دسمبر 10, 2017

پرنس کریم آغاخان کا دورہ چترال، ہفتہ عام تعطیل، جماعت کی مثالی ڈسپلین ، بونی اور گرم چسمہ میں جماعت سے ملاقات


چترال (ابوالحسنین: ٹائمز آف چترال ) شیعہ امامی اسماعیلی مسلمان فرقے کے روحانی پیشوا پرنس کریم آغاخان نے آج بروز ہفتہ 9 دسمبر 2017 کو چترال کا دورہ کیا ۔ معزز مہمان کے دورہ چترال کے روز ڈپٹی کمشنر ارشاد سدھیر نے اپنے آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے چترال میں ہفتہ کو عام تعطیل کا اعلان کردیا۔ اعلامیہ میں کہا کہ چونکہ اسماعیلی جماعت کے افراد سرکاری، نیم سرکاری اداروں، سکولوں اور کالجوں کے ملازمین اور طلباء دربار میں شرکت کے لئے جارہے ہیں اور وہ حاضری نہیں دے سکیں گے ۔ اس لئے بروز ہفتہ چترال میں عام تعطیل ہوگی۔

پرنس کریم آغاخان چترال ایئرپورٹ پہنچے تو وہاں ان کے استقبال کے لئے ایم این اے شہزادہ افتخار الدین، ضلعی ناظم مغفرت شاہ، کمانڈنٹ چترال سکاؤٹ کرنل معین الدین اور کمشنر ملاکنڈ ڈویژن ظہیرالاسلام موجود تھے۔ چترال پہنچنے کے بعد آغاخان گرم چشمہ گئے جہاں جماعت سے ملاقات اور خطاب کے بعد بونی تشریف لے گئے ، بونی میں ڈپٹی کمشنر چترال ارشاد سدھیر جماعتی عہیدارارن نے ان کا استقبال کیا۔ بونی میں اپر چترال کی اپنی جماعت سے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں تعلیم کی اہمیت کے ساتھ امن کو ترقی کا ضامن قرار دیا انہوں نے کہا اسلام امن و محبت کا دین ہے۔ انہوں نے اپنی جماعت کو دیگر جماعتوں کے ساتھ برادرانہ تعلقات قائم کرنے پر امن اور ایمانداری کے ساتھ رہنے کی تلقین کی انہوں خاندانوں میں اتحاو اتفاق پر بھی زور دیا۔

مختلف سیاسی رہنماؤں نے آغاخان کی چترال کے لئے خدمات کو سراہا ہے ۔ ممبر قومی اسمبلی شہزادہ افتخار الدین نے چترال کی ترقی میں خاص دلچسپی لینے پر پرنس کریم آغاخان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اے کے ڈی این کی چترال میں کارکردگی کی تعریف کی۔

موسم کی خرابی کی وجہ سے تاخیر سے چترال پہنچے ۔ سی ون 30 نہ آسکنے کی وجہ سے بعد ازاں آغاخان فاؤنڈیشن کے ہیلی کاپٹروں میں آنا پڑا۔ دونوں مقامات پر جماعت سے ملاقات کے بعد پرنس کریم رات چترال میں قیام کریں گے۔ اور صبح گلگت بلتستان روانہ ہونگے۔ امام صاحب کےد ورے کی تیاریوں سے لیکر ان کی تشریف آوری تک اسماعیلی جماعت کی ڈسپلین اوا ر والنٹیرزم کا جذبہ قابل تعریف رہا۔


ڈی سی چترال کے دفتر سے جاری ہفتہ تعطیل کا نوٹی فیکیشن

دسمبر 9, 2017

سیلاب 2015 کے بعد کوغذی سڑک کا کنارہ کٹاؤ کا شکار، حفاظتی دیوار کی اشد ضرورت ورنہ بڑا حادثہ ہوسکتا ہے

کوغذی (ایم۔فاروق  ٹائمز آف چترال) سیلاب 2015 کے بعد کوغذی سڑک کا کنارہ کٹاؤ کا شکار، حفاظتی دیوار کی اشد ضرورت ورنہ بڑا حادثہ ہوسکتا ہے۔

تفصیلات کی مطابق چترال سے 20 میل دُور کوغذی گاؤں میں سڑک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ فٹ پاتھ  پردراڑیں پڑ چکی ہیں۔ ۔واضح رہے کہ 2015 کے بدترین سیلاب نے سڑک کے پُشتے بہا کر لے گیا جسکی وجہ سے زمین کی کٹاؤ میں اضافہ ہوگیا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ فٹ پاتھ میں خطرناک دراڑیں پیدا ہوگئی ہیں ۔ سڑک کے فٹ پاتھ والے حصے پر دراڑوں کی وجہ سے پیدل سفر کرنے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور ٹریفک کے نظام میں بھی شدید رکاؤٹ کا سامنا ہورہا ہے۔ اس معاملے میں محکمہ C&W چترال اور علاقے کے سیاسی نمائندگان بھی خاموش تماشائی نظر آرہے ہیں۔ خیال رہے کہ اگر اس پر توجہ نہ دی گئی تو کسی بھی وقت خطرناک حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔


سپر ہائی وے پر جو بلاول ہاؤس بن رہا ہے، لاہور کا بلاول ہاؤس اس کے سرونٹ کووارٹر جتنا بھی نہیں: جلد بلاول ہاؤس کلفٹن سے وہاں شفٹ ہوگا : شاہد مسعود کا انکشاف

سپر ہائی وے پر جو بلاول ہاؤس بن رہا ہے، لاہور کا بلاول ہاؤس اس کے سرونٹ کووارٹر جتنا بھی نہیں: جلد بلاول ہاؤس  کلفٹن سے وہاں شفٹ ہوگا : شاہد مسعود کا انکشاف

یہ کارٹون ایک دن ایک بات کرتا ہے اور دوسرے دن دوسری بات، اس منافق کواگنور کریں: بلاول بھٹو اپنے نئے انکل کے بارے میں پرانے خیالات

یہ کارٹون ایک دن ایک بات کرتا ہے اور دوسرے دن دوسری بات، اس منافق کواگنور کریں: بلاول بھٹو اپنے نئے انکل کے بارے میں پرانے خیالات

بلاول بھٹو زرداری ماضی میں اپنے نئے انکل طاہرالقادری کے بارے
 میں کیا کہتے رہے؟ دیکھئے




چترال کوغذی میں کار اور ٹویوٹا جیپ میں تصادم


چترال، کوغذی (ایم۔فاروق ٹائمز آف چترال) تفصیلات کے مطابق جمعہ کے دن کوغذی میں غواگئ اور ٹیوٹا جیب آپس میں ٹکراگئیں، جسکے نتیجے میں ایک شخص زخمی ھوا جسکو فوری طور پر آر۔ایج۔سی کوغزی پہنچادیا گیا ۔ وہاں اُسے ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد فارغ کردیا گیا۔ واضح رہے کہ غواگئ میں وہ لوگ سوار تھے جو شادی کے سلسلے میں دروش سے استانگول جارہے تھے۔

دسمبر 8, 2017

پولیس آپریشن ناکام کیوں ہوا ! : کالم ذوالفقار احمد چیمہ

پولیس آپریشن ناکام کیوں ہوا !  : کالم  ذوالفقار احمد چیمہ

مسلم لیگ (ن) کی قیادت اس پر نالاں ہے کہ فیض آباد پر دیے گئے دھرنے کو اٹھانے کے لیے پولیس آپریشن ناکام کیوں ہوا۔ وزیرِ داخلہ بھی اس کی وجوہات جاننے کے لیے ایک کمیٹی بناچکے ہیں۔ اب سابق وزیرِاعظم میاں نوازشریف نے بھی اس پر ناراضی کااظہار کیا ہے۔ یہ درست ہے کہ اسلام آباد کے محاصرے سے دنیا بھر میں ریاستِ پاکستان کے بارے میں بڑا منفی تاثر پیدا ہوا اور بڑا ہی خطرناک پیغام جاتا رہاہے کہ چند ہزار مولویوں نے اسلام آباد کا محاصرہ کررکھا ہے اور ریاست بے بس ہے۔ 

پاکستان کے دشمن شور مچارہے ہیں کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے محفوظ نہیں ہیں، یو این اے فوری کاروائی کرے ۔ مگر ریاستی مشینری دھرنے سے موثّر طور پر کیوں نہ نمٹ سکی اور پولیس آپریشن ناکام کیوں ہوا؟ حضور اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ آپ مشکل وقت میں پولیس کا ساتھ نہیں دیتے، حکومت کے حکم پر آپریشن کرنے والے پولیس افسروں کو بے یارومددگار چھوڑ دیا جاتاہے اس لیے وہ بے دلی سے آپریشن میں حصّہ لیتے ہیں اور بے دلی سے کیا گیا آپریشن کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔

اس ضمن میں پیپلز پارٹی کی قیادت کا ریکارڈ بہتر ہے۔ اُن میں مردم شناسی کی صلاحیت زیادہ ہے اور وہ برے وقت میں بھی اپنے تعینات کیے گئے افسروں کی مدد اور سپورٹ کرتے ہیںمگر مسلم لیگ (ن) کے بارے میں تاثر اس کے برعکس ہے۔ اگر خلافِ قانون مجمعے کی تعداد زیادہ ہے، اس میں مسّلح افراد بھی ہیںاور لوگوں میں جوش وجذبہ بھی ہے تو یقیناً آپریشن مشکل ہوتا ہے اور اس کے لیے فورس اور اسے کمانڈ کرنے والے افسروں کا Motivation level بھی بہت بلند ہونا چاہیے۔

آج کل ایسے افسر ملنا ویسے ہی مشکل ہے۔ اُوپر سے حکومتی زعماء اس بنیادی حقیقت کا ادراک نہیں رکھتے کہ پولیس فورس کے افسر اور جوان روبوٹ نہیں ہوتے، جیتے جاگتے انسان ہوتے ہیں جن سے بٹن دباکر کام نہیں لیا جاسکتا، اس سلسلے میں بنیادی اور فیصلہ کن فیکٹر ٹیم کا انتخاب ہوتا ہے، وہ کمانڈر جو پر تشدّد مجمعے کا سامنا کرنے کا نہ حوصلہ رکھتے ہوں اور نہ تجربہ، انھیں میدان میں اتارا جائے گا تو وہ دم دباکر یا بہانہ بناکر بھاگنے کے سوا کچھ نہیں کریں گے۔

جب کوئی وزیرِ داخلہ یا وزیرِ اعلیٰ کسی اہم آپریشن کے سلسلے میں میٹنگ بلاتا ہے تو پولیس افسر بڑے غورسے اُن کی بدن بولی (Body language) کا مشاہدہ کرتے ہیں، پولیس اور انتظامیہ کے گھاگ افسر باہر نکلتے ہی آپس میں notes کا تبادلہ کرتے ہیں، جب وہ ایک دوسرے سے یہ کہیں کہ ’’He is wavering…will not own it‘‘ تو پھر ہدایات پر بے دلی سے عمل ہوگا۔

سینئر پولیس افسران اس پر متفق ہیں کہ مرکزی حکومت کو جنرل (ر) نصیر اللہ بابر جیسا موثّر وزیرِ داخلہ پھرنہیں مل سکا، وہ ہر وقت available رہتے تھے اور فورس کے لیے سائبان تھے۔ اگرچہ کراچی میں ایم کیوایم کے خلاف آپریشن متنازعہ تھا (کیونکہ اُن سے بڑے دہشت گرد مرتضٰے بھٹو کے ساتھ تھے جن کے خلاف پولیس کوئی کارروائی نہیں کرتی تھی) مگر وزیرِ داخلہ کی طرف سے پولیس کو بلینک چیک دیا گیا تھا کہ ’’جونئیر ترین افسر کا بھی نیک نیّتی سے کیا گیا ہر آپریشن میں ownکروںگا اور یہ اعلان کروںگا کہ یہ میری ہدایات پر ہوا ہے‘‘۔

ایسے جرنیل کے کہنے پر سپاہ آگ کے دریا میں بھی کود جاتی ہے،دھرنا ہٹانا تو کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ اچھا جرنیل سپاہ کے ہر فرد کو اپنے بچوں کی طرح عزیز سمجھتا ہے،اس کی تکلیف اور مصیبت میں اس کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، اُس پر مقدمے نہیں بننے دیتا ، اگر بن بھی جائے تو مقدمہ خود لڑتا ہے اور سب کچھ اپنے اُوپر لیتا ہے۔

2014کے دھرنوں میں دھرنے بازوں نے اسلام آباد کے پولیس چیف ایس ایس پی عصمت اللہ جونیجو کو بے پناہ تشدد کا نشانہ بناکر زخمی کردیا۔ دو روز بعد میں زخمی پولیس افسر کی خیریت دریافت کرنے اسپتال گیا تو پوچھا کہ وزیرِداخلہ چوہدری نثار علی صاحب تو یقیناً تمہارا پتہ کرنے آئے ہوںگے۔ اُس نے بڑے دکھ سے کہا ’’وہ تو تشریف نہیں لائے، سابق وزیرِ داخلہ رحمان ملک صاحب پتہ کرنے آئے تھے‘‘۔ کیا زخمی کمانڈر کی خیریت پوچھنے کی زحمت گوارا نہ کرنے والے جرنیلوں کے کہنے پر فورس جذبے سے لڑے گی اور دارلحکومت کا دفاع کرسکے گی؟۔

سانحۂ ماڈل ٹاؤن کا خوف اربابِ اقتدار کے اعصاب پر اس حد تک سوار ہے کہ وہ کسی بھی غیر قانونی یا پُرتشدّد مجمعے کو منتشر کرنے کے لیے فورس استعمال کرنے کا حکم دینے سے ہی گریز کرتے ہیں، اگر حکم دے بھی دیں تو اسے ownنہیں کرتے، ماڈل ٹاؤن میں ہلاکتوں کے بعد وزیرِاعلیٰ اور وزیرِاعظم کے خلاف کیس درج ہوگئے تو یہ واقعی انہونی بات تھی۔

قانونی حلقے سمجھتے ہیں کہ یہ حکومت کی کمزوری اور وزیرِقانون اور ایڈووکیٹ جنرل کی نااہلی کی وجہ سے ہوا ہے۔ ہر صوبے میں آپریشن ہوتے ہیں اور حصّہ لینے والے پولیس افسروں کو قانونی تحفّظ حاصل ہوتا ہے لیکن کسی بھی صوبے میں حکومت کی ہدایات پر آپریشن کرنے پر کبھی کسی ڈی آئی جی یا وزیرِاعلیٰ کے خلاف پرچہ درج نہیں ہوا ؟

پنجاب میں کئی واقعات سے پولیس کا مورال اور حوصلہ پست ہوا ، مگر دو واقعات نے فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔2010 میںسیالکوٹ کے ضلعی پولیس سربراہ وقار چوہان (جس کا کوئی گناہ یا قصور نہیں تھا) کو گرفتار کرنا پولیس کی تاریخ کا پہلا واقعہ تھا، حکمرانوں نے ضلع کے پولیس چیف کی گرفتاری کا حکم دے کر ریاستی مشینری کو کمزور کردیا، اس کے بعد پولیس افسروں میں بددلی پھیل گئی اور حوصلے جاتے رہے۔ پولیس کی بددلی ریاستی مشینری کو کمزور اور غیر موثّربنادیتی ہے۔

2014 میں جب پولیس کو منہاج القرآن ہیڈکوارٹرز سے بیرئیر ہٹانے کے احکامات دیے گئے تو لاہور پولیس کے سینئر ترین افسروں نے اس کی مخالفت کی اوراس کے ممکنہ نتائج کے بارے میں بھی خبردار کیاکہ ورکروں کی اپنے قائد کے ساتھ روحانی اور جذباتی عقیدت کا معاملہ ہے، یہ مناسب نہیں ہے، خون خرابہ ہوگا۔ مگرپنجاب کا سب سے بااخیتار بیوروکریٹ اپنے منصوبے پر عملدرآمد کرانے پر مصر رہا کیونکہ باخبر حلقوں کے مطابق وہ سمجھتا تھا کہ آپریشن سے خوفزدہ ہوکر علّامہ طاہرالقادری صاحب پاکستان آنے کا پروگرام منسوخ کردیں گے اور منصوبہ ساز کوہر طرف سے شاباش ملیگی۔

اب منصوبہ ساز تو وزارتوں اور سفارتخانوں کے مزے لُوٹ رہے ہیں مگر اس منصوبے کی مخالفت کرنے والے پولیس افسران خوار اور دربدر پھررہے ہیں، کیرئر افسر مفرور اور اشتہاری بن گئے ہیںاور اپنی جائیدادیں بیچ کر گزارہ کررہے ہیں۔کیا حکومت نے اُن افسران کا کبھی پتہ کیا ہے کہ وہ کس حال میں ہیں؟ ڈی آئی جی رانا جبار نے تو ایک فائر بھی نہیں کیا تھا ،کبھی کسی نے اس کا پتہ کیا ہے کہ بیٹیوں کو لے کر وہ کہاں گزارہ کررہا ہے؟۔

اگر وہ فوج کے افسر ہوتے تو ان کے ساتھ ایسا سلوک ہوتا؟ہرگز نہیں کوئی ان کی طرف دیکھنے کی بھی جرأت نہ کرتا، فوجی جوانوں کی فائرنگ سے بعض اوقات ہلاکتیں بھی ہوجاتی ہیں مگر فوج کی اعلیٰ کمان جس آپریشن کا حکم دیتی ہے اسے ownکرتی ہے اور اپنے جوانوںکا پوری طرح دفاع کرتی ہے۔ انھیں مقدمے بھگتنے کے لیے بے یارومددگار نہیں چھوڑتی۔

اس سانحے کے بعد جب بھی کہیں دھرنا ہوا ہے۔ اس کی تعداد چاہے سو یا پچاس ہی کیوں نہ ہو پولیس نے فورس استعمال کرنے سے گریز کیا ہے کیونکہ کوئی پولیس افسر طاقت استعمال کرنے کے نتائج بھگتنے کے لیے تیّار نہیں ہے، ہر کوئی جانتا ہے کہ ہلاکتوں کی صورت میں حکومت اس کا ساتھ نہیں دے گی اور وہ اکیلا کھڑا ہوگا۔ لاہور میں بھی متعلقہ وزیر نے دھرنا اٹھانے کے لیے فورس استعمال کرنے کی بات کی تو پولیس افسر طَرح دے گئے۔کوئی بھی تیار نہ ہوا۔

پولیس افسر یہ بھی سمجھتے ہیں کہ انھیں مشاورت میں شامل نہیں کیا جاتا اور بلاوجہ بے توقیر کیا جاتا ہے۔ صرف چند دن پہلے ممبرانِ قومی اسمبلی کی مخالفت کے باوجود ایک فرسودہ نظام قبر سے نکال کر پھر سے نافذ کردیا گیا ہے جس میں پولیس کی آپریشنل اٹانومی ختم کرکے اسے مجسٹریٹوں کے ماتحتی میں دے دیا گیا ہے، دنیا آگے جارہی ہے اور ہم وقت کا پہیّہ پیچھے پھیرنے کی کوشش کررہے ہیں، ایسا احمقانہ فیصلہ کس کے کہنے پر ہوا ہے؟ ایسا فرسودہ نظام مسلّط کرنے والے حکومت کی حامی ہیں یا دشمن؟۔

پولیس کے بددل ہونے سے بڑے خطرناک نتائج نکلے ہیں، ریاستی مشینری غیر موثر ہوگئی ہے، حکومت کی رٹ ختم ہوگئی ہے، ریاست کی پسپائی اور حکومت کی کمزوری سے غیر ریاستی اداکار طاقت پکڑرہے ہیں اور عوام غیر محفوظ ہوگئے ہیں۔ ریاست عوام کو تخفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوجائے تو اپنا جواز کھودیتی ہے۔

ان عوامل سے ریاستِ پاکستان بے توقیر ہوئی ہے، چند ماہ پہلے تک غیر ملکی سرمایہ کار یہاں آنے کے لیے لائن میں لگے ہوئے تھے، اب بیرونِ ملک رہنے والے پاکستانیوں نے بندھے ہوئے بستر کھول دیے ہیں۔ریاست کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔ وہ مجمع جسے ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ غیر قانونی قرار دے کر اسے ہٹانے کا حکم دے چکی تھی، اس کے شرکاء میں ایک جرنیل کے ہاتھوں پیسے تقسیم کرنے کے کیا معنی ہیں؟

کیا جی ایچ کیو یا حکومت یا کوئی عدالت جرنیل صاحب کو بلاکر پوچھے گی کہ ان لوگوں نے لاکھوں شہریوں کو عذاب میں مبتلا کرکے اور ملک کو بے توقیر کرکے کونسا کارنامہ سرانجام دیا ہے کہ آپ انھیں انعام دے رہے ہیں؟ یہ ملک ایسے کس طرح چل سکتا ہے، ملک تو کسی قاعدے اور ضابطے کے تحت ہی چلتے ہیں، انھی قواعد اور ضوابط کو آئین کہتے ہیں، آئین کی اس طرح بے حرمتی ہوگی تو وطنِ عزیزکا تحفّظ کیسے کیا جاسکے گا؟ اﷲ تعالیٰ وطنِ عزیز کی حفاظت فرمائیں اور ہر ادارے کو آئین کا احترام کرنے کی توفیق بخشیں۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز 

بھارتی فوج کی جانب سے ایل او سی پر جنازے پر فائرنگ سے 2 شہری شہید، پاک فوج نے بھارتی چوکی تباہ کرکردی

کشمیر (نیوز ڈیسک)  لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے چڑی کوٹ سیکٹر پربھارتی فوج کی جانب بلا اشتعال جنازے پر فائرنگ کے نتیجے میں دو شہری شہید اور ایک خاتون زخمی ہوگئی۔  پاک فوج کی موثر جواب کارروائی میں ایک بھارتی فوجی ہلاک اور 4 سے 5 زخمی ہو گئے۔ بھارتی فوجی چوکی کو تباہ کردیا۔ 


پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بھارتی فوج نے سیز فائر کی بلا اشتعال خلاف ورزی کرتے ہوئے ایل او سی کےچڑی کوٹ سیکٹر پر چھفر گاؤں میں ایک جنازے پر فائرنگ کی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید اور ایک خاتون زخمی ہوگئی۔   بلااشتعال بھارتی فائرنگ کےجواب پاکستانی فوج کی بھرپور جوابی کارروائی میں ایک بھارتی پوسٹ تباہ اور ایک بھارتی فوجی ہلاک جبکہ 4 سے5 بھارتی فوجی زخمی ہوئے۔

پرنس کریم آغا خان کی صدر پاکستان ممنون حسین سے ملاقات، صدر نے آغاخان کی خدمات کو سراہا



پرنس کریم آغا خان کی صدر پاکستان ممنون حسین سے ملاقات، صدر نے آغاخان کی خدمات کو سراہا

اسلام آباد (ٹائمز آف چترال نیوز ڈیسک) پرنس کریم آغا خان نے آج صدر پاکستان ممنون حسین سے ملاقات کی۔ صدر پاکستان  نے عالمی امن اور باہمی ہم آہنگی کے فروع کے لئے سرآغاخان کی خدمات کو سراہا۔ ممنون حسین نے ثقافتی ورثوں کے تحفظ پر آغاخان فاؤنڈیشن کی کوششوں کی تعریف کی۔

پرنس کریم آغاخان نے کہا کہ صحت، تعلیم اور دیہی ترقی کے لئے کوششیں مزید تیز کردی جائیں گی۔ انہون نے کہا کہ پسماندہ علاقوں میں غربت کو ختم کرنے کے لئے مزید پرگرام شروع کردیئے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ہز ہائینس پرنس کریم آغاخان جمعرات کی شام پاکستان پہنچے، ایئر پورٹ پر شاندار استقبال، 9 دسمبر کو چترال تشریف لائیں گے

ہز ہائینس پرنس کریم آغاخان جمعرات کی شام پاکستان پہنچے، ایئر پورٹ پر شاندار استقبال، 9 دسمبر کو چترال تشریف لائیں گے


اسلام آباد (نمائندہ ٹائمز آف چترال) شیعہ امامی اسماعیلی مسلمانوں کے روحانی پیشوا ہزہائینس پرنس کریم آغا خان کل بروز جمعرات شام کو پاکستان کے 13 روزہ دورے پر اسلام آبا د پہنچے۔ ایئر پورٹ پر وزیرخارجہ خواجہ آصف دیگر وزراء کے ہمراہ معزز مہمان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر بچوں نے پاکستان اور اسماعیلی پرچم لہرا کر مہمانِ خاص کو خوش آمدید کیا۔ ایک بچے نے پرنس کریم کو گلدستہ پیش کیا۔ اسلام آباد میں قیام کے دوران آپ  صدر ممنون حسین ، وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور دیگر اعلی حکومتی شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے ۔ اور 9 دسمبر کو چترال تشریف لے جائیں گے۔ پاکستان میں اپنے قیام کے دوران پرنس کریم آغاخان چترال، گلگت ،بلتستان کا بھی دورہ کریں گے اور بعد میں کراچی بھی جائیں گے۔


پرنس کریم آغا خان وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی دعوت پر اسلام آباد پہنچ گئے ہیں، وہ 19 دسمبر کو واپس فرانس روانہ ہو جائیں گے۔ پاکستان میں قیام کے دوران پرنس کریم آغا خان کراچی میں آغا خان ہیلتھ اینڈ سائنس یونیورسٹی کے کانووکیشن میں شرکت کرینگے، جہاں طلباء و طالبات میں اسناد تقسیم کرینگے۔

یہ بھی پڑھیں:  ہمدرد انسانیت اسماعیلیوں کے روحانی پیشوا ہزہائینس پرنس کریم آغاخان کی چترال آمد، مثالی والٹیئرزم اور مذہبی ہم آہنگی کی اعلیٰ مثال 

نو دسمبر کو چترال، 10 دسمبر کو گلگت بلتستان، بارہ سے چودہ دسمبر کو اسلام آباد میں اپنے پیروکاروں سے ملاقاتیں کرینگے جب کہ پندرہ سے انیس دسمبر تک کراچی میں قیام کریں گے۔ پرنس کریم آغا خان اسلام آباد اور کراچی میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کے اعلیٰ حکام سے بھی ملاقاتیں کرینگے۔






یوفون کے اشتراک سے پاکستان میں سب سے بڑی تائیکوانڈو چیمپیئن شپ کا انعقاد

کراچی:  کھیلوں کے فروغ اور کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لئے مسلسل کوشاں رہنے کے ساتھ پاکستان کے صف اول کے ٹیلی کام ادارے یوفون نے پاکستان تائیکوانڈو فیڈریشن کے اشتراک سے چھ روزہ چیمپیئن شپ کے لئے تعاون کا اعلان کیا ہے۔ یہ چھ روزہ چیمپیئن شپ 8 دسمبر تا 13 دسمبر لیاقت جمنازیم میں جاری رہے گی ۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا سب سے بڑا تائیکوانڈو کا پروگرام ہے جس میں انڈر 17، انڈر 14 اور پانچ سے 10 سال کے بچے شریک ہوں گے۔ اس چیمپیئن شپ میں تقریبا 1300 اتھیلیٹس اور آفیشلز شریک ہو رہے ہیں۔ 



ترجمان یوفون کے مطابق اس چیمپیئن شپ میں تائیکوانڈو ایتھیلیٹس کی شرکت کی حوصلہ افزائی میں اہم کردار ادا کرنے پر یوفون کو فخر ہے۔ تائیکوانڈو کے کھلاڑیوں کے فروغ سے جسمانی اور تکنیکی مہارتوں میں بہتری کے ساتھ معاشرے میں بڑی سماجی سرگرمی فراہم ہوتی ہے اور فعال و مثبت گنجائش پیدا ہوتی ہے ، اس کے علاوہ تعلیمی سطح پر بھی بہتری آتی ہے۔ 

یوفون اپنے صارفین کو ایسی سہولیات کی فراہمی کے لئے کوشاں ہے جس سے ان کی رابطے کی ضروریات روانی کے ساتھ پوری ہوں اور ان کی زندگی بغیر کسی تعطل کے جاری رہے۔ ٹیلی کام ادارے کی توجہ معاشرے کی سماجی و معاشی ترقی پر مرکوز ہے۔ یہ محض کاروباری سماجی ذمہ داری کے اقدامات تک محدود نہیں بلکہ معاشرے کی ترقی کے لئے باعزم افراد اور اداروں کے ساتھ بھی تعاون فراہم کررہا ہے۔ 


دسمبر 7, 2017

سندھ، ٹھٹھہ کے علاقے بواھارا میں المناک حادثہ، کشتی الٹنے سے 50 زائرین ڈوب گئے، 14 جان بحق


ٹھٹھہ (ٹائمزآف چترال ویب ڈیسک) صوبہ سندھ کے ٹھٹھہ کے ساحلی علاقے بوھارا کے قریب سمندر میں زائرین کی کشتی ڈوب گئی جس سے کشتی میں سوار 60 سے زائد افراد ڈوب گئے جن میں سے 20 افراد کو ریسکیو کرلیا گیا جبکہ ابھی 14 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔ لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے۔

ڈی سی ٹھٹھہ نےوزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 14 لاشیں نکالی گئی ہیں۔انہوں نےبتایا کہ دو کشتیوں میں سوار 60 سے زائد افراد پیرپٹھو کے مزارپرجارہے تھے، تیزہواؤں کےباعث کشتیاں آپس میں ٹکرائیں۔

پولیس کے مطابق دو خواتین، دو بچوں اور ایک شخص کی لاش شیخ زاید اسپتال ساکرو منتقل کردی گئی۔ پولیس کے مطابق زائرین درگاہ کے میلےمیں شرکت کے لیے جا رہے تھے کہ بوھارا کے قریب سمندر میں کشتی الٹ گئی۔


ٹرمپ مسلم دشمنی سے باز نہ آیا، بیت القدس کو اسرائیلی دارلخلافہ تسلیم کرتے ہوئے امریکی سفارتخانہ بھی یروشلم منتقل کرنے کا اعلان کردیا

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے  نے وہ کیا جس کا خدشہ تھا۔  مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا نیا دارلحکومت تسلیم کرتے ہوئے امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا بھی اعلان کردیا ہے۔ امریکی صدر کے اس اعلان کے خلاف عالمی سطح پر شدید رد عمل بھی سامنے آ رہاہے جبکہ ترکی میں عوام نے امریکی سفارتخانے کے سامنے اکھٹا ہو کر شدید احتجاج بھی ریکارڈ کروایا۔ ترکی کے علاوہ جورڈن، غازا، ویسٹ بینک میں امریکی فیصلے کے خلاف مظاہرے ہورہے ہیں۔   پاکستان، سعودی عرب، فلسطین، اردن، مراکش، ترکی، مصر اور عرب لیگ کے علاوہ یورپی یونین اور امریکی محکمہ خارجہ کے کئی عہدیداروں نے سفارتخانے کو مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کی مخالفت کی تھی جبکہ واضح رہے کہ ترک صدر رجب طیب اردگان نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے بیت المقدس کو سرخ لکیر قرار دیتے ہوئے اسے عبور نہ کرنے کا پیغام دیا تھا جبکہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات بھی منقطع کرنے کا اعلان کیا تھا ۔

عالمی رہنماؤوں نے بھی غم و غصہ کا اظہار کیا ہے۔ کوفی عنان نے کہا ہے مجھے امریکی صدر کےآج کے فیصلے پر بہت افسوس ہےکہ جس نے یروشلم پر عالمی اتفاق رائے کو پاؤں تلے روند ڈالا ہے۔ مجھے امید ہے کہ فلسطینی اور عرب طاقتیں بھر پور مزاحمت کا مظاہرہ کریں گے۔

واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اسرائیل میں موجود امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں ، مقبوضہ بیت المقدس کامیاب جمہوریتوں کا دل ہے اور یہاں پر اسرائیلی پارلیمنٹ موجود ہے ۔  یروشلم میں تمام مذاہب کے لوگ بہتر زندگی گزار سکتے ہیں۔ اس وقت دنیا کو نفرت کی نہیں برد باری کی ضرورت ہے، تمام مذاہب کے اقوام کو باہمی احترام کی بنیاد پر آگے بڑھنا ہوگا ۔ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا  کچھ امریکی صدور نےکہا کہ ان میں سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کرنےکی ہمت نہیں لیکن مقبوضہ بیت المقدس کو دارالحکومت تسلیم کرنے کا وقت آگیا ہے۔ مشرق وسطیٰ کا مستقبل روشن اور شاندار ہے اورمیں یقین دلاتا ہوں کہ علاقے میں امن وسلامتی کے لیے کاوشیں جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا فیصلہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تنازعے کے حل کے لیے ایک نئی حکمت عملی کا نقطہ آغاز ہے اور یہ تبدیلی امریکا کے مفاد میں ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتین یاہو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے تاریخی فیصلے پر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں جب کہ اسرائیل اور اسرائیلی عوام ہمیشہ آپ کے شکر گزار رہیں گے۔


ہاشمی صاحب! مبارک ہو : کالم حامد میر

ہاشمی صاحب! مبارک ہو : کالم حامد میر

جاوید ہاشمی بڑے خوش لگ رہے تھے۔ فون پر بتا رہے تھے کہ میری صحت کافی بہتر ہو گئی ہے اور مالی مسائل پر بھی قابو پا لیا ہے۔ پھر مالی مسائل پر قابو پانے کی وجہ بھی تفصیل سے بتائی اور کہا کہ اپنی پرانی جائیداد مہنگے داموں بیچ کر میں بھی امیر ہو گیا ہوں۔ یہ بریکنگ نیوز سن کر میں نے ہاشمی صاحب کو مبارکباد دی تو کہنے لگے کہ پچھلے سال میری کتاب ’’زندہ تاریخ‘‘ شائع ہوئی تھی اُس کی تقریب رونمائی اتوار کو اسلام آباد میں رکھی ہے اور تم نے وہاں ضرور تقریر کرنی ہے کیونکہ تم اس کتاب پر پہلے ہی کالم لکھ چکے ہو۔ ’’زندہ تاریخ‘‘ کی تقریب رونمائی کا سن کر میں نے اپنے سر کو جھٹکا دیا۔ یہ کتاب تو نواز شریف، شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان کے خلاف ایک چارج شیٹ ہے تو پھر ہاشمی صاحب اس کتاب کی تقریب رونمائی کیوں کر رہے ہیں کیونکہ آج کل تو اُن کے ناقدین کو مسلم لیگ (ن) میں اُن کی واپسی ایک آنکھ نہیں بھا رہی؟ 

میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ جاوید ہاشمی صاحب کے پرانے لب و لہجے اور جوش و ولولے کی واپسی بتا رہی تھی کہ ریشماں پھر جوان ہو گئی ہے اور اپنی صحت یابی کا جشن منا کر اپنے حاسدین کے دل و دماغ پر بجلیاں گرانے والی ہے لیکن میرا اس جشن میں شامل ہونا مشکل تھا۔ میں نے بڑے معذرت خواہانہ انداز میں ہاشمی صاحب کو بتایا کہ مجھے ہفتہ کے دن کابل روانہ ہونا ہے۔ ہاشمی صاحب نے کہا کہ کوئی بات نہیں تم اتوار کو واپس آ جانا۔ وہ کابل کو ملتان سمجھ رہے تھے کہ ایک دن گئے اور دوسرے دن واپس آ گئے۔ میں نے بتایا کہ ہم رحیم اللہ یوسفزئی کی قیادت میں ایک وفد کی صورت میں جا رہے ہیں اور وہاں بہت سی ملاقاتیں طے ہیں لہٰذا اتوار کو واپسی مشکل ہو گی۔ میرا خیال تھا کہ اب ہاشمی صاحب فیصلہ سنائیں گے کہ تم کابل کا دورہ ملتوی کر دو اور ’’زندہ تاریخ‘‘ پر ایک تاریخی تقریر کی تیاری کرو۔ میں ذہنی طور پر رحیم اللہ یوسفزئی کو ایک بری خبر سنانے کی تیاری کرنے لگا کیونکہ ہاشمی صاحب کی ناراضگی سے میں بہت ڈرتا ہوں اگر وہ اپنا یکطرفہ فیصلہ سنا ڈالتے تو اس فیصلے کو مسترد کرنا بہت مشکل ہوتا لیکن انہوں نے کچھ دریادلی اور سخاوت دکھائی۔ مجھے کابل جانے کی اجازت دیدی۔ میں نے انہیں بتایا کہ واپس آ کر آپ کی کتاب پر کالم ضرور لکھوں گا۔ انہوں نے شانِ بے نیازی کے ساتھ اچھا ٹھیک ہے کہہ کر فون بند کر دیا۔ 

منگل کو کابل سے واپس آیا تو پتہ چلا کہ جاوید ہاشمی نے نواز شریف سے ملاقات کی ہے تاہم ابھی ہاشمی صاحب کی مسلم لیگ (ن) میں واپسی کا اعلان نہیں ہوا۔ ایک دوست نے یاد دلایا کہ جب 2012ء میں حفیظ اللہ نیازی اپنے پرانے دوست جاوید ہاشمی کو ورغلا کر کراچی لے گئے تھے تو عمران خان ایئر پورٹ پر ان کا استقبال کرنے آئے تھے اب جاوید ہاشمی خود چل کر نواز شریف کو ملنے جا رہے ہیں۔ میں نے اپنے دوست سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ جاوید ہاشمی کسی کے ورغلانے سے تحریک انصاف میں نہیں گیا تھا اسے مسلم لیگ (ن) سے دھکے دے کر نکالا گیا تھا۔ بظاہر بیگم کلثوم نواز نے اُنہیں بہت روکا لیکن ہاشمی صاحب کے شکوے شکایتیں بیگم کلثوم نواز سے نہیں نواز شریف اور شہباز شریف سے تھیں۔ میں نے بھی اُنہیں مسلم لیگ (ن) چھوڑنے سے روکا تھا لیکن وہ کچھ ایسے مخالفین کا پیچھا کر رہے تھے جو اُن سے پہلے تحریک انصاف میں پہنچ چکے تھے اور ہاشمی صاحب اُن کے کندھوں پر سواری کا شوق پورا کرنا چاہتے تھے۔ ان کا سیاسی ایڈونچر ناکام ہو گیا تو انہوں نے حالات سے سمجھوتہ کرنے کی بجائے تحریک انصاف کے اندر بھی بغاوت کر دی۔ نہ تحریک انصاف کے رہے نہ مسلم لیگ (ن) کے رہے لیکن جب مسلم لیگ (ن) پر کڑا وقت آیا تو نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ نواز شریف صاحب نے لندن روانگی سے پہلے اسلام آباد میں جاوید ہاشمی سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں جاوید ہاشمی چہکتے اور مہکتے رہے۔ نواز شریف بھی مسکراتے رہے لیکن زیادہ نہیں بولے۔ نہ نواز شریف نے ہاشمی صاحب کو مسلم لیگ (ن) میں واپسی کی دعوت دی نہ ہاشمی صاحب نے یہ کہا کہ خدا کے لئے مجھے معاف کر دو اور دوبارہ اپنے گلے سے لگا لو۔ ہو سکتا ہے کہ یہ معاملات کسی اور نے طے کرنے ہوں اور باقاعدہ اعلان کسی جلسے میں ہو لیکن میری ناقص رائے میں نواز شریف کی جاوید ہاشمی سے ملاقات اور مریم بی بی کا جاوید ہاشمی کو یہ کہنا کہ آپ کو اپنے گھر واپسی مبارک ہو دراصل جاوید ہاشمی کی فتح ہے۔ یہ وہی مریم نواز تھیں جنہوں نے جاوید ہاشمی کو ’’ایک بیمار آدمی، ایک بیکار آدمی ہاشمی ہاشمی‘‘ کہا تھا۔ احسان فراموش کہا تھا۔ جھوٹا کہا تھا۔ اسی مریم نواز نے جاوید ہاشمی کو اپنے گھر واپسی پر مبارک دی اور تسلیم کر لیا کہ وہ نہ بیمار ہے نہ بیکار ہے۔ نواز شریف کے ساتھ ملاقات سے قبل ’’زندہ تاریخ‘‘ کی تقریب رونمائی میں مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنمائوں نے جاوید ہاشمی کو خوب خراج تحسین پیش کیا۔ ’’زندہ تاریخ‘‘ دراصل اُن ایام کی ڈائری ہے جب جاوید ہاشمی جنرل پرویز مشرف کے دور میں جیل کاٹ رہے تھے۔ وہ اپنی ڈائری میں جو لکھا کرتے تھے اُس کا علم صرف اُنہیں اور اللہ کو ہوتا تھا۔ پھر اُنہوں نے یہ ڈائری کتاب کی صورت میں شائع کر دی۔ یہ کتاب جاوید ہاشمی کا وہ موقف ہے جسے اب خود جاوید ہاشمی بھی نہیں جھٹلا سکتے۔ اس کتاب کو جھٹلائے بغیر جاوید ہاشمی کو مسلم لیگ (ن) اپنے دامن میں سمیٹ لیتی ہے تو احسان فراموش کا الزام تصدیق کی مہر کے ساتھ نواز شریف کی طرف منتقل ہو جائے گا۔ ملاحظہ فرمایئے ’’زندہ تاریخ‘‘ کے صفحہ 54اور 55پر ہاشمی صاحب کیا لکھتے ہیں؟ جیل کے ایام کا حال لکھتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ایک دن مسلم لیگ (ن) کے فعال کارکن احسان پاشا جیل میں ملنے آئے۔ وہ کئی دنوں سے لندن میں تھے۔ وہ آتے ہی زار و قطار رونے لگے۔ کہنے لگے ایک دن لندن میں میاں نواز شریف نے قیصر محمود شیخ کو اپنے پاس بلایا۔ وہاں شہباز شریف اور کلثوم نواز بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ شہباز شریف نے قیصر محمود شیخ کی سختی سے سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہمارے مقابلے پر لیڈر تیار کر رہے ہیں آپ فوری طور پر جاوید ہاشمی سے تعاون بند کریں۔

قیصر صاحب نے بتایا کہ مشرف حکومت نے ہاشمی صاحب کے بنک اکائونٹس منجمد کر دیئے ہیں، زمینوں کا پانی بند کر دیا ہے، ان کے وسائل محدود ہیں وہ پارٹی بھی چلا رہے ہیں اور جیل میں بیٹھ کر مزاحمت بھی کر رہے ہیں لیکن شہباز شریف نے کہا بس ہاشمی کی مدد بند کر دو۔ جاوید ہاشمی نے لکھا کہ پارٹی کے اندر میاں نواز شریف کا مجھ سے رویہ تکلیف دہ تھا۔ میں انہیں اپنے خلاف سازشوں کے ثبوت دیتا تھا لیکن وہ خاموش رہتے تھے۔ بعض لوگ یہ بھی کہتے تھے کہ مجھے لمبی قید میں ڈالنے کا منصوبہ بھی پارٹی کے اندر تیار ہوا۔ اور بھی بہت کچھ ہے جو جاوید ہاشمی نے ’’زندہ تاریخ‘‘ میں شامل کر کے نواز شریف اور شہباز شریف کے کردار پر سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ جاوید ہاشمی کو مسلم لیگ (ن) میں واپس لا کر شہباز شریف کی قوت برداشت کو مزید امتحان میں ڈالنا مقصود ہو لیکن شریف برادران جاوید ہاشمی کی ’’زندہ تاریخ‘‘ سے اتنی آسانی کے ساتھ جان نہ چھڑا سکیں گے۔ انہیں یہ تو بتانا ہو گا کہ جب جاوید ہاشمی ایک ڈکٹیٹر کے خلاف جیل میں بیٹھ کر مزاحمت کر رہا تھا تو آپ نے لندن میں بیٹھ کر اُس کی پیٹھ میں خنجر کیوں گھونپا؟ اگر اس سوال کا جواب دیئے بغیر جاوید ہاشمی کو مسلم لیگ (ن) میں شامل کر لیا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا ہاشمی صاحب نے جو بھی لکھا بالکل سچ لکھا۔ ہاشمی صاحب پیشگی مبارکباد قبول فرمایئے۔

بشکریہ ڈیلی جنگ  7 دسمبر 2017

دسمبر 6, 2017

پرنس کریم آغاآخان کا دورہ چترال ! تاریخی پس منظر میں




چترال (ٹائمزآف چترال: رپورٹ کریم اللہ) اسماعیلیوں کے روحانی پیشوا ہزہائی نس پرنس کریم آغاخان 9دسمبر کو ایک روزہ دورے پر چترال تشریف لارہے ہیں اس دورے میں آپ اپر چترال میں بونی اور لوئر چترال میں گرم چشمہ کے مقام پر اپنی جماعتوں کو دیدار اور دربار سے نوازیں گے ، جبکہ مختلف سرکاری وسیاسی وفود سے بھی ملاقات متوقع ہے ۔ پرنس کریم کاحالیہ دورہ جہاں اسماعیلی کمیونٹی کے لئے انتہائی اہمیت کے حامل ہے وہیں پورے چترالی عوام میں اس دورے سے متعلق کافی متجسس پائی جاتی ہے ۔ اس حوالے سے سب سے اہم بات یہ ہے کہ پرنس کریم کے حالیہ دورے کے موقع پر انتظامات اور تیاریوں میں اسماعیلیوں کے ساتھ ساتھ سنی برادری بھی شانہ بشانہ مصروف عمل ہے ۔جو کہ اس خطے میں انٹر کمیونل ہارمنی کی بہترین مثال ہے ۔

پرنس کریم آغاخان 13دسمبر 1936ء کو سوئزرلنڈ کے شہر جینوا میں پیدا ہوئے،آپ ہارڈورڈ یونیورسٹی سے اسلامی تاریخ کا مطالعہ کیا ، 1957ء کو جب اسماعیلیوں کے اڑتالیسویں امام سر سلطان محمد شاہ کا انتقال ہوا توپرنس کریم 11جولائی 1957ء کو 21برس کی عمر میں آغاخان (چہارم) کے موروثی لقب سے اسماعیلیوں کے انچاسوین امام کی حیثیت سے تخت امامت پر جلوہ افروز ہوئے ۔ اور گزشتہ ساٹھ برسوں سے آپ نہ صرف اسماعیلیوں بلکہ دوسری کمیونٹی کی صحت، تعلیم اور سماجی ترقی کے لئے ناقابل فراموش کردار اداکرتے آرہے ہیں آغاخان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک پوری دنیا میں کارکردگی کا معیار تصور کیا جاتا ہے ۔

پاکستان کے شمالی علاقوں بالخصوص گلگت بلتستان اور چترال کی ترقی میں اے کے ڈی این کے کردار کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ چترال کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہزہائی نس پرنس کریم آغاخان 6مارچ 1976ء کو سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے ہمراہ چترال کا دورہ کیا ذوالفقارعلی بھٹوشہید 1975ء میں گرم چشمہ کا درہ کیا تو اسماعیلی کمیونٹی کو خوشخبر سناتے ہوئے اعلان کیا کہ بہت جلد میں آپ کے امام پرنس کریم کو چترال آنے کی دعوت دی جائے گی ، اس اعلان کے بعد وہاں موجود لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور بھٹو زندہ باد کے نغروں کے ساتھ جلسے کے شرکاء جھوم اٹھے ۔ بالاآخر 6مارچ 1976ء کو پرنس کریم آغاخان ذوالفقارعلی بھٹو کے ہمراہ چترال کا دورہ کیا ، اس موقع پر بھٹو صاحب نے پرنس کریم سے درخواست کی کہ میں چترالیوں کی خدمت کرنا چاہتا ہوں لیکن ملکی وسائل اس کی اجازت نہیں دیتے لہذا چترال کی ترقی میں آپ بھی حکومت پاکستان کی مدد کریں ۔یوں چترال میں اداروں کا جھال بچھادیا گیا اور چترال میں انفراسٹریکچر سے لے کر تعلیم اور صحت تک العرض زندگی کے سارے شغبوں میں اے کے ڈی این کا کردار نمایاں نظر آتا ہے ۔

اس کے بعد وقتا فوقتا پرنس کریم چترال کا دورہ کرتے رہے دوسری بار اپنی امامت کے سلور جوبلی کے سال میں 15مئی 1983ء کو چترال تشریف لائیں اس دورے میں صرف مستوج کا دورہ کرکے جماعتوں کو دیدار سے نوازا۔ اس کے بعد 15نومبر 1987ء کو پرنس کریم ایک مرتبہ پھر چترال کے دورے پر آئے اس بار گرم چشمہ ، سوسوم، شوتخار، بونی کا دورہ کیا۔ اور آخری مرتبہ آج سے ٹھیک 14برس قبل 3دسمبر 2003ء کو پرنس کریم ایک بار پھر چترال تشریف لائے اس مرتبہ گرم چشمہ اور بونی میں جماعتوں کو دیدار سے نوازا۔

سن 2007ء کو آپ کی امامت کاگولڈن جوبلی منایا گولڈن جوبلی سال کے موقع پر پرنس کریم کا دورہ چترال متوقع تھا لیکن ملک میں ابتر سیکیورٹی صورتحال کی وجہ سے گولڈن جوبلی کے موقع پر آپ کی تشریف آوری ممکن نہ ہوسکی ۔ جبکہ سال روان میں پرنس کریم اپنی امامت کا ڈائمنڈ جوبلی منایا اس موقع پر پرنس کریم نے دنیا بھر کی جماعتوں کو دربار سے نواز ا ۔ اور اسی سلسلے میں دسمبر کے دوسرے ہفتے میں آپ پاکستان کے دورے پہ آرہے ہیں اس دورے میں آپ چترال میں دو مقامات یعنی بونی اور گرم چشمہ میں جماعتوں کو دربار اور دیدار سے نوازیں گے ، جبکہ 10دسمبر کو گلگت بلتستان میں غذر اور ہنزہ کی جماعتوں سے ملاقات کریں گے ۔

ضلع چترال، تحصیل مستوج کا خوبصورت گاؤوں ریشن گوگل میپ پر

ضلع چترال، تحصیل مستوج کا خوبصورت گاؤوں ریشن گوگل میپ پر

دسمبر 5, 2017

جاوید ہاشمی کے بعد ایک اور باغی ن لیگ میں واپسی کے لئے تیار، کون ہیں وہ؟

اسلام آباد (ٹی او سی مانیٹرنگ ڈیسک) جاوید ہاشمی کے بعد ایک اور باغی ن لیگ میں واپسی کے لئے تیارہیں۔ تفصیلات کے مطابق سابق ن لیگی رہنما غوث علی شاہ کی مسلم لیگ ن میں واپسی کا امکان ہے۔ مریم نواز نے ان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔ سینئر صحافی عارف نظامی کی تصدیق۔ 


تفصیلات کے مطابق نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے ن لیگ سے کنارہ کشی اختیار کرنے والے مسلم لیگ ن سندھ کے سابق صدر غوث علی شاہ سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے جس کے بعد امکان ظاہرکیا جا رہا ہے کہ جاوید ہاشمی کے بعد نواز شریف کے دیرینہ ساتھی اور مسلم لیگ ن سندھ کے سابق صدر غوث علی شاہ کی ن لیگ میں واپسی ہو سکتی ہے ۔ اس حوالے سے نجی ٹی وی پروگرام میں سینئر صحافی عارف نظامی کا کہنا تھا کہ مریم نواز کا جاوید ہاشمی کی ن لیگ میں واپسی میں کلیدی کردار ہے جبکہ غوث علی شاہ سے بھی ان کا ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget