24 مئی، 2017

پیپلز پارٹی پر خزاں جبکہ تحریک انصاف پر بہار، پی پی پی رہنماؤوں کی انصاف میں شمولیت جاری

پیپلز پارٹی پر خزاں جبکہ تحریک انصاف پر بہار، پی پی پی رہنماؤوں کی انصاف میں شمولیت جاری


کراچی (نیوزڈیسک) پی پی رہنما فردوس عاشق اعوان کی تحریک انصاف میں شمولیت کے بعد پی پی کی وکٹیں گرنے کا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ گزشتہ دنوں پی پی کے اہم رہنما نور عالم تحریک انصاف میں شامل ہوگئے تھے اب مختلف ذرائع سے خبریں گردش کررہی ہیں کہ تحریک انصاف پیپلز پارٹی کی ایک اور وکٹ گرانے کی تیاریوں میں مصروف عمل ہے۔ 


چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے پیپلز پارٹی کے سابق وفاقی وزیر نذر محمد گوندل نے بنی گالہ میں ملاقات کی۔ نذر گوندل پی پی پی کے سابق ایم این اے نورعالم خان کے ساتھ عمران خان کی رہائشگاہ آنے والے وفد میں شامل تھے۔ ذرائع کے مطابق نذرمحمد گوندل عید کے بعد تحریک انصاف میں باقاعدہ شمولیت کا اعلان کر سکتے ہیں۔

23 مئی، 2017

میاں نوازشریف کے ساتھ دورہ سعودی عرب میں کیا ہوا، دیکھئے ندیم ملک اور شاہد مسعود کے انکشافات

میاں نوازشریف کے ساتھ دورہ سعودی عرب میں کیا ہوا، دیکھئے ندیم ملک اور شاہد مسعود کے انکشافات
 
What happened with NawazSharif, Nadeem Malik... by myvoicetv
Inside Story of Nawaz Sharif Got Insulted in... by cutefatima003


ریشن بجلی گھر تین سالوں سے خراب ۔ ڈیزل جنریٹر لائے لیکن اس کیلئے تیل ندارد ۔ عوام شدید مشکلات کے شکار

چترال(گل حماد فاروقی) چترال کے بلائی علاقے ریشن کے مقام پر پن بجلی گھر سال 2015کے تباہ کن سیلاب کی وجہ سے مکمل طور پر تباہ ہوا تھا جس کی وجہ سے سولہ ہزار صارفین بجلی سے محروم ہوگئے جس کیلئے علاقے کے عوام نے بارہا جلسہ جلوس اور احتجاج بھی کیا مگر حکومت کو کوئی پرواہ نہیں ہوئی آحر کار امسال اس کا ٹنڈر تو ہوگیا مگر اب نہ جانے یہ بجلی گھر کب تیار ہوگا۔جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے بھٹو دور حکومت میں جب نصرت بھٹو چترال سے منتحب ہوکر رکن قومی اسمبلی منتحب ہوئی تھی اس وقت انہوں نے لاکھوں روپے کی لاگت سے ڈیزل جنریٹر چترال لائے تھے حالانکہ یہاں پانی کی کافی بہتات ہے اور پانی سے مفت بجلی گھر بھی بن سکتے تھے۔ وہ ڈیزل جنریٹر گرم چشمہ، بونی، مستوج، بریف،شاہگرام، اور دیگر علاقوں میں پہنچائے گئے ان کیلئے زمین بھی حرید کر عمارت بنایا گیا مگر ڈیزل جنریٹر نصب نہیں ہوئے اور اس وقت سے لیکر آج تک وہ ڈیزل جنریٹر زمین پر پڑے پڑے زنگ آلود ہوکر ناکارہ بھی ہوئے۔ اور یوں حکومت کو کروڑوں روپے کا ٹکہ لگ گیا۔ 

بالائی علاقے سے منتحب رکن صوبائی اسمبلی سید سردار حسین کا کہنا ہے کہ جب ریشن کا پن بجلی گھر سیلاب کہ وجہ سے تباہ ہوا۔ لوگ بجلی سے محروم ہوئے تو میں نے سندھ حکومت سے سید خورشید شاہ کے ذریعے درخواست کی کہ ہمیں جنریٹر فراہم کی جائے جس پر سند ھ حکومت کی صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی نے 250 KV کے تین عدد ڈیزل جنریٹر عطیہ کے طور پر بھیج دئے مگر ڈیزل مہنگا ہونے کی وجہ سے اس کی بجلی عوام کو فی یونٹ 32 روپے کا پڑتا ہے جو بہت زیادہ مہنگا ہے۔ اب اس میں تیل حتم ہوچکا ہے تو یہ جنریٹر بھی حاموش ہیں اور پورا علاقہ بجلی سے محروم ہیں۔ انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ رمضان کیلئے ان کو دس لاکھ روپے کا گرانٹ دے تاکہ اس مقدس مہینے میں یہ ڈیزل جنریٹر چلا کر عوام کو بجلی فراہم کی جاسکے۔

1995 میں سابق وزیر اعلےٰٗ خیبر پحتون خواہ آفتاب شیر پاؤ نے اس ڈیزل جنریٹر کا افتتاح بھی کیا تھا مگر بعد میں وہ بند ہوا تھا۔ 

بونی کے رہنے والے ایک طالبہ جو نویں جماعت میں پڑھتی ہے فیضہ احسان کا کہنا ہے کہ بجلی گھر کی تباہ ہونے کی وجہ سے ہم بجلی سے محروم ہیں اور ہماری پڑھای بری طرح متاثر ہورہی ہے۔

معیظ نے ایک طالب علم کا کہنا ہے کہ ہم رات کو لالٹین کی روشنی میں سبق پڑھتے ہیں جس سے ہماری آنکھیں حراب ہوئی۔

عصمت پری جو ایک گھریلوں خاتون ہے اور سلائی کڑھائی کرکے اپنے پانچ بچوں کو پڑھاتی ہے ان کا کہنا ہے کہ بجلی نہ ہونے سے میرا لیکٹرک موٹر سے چلنے والی سلائی مشین بھی بند ہے اور میری مزدوری بہت حراب ہوئی ہے جس کی وجہ سے میں اپنے بچوں کو اب صحیح طریقے سے نہیں پڑھا سکتی ہوں۔ مقامی لوگ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ریشن بجلی گھر کو جلد سے جلد دوبارہ تعمیر کیا جائے اور تب تک حکومت ڈیزل جنریٹر کیلئے مفت تیل فراہم کرے۔

22 مئی، 2017

کوکا۔کولا کی ایدھی فاؤنڈیشن شراکت: کوکا کولا ایدھی فاؤنڈیشن کے عطیات بڑھانے کے لئے خصوصی مہم چلائے گا



کراچی:۔  پاکستان کے صف اول کے امدادی کام و فلاحی خدمات سرانجام دینے والے ادارے ایدھی فاؤنڈیشن کو روایتی طور پر رمضان میں اپنے عطیات بڑھانے کی مہم کے لئے عوامی حمایت کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے کیونکہ اس رمضان میں پہلی بار ایدھی فاؤنڈیشن کے بانی عبدالستار ایدھی ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں۔ اس حوالے سے عطیات بڑھانے کے لئے ایدھی فاؤنڈیشن نے کوکا۔کولا کے ساتھ مختلف پہلوو ¿ں پر مشتمل مہم کے لئے شراکت داری کی ہے جس کا عنوان باٹل آف چینج ہے جس میں کوکا۔کولا ملک گیر سطح پر کام کرے گا ۔ اس مہم کی سب سے خاص بات یہ ہوگی کہ اس مہم کے دوران جمع ہونے والے تمام عطیات کی رقم کو کوکا۔کولا دو گنا کرکے ایدھی فاو ¿نڈیشن کو فراہم کرے گا۔ اس کے علاوہ کوکا۔کولا کی جانب سے ایدھی فاؤنڈیشن کے عطیات بڑھانے کی غرض سے مختلف اقسام کی تشہیری مہم کے لئے بھی بھاری رقوم خرچ کی جائے گی۔ 

اس مہم کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ عوام میں شعوری طور پر ایدھی صاحب کے کام کو آگے بڑھانے اور ان کا مشن جاری رکھنے کی اپیل کی جائے ۔ اگرچہ پاکستان کے عوام ہمیشہ سارا سال ایدھی فاؤنڈیشن کے ساتھ تعاون کرتے ہیں لیکن رمضان کا مبارک مہینہ روایتی طور پر وہ وقت ہوتا ہے جب عوام کی طرف سے زکوٰة ، عطیات کی صورت میں ایدھی فاؤنڈیشن کے ساتھ تعاون بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ 

کوکا۔کولا کے ساتھ اس شراکت داری کے بارے میں عبدالستار ایدھی مرحوم کے صاحبزادے اور ایدھی فاؤنڈیشن کے موجودہ سربراہ فیصل ایدھی نے بتایا کہ کسی بھی اچھے کام کیلئے عوامی رائے کو بھرپور انداز سے فروغ دینے میں کوکا۔کولا کی بھرپور مہارت اور تجربے سے ایدھی فاؤنڈیشن کو رمضان میں عطیات بڑھانے کی مہم میں بھرپور مدد ملے گی۔ انہوں نے کوکا۔کولا کے مختلف شعبوں میں دیگر امدادی کاموں کو سراہاجن میں کوکا۔کولا کی معروف غیرمنافع بخش اداروں کے ساتھ شراکت داری ہے ،جیسے تعلیم کے میدان میں دی سٹیزن فاؤنڈیشن، ماحولیات کے شعبے میں ڈبلیو ڈبلیو ایف۔ پاکستان اور خواتین کی بااختیاری کے شعبے میں کشف فاؤنڈیشن شامل ہیں۔ 

کوکا۔کولا پاکستان و افغانستان کے جنرل منیجر رضوان یو خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے بتایا، کوکا۔کولا کمپنی فلاحی کام کرنے والے ادارے ایدھی فاؤنڈیشن کے لئے انتہائی احترام کا جذبہ رکھتی ہے جس نے گزشتہ کئی دہائیوں میں قابل ذکر کام کئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایدھی فاؤنڈیشن کے لئے رمضان میں عطیات بڑھانے کی مہم مکمل طور پر بے لوث ہے اور اس میں کسی بھی طرح کا کاروباری پہلو شامل نہیں ہے، عطیات بڑھانے کا کسی بھی طرح کا 

تعلق پروڈکٹ کی فروخت سے منسلک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، "ہم یقین رکھتے ہیں کہ تمام ذمہ دار کاروباری اداروں کی یہ سماجی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے وسائل اور مہارت بروئے کار لائیں اور معروف غیرمنافع بخش فلاحی اداروں جیسے ایدھی فاؤنڈیشن کے سماجی و فلاحی بہبود کے کاموں کو آگے بڑھانے میں حصہ لیں۔ ہماری جانب سے ایدھی فاؤنڈیشن کے عطیات جمع کرنے کی حد ڈھائی کروڑ روپے ہے جبکہ ملک گیر سطح پر ذرائع ابلاغ میں جدت انگیز آگہی مہم پر الگ سے بھاری رقم خرچ ہو گی۔ "

ایدھی فاؤنڈیشن کو ہمیشہ سے کاروباری اداروں کا تعاون حاصل رہا ہے جس میں نقد عطیات کے علاوہ ایمبولینس جیسی دیگر اشیاءبھی شامل ہیں۔ اب کوکا۔کولا اور ایدھی فاؤنڈیشن کی شراکت داری سے رمضان میں عطیات بڑھانے کی مہم میں ایک قدم بڑھایا جائے گا اور اس مہم میں لوگوں کو براہ راست شامل کیا جائیگا اور ایدھی فاؤنڈیشن کے لئے عطیات کی صورت میں تعاون کو غیرمعمولی طور پر بڑھایا جائے گا۔ 

دنیا کی سب سے بڑی ایمبولینس سروس چلانے کے ساتھ ایدھی فاؤنڈیشن سماجی خدمات کے وسیع شعبے میں الگ سے نمایاں طور پر کام کررہی ہے۔ ان خدمات میں یتیم خانے، موبائل ڈسپنسریز، اسپتال، ذیابیطس سینٹر اور بے گھروں کے لئے رہائش شامل ہے جبکہ مختلف گھرانوں کی جانب سے معذورو معمر افراداورخواتین کو قبول نہ کرنے پر انہیں ایدھی ہومز میں رکھا جاتا ہے۔ ایدھی فاؤنڈیشن منشیات کے عادی افراد کی بحالی، لاپتہ افراد کی تلاش، بے یار و مدد گار لڑکے و لڑکیوں کی شادی، کھانے کی فراہمی، کپڑوں اور پناہ گاہ، ضرورت مندوں کو ٹیکنیکل تعلیم، بچوں کو دینی تعلیم، میٹرنٹی سروسز اور فیملی پلاننگ کے لئے مشاورت، پسماندہ طبقے کو خون اور پلازما کی مفت فراہمی، ذہنی طور پر معذور افراد کی دیکھ بھال اور مختلف حادثات اور قومی آفات پر ملک و بیرون ملک امدادی کاموں جیسی بہترین خدمات کی سہولت بلامعاوضہ فراہم کرتی ہے۔ 

19 مئی، 2017

مڑپ كے مسائل اور نادر خان كى ياد: تحريرسيدالابرار سعيد

مڑپ كے مسائل اور نادر خان كى ياد: تحريرسيدالابرار سعيد

مڑپ اور اودير كے درميان واقع 90 گهرانوں پر مشتمل اس چهوٹے سے گاؤں كا نام" شوت" ہے، شوت كے 5-5 يا 10-10 گهرانوں پر مشتمل ہر علاقے كا پهر الگ نام ہے مثلا بكَٹ، دوكان، لاساكاندور، خوشانده، كوركوم وغيره۔


اس علاقے كى پسماندگى ہر دور ميں زبان زدِ عام رہى ہے-
پينے كے صاف پانى كے مسائل كا تو يہ حال ہے كہ لاساكاندور كى بوڑهى مائيں گهنٹوں كا با مشقت سفر طے كر كے كوركوم سے اپنے ناتواں سروں پر منوں وزنى گڑے اٹها كر اپنى ضروريات كا سامان كرتى ہيں، ہسپتال اور ميڈيكل اسٹور جيسے نام تو علاقے كى عوام كے لئے
خواب بن چكے ہيں۔

 كبهى ايك دو مرتبہ كسى بوسيده دوكان ميں ڈسپنسرى كے سامان سجائے بهى گئے، ليكن ڈسپنسر كى تلاش نے ان ادويات كو بهى لوگوں كى پہنچ سے محروم ركها، زندگى كى بنيادى ضرورتوں سے محروم اس گاؤں ميں آمدورفت كے لئے صرف دو ہى گاڑياں موجود تهيں، جو ايمرجنسى مريضوں كو ہسپتال پہنچانے سے لے كر، چترال شہر سے روزانہ خوردنوش كے سامان گاؤں تك لے جانے ميں مددگار ثابت ہوتى تهيں، علاقے كے دونوں ڈرائيور" نادر خان ( جو كہ اب مرحوم ہو چكے ہيں، اللّہ انهيں غريقِ رحمت كرے)
اور شاكر الدين اپنى جان ہتهيلى پر ركھ كر ان جہنم نما راستوں سے گزر كر عرصہ دراز سے علاقے كے لئے يہ خدمات انجام دے رہے تهے۔

گذشتہ دنوں اچانك كانوں ميں پڑنے والى يہ خبر ميرے اور اہل علاقہ كے لئے كسى قيامت سے كم نہيں تهى كہ ہمارے علاقے كے انتہائى شريف النفس، با اخلاق اور با كردار ڈرائيور" محترم نادر خان " حسب معمول سواريوں كو لے كر چترال سے مڑپ جاتے ہوئے مڑپ كے قريب شوڑ كے مقام پر روڈ ايكسيڈنٹ كا شكار ہو كر اس دارِ فانى سے ہميشہ كے لئے رخصت ہو چكے ہيں-

انا لله وانا اليه راجعون،
نادرخان علاقے كے بے لوث خدمت گاروں ميں شامل تهے ان كى خدمات كو صديوں تك ياد ركها جائے گا-

ان كے جانے سے اہل علاقہ ايك عظيم محب علاقہ سے محروم ہوگئے ہيں، ان كے پسماندگان ميں دو بيٹے اور ايك بيوه شامل ہے۔

اللّہ تعالى ان كو صبر جميل نصيب فرمائے...

علاقے كى عوام كو اپنے حقوق كے لئے( كہ جن ميں سڑكوں كى توسيع، پينے كے صاف پانى كا مطالبہ،ہسپتال،ڈسپنسرى جيسى ضروريات شامل ہيں) ٹهوس اقدامات كرنے اور مضبوط آواز اٹهانے كى ضرورت ہے-

سرِ راه اگر رائين سے مڑپ كى طرف جانے والى سڑكوں كى خستہ حالى كى طرف اگر فورا توجہ نہ دى گئى تو آنے والے وقتوں ميں ہم مزيد حادثات كا شكار ہو سكتے ہيں،اور نادر خان جيسا كئى اور ہستياں ہم كهو سكتے ہيں...

لہذا انتظاميہ كا دروازه كهٹكهٹانے ميں آپ بهى اپنے حصے كى شمع جلائيے-- اور ہمارا دست و بازو بنئيے--

16 مئی، 2017

چترال: فاختہ کے تعاقت میں نوجوان خود ہی اپنی بندوق کی گولی کا شکار ہوگیا

چترال: فاختہ کے تعاقت میں نوجوان خود ہی اپنی بندوق کی گولی کا شکار ہوگیا

چترال (نیوز ڈیسک) چترال بالا  کے علاقے ریچ موریچ میں نواجون اپنے ہی بندوق کی گولی کا شکار ہوگیا۔ 

تفصیلات کے مطابق انٹر میڈیٹ کا طالب علم مصدق حسین ولد مراد حسین فاختہ کا شکار کرتے ہوئے اپنی ہی گولی لگنے سے فوت ہوگئے۔ متوفی انٹرمیڈیٹ کا طالب علم تھا اور مقامی کالج سے ایف سی کا امتحان دیکر گاؤوں آیا ہوا تھا۔ جنگلی پرندے فاختہ کا پیچھا کرتے ہوئے لوڈڈ بندوق سمیت گر گئے، جس کی وجہ سے بندوق چل گئی اور گولی خود نوجوان کو لگی۔ 


چترال: ٹریفک حادثات میں 2 افراد جان بحق، 6 زخمی ہوئے

چترال (نیوز ڈیسک 16 مئی 17) چترال سے ملپ جاتے ہوئے جیپ شوڑ کے مقام پر گھری کھائی جا گری۔ حادثے کے نتیجے میں گاڑی کا ڈرائیور نادر خان موقع پر فوت ہوگئے جبکہ سوار 4 افراد زخمی ہوئے ہیں، جنہیں طبی امداد کے قریب ہسپتال لے جایا گیا۔

ٹریفک حادثے کے دوسرے واقعے میں چترال بالا کے بروم اویر غاری جاتے ہوئے گاڑی گھری کھائی میں جاگری، واقعے میں گاڑی کا ڈرائیور محبوب جان جان بحق ہوگیا۔ رحمت عزیز دکاندار۔ اوسان اور دو دیگر افراد زخمی ہوگئے۔ حادثے میں ڈرائیور شدید زخمی ہوگیا تھا، جنہیں لیکر ڈی ایچ کیو لے جایا جارہا تھا کہ راستے میں دم توڑ دیا۔ دیگر زخمیوں کو ہسپتال میں طبی امداد دی جارہی ہے۔


چترال: جیپ کھائی میں گر گئی، ڈرائیور جان بحق اور 4 زخمی

چترال: جیپ کھائی میں گر گئی، ڈرائیور جان بحق اور 4 زخمی

چترال (ویب ڈیسک 16 مئی 2017) چترال سے ملپ جاتے ہوئے جیپ شوڑ کے مقام پر گھری کھائی جا گری۔ حادثے کے نتیجے میں گاڑی کا ڈرائیور نادر خان موقع پر فوت ہوگئے جبکہ سوار 4 افراد زخمی ہوئے ہیں، جنہیں طبی امداد کے قریب ہسپتال لے جایا گیا۔

(ابتدائی رپورٹ ہے، اگر اس خبر سے متعلق کسی علم ہے تو پلیز ہمیں مطلع کریں) 



15 مئی، 2017

بوڑھے باپ اور اس کے بیٹے کی دل رلا دینے والی کہانی : ضرور پڑھیں اور شیئر کریں

ایک بوڑھا آدمی اپنے بیٹے کے ساتھ ایک پارک میں بیٹھا آرام کر رہا تھا۔  موسم بہت اچھا ،    دھوپ بھی نکلی ہوئی تھی اور دھوب کی تپش  بوڑھے شخص  کی بوسیدہ ہڈیوں سکون دے رہی تھی۔ ساتھ میں ایک بہت حسین جھیل تھی، اس میں دور سے بطخیں تیرتی  اور پرندے اڑتے نظر آرہے تھے۔  دونوں باپ بیٹا بیٹھے ایک بینچ پر بیٹھ کر فروٹ  کھا رہے تھے۔ بیٹا جوان ہونے کے ساتھ بہت ہونہار بھی تھا، اچھی تعلیم حاصل کی تھی۔ اس کی تعلیم میں باپ نے کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔ ابھی سی ایس ایس کا امتحان پاس کرکے بہت اچھی جاب پر لگ گیا تھا۔ دونوں بیٹھے خوبصورت فضا سے محظوظ ہو رہے تھے کہ ایک کوّا آکر ساتھ والے خشک فوارے پر بیٹھ گیا۔  باپ کی نظر چونکہ کمزور تھی اس نے اپنے بیٹے سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ 
بیٹے نے جواب دیا کہ ابو کوا ہے، فوارے پر آکر بیٹھا گیا ہے۔

باپ نے ایک بار پھر دریافت کیا؟ بیٹے یہ کیا ہے؟ 
بیٹھا  تھوڑی جھنجلاہٹ سے بولا کوا، کوا ہے، کوا۔ 
باپ نے ایک بار پھر اُس سے پوچھا کہ بیٹے یہ کیا چیز ہے؟ 
بیٹا تنگ آگیا اور زور سے جھنجلا کر بولا کہ کتنی بار بولوں، ایک بار سمجھ نہیں آتی کیا؟  
 کیوں مجھے تنگ کرتے ہیں، آپ کو کیا ہے کہ یہ کیا ہے کررہے ہو، آپ نے کیا کرنا ہے، بول تو رہا ہوں۔ کوا ہے، کوا ہے، کوا ہے۔ بس اب چپ کر جائیں، ایسے ہی میرا موڈ خراب کر دیا۔
اس کے باپ نے اس کو مسکرا کر دیکھا اور بولا اچھا کوا ہے۔ ٹھیک ہے۔ 
دراصل مجھے وہ وقت یاد آرہا تھا جب اسی جگہ اسی پارک میں، میں اور تم بیٹھے تھے اور اسی فوارے پر ایک کوا آکر بیٹھا تھا، تم اس وقت 3سال کے تھے اور تم نے یہی سوال  کیا تھا کہ یہ کیا چیز ہے؟

میرے سے یہ سوال  100  دفعہ کیا تھا اور میرا جواب ہر بار ایک ہی طرح پیار سے ہوتا تھا، میں نے ہر بار جواب دیتا  اور ساتھ ساتھ تمہیں میں چوما بھی تھا۔ ابھی بھی وہ وقت یاد کرتا ہوں تو دل خوش ہو جاتا ہے، تم بہت پیارے تھے، بہت ہی معصوم۔کتنا پیارا وقت تھا اور آج میرا بیٹا کتنا ہونہار ہو گیا ہے، 
ہاں شاباش بیٹے…آئی ایم پراؤڈ آف یو….
بیٹا اپنے کئے پر بہت  شرمندہ  اور  پشیمان ہوا۔  
ماں باپ اپنی جوانی ہمارے لئے وقف کر چکے ہوتے ہیں۔ اپناسب کچھ ہم پر قربان کرکے ہمارے پالتے پوستے ہیں۔ یہ اللہ کا بہت بڑا انعام ہوتا ہے، ماں باپ سے بڑھ کر دنیا کی کوئی دولت نہیں۔  
ہمیں ان کی قدر کرنی چاہئے ۔ جب یہ بڑھاپے کو پہنچتے ہیں تو یہ ہماری زیادہ توجہ کے مختاج ہوجاتے ہیں۔ ہمیں ان کے سامنے اف تک نہ کرنے کا حوکم ہے۔ بحیثیت مسلمان تو ہم پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ لیکن بحیثیت انسان  بھی ہمیں اپنے ماں باپ کی خدمت کرتے رہنا چاہئے۔

جن کے ماں باپ ہیں اللہ ان کو لمبی زندگی دے اور جن کے فوت ہوچکے ہیں اللہ جنت نصیب کرے : امین



9 مئی، 2017

لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے 26 ملازمین ہسپتال سے فارغ کردیئے گئے

پشاور( مانیٹرنگ ڈیسک) لیڈی ریڈنگ ہسپتال کی انتظامیہ نے پیرا میڈیکل ایسوسی ایشن کے صوبائی صدر سمیت 26 ملازمین کو ہسپتال سے فارغ کرتے ہوئے ان کی خدمات ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز کے حوالے کر دی ہیں فارغ کئے جانے والے ملازمین میں چارج نرسیں، وارڈ اردلی، سوئپر اور دیگر شامل ہیں۔ 


ہسپتال ڈائریکٹر کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیہ کے مطابق جوہر علی ریڈیالوجی۔ روئیدار شاہ،  فارمیسی۔ اسم گل، سرجیکل۔ شمس التاج، سرجیکل۔ ریاض برکی،  پیتھالوجی۔ محمد عاصم ، کارڈیالوجی۔ مراد علی،  آفس اسسٹنٹ۔ محمد علی ، وارڈ اردلی۔ سرتاج،  لفٹ آپریٹر۔ شاہد مسیح، سوئپر۔اسحاق ، بھٹہ، سوئپر۔ منور لال، سوئپر۔ فراموش، وارڈ اردلی۔ طاہر خان ، دھوبی۔ محمد وارث ، وارڈ ادرلی۔ حیات خان بہشتی، فضل مولا اٹینڈنٹ، روئید خان وارڈ اردلی، نور رحیم وارڈ اردلی، مہابت خان وارڈ اردلی، فاطمہ بی بی چارج نرس، آصف خان نائب قاصد، استر شاہین چارج نرس، سمبل فردوس چارج نرس، بلقیس رانا چارج نرس اور ساجدہ پروین چارج نرس کی خدمات ڈی جی ہیلتھ سروسز کے حوالے کی گئی ہیں۔

8 مئی، 2017

چترال کے دو مختلف مقامات پر موٹر سائیکل حادثات میں 2 افراد جان کی بازی ہار گئے

چترال (نمائندہ ٹائمز آف چترال ) چترال کے دو الگ الگ مقامات پر موٹر سائیکل حادثات میں 2 افراد جان بحق ہوگئے ہیں۔ تصیلات کے مطابق پہلا واقعہ چترال دنین میں پیش آیا ہے۔ جہاں منظور احمد ولد وزیر احمد نامی نوجوان تیز رفتاری وجہ سے بائیک پر قابو نہ رکھ سکا اور حاڈثے کا شکار ہوگیا۔ متوفی کا تعلق چترال کے شیاقو ڈوک دنین سے تھا، جس کی نماز جنازہ آبائی علاقے میں ادا کردی گئی۔

دوسرے واقعے میں بونی کے قریب جونالی کوچ کے مقام پر تیز رفتار موٹر سائیکل سوار نے ایک راہ گیر کو ٹکر ماردی۔  حادثے کا شکار ہونے والے شخص کا نام زین العابدین اور تعلق تریچ سے تھا۔ ٹکر مارنے سے زین شدید زخمی ہوا جسے فوری طور بونی ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان بحق ہوگئے۔ متوفی چترال سے آبائی گاؤوں جارہا تھا۔ جنال کوچ میں گاڑی سے اتر کر روڈ عبور کررہا تھا کہ تیز رفتار موٹر سائیکل آئی اور ٹکر ماردی۔ موٹر سائیکل سوار محمد اعجاز ولد بلبل محمد خان کا تعلق بونی سے ہے، پولیس نے انہیں گرفتار کرکے دفعہ 320 کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے۔ موٹر سائیکل سوارخود بھی معمولی زخمی ہے۔


5 مئی، 2017

سیلفی اور گروپ سیلفی کا بڑھتا ہوا رجحان: اوپو نے پاکستان میں سیلفی ایکسپرٹ فون اوپو ایف 3 متعارف کردیا

سیلفی اور گروپ سیلفی کا بڑھتا ہوا رجحان: اوپو نے پاکستان میں سیلفی ایکسپرٹ فون اوپو ایف 3 متعارف کردیا



لاہور:  دنیا میں اسمارٹ فون کی جدت پر کام کرنے والے صف اول کے ٹیکنالوجی ادارے اوپو نے سیلفی ایکسپرٹ ایف تھری (F3)کے نام سے درمیانی رینج کا ایک اور جدید ترین اسمارٹ فون متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ اس کی قیمت 34 ہزار 899 روپے ہوگی۔ اوپو کے حال ہی میں ایف تھری پلس (F3 Plus)اسمارٹ فون کے متعارف ہونے کے بعد یہ نیا اسمارٹ فون بھی ڈوئل سیلفی ایکسپرٹ اسمارٹ فون ہے جس میں سیلفی جنریشن کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔




F3 اسمارٹ فون ڈوئل سیلفی کیمرا ہے جس میں 16 میگا پکسل کا ایک سیلفی کیمرا اپنی انفرادی سیلفیز لینے کے لئے ہے جبکہ دوسرا وائیڈ اینگل لینس گروپ سیلفی لینے کے لئے ہے۔ 

F3 اسمارٹ فون کی ملک گیر سطح پر فروخت کا آغاز 13 مئی سے ہوگا جبکہ پری آرڈرز پانچ مئی سے 12 مئی تک جاری رہے گا۔ اوپو پری آرڈر انٹریز کے ذریعے قرعہ اندازی بھی کرے گی جس میں جیتنے والے آٹھ افراد کو لندن میں منعقد ہونے والی آئی سی سی چیمپینز ٹرافی کا لائیو فائنل دیکھنے کا موقع ملے گا۔ 

اوپو پاکستان کے سی ای او جارج لونگ نے بتایا، "اوپو کی طرف سے ہمارے صارفین ہمیشہ سے پہلی ترجیح رہے ہیں اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے ساتھ اپنی جدت انگیز مصنوعات کے ذریعے ہم نے وعدہ کیا کہ ان کی ضرورت پوری کرکے انہیں فراہم کریں گے۔ اپنے صارفین کے تعاون اور فیڈ بیک کی مدد سے ہمیں یہ موقع ملتا ہے کہ ایسا فون فراہم کرکے اس وعدے کی تکمیل کریں جس میں ڈوئل سیلفی کیمرے کی بدولت اہم چیزوں کو محفوظ کرکے انہیں آپ کی یادوں کا حصہ بنادے۔ ڈوئل سیلفی کیمرا اسمارٹ فون F3کے آغاز کے ساتھ ہمارا ویژن ہے کہ گروپ سیلفی کا نیا رجحان متعارف کرائیں اور سیلفی ایکسپرٹ کے طور پر اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم بنائیں۔" 

ڈوئل سیلفی کیمرا۔ ایک سیلفی کے لئے، دوسرا گروپ سیلفی کے لئے 
دو گنا منظر کشی کرنے والے گروپ سیلفی کیمرے میں ایک کیمرا اپنی سیلفی کے لئے ہے، دوسرا گروپ سیلفی کے لئے ہے۔ اس کی بدولت وسیع منظر کشی ہوتی ہے اور عام سیلفی کیمرے کے مقابلے میں دو گنا بڑا منظر پیش کرتا ہے۔ اس میں P6لینس اعلیٰ معیار کا پیشہ ورانہ امیج کوالٹی برقرار رکھتا ہے جو بہترین گروپ سیلفیز کھینچنے کو یقینی بناتا ہے۔ 

اپنی الگ سے سیلفی لینے کے لئے دوسرے فرنٹ کیمرے کو تبدیل کرلیں جس میں 16 میگا پکسل ریزولوشن، 1/3 انچ سینسر اور بڑے ایف/2.0 اپرچر استعمال ہوتا ہے۔ یہ ہائی ڈائنامک رینج، روشن گہرائی اور کم سے کم شور کی خصوصیات سے مزین ہیں۔ تیز روشنی والے بیک گراو ¿نڈ میں سیلفی کو خراب نہیں ہوتی بلکہ مجموعی طور پر زیادہ حقیقی لگتی ہے۔ کم روشنی والے مقامات یا رات میں تصویر کھینچنے پر ارد گرد کا شور بھی نمایاں طور پر کم ہوجاتا ہے جس سے سیلفی مزید روشن اور واضح ہوجاتی ہے۔ 

اسمارٹ فیشل ریکوگنیشن فیچر کے ساتھ F3اسمارٹ فون اس وقت گروپ سیلفی کا خود ہی آپشن دیتا ہے جب فریم میں تین سے زائد افراد ہوں۔ کوئی بھی شخص ایک ہاتھ سے سیلفی لینے کے دوران کسی رکاوٹ کے بغیر آسانی سے گروپ سیلفی لے سکتا ہے 

اوپو کا F3اسمارٹ فون 13 میگا پکسل کیمرے سے لیس ہے جس میں 1/3 انچ کا سینسر ہے۔ یہ روشنی کی حساسیت کو بہت زیادہ بڑھا سکتا ہے جس کی بدولت رات کے اوقات میں اسکی حیران کارکردگی دیکھنے کو ملتی ہے۔ اس میں PDAFٹیکنالوجی شوٹنگ کی شاندار سہولت فراہم کرتی ہے۔ شوٹنگ میں حرکت کرتی ہوئی چیزوں کو بھی F3اسمارٹ فون کسی دھندلاہٹ کے بغیر فوکس کرلیتا ہے، یوں اب اہم مواقع پر بہترین تصاویر کھینچنا کبھی بھی مشکل کام نہیں رہا ہے۔ 

اوپو میں بیوٹیفکیشن ایڈیٹنگ سوفٹ ویئر بیوٹیفائی 4.0 دونوں سیلفی کیمرے اور بیک کیمرے کے لئے دستیاب ہے۔ یہ اپنے صارفین کو مختلف بیوٹیفکیشن موڈز کے انتخاب کی سہولت فراہم کرتا ہے جس کی بدولت تصاویر میں مطلوبہ ایفکٹس آسکیں۔ 

اس میں دیگر دلچسپ فیچرز بھی ہیں جس کی بدولت سیلفی کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔ جیسے پام شٹر فیچر کی بدولت جب آپ کیمرے کے سامنے ہاتھ لہراتے ہیں تو خودکار سیلفی کاو ¿نٹ ڈاؤن کو ایکٹو کرکے ہلتی ہوئی تصویر لی جاسکتی ہے۔ 

آپ کی مکمل ضروریات پوری کرنے کے لئے فعال 

F3اسمارٹ فون میں آکٹا کور پروسیسر ہے جس میں 4 جی بی ریم اور 64 جی روم ہے اور یہ کلر او ایس 3.0 سے چلتا ہے۔ جو روانی کے ساتھ بہترین کارکردگی یقینی بناتا ہے۔ اس کی تین سلاٹ کارڈ کی ٹرے میں دو نینو سم کارڈز اور ایک مائیکرو ایس ڈی کارڈ بیک وقت استعمال کئے جاسکتے ہیں۔ 

F3 اسمارٹ فون میں 3200 ایم اے ایچ کی بیٹری ہے جو زیادہ دیر تک کارآمد رہتی ہے۔ آزمائش کے دوران 15 گھنٹے سے زائد وقت تک اسکی بیٹری کارآمد رہی۔ اس کا مطلب ہے کہ اب اپنا بھاری پاور بینک رکھنے کی ضرورت نہیں یا دوران سفر چارجر ڈھونڈھنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ 

پرائیویسی کی حفاظت اور سیکورٹی اوپو کی اولین ترجیح ہے۔ F3اسمارٹ فون میں جدید مستحکم فنگر پرنٹ ریڈر ہے تاکہ ڈیوائس کو آسانی سے ان لاک کیا جاسکے۔ اس میں ہائیڈروفوبک میمبرین کے ساتھ فنگرپرنٹ ریڈر میں زیادہ کامیابی کا تناسب ہوتا ہے یہاں تک کہ انگلی میں نمی بھی ہو۔

حیران کن ڈیزائن، خوبصورتی اور مہارت کا شاہکار

اپنے ہلکے وزن ، پتلی باڈی اور 5.5 انچ کے ساتھ F3اسمارٹ فون پکڑنے والے کے لئے گرفت بہترین ہے۔ اس کا چمکدار دھاتی بیک پینل ہموار ٹیکسچر دھول کو روکتا ہے اور جب اسے ہاتھ میں لیں تو الگ ہی مزہ آتا ہے ۔ F3اسمارٹ فون دیکھنے میں خوبصورت اور باوقار نظر آتا ہے۔ ان سیل ٹیکنالوجی کے ساتھ F3کا ایف ایچ ڈی کا ان سیل ڈسپلے عام اسکرین کی موٹائی کے مقابلے میں ¼ کم ہوتا ہے جس کی بدولت مجموعی تصویر میں روشنی اور رنگوں کی بلند شرح ہوتی ہے اور یوں قابل ذکر طور پر سورج کی روشنی میں بھی تصویر زیادہ روشن اور واضح ہوگی۔ 

اہم خصوصیات:
  • سکرین سائز 5.5 انچ
  • مکمل ایچ ڈی اسکرین
  • ریئر کیمرا 13 ایم پی، ڈوول پی ڈی اے ایف
  • فرنٹ کیمرا 16 ایم پی، فرنٹ کیمرا وائیڈ اینگل 8 ایم پی
  • آپریٹنگ سسٹم: کلر او ایس 3.0
  • پروسیسر 1.5 جی ایچ زیڈ، ریم 4 جی بی، انٹرنل اسٹوریج 64 جی بی، ایس ڈی سپورٹ اپ ٹو 128 جی بی
  • ڈول سم

قیمت : 34000 پاکستانی روپے


جمعہ: سخت سیکورٹی میں شاہی مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی، گزشتہ جمعے خطیب شاہی مسجد مولانا خلیق الزمان سخت سیکیوریٹی میں لایا گیا تھا

چترال(گل حماد فاروقی) جمعہ کے روز شاہی مسجدسے متصل اور تھانہ چترال کے سامنے کثیر تعداد میں دیر اور دیگر اضلاع سے آئے ہوئے پولیس اہلکار چوکس کھڑے تھے۔ پچھلے جمعہ کو بھی خطیب شاہی مسجد مولانا خلیق الزمان کو سخت سیکورٹی میں لائے گئے تھے۔ 

اکیس اپریل کو جمعہ کے روز جب مبینہ طور پر ایک شحص نے شاہی مسجد میں توہین رسالت کا مرتکب ہوا تھا اس کے بعد لوگوں نے تھانہ چترال پر پتھراؤ کیا تھا اور خطیب کی ذاتی گاڑی کو بھی جلایا تھا۔ اس وقت خطیب شاہی مسجد مولانا خلیق الزمان نے اس شحص کو لوگوں سے بچایا تھا اور اسے پولیس کے حوالہ کیا تھا جس کے حلاف بعد تھانہ چترال میں توہین رسالت اور دہشت گردی کا مقدمہ درج ہوا تھا تاہم مشتعل ہجوم نے خطیب شاہی مسجد کی ذاتی گاڑی بھی جلائی تھی۔ جس کی پاداشت میں کثیر تعداد میں لوگوں کو گرفتار کرکے ان کے حلاف دہشت گردی اور دیگر دفعات کے تحت مقدمات درج ہوئے ہیں۔

اس جمعے کو بھی پولیس کی سخت سیکورٹی میں شاہی مسجد میں نماز جمعہ ادا کیا گیا۔

چترال اور ملک بھر کے عوام نے خطیب کی اس کاوش کو نہایت سراہا اور محکمہ تعلیم سے مطالبہ کیا کہ خطیب شاہی مسجد مولانا خلیق الزمان جو گورنمنٹ سینٹینل ماڈل ہائی سکول میں گریڈ سولہ میں اسلامیات کا استاد بھی ہے اور اضافی طور پر شاہی مسجد میں خطیب بھی ہے اسے مزید ترقی دی جائے ۔ عوام نے مطالبہ کیا کہ اگر ایسے سرکاری ملازمین ایسے نازک موقعوں پر امن عامہ اور حالات کو قابو کرے تو ملک بہت نقصان سے بچا جاسکتا ہے۔

افغانستان کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ، 8 شہریوں کے زخمی ہونے پر پاک فوج نے چمن بارڈر بند کردیا

افغانستان  کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ، 8 شہریوں کے زخمی ہونے پر پاک فوج نے چمن بارڈر بند کردیا


چمن میں افغان فورسز کی پاکستانی علاقے پر فائرنگ اور گولہ بار ی، 8 شہری زخمی

چمن (ویب ڈیسک) چمن میں پاک افغان بارڈر پر افغان فورسز کی پاکستان حدود کے اندر فائرنگ اور گولہ باری سے 8 شہری زخمی ہوگئے ہیں۔ 


چمن میں پاک افغان بارڈر کے علاقے کلی لقمان میں افغان فورسز نے پاکستان کی حدود میں شہریوں پر فائرنگ کردی جس کے جواب میں پاکستانی فورسز نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ افغانستانی فورسز کی فائرنگ سے 3 خواتین بچوں سمیت 8 شہری زخمی ہوگئے جنہیں طبی امداد کیلئے اسپتال منتقل کردیا گیا۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق زخمی ہونے والوں میں 2 افراد جان بحق ہوئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ،علاقے میں کشیدگی کے بعد شہرکے مختلف اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی جبکہ آخری اطلاعات کے مطابق دونوں جانب سے فورسز کی جانب سے فائرنگ کاسلسلہ جاری ہے۔

4 مئی، 2017

لواری ٹنل اس سال جون میں آپریشنل ہو گا، چترال، پشاور سفر12 سے کم ہوکر 7 گھنٹے کا ہوجائے گا

اسلام آباد (ٹائمز آف چترال : مانیٹرنگ ڈیسک)  لواری ٹنل اس سال جون میں پبلک کے لئے کھول دیا جائے۔ ٹنل کو 2008 میں مکمل ہونا تھا لیکن ایسا نہ ہوسکا۔  نیشنل ہائی وے کے آفیشل کے مطابق منصوبے میں تاخیر کی وجہ ریل ٹنل سے روڈ تنل تبدیلی بنی۔ 2009 میں حکومت نے اسے ریل ٹنل کے بجائے روڈ ٹنل میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ مکمل طور پر آپریشنل ہونے کے بعد ٹنل چترال سے پشاور   یا   پشاور سے چترال کے 14 گھنٹے کے سفر کو کم کرکے 7 گھنٹے کردے گا۔ کیونکہ ٹنل نہ ہونے کی وجہ سے مسافروں کو لواری ٹاپ سے گزرنا پڑتا تھا اور لواری ٹاپ بند ہونے کی وجہ سے مسافروں کو افغانستان کے راستے چترال جانا اور آنا پڑتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ موسم سرما میں چترال ناقابل رسائی ہوجاتا ہے اب ٹنل کھلنے کے بعد چترال چاروں موسم کھلا رہے گا۔


لواری ٹنل کا کریڈٹ چاہے جو بھی لے لے لیکن اصل مصور جعفر علی شاہ ہیں جنہوں 1970 میں پاکستان کے نیشنل اسمبلی میں  لواری ٹنل منصوبے کا خیال پیش کیا تھا۔ بھٹو کے دور حکومت میں سن 1975 میں اس پر پہلی بار کام کا آغاز ہوا لیکن حکومت کی تبدیلی کے بعد 1977 میں کام بند ہوا۔ اس کے بعد ضیاء کے 10 سالہ دور میں کوئی غلطی سے بھی اس جانب نہ دیکھا۔ 

سن 2005 میں میں پرویز مشرف کے دور میں دوبارہ کام کا آغاز ہوا۔ لیکن 2018 میں مشرف کا دور ختم ہوگیا۔ اس کے بعد آنے والی حکومتوں نے اسے پھر سے نظر انداز کیا۔ فنڈ کی کمی، حکومتوں کی سرد مہری کی وجہ سے یہ منصوبے اپنے دیئے ہوئے وقت یعنی 2008 میں مکمل نہ ہوسکا۔ پیپلز پارٹی کے 5 سالہ دور میں اسے کوئی اہمیت نہیں دی گئی۔ جس کی وجہ سے منصوبہ تعطل کا شکار ہوا۔ ن لیگ کی حکومت میں کام میں تیزی آئی۔ اور ریل ٹنل سے  روڈ ٹنل میں کنورٹ کردیا گیا۔ جس کی وجہ سے ٹنل میں مزید کھدائی کرنی پڑی۔ اب یہ انشا اللہ جون 2017 میں آپریشنل ہوجائے گا۔

مشہور اشاعتیں


تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget