جنوری 20, 2018

آشیانہ ہاؤسنگ سکیم میں مبینہ کرپشن: شہباز شریف ۲۲ جنوری کو نیب میں پیش ہونگے



لاہور(ویب ڈیسک) نیب لاہور نے نیب آرڈیننس 1999ء کے تحت شہباز شریف کو طلب کیا ہوا ہے۔ شہباز شریف پر الزام ہے کہ انہوں نے آشیانہ اقبال میں کامیاب بولی حاصل کرنے والے کی بولی منسوخ کی۔ آشیانہ ہاؤسنگ سوسائٹی میں 19 کروڑ 30 لاکھ سے زائد کا نقصان ہوا۔ نیب ذرائع کے مطابق، شہباز شریف کے حکم پر آشیانہ اقبال کا پراجیکٹ آگے ایوارڈ کیا گیا جس سے قومی خزانے کو  71 کروڑ 50 لاکھ کا نقصان ہوا۔

وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے 22 جنوری کو احتساب بیورو کے سامنے پیش ہونگے، ان کا یہ فیصلہ قانونی ٹیم سے مشاورت کے بعد سامنے آیا، اس سے قبل پنجاب حکومت کے ترجمان نے نیب کی جانب سے طلبی کے نوٹس کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو آشیانہ ہاؤسنگ سکیم کے حوالے سے کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا ہے۔

تفصیلات کے مطابق تین روز قبل نیب لاہور کے ایڈیشنل ڈائریکٹر  خاور الیاس کی جانب سے جاری نوٹس میں شہباز شریف کو 22 جنوی کو صبح ساڑھے 10 بجے ٹھوکر نیاز بیگ لاہور میں واقع نیب کمپلیکس میں کمبائنڈ انویسٹی گیشن ٹیم کے سامنے پیش ہو کربیان ریکارڈ کرانے کی ہدایت کی گئی تھی ۔ 

نوٹس میں کہا گیا تھا  کہ آشیانہ ہاؤسنگ سکیم کے حوالے سے جاری کیس میں پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی کی انتظامیہ، افسروں ، عہدیداروں اور لاہور کاسا ڈویلپرز کے مالکان، انتظامیہ اور دیگر نے دوران تفتیش یہ انکشاف کیا ہے کہ شہباز شریف نے بطور وزیراعلیٰ غیرقانونی احکامات جاری کیے ۔ شہباز شریف کو جاری کیے گئے خط میں کہا گیا کہ پی ایل ڈی سی بورڈ کے غیرقانونی اقدامات کے باعث قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا ۔وزیراعلیٰ پنجاب کو کہا گیا تھا  کہ آپ نے آشیانہ اقبال سکیم کے ٹھیکے کیلئے کامیاب بولی حاصل کرنیوالی کمپنی لطیف اینڈ سنز کا ٹھیکہ دوسری کمپنی کاسا ڈویلپرز کو دینے کے احکامات جاری کیے جس کی وجہ سے 19 کروڑ 30 لاکھ کا نقصان ہوا ۔نیب نوٹس میں مزید کہا گیا کہ بطور وزیراعلیٰ آپ نے پی ایل ڈی سی کو آشیانہ اقبال منصوبے کا ٹھیکہ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو دینے کے احکامات جاری کیے جس کے باعث لاہور کاسا ڈویلپرز(جے وی) کو ساڑھے 71 کروڑ روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا اور منصوبہ ناکام ہوا۔ اس نوٹس کی موصولی کے بعد  اب  وزیر اعلیٰ پنجاب نےاپنے وکلا اور قانونی ماہرین سے طویل مشٓاورت کے بعد  22 جنوری کے دن نیب کے سامنے پیش ہونے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ 22 جنوری کو نیب کی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کے روبرو اپنا بیان ریکارڈ کروائیں گے ،اس سے قبل ترجمان  پنجاب حکومت ملک محمد احمد خان کا کہنا تھا کہ آشیانہ ہاؤسنگ سکیم کی تحقیقات کے حوالے سے نیب کی جانب سے وزیر اعلیٰ پنجاب کو کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا ۔

تحریک انصاف کے ممبرسینٹرل ایگزیکٹوکمیٹی فرخ جاوید مون نے ڈی جی نیب پنجاب کی طرف سے آشیانہ ہاؤسنگ سکیم میں کرپشن کا نوٹس لینے اوروزیراعلی پنجاب کو22 جنوری کوطلب کرنے کے فیصلے کوخوش آئند اورپنجاب میں میگا منصوبوں میں کرپشن کے خاتمے کی طرف اہم قدم قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ صرف آشیانہ سکیم نہیں بلکہ پنجاب کے تمام میگامنصوبوں میں قومی وسائل کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جارہا ہے۔




لواری ٹنل آمدرفت کے اوقات میں تبدیلی کردی گئی، سفر کرنے والے یہ ضرور پڑھ لیں

چترال (ٹائمزآف چترال نیوز ) سرد موسم اور سڑکوں پر پھسلن کے باعث لواری ٹنل سے آمدورفت کے اوقات میں تبدیلی لائی گئی ہے۔ نئے شیڈول کے مطابق اب صبح ۹ بجے سے دوپہر ۱ بجے تک جبکہ سہ پہر ۳ بجے سے رات ۷ بجے تک ٹنل کھلا رہے گا اور رات ۷ سے لیکر صبح ۹ بجے تک ٹنل بند رہے گا۔

مسافر حضرات ان اوقات کار کے مطابق اپنا سفری تیاری کریں کیونکہ لواری ٹاپ بند ہے اور سخت سردی میں ٹنل کے باہر انتظار کرنا پڑتا ہے۔ برف جم جانے اور سڑک پھسلن ہونے کی وجہ سے اتنظامیہ رات کے سفر پر پابندی لگا رکھی ہے کسی قسم کی زخمت اور پریشانی سے بچنے کے لئے رات کے سفر سے گریز کریں۔



کرکٹر حسن علی کرکٹ کے بعد انٹرٹینمنٹ کا میدان بھی مارنے کو تیار ہیں

لاہور (نیوز ڈیسک)  ارے دیکھیں ہم نے گراﺅنڈ فیلڈ پر کسے پکڑا ہے؟ یہ تو انتہائی باصلاحیت نوجوان کرکٹر حسن علی ہیں اور وہ کیمروں میں مصروف نظر آتے ہیں۔ ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے ہیں کہ یہ کوئی پریکٹس سیشن ہے یا پھر کچھ اور؟ 


ہم سب اس بات سے واقف ہیں کہ سال 2017 میں اپنی جرات مندانہ کارکردگی اور چیمپیئنز ٹرافی میں حیران کن پرفارمنس پیش کرنے کے باعث آج کل حسن علی کے ستارے عروج پر ہیں۔ حسن علی غیرمعمولی بالنگ ایکشن اور مختلف ورائیٹیز کے امتزاج کے ساتھ ایک میڈیم فاسٹ بالر ہیں۔ انہوں نے پہلا فرسٹ کلاس میچ صرف 19 سال کی عمر میں کھیلا۔ وہ ایک نمایاں اور ابھرتے ہوئے فاسٹ بالر ہیں جن کی بالنگ کی مہارت غیرمعمولی اور مزاج جارحانہ ہے۔ وہ اپنے بالنگ ایکشن کی بدولت لاکھوں دلوں پر راج کرتے ہیں۔ سال 2017 میں حسن علی ون ڈے کے نمایاں بالر کے طور پر سامنے آئے اور 18 میچز کھیل کر 45 وکٹیں حاصل کیں اور 17 کی ایوریج اور 20.3 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ سال کے سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بالر بن گئے۔ 

پھر یہ کونسا پروجیکٹ ہے جس پر حسن علی کام کرتے نظر آرہے ہیں؟ کیا وہ کرکٹ کو خدا حافظ کہہ رہے ہیں اور شوبز کو خوش آمدید کہہ رہے ہیں؟ کیا حسن کے پاس ایسا ٹیلنٹ باقی ہے جس سے ابھی تک قوم ناواقف ہے؟ کیا وہ اپنے آپ کو پہلے سے زیادہ منظرعام پر لا رہے ہیں اور نیا کام شروع کررہے ہیں؟ ایسے بہت سے سوالات ہیں۔ 

حسن علی اس سے قبل مختلف پروجیکٹس میں کام کرچکے ہیں اور ان دلچسپ مناظر میں نظر آنے سے ہمیں یقین ہے کہ وہ کسی بڑے کام میں مصروف ہیں۔ ہماری طرح پاکستان کی مقبول اسپورٹس صحافی/میزبان زینب عباس بھی ان تصاویر کے پیچھے چھپی حقیقت جاننے کے لئے متجسس ہیں اور انہوں نے ایک ٹویٹ بھی کی ہے۔ "دلچسپ، حسن آپ کی تصاویر دیکھیں۔ آپ کیا کررہے ہیں؟ "

ان روشنیوں کے ساتھ ہم بھی اس نئے کام کے بارے میں جاننے کی دلچسپی رکھتے ہیں جس میں حسن آج کل مصروف ہیں ۔ ہم بے چینی سے دم سادھے کوئی کڑی ڈھونڈ رہے ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ کیا ہم اس پراسرار معمہ کو حل کرپائیں گے۔ اگر آپ اس کام تک پہنچ گئے ہیں اور اس ہیش ٹیگ (#WhatisHassanUpto) کے ساتھ شامل ہوگئے ہیں تو ہمیں بتائیں۔ 



جنوری 19, 2018

آرایچ سی کوغذی میں ڈینٹل سرجن اور مریض کے درمیان تلخ کلامی


چترال ( رپورٹ : ایم فاروق) آر۔ ایچ۔ سی کوغزی میں ڈینٹل سرجن نے مریض کا معائنہ کرنے سے انکار کردیا جس پر مریض کے رشتہ دار اور ڈاکٹر کے درمیان تلخ کلامی ہوئی ہے۔


تفصیلات کے مطابق ہفتہ کے روز کوغزی کے رہائشی سلمان نامی لڑکے نے اپنے ہی ایک خاتون رشتے دار کے دانتوں کی چیک اپ کے لئے رورل ہیلتھ سنٹر کوغزی تشریف لے آئے ۔ 

جب مذکورہ ڈاکٹر سے اسی سلسلے میں  ملاقات ہوئی تو انہوں نے یہ کہہ کر بات ٹال دی کہ وہ N.I.D ڈیوٹی پر ہے اور اس وقت ان کے پاس وقت نہیں ہے ۔ واضح رہے کہ مریضہ کا تعلق برنس سے ہے اور وہ ایک دن قبل بھی اسی سلسلے میں ہسپتال آئی تھی لیکن یہی ڈاکٹر نے انکو ہفتے کے روز آنے کا مشورہ دیا تھا۔ اس لڑکے نے مریض کے متعلق ڈاکٹر کو کہا کہ یہ دور سے آئی ہوئی ہے اور شدید تکلیف میں مبتلا ہیں لہزا اسکی چیک اپ کرکے دانت نکلوائے جائے تو ڈاکٹر صاحب نے یہ کہہ کر بات ٹال مٹول دی کہ وہ اسوقت فارغ نہیں ہے اور انکو  ڈی ۔ایچ۔ کیو چترال جانے کو کہا ،جس پر مریض کے رشتہ دار اور ڈاکٹر کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور ڈاکٹر نے مریض کے رشتہ دار  اور معمر خاتون کو ہسپتال سے نکال دیا۔ مریض کے رشتہ دار سلمان نے" ذیل نیوز" سے باتیں کرتے ہوئے محکمہ ہیلتھ چترال اور صوبائی حکومت سے اپیل کی کہ متعلقہ ڈاکٹر سے پوچھ گچھ کی جائے تاکہ محکمہ صحت کے اندرونی مسائل میں مزید بہتری پیدا ہو اور تبدیلی کے نعرے بھی سچ ثابت ہوسکیں۔




وفد سے ملاقات میں شہباز شریف نے صحت اور تعلیم کے شعبوں میں آغاخان ٹرسٹ کی خدمات کو سراہا



لاہور(ٹائمزآف چترال نیوز) جمعرات کو لاہور میں شہباز شریف نے صحت اور تعلیم کے شعبوں میں آغاخان ٹرسٹ کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اولڈ والڈ سٹی سمیت  تاریخی مقامات کی بحالی کے لئے بے مثال اقدامات کی وجہ سے  پنجاب حکومت اور آغاخان ٹرسٹ کے مابین باہمی تعاون روز بروز فروع پا رہاہے۔

آغاخان ٹرسٹ کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ٹرسٹ کی جانب سے شروع کئے گئے فلاحی اقدامات کو سراہا اور کہا کہ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں آغاخان ٹرسٹ کی خدمات قابل تحسین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آغاخان ٹرسٹ برائے کلچر کی مہارت سے بہت فائدے حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہ حکومت پنجاپ شالیمار گارڈن اور جہانگیر کے مزاربحالی کے لئے تمام وسائل مہیا کریں گے ہم ٹرسٹ کی تکنیکی مہارتوں سے فائدہ حاصل کریں گے۔

آغاخان ٹرسٹ کے جنرل منیجر لوئس مونیلال نے کہا کہ تاریخی مقامات کی بحالی لئے حکومت پنجاپ کے ساتھ تعاون جاری رہے گا، اور انہوں نے حکومت پنجاپ کے ساتھ شراکت پر اطمینان کا اظہار کیا۔


چترال کے سیاسی قائدین کادکھ (فکر فردا) کریم اللہ

ان دنوں چترال کے مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین اپنی تاریخی سیاسی دشمنی(یہاں سیاسی مخالفت کو دشمنی کے طور پرلیا جاتا ہے ) بھلا کر ایک ہی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں کبھی احتجاجی جلسے تو کبھی کارنر میٹنگوں سے عوام کے سامنے اپنی موجودگی کو ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ جب سے نئی مردم شماری اور حلقہ بندیوں کے سلسلہ میں چترال سے صوبائی اسمبلی کی ایک نشست کے خاتمہ کی غیر مصدقہ خبر سامنے آئی ہے تب سے ہمارے سیاسی اکابرین کی نیندین اڑ چکی ہے۔

پچھلے دنوں پشاور میں چترالی سیاسی قیادت کی جانب سے ایک احتجاجی مظاہرہ کا اہتمام کیا گیا بینر میں کچھ یوں لکھا تھا''چترال کی سیٹوں میں کمی ۔۔نامنظور''

موجودہ مردم شماری ۔نامنظور ۔نامنظور ،نامنظور۔ نامنظور

اہالیان چترال
اس کے دو دن بعد ہی پشاور میں ایک اور سیاسی قیادت کی بیٹھک ہوئی جس میں اسٹرینگ کمیٹی تشکیل دی گئی جو کہ آل پارٹیز کانفرنس کرکے سفارشات الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ارسال کرے گی ۔

یہاں پر بنیادی سوال یہ ہے کہ جب مارچ 2017ء میں مردم شماری کا آغاز ہوا تو اس وقت چترال سے باہر رہنے والے چترالیوں کو شامل نہیں کیا گیا اس وقت یہ نام نہاد لیڈران(چاہے ان کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو) کہاں تھے ؟ ان کو احسا س کیوں نہ ہو ا کہ اس عمل سے چترال سے باہر رہائش پزیر تین لاکھ سے زاید چترالی مردم شماری سے باہر ر ہیں گے؟ الیکشن کمیشن کے عملے نے ایسے افراد کو بھی شمار نہیں کیا جوکہ چھ ماہ سے زاید عرصہ سے چترال سے باہر ملازمت یا علاج معالجہ کے سلسلہ میں رہے ۔ اگر اس وقت ہماری سیاسی قیادت کو سمجھ آتی کہ اس عمل سے ہماری آبادی کم ظاہر ہوگی اور مستقبل میں اس کے تباہ کن اثرات مرتب ہوسکتے ہیں تو کم ازکم اس وقت کوشش کرکے چترال سے باہر رہائش پزیر چترالی آبادی کو مردم شماری میں شامل کیاجاسکتا تھا لیکن ایسا نہ ہوا۔

اس کے بعد مردم شماری کے اختتام پر جب غیر سرکاری نتائج آنا شروع ہوئے تب بھی مردم شماری کے نتائج کو چیلنج کرنے کا موقع تھا لیکن لیڈرصاحبان خاموش رہے ۔ جب انتخابی حلقہ بندیوں کا بل پارلیمنٹ سے منظور ہو گیا اور سوشل میڈیا پر یہ بات گردش کرنے لگی کہ چترال سے صوبائی اسمبلی کی ایک سیٹ کوختم کیاجارہا ہے تب سیاست دانوں کے ہوش ٹھکانے لگیں اور پریس کانفرنسز، اخباری بیانات اور جلسے جلوسوں کا سلسلہ شروع ہوا۔

حقیقت یہ ہے کہ چترال کے کم وبیش دسیوں نام نہاد سیاسی رہنماوں میں سے کسی ایک کو اب بھی انتخابی حلقہ بندیوں سے متعلق ٹیکنیکل امور کا علم نہیں اور نہ ہی ان کو یہ پتہ ہے کہ دراصل حلقہ بندیوں میں تبدیلی ہورہی ہے نہ کہ ایک سیٹ کم کیا جارہا ہے ۔ اگر اس حوالے سے بروقت اقدامات اٹھائے جاتے توشاید کچھ حاصل ہوتا اب پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے اور 14جنوری سے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے باقاعدہ نئی حلقہ بندیوں کا آغاز بھی کیا ہے، احتجاجی تحریک اور قراردادوں کا کیا نتیجہ برآمد ہوسکتاہے اس پر کچھ کہنا مشکل ہے ۔


کراچی میں پولیس گردی ۔ نقیب محسود جعلی مقابلے میں قتل

کراچی میں پولیس گردی ۔  نقیب محسود جعلی مقابلے میں قتل



تحریر: اویس خان

‏زیر نظر تصاویر جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے خوبرو نوجوان نقیب محسود کی ہیں جو 2009 میں شروع کئے گئے آپریشن کی وجہ سے کراچی ہجرت کرگیا تھا۔

اس نوجوان کو پولیس نے9 جنوری کی شب اسکی دکان سے اٹھایا گیا  اور کل اسکی لاش گاڑی سے سڑک کنارے پھینک دی۔ذرائع کے مطابق‏ نقیب اللہ محسود کو کراچی پولیس کے ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے جعلی مقابلے میں مارا ہے ۔ 

ماروائے عدالت قتل پر بھی کوئی قانون ہے ملک میں یا نہیں؟ یہ اکیلا نہیں اس جیسے بہت بے گناہوں کو ماوراےُ عدالت قتل کر دیا جاتا ہے۔ اور ایسا کبھی تو کسی پارٹی کے سربراہ کی طرف سے کہا جاتا ہے اور کبھی کسی پارٹی کے راہنما کا حکم ہوتا ہے ۔

ایک شخص جو کہ اپنے بیٹے کو آرمی آفیسر بنانے کا خواہشمند ہو کیا وہ دہشتگرد ہو سکتا ہے؟

‏کوئی زرداری سے بولے کہ کراچی میں بھی ایک جلوس نکالیں جہاں ہر روز ماؤں کی گودیں سونی ہو رہی ہیں۔ نقیب محسود کا جرم جو بھی تھا ،سزا دینا عدالت کاکام تھا۔شبہہ میں مار دینا کہاں کا انصاف ہے۔ بچوں سے باپ چھیننا کیسادرد ناک ہوتا ہے کوئی ان یتیموں سے پوچھے ۔

‏زرداری صاحب ماڈل ٹاون میں مرنے والوں کے حق میں تو آنسو بہاتے ہیں کیا وه اپنی حکومت سے بهی کہیں گے کہ وه جهوٹے پولیس مقابلے میں شہید ہونے والے نقیب محسود کو بهی انصاف دے۔؟؟ 

‏سہراب گوٹھ ، سعید آباد، قصبہ، بنارس ، منگو پیر اور میٹروپول سے نقیب محسود کی طرح جب چاہا جس کو اٹھا لیا اور پولیس مقابلے میں مار دیا۔ مسئلے کا حل اس کے سوا کوئی نہیں کہ ذات برادری، زبان اور قبیلے سے بالا تر ہوکر سرکاری اہل کاروں کے گھروں میں لگی عدالتوں کو ختم کیا جائے ۔

پاکستان کے کسی حصے کا شہری ہمارا بھائی ہے ۔‏ہم کراچی میں پختون نوجوان نقیب اللہ محسود کے ماورائے عدالت قتل کی شدید مذمت کرتے ہیں. ہم اس معاملے میں مکمل آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں اور ملوث افراد کو جلد از جلد سزا دی جائے.





جنوری 18, 2018

خیبر پختونخواہ حکومت کا شاندار آغاز۔ نئے خیال سے کام کر۔ نواجونوں کے لئے کاروبار کرنے کے شاندار مواقع

خیبر پختونخواہ حکومت کا شاندار آغاز۔ نئے خیال سے کام کر۔  نواجونوں کے لئے کاروبار کرنے کے شاندار مواقع 








اشاعت روزنامہ مشرق 17 جنوری 2017

لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں آکسیجن کی کمی سے 6 بچے جان بحق ہوگئے

لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں آکسیجن کی کمی سے 6 بچے جان بحق ہوگئے

نمونیا میں مبتلا بچوں کو ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں لایا گیا تھا، بروقت آکسیجن نہ ملنے سے موت ہوئی : والدین کا موقف
ہسپتال میں روزانہ 700 سے 800 بچے لائے جاتے ہیں، چلڈرن اسپیشلسٹ ڈاکٹر ولی۔ موت کی وجہ آکسیجن نہیں : ہسپتال ترجمان


پشاور(کرٹیسی مشرق)  خیبر پختونخوا کے سب سے بڑے اور پرانے طبی ادارہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں آکسیجن کی کمی کے باعث نمونیا میں مبتلا 6بچوں کی موت واقع ہوگئی۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ ذرائع کے مطابق نمونیا میں مبتلا بچوں کو ہسپتال لایا گیا جہاں آکسیجن کی کمی کی وجہ سے ان کی بر وقت علاج ممکن نہ ہو سکا۔نمونیا میں مبتلا ہسپتال لائے گئے 6 ماہ کے ذاکر خان، ایک سالہ حمزہ اور محمد عبید سمیت نمونیا میں مبتلا اور6 بچوں کی موت واقع ہوئی۔ 

ذرائع کے مطابق ہسپتال لائے گئے بچوں کو بر وقت آکسیجن فراہم نہیں کی گئی جبکہ والدین بار بار اصرار کر رہے تھے کہ ان کے بچوں کی حالت خطرے میں ہے اور انہیں فوری طور پر آکسیجن فراہم کی جائے تاہم ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے بروقت علاج کو ممکن نہیں بنایا جا سکا جس کے باعث 6بچے زندگی کے بازی ہار گئے۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے چلڈرن سپیشلسٹ ڈاکٹر ولی کے مطابق ان کے پاس روزانہ کی بنیاد پر صوبے کے قبائلی علاقہ جات سے700سے800کے قریب نمونیا میں مبتلا بچوں کو لایا جاتا ہے جنہیں خصوصی نگہداشت اور فوری طور پر آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے فوری طور پر علاج نہ ہونے اور آکسیجن فراہم نہ کرنے کی صورت میں نمونیا میں مبتلا بچوں کی موت واقع ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں خود مختار لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے نمونیا میں مبتلا اور آکسیجن کی عدم فراہمی کے باعث6بچوں کی اموات سے متعلق خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتال میں آکسیجن کی کوئی کمی نہیں ، یہ بہت بڑا ادارہ ہے موت ضرور واقع ہو سکتی ہے تاہم آکسیجن کی کمی سے کسی کی موت واقع نہیں ہوئی، وارڈز میں مریضوں کو تمام سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔

اشاعت رونامہ مشرق 17 جنوری 2018


آغاخان ہائی سکول میراگرام یارخون کو ہائر سکنڈری کا درجہ دینے کا فیصلہ، طلبہ وطالبات میں خوشی کی لہر دوڑ گئی

چترال (ٹائمزآف چترال :رپورٹ کریم اللہ) چترال سے 170کلومیٹر شمالی جانب واقع وادی یارخون جہاں انتہائی دو افتادہ اور پسماندہ علاقہ  ہے وہیں اس خطہ کے عوام کی تعلیمی دلچسپی اور نئی نسل کی کامیابیاں بھی نمایاں ہے ۔ غربت وافلاس کے باوجود یہاں کے عوام اپنی اولاد کو جدید زیور تعلیم سے آراستہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔  لوگوں کی اس علمی پیا س کو مدنظر رکھتے ہوئے آغاخان ایجوکیشنل سروس چترال کی جانب سے یارخون میراگرام میں آغاخان ہائی سکول کو ہائر سکنڈری کا درجہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے۔جس پر  عوام اورطلبہ وطالبات میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔


اے کے ای ایس چترال اور علاقہ کے نمائندوں کا انتہائی اہم اجلاس میراگرام میں منعقد ہوا جس میں ادارے اور کمیونٹی کے درمیان کامیاب مذاکرات ہوگئے اور عنقریب دونوں فریقین کے درمیان ایم او یو پر دستخط ہونگے۔ یارخون سے ہمارے نمائندے  کے مطابق ہائر سکنڈری  کلاسز کے آغاز کے لئے پہلے مرحلہ میں 31اسٹوڈنٹس  کی ضرورت ہے ، اور آغاخان ہائی سکول کی موجودہ عمارت ہی میں شفٹ میں کلاسز شروع کردیا جائے گا جبکہ بہت جلد آغاخان ہائرسکنڈری سکول کے عمارت کی تعمیر پر بھی کام کا آغاز کیا جائے گا۔ اس پیش رفت کے بعد علاقہ کے لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ عمایدین کا کہناہے کہ اس فیصلے سے جہاں لوگوں کو ان کی دہلیز پر جدید تعلیم کے مواقع میسر آئینگے وہیں علاقہ کے لوگوں کو  روزگار کے مواقع بھی ملے گی  ۔   عوام نے اس فیصلہ پر جنرل منیجر آغاخان ایجوکیشنل سروس چترال خوش محمد خان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے علاقے کے لئے بہت بڑی خدمت قرار دیا ہے ۔



موڑ کہو کی تین سالہ مبشرہ ناصر کے قتل پر خاموشی کیوں؟


چترال (رپورٹ: کریم اللہ) مبشرہ ناصر والد ناصر احمد موڑکہو کے علاقہ نوگرام سے تعلق رکھنے والی تین سالہ  بچی تھی ۔ 28دسمبر 2017ء کی  شام  اچانک ناصر احمد کے چچا ذات بھائی(جو کہ چترال پولیس کا اہلکار ہے ) کا لاڈلہ بیٹاشہزاد  نمودار ہوا اور آتے ہی صحن میں کسی کام میں مصروف ناصر احمد کو بغیر پوچھے گلے میں ہاتھ ڈال کر مارنا شروع کیا۔ نصیر احمد کسی طرح بھاگ کر اپنے گھر کے اندر چلا گیا تو پیچھے سے وہ لڑکا بھی گھر میں گھس کر ناصر احمد کو مارنے لگا ۔ ناصر احمد کی  تین سالہ بیٹی گھر کے اندر ہی کھیل رہی تھی ۔شہزاد نے ناصر احمد کی ٹانگین پکڑ کر گرا دیا جس پر نصیر احمد اپنی تین سالہ بیٹی مبشرہ ناصر کے اوپر گر پڑااوروہ تین سالہ  معصوم مبشرہ ناصر زور زور سے رونے لگی۔ اس کے بعد مبشرہ کو خونی پیچش شروع ہوگئی اور وہ روز بروز کمزور ہوتی گئی بالآخر 30دسمبر 2017ء  کو اسی وجہ سے  وہ جان بحق ہوگئی ۔ ناصر احمد کا کہنا ہے کہ ہم نے اس واقعہ کے بعد پولیس کو رپورٹ کیا اور اس لڑکے (شہزاد) کو پولیس پکڑ کے لے گئی اور چار دن بعد رہا ہوگیا ۔ جب مبشرہ کے والد سے تفصیلات حاصل کرنے کے لئے  ٹیلی فون کیا تو ان کا گلہ خشک تھا اور وہ بات کرتے ہوئے رو رہا تھا یہی حالت ان کے والدہ کی بھی تھی ۔ ناصر احمد نے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران بتایا کہ وہ لڑکا اب بھی انہیں دھمکیاں دے رہا ہے ۔

کیا نام نہاد غیر سیاسی کے پی پولیس اس جرم میں ملوث لڑکے کو قرا ر واقعی سزا دے گی ؟؟



بکرآباد کا رہائشی 22 سالہ نوجوان گردوں کا علاج نہ ہونے کی وجہ سے چل بسا، بے حس معاشرے اور بے ضمیر حکمرانوں پر سوالیہ نشان چھوڑ گیا


چترال (رپورٹ گل حماد فاروقی) چترال کے مضافاتی علاقے بکر آباد کے رہائیشی 22 سالہ نوجوان صدیق احمد جن کے دونوں گردے فیل ہوچکے تھے، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال چترال میں ان کی موت واقع ہوئی جن کا نماز جنازہ بکر آباد گاؤں میں ادا کی گئی بعد ازاں اسے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ صدیق احمد پر اکتوبر کے مہینے میں ہمارے نمائندے نے میڈیا کیلئے ایک رپورٹ بھی تیار کی تھی جس میں حکومت کے ساتھ ساتھ مخیر حضرات سے بھی مالی امداد کی اپیل کی گئی تھی مگر کسی نے ان کے ساتھ کوئی حاص مدد نہیں کیا۔

صدیق احمد نے ہمارے نمائندے کو بتایا تھا کہ اسے بہت شوق تھا کہ وہ صحت مند نظر آئے اور موٹا ہوجائے ۔ اس مقصد کیلئے وہ گاؤں اور آس پاس کے دکانوں ہی سے موٹاپے کی گولیاں خرید کر کھاتا تھا جس کی وجہ سے اس کے دونوں گردے فیل ہوئے۔ اس کے بعد وہ سعودی عرب گیا وہاں بھی اس کی بدقسمتی نے اس کا پیچھا نہیں چھوڑا اور آحر کار واپس اپنے گھر آیا۔

سوال یہ ہے کہ گاؤں اور گلی کی سطح پر آحر کار ایسے ناقص دوائیاں کیوں بکتی ہیں جس سے لوگوں کو اتنا بڑا نقصان پہنچتا ہے۔ بدقسمتی سے اس ملک کا نظام اتنا مایوس کن ہے کہ آج تک بڑے بڑے معاملات کی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر نہیں آئے تو بائس سالہ صدیق احمد کا کون پوچھتا ہے۔

عوام اکثر شکایت کرتے ہیں کہ یہاں تو جنرل سٹور میں بھی زندگی بچانے والی دوائی بکتی ہے اور چترال کے بالائی علاقے میں تو بعض دکاندار اور میڈیکل ریپ بھی انسانی زندگیوں سے کھیلتے ہیں۔ عوام کا شکایت ہے کہ ڈرگ انسپکٹر کا کام ہے کہ وہ عطائی ڈاکٹروں کو پکڑے اور اس قسم کے ادویات کو بھی اپنے قبضے میں لیکر ان دکانداروں کے حلاف کاروائی کرے مگر جب ڈرگ انسپکٹر سے پہلے ہی یہ مافیا حرکت میں آتی ہے ایک دوسرے کو خبردار کرتے ہیں اور جب ڈرگ انسپکٹر آتا ہے تو اس کیلئے پہلے ہی سے ہوٹل میں کمرہ بک ہوتا ہے وہ کھا پی کر تخفے تحائف لے کر واپس چلا جاتا ہے اور یوں کسی بھی دکاندار کے حلاف کوئی قانونی کاروائی نہیں ہوتی۔

چترال ٹاؤن ہی میں ایسے دکاندار ہیں جو عطائی کے کام کرتے ہیں اور لوگوں کی زندگیوں سے کھیلتے ہیں مگر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کو ایک سیاسی شحصیت کی اشیر باد سے یہ کرسی ملی تھی وہ مہینے میں پندرہ دن پشاور وغیرہ اسلئے جاتا کہ ان کو ٹی اے ڈی ملے کیونکہ ان کو پتہ تھا کہ اگر کوئی صحیح حکومت آئی تو اسے اس دفتر میں بھی نہیں چھوڑے گا ۔ تو آحر کار ایسے لوگوں کے حلاف کاروائی کون کرے گا جو انسانی زندگیوں سے کھیلے اور بغیر کسی مستند ڈگری اور طب کے تعلیم کے ادویات فروخت کرتے ہیں ۔ حالانکہ یورپ وغیر ہ میں کئی کیمسٹ والا ڈاکٹر کے تحریری نسحے کے بغیر کوئی بھی دوائی نہیں دیتی ۔

صدیق احمد کا والد ایک مزدور کارغریب شحص ہے جو پتھر کی دیوار کا مستری ہے اور صدیق احمد اس کے بڑھاپے کا سہارا تھا جو اس سے چھن گیا۔ اس کے موت کے ذمہ دار کون ہے وہ ادویات فروخت کرنے والا دکاندار جو نوجوانوں کو موٹا کرنے کے بہانے گمراہ کرتے ہیں یا وہ ڈرگ انسپکٹر جن کی ذمہ داری تھی کہ ایسے لوگوں کے حلا ف کاروائی کرے تا حکومتی ادارے؟۔

صدیق احمد کی طرح کئی نوجوان یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ چترال میں ڈرگ انسپکٹر، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کی آسامی پر ایسے لوگوں کو تعینات کرے جو نہایت ایمانداری سے ڈیوٹی کرے اور ڈرگ مافیا کی دعوت پر ہوٹلوں میں وقت نہ گزارے بلکہ بازار کا معائنہ کرے اور جو لوگ دوسروں کی زندگی سے کھیلتے ہیں ان کے حلاف بغیر کسی حوف و حطر کاروائی کرے مگر یہ سب کچھ اس ملک میں ممکن نہیں کیونکہ ان کے بچے بھی مہنگے سکول، کالجوں میں پڑھتے ہوں گے ان کے بھی اخراجات ہوں گے۔

اس مایوسی کی حالت میں قوم کسی مسیحا یا خمینی کا انتظار کرتے ہیں۔

جنوری 17, 2018

گھر بیٹھے سودا خریدیں: تین چترالی نوجوانوں نے "کوروم غار" کے نام سے نئی سہولت متعارف کرادی

سام سنگ نے نئے گلیکسی اے 8 ، اے 8 پلس اور گرینڈ پرائم پرو سمارٹ فون پیش کردیئے



گلیکسی اے سیریز میں پہلی مرتبہ گلیکسی A8 اور A8 پلس میں 16 میگا پکسل اور 8 میگا پکسل F1.9 ڈوئل کیمرہ متاثر کن bokeh افیکٹ کے ساتھ موجود ہے۔
ٹیکنالوجی میں عالمی لیڈر سام سنگ نے اپنے انتہائی جدید سمارٹ فونز سام سنگ گلیکسی A8، سام سنگ گلیکسی A8 پلس اور گرینڈ پرائم پرو 2018ء پاکستان میں جاری کر دیئے۔ اس سلسلے میں ایک پروقار تقریب پیر کو یہاں لاہور کے مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں سام سنگ ای سی پاکستان کے صدر وائی جے کم مہمان خصوصی تھے جبکہ متعدد سام سنگ ڈیلرز اور ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔

سام سنگ پاکستان کے صدر وائی جے کم نے اس موقع پر کہا کہ
 گلیکسی اے 8 فیملی میں توسیع کے مقاصد کے ساتھ A8 اور A8 پلس صارفین کے لئے موزوں درمیانے درجے کے سمارٹ فونز ہیں۔ ان ڈیوائسز کی قدر ان کی جدید خصوصیات اور افعال میں موجود ہے جو پہلے سے کہیں زیادہ سہولت پیش کرتے ہیں۔ گرینڈ پرائم پرو بہت سی دلچسپ ٹیکنالوجیز سے مزین ہے جس میں سپر ایمولڈ سکرین جو کرسٹل کلیئر نظارہ فراہم کرتی ہے جس کی وجہ سے اس فون کو پاکستانی صارفین کے درمیان بہت مقبولیت حاصل ہے۔

A8 میں 5.6 انچ ٹچ سکرین جبکہ A8 پلس میں 6 انچ ٹچ سکرین موجود ہے جس کے فرنٹ پر 2.5 ڈی گلاس اور بیک پر 3 ڈی گلاس پائیداری کے لئے لگایا گیا ہے۔ ان سمارٹ فونز کی انفنٹی ڈسپلے سکرینز ایک کرسپ ایچ ڈی ریزولوشن (1280x2220) زیادہ تفصیل جبکہ ایک وسیع افقی ویو اور شاندار سینما تجربہ فراہم کرتی ہے۔ آل ویز آن ڈسپلے صارفین کو صارفین کو اپنا فون ان لاک کئے بغیر معلومات فراہم کرتا ہے۔

یہ سمارٹ فونز 1.6 Ghz اوکٹا کور پروسیسرز کے حامل ہیں اور دونوں ڈیوائسز 4 جی بی ریم کے ساتھ دستیاب ہیں۔ ان فونز میں 64 جی بی سٹوریج ہے جسے ایکسٹرنل میموری کارڈ کے ذریعے 256 جی بی تک توسیع دی جا سکتی ہے۔ ’’سام سنگ پے‘‘ کی خصوصیت صارف کو فون کے استعمال سے مکمل مالیاتی ادائیگیاں زیادہ تیزی اور آسانی سے کرنے کے قابل بناتی ہے۔

گلیکسی اے سیریز میں پہلی مرتبہ گلیکسی A8 اور A8 پلس میں 16 میگا پکسل اور 8 میگا پکسل F1.9 ڈوئل کیمرہ متاثر کن bokeh افیکٹ کے ساتھ موجود ہے۔ لائیو فوکس کی خصوصیت صارف کو تصویر کے بیک گرائونڈ کو دھندلا کرنے کا تجربہ فراہم کرتی ہے۔ 16 میگا پکسل F1.7 بیک کیمرہ کم روشنی کے ماحول میں لو ایپرچر اعلیٰ معیاری تصاویر کو ممکن بناتا ہے۔ ڈیجیٹل ویڈیو امیج سٹیبلائزیشن ٹیکنالوجی متزلزل تصاویر کو ممکن بناتی ہے جبکہ اس کا کیمرہ وقت کے وقفہ کی حامل ویڈیو بنانے کے لئے ہائپر لیپس خصوصیت فراہم کرتا ہے۔

یہ ڈیوائسز ملٹی ٹاسکنگ آسانی سے فراہم کرتی ہیں۔ گلیکسی اے 8 میں 3000 ایم اے ایچ بیٹری، A8+ میں 3500 ایم اے ایچ بیٹری موجود ہے جو کئی گھنٹوں کے لئے فون کو استعمال کرنے کے قابل بناتی ہیں۔ دونوں ڈیوائسز پانی اور مٹی سے محفوظ رہنے کے لئے IP68 ریٹنگ کی حامل ہیں۔



گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے طالب علم کو لاہورمیں بہیمانہ تشدد کرکے قتل کردیا گیا


لاہور / گلگت (ٹائمز آف چترال نیوز) گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے طالب علم دلاورعباس ولد اخوند عباس کو  لاہور میں 20 سے زائد افراد نے بہیمانہ تشدد کے بعد قتل کردیا۔ لاہور کے ماڈل ٹاؤن میں ایک کرکٹ گراؤنڈ پر معمولی بات پر 20 سے زائد متعصب پنجابی لڑکوں نے تشدد کا نشانہ بنایا، دلاور کو کرکٹ کے بیٹوں اور ہاکی اسٹکس سے اتنا مارا کہ دلاور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال میں دم توڑ دیا۔

سہانے مستقبل کا خواب لئے دلاور یونیورسٹی میں داخلے کے لئے لاہور گیا تھا اور داخلہ حاصل کرنے کے لئے کوشاں تھا۔ دلاور کے قتل کی خبر پہنچتے ہی گھر اور گاؤں میں سوگ کا عالم ہے۔ دلاور اپنے والدین کا اکلوتا فرزند تھا۔ پنجاپ پولیس اپنی روایتی سرد مہری اور جاہلیت پر قائم ہے۔ ابھی تک دلاور عباس کے قتل کا ایف آئی آر ملزمان کے خلاف درج نہیں کیا ہے اور نہی کوئی گرفتاری عمل میں لائی ہے۔ ذرائع کے مطابق پولیس پر مقامی ایم این اے کا دباؤ ہے۔ 

دلاور عباس کا تعلق گلگت بلتستان کے ضلع گانگچھے کا چھوٹے سے گاؤں کونیس آباد سے ہے۔ کونیس آباد گانچھے کے صدر مقام خپلو کی طرف جاتے یگو گاؤں سے پہلے آنے والے پل عبور کرکے آتا ہے۔



جنوری 16, 2018

پرویز رشید مسلم لیگ ن کے سیاسی ارسطو بنے بیٹھے ہیں: چوہدری نثار

اسلام آباد (ویب ڈیسک) ن لیگ کے دو رہنماؤں کے درمیان لفظی جنگ جاری ہے۔ پرویز رشید کے الزامات اور پارٹی سے نکالے جانے کے مطالبے کے بعد سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا ہے کہ پرویز رشید مسلسل غلط بیانی اور خوشامد کے عادی ہیں، اِنہیں دو خصوصیات کی وجہ سے وہ اس وقت مسلم لیگ ن کے سیاسی ارسطو بنے بیٹھے ہیں۔


ترجمان چوہدری نثار کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ چوہدری نثار سے متعلق یہ بیان کہ وہ شیر کے نشان کے بغیر کبھی الیکشن نہیں جیتے جھوٹ اورغلط بیانی کی ایک واضح مثال ہے۔ انہوں نے 1985، 1988، 1990اور 2013 میں شیر کے نشان کے بغیر الیکشن لڑے اور بھی جیتےہیں۔

 چوہدری نثار کے ترجمان کے مطابق، ڈان لیکس کی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں پرویز رشید کے مسلسل جھوٹ بولنے کی نشاندہی کی تھی ، بہتر یہ ہے کہ وہ غیر ضروری بیان بازی کے بجائے حقائق قوم کے سامنے لانے کےلئے اپنی حکومت کو ڈان لیکس کی رپورٹ عام کرنے پرمجبور کردیں۔



تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں