18 ستمبر، 2018

عمران خان پہلے سرکاری دورے پر برادر اسلامی ملک روانہ، روضہ رسول ﷺ پر حاضری اور عمرہ کی سعادت بھی حاصل کریں گے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) عمران خان پہلے سرکاری دورے پر برادر اسلامی ملک روانہ ہو گئے۔ وزیراعظم عمران خان اپنے 2 روزہ سرکاری دورے پر سعودی عرب روانہ ہوگئے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان وفد کے ہمراہ  جن میں  وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر خزانہ اسد عمر، وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور وزیراعظم کے مشیر عبدالرزاق داؤد شامل ہیں، سعودی عرب روانہ ہوئے ۔ ذرائع کے مطابق  وزیراعظم عمران خان متحدہ عرب امارات کے ولی عہد کی دعوت پر متحدہ عرب امارات بھی جائیں گے۔ واضح رہے کہ وزیراعظم سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان کی دعوت پر یہ دورہ کر رہے ہیں۔  دفتر خارجہ کے ترجمان مطابق وزیراعظم عمران خان دورہ سعودی عرب کے دوران سعودی فرمانروا اور ولی عہد سے الگ الگ ملاقاتیں کریں گے۔ اس دوران وہ مدینہ منورہ میں زیارت اور عمرہ  کی سعادت بھی حاصل کریں گے۔ وزیراعظم سے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر یوسف بن احمد بھی ملاقات کریں گے۔ اور توقع ظاہر کیا جارہا ہے کہ وزیراعظم دبئی میں پاک انڈیا میچ بھی دیکھیں گے۔



چترال کے محتلف مارکیٹوں میں چھاپہ، ہزاروں کی تعداد میں جعلی اور زائدالمیعاد اشیاء برآمد، فروخت کنندگان کو جرمانہ

ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر(ایگزیکٹیو مجسٹریٹ) فضل الرحیم نے چترال کے محتلف
مارکیٹوں میں چھاپہ مارکر ہزاروں کی تعداد میں جعلی اور زائدالمیعاد
چیزیں برآمد کرلی۔ ملزمان کو موقع پر جرمانہ کیا گیا۔

چترال(گل حما د فاروقی) عوام کے شکایت پر ضلعی انتظامیہ جعل سازوں کے حلاف حرکت میں آگئی۔ چترال کے ایڈیشنل اسسٹنٹ مجسٹریٹ ایگزیکٹیو مجسٹریٹ فضل الرحیم نے چترال کے محتلف بازاروں پر چھاپہ ماکر دکانوں کی تلاشی لی اس دوران ان دکانوں سے ہزاروں کی تعداد میں جعلی اور زائد المیعاد Expire شیمپو، صابن، کریم، مٹھائی، منرل واٹر، شربت وغیرہ برآمد کرکے دکانداروں کو جرمانہ کیا اور ان ناقص چیزوں کو اپنے قبضے میں لیکر اسے نذر آتش کیا  جائے گا۔

بازار میں ایسے کئی دکاندار پائے گئے جنہوں نے ان مصنوعات کی میعاد حتم  ہونے کے بعد ان پر دوبارہ سے اپنے طرف سے بنائے ہوئے مہر لگا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ یہ ابھی Expire نہیں ہوا ہے۔ بازار میں جعلی جوس، کوک، منرل واٹر، پیسپی وغیرہ بھی پائے گئے جو اصل نہیں ہے اور چوری چپھے کسی اور جگہہ تیار کئے جاتے ہیں جن پر کمپنی کا ٹریڈ مارک بھی غلط طریقے سے محتلف جگہوں پر لگائے گئے تھے۔



ایگزیکٹیو مجسٹریٹ کو اطلاع ملی کہ جغور کے مقام پر ایک شحص نے گھر کے اندر جعلی جوس کی فیکٹری بنائی ہے جس میں حالی بوتلیں نیچے سے  نگواکر
مینگو، فروٹینا، خوبانی، سیب، آم، انار، آڑو یعنی چھ قسم کے جوس گھر میں تیار کرکے ان برانڈوں کے ان کے پاس چھاپ شدہ لیبل تھے جو ان بوتلو ں پر لگاکر لوگوں کو یہ زہر بیچتا تھا۔ اس کے قبضے سے ایسا مہر بھی برآمد کیا گیا جن پر محتلف تاریح درج تھے اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہ مہر بوتل پر نہیں بلکہ کاغذ یعنی لیبل کے اوپر لگایا جاتا تھا اگر مقررہ وقت حتم ہوجائے تو وہ لیبل ہٹاکر دوسرا لگا تا جس پر دوسرا مہر لگا کر تاریح کو آگے بڑھاتا۔ اس شحص کے پاس نہ تو کوئی لائسنس تھا اور نہ دیگر کاغذات۔ اے اے سی نے ان تمام چیزوں کو اپنے قبضے میں لے لیا اور ان پر بھاری جرمانہ لگایا تاہم اس جعلی فیکٹری کو چلانے والا مالک انتقال کرچکا تھا اور اس کے بچے تھے جس کی وجہ سے ان کو جیل نہیں بھیج دیا کیونکہ ان کی عمریں کم تھی۔

نابیگ کیلاش وکیل نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ ہمیں پتہ بھی نہیں تھا کہ یہ جعلی جوس نما زہر یہاں مقامی سطح پر تیار ہوتے ہیں جنہیں ہم خود بھی پیتے ہیں اور بچوں کو بی پلاتے ہیں ۔ چترال کے بڑی تعداد میں عوام نے ان ناقص اور جعلی چیزوں کو دیکھنے کیلئے اے اے سی کے دفتر پہنچ گئے اور ان کی اس اقدام کو نہایت سراہا۔

اس موقع پر ایگزیکٹیو مجسٹریٹ فضل الرحیم نے صحافیوں کو بتایا کہ ضلعی انتظامیہ نے جعل سازوں کے حلاف کریک ڈاؤن کیا ہے اور جو لوگ عوام کی صحت سے کھیل رہے ہیں ان کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹاجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ان دکانداروں سے باقاعدہ سٹام پیپر پر تحریری اقرار نامہ لیا کہ وہ آئندہ ان چیزوں کو نہ لائیں گے اور نہ انہیں بیچیں گے اگر دوبارہ انہوں نے ایسا جرم کیا تو پھر ان کے اوپر نوے ہزار 90000 روپے جرمانہ اور چھ سال قید کی سزا دی جائے گی۔

اس موقع پر انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بھی ضلعی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کرے اور جہاں بھی کوئی جعلی یا زاید المیعاد چیز فروخت ہورہی ہو تو اس کے بارے میں انتظامیہ کے نوٹس میں ضرور لائے۔

17 ستمبر، 2018

وزارت تو دور کی بات ہے، عامر لیاقت حسین کے ساتھ وہ ہوا جس کی شاید وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا

وزارت تو دور کی بات  ہے، عامر لیاقت حسین کے ساتھ وہ ہوا جس کی شاید وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا



کراچی (ویب ڈیسک) الیکشن میں کامیابی کے محض 10 دنوں بعد ہی اپنے اصل تیور دکھانے والے عامرلیاقت کو پارٹی پالیسی اور ڈسپلین کی خلاف ورزی مہنگی پڑگئی۔ گزشتہ روز یعنی 16ستمبر 2018 کو عمران خان کراچی کے دورے پر تھے۔ وزیراعظم  کی زیرصدارت اجلاس میں شرکت کیلئے آنے والے پی ٹی آئی  رہنما عامرلیاقت کوسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں داخلے کی اجازت نہ ملی ۔ سٹیٹ گیسٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان  کا کہنا تھا کہ شاید 5 منٹ پہلے آگیاہوں اس لیے اجازت نہیں ملی، اجلاس میں شرکت کے لئے ہی آیا ہوں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کراچی پیکج پی ٹی آئی والوں نے بنایا ہے ،آج بڑے اعلانات ہونے جارہے ہیں،آج کراچی کو بڑی خوشخبری ملے گی ۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی جانب توہین عدالت کے

شوکازنوٹس کاجواب دے دیاہے۔ اجازت نہ ملنے پرعامرلیاقت سٹیٹ گیسٹ ہاؤس کے باہر کچھ دیر انتظار کرنے کے بعد واپس لوٹ گئے ہیں ۔


14 ستمبر، 2018

پاکستان میں خواتین کو کاروبار کرنے میں مدد فراہم کرنے کے لئے فیس بک نے ’شی مینز بزنس ‘ پروگرام کو وسیع کردیا

پاکستان میں خواتین کو کاروبار کرنے میں  مدد  فراہم کرنے کے لئے فیس بک نے ’شی مینز بزنس ‘ پروگرام کو وسیع کردیا

یونیورسل سروس فنڈ اسلام آباد اور پنجاب آئی ٹی بورڈ لاہور کے ساتھ شراکت
چھوٹے کاروباروں کے لئے ڈیجیٹل سکلز ٹریننگ اور آن لائن تحفط
یوایس ایف کا اشتراک 80 شہروں تک محیط ہوگی اور 8 ہزار خواتین تک رسائی ہوسکے گی
پی آئی ٹی بی ہرسیلف پروگرام   کے ساتھ اشتراک   پنجاب بھر سے 150 ٹرینرز اور 12000 خواتین ٹرینیز تک رسائی

اسلام آباد : فیس بک نے آج یونیورسل سروس فنڈ اسلام آباد اور پنجاب آئی ٹی بورڈ لاہور کے ساتھ شراکت سے اپنے شی مینزبزنس #SheMeansBusiness  پروگرام کا اجرا کردیا ہے۔  یہ پروگرام کاروباری خواتین کو معلومات، رابطوں، قابلیتوں اور ٹیکنالوجی کے ساتھ اپنے کاروبار کو مستحکم کرنے اور آن لائن فروع کے لئے مدد فراہم کرےگا۔


فیس بک نے حال ہی میں یونیورسل سروس فنڈ  اور پنجاب آئی ٹی بورڈ کے ساتھ شراکت سےاپنے شی مینزبزنس #SheMeansBusiness پروگرام کا اجرا کردیا، پروگرام کاروباری خواتین کو معلومات، رابطوں، قابلیتوں اور ٹیکنالوجی کے ساتھ اپنے کاروبار کو مستحکم کرنے اور آن لائن فروع کے لئے مدد فراہم کرےگا۔تصویر میں مس کلیر ڈیوے  ڈائریکٹر کمیونیٹی آفیئرز، اے پی اے سی، فیس بک وفاقی ویزر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کام  خالد مقبول صدیقی  کو یاد گار پیش کررہی ہیں، تصویر میں حارث ایم چوہدری ، سی ایف او، یوایس ایف بھی موجود ہیں۔


ڈیجیٹل پاکستان کے تحت فیس بک’ شی مینز بزنس‘ یونیورسل سروس فنڈ اور پنجاب آئی ٹی بورڈ کے ساتھ شراکت سے آئندہ 3 سالوں میں پاکستان بھر میں 20 ہزار خواتین تک رسائی حاصل کرکے انہیں ڈیجیٹل سکل کی تریبیت اور چھوٹے کاروباروں کی ترقی اور آن لائن تحفظ فراہم کرے گا۔ پی آئی ٹی بی کے ساتھ شراکت سے  ایک سہ ماہانہ ڈیجیٹل لٹریسی پروگرام  جو  پی آئی ٹی بی کے ’ہرسیلف‘ پروگرام کے حصہ کے طور پر پیش کیا جائے گا۔ 

سال 2016 سے عالمی یوم خواتین   کے موقع پر اپنےآغاز سے لیکر  اب تک ’شی مینز بزنس ‘ بشمول پاکستان21 ممالک تک پھیل چکا ہے اور 42 ہزار کاروباری خواتین کو تربیت فراہم کرچکا ہے۔ 

ڈائریکٹر کمیونیٹی آفیئرز، اے پی اے سی، کلیر ڈیوے نے کہا ’’جب خواتین اچھا کام کرتی ہیں ، اس کا فائدہ سب کو پہنچتا ہے۔ زیادہ تر خواتین ملازمت پیشہ ہیں، کئی رول ماڈلز تیار ہوئی ہیں اور یہاں گونا گونی موجود ہے۔ ہم دنیا بھر میں ’شی مینز بزنس‘  کمیونیٹی کے تعاون اور حوصلہ افزائی سے  فیس بک پر حیرت انگیز چیزیں کررہے ہوتے ہیں۔ پاکستان میں یوایس ایف اور پی آئی ٹی بی کے ساتھ شراکت  سے ہم امید کرتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ پاکستانی خواتین کاروبار شروع کرنے اور کاروبار کی ترقی کے لئے بااختیار اور پرجوش  ہونگی۔‘‘ 

دنیا بھر میں  43 فیصد سرگرم  چھوٹے کاروباروں سے متعلق فیس بک پیجز  خواتین کے ہیں، اس تناسب سے  سال 2017 میں اس میں 21 فیصد اضافہ ہوا اور  سال 2015 سے سال بہ سال 94 فیصد سے زیادہ  اضافہ  ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور اس  جیسے دیگر ممالک کے ساتھ نئی شراکت داریاں قائم کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی جہاں  ڈیجیٹل میں شمولیت اور خواتین کو بااختیار بنانے کا رجحان تیز تر ہے۔

فیس بک  کے فیوچر آف بزنس سروے کی   مدد سے یہ پروگرام تبدیلی  لاسکتا ہے۔  عالمی بینک اور او ای سی ڈی کے ساتھ کئے جانے والے سروے  کے مطابق  وہ کاروبار جن کو خواتین چلاتی ہیں، مردوں کےچلائےجانے والے کاروبار کے  مقابلے  میں زیادہ کامیاب ہوتے ہیں ۔ کیونکہ خواتین اپنے کاروبار کے لئے آئن لائن ٹولز مستعدی سے استعمال کرتی ہیں ۔ ترقی پزیر ممالک میں خواتین کے اندر زیادہ کاروباری رجحانات پائے گئے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک میں خواتین  اپنے خاندانوں کی بہتری کے لئے کاروبار کرنا پسند کرتی ہیں جن میں    بنیادی  صارف  دوست مصنوعات اور سروسزکا کاروبار کرتی ہیں۔ اس عمل سے یہ خواتین مقامی معیشت کے لئےحقیقی انجن کا کام کرتی ہیں۔

اس تحقیق کے مطابق خواتین کی کاروباری صلاحیتوں کو اُجاگر کرنے کے بہت سے فوائد ہو سکتے ہیں۔ اس عمل سے نوکریوں کے نئے مواقع پیدا ہوں گے او ر چھوٹے پیمانے پر مختلف نئے کاروبار شروع ہونے کی وجہ سے معاشی ترقی ہو گی۔ یہ اس وجہ سے ممکن ہے کیونکہ entrepreneurs معاشرے میں نوکریوں کے نئے مواقع پیدا کرتے ہیں او ر اپنے ساتھ کام کرنے والے افراد بشمول ملازمین ، سرمایہ کاروں ، سپلائرز اور دیگر اداروں کی زندگیوں پر مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں ۔

’شی مینز بزنس‘ کے اجرا کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے  ، سی ایف او۔ یوایس ایف حارس ایم چوہدری نے کہا ’’شی مینز بزنس  ایک بہترین اقدام ہے اور یو ایس ایف   آئی سی ٹی گرلز پروگرام کے لئے ایک  شاندار موقع ہے اور ’ٹرین دی ٹرینر‘ اپروچ  کو استعمال کرکے شریک طالبات   اپنے  کاروبار  چلانے کے لئے ٹولز اور تیکنیک  سیکھ سکیں گی۔ ‘‘ انہوں نے کہا ’’اس ٹریننگ میں  اہم موضوعات جیسے ڈیجیٹل سیفٹی شامل ہے جو شناخت کی چوری سے تحفظ ، انٹرنیٹ کا ذمہ دارانہ اور محفوظ استعمال جیسے مسائل  سے متعلق آگاہی فراہم کرتا ہے۔  ان طالبات کو   محفوظ ماحول میں معاشی طور پر خودمختار بنانا  یوایس ایف کے پروگرام  کا اصل مقصد ہے اور فیس بک کے ساتھ شراکت سے پاکستان میں خواتین  کی معاشی ترقی میں مدد ملے گی۔ ‘‘

یہ پروگرام  رواں سال  چلے گا اور 13ستمبر2018 سے اسلام آباد اور 14 ستمبر 2018 سے لاہور میں شروع ہوگا۔

شی مینز بزنس پاکستان پر جائیے:    https://shemeansbusiness.fb.com/pk/




سپریم کورڈ ڈیم تعمیر فنڈ میں عطیات دینے والے یہ ضرور پڑھیں: بینک میں بیٹھے چور کس طرح عوام کے عطیات ہڑپ کرتے ہیں: ڈیم فنڈ کا پیسہ کہاں جاتا ہے؟ ضرور پڑھیں

وزیراعظم ڈیم فنڈ کا بڑا اسکینڈل سامنے آگیا، عوام کی عطیہ کردہ رقم سپریم کورٹ بینک اکاؤنٹ میں پہنچانے کے بجائے چوری چھپے کہاں منتقل کی جاتی رہی؟ تفصیلات پڑھ کر آپکا بھی خون کھول اٹھے گا۔

یہ بات ایک سوشل میڈیا صارف نے بتائی ہے اور عوام کو ہوشیار رہنے کی اپیل بھی کی ہے. سوشل میڈیا صارف نے کیا بتایا؟ آئیں پڑھتے ہیں:

“کل صبح میں بھاشا ڈیم فنڈ میں کچھ رقم جمع کروانے UBL بینک کی برانچ پہنچا. میں نے بینک پہنچ کر ڈپازٹ فارم بھرا اور ڈیم فنڈ میں کچھ پیسے جمع کروا دیے. بینک میں موجود کیشئر نے ڈپازٹ فارم پر بینک کی سٹامپ لگا دی اور اپنے دستخط کرتے هوئے کہا کہ سر آپکی رقم سپریم کورٹ کے بینک اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر دی گئی ہے۔

اصل رسید ایسی ہوتی ہے:


میں نے رقم تو جمع کروادی لیکن پھر بھی مجھے دلی تسلی نہ ہوئی. میں اس کشمکش میں پڑ گیا کہ پتا نہیں میرے یہ پیسے سپریم کورٹ بینک اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہوئے بھی ہیں یا نہیں. میں نے کیشئر سے کہا کہ آپ مجھے بینک کی ڈپازٹ سلپ یا کوئی اور ثبوت دے دیں کہ رقم واقعی ہی سپریم کورٹ بینک اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہوئی ہے۔

اس پر بینک کے کیشئر نے کہا کہ سر آپکی رقم منزل مقصود تک پہنچ چکی ہے، آپ بے فکر رہیں.

اگلے دن میں نے پھر UBL کی برانچ میں کال کی اور مینیجر آپریشنز کو سارے ماجرے سے آگاہ کیا. مینیجر آپریشنز نے بھی مجھے تسلی دیتے هوئے کہا کہ سر آپ نے بلکل صحیح طریقہ کار اپنایا ہے اور ہمیں یقین ہے کہ آپکی رقم ڈیم فنڈ میں شامل کی جاچکی ہے.

مجھے پھر بھی بینک پر شک ہوتا رہا. میں نے کال بند کی اور کسی دوسری UBL بینک کی برانچ میں گیا، ڈپازٹ فارم بھرا اور 500 روپے کی چھوٹی سی رقم ڈیم فنڈ میں عطیہ کی. اب اس برانچ کے مینیجر آپریشنز اور کیشئر نے مجھے ایک بینک کی جانب سے کنفرمیشن ڈپازٹ سلپ بھی دی. یہ دیکھ کر میں بہت حیران ہوا کہ مجھے اس بینک کی برانچ نے تو ثبوت کے طور پر یہ سلپ دے دی ہے لیکن جس برانچ میں میں نے کل ایک بڑی رقم جمع کروائی تھی وہاں کے مینیجر آپریشنز اور کیشئر نے مجھے اس طرح کی سلپ کیوں نہیں دی؟

میں پھر فوراً کل والی برانچ میں پہنچا اور وہاں کے مینیجر آپریشنز سے کہا کہ آپ لوگوں نے مجھے ڈپازٹ سلپ نہیں دی تھی لیکن جس برانچ میں میں آج گیا ہوں وہاں سے تو مجھے ڈپوسٹ سلپ ملی ہے، آخر یہ کیا چکر ہے؟ آپ لوگوں نے مجھے سلپ کیوں نہیں دی؟ مجھے بتائیں.

اس پر مینیجر آپریشنز نے کہا کہ سر آپ صبر کریں میں سسٹم سے چیک کر کے بتاتا ہوں. تھوڑی دیر بعد مینیجر آیا اور کہتا ہے کہ آپکی رقم غلطی سے سپریم کورٹ ڈیم فنڈ میں جانے کے بجائے کسی غیر شخص کے بینک اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہو گئی ہے. ہم کوشش کر رہے ہیں کہ آپکی رقم واپس لیکر سپریم کورٹ کے بینک اکاؤنٹ میں جمع کروائیں.

یہ سن کر مجھے دھچکا لگا اور افسوس ہوا کہ کس طرح غریب عوام اپنے خون پسینے کی کمائی کا حصّہ ڈیم فنڈ میں جمع کروا رہی ہے مگر ان اداروں نے ابھی بھی کرپشن کرنا نہیں چھوڑی. میں نے اب UBL کی مین برانچ میں اپنی شکایات جمع کروا دیں ہیں اور انتظامیہ سے کہا ہے کہ اس معاملے پر سخت ترین ایکشن لے۔

میں اس لیے تمام دوستوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ جب بھی ڈیم فنڈ میں رقم جمع کروائیں تو بینک والوں سے ڈپازٹ سلپ یا کوئی ثبوت ضرور لیں.

اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ عوام اس طرح کے فراڈ سے بچ سکے۔




چترال پسماندہ وادی کیلاش کے بریر میں ڈپٹی کمشنر نے کھلی کچہری کا انعقاد کیا،عوام نے شکایات کے انبھار لگائے۔ ڈی سی نے موقع پر احکامات جاری کئے


چترال کے خوبصورت مگر پسماندہ وادی کیلاش کے بریر میں ڈپٹی کمشنر نے سرو س کھلی کچہری کا انعقاد کیا۔ کھلی کچہری میں عوام نے شکایات کے انبھار لگائے۔ ڈی سی نے موقع پر احکامات جاری کئے۔



چترال(گل حماد فاروقی) چترال کے خوبصورت مگر پسماندہ ترین وادی کیلاش کے بریر گاؤں میں ڈپٹی کمشنر چترا ل خورشید عالم محسود نے سروس کھلی کچہری کا انعقاد کیا جس میں اسسٹنٹ کمشنر ساجد نواز کے علاوہ تمام سرکاری محکموں کے سربراہان نے شرکت کی۔ کھلی کچہری میں عوام نے شکایات کے انبھار لگادئے ۔

منتحب ناظمین او ر کونسلران نے کہا کہ وادی بریر کا سڑک نہایت تنگ اور حراب ہے۔ اس وادی میں صرف ایک سول ڈسپنسری ہے جس میں اکثر مریضوں کو دوائی نہیں ملتی جبکہ وادی کے آبپاشی کی نہریں 2015 کی سیلاب میں تباہ ہوئے تھے جس کی وجہ سے ہماری ذرعی زمین بنجر پڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سول ڈسپنسری کو بنیادی مرکز صحت کا درجہ دیا جائے جبکہ ہائی سکول کو ہائیر سیکنڈری کا درجہ دیا جائے۔ 

عوا م نے شکایات کیا کہ عمارتی لکڑی کی پرمٹ غیر مقامی لوگوں کو اثر رسوح کے بنیاد پر تو ملتے ہیں مگر مقامی لوگ اس سے محروم ہیں۔ ناظمین نے کہا کہ پولیس چوکی کا عملہ ابھی تک کرائے کے مکان میں رہتا ہے جس سے مقامی لوگوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وادی میں سرکاری کی طرف سے کوئی غلہ گودام نہیں ہے۔ 

ڈپٹی کمشنر نے اس موقع پر اقدامات اٹھاتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ان کے تمام مسائل ان کے دہلیز پر حل ہوں گے۔ اس موقع پر محتلف اداروں نے نمائشی سٹال بھی لگائے تھے اور محکمہ صحت کے ڈاکٹروں نے فری میڈیکل کیمپ بھی لگایا جس میں 105 مریضوں کا مفت معائنہ کیا گیا اور ان میں ادویات تقسیم کئے گئے۔ 

کھلی کچہری کے دوران شجرکاری مہم کا بھی آغاز کیا گیا جس میں ڈپٹی کمشنر نے کیلاش قبیلے کے معمر خواتین سے پودے لگواکر ان میں اپنائیت کا احساس پید ا کیا جس پر کیلاش خواتین نے نہایت خوشی کا اظہار کیا کہ ہماری اصل سرمایہ تو یہی درخت ہیں۔ بعد میں مقامی لوگوں میں محکمہ جنگلات کی طرف سے مفت پودے بھی تقسیم کئے گئے۔ ریسکیو 1122 کے سٹال میں عوام کو حطرات سے بچنے اور قدرتی آفات میں لوگوں کی جانیں بچانے کی تربیت دی گئی۔

عوام نے شکایت کیا کہ سردیوں میں جب برف بار ی ہوتی ہے تو ہمارے بچے سکول جانے کیلئے دوسر ی وادی جاتے ہیں جن کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس دوران سکول کی بچیوں نے نہایت سریلی آواز میں علامہ اقبال کا قومی نغمہ پیش کیا۔ سکول کے بچوں اور بچیوں میں سکول بیگ، سٹیشنری ، خشک دودھ بھی مفت تقسیم کئے گئے۔ محکمہ جنگلات کی کمیونٹی ڈیویلپمنٹ افیسر سلیمہ افضل نے بتایا کہ ہم نے خواتین کو شجر کاری مہم میں اس لئے شریک کئے تاکہ وہ بھی ان درختوں کی فروغ اور حفاظت کیلئے کردار ادار کرے۔ 

ڈاکٹر فرح جاوید نے بتایا کہ انہوں نے فری میڈیکل کیمپ میں کافی مریضوں کا معائنہ کیا جس میں گیس کے مریض پائے جاتے ہیں اور ان لوگوں میں خوراک کی کمی کی وجہ سے بیماریاں پائے جاتے ہیں جن پر توجہ دینا نہایت ضروری ہے۔ 

بعد میں ڈپٹی کمشنر نے وادی کے واحد سکول اور سول ڈسپنسری کا بھی معائنہ کیا انہوں نے عوامی شکایت پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کو سختی سے ہدایت کیا کہ وہ اس ڈسپنسری میں لیڈی ہیلتھ وزیٹر اور دیگر عملہ ایک ہفتے کے اندر بھیج دے۔ 

ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ صوبائی حکومت کی ہدایت پر وہ مہینے میں دو کھلی کچہری کا انعقاد کریں گے مگر یہ سروس کھلی کچہری ہوں گے جس میں لوگوں کے ان کے دہلیز پر خدمات بھی فراہم کریں گے۔ کھلی کچہری میں تمام محکموں نے سٹال لگائے تھے اور اس میں کثیر تعداد میں مسلمان اور کیلاش لوگوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر مہمانوں کو کیلاش روایات کے مطابق زرد رنگ کے چمکیلے چوغے بھی پہنائے گئے جو کیلاش روایات کے مطابق عزت کی نشان سمجھی جاتی ہے



نیشنل کائونٹر ٹیرارزم اتھارٹی کے تعاون سے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خاتمے پر آگاہی کے حوالے سے سیمنار کا انعقاد کیا گیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سکیورٹیز اینڈ ایکس چینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے غیر منافع بخش اداروں کو ایس ای سی پی کے منی لانڈرنگ کی اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے لئے ریگولیٹری فریم ورک پر آگاہی دینے کے لئے نیشنل کائونٹر ٹیرارزم اتھارٹی ( نیکٹا) کے تعاون سے سیمینار منعقد کیا۔ ایس ای سی پی نے حال ہی میں غیر منافع بخش اداروں کے لئے اینٹی منی لانڈرنگ اور کائونٹر فنانشل ٹیرارزم گائیڈ لائنز جاری کی ہیں جن میں ان اداروں کو ان اقدامات سے متعلق رہنمائی فراہم کی گئی ہے جو منی لانڈرنگ کی اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے لئے غیر منافع بخش اداروں (این پی اوز) کو قانون کے تحت اٹھانے ہیں۔

اس سیمینار کا مقصد غیر منافع بخش شعبے اور حکومتی اداروں کے مابین اس حوالے سے شراکت داروں اور تعاون کو فروغ دینا تھا۔

بین الاقوامی ادارے، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے بھی حکومت اور غیر منافع بخش اداروں کے مابین باہمی تعاون اور مشترکہ کاوشوں کی سفارش کی گئی ہے۔ ایس ای سی پی کے حکام نے شرکاء کو کمپنیز ایکٹ 2017 کے تحت تشکیل دی گئی غیر منافع بخش اداروں پر لاگو ہونے والے انضباطی فریم ورک سے آگاہ کیا۔

انہوں نے غیر منافع بخش تنظیموں کے لئیمنی لانڈرنگ / دہشت گردی کی مالی معاونت کے تدارک کی متعلق کئے گئے انضباطی اقدامات پر روشنی ڈالی۔ مزید برآں شرکا ء کو بتایا گیا کہ گائیڈ لائنز کے اجراکے ذریعے ایس ای سی پی نے کوشش کی ہے کہ منی لانڈرنگ کے انسداد اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے تدارک کو اس انداز میں کیسے یقینی بنانا ہے کہ غیر منافع بخش تنظیموں کا بنیادی کام متاثر نہ ہو۔

نیکٹا کے ماہرین نے شرکاء کو نیکٹا کی جانب سے ملک میں دہشت گردی کی مالی معاونت کے تدارک کے ضمن میں کئے گئے اقدامات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے دیگر سٹیک ہولڈرز اور اتھارٹیز کے تعاون سے ایف اے ٹی ایف کی سفارش نمبر 8 پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لئے نیکٹا کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کی بھی وضاحت کی۔ سیمینار میں صحت، تعلیم، معاشرتی اصلاح کے شعبوں میں کام کرنے والے غیر منافع بخش اداروں، این جی اوز کے نمائندوں نے بھر پور شرکت کی اور دلچسپی کا اظہار کیا۔

غیر منافع بخش اداروں کی کمپنیز ایکٹ کی دفعہ 42 کے تحت لائسنس کے طریقہ کار، ٹیکس چھوٹ حاصل کرنے کے لئے سرٹیفیکیٹ کے حصول اور مختلف حکومتی اداروں سے سکیورٹی کلیئرنس کے معاملات پر بھی بات ہوئی۔ ایس ای سی پی کے حکام نے حال ہی میں جاری کئے گئے اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے لئے جاری کئے گئے انضباطی فریم ورک پر بریفنگ دی اور شرکا سے اس حوالے سے آراء و تجاویز لیں۔
اس سلسلے میں مزید سیمینار دیگر شہروں میں بھی منعقد کئے جائیں گے تاکہ ملک بھر کے غیر منافع بخش شعبے میں کام کرنے والے اداروں کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے سفارشات اور ایس ای سی پی کے ریگولیٹری فریم ورک سے آگہی فراہم کی جائے اور منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف موثر اقدامات کئے جا سکیں۔




13 ستمبر، 2018

اوپو سمارٹ فون کمپنی نے فل اسکرین ڈسپلے، ڈوئل رئیر کیمروں کا حامل A5 اسمارٹ فون متعارف کرادیا

اوپو سمارٹ فون کمپنی نے فل اسکرین ڈسپلے، ڈوئل رئیر کیمروں کا حامل A5 اسمارٹ فون متعارف کرادیا

کراچی: سیلفی ایکسپرٹ اوپو (OPPO) نے A3اسمارٹ فون کی کامیابی کے بعد اسی سیریز میں حیران کن ڈیزائن اور ڈوئل ریئر کیمروںکی خصوصیات کے ساتھ A5کے نام سے نیا اسمارٹ فون متعارف کیا ہے۔ اوپو A5اسمارٹ فون میں 13 میگا پکسل پلس 2 میگا پکسل کے ڈوئل ریئر کیمرے ہے جبکہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے آراستہ 8 میگا پکسل کا فرنٹ کیمرا اور سپر فل اسکرین ہے ۔ یہ فیچرز کم قیمت میں بہترین اسمارٹ فون کے استعمال کی سہولت پیش کرتے ہیں ۔ یہ ڈیوائس آرٹیفیشل انٹیلی جنس بیوٹی ٹیکنالوجی 2.0 سے آراستہ ہے جو نوجوان صارفین کو حقیقی اور زیادہ قدرتی انداز سے سیلفی کے استعمال کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ یہ 4GB RAM اور32GB ROMاسٹوریج کے ساتھ کوالکم اسنیپ ڈریگن 450 اوکٹا کور پروسیسر اور 4230 ایم اے ایچ بیٹری کے ساتھ 27 ہزار 999 روپے میں جدت انگیز فیچرز کے ساتھ بہترین ڈیوائس ہے۔



اوپو پاکستان کے سی ای او جارج لانگ نے اسے متعارف کرانے کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا، "اوپو کا ویژن ہے کہ نوجوان صارفین کو ڈیزائن اور ٹیکنالوجی میں مسلسل جدت کے ذریعے بااختیار بنایا جائے ۔ اوپو A5اپنے صارفین کی زندگیوں کو مزید باسہولت بنانے کے لئے تیار ہے۔ ہم مواد، خدمات اور ٹیکنالوجی کے ملاپ میں مزید بہتری لانے کے لئے مسلسل کوشاں ہیں تاکہ اپنے صارفین کو مزید بہتر کاموں کے لئے بااختیار بنایا جائے۔ جدید ترین فیچرز اور حیران کن باڈی کے ساتھ A5اسمارٹ فون استعمال میں پہلے سے زیادہ باسہولت ہے۔”

اس میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس بیوٹی ٹیکنالوجی ایک روایتی سوفٹ ویئر پروگرام کے مقابلے میں فوٹوگرافر کے دماغ کی طرح کام کرتی ہے۔ اوپو کی آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹیکنالوجی اعلیٰ سطح کے سپلائیرز سے حاصل کلاؤڈ ڈیٹا بیس استعمال کرتی ہے جس کے اسمارٹ ٹرمینلز میں بھرپور فیشل ریکاگنیشن میں معاونت کے لئے کافی سہولت ہے۔ اوپو A5میں 8 میگا پکسل کے فرنٹ لینس اور 13 میگا پکسل پلس 2 میگا پکسل کے ڈوئل رئیر لینس شامل ہے۔ اسکے فرنٹ کیمرے میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس بیوٹی ٹیکنالوجی تصاویر لینے کے لئے انتہائی آسان ہے۔ اس کا فرنٹ کیمرا روشن اور قدرتی سیلفیز لینے کو یقینی بناتا ہے جبکہ ڈوئل ریئر کیمرافوٹوگرافی کے استعمال میں مزید اضافہ لے آئے گا اور منظر زیادہ حقیقی لگے گا۔


اوپو A5اسمارٹ فون کی لمبائی 6.2 انچ ہے، یہ سپر فل اسکرین بنیادی طور پر ٹاپ کو الگ کرتی ہے، یہ اسکرین ڈسپلے کا ایک حصہ ہے۔ فل اسکرین کی جانب سے یہ اسپیس عام طور پر استعمال میں نہیں آتا۔ سپر فل اسکرین نوٹیفکیشنز جیسے بیٹری کے اعداد و شمار، تاریخ اور دیگر ایپلی کیشنز کے لئے استعمال میں معاون ہے۔ چاہے آپ کوئی تصویر، ویڈیو دیکھ رہے ہوں یا کوئی اور گیم کھیل رہے ہوں۔ یہ حیران کن طور پر چوڑائی کے ساتھ منظر کشی کرتا ہے۔ فی الوقت فل اسکرین آپشنز بیشتر برانڈز کے فلیگ شپ ماڈلز میں ہی دستیاب ہے۔

اوپو A5کی سپر فل اسکرین کے ساتھ کوئی بھی بہتر منظر کشی سے محظوظ ہوسکتا ہے۔ اوپو کی Aسیریز میں A5پہلا اسمارٹ فون ہے جس کے ساتھ سپر فل اسکرین ہے۔ اسکی بیٹری لائف بھی غیرمعمولی ہے، یہ 4230 ایم اے ایچ بیٹری سے آراستہ ہے جو ڈیوائس کو طویل دورانئے کے استعمال کے قابل بناتا ہے۔ مزید پرسکون اور خوشگوار بصری منظرکشی تخلیق کرنے کے لئے A5اسمارٹ فون متحرک رنگوں اور حیران کن ڈیزائن کے ساتھ سامنے آتا ہے۔

اوپو کا A5غیرمعمولی کارکردگی سے آراستہ ہے اور اس میں بیشتر فیچرز نوجوانوں کی دلچسپ کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کئے گئے ہیں۔ A5اسمارٹ فون میں موجود بعض دلچسپ فیچرز میں اسمارٹ لاک، اسمارٹ ڈرائیونگ، فل اسکرین ملٹی ٹاسکنگ اور میوزک پارٹی شامل ہیں۔

A5اسمارٹ فون 13 ستمبر سے ملک بھر میں فروخت کے لئے دستیاب ہے۔


کوکا۔کولا کےاشتراک سے 12ویں سولر واٹر فلٹریشن پلانٹ کا افتتاح کردیا گیا

اوکاڑہ میں سولر واٹر فلٹریشن پلانٹ کی افتتاحی تقریب میں رکن پنجاب اسمبلی جگنو محسن شریک 

کراچی: کوکا۔کولا نے روٹری پاکستان نیشنل پولیو وائرس کمیٹی اور انتظامی پارٹنر کے طور پر یو این ڈی پی کے ساتھ 'زندگی' پروجیکٹ کے لئے اشتراک کیا ہے۔ اس پروجیکٹ کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان میں پینے کا صاف پانی فراہم کیا جائے اور آلودہ پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کو روکا جائے۔ 80 ہزار مالیت ڈالر کا پروجیکٹ اس وقت دوسرے مرحلے میں ہے جس کے لئے کوکا۔کولا فاو ¿نڈیشن کی جانب سے سرمایہ فراہم کیا گیا ہے۔ اس مرحلے میں پانچ میں سے چار شمسی توانائی سے چلنے والے فلٹریشن پلانٹس کا اوکاڑہ ضلع کے علاقہ بستی رحیم بخش، رینالہ خرد میں افتتاح کیا گیا ہے۔ زندگی پروجیکٹ کے دوسرے مرحلے کی تکمیل سے ایک لاکھ افراد بشمول 20 ہزار خواتین اور 40 ہزار بچے مستفید ہوں گے۔ اس پلانٹ کا مشترکہ طور پر افتتاح رکن پنجاب اسمبلی جگنو محسن، کوکا۔کولا پاکستان کے ڈائریکٹر پی اے سی فہد قادر اور روٹری نیشنل چیئر کے عزیز میمن کی جانب سے کیا گیا۔ 



پنجاب اور سندھ کے کچے کے علاقوں میں ایک لاکھ 40 ہزار کی آبادی کو پینے کے صاف پانی کی باسہولت رسائی کی فراہمی کے لئے رواں سال اس پروجیکٹ کے دوسرے مرحلے کا آغاز کیا گیا ۔ ان علاقوں میں شمسی توانائی سے چلنے والا ہر پلانٹ فی شفٹ دن میں دو بار 3 ہزار گیلن پانی ریچارج کرتا ہے۔ قبل ازیں، سال 2014 میں کراچی کے علاقہ ملیر میں پہلا ریورس اوسموسس پلانٹ نصب کیا گیا جس کے نتیجے میں وہاں آلودہ پانی سے پھیلنے والی بیماریوں میں 70 فیصد تک کمی آچکی ہے۔ 

کوکا۔کولا اور روٹری کے درمیان اس اشتراک کے بارے میں فہد قادر نے کہا، "شمسی توانائی سے چلنے والا یہ 12 واٹر فلٹریشن پلانٹ ہے۔ یہ پلانٹس پاکستان بھر میں متاثرہ مضافاتی و دیہی علاقوں میں پینے کے پانی کی فراہمی کے مقصد کے ساتھ لگائے گئے ہیں۔ روٹری کے ساتھ ہماری پارٹنر شپ کا اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز میں روٹری ڈے پر بین الاقوامی سطح پر اعتراف کیا گیا اور اسے پاکستان میں پولیو کے خاتمہ کے لئے مشترکہ اور ذمہ دارانہ اشتراک کی بہترین مثال کے طور پر پیش کیا گیا۔ پاکستان کی فلاح و بہبود کے گہرے عزم کے ساتھ ہماری سوچ یہ ہے کہ پائیدار ترقی کے ذریعے لوگوں کے لئے مشترکہ طور پر اہمیت پیدا کی جائے ، جس پر ہماری قوم کی صحت کا انحصار ہے۔" 

رکن پنجاب اسمبلی جگنو محسن نے شمسی توانائی سے چلنے والے اس واٹر فلٹریشن پلانٹ کے لئے زمین عطیہ کی اور افتتاح کے موقع پر مقامی حکام کو اسکی علامتی چابی پیش کی تاکہ مقامی آبادی کے ساتھ پائیدار انداز سے تعاون کی اہمیت اجاگر ہو۔ اس موقع پر رکن پنجاب اسمبلی جگنو محسن نے کہا، "اس پروجیکٹ کا حصہ بننے پر مجھے فخر ہے جو خاص طور پر پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے ذریعے لوگوں کی دیکھ بھال کیلئے کام کرتا ہے۔ کوکا۔کولا جیسے ملٹی نیشنل، روٹری اور یو این ڈی پی اس کام کے لئے مشترکہ طور پر سامنے آتے ہیں تو اس سے بہتری آتی ہے۔ تاہم رینالہ خرد کے مقامی افراد کو چاہیئے کہ وہ اس فلٹریشن پلانٹ کو چلانے کی ذمہ داری قبول کریں اور اپنے مردوں، خواتین اور بچوں میں صحت و صفائی اور پانی کے محفوظ استعمال سے متعلق اہمیت اجاگر کی جائے ۔ پولیو کی وجہ سے قوم معذور ہوسکتی ہے، اس لئے ہم سب کو اس بیماری کی روک تھام کے لئے مل کر کام کرنا چاہئیے، قبل اسکے کہ تاخیر ہوجائے۔"

اس موقع پر روٹری نیشنل چیئر عزیز میمن نے جگنو محسن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا، "پولیو آلودہ پانی سے پھیلنے والا مرض ہے اور بدقسمتی سے پاکستان میں یہ مرض بدستور موجود ہے۔ تاہم کوکا۔کولا، یو این ڈی پی جیسے پارٹنرز اور سرکاری حکام کی کاوشوں نے اہم کردار ادا کیا ہے جس کی بدولت رواں سال پولیو کیسز میں تقریبا 90 فیصد تک کمی آچکی ہے۔ اوکاڑہ کے اس علاقے میں واٹر فلٹریشن پلانٹ ہمارے عزم کا ثبوت ہے اور امید ہے کہ جلد ہی پاکستان پولیو سے پاک ملک ہوگا۔" 

پینے کے صاف پانی کی آسان رسائی سے شرح اموات میں کمی آتی ہے، معیار زندگی بہتر ہوتا ہے اور خواتین کو دور دراز مقامات سے پانی کی لانے کی مشقت نہیں کرنی پڑتی جبکہ وقت کی الگ بچت ہوتی ہے۔ مقامی سطح پر صحت و صفائی کی تعلیم سے متعلق آگہی مہموں کے نتیجے میں بیماریوں میں کمی آتی ہے اور لوگوں کے علاج و معالجہ پر آنے والے اخراجات بھی کم ہوجاتے ہیں۔ 



12 ستمبر، 2018

وادی گولین میں ہزاروں سال پرانے صنوبر کے درخت حکام کی توجہ کا منتظر۔ صنوبر کے اس قیمتی اور ہزاروں سا ل پرانی جنگل کی حفاظت کی اشد ضرورت ہے ۔

وادی گولین میں ہزاروں سال پرانے صنوبر کے درخت حکام کی توجہ کا منتظر۔ صنوبر کے اس قیمتی اور ہزاروں سا ل پرانی جنگل کی حفاظت کی اشد ضرورت ہے ۔

چترال (گل حماد فاروقی) چترال کی جنت نظیر وادی گولین ابھی تک سیاحوں کے ساتھ ساتھ حکام کی نظروں سے بھی اوجھل رہی ہے۔ یہ وادی چترال شہر سے صرف45 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے مگر اس کی سڑکیں کھنڈر کا منظر پیش کرتا ہے اور یہاں پہنچنے کیلئے دو سے ڈھائی گھنٹے لگتے ہیں۔ 

وادی گولین میں پہاڑوں کے پیچھے سینکڑوں سال پرانے برفانی تودے (گلیشئر) پڑے ہیں جو اب موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے پگھل کر ان پہاڑوں کے نیچے سے صاف پانی کے چشمے پھوٹتے ہیں۔چاروں طرف دودھیاں اور صاف پانی کے چشمے صنوبر کے اس جنگل کی خوبصورتی میں اضافی کرتی ہے۔

صنوبر کا یہ قدرتی جنگل ہزاروں سالوں سے اس وادی کی زینت کا باعث بنا ہوا ہے مگر حکام کی غفلت کی وجہ سے یہ جنگل بھی آہستہ آہستہ ناپید ہوتا جارہا ہے۔ محکمہ جنگلات کے ڈویژنل فارسٹ آفیسر شوکت فیاض کا کہنا ہے کہ ان درختوں کو دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ یہ حضرت نوح علیہ السلام کے زمانہ سے یہاں کھڑے ہیں کیونکہ یہ بہت پرانے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ محکمہ جنگلات اب یہاں دیگر پودے لگاکر صنوبر کے اس قیمتی جنگل کی حفاظت کیلئے ا س کے ارد گرد جنگلہ لگائیں گے تاکہ صنوبر کے یہ قیمتی درخت مال مویشی کی چھرانے سے بچ جائے اور اسے فروغ دیا جاسکے۔

قاضی محمد جنید ایک مقامی سیاح ہے ان کا کہنا ہے کہ اس نے کبھی بھی ایسی خوبصورت جگہہ نہیں دیکھی تھی یہاں آکر وہ حیران رہ گیا کہ چترال میں اتنی خوبصورت جگہہ بھی ہیں جہاں ہزاروں سال پرانی صنوبر کے درخت موجود ہیں۔ 
جواد حسن ایک طالب علم ہے جو پشاور سے ان حسین نظاروں کو دیکھنے آیا ہے اس نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ جب ہم چترال آرہے تھے تو راستے میں کافی تھکاوٹ ہوئی اور واپس جانے کا ارادہ کیا مگر جب یہاں پہنچ کر ان حسین نظاروں کو دیکھا تو بہت مزہ آیا۔ ہم تو گاؤں میں بالکل سوئے ہوئے تھے اور کافی بور ہوئے تھے مگر یہاں قدرتی آبشار، صاف پانی کے چشمے، صنوبر کے پرانے اور خوبصورت درخت سیاحوں کو کھینچ لاتی ہے۔ 

وادی گولین کو قدرت نے بے نتہا حسن دیا ہے مگر اس کی راستے نہایت حراب ہے سارا راستہ کچا ہے اور جگہہ جگہہ اس میں کھڈے پڑے ہیں اگر گولین وادی تک راستے بنائے جائے تاکہ سیاحوں کو آنے جانے میں مشکلات کا سامنا نہ ہو تو کثیر تعداد میں ملکی اور غیر ملکی سیاح اس وادی کا رح کریں گے جس سے اس خوبصورت مگر پسماندہ وادی کے مکینوں کا قسمت ضرور بدلے گا۔ اس وادی میں آلوکا فصل بہت ہوتا ہے اور یہا ں کا آلو چپس بنانے کیلئے مشہور ہیں۔ اس کے علاوہ وادی میں سیب، اخروٹ، ناشپاتی، آڑو کا پھل بھی پایا جاتا ہے۔ 




8 ستمبر، 2018

تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال دروش میں بلڈ بینک کا افتتاح کردیا گیا

تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال دروش میں بلڈ بینک کا افتتاح کردیا گیا



چترال (ایم۔فاروق) آج تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال دروش  میں بلڈ بنک کا افتتاح ہوا جس میں  نوجوان خون کا عطیہ دینے کے لئے ہسپتال میں حاضر نوجوان اسکریننک کرالی تاکہ بوقت ضرورت مریضوں کی داد رسی ممکن ہو پروگرام میں زیادہ تعداد میں عوام کی شرکت اور  اے سی دروش، ایم ایس ڈاکٹر محُمد یعقوب، ڈاکٹر تیمور، پرنسپل ہائر سیکنڈری سکول دروش محمد سلیم کامل، ضلعی نائب صدر پی ٹی آئی حاجی گل نواز خان ،سیٹھ حیدر عباس، خوش نواز خان المعروف ملک شہزادہ نظام الدین ،حاجی خورشید علی خان، صلاح الدین طوفان کے علاؤہ دیگر عمائیدین دروش نے شرکت کی جبکہ گورنمنٹ ہائر سکینڈری سکول دروش کے سکاوٹس کے 4گروپ پاکستان سکاوٹننگ کیمپنگ کے سلسلے میں اپنے پرنسپل محمد سلیم کامل اور سکاوٹ ماسٹر  محمد نواز کی سربراہی میں سکاوٹ وردی میں ملبوس شرکت کیں جسے عوا الناس بہت سراہا،  اس کے بعد بلڈ بنک کا افتتاح ہوا جبکہ دو الٹرا ساونڈ مشین  اور انستھیزیا مشین بی ہسپتال پہنچا ئی گئی ۔ا ختتامی دعاء کے بعد ایم ایس ڈاکٹر محمد یعقوب کی طرف سے ریفرشمنٹ میں شرکت کی گئ ڈاکٹر محمد یعقوب نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا اور ہسپتال کے فوری ضروریات کی نشاندہی کی۔





گورنمنٹ ہائی سکول کوغزی میں شجر کاری مہم، طلباء اور اساتذہ کرام نے ملکر پودے لگائے

گورنمنٹ ہائی سکول کوغزی میں شجر کاری مہم، طلباء اور اساتذہ کرام نے ملکر پودے لگائے


چترال (ایم فاروق) تفصیلات کے مطابق 7 ستمبر 2018 کو گورنمنٹ ہائی سکول کوغزی میں بھی شجر کاری مہم کا آغاز کرلیا گیا ، جسمیں سکول کے سکاوٹس بوائس نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔  اس مقصد کے لیے سکول انتظامیہ نے  سکول کے چمن میں چیڑ، بیاڑ اور دیگر پودے لگا کر گرین اینڈ کلین پاکستان بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ یاد رہے کہ چترال کے کونے کونے میں بھی لوگ شجر کاری مہم بڑھ چڑھ کر اپنا حصہ ڈال رہے ہیں اور سچے محب وطن شہری ہونے کا ثبوت دے رہے ہیں۔






چترال : تین سل قبل تباہ پل ابھی تک نہیں بن سکا، سابق صوبائی وزیر محمودخان نے افتتاح کیا تھا، اب یہاں صرف 2 مزدور کام کر رہے ہیں

تین سال پہلے سیلاب سے تباہ شدہ وادی موژ گول کا آر سی سی پُل ابھی تک نہیں بن سکا۔ محمود خان جو اس وقت صوبائی وزیر تھے انہوں نے دو سال قبل افتتاح کیا تھا مگر پل کی تعمیر میں صرف دو مزدور کام کرتے ہیں۔ 

چترال(گل حماد فاروقی) سال 2015 کے سیلاب کی وجہ سے وادی موژ گول مکمل طور پر تباہ ہوئی تھی۔ وادی میں کوئی پل کوئی سڑک ، پائپ لائن، راستہ اور آبپاشی کی نہریں مکمل طور پر سیلاب کی نذر ہوئی تھی۔ عوام کے پر زور اصرار پر لوگوں کی آسانی کیلئے دریائے چترال پر سیلاب کی وجہ سے تباہ شدہ پُل کو دوبارہ تعمیر کیا گیا مگر اس کی حالت نہایت حراب ہے اور یہ پہلے ٹرک ایبل پل تھا جو بعد میں جیپ ایبل بنایا گیا۔ 



علاقے کے عوام نے بار بار اپنا آواز اٹھایا تو پاکستان تحریک انصاف کے حکومت میں اس وقت اس دریا پر آر سی سی یعنی سیمنٹ کا پُل بنانے کیلئے چھ کروڑ روپے منظور ہوئے اور سابق صوبائی وزیر محمود خان جو اب خیبر پحتون خواہ کے وزیر اعلےٰ ہے انہوں نے مئی 2017 میں اس کا افتتاح کیا تھا مگر مقامی لوگ کہتے ہیں کہ اس پل کی تعمیر میں صرف دو مزدور کام کرتے ہیں۔ 

ریٹائر صوبیدار عرفان ولی نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ اس پُل کے ساتھ ایک حفاظتی دیوار بھی بنایا گیا ہے جس پر 600000 ساٹ لاکھ روپے خرچ کئے گئے ہیں اگر یہ کام مجھے دیتے تو میں یہ حفاظتی دیوار صرف تین لاکھ روپے میں بنواتا۔پل پر کام بھی نہایت سست رفتاری سے جاری ہے اور لگتاہے کہ یہ اگلے سال بھی نہیں بن سکے گا۔ 

عبد الولی خان کسان کونسلر نے بتایا کہ 2015 کے سیلاب میں ہمارا یہ پل سیلاب میں بہہ گیا تھا جو لکڑی کا پل بنایا گیا وہ پل صراط سے کم نہیں ہے ہم گاڑیوں سے سامان اتار کر اس سے گزارتے ہیں اور سامان کندھوں پر اٹھا کر لے جاتے ہیں۔اور کام بھی سست رفتاری سے جاری ہے۔ 



مقامی لوگوں نے الزام لگایا کہ ساٹ لاکھ کی حفاظتی بند کی تعمیر کا ٹھیکہ جو دیا گیا تھا وہ کام ایک بااثر شحص نے کیا اور اس دیوار کو ایسی جگہہ بنانا چاہئے تھا تاکہ آئندہ دریا کا پانی سڑک یا پل کو نقصان نہ پہنچائے۔ 

مقامی لوگوں نے صوبائی وزیر اعلےٰ محمود خان سے مطالبہ کیا کہ انہوں نے خود اس پل کا افتتاح کیا تھا تو محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے حکام کو ہدایت کرے کہ اس پر کام کی رفتار تیز کرے۔ مقامی لوگ یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ انصاف کی نفاذ اور بدعنوانی کے حاتمے کے دعویدار حکومت اس سلسلے میں تحقیقات کرے کہ اس حفاظتی دیوار پر کتنا رقم خرچ ہوا اور اگر مقررہ مقدار سے زیادہ رقم خرچ ہوئی ہو تو متعلقہ افسران کے حلاف کاروائی کی جائے نیز پل کی تعمیر پر کام کی رفتار کو تیز کیا جائے ۔






معروف سماجی شحصیت محبوب دستگیر المعروف سیکرٹری 80 سال کی عمر میں انتقال کرگئے

معروف سماجی شحصیت محبوب دستگیر المعروف سیکرٹری 80 سال کی عمر میں انتقال کرگئے

چترال(گل حماد فاروقی) تحصیل دروش کے علاقہ کیسو سے تعلق رکھنے والے معروف سماجی کارکن محبوب دستگیر المعروف سیکرٹری اسی سال کے عمر میں انتقال کرگئے۔

مرحوم منظور دستگیر محکمہ تعلیم، مقبول الہی محکمہ پولیس اور منظور الہی چترال سکاؤٹس کے والد جبکہ صوبیدار شیدائی دستگیر، شمشیر دستگیر اور فدائی عثمان کے بھائی تھے اور چترال سکاؤٹس میڈیا سیل کے انچارج امتیاز
دستگیر کے تایا تھے۔ محبوب دستگیر کا نماز جنازہ دوپہر دو بجے کیسو گاؤں میں ادا کی گئی جس میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی بعد میں اسے کیسو کے مقام پر آبائی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ 



7 ستمبر، 2018

یوم دفاع کے دن گواں سٹیڈیم کوغزی میں شہداء کو منفرد انداز میں خراج تحسین پیش کیاگیا، فٹبال انتظامیہ کی جانب سے کوغزی کے شہداء کے ورثا میں خصوصی شیلڈ تقسیم

یوم دفاع کے دن گواں سٹیڈیم کوغزی میں شہداء کو منفرد انداز میں خراج تحسین پیش کیاگیا، فٹبال انتظامیہ کی جانب سے کوغزی کے شہداء کے ورثا میں خصوصی شیلڈ تقسیم



کوغزی چترال ( ایم فاروق)  ہر سال کی طرح  اس سال کوغزی چترال میں بھی 6 ستمبر کو "یوم دفاع کا خصوصی پروگرام " ہمیں پیار ہے پاکستان سے" انتہائی جوش و ولولے کے ساتھ منایا گیا، اس مقصد کیلئے گواں سٹیڈیم کوغزی میں انتظامیہ یونیک فٹبال کلب کی جانب سے کوغزی گاؤں سے تعلق رکھنے والے پاک دھرتی پر قربان ہونے والے شہداء کے ورثا کو خصوصی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ یاد رہے کہ کوغزی سے تعلق رکھنے والے پانچ بیٹوں نے اس وطن کےلئے اپنے لہو کا نذرانہ پیش کیا ہے ، جو کہ کبھی بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔ کوغزی دھرتی کے پہلے نمبر پر شہید ناصر اللّٰہ چترال سکاؤٹس ،2004-01-04 کو کارگل کے محاذ پر شہید ہوا، دوسرے نمبر پر شجاع الاسلام چترال سکاؤٹس ، 2005-05-27 کو کارگل کے محاذ پر شہید ہوا، تیسرے نمبر پر مختار احمد چترال سکاؤٹس، 2008-01-08 کو زیارت چترال میں شہید ہوا، چوتھے نمبر پر سمیع اللّٰہ المعروف طاہر اللّٰہ 43 ایف۔ایف رجمنٹ پاک آرمی، 2009-06-12 کو وانا جنوبی وزیرستان میں آپریشن راہ نجات کے دوران شہید ہوا اور انکی بے لوث بہادری کیوجہ سے حکومت پاکستان کی جانب سے خصوصی ایوارڈ"تمغہ بسالت" سے نوازا گیا جو کہ چترال میں پہلا امتیازی ایوارڈ تھا،، پانچویں نمبر پر حضرت اللّٰہ چترال سکاؤٹس، 2011-08-26 کو ارندو پاک افغان سرحد چترال کے مقام پر دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کی۔ واضح رہے کہ آج کی اس خصوصی تقریب کے اختتام پر کوغزی کی فضا پاک فوج زندہ باد ،پاکستان پائندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی۔



6 ستمبر، 2018

یوم دفاع پاکستان شایان شان طریقے سے منایا گیا، چترال سکاؤٹس گراؤنڈ میں طلباء طالبات نے رنگا رنگ پروگرامز پیش کئے


چترال (گل حماد فاروقی)6 ستمبر1965 کو ہمارے پا ک فوج کے جوانوں نے اپنے سے تین گنا بڑے فوج کو شکست سے دوچارکیا تھا اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے وطن عزیز کی دفاع کی۔ ان شہیدوں کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے ملک کے دیگر حصوں کی طرح چترال میں بھی یوم دفاع نہایت جوش و خروش سے منایا گیا اس سلسلے میں سب سے بڑا پروگرام چترال سکاؤٹس کے گراؤنڈ میں ہوا جس میں کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس کرنل معین الدین مہمان حصوصی تھے جبکہ ڈپٹی کمشنر چترال خورشید عالم محسود، اسسٹنٹ کمشنر ساجد نواز، ضلع ناظم مغفرت شاہ ، سول اور فوجی افسران، ایس پی نور جمال اور والدین کے علاوہ ان شہیدو ں کے ورثاء نے بھی شرکت کی جو دہشت گردی کے ضد میں آکر شہید ہوئے تھے۔

کرنل معین الدین نے شہیدوں کے ورثاء میں سووینر اور انعامات بھی تقسیم کیئے۔ گراؤنڈ کے عقب میں کیلاش اور مسلم ثقافت کے محتلف سٹال لگے تھے اور پاک فوج نے محتلف ہتھیاروں کی بھی نمائش کا انتظام کیا تھا۔ اس کے ساتھ پولیس نے بھی بم ڈسپوزل اور دیگر ہتھیار کی نمائش کرایا۔ سکول کے بچوں نے حمد، نعت اور قومی نغمے پیش کئے۔ 



خصوصی طور پر نجی سکول کے طلباء ا ور طالبات نے پانچوں صوبوں میں بولنے والے زبانوں اور وہاں کے لوگوں کی ثقافت کا بہترین مظاہرہ کرتے ہوئے ان زبانوں میں گا کر رقص بھی پیش کیا اور ساتھ ہی اسی قوم کا لباس کا بھی مظہر کیا۔ چترال سکاؤٹس، پولیس اور طلباء نے سلامی بھی پیش کی۔ چند طلباء اور طالبات نے ان قومی ہیرو کو خراج عقیدت بھی پیش کئے جنہوں نے وطن کی حاطر اپنی جان قربان کردی۔اس موقع پر چترال اے اور چترال بی پولو ٹیموں کے درمیان دوستانہ میچ بھی کھیلا گیا جو دونوں نے دو ، دو گول کرکے میچ حتم ہوا۔ اور پیرا گلائنڈنگ کا بھی مظاہرہ کیا گیا۔ مہمان حصوصی نے طلباء اور بہترین کارکردگی کے حامل طلباء اور طالبات میں انعامات تقسیم کئے۔ آحر میں شہداء کی روح کی ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔ 

سکول کے طلباء نے پاک بہارت جنگ کا عملی مظاہرہ بھی پیش کیا جس میں میجر عزیز بھٹی شہید نے جان کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے وطن عزیز کی دفاع کی۔ اس رنگارنگ تقریب میں کثیر تعداد میں خواتین اور حضرات، طلباء طالبات ، سول اور فوجی افسران نے شرکت کرتے ہوئے اس رنگا رنگ تقریب سے محظوظ ہوئے۔ آحر میں کمانڈنٹ نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور اس امر کا مصمم ارادہ کیا کہ پاک فوج، سکاؤٹس، پولیس کے جوان کبھی بھی ملک کی دفاع کیلئے اپنی جانوں کی نذرانے سے دریغ نہیں کرے گا۔ 






تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں