24 جنوری، 2017

مہاجر کیمپ پر بمباری 236 افراد ہلاک، ہلاکتیں بڑھنے کا خدشہ

نائیجیرین ایئر فورس کی مہاجر کیمپ پر بمباری سے 236 افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ یہ شمار ابتدائی ہے جان بحق افراد کی تعداد میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ مرنے والوں میں سے 234 افراد کو ران میں دفن کردیا گیا ہے جہاں یہ کیمپ واقع ہے جبکہ میدوگوری میں طبی امداد کے لئے لے جاتے وقت دو مزید افراد دم توڑ گئے ہیں جس سے مرنے والوں کی تعداد 236 ہوگئی ہے۔ ایسوسیٹڈ پریس رپورٹڈ

بھارتی شہر چنئی میں فسادات ، جلائو گھیرائو جاری، ریاست فوج کے حوالے کرنے پر غور

چنئی (ویب ڈیسک) بھارتی سپریم کورٹ کے تامل ناڈو کے مقبول ترین رواتی کھیل جلی کٹو پر پابندی کے خلاف مظاہرے شدت اختیار کرگئے ہیں ہیں، چنئی شہر میں دفعہ 144 کے نفاذ کے باوجود مظاہرے جاری ہیں، پولیس کی مزاحمت پر یہ مظاہرے پرشدد شکل اختیار کر لئے ہیں مظاہرین کا کئی مقامات پر پولیس سے مقابلہ۔ بھارتی حکومت نے شہر میں فوج بھیجنے کا فیصلہ کردیا ہے۔


بھارتی زرائع ابلاغ کے مطابق ریاست تامل ناڈو کے مقبول روایتی کھیل جلی کٹو پر بھارتی سپریم کورٹ نے پابندی لگا دی تھی لیکن ریاست بھر میں کھیل پر پابندی کے خلاف شدید مظاہروں کے بعد حکومت نے ایک آرڈیننس منظور کروا کر روایتی کھیل کی اجازت دی تھی تاہم مظاہرین اس کے مستقل حل کے لئے ڈٹے رہے اور روایتی جلی کٹو پر پابندی کے خلاف 6 روز سے دھرنا دیے بیٹھے تھے ۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ آرڈیننس دائمی نہیں ہے اور یہ  6 ماہ بعد منسوخ کردیا جائے گا اس لئے حکومت اس سلسلے میں مستقل قانون بنائے۔

مظاہرین کا احتجاج ختم کرانے کے لئے پولیس نے ساحل سمندر سے مظاہرین کو جبراً ہٹانا شروع کردیا تھا مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا تو مظاہرے میں غم و عصہ بڑھ گیا، پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج اور شیلنگ کی جس کے بعد مظاہرین پر تشدد ہوگئے۔ کریک ڈاون کی وجہ سے کئی علاقوں میں صورتحال بگڑ گئی اور اخجاجی شدید مشتعل ہوگئے اور پولیس پر پتھراو شروع کردیا، کئی گاڑیوں کو آگ لگادی، خراب حالات کی وجہ سے دفعہ 144 نافذ کردی گئی پولیس کی بھاری نفری تعینات کردیا گیا ہے اور حکومت نے فوج بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔



23 جنوری، 2017

پشاور میں چترال کلچرل نائٹ کا انعقاد، گلوکاروں کا زبردست پرفارمنس ، سریلی دھنوں پر نوجوانوں کا رقص



پشاور (نمائندہ ٹائمز آف چترال ) گزشتہ روز پشاور کے نشترہال میں چترال کلچرل نائٹ منعقد ہوا جس میں پشاور اور گردونواح میں رہنے والے چترالی میوزک شائقین، طلباء اور فیملیز نے بھر پور شرکت کی۔ چترال کے مقامی گلوکاروں نے اپنے فن سے حاضرین کو محظوظ کیا۔ چترال کی میٹھی موسیقی ،سریلی دُھنوں پر نوجوانوں نے زبردست ڈانس کیا۔ کلچرل شو میں ہر عمر کے لوگ شریک ہوئے۔ چترال کے نام گرامی گلوکار شجاع الحق، سلطان مراد، عبدالعزیز اور سیف الدین بھی شریک تھے۔ ان کی پرفارمنس سے حاضرین محظوظ ہوئے، چترالی گلوکاروں نے چترال کے مقبول گانے گائے۔ چترالی ڈھول بھی پرفارم کئے جس پر لڑکوں نے زبردست ڈانس پیش کیا۔ میوزک کے ساتھ ساتھ زبردست کامیڈی بھی پروگرام کا حصہ تھا جس میں چترال کے معروف کامیڈین منورشاہ رنگین، صوبیدار توکل خان اور ساتھیوں نے اپنی فنی مہارت کا مظاہرہ کرکے حاضرین سے داد وصول کی۔ چترالی ستار کے معروف فنکاروں نے اپنی سریلی سازوں سے حاضرین کو جھومنے پر مجبور کیا۔

تقریب کے مہمان خاص تحریک انصاف کے سابق صوبائی صدر خالدمسعود تھے، جبکہ صدارت کے فرائض سابق ناظم دروش سرتاج خان انجام دیئے۔ انہوں نے کلچرل ڈائورسٹی کی حوصلہ افزائی کے لئے مقامی ثقافتوں کو فروع دینے پر زور دیا۔

ٹائمز آف چترال کے سروے کے مطابق چترال کے مختلف علاقوں میں موبائل سروس کا معیار: مکمل معلومات کے لئے پوری رپورٹ پڑھیں

ٹائمز آف چترال کے سروے کے مطابق چترال کے مختلف علاقوں میں موبائل سروس کا معیار: مکمل معلومات کے لئے پوری رپورٹ پڑھیں

ٹائمز آف چترال نے چترال کے مختلف علاقوں میں موبائل فون سروس کے معیار کوجانچنے کے لئے اپنے فیس پیج کے ذریعے صارفین کی رائے جانی۔ جس میں چترال کے مختلف علاقوں سے موبائل فون صارفین نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اور اپنے علاقوں میں موبائل فون سروس کے معیار سے آگاہ کیا۔ جس کے تحت درجہ ذیل رپورٹ تیارکی گئی ہے:

ای ایف شانی نے بتایا کہ : کوغذی میں ٹیلی نار کا ٹاور ایک اونچے پہاڑ کے اوپر نصب کیا گیا ہے جو کہ موری بالا ,موری پائیں ,موری لشٹ ,استانگول اور کوغذی و برغذی گاؤں کو سروس فراہم کرتا ہے- صارفین کی کثرت اور اونچائی پر ہونے کی وجہ سے کوغذی میں ٹیلی نار کا نیٹ ورک انتہائی ناقص ہے- آپ کے اس فورم کی توسط سے ہماری ٹیلی نار کمپنی سے گزارش ہے کہ براہ کرم کوغذی کے اندر ہی ایک اضافی ٹاور لگا دیا جائے تاکہ ٹیلی نار صارفین کو مشکلات کا سامنا کرنا نہ پڑے-

ریشن سے وسیم اکرم بیگال نے لکھا ہے کہ وارد سروس اچھا ہے۔ ٹلی نار کی سروس شروع ہوئے تھوڑے دن ہوئے ہیں لیکن کسی سے رابطہ نہیں کرسکا ہوں۔ ماشاء اللہ

حاجی غلام رسول کا کہنا کہ چترال میں سروس فراہم کرنے والی تمام کمپنیاں بشمول ٹیلی نار کی سروس بہت ہی خراب ہے انہیں اپنی سروس بہتر کرنی چاہئے۔

تورکہو سے تعلق رکھنے والے ابو اویس کہتے ہیں کہ ہمارے علاقے تورکہو ملپ میں 50 نمبروں کا ٹاور نصب ہے لیکن یہ بھی گزشتہ 2 ماہ سے خراب ہے، کمپنی والوں کا کچھ پتہ نہیں اس وجہ سے عوام کو بہت مشکلات کا سامنا ہے، ہماری خبر ٹیلی نار حکام تک پہنچائیں آپ کی مہربانی ہوگی۔ ( انہوں نے کمپنی کا نام نہیں بتایا ہے عالباً وہاں بھی ٹیلی نار ہے)

ریشن سے محمد ایاز محمود لکھتے ہیں کہ ریشن اور اس کے مضافاتی علاقوں میں وارد نیٹ ورک کام کرتا ہے لیکن سگنل کافی کمزور ہیں۔

شاہ فیروز کہتے ہیں کہ ٹیلی نار پاکستان کی 2 جی انٹر نیٹ سروس صحیح نہیں کام کر رہا، اب علاقے میں 3 جی سروس ہونی چاہئے۔

مول کہو سے حبیب اللہ شاہ لکھتے ہیں کہ ہمارے علاقے مول کہو میں ٹیلی نار کی سروس ہے لیکن سگنلز بہت کمزور ہونے کی وجہ سے کال کرنے کے لئے گھر سے باہر جانا پڑتا ہے۔

کوعذی سے ایف ایف شاہ کہتے ہیں کہ ٹلی نار کی سروس 50 فیصد اور وارد کی 100 فیصد ہے۔

تور کہو کے علاقے شاگرام سے نعیم نے لکھا ہے کہ ٹیلی کی سروس ہے مگر بائے نام ہے۔ سب سے گھٹیا سروس ہے۔

سروے میں شریک زیادہ تر صارفین نے ٹلی نار کو بدترین نیٹ ورک قرار دے دیا جبکہ وارد قدرے بہترین نیٹ ورک قرار پایا ہے۔ وارد کی سروس جہاں جہاں موجود ہے سروس کا معیار بہتر ہے۔ جبکہ ٹیلی نار کی سروس جہاں ہے بھی تو نہ ہونے کے برار ہے۔ سروے میں کسی صارف نےجاز، زونگ اور یوفون کا نام نہیں لیا۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ یہ تینوں نیٹ ورک دروش شہر، چترال خاص (چترال سٹی) اور بونی میں دستیاب ہیں۔


21 جنوری، 2017

انتقال پر ملال : ریشن کی ہردلعزیز شخصیت میرگلاب شاہ انتقال کرگئے



چترال / ریشن (نمائندہ ٹائمز آف چترال)  ان للہ و ان الیہ راجعون :  ریشن کی ہردلعزیز شخصیت میرگلاب شاہ 76 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ آپ گزشتہ دنوں پشاور میں انتقال کرگئے تھے ان کی جسد خاکی کو آبائی گائوں لے جاکر سپرد خاک کیا گیا۔ 

میرگلاب شاہ میرسبحان الدین، ڈاکٹر شہزادہ حسین اور صلاح الدین کے والد محترم تھے اور ڈاکٹر سردار احمد اورریشن گول کے شیرنواز کے سسر تھے۔

جناب میرگلاب شاہ کا تعلق بھی طب کے پشے سے تھا، اپنی ملازمت کے دوران انہوں نے عوام کی بڑی خدمت کی ہے جس کی وجہ سے وہ دلوں میں بس گئے تھے ان کے انتقال پر ہر فرد سوگوار ہے۔ اللہ تعالی ان کی معفرت فرائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرائے۔ امین

سال 2017 کا پہلا خودکش دھماکہ : 20 افراد جان بحق 50 سے زائد زخمی ہوگئے

پاراچنار(ٹائمز آف چترال نیوز ڈیسک)  نیوسبزی منڈی پاراچنار میں خود کش دھماکے میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق 20 افراد جاں بحق، 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ واقعہ ہفتے کی علی الصح کرم ایجنسی کے علاقے پاراچنار میں پیش آیا۔ عید گاہ مارکیٹ میں قائم نئی سبزی منڈی میں صبح کے وقت لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ دکاندار اور عوام سبزیوں کی خریداری میں مصروف تھے کہ دھماکہ ہوگیا۔

دھماکے میں 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں کوہاٹ اور پشاور کے ملٹری ہسپتالوں میں پہنچایا جارہا ہے۔  دھماکے ہوتے ہی آرمی اور فرنٹیئر کور کے جوان جائے وقوعہ پہنے  اور امدادی کاموں میں حصہ لیا۔ آئی ایس پی آئی کے مطابق آرمی ہیلی کاپٹرز بھی فوری طور پر جائے وقوعہ کی جانب روانہ کردیے گئے تاکہ زخمیوں کو بر وقت ہسپتال پہنچایا جا سکے۔







20 جنوری، 2017

پارک لین فلیٹس کے بارے شائع اپنی خبرپر بی بی سی قائم، کوئی تحقیقات نہیں ہورہیں


کرٹیسی بی بی سی

بی بی سی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 'رپورٹر (اطہر کاظمی) یا پارک لین میں واقع فلیٹس کے بارے میں شائع ہونے والی خبر پر کسی قسم کی کوئی تحقیقات نہیں ہو رہیں۔ ادارہ اپنی صحافتی اقدار پر قائم ہے اور مطمئن ہے کہ یہ خبر درستی اور غیر جانبداری سمیت ہمارے ادارتی معیار پر پوری اترتی ہے۔'


بی بی سی نے گزشتہ رات سوشل میڈیا سمیت پاکستانی ذرائعِ ابلاغ میں شائع ہونے والی ان خبروں کی تردید کی کہ 'پارک لین فلیٹس، کب خریدے گئے، کب بِکے' کی سرخی کے تحت شائع ہونے والی خبر یا رپورٹر کے خلاف کسی قسم کی کوئی اندرونی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

چند دن پہلے بی بی سی اردو نے لندن کے علاقے میے فیئر میں پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف کی فیملی کے زیرِ تصرف فلیٹس کے خریدے جانے کی تاریخ اور ان کی مِلکیت کے بارے میں تفصیلی خبر شائع کی تھی۔

تاہم بدھ کی رات سوشل میڈیا اور پاکستانی ذرائعِ ابلاغ میں دعویٰ کیا گیا کہ بی بی سی نے اس خبر پر اپنے رپورٹر اطہر کاظمی کے خلاف اندرونی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ خبروں اور تبصروں میں بی بی سی کے رپورٹر کے بارے میں ذاتی نوعیت کے الزامات لگائے گئے۔

بی بی سی کے مطابق اس خبر کی وضاحت کی لیے کسی نے ادارے سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ سوشل میڈیا اور پاکستان کے ذرائع ابلاغ میں اس خبر پر تحقیقات کے حوالے سے شائع ہونے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔ بی بی سی نے اس خبر کو اپنی صحافتی اقدار اور ادارتی معیار پر پورا اترنے کے بعد شائع کیا تھا۔




میٹرو کھانچہ آپ نے چھ مہینے میں مکمل کیا لیکن تھانہ کلچر 20 سال میں بھی تبدیل نہ کرسکے: حسن نثار کا دلچسپ تجزیہ دیکھئے

 میٹرو کھانچہ آپ نے چھ مہینے میں مکمل کیا لیکن تھانہ کلچر 20 سال میں بھی تبدیل نہ کرسکے: حسن نثار کا دلچسپ تجزیہ دیکھئے

لاپتہ بلاگر سلمان حیدر کون تھا کیا کرتا تھا، فیس بک پر کیا چلاتا تا تھا، اسلام اور فوج کے خلاف کیا کرتا تھا: پڑھئے جاوید چوہدری کا کالم


سلمان حیدر چالیس پینتالیس برس کے جوان پاکستانی ہیں‘ یہ فاطمہ جناح وویمن یونیورسٹی کے شعبہ جینڈر سٹڈیز کے پروفیسر ہیں‘ یہ ادب‘ تھیٹر‘ اداکاری‘ ڈرامہ نگاری اور صحافت سے بھی دلچسپی رکھتے ہیں‘ یہ نظمیں بھی لکھتے ہیں‘ ان کی ایک متنازعہ نظم ”میں بھی کافر تو بھی کافر“ سوشل میڈیا پر بہت وائرل ہوئی‘ یہ 6 جنوری کی رات بنی گالہ میں اپنے دوستوں کے ساتھ تھے‘ یہ گھر جانے کےلئے نکلے اور غائب ہو گئے‘ اہلیہ نے دس بجے فون کیا ‘ سلمان حیدر نے فون نہ اٹھایا‘ اہلیہ کو بعد ازاں سلمان حیدر کے نمبر سے ایس ایم ایس موصول ہوا”میری گاڑی کرال چوک میں کھڑی ہے‘ آپ گاڑی وہاں سے منگوا لیں“ گاڑی اگلے دن کورنگ ٹاﺅن سے ملی‘ خاندان نے تھانہ لوئی بھیر میں اغواءکا پرچہ درج کرا دیا۔سلمان حیدر ان پانچ مسنگ پرسنز میں شامل ہیں جنہیں 4 سے 7جنوری کے درمیان اغواءکیا گیا‘ عاصم سعید اور وقاض گورایا کو 4 جنوری کو لاہور سے اٹھایاگیا‘ عاصم سعید سنگا پور سے لاہور پہنچاتھا جبکہ وقاص گورایا ہالینڈ میں رہتا تھا‘ یہ دونوں چار جنوری کو لاہور سے غائب ہو گئے‘ احمد رضا نصیر اور ثمر عباس 7 جنوری کو اٹھا لئے گئے‘ رضا نصیر ننکانہ صاحب میں اپنی دکان پر بیٹھا تھا‘ یہ وہاں سے اغواءکر لیا گیا‘ ثمر عباس کراچی کا رہائشی تھا‘ یہ کاروبار کے سلسلے میں اسلام آباد آیا اور غائب ہو گیا‘ یہ لوگ اگر عام حالات میں غائب ہو تے تو شاید یہ بڑی خبر نہ بنتے لیکن یہ پانچوں حضرات ایک ہی کیٹگری سے تعلق رکھتے ہیں‘ یہ بلاگرز ہیں اور یہ سوشل میڈیا پر ایک ہی قسم کا مواد پھیلاتے تھے‘ سلمان حیدر مبینہ طور پر فیس بک کے دو متنازعہ پیجز کے ایڈمن تھے ‘ایک پیج پر طویل عرصے سے مذہب کا مذاق اڑایا جا رہا تھا ‘ مقدس ہستیوں کے بارے میں توہین آمیز فقرے بھی لکھے جاتے تھے جبکہ دوسرے پیج پر پاک فوج کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا کیا جاتا تھا‘ عاصم سعید اور وقاص گورایا بھی فیس بک کا ایک پیج چلا رہے تھے‘ یہ اس پیج کے ذریعے کراچی آپریشن پر تنقید بھی کرتے تھے اور یہ سینئر عہدیداروں پر کرپشن کے الزامات بھی لگاتے تھے‘ احمد رضا نصیر بھی سیکولر خیالات کا مالک ہے‘ یہ ایف اے پاس ہے‘ یہ خود بلاگ نہیں لکھتا تھالیکن ایک بے راہ رو برطانوی لڑکی اس کی سوشل میڈیا فرینڈ تھی‘ یہ لڑکی قابل رینڈ تھی‘ یہ لڑکی قابل اعتراض بلاگ لکھتی تھی اور یہ ان بلاگز کو اپنے فیس بک پیج پر شیئر کر دیتا تھا جبکہ ثمر عباس ہیومن رائیٹ ایکٹوسٹ تھا‘یہ سول پروگریسیو الائنس پاکستان (سی پی اے پی) کا صدرتھا‘ یہ متعدد فورمز پر اقلیتوں کے بارے میں آواز اٹھاتا تھا ‘یہ اسٹیبلشمنٹ کا ناقد بھی سمجھا  جاتا تھا اور یہ سوشل میڈیا پرمذہبی تنظیموں کے خلاف بھی سرگرم تھا۔

میں ایک لبرل پاکستانی ہوں‘میں فلمیں دیکھتا ہوں‘ میوزک سنتا ہوں‘ کتابیں پڑھتا ہوں اور دنیا جہاں کا سفر کرتا ہوں‘ میں نے سینکڑوں مندروں‘ کلیساﺅں‘ سیناگوگا‘ گوردواروں‘ بودھ ٹمپلز اور پارسیوں کے آتش کدوں کا وزٹ کیا‘میں تین مرتبہ ویٹی کن سٹی بھی گیا اور مجھے الحمد للہ حج اور چھ عمروں کی سعادت بھی نصیب ہوئی ‘ میں صحابہ کرامؓ ‘ امام حضرات اور اولیاءکرام کے مزارات کی زیارتیں بھی کرتا رہتا ہوںاور میں غیر مسلموں کے مذہبی سکالرز سے بھی ملتا ہوں‘ میں ان کا احترام بھی کرتا ہوں لیکن میں اس تمام تر لبرل ازم کے باوجود ہمیشہ تین ایشوز پر جذباتی ہو جاتا ہوں‘

میں اسلام‘ نبی اکرم اور صحابہ اکرام ؓ کی توہین برداشت نہیں کر سکتا‘میرا خون کھول اٹھتا ہے‘ میں پاکستان کے خلاف بھی ایک لفظ‘ ایک فقرہ نہیں سن سکتا‘ میں اب تک پاکستان کی وجہ سے سینکڑوں لوگوں کو ناراض کر چکا ہوں اور مجھے اس پر ذرا برابر افسوس نہیں اور میں پاک فوج کی توہین بھی برداشت نہیں کرپاتا‘ فوج نے ملک کےلئے عملاً ہزاروں جانوں کی قربانی دی‘میں فوج کی قربانیوں پر انگلی اٹھانے والے لوگوں کو احسان فراموش سمجھتا ہوں‘یہ تینوں میری کمزوری ہیں اور میں اس کمزوری پر ہزاروں جراتیں قربان کرنے کےلئے تیار ہوں مگر اس محبت اور ان جذبات کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے

ہمیں مذہب‘ نظریئے اور کلچر کے فرق کے باوجود دوسرے انسانوں کو انسان اور دوسرے پاکستانیوں کو پاکستانی سمجھنا ہو گا‘ میں اگر مسلمان ہوں تو اس کا ہرگز ہرگز یہ مطلب نہیں اللہ تعالیٰ کی اس زمین پر ہندوﺅں‘ عیسائیوں اور یہودیوں کو ہونا ہی نہیں چاہیے‘ میں اگر لبرل ہوں تو پھراس کا ہرگزہرگز یہ مطلب نہیں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تمام مدارس بند کر دیئے جائیں‘ داڑھیوں اور برقعوں پر پابندی لگا دی جائے اور ”میں بھی کافر تو بھی کافر“ جیسی نظموں کے ذریعے دوسروں کے عقائد کا مذاق اڑایا جائے‘

میںاگر جمہوریت پسند ہوں تو اس کا ہرگزہرگز یہ مطلب نہیں کہ میں ملکی سرحدوں پر جان کا نذرانہ پیش کرنے والے جوانوں کو جنرل پرویز مشرف یا جنرل یحییٰ خان قرار دے دوں‘ میں اگر مذہبی ہوں تو اس کا ہرگزہرگز یہ مطلب نہیں کہ دنیا کے تمام کلین شیو کافر قرار دے دیئے جائیں اور میں اگر کلین شیو ہوں تواس کا ہرگزہرگز یہ مطلب نہیں کہ مجھے داڑھی اور برقعے کو گالی دینے کا اختیار مل جائے‘ یہ دنیا اختلاف رائے کی خوبصورت ٹوکری ہے‘

اس ٹوکری میں پوپ فرانسس بھی موجود ہے اور سنی لیون بھی اور اس میں مولانا طارق جمیل بھی ہیں اورعاصمہ جہانگیر بھی اور یہ ٹوکری اس وقت تک خوبصورت اور مضبوط رہے گی جب تک پوپ فرانسس سنی لیون اور عاصمہ جہانگیر مولانا طارق جمیل کو برداشت کرتی رہے گی لیکن جس دن یہ ایک دوسرے کو کاٹنا شروع کر دیں گے دنیا کی اس ٹوکری کی خوبصورتی اور وجود دونوں ختم ہو جائیں گے چنانچہ ہم نے اگر اس دنیا کو بچانا چاہتے ہیں‘

ہم اگرملک میں امن قائم رکھنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں ایک دوسرے کو برداشت کرنا ہوگا‘ ہمیں سلمان حیدر اور سلمان حیدر کوہمارے وجود کو تسلیم کرنا ہو گا ‘ہمارے اداروں کو بھی نواز شریف‘ آصف علی زرداری‘ محمود اچکزئی اور ثمر عباس‘ رضا نصیر‘ عاصم سعید ‘ وقاص گورایا کو ایک آنکھ سے دیکھنا ہو گا‘ ہم لکیر کے ایک سائیڈ پر کھڑے لوگوں کو سیلوٹ اور دوسری جانب موجود لوگوں کو گالی دے کر یہ ملک نہیں چلا سکیں گے‘ ہمیں یہ حقیقت اب مان لینی چاہیے۔

آپ آصف علی زرداری کی 16 جون 2015ءکی تقریر نکال کر  دیکھ لیجئے‘ آصف علی زرداری نے اس تقریر میں کیا کیا نہیں کہا؟ آپ سانحہ کوئٹہ کے بعد محمود اچکزئی کی 9 اگست 2016ءکی تقریر بھی دیکھ لیجئے‘ محمود اچکزئی نے بھی قومی اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر کیا کیا نہیں کہا اور آپ میاں نواز شریف کی 16مئی 2016ءکی تقریر بھی دیکھ لیجئے‘ وزیراعظم نے فلور آف دی ہاﺅس اپنے اور اپنے خاندان کی ”منی ٹریل“ پوری قوم کے سامنے رکھی لیکن جب اس تقریر کو سپریم کورٹ میں بطور شہادت پیش کرنے کا وقت آیا  تو وزیراعظم کے وکیل مخدوم علی خان آرٹیکل 66 کی ڈھال لے کر کھڑے ہو گئے‘ یہ سپریم کورٹ کو بار بار بتاتے رہے جج آئینی طور پر پارلیمنٹیرینز کی ”فلور آفدی ہاﺅس“ گفتگو کو شہادت نہیں بنا سکتے‘آرٹیکل 66 کی دلیل ہو‘ محمود اچکزئی کی تقریر ہویا پھر آصف علی زرداری کا خطاب ہو قوم یہ دیکھ سن کر کنفیوژہو چکی ہے ‘ آج آصف علی زرداری‘ محمود اچکزئی اور میاں نواز شریف ایک سائیڈ پر کھڑے ہیں اور لکیر کی دوسری طرف سلمان حیدر‘ عاصم سعید‘ وقاص گورایا‘ احمد رضا نصیر اور ثمر عباس موجود ہیں‘

ہمارے ملک میں آصف علی زرداری کیمروں کے سامنے کچھ بھی کہہ دیں کوئی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا‘ یہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ بھی رہیں گے اور انہیں سابق صدر کی سیکورٹی اور پروٹوکول بھی ملتا رہے گا‘ محمود اچکزئی اسمبلی میں ملک کے مقتدر اداروں کو للکارتے رہیں‘ کوئی ادارہ ان کے خلاف عدالت جائے گا اور نہ ہی ان سے جواب مانگا جائے گا اور میاں نواز شریف قومی اسمبلی میں پوری قوم کے سامنے اپنی منی ٹریل رکھ دیں اور وزیراعظم کا وکیل بعد ازاں آرٹیکل 66 کا واویلاشروع کر دے کوئی شخص اعتراض نہیں کرے گا لیکن ملک کے پانچ بلاگرز کو قانونی کارروائی کے بغیر راستوں سے اٹھا لیا جائے گا اور ان کے خاندانوں کو اطلاع تک نہیں دی جائے گی‘ یہ کیا ثابت کرتا ہے؟ یہ ثابت کرتا ہے آپ جرم کرنا چاہتے ہیں‘ آپ توہین کرنا چاہتے ہیں اور آپ اگر کسی کو اینٹ سے اینٹ بجا دینے کی دھمکی دینا چاہتے ہیں تو پہلے آپ کو قومی اسمبلی میں پہنچنا ہو گا‘ آپ الیکشن جیتیں اور اس کے بعد آپ کے نام سرے محل نکل آئے‘ آپ کے سوئس اکاﺅنٹس سامنے آ جائیں‘ آپ فلیٹس کے مالک ثابت ہو جائیں یا پھر آپ اینٹ سے اینٹ بجا دیں آپ کا کوئی بال تک بیکا نہیں کر سکے گا‘

آپ کراچی جیسے شہر کو قبرستان بنانے کے بعد بھی ایک رات جیل میں نہیں گزاریں گے‘ آپ پارلیمنٹ اور پی ٹی وی پر قبضے‘آپ سپریم کورٹ کی عمارت پر گندی شلواریں لٹکانے اور آپ ایس ایس پی کو ڈنڈوں سے کچل دینے کے باوجود قانون سے بالاتر ہوں گے لیکن آپ اگر عام شہری ہیں تو پھر آپ کسی بھی وقت کسی بھی جگہ سے اٹھائے جاسکتے ہیں‘ آپ پھر انسان نہیں ہیں‘ آپ یقین کیجئے ہم جب تک عام اور خاص لوگوں کے درمیان سے آرٹیکل 66 جیسے تضاد ختم نہیں کریں گے‘ یہ ملک اس وقت تک نہیں چل سکے گا‘ ہم خواہکچھ بھی کر لیں ۔

سلمان حیدر چالیس پینتالیس برس کے جوان پاکستانی ہیں‘ یہ فاطمہ جناح وویمن یونیورسٹی کے شعبہ جینڈر سٹڈیز کے پروفیسر ہیں‘ یہ ادب‘ تھیٹر‘ اداکاری‘ ڈرامہ نگاری اور صحافت سے بھی دلچسپی رکھتے ہیں‘ یہ نظمیں بھی لکھتے ہیں‘ ان کی ایک متنازعہ نظم ”میں بھی کافر تو بھی کافر“ سوشل میڈیا پر بہت وائرل ہوئی‘ یہ 6 جنوری کی رات بنی گالہ میں اپنے دوستوں کے ساتھ تھے‘ یہ گھر جانے کےلئے نکلے اور غائب ہو گئے‘ 

اہلیہ نے دس بجے فون کیا ‘ سلمان حیدر نے فون نہ اٹھایا‘ اہلیہ کو بعد ازاں سلمان حیدر کے نمبر سے ایس ایم ایس موصول ہوا”میری گاڑی کرال چوک میں کھڑی ہے‘ آپ گاڑی وہاں سے منگوا لیں“ گاڑی اگلے دن کورنگ ٹاﺅن سے ملی‘ خاندان نے تھانہ لوئی بھیر میں اغواءکا پرچہ درج کرا دیا۔سلمان حیدر ان پانچ مسنگ پرسنز میں شامل ہیں جنہیں 4 سے 7جنوری کے درمیان اغواءکیا گیا‘ عاصم سعید اور وقاض گورایا کو 4 جنوری کو لاہور سے اٹھایاگیا‘ عاصم سعید سنگا پور سے لاہور پہنچاتھا جبکہ وقاص گورایا ہالینڈ میں رہتا تھا‘ یہ دونوں چار جنوری کو لاہور سے غائب ہو گئے‘ احمد رضا نصیر اور ثمر عباس 7 جنوری کو اٹھا لئے گئے‘ رضا نصیر ننکانہ صاحب میں اپنی دکان پر بیٹھا تھا‘ یہ وہاں سے اغواءکر لیا گیا‘ ثمر عباس کراچی کا رہائشی تھا‘ یہ کاروبار کے سلسلے میں اسلام آباد آیا اور غائب ہو گیا‘ یہ لوگ اگر عام حالات میں غائب ہو تے تو شاید یہ بڑی خبر نہ بنتے لیکن یہ پانچوں حضرات ایک ہی کیٹگری سے تعلق رکھتے ہیں‘ یہ بلاگرز ہیں اور یہ سوشل میڈیا پر ایک ہی قسم کا مواد پھیلاتے تھے‘ سلمان حیدر مبینہ طور پر فیس بک کے دو متنازعہ پیجز کے ایڈمن تھے ‘ایک پیج پر طویل عرصے سے مذہب کا مذاق اڑایا جا رہا تھا ‘ مقدس ہستیوں کے بارے میں توہین آمیز فقرے بھی لکھے جاتے تھے جبکہ دوسرے پیج پر پاک فوج کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا کیا جاتا تھا‘ عاصم سعید اور وقاص گورایا بھی فیس بک کا ایک پیج چلا رہے تھے‘ یہ اس پیج کے ذریعے کراچی آپریشن پر تنقید بھی کرتے تھے اور یہ سینئر عہدیداروں پر کرپشن کے الزامات بھی لگاتے تھے‘ احمد رضا نصیر بھی سیکولر خیالات کا مالک ہے‘ یہ ایف اے پاس ہے‘ یہ خود بلاگ نہیں لکھتا تھالیکن ایک بے راہ رو برطانوی لڑکی اس کی سوشل میڈیا فرینڈ تھی‘ یہ لڑکی قابل اعتراض بلاگ لکھتی تھی اور یہ ان بلاگز کو اپنے فیس بک پیج پر شیئر کر دیتا تھا جبکہ ثمر عباس ہیومن رائیٹ ایکٹوسٹ تھا‘یہ سول پروگریسیو الائنس پاکستان (سی پی اے پی) کا صدرتھا‘ یہ متعدد فورمز پر اقلیتوں کے بارے میں آواز اٹھاتا تھا ‘یہ اسٹیبلشمنٹ کا ناقد بھی سمجھا جاتا تھا اور یہ سوشل میڈیا پرمذہبی تنظیموں کے خلاف بھی سرگرم تھا۔

میں ایک لبرل پاکستانی ہوں‘میں فلمیں دیکھتا ہوں‘ میوزک سنتا ہوں‘ کتابیں پڑھتا ہوں اور دنیا جہاں کا سفر کرتا ہوں‘ میں نے سینکڑوں مندروں‘ کلیساﺅں‘ سیناگوگا‘ گوردواروں‘ بودھ ٹمپلز اور پارسیوں کے آتش کدوں کا وزٹ کیا‘میں تین مرتبہ ویٹی کن سٹی بھی گیا اور مجھے الحمد للہ حج اور چھ عمروں کی سعادت بھی نصیب ہوئی ‘ میں صحابہ کرامؓ ‘ امام حضرات اور اولیاءکرام کے مزارات کی زیارتیں بھی کرتا رہتا ہوںاور میں غیر مسلموں کے مذہبی سکالرز سے بھی ملتا ہوں‘ میں ان کا احترام بھی کرتا ہوں لیکن میں اس تمام تر لبرل ازم کے باوجود ہمیشہ تین ایشوز پر جذباتی ہو جاتا ہوں‘

میں اسلام‘ نبی اکرم اور صحابہ اکرام ؓ کی توہین برداشت نہیں کر سکتا‘میرا خون کھول اٹھتا ہے‘ میں پاکستان کے خلاف بھی ایک لفظ‘ ایک فقرہ نہیں سن سکتا‘ میں اب تک پاکستان کی وجہ سے سینکڑوں لوگوں کو ناراض کر چکا ہوں اور مجھے اس پر ذرا برابر افسوس نہیں اور میں پاک فوج کی توہین بھی برداشت نہیں کرپاتا‘ فوج نے ملک کےلئے عملاً ہزاروں جانوں کی قربانی دی‘میں فوج کی قربانیوں پر انگلی اٹھانے والے لوگوں کو احسان فراموش سمجھتا ہوں‘یہ تینوں میری کمزوری ہیں اور میں اس کمزوری پر ہزاروں جراتیں قربان کرنے کےلئے تیار ہوں مگر اس محبت اور ان جذبات کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے

ہمیں مذہب‘ نظریئے اور کلچر کے فرق کے باوجود دوسرے انسانوں کو انسان اور دوسرے پاکستانیوں کو پاکستانی سمجھنا ہو گا‘ میں اگر مسلمان ہوں تو اس کا ہرگز ہرگز یہ مطلب نہیں اللہ تعالیٰ کی اس زمین پر ہندوﺅں‘ عیسائیوں اور یہودیوں کو ہونا ہی نہیں چاہیے‘ میں اگر لبرل ہوں تو پھراس کا ہرگزہرگز یہ مطلب نہیں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تمام مدارس بند کر دیئے جائیں‘ داڑھیوں اور برقعوں پر پابندی لگا دی جائے اور ”میں بھی کافر تو بھی کافر“ جیسی نظموں کے ذریعے دوسروں کے عقائد کا مذاق اڑایا جائے‘

میں اگر جمہوریت پسند ہوں تو اس کا ہرگزہرگز یہ مطلب نہیں کہ میں ملکی سرحدوں پر جان کا نذرانہ پیش کرنے والے جوانوں کو جنرل پرویز مشرف یا جنرل یحییٰ خان قرار دے دوں‘ میں اگر مذہبی ہوں تو اس کا ہرگزہرگز یہ مطلب نہیں کہ دنیا کے تمام کلین شیو کافر قرار دے دیئے جائیں اور میں اگر کلین شیو ہوں تواس کا ہرگزہرگز یہ مطلب نہیں کہ مجھے داڑھی اور برقعے کو گالی دینے کا اختیار مل جائے‘ یہ دنیا اختلاف رائے کی خوبصورت ٹوکری ہے‘

اس ٹوکری میں پوپ فرانسس بھی موجود ہے اور سنی لیون بھی اور اس میں مولانا طارق جمیل بھی ہیں اورعاصمہ جہانگیر بھی اور یہ ٹوکری اس وقت تک خوبصورت اور مضبوط رہے گی جب تک پوپ فرانسس سنی لیون اور عاصمہ جہانگیر مولانا طارق جمیل کو برداشت کرتی رہے گی لیکن جس دن یہ ایک دوسرے کو کاٹنا شروع کر دیں گے دنیا کی اس ٹوکری کی خوبصورتی اور وجود دونوں ختم ہو جائیں گے چنانچہ ہم نے اگر اس دنیا کو بچانا چاہتے ہیں‘

ہم اگرملک میں امن قائم رکھنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں ایک دوسرے کو برداشت کرنا ہوگا‘ ہمیں سلمان حیدر اور سلمان حیدر کوہمارے وجود کو تسلیم کرنا ہو گا ‘ہمارے اداروں کو بھی نواز شریف‘ آصف علی زرداری‘ محمود اچکزئی اور ثمر عباس‘ رضا نصیر‘ عاصم سعید ‘ وقاص گورایا کو ایک آنکھ سے دیکھنا ہو گا‘ ہم لکیر کے ایک سائیڈ پر کھڑے لوگوں کو سیلوٹ اور دوسری جانب موجود لوگوں کو گالی دے کر یہ ملک نہیں چلا سکیں گے‘ ہمیں یہ حقیقت اب مان لینی چاہیے۔
آپ آصف علی زرداری کی 16 جون 2015ءکی تقریر نکال کر  دیکھ لیجئے‘ آصف علی زرداری نے اس تقریر میں کیا کیا نہیں کہا؟ آپ سانحہ کوئٹہ کے بعد محمود اچکزئی کی 9 اگست 2016ءکی تقریر بھی دیکھ لیجئے‘ محمود اچکزئی نے بھی قومی اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر کیا کیا نہیں کہا اور آپ میاں نواز شریف کی 16مئی 2016ءکی تقریر بھی دیکھ لیجئے‘ وزیراعظم نے فلور آف دی ہاﺅس اپنے اور اپنے خاندان کی ”منی ٹریل“ پوری قوم کے سامنے رکھی لیکن جب اس تقریر کو سپریم کورٹ میں بطور شہادت پیش کرنے کا وقت آیا

تو وزیراعظم کے وکیل مخدوم علی خان آرٹیکل 66 کی ڈھال لے کر کھڑے ہو گئے‘ یہ سپریم کورٹ کو بار بار بتاتے رہے جج آئینی طور پر پارلیمنٹیرینز کی ”فلور آف دی ہاﺅس“ گفتگو کو شہادت نہیں بنا سکتے‘آرٹیکل 66 کی دلیل ہو‘ محمود اچکزئی کی تقریر ہویا پھر آصف علی زرداری کا خطاب ہو قوم یہ دیکھ سن کر کنفیوژہو چکی ہے ‘ آج آصف علی زرداری‘ محمود اچکزئی اور میاں نواز شریف ایک سائیڈ پر کھڑے ہیں اور لکیر کی دوسری طرف سلمان حیدر‘ عاصم سعید‘ وقاص گورایا‘ احمد رضا نصیر اور ثمر عباس موجود ہیں‘

ہمارے ملک میں آصف علی زرداری کیمروں کے سامنے کچھ بھی کہہ دیں کوئی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا‘ یہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ بھی رہیں گے اور انہیں سابق صدر کی سیکورٹی اور پروٹوکول بھی ملتا رہے گا‘ محمود اچکزئی اسمبلی میں ملک کے مقتدر اداروں کو للکارتے رہیں‘ کوئی ادارہ ان کے خلاف عدالت جائے گا اور نہ ہی ان سے جواب مانگا جائے گا اور میاں نواز شریف قومی اسمبلی میں پوری قوم کے سامنے اپنی منی ٹریل رکھ دیں اور وزیراعظم کا وکیل بعد ازاں آرٹیکل 66 کا واویلاشروع کر دے کوئی شخص اعتراض نہیں کرے گا

لیکن ملک کے پانچ بلاگرز کو قانونی کارروائی کے بغیر راستوں سے اٹھا لیا جائے گا اور ان کے خاندانوں کو اطلاع تک نہیں دی جائے گی‘ یہ کیا ثابت کرتا ہے؟ یہ ثابت کرتا ہے آپ جرم کرنا چاہتے ہیں‘ آپ توہین کرنا چاہتے ہیں اور آپ اگر کسی کو اینٹ سے اینٹ بجا دینے کی دھمکی دینا چاہتے ہیں تو پہلے آپ کو قومی اسمبلی میں پہنچنا ہو گا‘ آپ الیکشن جیتیں اور اس کے بعد آپ کے نام سرے محل نکل آئے‘ آپ کے سوئس اکاﺅنٹس سامنے آ جائیں‘ آپ فلیٹس کے مالک ثابت ہو جائیں یا پھر آپ اینٹ سے اینٹ بجا دیں آپ کا کوئی بال تک بیکا نہیں کر سکے گا‘

آپ کراچی جیسے شہر کو قبرستان بنانے کے بعد بھی ایک رات جیل میں نہیں گزاریں گے‘ آپ پارلیمنٹ اور پی ٹی وی پر قبضے‘آپ سپریم کورٹ کی عمارت پر گندی شلواریں لٹکانے اور آپ ایس ایس پی کو ڈنڈوں سے کچل دینے کے باوجود قانون سے بالاتر ہوں گے لیکن آپ اگر عام شہری ہیں تو پھر آپ کسی بھی وقت کسی بھی جگہ سے اٹھائے جاسکتے ہیں‘ آپ پھر انسان نہیں ہیں‘ آپ یقین کیجئے ہم جب تک عام اور خاص لوگوں کے درمیان سے آرٹیکل 66 جیسے تضاد ختم نہیں کریں گے‘ یہ ملک اس وقت تک نہیں چل سکے گا‘ ہم خواہ کچھ بھی کر لیں ۔

کرٹیسی جاوید چوہدری ڈاٹ کام

19 جنوری، 2017

ٹنل دو دن کیلئے کھول دینے پر ، چترالی مسافروں اور ٹرانسپورٹرز کا وزیر اعظم کے فیصلے کا خیرمقدم


لوئر دیر / چترال (نمائندہ ٹائمز آف چترال)   ٹرانسپورٹر حضرات خاص طور پر چترالی مسافروں نے وزیر اعظم نواز شریف کے لواری ٹنل کے حوالے سے ہدایات کا خیر مقدم کیا ہے۔ وزیر اعظم نے انتظامیہ کو ہدایات جاری کردی ہیں کہ ٹنل کو لواری ٹاپ بند ہونے پر ہفتے میں 2 دن کے لئے مسافروں اور دیگر گاڑیوں کی آمدورفت  کے لئے کھول دیا جائے۔ ہدایت کے پیش نظر انتظامیہ نے منگل کے روز بھی ٹنل کھول دیا جس کی بدولت ٹنل کے دونوں اطراف پھنسے مسافر اور مال بردار گاڑیاں ٹنل سے گزریں۔ اس سے قبل صرف ایک دن یعنی جمعہ کے روز ٹنل کھول دیا جاتا تھا جس کے باعث ٹنل کی دونوں جانب مال بردار اور مسافر گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگ جاتی تھیں۔


چترال آنے اور چترال سے ملک کے دیگر حصوں میں سفر کرنے والے چترالی مسافر اور چترال آنے والے سیاحوں کو بڑی مشکلات درپیش تھیں۔ گزشتہ روز ایک دلخراش واقعہ بھی رونما ہوا کہ ایک بچہ سردی کی شدت کی وجہ سے ٹنل کھلنے کے انتظار میں دم توڑ دیا۔ شدید سردی میں مسافر ٹنل کے باہر انتظار کرتے تھے جس پر میڈیا نے اس اہم مسئلے کو بھر پور انداز میں پیش کیا تب جاکہ وزیر اعظم کو نوٹس لینا پڑی۔ جس کے بعد وزیراعظم نے نیشنل ہوائی وے کو ہدایت دی کہ مسافروں کو سہولت دینے کے لئے جمعہ کے علاوہ ایک اور دن ٹنل کھول دیا جائے۔  ان کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے این ایچ اے، ضلع اپر دیر اور چترال حکام اور پاک آرمی نے پاک آرمی بریگیڈ ہیڈ کوارٹر پاناکوٹ میں پریس کانفرنس میں بتایا کہ ایک اور دن یعنی منگل کے روز بھی ٹنل مسافروں کے لئے کھول دیا جائے گا۔ 

چترالی مسافروں نے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے وزیر اعظم اور تمام اداروں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا لواری ٹاپ کے بند ہونے سے انہیں کافی مشکلات درپیش ہوتی ہیں اب اس فیصلے سے ان کی مشکلات کچھ کم ہونگی۔ 
دیر انتظامیہ کے ترجمان نے بتایا کہ منگل کے روز ٹنل کھولے جانے کے بعد دیر کی جانب سے 200 سے زائد گاڑی ٹنل سے چترال روانہ ہوئیں جبکہ چترال سے 81 گاڑیاں آئیں۔ انہوں نے کہا کہ اپر دیر کی ضلعی انتظامیہ نے پاناکوٹ، بیلنزئی اور مینا خوار میں امدادی پوائنٹس بنائے ہیں اور مسافروں کی حفاظت کے لئے لیویز پرسنل تعینات کئے ہیں۔ جو حفاظت کے ساتھ گاڑیوں کو قطاروں میں کھڑی کرتے ہیں تاکہ سڑک نہ بند ہو۔ 

18 جنوری، 2017

غیروں میں شادی کا ایک اور بھیانک انجام، چترالی لڑکی سوات میں شوہر کے ہاتھوں قتل



چترال (وقائع نگار خاص ٹائمز آف چترال) ایک اور چترالی لڑکی ماں باپ کے غلط فیصلے کی بھینٹ چڑھ گئی۔ 12 سال کی عمر میں سوات میں بیاہی جانے والی لڑکی کو گزشتہ دنوں شوہر نے قتل کردیا۔ جس وقت لڑکی کی شادی کرادی گئی تھی اس وقت لڑکی کی عمر 12 سال اور چھٹی جماعت کی طالبہ تھی۔ لڑکی کا تعلق چترال کے اورغوچ گاون اور والد کا نام مفتاح الدین بتایا جاتاہے۔ نہ جانے کس لالچ میں بچی کی شادی کم عمری میں سوات کے رہائشی امیرزادہ سے کرادی گئی، متوفی کے 3 بچے ہیں۔ معمولی گھریلو تنازع پر امیرزادہ اپنی جلاد ماں کے ساتھ مل کر چھریوں سے وار کرکے لڑکی کو قتل کردیا۔ سوات پولیس مجرم کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔

یہ واقعہ پہلا نہیں اور نہ ہی آخری ہے۔ یہاں اس امر کی اشد ضرورت ہے ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے قانون سازی کی جائے۔ علماء اور مقامی رہنماوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے۔ تاکہ ایسے معاملات میں مداخلت کرکے ایسے والدین کو مشاورت فراہم کرسکیں۔ اور ایک انسان ہونے کے ناطے یہ ہم پر فرض ہے کہ اگر ہمارے علاقے میں ایسا کوئی واقعہ پیش ہونے جارہا ہو ہم اس کی رپورٹ کریں اور ان والدین کو اس کام سے باز رکھنے کی کوشش کریں اور جہاں تک ہوسکے ان کی کونسلنگ کریں۔

17 جنوری، 2017

خیبر پختونخواہ میں تعلیم اور سکولوں میں حکومت نے کونسی بہتری لائی ہے: دیکھئے دنیا نیوز کی رپورٹ

خیبر پختونخواہ میں تعلیم اور سکولوں میں حکومت نے کونسی بہتری لائی ہے: دیکھئے دنیا نیوز کی رپورٹ


پانچ سال کا ریان یوٹیوب پر ماہانہ 10 کروڑ روپے کماتا ہے: پڑھئے



ویب ڈیسک، ٹائمز آف چترال :    ریان کی عمر ابھی 5 سال ہے اور وہ اوسط ذہانت کے مالک ہے ۔ ۔ریان کو بھی دیگر بچوں کی طرح کھلونا کاروں سے کھیلنے، تین پہیوں والی سائیکل سواری اور واٹر سلائیڈ نگ پسند ہیں ۔ ریان نہ صرف کھلونوں سے کھیلتا ہے بلکہ کھلونوں پر دلچسپ تبصرے بھی کرتا ہے اور اس کے تبصرے دنیا بھر کے بچوں میں مقبول ہورہے ہیں۔ ریان کی ماں ریان کی ہر دل لبھانے والی حرکت اور تبصروں کی ویڈیو بناتی ہے اور اپنے یوٹیوب چینل پر ڈالتی ہے۔ ریان کے چینل ریان ٹائیز ریویو  کے سبسکرائبر کی تعداد  59 لاکھ 78 ہزار ہے اور اس کی ویڈیوز 9 ارب بار 
 دیکھی جاچکی ہیں۔

ریان کا چینل حالانکہ زیادہ پرانا بھی نہیں ہے لیکن بہت تیزی سے مقبول ہوگئی ہے ۔ ریان کے لئے چینل ریان کے گھر والوں نے 2015 میں بنایا تھا۔ چینل کے بنانے کے 4 ماہ بعد سبسکرائبرز کی تعداد تیزی سے بڑھنی شروع ہوئی اور آج یہ بچوں کا مقبول ترین چینل ہے۔  اس کہانی کا اہم پہلو یہ ہے کہ ریانی کی ماں ایک سکول ٹیچر تھی اور جب ریان کا چینل مقبولیت کی حدوں کو چھونے لگا اور ٹھیک ٹھاک کمانے لگا تو ریان کی ماں نے سکول کی ملازمت چھوڑ دی اور مستقل طور پر یوٹیوب چینل چلانے لگ گئی  اس چینل سے ریان اور اس کی والدہ لاکھوں ڈالر کمارہے ہیں۔ ریان کے چینل کی ایک ماہ کی آمدنی ایک ملین ڈالر ( 1 کروڑ ڈالر) ہے جو پاکستانی روپوں میں  10 کروڑ کے برابر ہے۔  ریان  کی ویڈیوز امریکہ سمیت دنیا بھر میں مقبول ہوئیں  18 ہفتوں میں ریان ٹائیز ریویو  امریکہ میں سب سے زیادہ مقبول اور دنیا بھر میں دوسرے نمبر پر ہے۔

ریان کی یوٹیوب چینل یہ ہے :   ریان ٹائیز ریویو  

13 جنوری، 2017

جاپان کی مالی معاونت سے چترال میں 3 سٹیل پل تعمیر کئے جائیں گے

جاپان کی مالی معاونت سے چترال میں 3 سٹیل پل تعمیر کئے جائیں گے


چترال( نمائندہ ) جاپان ایڈ کی مالی معاونت سے چترال کے مختلف علاقوں میں سٹیل کے 3 پل تعمیر کئے جائیں گے۔ یہ پل چترال کے علاقوں اورغوچ، گان سنگور کورینی اور نیشکو میں تعمیر کئے جارہے ہیں۔ جس کے لئے مالی معاونت جاپان کی حکومت کررہی ہے۔ ضلعی ناظم کے دفتر سے جاری بیان میں یہ بات بتائی گئی ہے۔

پشاور میں لڑکوں کی تصویروں کو فحش اور بہودہ تصاویروں میں تبدیل کرکے سوشل میڈیا پر دینے والے گروہ کا انکشاف: پورا پڑھیں

بشکریہ روزنامہ مشرق

پشاور: صوبائی دارالحکومت پشاور میں شریف گھرانوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان لڑکوں کی تصاویر کو فحش اور بیہودہ تصاویر میں تبدیل کرکے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے گروہ کا انکشاف ہواہے جبکہ یہ افراد سوشل میڈیا پر جعلی ناموں سے اکائونٹس کھول کر لوگوں کو فرینڈ ریکویسٹ بھجواتے ہیں اور پھر انکے خاندان والوں ماں ، بہنوں اور بیٹیوں کی عزتیں فیس بک پر اچھالتے ہیں۔

زیادہ تر خواتین اور لڑکیاں بدنامی کے ڈر سے خاموش ہوگئی ہیں متاثرہ خاندانوں نے ایف آئی اے کو باقاعدہ تحریری درخواست دیدی ہے جنہیں سائبر کرائمز سیل میں آج طلب کیاگیا ہے گڑھی سیدان اندرون ہشتنگری کے رہائشی نوجوانوں ارسلان خان ولد نوراسلام ،وقار اور آفتاب نے مشرق کوبتایاکہ گزشتہ تین ماہ سے جعلی نام کے ذریعے سوشل میڈیا پر اکائونٹ کھولا گیاہے جن کے نام وقتاًفوقتاً تبدیل کئے جاتے ہیں ابتداء میں جعلی آئی ڈی بناکر لوگوں کو فرینڈز ریکویسٹ بھیجتے تھے۔

جب علاقے کے متعدد نوجوان سوشل میڈیا پر مذکورہ آئی ڈی کیساتھ لنک ہوگئے تو انہی لوگوں کو گالیاں دینی شروع کردی اور بعدازاں بات علاقے کی خواتین اور لڑکیوں سے متعلق سوشل میڈیا پر نازیبا الفاظ تحریر کرتے اور علاقے کے لوگوں کی عزتیں اچھالتے تھے جس کے بعد انہی آئی ڈیز کے ذریعے علاقے کے شریف گھرانوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی تصاویر اٹھاکر اسکے ساتھ بیہودہ اور فحش تصاویر لگاکر اپ لوڈ کرنا شروع کردیا جس پر اکثر و بیشتر علاقے کے لوگوں کے مابین لڑائی جھگڑے بھی ہوتے رہے ہیں اس حوالے سے متعدد بار تھانہ ہشتنگری پولیس کو درخواستیں دیں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی اب یہ افراد لوگوں کے گھروں کو باقاعدہ خطوط ارسال کرنے لگے ہیں جس میں انکی خواتین ،ماں بہنوں اور بیٹیوں سے متعلق نازیبا الفاظ تحریر کئے ہوتے ہیں معاملہ روز بروز خراب ہوتا جارہاہے جس سے ابتک ایک درجن سے زائد نوجوان اور گھرانے متاثر ہوئے ہیں متاثرہ خاندانوں نے معاملہ ایف آئی اے پشاورسرکل کیساتھ اٹھاتے ہوئے گزشتہ روز باقاعدہ ایک تحریری درخواست سائبر کرائمز سیل کو دیدی ہے جس کے نتیجے میں ایف آئی اے پشاورسرکل نے تحقیقات شروع کرتے ہوئے متاثرہ افراد کوبیان ریکارڈ کرانے کیلئے آج بروز بدھ طلب کرلیاہے متاثرہ خاندانوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک ،آئی جی ناصر خان درانی اور ایف آئی اے حکام سے نوٹس لینے اورملوث افراد کی گرفتاری کامطالبہ کیاہے ۔

یہ خبر ڈیلی مشرق میں 11 جنوری 2017 کو شائع ہوئی ہے۔


لوری ٹنل کو ہفتے میں 2 دن کھولا جائے: ٹرنسپورٹ یونین اور سیاسی رہنماوں کا مطالبہ، بھرپور احتجاج کی دھمکی


چترال (نمائندہ ٹائمز آف چترال 13 جنوری 16) ہر سال کی طرح اس سال بھی بھاری برف باری کی وجہ سے لواری ٹاپ بند ہوگیا ہے۔ مسافر اور مال بردار گاڑیاں ٹنل یا ٹاپ کے دونوں جانب لمبی قطاروں میں کھڑی ہیں۔ اس امر کے باعث چترال کے مختلف سماجی اداروں کے رہنمائوں اور عوام کی جانب سے حکومت پر زور دیا جارہا ہے کہ حکومت لواری ٹنل کو ہفتے میں 2 دن کے لئے کھول دے بجائے ایک دن کے۔ تاکہ چترالیوں کا ملک کے دیگر حصوں سے رابطہ قائم رہ سکے۔ اور علاقے میں اشیاء خوردنوش کی قلت نہ پیدا ہو۔

فضائی سفر کا دارومدار بھی موسم پر ہے اور زمینی راستہ بند ہو تو مڈل کلاس اور غریب لوگ جہاز میں سفر بھی نہیں کرسکتے کیونکہ اس کا کرایہ ہی ایک غریب کے مہنے بھر کی تنخواہ سے زیادہ ہے۔

چترال میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سماجی اور سیاسی رہنما مولانا جمشید احمد جماعت اسلامی، سعید احمد مسلم لیگ ن ، محمد حکیم پیپلز پارٹی، عزیز رحمان جمیعت علماء ف ، حبیب حسین اور اخلاق احمد رہنما ٹرانسپورٹ یونین نے کہا کہ اگر آئندہ پیر تک نوٹیفیکیشن جاری نہ ہوا تو ضلع بھر میں حکومت مخالف احجاج کا آغاز کریں گے۔ انہوں نے وزیراعظم کے مشیر امیر مقام کو ہدف تنقید بنایا کہ انہوں نے اپنے کئے ہوئے وعدے پر عمل نہیں کیا جو انہوں پشاور میں چترال کمیونیٹی کے ایک اجتماع میں کیا تھا انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ لواری ٹنل کو ہفتے میں دو دن آمدرفت کے لئے کھول دیا جائے گا لیکن اس کا پاس نہ رکھ سکا۔

سماجی تنظمیوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت مطالبہ پورا نہ کیا تو وہ لواری ٹنل کی جانب مارچ کریں گے اور اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک کہ حکومت مطالبہ تسلیم کرکے ٹنل 2 دن کے لئے نہ کھول دے۔

مشہور اشاعتیں


تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget