چترال

29 جولائی، 2016

ممتاز حسین گوہر کے لئے : تحریرڈاکٹرعنایت اللہ فیضیؔ



ایک فلمی گیت کا خوبصورت اور یاد گار مصرعہ ہے ’’کچھ لو گ روٹھ کر بھی لگتے ہیں کتنے پیارے ‘‘پھسو ٹائمز کے حوالے سے شندور اور ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی کے زیر عنوان ممتاز حسین گوہر صاحب کی فکر انگیز اور پُر مغز تحریر پڑھنے کو ملی۔

دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اُس نے کہا
میں نے جانا گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
ہماری دور مندی مشترک ہے ہمار ا دکھ مشترک ہے ہماری سوچ اور فکر ایک ہی ہے صرف سال وماہ کا سوال ہے 2010 ؁ء کا سال وہ سال تھا جب ہمارے پیارے دوست ، نامور شاعر اور دانشور محمد امین ضیاء کی ہو نہار بیٹی محترمہ سعدیہ دانش کے ذریعے پہلی بار یہ سوال اُٹھایا گیا کہ شندور پولو فیسٹول کی میزبانی گلگت بلتستان کو دی جائے حالات ساز گار تھے گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ سید مہدی شاہ کو صدر پاکستان آصف علی زار دری کا دست راست خیال کیا جا تا تھا اور بعید نہیں تھا کہ برسوں پرانی تاریخی اور ثقافتی روایات کو سیاست کی بھیٹ چڑھا کر ملیا میٹ کیا جاتا خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ ایوان صدر کی زنجیر عدل ہلائی گئی فر یادی نے 1975 ؁ء میں قائد عوام ذولفقار علی بھٹو شہید کے دور حکومت کا لینڈ کمیشن ریکارڈ پیش کیا جس میں شندور کے دو پولو گراؤنڈ پیمائش کرکے سابق این ڈبلیو ایف پی اور موجودہ خیبر پختونخوا کی ملکیت قرار دئیے گئے ہیں بھٹو شہید کے گزٹ نو ٹیفیکیشن کو دیکھ کر سید مہدی شاہ نے بھی ہاتھ کھینچ لیا گلگت بلتستان اور ضلع غذر کے سنجیدہ اور تعلیم یافتہ حلقوں نے بھی اس پر غور کیا کہ کوئی ٹھوس وجہ ضرور تھی جس کی بناء پر 1914 ؁ء میں راجہ مراد خان نے میزبانی کا دعو یٰ نہیں کیا ان کے بعد راجہ حسین علی شاہ ، راجہ جان عالم ، راجہ محمد انوار خان ، راجہ غلام دستگیر اور راجہ محبو ب علی خان نے میز بانی کا دعویٰ نہیں کیا منتخب جمہوری لیڈروں کا دور آیا تو چیئرمین لطیف حسن ، چیف ایگزیکٹیو پیر کرم علی شاہ چےئر مین فدا محمد ناشاد ، اور چیف ایگز یکٹیو راجہ غضنفر علی فے شندور پولیو فیسٹول کی میزبانی کا دعویٰ نہیں کیا اور برسوں پرانی روایات کی پاسداری کی یہ بھائی چارہ ہے حب الوطنی ہے اور مٹی کے ساتھ محبت ہے پشتو کے فلاسفر اور صوفی شاعر امیر حمزہ خان شنواری کا خوبصورت شعر ہے

وڑم،مستقبل تہ دماضی روایات
حمزہ خپل حال دولولو سرہ زم

ترجمہ : میں ماضی کی روایات کو مستقبل تک لے جانا چاہتاہوں میرے زمانہ حال کے ولولے میرا ساتھ دیتے ہیں ۔غذر اور چترال کے لوگ اسلامی بھائی چارہ اور مشترکہ تہذیب و ثقافت کے ساتھ ساتھ قریبی خونی رشتوں میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں ۔میں لاسپور میں رہتا ہوں تو میرا بھائی اکبر شاہ پھنڈر میں اور دوسرا بھائی میر حسین چھاشی میں رہتا ہے ، تیسرا بھائی زرولی شاہ سونی کوٹ میں اور چھوتھا بھائی عمرولی جوٹیال میں رہتا ہے ۔یہ علاقہ ایک وحدت ہے تاہم وقت کے ظالم لہروں نے 1843 میں معاہد ہ امر تسرکے ذریعے دونوں کے درمیاں لیکیر کھینچ دی جون 1980 ؁ء میں جنرل ضیا ء الحق شہید شندور پولیو فیسٹول میں مہماں خصوصی بن کر آئے ۔اور چےئر مین خورشید علی کے پر جوش سپا سنا مے کے جواب میں ولولہ انگیز تقریر کر کے دنیا بھر کی توجہ حاصل کی تو بھارتی دفتر خارجہ نے 1843 ؁ء کے معاہد ہ امر تسر کا حوالہ دے کر شندور کو کشمیر کا حصہ قرار دیا ۔اور پاکستان سے احتجاج کیا ۔ سرفراز شاہ اور اُن کے ساتھیوں کو اس کے بعد میدان میں اتارا گیا ۔2010 ؁ء تک شندور پولیو فیسٹول جس طرح منعقد ہوتا تھا وہ برسوں پرانی روایات کا حصہ تھا ۔ ان روایات کو توڑ نے کی ضد اورتکرار کر نے والے عناصر بھلاممتاز حسین گوہر ، عبدالخالق تاج، ظفر وقار تاج ، محمد امین ضیا ، جمشید خان دکھی ، عبدالکریم کریمی ، جاوید حیات کا کاخیل ، حشمت علی الہامی ، شیر باز علی برچہ ، فدا محمد ناشاد اور احسان دانش جیسے صاحب فکر دانشوروں کی نظر میں کس کی خدمت کر نے والے تصورکئے جائینگے ؟ اس سوال کا جواب میں نہیں دونگا ’’ ہم اگر عرض کر نیگے تو شکایت ہوگی ‘‘ 20 اپریل 2015 ؁ء کو پر ل کا نٹیننٹل ہوٹل پشاور میں معاہد ہ امرتسر کے طرز کی خفیہ دستاویز تیارہوئی ۔ جس کو ایم او یو کا نام دیا گیا ۔ ریڈیو پاکستان سے پہلے اس کی خبرآکا شوانی ، ریڈیو سری نگر اور آل انڈیا ریڈیو سے نشر ہوئی یہ کس بات کا اشارہ دیتا ہے ؟ اس سوال کا جواب بھی میں نہیں دونگا

خیال خاطر احباب چاہتے ہردم
انیس ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو

ایک استاذ اور لکھاری کی حیثیت سے اپنے گھر ، اپنے مکان اپنی عبادت گاہ اور اپنے کھیل کے میدان کا دفاع میرا بھی اتنا ہی حق ہے ، جتنا کسی بھی لکھاری کا ہوسکتا ہے ۔ایک قلمکار ہوا میں معلق نہیں ہوتا وہ اپنے بچپن کو نہیں بھول سکتا ۔ باپ دادا کی روایات کو عالمگیر یت پر قربان نہیں کر سکتا جس گھر میں اُس کے لڑکپن کے مہ وسال گذرے ہیں ۔وہ گھر جیتے جی دشمن کی جھولی میں نہیں ڈال سکتا میں نے محمد شہباب الدین ایڈوکیٹ اور کرنل (ر) اکرام اللہ خان کے ہمراہ 1959 ؁ء سے 1974 ؁ء تک شعوری زندگی کے ابتدائی سال مٹران شل کے جن گھروں میں گذاری ہے ۔ان کو ہم کہاں بھول سکتے ہیں؟

یاد ماضی عذات ہے یارب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا

ممتاز حسین گوہر صاحب نے جس درد مندی کے ساتھ اپنے دل کا دُکھ بیا ں کیا ہے ۔وہ قابل تحسین ہے ۔اس جذبے کے ساتھ آگے بڑھ کر ہمیں یہی بات جناب عنایت شمالی اور مولوی نعمت اللہ بگروٹی سے بھی پوچھ لینی چاہیے کہ وہ 1914 ؁ء سے 2015 ؁ ء تک چلنے والی روایات کو یکا یک توڑنا کیوں چاہتے ہیں ؟ ان تاریخی روایات سے ان کی دشمنی کی بنیاد کیا ہے ۔پھنڈر کے عبدالجہاں اور گلا غمولی کے خسر و حیات کا کا خیل ہمارے ایسے بھائی ہیں جس کے ننھیا لی گھر مٹران شل شندور میں800 سالوں سے اباد ہیں ۔ میری نظر میں کچھ بھی نہیں بگڑا ، ہماری تاریخ موجود ہے ، ہمارے تاریخی کردار زندہ ہیں ۔ 2010 ؁ء سے پہلے جو کچھ تھا ، جیسا تھا اُس کے ساتھ اتفاق کریں تو ایک بار پھر 2010 ؁ء سے پہلے والی محبت کی فضا لوٹ کر آجائیگی

آج بھی ہو براہیم کا ایما ں پیدا
آگ کر سکتی ہے انداز گلستان پیدا

29 جولائی 2016: شندور فیسٹیول کا افتتاحی میچ کون جیتا، جاننے کے لئے پڑھیں


شندور فیسٹیول 2016 شروع ہوچکا ہے آج کے افتتاحی میچ میں لاسپور کی ٹیم نے غذر کی ٹیم کو 2 کے مقابلے میں 3 گول سے ہرادیا۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ کے پی ہیں۔



چترال گرم چشمہ روڈ کی بلیک ٹاپنگ کاافتتاح، پیپلزپارٹی نے ہمیشہ عوام کی خدمت کے لئے سیاست کی ہے: ایم پی اے سلیم خان

چترال (نذیرحسین شاہ نذیر: ٹائمز آف چترال ) چترال سے صوبائی اسمبلی کے رکن اور چیئرمین ڈیڈک سلیم خان نے بدھ کے روز چترال گرم چشمہ روڈ کی بلیک ٹاپنگ کاافتتاح کرتے ہوئے کہا کہ اس پراجیکٹ پر چارسال پہلے کام شروع ہوچکا تھا لیکن دودفعہ سیلاب آنے اورچترال میں اسفالٹ پلانٹ کی عدم دستیابی کی وجہ سے کام میں تاخیرہوئی ۔

انہوںنے کہاکہ اسفالٹ پلانٹ کی دستیابی کے بعد گرم چشمہ روڈ کی چودہ کلومیٹرکی بلیک ٹاپنگ کاکام ڈیڑھ ماہ کے اندر اندر مکمل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پراجیکٹ جاپان حکومت کے تعاون سے صوبائی حکومت نے شروع کیاہے جس پر32کروڑروپے کی لاگت آئے گی۔ انہوں نے متعلقہ کنسلٹنٹ نسپاک اورٹھیکہ دارمحمدارشاد کوسختی سے ہدایت کی کہ وہ کام کی رفتارکوتیزکرنے کے ساتھ ساتھ معیار کوبھی تسلی بخش کریں۔

انہوں نے کہاکہ چترال گرم چشمہ روڈ چترال سے تاجکستان تک صرف 205 کلومیٹرہے سابق صدراصف علی زرداری نے اس کوتاجکستان تک تعمیرکرنے کا پلان بنایا تھا ۔ چترال گرام چشمہ تاجکستان روڈ مکمل تعمیر ہوجائے توچترال بھی ترقی کے راہ میں گامزان ہوگا یہاں بے روزگاری بھی ختم ہوجائے گا۔

اس روڈ کے بننے سے چترال میں ایک بڑی تبدیلی آئے گی۔ ایم پی اے سلیم خان نے کہاکہ پیپلزپارٹی نے ہمیشہ عوام کی خدمت کے لئے سیاست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کے وقت پاکستان تحریک انصاف نے عوام کو سہانے خواب تو بڑے دکھائے لیکن حکومت سنبھالتے ہی ان غریب عوام کو یکسر نظراندازکردیا گیا ہے حکومت نے عوام کو اندھیروں میں رکھا ہواہے۔ 
انہوں نے پی ٹی آئی حکومت پرتنقید کرتے ہوئے کہاکہ اقتدار حاصل کرکے بعد میں عوام کو ہی تنگ کرتی ہے ترجیحی بنیادوں پر غریب عوام کے بنیادی مسائل کو حل  کرنا ان کے ایجینڈے میں شامل ہی نہیں ہے۔ سلیم خان نے نوجوان طبقے پر زور دیا کہ وہ فنی تعلیم کی طرف توجہ دیں اور چینی زبان سمیت دوسری غیر ملکی زبانیں سیکھنے کا اہتمام کریں تاکہ وہ آسانی سے باروزگار ہوسکیں۔ انہوں نے 132میگاواٹ پیدواری گنجائش کے حامل شوغورسین ہائیڈروپاﺅر پراجیکٹ پر بھی جلد کام شروع کرنے کی خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ وہ مختلف اداروں سے را بطہ کرکے فنڈ کے حصول کے لئے تگ ودو کررہے ہیں بہت جلد کامیابی ہونگے۔ اس موقع پر سلطان ولی سین لشٹ، قاضی فیصل، ویلج چیئرمین سین لشٹ، صدرعبدالولی خان کمپیس چترال ذیشان نصیراوردیگرمقریرین نے ایم پی اے سیلم خان کی خدمات کوسراہا۔

کیا لواری ٹنل میں کبھی روشنی کی امید ہے؟ 41 سال سے زیرتعمیر منصوبے کے ذمہ دار یہ لوگ ہیں: تحریر افسرخان بیگال

کیا لواری ٹنل میں کبھی روشنی کی امید ہے؟ 41 سال سے زیرتعمیر منصوبے کے ذمہ دار یہ لوگ ہیں: تحریر افسرخان بیگال

لواری ٹنل کے خیال کا کریڈٹ بلا شبہ اتالیق، جعفرعلی شاہ کو جاتاہے جنہوں نے 1972 کے دوران قومی اسمبلی میں لواری ٹنل کا تصور پیش کیا تھا۔ ستمبر1975 میں اس وقت کے وزیراعظم پاکستان ذولفقار علی بھٹو نے لواری ٹنل منصوبے پر کام کا افتتاح کیا لیکن چترالی عوال کی بدقسمتی سے 1977 میں ضاء الحق نے بھٹو کی حکومت کا تخہ الٹ دیا اور اقتدار پر قابض ہوگئے اور آنے والی حکومت نے فنڈز نہ ہونے کا بہانہ کرکے اس پر کام روک دیا گیا کیونکہ حکومت کی ترجیحات میں لواری ٹنل اور چترال شامل نہیں تھا۔ 1976 سے لیکر 2005 تک آنے والی حکومتوں کو چترالی عوام کی مشکلات نظر نہ آئیں، لواری ٹنل منصوبے کو کسی نے پیسے کا ضیاع قرار دے دیا تو کسی نے ٹنل کو چوہوں کے لئے بل تعمیر کرنے سے تمثیل دے دی۔۔۔۔۔ 



سن 2005 میں چترال کی عوام کی قسمت ایک بار پھر جاگ گئی۔ اس وقت کے صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے لواری ٹنل منصوبے پر کام کا آغاز کردیا۔ مشرف نے منصوبے کی تکمیل کے لئے5 سال کا ہدف مقرر کردیا اور مشرف دور میں ٹنل پر کام انتہائی سرغت کے ساتھ چل پڑا اور یوں لواری ٹنل کی کھدائی مشرف دور میں ہی 2009 میں مکمل ہوئی۔ 

چترال کے عوام کی قسمت ایک بار روٹھ گئی اور آنکھیں بند کردی۔ مشرف کا دور اپنے اختتام کو پہنچا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت آئی تو لواری ٹنل منصوے پر کام روک دیا گیا۔ لواری ٹنل کا سرنگ چونکہ مشرف دور میں مکمل ہوگیا تھا اس لئے ٹریفک گزر سکتی تھی، یوں مشرف کی مخلصانہ کوششوں کی بدولت 10-2009 میں لواری ٹاپ بند ہونے کی وجہ سے ٹنل کو عارضی طور پر ٹریفک کے لئے پہلی بار کھول دیا گیا، اور چترالی عوام پرویزمشرف کو دعائے دیتے ہوئے لواری ٹنل آنے اور جانے لگے۔

پرویزمشرف کے چلے جانے کے بعد پیپلز پارٹی کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے لواری ٹنل کے فنڈز پر ڈاکہ ڈال دیا، اور لواری ٹنل کے فندز اپنے آبائی حلقے ملتان لے گیا۔ یہ بات پاکستان کی عدالت عالیہ میں بھی ثابت کردی گئی تھی۔ رضا گیلانی قوم کی بد دعاوں کی تاپ نا لاسکے اور 2012 میں وزارت عظمیٰ کی کرسی سے کک مار کر باہر نکال دیئے گئے۔۔ رضا گیلانی کے جانشین کے طور پر صدر زارداری نے راجہ پرویز اشرف کو وزارت عظمیٰ کی کرسی پر بٹھا دیا، موصوف نے بھی کہاں بخشنی تھی۔ اشرف نے بھی لواری ٹنل کے فنڈز پر ہاتھ صاف کردیا اور اپنے حلقے میں اگلے الیکشن کے لئے ووٹس خرید لئے۔

راجہ پرویز اشرف کا تعلق گجر خان سے ہے۔ بروز جمعرات دسمبر 2013 کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے پیپلز پارٹی کے سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے خلاف لواری ٹنل، دیامیر بھاشا ڈیم اور ہائیر ایجوکیشن کے منصوبوں کے 25 ارب روپے اپنے 9 ماہ کی مدت وزارت میں اپنے آبائی حلقے میں لگانے کے خلاف کیس دائر کرنے کا حکم دے دیا۔ موصوف نے اپنے دور اقتدار جون 22، 2012 سے مارچ 16، 2013 کے دوران لواری ٹنل منصوبے کے فنڈز اپنے حلقے میں لگادیئے۔ اس وقت وزیرخزانہ عبدالحفیظ شیخ اس کی مزاحمت کی تو جناب نے انہیں وزارت سے ہی برخاست کردیا تھا۔ حقائق کے منظر عام پر آنے کے باوجود چترال سے منتخب ایم پی اے پیپلز پارٹی سلیم خان نے ان حقائق کو افواہ قرار دیتے رہے اور چترالی عوام اور لواری ٹنل کے حق میں اپنی حکومت اور وزیراعظم کے خلاف ایک لفظ نہ بولے۔

سپریم کورٹ نے راجہ پرویز اشرف کے 9 ماہ کے دور میں اپنے حلقے میں لگائے جانے والے 52 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز کو غیر قانونی قرار دیکر راجہ پرویز اشرف کے خلاف کاروائی کا حکم دے دیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں قومی خزانے سے جاری ہونے والے 52 ارب روپوں میں سے 47 ارب کو جو کہ راجہ پرویز اشرف نے اپنے آبائی حلقے گجر خان میں لگائے تھے غیر قانونی قرار دے دیا۔ یہ فنڈز یوسف رضا گیلانی، علی موسیٰ گیلانی، عبدالقادر گیلانی، مونس الہیٰ، چوہدری شجاعت حسین، پرویز الہیٰ، وجاہت حسین، شیخ وقاص اور سندھ کے شیراز فیلمی کے حلقوں میں غری قانونی طور پر خرچ کئے گئے تھے۔۔۔۔

لواری ٹنل کی لمبائی 8.5 کلومیٹر ہے۔ کام کی سست رفتاری اور غیر شفافیت کی وجہ سے منصوبے پر اب تک تین گنا زیادہ لاگت آچکی ہے۔ اور اب منصوبہ 2017 تک 27 ارب روپے کی لاگت میں مکمل ہوجائے گا۔ منصوبے کی سرپرستی نیشنل ہائی وے اتھارٹی کر رہی ہے اور تعمیر کوریائی کمپنی سامبو کنسٹرکشن کے ذمے ہے۔ 

پاکستان کو بنے 69 سال گزرگئے۔ چترال رقبے کے لحاظ سے خیبرپختونخواہ کا سب سے بڑا ضلع ہے۔ یہاں کے جفاکش عوام کے گزر بسر کا دارومدار زراعت پر ہے۔ معاشی لحاظ پسماندہ علاقہ ہے۔ 1968 تک چترال ایک آزاد ریاست تھی۔ 1969 میں چترال کو پاکستان کے شمال مغربی سرحدی صوبے کے زیر انتظام لا کر ضلع چترال کا درجہ دیا گیا۔ عوام چترال پاکستان میں شامل ہونے سے پہلے بھی ظالم حکمرانوں کے مظالم برداشت کرتے رہے ہیں اور اب بھی چترالی عوام گونا گوں مسائل سے دوچار ہیں۔ 

لواری ٹنل وہ واحد امید ہے کہ جس کے بننے سے شاید چترالی عوام کے دکھوں کا مداوا ہو۔ شاید لواری ٹنل کی تکمیل کے بعد چترال کو وسطی ایشیائی ممالک سے ملایا جائے، شاید شندور پاس سے گلگت تک لے جائے تاکہ چترال کی تجارت سنٹرل ایشیا اور چین کے ساتھ ممکن ہو۔ حکمران لواری ٹنل کو بچوں کو لولی پاپ دکھانے کے طرز پر استعمال کررہے ہیں۔ ووٹ دو ہم لواری ٹنل بنائیں گے۔ جس کی مثال تو ہمیں خیبرپختونخواہ میں ایک ترقی و تبدیلی پسند جماعت اور مرکز میں شیروں کی جماعت کے رویوں سے صاف مل رہی ہے۔ لواری ٹنل چونکہ مرکزی حکومت کے تحت ہے لہذا اس کے تعطل کی ذمہ داری بھی مرکز کی ن لیگ کی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ کام کی رفتار سے صاف لگ رہا ہے کہ ن لیگ لواری منصوبے کو 2018 کے الیکشن کے لئے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے والے ہیں کیونکہ منصوبہ 2017 میں بھی مکمل ہوتا نظر نہیں آرہا۔

اشاعت 29 جولائی 2016

انسانیت 15 روپوں کے نیچے آکر مر گئی، پندرہ روپوں کے لئے میاں بیوی قتل کردیئے گئے

نئی دہلی (ٹائمز آف چترال: ویب ڈیسک)  بھارتی پولیس کے مطابق ریاست اتر پردیش میں ایک میاں بیوی کو 15 روپے کا قرض بروقت ادا نہ کرنے کی وجہ سے ہلاک کر دیا گیا ۔ جمعرات کو یہ میاں بیوی مزدوری کے لیے جارہے تھے کہ راستے میں ایک کریانہ اسٹور کے مالک نے انہیں پندرہ روپے قرض ادا کرنے کے لئے کہا، جس کے بعد لڑائی ہوئی اور دکان کے مالک نے کلہاڑیوں کے وار کرتے ہوئے میاں بیوی کو قتل کر دیا۔

ضلع مین پوری کے تفتیشی افسر ارون کمار نے نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ دکاندار کی طرف سے سوال کرنے کے بعد میاں بیوی نے کہا کہ وہ بعد میں پندرہ روپے واپس کر دیں گے لیکن دکاندار اشتعال آ کرکلہاڑی سے وار کرنا شروع کر دیا۔ ملزم  دکاندار کی عمر 61 سال کے قریب ہے اور درمیانی عمر کے میاں بیوی نے ایک ہفتہ پہلے یہ کہتے ہوئے سامان خریدا تھا کہ وہ آئندہ چند روز کے اندر اندر ہی اسے پندرہ روپے واپس کر دیں گے۔ واقعے کے بعد دکاندار کو گرفتار کر لیا گیا تھا جب کہ اس سے آلہ قتل بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔ بھارت میں عدم برداشت بڑھ گئی ہے معمولی باتوں پرشروع ہونے والی لڑائیوں کی وجہ سے سالانہ ہزاروں افراد مارے جاتے ہیں۔ پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق سن دو ہزار چودہ میں نئی دہلی میں 15 فیصد قتل عدم برداشت کی وجہ سے شروع ہونے والی لڑائی سے ہوئے اور یہ قتل کرنے والے وہ عام لوگ تھے، جن کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا۔ بھارتی نیشنل کریمنل ریکارڈ بیورو کے مطابق سن دو ہزار چودہ میں ملک بھر میں 33 ہزار سے زائد افراد کو قتل کیا گیا تھا۔

سندھ حکومت کی آنکھیں بند، تھرپارکر میں غذائی قلت کی وجہ سے مزید 4 بچے جان بحق

 مٹھی(نیوز ڈیسک) تھر پارکر کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال میں زیرعلاج مزید 4 بچے غذائی قلت کا شکار ہوکر دم توڑ گئے ہیں۔

تھر کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر مٹھی کے سول اسپتال میں زیر علاج مزید 4 بچے دم توڑ گئے ہیں، یہ چاروں بچے غذائی قلت کا شکار تھے۔ زندگی کی بازی ہارنے والے بچوں میں 5 روز کا اویس، 18 ماہ کی صفیت، 8 روزہ جتیش میگھواڑ اور 5 روزہ لطف علی شامل ہیں۔ 

رواں ماہ غذائی قلت سے ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد 38 ہوگئی ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ 3 برسوں کے دوران تھر میں قحط سالی، غذائی قلت، وبائی امراض اور موسمی بیامریوں کا شکار ہوکر اب تک ایک زہار سے زائد بچے دم توڑ چکے ہیں۔

جیو نیوز اور مسلم لیگ ن میک کین کے جنرل راحیل شریف کو کئے جانے والے فون کو غلط انداز میں پھیلارہے ہیں: اے آر وائی کے شو میں انکشاف

جیو نیوز اور مسلم لیگ ن  میک کین کے جنرل راحیل شریف کو کئے جانے والے  فون کو  غلط انداز میں پھیلارہے ہیں: اے آر وائی کے شو میں انکشاف




جیو نیوز اور مسلم لیگ ن میک کین کے جنرل راحیل... by myvoicetv

28 جولائی، 2016

دنیا کے سب سے بڑے ہوائی جہاز ایئر بس اے 380، بوئنگ کے 7E7 اور یوکرائن کے اے این 225: ویڈیو دیکھیں

دنیا کے سب سے بڑے ہوائی جہاز ایئر بس اے 380، بوئنگ کے 7E7 اور یوکرائن کے اے این 225: ویڈیو دیکھیں





قائم علی شاہ سائیں جاتے جاتے بھی لوگوں کو ہنسا گئے، دیکھئے


سائیں کی کوئی تقریر یا میڈیا سے گفتگو ایسی نہیں رہی ہے کہ جس میں ان کی زبان نہ پھسلی ہو۔ کبھی غلط شعر پڑھنا، کبھی غلط تاریخ بتانا تو کبھی کسی کی جگہ کسی اور کا نام لینا۔۔۔۔ جیسا کہ امجد صابری کی شہادت پر گفتگو میں انہوں صابری کی جگہ جنید جمشید کا نام لے بیٹھا تھا۔

سائیں قائم علی شاہ نے اپنے استعفیٰ پر سن 201 لکھ دی، اور گورنر سندھ نے غور نہیں کیا اور بیک ڈیٹ اس استعفیٰ منظور بھی کرلیا۔ قائم علی شاہ کی لکھی ہوئی تاریخ یعنی سن 201 میں رومن سلطنت میں خانہ جنگی چل رہی تھی اور اس کے چالیس برس بعد گپت خاندان کا دور آگیا تھا۔

وادی لوٹکوہ کے خوبصورت گائوں سوسوم کریم آبا کا حسین منظر

وادی لوٹکوہ کے خوبصورت گائوں سوسوم کریم آبا کا حسین منظر

خیبر پختونخوا میں کرپشن کی نشاندہی کرنے والے کو ریکوری کی رقم کا 25 فیصد ملے گا: عمران خان


خیبر پختونخوا میں احتساب کو اور مضبوط کر رہے ہیں اور محکموں میں کرپشن کی نشاندہی کرنے والوں کو انعام دیا جائے گا....

سیلفی بخار بچوں میں بھی سر چڑھ کر بولنے لگا، زیر نظر تصویر میں۔۔۔۔۔

سیلفی بخار بچوں میں بھی سر چڑھ کر بولنے لگا، زیر نظر تصویر میں ایک بچہ اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ چپل سے سلیفی لینے کی مشق کررہا ہے۔


چترال کے دور دراز علاقے شیداس لاسپور میں 150 کلوواٹ مائیکرو ہائیڈل بجلی گھر کا افتتاح


چترال (ٹائمز آف چترال نیوز ڈیسک : 28 جولائی 2016) چترال کے دور دراز علاقے شیداس، لاسپور میں ایک اور مائیکروں ہائیڈل بجلی گھر مکمل کرلیا گیا۔ 150 کلوواٹ بجلی گھر کا افتتاح گزشتہ روزجنرل آفیسر کمانڈنگ میجر جنرل آصف غفورنے کیا۔ سرحد رورل سپورٹ پروگرام کی جانب سے تعمیر کیا جانے والا یہ بجلی گھر وادی لاسپور کے علاقے شیداس میں بنایا گیا ہے، بجلی گھر سے 400 کے قریب گھرانے مستفید ہونگے۔ بجلی گھر شیداس کے شندور روڈ پر واقع ہے۔ 

منصوبے کے افتتاحی تقریب سے خطاب میں ایس آر ایس پی کے ضلعی پروگرام منیجر طارق احمد نے کہا کہ وہ کافی عرصے سے چترال میں بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر کام کررہے ہیں، اس وقت چترال کے مختلف حصوں میں 25 مائیکرو ہائیڈل منصوبوں پر کام چل رہا ہے، ان میں سے کچھ تکمیل کے مراحل میں ہیں۔ ان منصوبوں سے چترال کے بجلی سے محروم دور دراز کے علاقوں کو بجلی فراہم ہوجائے گی۔ شیداس پاور ہاوس پر کمنٹ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس بجلی گھر کی پیداواری گنجائش 150 کلوواٹ ہے اور اس سے 384 گھرانے مستفید ہونگے۔ منصوبے پر 29 ملین روپے کی لاگت آئی ہے۔

تقریب کے مہمان خصوصی پاک آرمی مالاکنڈ ڈویژن کے (جی او سی) جنرل آفیسر کمانڈنگ میجر جنرل آصف غفور تھے اور کمانڈنٹ چترال سکاوٹ کرنل نظام الدین، اے سی مستوج عبدالحمید خٹک ،ناظمین، کونسلرز اور مرد و خواتین بھی تقریب میں موجود تھے۔ جنرل آصف نے ایس آر ایس پی کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے علاقے میں پل کی تعمیر کا بھی اعلان کیا اور ساتھ ساتھخواتین کا بااختیار بنانے کےلئے خواتین کے لئے دستکاری مرکز قائم کرنے کا بھی یقین دلایا۔ 

گانے کی ریکارڈنگ کے وقت پشتو گلوکارہ کشمالہ گل گھوڑے پر بیٹھی تو کیا حالت ہوگئی، دیکھیں گے تو آپ بھی ہنسی نہیں روک پائیں گے۔۔

گانے کی ریکارڈنگ کے وقت پشتو گلوکارہ کشمالہ گل گھوڑے پر بیٹھی تو کیا حالت ہوگئی، دیکھیں گے تو آپ بھی ہنسی نہیں روک پائیں گے۔۔




27 جولائی، 2016

سابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ سب کچھ سامنے لے آئیں گے، کیسے جاننے کے لئے پڑھئے

کراچی (ویب ڈیسک) سابق وزیر اعلی سندھ قائم علی شاہ نے صوبے میں اپنی وزارت اعلیٰ کے دور پر ایک کتاب لکھنے کا اعلان کردیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے وہ سب کچھ سامنے لے آئیں گے۔  بدھ کو گورنر ہاوس میں استعفی پیش کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عشر ت العباد کے ساتھ بہت اچھے تعلقات رہے ہیں جس کی وجہ سے امن قائم کرنے میں کامیاب ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ گورنرسندھ کے مشورے وقت فوقتا آتے رہے جس پر ان کے مشکور ہیں، امید ہے آئندہ بھی مشورے آتے رہیں گے۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ سب لوگ دعا کریں ،اپنے وزارت اعلی کے دور پر ایک کتاب لکھوں گا۔قائم علی شاہ نے مزید کہا کہ میں پارٹی ورکر ہوں،ہمیشہ پارٹی کے ساتھ رہ کر سیاست کروں گا۔



سکُوت چھایا ہے انسانیت کی قدروں پر، یہی ہے موقعِ اِظہار، آؤ سچ بولیں

کُھلا ہے جُھوٹ کا بازار، آؤ سچ بولیں
نہ ہو بلا سے خریدار، آؤ سچ بولیں

سکُوت چھایا ہے انسانیت کی قدروں پر
یہی ہے موقعِ اِظہار، آؤ سچ بولیں

ہمیں گواہ بنایا ہے وقت نے
بنامِ عظمتِ کِردار، آؤ سچ بولیں

سُنا ہے وقت کا حاکم بڑا ہی مُنصِف ہے
پُکار کر سرِ دربار، آؤ سچ بولیں

تمام شہر میں ایک بھی منصُور نہیں
کہیں گے کیا رَسَن و دار، آؤ سچ بولیں

جو وصف ہم میں نہیں کیوں کریں کسی میں تلاش
اگر ضمیر ہے بیدار، آؤ سچ بولیں

چُھپائے سے کہیں چُھپتے ہیں داغ چہروں کے
نظر ہے آئینۂ بردار، آؤ سچ بولیں

قتیلؔ جِن پہ سدا پتھروں کو پیار آیا
کِدھر گئے وہ گنہگار، آؤ سچ بولیں



قتیل شفائی