہے۔

گزشتہ دنوں ایک مقامی تھنک ٹینک کے زیر اہتمام عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ مذکورہ کانفرنس سے سینیٹر سید مشاہد حسین، بھارت میں پاکستان کے سابق ہائی کمشنر عبدالباسط اور پاکستان مین جرمن ناظم الامور نے بھی خطاب کیا۔ 

جنرل زبیر محمود حیات نے کہا کہ بھارت آگ سے کھیل رہا ہے ، بلوچستان میں دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے۔ پاکستان کا پانی روک ر ہا، خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتا ۔ بھارت خطے کے امن سے کھیل کر رہا ہے۔ بھارت نے گزشتہ ماہ فائر بندی کی خلاف ورزی کی، جس سے ایک ہزار پاکستانی شہری اور 300 فوجی جوان شہید ہوچکے ہیں۔ 

افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے مسائل میں اضافہ کر رہے ہیں اور افغانستان میں مستقل عدم استحکام کی پاکستان بھاری قیمت چکا رہا ہے۔ گذشتہ 16 برس سے جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے پناہ قربانیاں دیں۔  جنوبی ایشیا کو موجودہ وقت میں مختلف چیلنجز کا سامنا ہے جس میں بھارت کی کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن، میزائل شکن دفاعی نظام شامل ہیں۔ بھارت سیکولر سے انتہاپسند ہندو ملک بن چکا، وہاں انتہاپسندی عروج کو پہنچ چکا ہے۔ 

پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے مگر بھارت پر یہ واضح ہوجانا چاہئے کہ ہم اپنے دفاع سے ہر گز غافل نہیں ، افغانستان میں عدم استحکام خطے کیلئے نقصان دہ ہے، افغانستان میں کمزور گورننس اورمفاہمتی عمل میں عدم تسلسل مسائل کا بڑا سبب ہے۔ 


خان صاحب کے نام کهلا خط

خان صاحب کے نام کهلا  خط     


جناب عمران خان صاحب !!           
                                          میں آپ کےدیر کے جلسے میں موجود تھا۔ چترال کا جلسہ بھی دیکھا اور میانوالی جلسے میں بھی اپ کی تقریر سنی۔            

آج کل آپ اپنے جلسوں میں اکثر میرٹ کی بالادستی کی بات کر رہے ہیں،  
               
خان صاحب! میں پوچهنے کی جسارت کرونگا کہ آپکی اپنی پارٹی میں کیا جہانگیر ترین میرٹ پر اتنا آگے آیا؟؟                                                                              
کیا پرویز خٹک میرٹ پر وزیر اعلی' بنا؟                                                        
کیا چند ہفتے پہلے ہی پارٹی میں شامل ہونے والے ارباب عامر کو میرٹ پر این اے 4 کا ٹکٹ تهمایا گیا؟؟   

خان صاحب دیرینہ اور نظریاتی کارکن ہی کسی پارٹی کی اصل طاقت ہوتی ہے اور اسی  سے آپ تبدیلی لا سکتے ہیں، پارٹی بدل کر آپ کے ساته شامل ہونا تبدیلی نہیں بلکہ یہ آپکا مشن ہی تبدیل کرکے رکهدینگے۔ 

خان صاحب! ایک اور گلہ یہ ہے کہ آپ تو حکومت کی مخالفت زیادہ تر ہی کرتے ہیں، کبھی کبھی تو ویسے ہی طبعیت خوشگواری کیلؑے حکومت کو دو تین سنا دیتے ہیں لیکن جب بات حکومت کی طرف سے ختم نبوت کے متعلق حلف نامے سے چهیڑ خانی کی جاتی ہے اور قومی سطح پر اس کیخلاف ریکشن بھی آتا ہے تو اس پر آپ پراسرار خاموشی اپنا لیتے ہیں اور ن لیگ حکومت کو ہدف تنقید نہیں بناتے۔                  
آپ کا تو ماٹو بهی ایاک نعبد و ایاک نستعین ہے، آپ تو مدینہ کی ریاست     کی بات بهی کرتے ہیں، پهر ایسی خاموشی یقینا" ہمیں پریشان کردیتی ہے۔                                

جناب کرپشن کیخلاف تو آپ جدوجہد بھی کر رہے لیکن آپ اپنے اردگرد لوگوں پر نظر ڈالیں ان کا کیا حال ہے؟ 

جہانگیرترین کو تو خیر چوڑیں، شاہ محمود قریشی جو پیر بن کر مزاروں پر سادہ لوح عوام کو دھڑا دھڑ لوٹ رہے، کیا یہ کرپشن نہیں؟؟ 
           
عمران خان صاحب ! میں آپ سے محبت کرتا آیا ہوں، مجهے کینسر کے خلاف آپکی جدوجہد عظیم سے محبت ہے، کرپشن کیخلاف بهی آپ کا جذبہ زبردست تھا،، آپکا کهرا پن بهی کمال تها لیکن خان صاحب اب آپ خوشامدیوں اور دودہ کے مجنونان میں گهرے ہوئے ہیں، آپ کو گمراہ کر رہے،ْ، اپ اپنے راستے سے تیزی کیساتھ ہٹ رہے۔۔۔                            
عمران خان صاحب!!                                                                               
واپس آجائیں کہ آپ سے میری محبت برقرار رہ سکے                                       
آپکا خیراندیش
میر محسن الدین

______________________________________________________________

ادارے یا ایڈیٹر کا مراسلہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔


17 نومبر، 2017

ایل جی کی جدت انگیز مصنوعات سی ای ایس 2018 ایوارڈز کے لئے منتخب

سیول:  کنزیومر ٹیکنالوجی ایسوسی ایشن (سی ٹی اے) نے جدت انگیز ٹیکنالوجی اور ڈیزائن میں مہارت پر ایل جی الیکٹرانکس (ایل جی) کی مختلف مصنوعات کو سی ای ایس 2018 ایوارڈز کے لئے منتخب کیا ہے۔ اس تقریب کی رونمائی جنوری میں منعقد ہوگئی جس میں ایل جی کے اولیڈ ٹی وی اور ریفریجریٹرز کو مختلف اعزازات حاصل ہوں گے۔ 


یہ مسلسل چھٹا سال ہے جس میں ایل جی کے اولیڈ ٹی وی، ہوم ایپلائنسز اور بنیادی نوعیت کے اسمارٹ فونز سی ای ایس اننویشن ایوارڈز حاصل کریں گے۔ یہ ہوم ایپلائنس انڈسٹری میں ایل جی کی جدت انگیز مصنوعات کا باقاعدہ اعتراف ہے جن کی نمائش سال 2018کے اوائل میں منعقد ہونے والی سالانہ کنزیومر ٹیکنالوجی شو (سی ای ایس) میں کی جائے گی۔ اس تقریب میں ایل جی کو 12 واں سی ای ایس بیسٹ آف اننویشن ایوارڈ بھی ملے گا ۔ 

ایل جی نے سی ای ایس 2018 اننویشن ایوارڈز آٹھ کٹیگریوں میں حاصل کیا ہے جن میں ویڈیو ڈسپلے، ہوم ایپلائنسز، وائرلیس ہینڈ سیٹس، اسمارٹ ہوم، ڈیجیٹل ایمیجنگ، ہوم آڈیو اور ویڈیو کمپونینٹس، کمپیوٹر پیریفیرلز اور ایمبڈڈ ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔ 

ایل جی کے سی ای ایس 2018 اننویشن ایوارڈ میں اسکے ڈور ان ڈور ریفریجریٹرز کے ساتھ اسمارٹ تھنک ٹیکنالوجی شامل ہے جبکہ ایل جی کے اولیڈ ٹی وی بہترین بلیکس، لامتناہی کنٹراسٹ، رنگوں کے وسیع انتخاب کے ساتھ انتہائی چوڑے زاویئے سے منظر کشی کرتے ہیں ۔ ایوارڈ جیتنے والی ایل جی کی دیگرمصنوعات میں نیا واشر اور ڈرائر، جدید ویڈیو پروجیکٹر، 4Kیو ایچ ڈی اسمارٹ ٹی وی اور دیگر مصنوعات شامل ہیں۔ 

سی ٹی اے کے اسپانسر کے تعاون اور انڈسٹریل ڈیزائنرز سوسائٹی آف امریکہ کے ثبات سے سی ای ایس اننویشن ایوارڈز ٹیکنالوجی ڈیزائن اور انجینئرنگ میں جدت کو سامنے لاتا ہے۔ یہ ایوارڈز مستند انڈسٹری ڈیزائنرز، انجینئرز اور جرنلسٹس کے پینل کی جانب سے منتخب معیار کے ساتھ ہر سال منتخب کئے جاتے ہیں جس میں استعمال کی اہمیت، خوبصورتی، جدت انگیز ڈیزائن، معیار اور بہتر طرز زندگی میں معاونت جیسے پہلو مدنظر رکھے جاتے ہیں۔ 

ایل جی کے سی ای ایس اننویشن ایوارڈز کی مکمل فہرست میں بیسٹ آف اننویشن ایوارڈ بھی شامل ہے جس کا اعلان امریکی ریاست نیواڈا کے شہر لاس ویگاس میں 8 جنوری 2018 کو ایل جی کی سی ای ایس کے اشتراک سے منعقدہ پریس کانفرنس میں کیا جائے گا۔ 




چترال، دروش کے ارندو آڈے میں سلنڈر دھماکے سے پھٹ گیا، آڈے میں آگ بھڑک اٹھی، دکانیں جل کر خاکستر


چترال (رپورٹ سہیل احمد: ٹائمزآف چترال) رات 3 بجے دروش میں ارندو آڈے گیس ویلڈنگ ورکشاپ میں سلنڈر دھماکے سے پھٹ گیا، جس سے پورے آڈے میں آگ لگ گئی۔ جس کی جس سے کافی مالی نقصان ہوا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ 5 گاڑیاں جل گئیں۔ آڈے میں موجود تمام دکانیں جل گئیں۔ فائر ٹینڈر موقع پر پہنچ کر آگ بجھائی۔ آگ لگتے ہی ریسکیو کے لئے چترال سکاؤٹ، پولیس اور مقامی لوگ پہنچ گئے۔ اور جلدی آگ پر قابو پالیا گیا۔ 

آڈے کے قریب دیگر دکانیں بھی متاثر ہوئیں ہیں۔ اے سی دروش جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور نقصانات کا جائزہ لیا۔ اور تحریر کرکے ساتھ لے گئے۔


16 نومبر، 2017

چترال میں منشیات فروشوں کے گرد گھیرا تنگ، بدنام زمانہ منشیات فروش گرفتار بھاری تعداد میں منشیات برآمد

چترال (نمائندہ: ٹائمز آف چترال 15 نومبر 2017) چترال میں پولیس نے منشیات فروشوں کے گرد گھیرا تنگ کردیا ہے، گزشتہ روز چترال تھانے کی حدود میں کاروائی کرتے ہوئے بدنام زمانہ منشیات فروشوں کو رنگے ہاتھوں گرفتار کرکے ان کے قبضے سے بھاری تعداد میں منشیات برآمد کرلیا ہے۔ ملزموں کے قبضے سے 5 ہزار گرام چرس اور 30 لیٹر دیسی شراب برآمد ہوئی ہے۔  


چترال پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او منیر الملک نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ پولیس  بدنام زمانہ منشیات فروش بروز گاؤں کے محمد الیاس ولد عبدالجبار ساکن گولدہ کی کڑی نگرانی کررہی تھی ، خفیہ اطلاع پرپولیس نے ان رہائش پر چھاپہ مارا اور وہاں سے  6 ہزار گرام چرس اور 30 لٹر دیسی ساختہ شراب برامد کرکے ملزم کے خلاف نارکوٹکس کنٹرول ایکٹ کے دفعہ 9 اور 3 /4 حدود آرڈیننس کے تحت مقدمہ دائر کرکے مقامی عدالت سے ان کا ریمانڈ حاصل کرلیا ہے۔

پولیس نے مزید بتایا ہے کہ اسی منشیات فروش کے کارندے سمیع اللہ ولد امیر حمزہ ساکن دومون کو بھی موقع پر ایک ہزار گرام چرس کے ساتھ پکڑ لیا گیا ہے ۔ پولیس  نے منشیات فروشوں کے خلاف کاروائی میں اہلکاروں اے ایس آئی جنگ باز خان، اے ایس آئی عبدالامان اور اے ایس آئی معراج الدین کی کارکردگی کو سراہا۔ اس موقع پر ایس ڈی پی او فاروق جان بھی موجود تھے جنہوں نے منشیات فروشوں کو معاشرے کا سب سے بڑا دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف کاروائی میں کوئی کسر نہیں اٹھائی جائے گی تاکہ نئی نسل کو تباہ ہونے سے محفوظ رکھا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ چترال تحصیل کے اندر ہم نے منشیات فروشوں کا قلع قمع کرنے کے قریب ہیں جس میں ہمیں عوام کا مکمل تعاون درکار ہے، عوام اپنے آس پاس میں منشیات فروشوں کی مشکوک سرگرمیوں کے بارے میں تھانے کے ایس ایچ او منیر الملک کو فون نمبر 03459390500 پر اطلاع دے کر اپنا فرض نبھائیں ،  اطلاع دہندہ کا نام مکمل طور پرصیغہ راز میں رکھا جائے گا۔




تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget