اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

25 جون، 2019

ایمریٹس موسم گرما کے دوران اپنی پروازوں میں پھلوں سے تیار کردہ کھانے پیش کرے گا

ایمریٹس موسم گرما کے دوران اپنی پروازوں میں پھلوں سے تیار کردہ  کھانے پیش کرے گا



کراچی: ایمریٹس موسم گرما کے دوران اپنی پروازوں کے مینو میں موسم کے پھلوں سے تیار کردہ اشیاء خورد نوش پیش کرے گی۔ ایمریٹس کی پروازوں پر سالانہ 110 ملین کھانے پیش کئے جاتے ہیں۔ ایمریٹس کے شیفس دنیا بھر کے ممالک سے تعلق رکھنے والے مسافروں کے لئے موسم کے پھلوں سے تیار کردہ  علاقائی کھانوں کی تیاری میں مسلسل مصروف رہتے ہیں۔

اگلے دو ماہ میں ایمریٹس مخصوص پروازوں پر موسمی کھانوں کی مختلف اقسام پیش کرے گا۔ ان مخصوص کھانوں میں برطانیہ کی پرواز پر اسٹرابیریز سے تیار کردہ  Eton Mess    اور بھارت جانے والی پروازوں پر ایلفونسو آموں سے تیار کردہ کھیر اور کیک پیش کئے جائیں گے۔

جولائی میں برطانیہ اور آ ئرلینڈ کا سفر کرنے والے فرسٹ اور بزنس کلاس کے کسٹمرز تازہ  اسٹرا بیریز کھانے  کے ساتھ ساتھ بر طانیہ کے پسندیدہ میٹھےEton Mess سے بھی لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔اس کے علاوہ  اسٹرابیری Eclairs ، وائٹ چاکلیٹ کریم، پیسٹری کرپس بھی پیش کئے جائیں گے۔ ایمریٹس کی برطانیہ اور آئر لینڈ کی پروازوں پر جولائی کے مہینے میں مختلف میٹھے تیار کرنے کیلئے 200 کلوگرام سے زیادہ تازہ  اسٹرا بیریز  استعمال ہوں گی۔ 

جولائی میں بھارت کا سفر کرنے والے مسافر  پرواز کی تمام کلاسز میں  ایلفو نسو آموں سے تیار کردہ میٹھے مسافروں کو پیش کریں گے۔فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافر ایلفونسو آموں  سے تیار کردہ کیک سے لطف اندوز ہو سکیں گے جبکہ اکانومی کلاس کے مسافر ایلفونسو آموں  اور ساگو کھیر تناول فرمائیں گے۔اس ایک مہینے تک جاری رہنے والے مینو میں تقریباََ چھ ٹن ایلفونسو آم استعمال ہوں گے۔ 

ایمڑیٹس اپنے کسٹمرز کو پورے سال خاص مواقعوں جیسے کہ چا ئنا کا نیا سال، رمضان اور ایسٹر کے تہواروں کے دوران موسمی پھلوں سے تیار کردہ انواع و اقسام کے کھانے پیش کرتی ہے۔ ایمریٹس نے جاپان، جرمنی، ایمسٹریڈم اور فرانس جانے والی پروازوں پر بھی موسمی پھلوں سے تیار کردہ علاقائی کھانے متعارف کروائے ہیں۔

ایمریٹس کے کچن سے روزانہ 520 پروازوں کیلئے طعام تیار کیا جاتا ہے۔ ایمریٹس کی 1,800  شیفس پر مشتمل ٹیم کے پاس  12,450 کھانوں کی تراکیب ہیں اور یہ ایک منٹ میں 209  کھانے پیش کرتے ہیں 

کھانے کے شوقین لوگ ایئر لائن کے ایوارڈ یافتہ انٹر ٹینمنٹ سسٹم  ’ice‘  پر دستیاب  ایمریٹس کے فوڈ چینلز سے بھی لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ 

Read this news in English


تین معذور بچوں کے بوڑھے باپ کی زمین پر با اثر شخص قابض، زمین پر سکول بناکر نوکری دینے کی شرط پر لی گئی تھی، لیکن اب تک نہ تنخواہ ملی نہ زمین واپس ہوگئی: متاثرہ شخص کی چیف جسٹس اے اپیل

تین معذور بچوں کے بوڑھے باپ کی زمین پر با اثر شحص کا قبضہ۔ زمین اس شرط پر لی گئی تھی کہ سکول میں مجھے نوکری دی جائے گی گزشتہ چھ ماہ سے نہ تنخواہ دے رہاہے نہ زمین حالی کرتا ہے۔ چیف جسٹس سے انصاف کی اپیل



چترال (گل حماد فاروقی)چترال کی دور آفتادہ علاقہ سیاہ آرکاری میں ایک ضعیف شحص جس کے تین بچے معزور ہیں ان کی زمین پر با اثر شحص نے قبضہ کیا ہے۔ معذور شحص کے زمین پر سکول اس شرط پر بنائی تھی کہ اسے ملازمت دی جائے گی۔ گزشتہ چھ ماہ سے نہ تو اسے تنخواہ دی گئی نہ زمین کو واہگزار کیا۔ 

تفصیلات کے مطابق دور آفتادہ علاقہ سیاہ آرکاری کے رہایشی پنین خان ولد ماخان زار نے مقامی صحافیوں کو بتایاکہ آرکاری میں میلیم ماڈل سکول MMS کیلئے اس نے ایک ایکڑ زمین مفت فراہم کی۔ زمین اس شرط پر حوالہ کیا کہ اسے ماہوار 8000 تنخواہ دی جائے گی۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سکول کے پرنسپل نے زمین کے مالک کا تنخواہ بھی بند کیا اورجس زمین پر یہ سکول تعمیر ہوا ہے اس کے عوض اسے دوسرا زمین دینے سے بھی انکاری ہے۔ 

ان کا کہنا ہے کہ مقامی مصالحتی جرگہ میں یہ مقدمہ فیصلہ نہ ہوسکا۔ پنین خان کا کہنا ہے کہ اس کے بیٹے اور بیٹیاں سب گونگے اور معذور ہیں اور آسانی سے چل پھر بھی نہیں سکتے بلکہ ان کو سہارے کی ضرورت پڑتی ہے تو بلا ایسے معذور لوگ اس بااثر شحص کے حلاف کیسے کوئی کاروائی کرسکے گا

انہوں نے مزید کہا کہ سکول کے پرنسپل میر حکیم نے سکول کو بھی کامیاب نہ کرسکا اس میں بچوں کی تعداد بھی روز بہ روز کم ہورہی ہے۔ پنین خان کا کہنا ہے کہ اس نے بار ہا میر حکیم سے گزارش کی کہ یا تو وہ اسے حسب معاہدہ تنخواہ دیا کرے یا میرے زمین پر جو سکول تعمیر کیا ہے اس کے بدلے میں مجھے دوسرا زمین دے۔ 

پنین خان کے ساتھ اس کے دو معذور بیٹے اور ایک معذور بیٹی بھی موجود تھی جو نہ تو بول سکتے ہیں نہ آسانی سے چل پھر سکتے ہیں۔ انہوں نے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ، وزیر اعلےٰ خیبر پحتون خواہ اور عمران خان سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ ایک ضعیف اور معذور شحص ہے اس کے بچے بھی معذور ہے اور یہ زمین اس نے ان معزور بچوں کے نام کیا تھا تاکہ ان کی بری وقتوں کا سہار ا بن سکے مگر میر حکیم نامی با اثر شحص نے اس پر قبضہ جمایا ہوا ہے اور معاہدے کی حلاف ورزی کرتے ہوئے اسے تنخواہ نہیں دے رہا ہے۔ 

ہمارے نمائند ے نے میر حکیم سے رابطہ کرنے کی بہت کوشش کی تاکہ ان کا موقف بھی جان سکے مگر اس کے ساتھ رابطہ نہ ہوسکا۔



24 جون، 2019

چترال تحصیل میونسپل انتظامیہ کے پاس صرف ایک انجینئر، 373 سکیمیں: سارے منصوبوں کا معائنہ صرف ایک انجینئر کرتا ہے، یہی وجہ ہے منصوبے غیر معیاری اور کاغذی منظوری ہوتی ہے

تحصیل میونسپل انتظامیہ کے پاس صرف ایک سب انجنئیر ہے۔ 373 سکیموں کیلئے ایک سب انجنئیر کا ہونا مذاق کے مترادف ہے۔ کم از کم چار انجنئیروں کو فوری بھرتی کیا جائے۔ 

چترال(گل حماد فاروقی) تحصیل میونسپل انتظامیہ کے پاس صرف ایک سب انجنئیر ہے جبکہ حال ہی میں 373 پراجیکٹ پر کام ہورہا ہے۔ سرفراز الدین ٹھیکدار نے کہا کہ ٹی ایم اے کے پاس صرف ایک سب انجنئیر ہے اور سیکمیوں سینکڑوں کی تعداد میں ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ صرف ایک سب انجنئیر اتنی ساری منصوبوں کا معائنہ کرے اور کام کی معیار کو یقینی بنایا جائے۔ 

سرفراز الدین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ یہاں کم از کم تین ڈگری ہولڈر انجنئیر ز ہونے چاہئے تاکہ وہ ترقیاتی منصوبوں کا صحیح طریقے سے معائنہ بھی کرے اور کام کی معیار بھی حراب نہ ہو۔ 

سرفراز الدین نے الزام لگایا کہ ٹی ایم اے میں ایک ہفتہ پہلے ورک آرڈر جاری ہوا ہے مگر لوگوں کو کام کئے بغیر چیک بھی جاری کیئے جاتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعض کام دو سال پہلے ہوچکے ہیں ان ٹھیکداروں کو چیک نہیں دیا جاتا مگر جن کو ابھی ورک آرڈر مل گیا ہے اور کام بھی شروع نہیں کیا ہے ان کو سفارشی بنیاد پر چیک دیا جارہا ہے۔ 

سرفراز الدین نے انکشاف کیا کہ چھٹی کے دن بھی فائل تیار ہورہے ہیں اور من پسند ٹھیکداروں کو چیک دیئے جاتے ہیں۔ جبکہ کام کا کوئی پتہ نہیں ہے۔ اس سلسلے میں تحصیل میونسپل آفیسر اور متعلقہ انجنئیرز کا موقف لینے کیلئے ہمارا نمائیندہ باقاعدہ ان کے دفتر گیا مگر دونوں کسی کام سے باہر نکلے تھے اور دفتر میں موجود نہیں تھے۔

سرفراز الدین ٹھیکدار مطالبہ کرتے ہیں کہ ٹی ایم اے چترال میں تین انجنیرز کو مزید بھرتی کیا جائے نیز جن منصوبوں کا ورک آرڈر جاری ہوا ہے ان ٹھیکداروں کو پابند کیا جائے کہ وہ کام شروع کرے ایسا نہ ہو کہ وہ کام ادھورا چھوڑ کر چلے جائے اور سرکار کو کروڑوں روپے کا ٹیکہ لگ جائے۔ 

اس کے علاوہ محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس میں بھی چھٹی کے دن سڑکوں کی تعمیر اور مرمت کا کام جاری ہے مگر ان کو دیکھنے کیلئے کوئی انجنیر یا کوئی افیسر نظر نہیں آیا۔ عوام اکثر شکایت کرتے ہیں کہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو میں بھی من پسند ٹھیکداروں کو بغیر کام کا چیک دئے جاتے ہیں۔ ایک ٹھیکدار نے نام نہ بتانے کی شرط پر انکشاف کیا کہ چیو پل کے قریب سی اینڈ ڈبلیو نے پہلے نالہ بنانے کیلئے حطیر رقم حرچ کرکے ایکسکیویٹر سے کھدائی کروائی مگر بعد میں اس پر مزید رقم خرچ کرکے اسے بغیر تعمیر کے بھردیا کہ فنڈ نہیں ہے۔ شاہی مسجد روڈ اور پی آئی اے چوک کے درمیان پرانے سڑک پر تارکول ڈال کر اسے سرکار سے چیک لینے کیلئے جائز قراردیا جاتا ہے۔ عوام مطالبہ کرتے ہیں کہ جون کے مہینے میں جتنے بھی چیک جاری ہوتے ہیں ان کا باقاعدہ احتساب ہونا چاہئے کہ کتنے کام مکمل ہوئے ہیں ان کا معیار کیسا ہے اور کتنے ادھورے کاموں کیلئے سرکاری خزانے سے رقم نکل رہی ہے۔



چترال یونیورسٹی کیلئے فنڈ میں حالیہ بجٹ میں صوبے اور وفاق کی سطح پر مایوس کن حد تک کٹوتی۔ 4 سو کنال زمین کی خریداری کے اعلان کے بعد فنڈ میں کٹوتی مایوس کن ہے

چترال یونیورسٹی کیلئے عمران خان نے چار سو کنال زمین خریدنے کا اعلان کیا تھا مگر حالیہ بجٹ میں 880 ملین رقم کی کٹوتی کی گئی۔

چترال یونیورسٹی کی بجٹ میں کمی کی وجہ سے طلباء و طالبات میں مایوسی پھیل گئی۔

چترال جامعہ چترال کی فنڈ میں کٹوتی کو حتم کرکے اس کی بجٹ کو فوری دگنا کیا جائے تاکہ چار سو کنال زمین خرید کر مزید کلاس روم بنائے جاسکے۔

چترال (گل حماد فاروقی)جامعہ چترال کے لئے حالیہ بجٹ میں کٹوتی پر یونیورسٹی کے طلباء و طالبات کے علاوہ علاقے کے لوگوں میں کافی مایوسی پھیل گئی۔ چترال یونیورسٹی ٹیکنکل کالج کے ایک عمارت میں قائم کی گئی جو صرف 27 کنال زمین پر بنی گئی ہے جہا ں کلاس روز کی شدید قلعت ہے۔ اسی عمارت میں عبدالولی خان یونیورسٹی کا کیمپس وجود میں آیا تھا بعد میں اسے چترال یونیورسٹی میں اسے منتقل کیا گیا۔ جو دو سال قبل وجود میں آئی۔

پچھلے سال عمران خان اور سابق وزیر اعلےٰ پرویز خٹک نے جامعہ چترال کے ایک تقریب میں شرکت کی تھی جس میں عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ یونیورسٹی کیلئے چار سو کنال زمین خریدی جائے گی جس کیلئے ضلعی انتظامیہ نے سیکشن فور لگاکر زمین کی نرح بھی لگائی اور اس کیلئے 402 ملین روپے کا رقم درکار ہے۔ 

حالیہ بجٹ میں چترال یونیورسٹی کا منظور شدہ بجٹ 1282 ملین روپے تھی اس میں 880 ملین کی کٹوتی کی گئی جامعہ چترال کیلئے مالی سال 2017-18 میں 1282 ملین منظور شدہ (Approved) بجٹ تھا جس میں آٹھ سو اسی ملین کا کٹوتی کرکے زمین کیلئے درکار 402 ملین روپے نہیں دی گئی اور یوں کپتان کا وعدہ ایفا نہ ہوسکا یہ اعلان بھی اس کے دوسرے اعلانات کی طرح صرف سیاسی طور پر عوام کو خوش کرنے کے مترادف زبانی جمع خرچ نکلی۔



اس یونیورسٹی میں زیر تعلیم کیلاش قبیلے کے چند طالبات نے کہا کہ ا س سے پہلے جب یہاں کوئی یونیورسٹی نہیں تھی ان کے والدین اپنی زمین بیچ کر ان کو پشاور، اسلام آباد یا لاہور کراچی تعلیم حاصل کرنے کیلئے بھیجتے تھے مگر یہ ہر والد کی بس کی بات نہیں تھی۔جب چترال میں جامعہ بن گئی تو ان کو امید پیدا ہوگئی کہ اب ان کو چترال سے باہر جاکر مہنگا تعلیم حاصل کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اور جب پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے یہاں اعلان کیا تھا جاپان کے صرف ٹوکیو شہر میں ایک ہزار سے زیادہ جامعات ہیں اور ہمارے صوبے میں صرف 27یونیورسٹیاں ہیں اور جامعہ چترال کیلئے چار سو کنال زمین جلد سے جلد خریدی جائے گی تو اس اعلان کے بعد ہمیں کافی پر امید تھے کہ اب ہم ایک ہائی سکول کی عمارت کی طرح ہم مزید اتنی چھوٹی سی جگہہ میں نہیں پڑھیں گے بلکہ یہاں بہت بڑی عمارت بنے گی جس میں طالبات کیلئے علیحدہ گراؤنڈ اور سٹیڈیم بھی ہوگا 

چند دیگر طلبا اور طالبات نے بھی اس قسم کے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف خان صاحب تعلیم میں بہتری لانے پر زور دے رہے ہیں اور اعلانات کررہے ہیں مگر عملی طور پر وہ اعلے ٰ تعلیم کیلئے کچھ بھی نہیں کرتے اور ان کا یہ اعلان بھی ان کی دوسری اعلانا ت کی طرح صرف سیاسی اعلان ثابت ہوا جو کبھی پورا نہیں ہوسکے گا۔ 

طالبات نے کہا کہ جامعہ میں جگہہ کی تنگی کی وجہ سے وہ کبھی درخت کے سائے میں بیٹھتے ہیں اور کبھی برآمدے میں جبکہ کلاس روم اتنے تنگ ہیں کہ ان کو تین، تین حصوں میں تقسیم کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ اس جامعہ میں جگہہ کی تنگی کی وجہ سے دیگر بھی کئی سہولیات کی فقدان ہیں 

چترال کے سیاسی اور سماجی طبقہ فکر نے عمران خان سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنا وعدہ ایفا کرے اور اس یونیورسٹی کیلئے اس نے جو چار سو کنال زمین خریدنے کا وعدہ کیا تھا وہ وعدہ جلد سے جلد ایفا کرے۔ کیونکہ اس جامعہ کیلئے نہ صرف صوبائی سطح پر بجٹ کی کٹوتی ہوگئی بلکہ مرکزی بجٹ میں بھی اس میں کٹوتی کی گئی اور اس سے چترال کے نوجوان طبقے کی امیدوں پر پانی پھر گئی کیونکہ چترال صوبے میں شرح حواندگی میں چوتھے نمبر پر ہے۔ 

واضح رہے کہ اس یونیورسٹی میں صرف گیارہ ڈیپارٹمنٹ ز ہیں اگر اس کیلئے زمین خریدی گئی اور نیا عمارت بن جائے تو یہاں اور بھی ڈیپارٹمنٹ ز آئیں گے جس سے طلباء کی تعلیمی تشنگی پوری ہوسکے گی۔


19 جون، 2019

ایل جی الیکٹرونکس نے دنیا کے پہلے 8 کے،88 انچ اولیڈ ٹی وی کی فروخت شروع کردی

ایل جی الیکٹرونکس نے دنیا کے پہلے 8 کے،88 انچ   اولیڈ ٹی وی کی فروخت شروع کردی


88 انچ   8 کے اولیڈ ٹی وی ناقابل یقین دیکھنے والوں کو نیا تجربہ دیتا ہے، ٹی وی اولیڈ ٹیکنالوجی سے مزین ہے



کراچی : ایل جی الیکڑونکس نے  دنیا کے پہلے 8 کے اولیڈ ٹی وی کی فروخت شروع کردی ہے ، کمپنی نے اولیڈ ٹی وی (ماڈل 88Z9) کے پری آرڈر لینا شروع کردیا ہے۔ ٹی وی شمالی امریکہ اور یورپ کی مارکیٹوں میں  بھی جلد دستیاب ہوگا۔

ایل جی اب تک کے سب سے بڑے 8 کے اولیڈ ٹی وی  میں جدت اور  بے جوڑ  ڈسپلے ٹیکنالوجی کو ممکن بنایا ہے۔ اولیڈ ٹی وی کا نیا ماڈل موجودہ ایل ای ڈی ڈسپلیز کے  مقابلے ٹیلی ویژن دیکھنے کا  بہترین اور پر لطف تجربہ فراہم کرتا ہے۔ ٹی وی پر انتہائی جدید  پینل  نصب کیا گیا ہے  جو  33 ملین سے زائد خودسے روشن  اور دھیمے ہونے والی پکسلز  پر مشتمل ہے جو ایل جی اولیڈ ٹیلی ویژنز کے جانے  مانے والی پکچر کوالٹی کے ساتھ  وسیع اینگل میں دیکھنے کے مزے کو  حقیقت سے قریب تر کردیتا ہے۔ 88 انچ ٹی وی پر 8 کے الٹرا ایچ ڈی ریزولوشن  (7,680 x 4,320)  کی بدولت کی  تصاور زیادہ  بالکل شارپ نظر آتی  ہیں۔ فل ایچ ڈی کے مقابلے میں 16 گنا جبکہ الٹرا ایچ ڈی کے مقابلے 4 گنا بہتر ہے۔

ایل جی 8 کے اولیڈ ٹی وی پینل کی کارکردگی کو  کمپنی کی سیکنڈ جنریشن  اے(ّ الفا) 9 جن 2 8کے پروسیسر کے ذریعے  بہترین بنایا گیا ہے۔   پروسیسر تصویر اور آواز کے معیار کو ڈیپ لرننگ ٹیکنالوجی  اور ویژول انٖفارمیشن کے وسیع ڈیٹا بیس تک  رسائی  کے ساتھ بڑھاتا ہے ۔  پروسیسر   سورس کوالٹی  کی جانچ کرکے چپ کو ٹی وی پر ظاہر ہونے والی تصاویر کاحقیقی منظر دکھانے کے لئے بہترین الگورتھم  لاگو کرتاہے ۔ اے 9 جن 2 ،  8کے پروسیسر کے ساتھ ایل جی 8کے  88انچ اولیڈ ٹی وی  میں  پروسیسنگ کی بہترین صلاحیت موجود ہے۔ یہ پروسیسر  ماحول   کا جائزہ  لیکر اس کے مطابق بہترین برائٹنس دیتا ہے۔  ٹیلی ویژن کی آواز  بھی محسورکن ہے جس سے دیکھنے اور سننے  والے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ آواز  کا معیار ایک ذہین الگورتھم کے ذریعے بڑھایا گیا ہے  جو دو چینل آڈیو کو ملاکر سراؤونڈ  5.1 آواز کو یقینی بناتا ہے۔ 

غیر معمولی ایچ ڈی آر تجربے کو یقینی بنانے کے لئے ایل جی 8 کے اولیڈ  ٹی وی  ڈولبے اٹموس کے ساتھ آرہا ہے اور ڈولبے ویژن کےناقابل یقین  حقیقی آواز ذہین فائن ٹیونز کونٹنٹ کی قابلیت کے ساتھ اس عمل کو یقینی بناتا ہے۔ ٹیلی ویژن ایچ ڈی ایم آئی 2.1  کو سپورٹ کرتا ہے، جس سے دیکھنے والے تیز ترین 60 فریم فی سیکنڈ  کے ساتھ 8 کے کنٹنٹ سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ 

ایل جی موبائل کمونیکیشن اور ہوم اینٹر ٹینمنٹ کمپنیز کے صدر برین کون نے کہا  کہ ’’ دنیا کے پہلے سب سے بڑے 8 کے اولیڈ ٹی وی کو سب سے پہلے مارکیٹ میں لاکر ہم نے الٹر پریمیم ٹی وی سگمنٹ میں اولین ہونے کے اپنے عزم کو ثابت کردیا ہے۔ یہ ٹی وی ناظرین اور ہمارے صارفین کو ناقبل یقین تجرہ فراہم کرے گا۔ ایل جی نے ہی سب سے پہلے اولیڈ کو مارکیٹ میں لایا تھا، اور آئندہ بھی ہم اسٹیٹ آف دی آرٹ ٹی وی ٹیکنالوجیز پیش کرنے کے سلسلے کو جاری رکھیں تاکہ صارفین کو گھریلو تفریخ میں جدت محسوس ہو۔‘‘ 






ضلع اپر چترال کے تحصیل انتظامیہ کی عمارت میں پہلا بجٹ اجلاس، ضلع کونسل میں پونے 4 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا گیا

چترال کے بالائی علاقے بونی میں ضلعی اپر چترال کے تحصیل انتظامیہ کی عمارت میں پہلا بجٹ اجلاس منعقد کیا گیا۔ ضلع کونسل میں پونے چار ارب روپے کا بجٹ پیش کیا گیا۔



چترال (گل حماد فاروقی) ضلع اپر چترال کے ضلعی ہیڈ کوارٹرز بونی کے مقام پر ضلع کونسل کا پہلا بجٹ اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت کنونیر مولانا عبد الشکور کرر ہے تھے۔ ضلع ناظم مغفرت شاہ نے سال 2018-19کا بجٹ پیش کیا جس پر ضلع کونسل کے اراکین نے بحث کیا۔ بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ضلع ناظم مغفرت شاہ نے کہا کہ چار سال قبل ان کے ساتھ جو وعدے کئے گئے تھے کہ احتیارات کی نچلی سطح پر منتقل کئے جائیں گے اور بڑے دعوے ہوئے تھے مگر چار سال گزرنے کے باوجود نہ تو احتیارات نچلی سطح پر منتقل ہوئے اور نہ ہمارے ساتھ کئے گئے وعدے پورے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی حکومت نے بیرونی امداد سے ایک ملٹی سیکٹورل منصوبہ لانے کی کوشش کی تھی۔مگر صوبائی اور مرکزی حکومت کی سرد مہری کی وجہ سے یہ پراجیکٹ چترال نہ آسکا۔ 

بجٹ اجلاس میں رحمت غازی، نابیگ کیلاش ایڈوکیٹ، مولوی عبد الرحمان، عبدالقیوم، رحمت الہی، شیر عزیز بیگ، یعقوب خان، مولوی جاوید حسین، خاتون رکن حصول بیگم، مفتی محمود الحسن، شیشی کوہ سے شیر محمد، ارندو سے شیر محمد، مولوی جاوید حسین، تحصیل ناظم مولوی محمد یوسف وغٖیرہ بحث میں حصہ لیا۔ 

بجٹ اجلاس میں محکمہ صحت پر کافی تنقید کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ جن بنیادی مراکز صحت اور یگر ہسپتالوں کو یہ ادویات فراہم کررہی ہے ان کا احتساب کیا جائے تاکہ اتنا حطیر رقم خرچ ہونے کے باجود بھی عوام کو کیوں ایک ڈسپرین کی گولی تک نہیں ملتی۔

بعد میں کافی بحث مباحثے کے بعد ضلع کونسل نے اپنا بجٹ پیش کیا جس کی تفصیلات کچھ یوں ہے۔ 

ہائر سیکنڈری سکولوں کی خود محتاری کیلئے گرانٹس، 5.511ملین، سکولوں میں داحلہ مہم اور آگاہی کیلئے گرانٹ 0.339 ملین، ایس ڈی اوز کے دفاتر کیلئے فرنیچر کی فرنیچر کی خریداری کیلئے گرانٹس 1.204ملین، ایس ڈی اوز کے دفاتر کیلئے IT آلات کی خریداری کیلئے گرانٹس، 1.090 ملین، گرانٹ برائے ادائگی معاوضہ LPR سرکاری ملازمین80.000 ملین، بنیادی مراکز صحت میں ادویات کی خریداری کیلئے گرانٹس12.370 ملین، بہترین کارکردگی دکھانے والے سکولوں کیلئے گرانٹس، 1.800 ملین کل 102.314 ملین بجٹ منظور ہوا۔ 

اسی طرح ملازمین کی سیلری یعنی تنخواہ اور الاؤنس کیلئے نظر ثانی شدہ تخمینہ3,95,92,40,000، نان سیلری اخراجات جاریہ کیلئے 30,34,61,000ڈسٹرکٹ کونسل گرانٹ (لوکل کونسل گرانٹ کا 20 فی صد) 1,54,33,000، ضلعی سالانہ ترقیاتی فنڈ، 31,35,03000

یہ بجٹ ضلع کونسل میں منطور ہوا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اپر چترال کے نئے ڈپٹی کمشنر شاہ سعود نے تمام اراکین کو یقین دلایا کہ وہ ان کا حادم ہے اور جب بھی کسی بھی وقت کسی کو اگر کوئی ان کے دفتر سے متعلق کوئی مسئلہ ہو تو وہ حاضر ہے۔ 

ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ اگر چہ نئے ضلعے کو کافی مشکلات کا سامنا ہے مگر ہم پرامید ہے کہ صوبائی حکومت ان کو گرانٹ دیکر اور یہاں کے قدرتی وسائل سے استفادہ کرتے ہوئے یہ ضلع ایک خود محتار ضلع ثابت ہوگا انہوں نے کہا کہ جتنے بھی ملازمین کا تعلق اپر چترال سے ہو ان کا لور چترال سے تبادلہ کرکے یہاں بلایا جائے گا تاکہ یہاں کا انتظامی امور جاری رکھ سکے۔ 


اسلامی علماء اور سیاسی علماء : سیاسی علماء نے اسلام کو بہت نقصان پہنچایا ہے: اس مولانا صاحب کی دل کو لگنے والی باتیں ذرا سنیں

  اسلامی علماء اور سیاسی علماء : سیاسی علماء نے اسلام کو بہت نقصان پہنچایا ہے: اس مولانا صاحب کی دل کو لگنے والی باتیں ذرا سنیں

  اسلامی علماء اور سیاسی علماء : سیاسی علماء نے اسلام کو بہت نقصان پہنچایا ہے: اس مولانا صاحب کی دل کو لگنے والی باتیں ذرا سنیں






18 جون، 2019

چین کے سیچوان صوبے میں خوفناک زلزلہ، 12 افراد ہلاک، 135 سے زائد زخمی

چین کے سیچوان صوبے میں خوفناک زلزلہ، 12 افراد ہلاک، 135 سے زائد زخمی



چین (ٹائمزآف چترال ویب ڈیسک) چین کے سیچوان صوبے میں خوفناک زلزلے سے 12 افراد ہلاک، 135 سے زائد زخمی  ہوئے ہیں۔ زلزلے کی شدت 6.0 تھی۔ ہزاروں افراد نقل مکانی کر چکے۔ زلزے سے درجنوں مکانات زمین بوس ہوگئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں سے 5 ہزار افراد کو ریسکیو کرلیا گیا ہے۔ زلزلے کے بعد متاثرہ علاقے میں 4 آفٹر شاکس آئے ہیں جن کی شدت 5.1 ریکارڈ کی گئی۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کی شدت 5.8 ریکارڈ کی گئی۔

زلزلے سے متعلق سرکاری ایجنسی شنوا نے بتایا کہ مختلف ہائی ویز پر دراڑیں پڑ گئیں اور یبن اور زویونگ کاؤنٹی کو ملانے والے بڑے ہائی وے کو بند کردیا گیا۔ زلزلے سے ایک منٹ قبل صوبائی دارالحکومت چنگدو میں انتباہی الارم کا نظام بجا تھا جبکہ یبن میں زلزلے سے 10 سیکنڈ قبل انتباہی گھنٹی بجی تھی۔ زلزلے سے قبل 3 سیکنڈ پہلے ہیڈ اسٹارٹ ہونے سے ہلاکتوں میں 14 فیصد روک سکتے ہیں۔



17 جون، 2019

چترال میں ڈسٹرکٹ کپ پولو ٹورنمنٹ کا آغاز۔ پہلے دن دس میچ ہوئے جن میں بیس پولو ٹیموں نے حصہ لیا۔

چترال میں ڈسٹرکٹ کپ پولو ٹورنمنٹ کا آغاز۔ پہلے دن دس میچ ہوئے جن میں بیس پولو ٹیموں نے حصہ لیا۔


پہلی بار نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم شندور پولو کلب کے کھلاڑیوں نے بھی اس میں حصہ لیا۔ 


چترال(گل حماد فاروقی) پولو گراؤنڈ چترال میں ڈسٹرکٹ کپ پولو ٹورنمنٹ کا آغاز ہوچکا ہے جو کہ 25 جون تک جاری رہے گا۔ پہلے دن ٹورنمنٹ میں بیس ٹیموں نے حصہ لیکر دس میچ ہوگئے۔ ان میں دروش سے لیکر مستوج اور شندور تک کے پولو ٹیمو ں نے حصہ لیا۔ پہلی بار اس ٹورنمنٹ شندور پولو کلب کے نوجوان کھلاڑیوں نے بھی حصہ لیا۔ 

ٹیم کیپٹن نظام علی نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ شندور پولو کلب کا آغاز ایک نیک شکون ہے اور اس میں نوجوان کھلاڑیوں کو بھی موقع ملتا ہے کہ وہ بھی کھیلے اور پولو کے ذریعے چترال کا نام روشن کرے۔ انہوں نے کہا کہ ان کو ناردرن سیٹیزن کمیونٹی بورڈ اور الکوثر ویلی جو فلاحی ادارہ ہے نے گھوڑے مفت فراہم کئے ہیں۔ 

ایک سوا ل کے جواب میں شہزادہ انیس جو نوجوان کھلاڑی ہے نے کہا کہ اس کمر توڑ مہنگائی گھوڑا پالنا بہت مشکل ہے کیونکہ ایک گھوڑے پر اوسطاً ماہوار بارہ ہزار روپے خرچ ہوتا ہے جو کہ ایک غریب کھلاڑی کیلئے مشکل ہے۔ 

سید ناصر علی شاہ نے کہا کہ ٹورزم کارپوریشن خیبر پحتون خواہ جو شندور کیلئے اور سیاحت کے فروغ کیلئے باون کروڑ روپے کا اعلان کرچکا ہے اگر وہ رقم کسی جیب میں جانے کی بجائے صحیح معنوں میں خرچ کی جائے تو تمام کھلاڑیوں کو گھوڑے پالنا اور ان کو ماہوار وظیفہ بھی اس سے مل سکتا ہے مگر TCKP اور صوبائی حکومت کی اعلان کردہ رقم صحیح معنوں میں خرچ نہیں ہوتا اس کا بھی نیب یا دیگر اداروں کے ذریعے احتساب ہونا چاہئے۔ 




انہوں نے کہا کہ ایک اعلےٰ نسل کا گھوڑا پانچ لاکھ روپے کا آتا ہے اور اس پر ماہوار ٹھیک ٹاک خرچہ آتا ہے جو کہ ایک متوسط طبقے کے کھلاڑی کیلئے مشکل ہوتا ہے۔ 

محبوب علی بیگ لال بھی ایک نوجوان کھلاڑی ہے جس نے مہربانی کرکے ہمارے نمائندے کو اپنا گھوڑا بھی فراہم کیا جس پر انہوں نے بیٹھ کر رپوررٹنگ کی محبوب علی بیگ لال نے کہا کہ وہ شوق سے کھیلتا ہے اور گھوڑے کو بھی اسی شوق کی تکمیل کیلئے پالتا ہے مگر اس دور میں گھوڑے جیسے مہنگا سواری پالنا نہایت مشکل پڑتا ہے۔ کیونکہ سردیوں میں اس کا چارہ لانا اور اس کا حوراک بہت مہنگا ملتا ہے۔ 

پولو کے کھلاڑیوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے ساتھ مالی طور پر مدد کرے تاکہ وہ گھوڑے پال سکے اور ان کی چار ا ڈالنے اور ان کی نگہداشت کیلئے ایک ملاز بھی رکھ سے بصورت دیگر ان کیلئے گھوڑا رکھنا بہت مشکل ہوگا جس سے پولو کا یہ روایتی کھیل حتم ہوکر صرف ا کی تصاویر کتابوں میں ملے گی۔ 


چترال کے بالائی علاقے کوشت میں محتلف انواع و اقسام پر مشتمل خوبصورت باغ۔ پتھروں پر اللہ اور محمدﷺ کے نام قدرتی طور پر کندہ ہیں۔ باغ سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

چترال کے بالائی علاقے کوشت میں محتلف انواع  و اقسام پر مشتمل خوبصورت باغ۔ پتھروں پر اللہ اور محمدﷺ کے نام قدرتی طور پر کندہ ہیں۔ باغ سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔



چترال (گل حمادفاروقی)  چترال کے بالائی علاقے کوشت گاؤں میں نغور مولی  میں ایک ایسا باغ بھی موجود ہے جس میں ہر رنگ، ہر قسم  یعنی محتلف انواع و اقسام کے پھول  موجود ہیں اس باغ کے علاقے کے ایک سماجی کارکن حبیب اللہ نے اپنی مدد آپ کے تحت تیارکیا ہے جس میں ہر قسم   اور ہر رنگ کے محتلف انواع  کے پھول موجود ہیں۔

اس باغ کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس میں ایسے  پتھر بھی رکھے گئے ہیں جن پر قدرتی طور پر اللہ اور رسول کے نام کندہ ہیں۔ حبیب اللہ کے بڑے بیٹے نعیم الدین کا کہنا ہے کہ میرے والد صاحب کا یہ شوق ہے اور ہر رنگ و نسل کے پھولوں کے بیج  لاکر اس باغ میں لگاتے ہیں اور جہاں سے بھی ان کو ایسے مقدس پتھر ملتے ہیں جن پر خدا اور رسول کا نام کندہ ہو تو ان نوادرات کو بھی دور دراز سے  لاکر اپنے باغ کا زینت بناتا ہے۔ 

جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ اس باغ اوران میں رکھے ہوئے  ان مقدس پتھروں کی حفاظت کیلئے کسی نے کوئی تعاون کیا ہے  تو جواب نفی میں تھا۔ 

یہ باغ  کوشت گاؤں کے بالکل شروع میں واقع ہے اور جو بھی کوئی سیاح  اس گاؤں میں داحل ہوتا ہے وہ ضرور اس باغ کا ایک چکر لگاکرتھوڑی دیر کیلئے خود کو محظوظ کرتا ہے اور قدرت کے ان نشانوں سے  اپنا قوت ایمانی تازہ کرتاہے۔ 
چترال کے  محتلف علاقوں  میں ایسے پراسرار پتھر اور غار کئی جگہہ موجود ہیں جن پر تحقیق کی ضرورت ہے اس کے علاوہ کئی پہاڑی اور پرانے سٹوپا کے طرز پر  عجیب قسم کے مقامات موجود ہیں جن پر ابھی تک کسی ادارے نے کام نہیں کیا ہے اور آثار قدیمہ کے طلباء کیلئے ان میں بہت مواد مل سکتا ہے۔ 



15 جون، 2019

چترال شاہی بازار میں ملکی سیاحوں کا خاصا رش، چترالی ٹوپی، واسکٹ، کوٹ، پروں والی چترالی ٹوپی اور اون سے بنے ہوئے ملبوسات میں دلچپسی اور خریداری

چترال میں غیر مقامی سیاحوں کا شاہی بازار میں رش۔ چترالی ٹوپی، واسکٹ، کوٹ اور اون سے بنے ہوئے ملبوسات کے دکان پر خریداروں کا رش لگا ہوا ہے۔ 



چترال(گل حماد فاروقی) چترال میں ابھی تک سیاحوں کی آمد کا سلسلہ جار ی ہے۔ یہ سیاح چترال کے محتلف علاقوں میں سیر کیلئے جاتے ہیں جبکہ چترال بازار میں بھی خریداری کرتے ہیں۔ چترال کے شاہی بازار میں  چترالی پٹی یعنی اون سے بنے ہوئے ملبوسات کے مشہور دکان چترال پٹی ہاؤس میں ان سیاحوں کا ہر وقت رش لگا رہتا ہے۔ پنجاب سے آئے ہوئے چند سیاحوں نے ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس دکان میں چترالی ٹوپی بہت پسند کی اور حصوصی طور پر جس ٹوپی میں مر غ ذرین کا تاج یا مور  کا پر لگا ہوا ہو وہ بہت خوبصورت لگتا ہے۔

اس کے علاوہ  دوسرے سیاحوں نے یہاں سے خواتین کا پرس اور شال خریدے۔ چند اور سیاحوں نے بچوں کیلئے  چترالی پٹی سے بنی ہوئی واسکٹ اور کوٹ خریدے۔ ان سیاحوں کا کہنا ہے کہ پنجاب میں ان چترالی سوغات کے بہت چرچے ہیں اور لوگ بہت شوق سے سردیوں میں یہ چیزیں استعمال کرتے ہیں نہ صرف خود کو سردی سے بچانے کیلئے بلکہ یہ چیزیں زیب تن کرکے خوبصورت بھی لگتے ہیں اور اس سے شحصیت میں نکھار آتی ہے۔ 



چترال کے وکلاء کا عدالتوں کابائکاٹ۔ جسٹس فائز عیسیٰ کے حق میں ریلی نکالی گئی، احتجاجی جلسہ بھی منعقد ہوا۔

چترال کے وکلاء کا عدالتوں کابائکاٹ۔ جسٹس فائز عیسیٰ کے حق میں ریلی نکالی گئی، احتجاجی جلسہ بھی منعقد ہوا۔


چترال (گل حماد فاروقی) پاکستان بار کونسل اور خیبر پحتون خواہ بار کونسل کے کال پر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے اراکین نے  جسٹس فائز عیسیٰ کے ساتھ یکجہتی کے طور پر عدالتوں سے بائکاٹ کرکے احتجاجی جلسہ کیا۔ اس سلسلے میں ایک ریلی بھی نکالی گئی  اور چترال کے وکلاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینر پکر تھے جس پر محتلف نعرے درج تھے۔ چترال کے وکلاء برادری نے جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف بے بنیاد اور نام نہاد ریفرنس  کے حلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔ انہوں نے ڈسٹرکٹ کونسل کے سامنے سڑک پر جلسہ بھی کیا جس کی صدارت خورشید حسین مغل صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن چترال کر رہے تھے۔ 

جلسہ میں وکلاء برادری کے علاوہ کثیر تعداد میں سول سوسائٹی کے  افراد نے بھی شرکت کی۔  جلسہ سے رکن خیبر پحتون خواہ بار کونسل  عبد الولی خان ایڈوکیٹ، صدر  خورشید حسین مغل ایڈوکیٹ، نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ،ایم آئی خان سرحدی ایڈوکیٹ وغیرہ نے  خطاب کیا۔  جلسہ میں متفقہ طور پر ایک قرارد داد منظور کی گئی  کہ ججز کے حلاف نام نہاد  اور بے بنیاد ریفرنس فوراً واپس لیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ججز کے حلاف ریفرنس واپس نہیں لیا گیا تو چترال بار کونسل مکمل  ہم آہنگی کے ساتھ  پاکستان بار کونسل اور  صوبائی بار کونسل  کے فیصلہ جات کو آئندہ بھی مکمل طور پر مان کر ان کی پیروی کریں گے اور اس تحریک کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے بعد میں شرکاء جلسہ پر امن طور پر منتشر ہوئے۔ 



14 جون، 2019

ضلع دیامر میں گاڑی دریا میں جا گری، گاڑی میں تیرہ افراد سوار تھے، 7 افراد جان بحق

ضلع دیامر میں گاڑی دریا میں جا گری، گاڑی میں تیرہ افراد سوار تھے، 7 افراد جان بحق



گلگت (ٹائمزآف چترال نیوز ڈیسک) گلگت کے ضلع دیامر میں چلاس کے قریب گاڑی میں دریا میں جا گری جس کے نتیجے میں 7 افراد جان بحق ہو گئے ہیں واقعہ منگل کے روز پیش آیا۔ گاڑی 13 مسافر سوار تھے، حادثہ سے قبل ڈرائیور گاڑی کا اسٹیرنگ ڈرائیور کے ہاتھ سے نگل گیا تھا۔ پولیس کے مطابق گاڑی (جیپ) خانباری سے چلاس جارہی تھی۔ زخمیوں میں دو کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔ جان بحق ہونے والوں کے نام اس مطابق ہیں، ٹیکہ خان، سید رحمت، ثنا اللہ، جاوید، عبدالوہاب، اوتال اور ان کا بیٹا۔ مقامی افراد کے مطابق گاڑی خستہ حال تھی، عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ گاڑیوں کا فٹنس چیک یقینی بنایا جائے تاکہ قیمتی انسانوں کے ضیاع کو روکا جاسکے۔



عطیہ خون کا عالمی دن : خون کا عطیہ کرنا ایک بہترین اخلاقی فریضہ: پاکستان میں 20 لاکھ لوگوں نے خون کا عطیہ دینے کے لئے فیس پر سائن پر کیا

عطیہ خون کا عالمی دن : خون کا عطیہ کرنا ایک بہترین اخلاقی فریضہ: پاکستان میں 20 لاکھ لوگوں نے خون کا عطیہ دینے کے لئے فیس پر سائن پر کیا 



کراچی : دنیا کے متعدد ممالک میں خون عطیہ کرنے کا عالمی دن منایا گیا۔ اس دن کو منانے کا مقصد محفوظ انتقال خون کے بارے میں آگہی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ خون کا وطیہ دینے والے افراد  کا  زندگی بچانے کے لئے دیئے گئے تحفے پر اظہار تشکر کرنا تھا۔

پاکستان میں اس عالمی دن کے موقع پر قومی سطح پر صحت کے شعبے سے منسلک اداروں نے محفوظ انتقال خون کے بارے میں آگہی پیدا کرنے کیلئے متعدد پروگرام منعقد کئے۔ ملک میں اس وقت صاف خون کی شدید قلت ہے۔

خون کی دستیابی ان مریضوں کیلئے نہایت ضروری ہے جو جان لیوا بیماریوں کا شکار ہیں۔ زچکی کے دوران اور اس کے بعد نومولود کیلئے بھی خون کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ پاکستان میں اس وقت خون کی شدید قلت ہے۔ حسن عباس ظہیر، پروجیکٹ ڈائریکٹر  اور  نیشنل کو رڈینیٹر، سیف بلڈ ٹر انسفیوژن پروگرام، کے مطابق پاکستان میں محفوظ خون کی شدید قلت ہے اور اس کمی کو جلد از جلد پورا کرنے کیلئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ صاف خون کی قلت کو دور کرنے کیلئے ملک کی آبادی کے تین فیصد حصے کو خون کا عطیہ دینا چاہیئے۔ 

 حسن عباس ظہیر نے بتا یا  ”پاکستان میں تھیلسیمیاء کے مریضوں کی بہت بڑی تعداد کی موجودگی کی وجہ سے انتقال خون کی ضرورت بہت زیادہ  بڑھ جاتی ہے۔ اس صورتحال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری آبادی کا تین فیصد حصہ باقاعدگی سے سال میں دو یا تین مرتبہ رضاکارانہ طور پر خون عطیہ کرے تاکہ ہم اپنے انتقال خون کے نظام کو 100   فیصد  بلامعاوضہ اور رضا کارانہ بنیاد پر برقرار رکھ سکیں۔“

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بھی اس مقصد میں کامیابی کیلئے مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔ فیس بک نے پاکستان میں خو ن عطیہ کرنے کا  فیچر  2017 میں متعارف کروایا تھا۔ اس فیچر کی مدد سے لوگ اپنے آپ کو خون عطیہ کرنے والی کی حیثیت سے رجسٹر کر واکر ان لوگوں سے براہ راست رابطہ کرسکتے ہیں جن کو خون کی ضرورت ہے یا پھر اپنا قریبی خون کا عطیہ وصول کرنے کا ادارہ تلاش کر کے خون عطیہ کر سکتے ہیں۔ سال 2018میں دنیا بھر سے پینتیس لاکھ لوگوں نے رضا کارانہ طور پر خون کا عطیہ دینے والے کے طور پر سائن آپ کیا تھا اور ان میں سے  بیس لاکھ سے زیادہ افراد کا تعلق پاکستان سے تھا۔  

ظہیر نے پاکستان کے  ’مضبوط انسان دوستی‘ کے جذبے کو سراہا، یہ ایک پہلو ہے جو پاکستان میں خون کے عطیات میں اضافے میں مدد کرتا ہے۔ 


ہیش ٹیگس #SafeBloodForAll، #DonateBlood سوشل میڈیا پر جمعے کے روز  آگاہی کے لئے استعمال کئے گئے۔

دنیا بھر میں 117.4 ملین خون کے عطیات جمع کئے گئے، جن میں سے 42 فیصد ترقی یافتہ ممالک جو کہ دنیا کی کل آبادی کا 16 فیصد ہیں۔  ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن سے موصول ڈیٹا کے مطابق ترقی پزیر ممالک میں 52 فیصد سے زائد لوگوں سے لئے گئے خون کے عطیات  5 سال سے کم عمر کے بچوں کو دیئے گئے۔ محفوظ خون زیادہ مقدار اور قابل بھروسہ طریقوں سے حاصل کرنے کے لئے مستحکم، رضاکار اور غیر منافع بخش بلڈ ڈونرز کے ذریعے یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ یہ ڈونرز عطیات خون کے سب سے محفوظ ڈونرز گروپ ہیں جن میں خون سے پھیلنے والے انفیکشنزکا تناسب سب سے کم ہے۔

اپنے قریبی بلڈ بینک تلاش کریں یا خون کی ضرورت کے وقت نوٹیفیکیشن حاصل کریں 
www.facebook.com/donateblood



13 جون، 2019

سمندری تیل بردار جہازوں پر حملہ، 2 جہاز تباہ کر دیئے گئے، تباہ جہازوں میں ایک سمند برد ہوگیا: تفصیلات پڑھیں

سمندری تیل بردار جہازوں پر حملہ، 2 جہاز تباہ کر دیئے گئے، تباہ جہازوں میں ایک سمند برد ہوگیا: تفصیلات پڑھیں


عمان( آن لائن ) شپنگ کمپنیوں اور صنعتی ذرائع کا کہنا ہے کہ خلیج عمان میں 2 تیل بردار جہازوں پر مبینہ حملہ کیا گیا ہے، جس میں حملوں کا شکار دونوں جہاز تباہ ہوگئے ہیں ان میں ایک جہاز تباہ ہوگیا ہے جہازوں کے عملے کو باحفاظت نکال لیا گیا ہے۔ امریکی ففتھ فلیٹ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ خطے میں موجود امریکی بحری فورسز کو مقامی وقت کے مطابق صبح 6 بج کر 12 منٹ پر ایک اور صبح 7 بجے دوسری پریشان کن فون کالز موصول ہوئی تھی۔بیان کے مطابق امریکی بحریہ کےجہاز سمندری علاقے میں موجود ہیں اور مشتبہ حملے کا شکار بحری جہازوں کی معاونت کررہے ہیں۔امریکی بحریہ نے یہ بیان برطانوی بحریہ کے ماتحت میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے بعد دیا جس میں انہوں نے علاقے میں ایک حادثے کا دعوی کرتے ہوئے الرٹ جاری کیا تھا۔

انہوں نے مزید وضاحت نہیں دی لیکن کہا کہ وہ حادثے کی تحقیقات کررہے ہیں اور امریکا ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافے کی وجہ سے انتہائی احتیاط برتنے پر اصرار بھی کیا ہے۔دوسری جانب 4 شپنگ اور تجارتی ذرائع کے حوالے سے موصول اطلاعات پر کہنا ہے کہ ایک نامعلوم حادثے کے بعد 2 ٹینکرز کو نکال لیا گیا تھا۔ذرائع کا کہنا تھا کہ بحری جہازوں کی شناخت فرنٹ آلٹائر کے نام سے ہوئی جس پر جزائر مارشل کا جھنڈا نصب تھا جبکہ کوکوکا کریجیئس پر پاناما کا جھنڈا نصب تھا۔کوکوکا کریجیئس کی انتظامی کمپنی، بی ایس ایم شپ مینیمجنٹ ( سنگاپور) کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ بحری جہاز کو حادثے کے بعد عملے کے 21 افراد نے جہاز چھوڑ دیا تھا۔ بیان میں کہا گیا کہ بحری جہاز متحدہ عرب امارات میں واقع ریاست فجیرہ سے 70 ناٹیکل مائلز ( 130 کلومیٹر) اور ایرانی کی ساحلی بندرگاہ سے 14 ناٹیکل مائلز (26 کلومیٹر) کے فاصلے پر تھا۔اس حوالے سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ' کوکوکا کریجیئس علاقے میں موجود ہے اور اس کے ڈوبنے کا کوئی خطرہ نہیں، میتھانول کا کارگو صحیح حالت میں موجود ہے۔بیان میں بتایا گیا کہ حادثے کے دوران عملے کا ایک شخص زخمی بھی ہوا جسے قریبی علاقے میں موجود دوسری کشتی پر علاج فراہم کیا گیا ہے۔ دوسری جانب سی پی سی پیٹروکیمیکل بزنس ڈویژن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) نے رائٹرز کو بتایا کہ فرنٹ آلٹائر تائیوان کی سرکاری آئل ریفائنر سی بی سی کارپوریشن کی جانب سے 75 ہزار ٹن نیفتھا ( پیٹروکیمیکل) لے کر جارہا تھا جب تائیوان کے مقامی وقت کے مطابق دوپہر 4 بجے کے قریب مشتبہ طور پر تارپیڈو کا نشانہ بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ عملے کے تمام افراد کو باحفاظت جہاز سے نکال لیا گیا تھا۔فرنٹ آلٹائر جہاز کی کمپنی ناروے فرنٹ شپنگ کمپنی نے کہا کہ ان کے جہاز پر آگ لگی ہوئی ہے۔ادھر ایرانی میڈیا نے کسی ثبوت کے بغیر رپورٹ کیا کہ خلیج عمان کے علاقے میں آئل ٹینکرز پر دھماکا ہوا تھا۔خیال رہے کہ گزشتہ ماہ فجیرہ کے ساحلی شہر کی بندرگاہ پر 4 جہازوں میں تخریب کاری کی کوشش پر متحدہ عرب امارات کی جانب سے مذمتی بیان سامنے آیا تھا، تاہم اس سے قبل وہ ساحلی علاقے میں کسی بھی قسم کے حملوں کی تردید کررہے تھے۔



چترال آیون سے 4 روز قبل لاپتہ نوجوان کی تشدد زدہ لاش نالے سے برآمد کرلی گئی، پولیس لاش ورثاء کے حوالے کرکے تفتیش شروع کردی: چترال بازار میں چور سرگرم

چترال آیون سے 4 روز قبل لاپتہ نوجوان کی تشدد زدہ لاش نالے سے برآمد کی گئی۔ پولیس نے لاش ورثاء کے حوالہ کرکے تفتیش شروع کردی۔


چترال(گل حماد فاروقی) چترال کے علاقے آیون سے چار دن پہلے لاپتہ ہونے نوجوان کی لاش کیسو میں برساتی نالے سے برآمد ہوئی۔ ایس ایچ او تھانہ آیون کے مطابق چند دن پہلے ایون سے ذاکر احمد ولد میاں گل لاپتہ ہوچکے تھے۔ ان کے والد کے مطابق ذاکر احمد کیسو گاؤں میں اپنے رشتہ داروں کے ہاں عید کے دنوں گیا تھا مگر گھر واپس نہیں لوٹا۔ ان کی تلاش جاری رکھی گئی۔ تاہم اس کی لاش کیسو گاؤں میں ایک برساتی نالے سے برآمد کی گئی۔ ذرائع کے مطابق لاش کافی حراب ہوچکی تھی اور پولیس کے مطابق لاش پر تشدد کے نشانات بھی موجود تھے۔متوفی کی تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال دروش میں پوسٹ مارٹم کی گئی جسے بعد ازاں آیون گاؤ ں میں آبائی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ تاہم پولیس نے ابھی تک FIRدرج نہیں کی مگر تفتیش شروع کرکے نامعلوم ملزمان کی تلاش شروع کردی جن پر بعد ازاں مقدمہ درج کیا جائے گا۔ 


چترال بازار میں چور سرگرم۔ پولیس سورہی ہیں چور جاگ رہے ہیں دکانداروں کا موقف۔ 


چترال بازار میں گزشتہ چند دنوں میں کئی دکانوں کے تالے توڑ کر ان سے چوری کی گئی۔ پی آئی اے چوک میں سموسے، پیکوڑے، جلیبی کا مشہور دکان بھی چوروں نے نہیں بحشا۔ اس دکان کی رات کی تاریکی میں تالہ توڑ کر غلہ میں پڑی ہوئی رقم چرایا گیا۔ اس سے قبل نثار احمد نامی دکاندار جو غیر مقامی ہے اس کے دکا ن کا بھی تالہ توڑ کر اس دکان سے تقریبا چالیس ہزار روپے چرائے گئے۔ اس کے علاوہ دکاندارو ں نے بتایا کہ چار دکانوں کو شاہی بازار میں اور ایک جغور کی جانب ان کی تالہ توڑ کر اس میں پڑی ہوئی رقم چرایا گیا۔ 

اس سلسلے میں ایس ایچ او تھانہ چترال سب انسپکٹر انور شاہ سے مل کر ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس سلسلے میں پولیس نے ان چوروں کے حلاف کوئی مقدمہ بھی درج کیا ہے کہ نہیں تو جواب نفی میں ملا ان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں نے تھانہ آکر کوئی رپورٹ درج نہیں کروائی۔ جب پیکوڑے، سموسے والے دکاندار سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پولیس کو بلایا تھا پولیس کے ہمراہ بازار کا صدر شبید احمد بھی آیا تھا مگر مقدمہ درج کرنا تو پولیس کا کام ہے۔ آزاد ذرائع نے بتایا کہ پولیس اکثر ایسے معاملات میں مقدمہ درج کرنے سے گریز کرتے ہیں تاکہ نہ ان کو ملزم کو تلاش کرنا پڑے او ر نہ وہ اپنے لئے درد سر ڈھونڈے۔ 

جس دکان سے چوری ہوئی ہے وہ دکان تھانہ چترال سے تقریباً سو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ 


نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں