18 دسمبر، 2018

پاکستان دنیا میں گدھوں کی تعداد کے حوالے سے تیسرا بڑا ملک بن گیا، لاہور میں گدھوں کی تعداد بڑھنا شروع ہوگئی

پاکستان دنیا میں گدھوں کی تعداد کے حوالے سے تیسرا بڑا ملک بن گیا، لاہور میں گدھوں کی تعداد بڑھنا شروع ہوگئی



لاہور(ویب ڈیسک) محکمہ لائیو اسٹاک پنجاب کے مطابق صوبائی دارالحکومت میں گدھوں کی تعداد روز بروز بڑھنا شروع ہو گئی ہے جس کے بعد صرف لاہور شہر میں گدھوں کی تعداد 41 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ پاکستان دنیا میں گدھوں کی تعداد کے حوالے سے تیسرا بڑا ملک بن گیا ہے۔

انسان اور گدھے کا ساتھ تو صدیوں پرانا ہے مگر لاہور میں گدھوں کا کاروبار اچانک چمک اٹھنے سے گدھے پالنے والے بھی خوش ہیں۔ اور حکومت نے گدھوں کی بہتر صحت کیلئے ڈونکی اسپتال قائم کر دیا جہاں نہ صرف بیمار گدھوں کا مفت علاج کیا جا رہا ہے بلکہ انہیں مختلف بیماریوں سے بچاؤ کی ادویات بھی دی جا رہی ہیں۔


گدھوں کے مالکان کا کہنا ہے کہ گدھا پال اسکیم منافع بخش ہے، 35 سے 55 ہزار روپے تک کا گدھا روزانہ 800 سے ایک ہزار روپے تک کماکے دیتا ہے۔  گدھا چار سال کی عمر میں کمانے لگتا ہے اور 12 سال تک مالک کیلئے روزگار کا ذریعہ بنا رہتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا میں گدھوں کی تعداد کے حوالے سے تیسرا بڑا ملک ہے جب کہ اس فہرست میں ایتھوپیا پہلے اور چین دوسرے نمبر پر موجود ہے۔



14 دسمبر، 2018

مکران کوسٹل ہائی وے پر بلاتعطل براڈ بینڈ کوریج کی فراہمی کے منصوبہ کا افتتاح، 75 کروڑ سے زائد کا منصوبہ ہے

مکران کوسٹل ہائی وے پر بلاتعطل براڈ بینڈ کوریج کی فراہمی کے منصوبہ کا افتتاح، 75 کروڑ سے زائد کا منصوبہ ہے



اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین محمد نوید نے اسلام آباد میں منگل کو 75 کروڑ 90 لاکھ روپے مالیت کے ' مکران کوسٹل ہائی وے: حب تا جیوانی پر بلاتعطل براڈ بینڈ کوریج 'پروجیکٹ کا افتتاح کیاہے۔ 

اس پروجیکٹ کے معاہدہ پر یوفون کے ساتھ یو ایس ایف کی جانب سے دستخط کئے گئے۔ یونیورسل سروس فنڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر رضوان مصطفی میر نے یوفون کے سی ای او راشد خان کے ساتھ معاہدے پر دستخط کئے۔ 

اس پروجیکٹ پر عمل درآمد کے لئے 18 ماہ کی کنٹریکٹ مدت میں 58نئے BTSٹاورز نصب کئے جائینگے۔ اس پروجیکٹ کو مزید آگے بڑھانے کے سلسلے میں مستقبل میں تمام بڑی موٹر ویز اور ہائی ویز میں بلاتعطل کنکٹویٹی کے ذریعے سہولت فراہم کی جائے گی۔ 

تقریب میں مہمان خصوصی پی ٹی اے کے چیئرمین محمد نوید نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل عزم اور جذبے کے ساتھ پی ٹی اے نے ایک اور سنگ میل عبور کرلیا ہے۔ پاکستان میں ٹیلی کام کے شعبہ میں یہ تقریب انتہائی شاندار اقدامات میں سے ایک نمایاں قدم ہے اور یہ ترقیاتی کام طویل عرصے تک موثر رہے گا۔ انہوں نے مزید کہاکہ ایسے پروجیکٹس کے ساتھ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے یو ایس ایف ملک بھر میں براڈ بینڈ کی رسائی کے مشن کی جانب گامزن رہے گا تاکہ دیہی علاقوں کے عوام بھی براڈ بینڈ سے مستفید ہوسکیں ۔ انہوں نے کہا کہ براڈ بینڈ انفراسٹرکچر کے اضافے کے ساتھ انہیں توقع ہے کہ یو ایس ایف پاکستان کے لوگوں میں ڈیجیٹل لائف اسٹائل اختیار کرنے کے لئے نئی ای سروسز اور ایم سروسز متعارف کرائے گا۔ 

یو ایس ایف کے سی ای او رضوان مصطفی میر نے اس پروجیکٹ کا تعارف بھی پیش کیا اور حاضرین کو آگاہ کیا کہ پائیدار ترقی کے لئے اگلی جنریشن کے براڈ بینڈ (NG-BSD) کے تحت یہ پہلا پروجیکٹ ہے جس میں جدید ایپس کی روانی سے آپریشنز کیلئے براڈ بینڈ کوریج پر توجہ دی جائے گی۔ مزید یہ کہ پاکستان میں یہ پہلا نیٹ ورک ہوگا جہاں پروجیکٹ حاصل کرنے والے ٹیلی کام آپریٹر کو دیگر موبائل صارفین کیلئے قومی سطح پر رومنگ فعال بنانے کی ضرورت ہوگی تاکہ دوسرے نیٹ ورک استعمال کرنے والے باقی افراد بھی مستفید ہوسکیں۔ 

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے یوفون کے پریذیڈنٹ سی ای او راشد خان نے کہا، "یونیورسل سروس فنڈ (یو ایس ایف) کے قیام کا مقصد ملک کے طول و عرض پر پھیلے ہوئے دور دراز علاقوں میں ٹیلی کمیونکیشن خدمات کے ترقیاتی کاموں کو فروغ دینا ہے۔ یوفون میں ہم بھی اسی سوچ کے ساتھ ہر پاکستانی کو بہتر ٹیلی کمیونکیشن خدمات کی فراہمی کے لئے پرعزم ہیں۔ اس پروجیکٹ کی خاص اہمیت ہے اور اس اقدام کے تحت براڈ بینڈ سروسز کے ذریعے اسے بلوچستان میں ایک اہم ہائی وے سے ملایا جائے گا۔" 

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس پروجیکٹ کے تحت بلاتعطل آواز اور براڈ بینڈ سروسز 694کلومیٹر طویل کوسٹل ہائی وے پر فراہم کی جائیں گی اور پاکستان میں پہلی بار نیشنل رومنگ کو قابل عمل بنایا جائیگا۔ 

اس موقع پر وزارت آئی ٹی کے سینئر حکام، یوفون، یو ایس ایف اور آئی ٹی و ٹیلی کام کمپنیوں کے نمائندے بھی موجودتھے۔ 



چترال کے بالائی علاقے ریری اوویر میں پانی کی شدید قلعت۔ کھڑی فصلیں تلف، پھلدار باغات خشک لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور۔ سکول کے نھنے پھولوں کا انوکھا احتجاج۔




چترال کے بالائی علاقے ریری اوویر میں پانی کی شدید قلعت۔ کھڑی فصلیں تلف، پھلدار باغات خشک لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور۔ سکول کے نھنے پھولوں کا انوکھا احتجاج۔

چترال(گل حماد فاروقی) چترا ل کے بالائی علاقے ریری اویر میں پانی کی شدید قلعت ہے جس کی وجہ سے کھڑی فصلیں اور پھلدار درختوں کے باغات خشک ہورہے ہیں۔ پانی کی عدم دستیابی سے لوگوں کی روزگار اور معیشت پر بھی برے اثرات پڑتے ہیں اس علاقے میں ار د گرد پہاڑوں پر برف باری ہوئی ہے اور زمین پر بھی بر ف کا سفید چادر اوڑھا ہوا ہے شدید سردی کے باوجود سکول کے چھوٹے بچوں نے اپنے جائز حق کیلئے شدید سردی کے باوجود پر امن مظاہرہ کیا۔ سکول کے بچوں نے پلے کارڈز اور بینرز ہاتھ میں اٹھا رکھے تھے جس پر نعرے درج تھے اور چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ان کی پانی کا مسئلہ حل کرے۔

سکول کے بچوں نے کہا کہ ہمارے والدین کا کوئی اور ذریعہ معاش نہیں ہے وہ کھیتی باڑی کرکے اور پھلوں کو خشک کرکے ان کو بیچتے تھے جس سے ہمارے تعلیمی اخراجات پورے کرتے مگر اب کئی سالوں سے پانی کے چشمے خشک ہوچکے ہیں تو ہمارے والدین کا ذریعہ معاش بھی بر ی طرح متاثر ہوا ہے اور ہمارے تعلیمی اخراجات پورے نہیں کرسکتے۔ہم چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار اور عمران خان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ محکمہ آبپاشی کے ذریعے ہمارے لئے پانی کا بندوبست کرے۔

ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے علاقے کے چند معززین نے بتایا کہ جب چیف جسٹس صاحب چترال کے دورے پر آئے تھے تو ہم نے ان کو بھی درخواست پیش کی تھی جس پر انہوں نے یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ متعلقہ حکام کو ہدایت دیکر پانی کا مسئلہ حل کرائے گا مگر اب معلوم ہوا ہے کہ محکمہ آبپاشی اس میں دلچسپی نہیں لے رہے ہیں۔ 

علاقے کے سماجی کارکنان سدار ولی شاہ، جہان خان، شیر اللہ، شہریار، سراج الرحمن، حافظ الرحمان ، حمایت اللہ وغیرہ نے بتایا کہ پہلے یہاں پانی کے چشمے تھے مگر اب وہ خشک ہوچکے ہیں اور پانی نیچے سے گزرتی ہے جبکہ یہاں دریا بھی بہتا ہے اور چند فاصلے پر پانی کے ذحائیر بھی موجود ہیں حکومت چاہے تو ان ذحائر سے بھی پائپ لائن کے ذریعے بھی پانی لایاجاسکتا ہے اور دریا سے شمسی توانائی یا بجلی کے موٹر کے ذریعے بھی پانی چڑھا کر ٹینکی میں جمع کیا جاسکتا ہے جہاں سے پائپ کے ذریعے پانی لاکر ہم اپنے زمینوں اور پھلدار درختوں کے باغات سیراب کرسکتے ہیں۔ 

ان کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں تین ہزار لوگ رہتے ہیں جن کی چالیس ہزار ایکڑ زمین پانی کی قلعت کی وجہ سے بنجر ہورہا ہے جس کی وجہ سے اس علاقے سے 85 گھرانوں نے نقل مکانی بھی کی ہے انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر صورت حال یہی رہی تو وہ بھی نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوں گے۔ 

متاثرین نے چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس میاں ثاقب نثار ، وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور صوبائی وزیر اعلےٰ محمود خان سے اپیل کی ہے کہ ان کی پانی کا مسئلہ جلد از جلد حل کرائے تاکہ ان کی ذرحیز زمین بنجر ہونے بچ جائے اور یہ لوگ فاقہ کشی کے شکار نہ ہو۔ 


پیپلز پارٹی کے سابق رہنما شوکت بسرا پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہو گئے ہیں

پیپلز پارٹی کے سابق رہنما شوکت بسرا پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہو گئے ہیں




اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق رہنما شوکت بسرا پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہو گئے۔  پاکستان پیپلز پارٹی نے شوکت بسرا کو جولائی میں ڈسپلن کی خلاف ورزی کے الزام میں پارٹی سے نکال دیا تھا۔ رواں سال عام انتخابات سے قبل پیپلز پارٹی کے رہنما ندیم افضل چن سمیت کئی رہنما تحریک انصاف میں شامل ہوئے تھے۔ ندیم افضل چن کے پارٹی چھوڑنے پر بلاول بھٹو زرداری نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ندیم افضل چن نظر آتے تھے، نظریاتی نہیں تھے۔

شوکت بسرا نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کے ہمراہ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کرکے پی ٹی آئی میں باقاعدہ شمولیت اختیار کی۔ اس موقع پر وزیراعظم نے شوکت بسرا کو تحریک انصاف میں خوش آمدید کہا اور ملکی سیاست میں ان کے کردار کو سراہا۔  شوکت بسرا پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے اپنی سیاسی خدمات جاری رکھیں گے۔

شوکت بسرا نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کا انتخاب پارٹی ٹکٹ یا کسی عہدے کے لیے نہیں کیا بلکہ وزیر اعظم عمران خان اور پی ٹی آئی کے وژن سے متاثر ہوکر شمولیت اختیار کی۔  تحریک انصاف کے منشور کو آگے بڑھانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کروں گا۔



12 دسمبر، 2018

کیلاش قبیلے کا سالانہ مذہبی تہوار چھومس کا آغاز۔ کیلاش کے تینوں وادیوں ، رمبور، بریر اور بمبوریت میں کیلاش قبیلے کے مرد، خواتین رقص کرکے خوشیاں منا رہے ہیں

کیلاش قبیلے کا سالانہ مذہبی تہوار چھومس کا آغاز۔ کیلاش کے تینوں وادیوں ، رمبور، بریر اور بمبوریت میں کیلاش قبیلے کے مرد، خواتین رقص کرکے خوشیاں منا رہے ہیں۔ لڑکے لڑکیاں ، بوڑھے جوان بچے سب گھر ، گھر جاکر مذہبی گیت گا تے ہوئے معمر خواتین گھر کے دروازے کو اخروٹ سے کٹکھٹا کر خیر و برکت کی عدائیں مانگ رہے ہیں۔ منچلوں نے خوب موج مستی کی۔




چترال (رپورٹ گل حماد فاروقی) رقص کرتے ہوئے مذہبی گیت گانے والے مرد اور عورتیں کیلاش قبیلے کے لوگ اپنا سالانہ مذہبی تہوار چھومس مناتے ہیں جسے چھتر مس بھی کیلاتا ہے۔ کیلاش قبیلے کے لوگ اپنا سالانہ مذہبی تہوار چھومس منارہے ہیں اس تہوار کے آغاز پرنوجوان پہاڑی کے چوٹی پر جاکر آگ جلاتے ہیں اُدھر کا آگ کا دھواں نکلا اِدھر نوجوان لڑکے لڑکیاں، مرد عورتیں بچے بوڑھے گیت گاتے ہوئے سب گھروں سے نکل کر جشن مناتے ہیں۔ وادی کے پہلے سرے سے اس جشن کا آغاز ہوتا ہے جس میں کیلاش قبیلے کے لوگ رقص کرتے ، گانا گاتے ہوئے گھر، گھر جاتے ہیں گھر کے اندر موج مستی مناتے ہیں کوئی تالیاں بجاتی ہیں تو گیت گاتے ہیں اور منچلے رقص پیش کرتی ہیں اس رقص، گیت اور خوشی منانے میں مرد اور عورتیں برابر کے شریک ہوتے ہیں۔ 

یہ سب جلوس کی شکل میں محتلف راستوں سے گزرتے ہیں اوروادی کے ہر کیلاش قبیلے کے گھروں میں جاتے ہیں۔ جلوس میں معمر خواتین اخروٹ کو ہاتھ میں لیکر دروازے کے چوکٹ پر کھڑی ہوکر اسے اخروٹ سے کھٹکٹاتی ہیں اور اپنی زبان میں مذہبی گیت گاتی ہے جس میں گھر والوں کیلئے خیرو عافیت اور برکت کی دعائیں شامل ہوتی ہیں۔ 

گھر کے مکین آنے والے اس جلو س کے انتظار میں صبح تک ساری رات جاگتے ہیں اور ان کی ضیافت کیلئے کھانا تیار کرتے ہیں بعض لوگ ان کی ضیافت مٹھائی ، خشک اور تازہ پھلوں سے بھی کراتی ہیں۔ رقص اور گیت کا یہ رنگین سماء صبح تک جاری رہتا ہے لڑکے ، لڑکیاں ، مرد عورتیں اکٹھے رقص کرتی ہیں اور تماشائی تالیاں بجا بجاکر ان کے گیت کو دہراتے ہیں۔ 

چھومس کا تہوار گزشتہ رات سے شروع ہے اور یہ اس ماہ کے 22 تاریح تک جاری رہے گا۔ اس تہوار کو دیکھنے کیلئے کثیر تعداد میں غیر ملکی سیاح بھی وادی کیلاش آئے ہوئے ہیں۔ 

فرانس سے آئے ہوئے سیاحوں کا ایک گروپ جس کی قیادت باربرہ کرتی ہے وہ کہتی ہے کہ وہ پچھلے پانچ سالوں سے اس جشن کو دیکھنے کیلاش آتی ہے۔ 

بلجیم سے آئی ہوئی ایک سیاح خاتون جو پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر ہے ان کا کہنا ہے کہ کیلاش کا محصوص ثقافت اور رسم و رواج دنیا بھر میں مشہور ہے اور پاکستان بہت خوبصورت ملک ہے۔

کیلاش قبیلے سے تعلق رکھنے والی عرب گل نامی لڑکی جس نے آرکیالوجی میں مسٹر کیا ہوا ہے وہ اس چھومس تہوار کے بارے میں تفصیلات بتارہی ہے۔ 





کیلاش قبیلے کے لوگ سال میں دو بڑے اور دو چھوٹے تہوار مناتے ہیں جس میں سردیوں کا تہوا ر چھومس کہلاتا ہے اس تہوار میں کیلاش قبیلے کے لوگ رات کے وقت گھر گھر جاکر گانا گاکر رقص کرت ہوئے خوشی کا اظہار کرتے ہیں اس کے تین دن بعد یہ لوگ مویشی خانے میں منتقل ہوتے ہیں اور تین دن کیلئے کسی مسلمان کو اس وادی میں جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔

رات کے وقت اونچے جگہہ پر آگ جلا کر اس کے ارد گر د مرد و خواتین اکٹھے رقص کرتے ہوئے گانا گاتے ہیں چھومس 22 دسمبر تک جاری رہے گا


10 دسمبر، 2018

چترال کے تاریحی قصبے دروش میں لاکھوں روپے لاگت سے بننے والی واٹر فلٹریشن پلانٹ بری طرح ناکام۔ منتحب کونسلرز کا تحقیقات کرنے کا مطالبہ۔

چترال کے تاریحی قصبے دروش میں لاکھوں روپے لاگت سے بننے والی واٹر فلٹریشن پلانٹ بری طرح ناکام۔ منتحب کونسلرز کا تحقیقات کرنے کا مطالبہ۔



چترال(گل حما د فاروقی) چترال کے تاریحی قصبے دروش میں پرانا بازار کے آس پاس مکینوں کو پینے کی صاف پانی فراہم کرنے کیلئے تحصیل میونسپل انتظامیہ TMA نے واٹر فلٹریشن پلانٹ لگایا تھا جو بری طرح ناکام ہوا۔ علاقے کا منتحب جنرل کونسلر گل نایاب نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ یہ پلانٹ سابق تحصیل ناظم سرتاج احمد خان کے دور میں لگایا گیا تھا مگر یہ بری طرح ناکام ہوا اس علاقے میں پینے کی پانی کی شدید قلعت ہے جبکہ پانی نہ ہونے کی وجہ سے لوگ گندا پانی پینے پر مجبو ر ہیں۔ گل نایاب کے مطابق اس پلانٹ کی دوبار ہ مرمت بھی کی گئی مگر پھر بھی ناکارہ ہے اس پر تقریباً 8ملین روپے کی لاگت آئی ہے جبکہ اس کی حالت یہ ہے کہ ویسے ناکارہ پڑی ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سلسلے میں تحقیقات کا حکم کرے تاکہ اتنی حطیر رقم کس نے ہڑپ کی ہے اس سے واپس لیکر اس پلانٹ کو دوبارہ قابل استعمال بنایا جائے۔ 

اس پلانٹ کی عمارت بھی نہایت حراب حالت میں ہے اور دیواروں میں جگہہ جگہہ سوراح بنے ہوئے ہیں جو کسی بھی وقت زمین بوس ہوسکتا ہے۔ جبکہ اس کی نلکیاں بھی ناقص لگائی گئی ہیں جو سب کے سب ٹوٹ چکے ہیں۔

سابق تحصیل ناظم سرتاج احمد خان نے ہمارے نمائندے کو فون پر بتایا کہ ان کی دور نظامت میں چترال بھر میں یہ پانچ فلٹریشن پلانٹ تھے جس کے لئے انہوں نے زمین مفت فراہم کی تھی اور شوکت عزیز جب وزیر اعظم تھے تو یہ وفاقی حکومت کی فنڈ سے یہ تعمیر ہوئے تھے تاہم ٹھیکدار نے اس میں بہت بڑے پیمانے پر غبن کیا تھا اسلئے وفاقی حکومت کی جانب سے ان کو ہدایت مل گئی کہ ان منصوبوں کو ٹھیکدار سے Take over نہ کرے یعنی اس کی چارج ٹھیکدار سے نہ لے اور نہ ان کو تکمیل کا سرٹیفیکیٹ دے مگر اس کے باوجود بھی ٹھیکدار کے حلاف کوئی قانونی کاروائی نہیں ہوئی انہوں نے مزید بتایا کہ اب TMA کو چاہئے کہ اس پر تھوڑا بہت خرچہ کرکے ان کو قابل استعمال بنائے یہ دروش، جغور، مستوج، چترال اور بونی میں لگائے گئے تھے جو اب سب کے سب ناکارہ پڑے ہیں۔ 

اس سلسلے میں تحصیل میونسپل انتظامیہ کی موقف جاننے کیلئے ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر متعلقہ افسر موجود نہیں تھے جبکہ اس عمارت کی ناقص تعمیر کے سلسلے میں محکمہ مواصلات یعنی سی اینڈ ڈبلیو کے ایکسیئن کی موقف جاننے کیلئے ا ن کے دفتر گئے مگر معلوم ہوا XEN زیادہ تر پشاور میں ہوتا ہے پچھلے ہفتے ایک دن کیلئے آئے تھے اس کے بعد پھر پشاور چلے گئے۔

عوام انصاف کے دعویدار حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ نہ صرف دروش بلکہ چترال بھر میں جتنے بھی واٹر فلٹریشن پلانٹ نصب کئے گئے تھے جو سب کے سب ناکام ہوکر بے کار پڑے ہیں اسکی مشنری بھی حراب ہورہی ہے اس سلسلے میں انکوائیری کرے تاکہ جن لوگوں نے سرکار کا پیسہ بے دردی سے ہڑپ کیا ہے ان سے واپس لیا جائے اور ان پلانٹ ز کو دوبارہ استعمال کا قابل بنایا جاسکے۔


سات دسمبر 2016 کو پی آئی اے حادثے میں شہید ہونے والوں کی دوسری برسی منائی گئی۔ اس سلسلے میں تقریب کا بھی انعقاد ہوا۔

سات دسمبر 2016 کو پی آئی اے حادثے میں شہید ہونے والوں کی دوسری برسی منائی گئی۔ اس سلسلے میں تقریب کا بھی انعقاد ہوا۔



چترال(گل حماد فاروقی) سات دسمبر 2016 کو قومی ائیر لائن (PIA) کی فلائٹ پی کے 661 جو حویلیاں میں حادثے کا شکار ہوا تھا اس میں 43 افراد جان بحق ہوئے تھے جن میں 20 کا تعلق چترال سے تھا۔ ان شہداء کی یاد میں گورنمنٹ سینٹینل ماڈل ہائی سکول چترال میں قرآن خوانی بھی کی گئی اور بعد میں شہید اسامہ وڑائچ کیرئیر اکیڈیمی میں ایک تعزیتی تقریب بھی منعقد ہوئی جس میں ڈپٹی کمشنر چترال مہمان حصوصی تھے جبکہ تقریب کی صدارت گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج کی پرنسپل کررہی تھی۔ اسی پرواز میں بین الاقوامی شہرت کے حامل نعت خوان اور مبلغ جنید جمشید اور ان کی اہلیہ بھی سفر کررہی تھی جو حادثے کے شکار ہوگئے۔ 

جنید جمشید کی پہلی اہلیہ نے ٹیلیفون پر اپنا پیغام سنایا اور لوگوں پر زور دیا کہ جنید جمشید نے اپنی زندگی اللہ کے راستے میں تبلیغ کیلئے وقف کی تھی اور زندگی کا مقصد بھی اللہ کو راضی کرنا ہے۔انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ بھی اللہ کو خوش رکھنے کی کوشش کرے کیونکہ موت کا کوئی وقت معلوم نہیں ہے۔ 

سلمان زین العابدین کے بھائی نے ابھی اظہار حیال کرتے ہوئے کہا کہ سلمان ایک اعلےٰ تعلیم یافتہ تھے اور میری والدہ نے اس سے پہلے بھی ایک جوان بیٹے بچھڑنے کا غم دیکھا تھا جو بم دھماکے میں جاں بحق ہوا تھا۔ 

چترال کے سابق ڈپٹی کمشنر اسامہ احمد وڑائچ جو اپنی چھوٹی بیٹی اور بیوی کے ساتھ اسی جہاز میں شہید ہوئے تھے اس کے والد محترم نے بھی فو ن پر اپنا پیغام سنایا۔ ڈپٹی کمشنر نے شرکاء سے اظہار حیا ل کرتے ہوئے کہا کہ وہ چترال میں دو افراد سے متاثر ہوا ہے جواب اس دنیا میں نہیں ہیں ایک اسامہ وڑائچ اور دوسرا خالد بن ولی جن کے نماز جنازہ میں ہزاروں لوگو ں نے شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے ان دونوں نے عوام کی خدمت کی تھی اور لوگوں کو اپنے اچھے اخلاق سے متاثر کیا تھا۔ہمیں بھی چاہئے کہ لوگوں کی چھوٹی چھوٹی مسائل حل کرکے ان کی دعائیں لے۔ تقریب میں کثیر تعداد میں طلبا ء طالبات نے بھی شرکت کی ۔آحر میں سات دسمبر کو پی آئی اے کے حادثے میں مرحومین کی روح کی ایصال ثواب کیلئے فاتحہ حوانی بھی کی گئی۔ 


6 دسمبر، 2018

غیر قانونی ٹرانسپورٹ اڈے بند، اسسٹنٹ کمشنر دروش عبد الولی خان کی نگرانی میں دروش میں گاڑیوں کا اڈہ سیل (سر بمہر) کردیا گیا

غیر قانونی ٹرانسپورٹ اڈے بند، اسسٹنٹ کمشنر دروش عبد الولی خان کی نگرانی میں دروش میں گاڑیوں کا اڈہ سیل (سر بمہر) کردیا گیا



چترال(گل حماد فاروقی) چترال سے 45 کلومیٹر دور تاریحی قصبے دروش کے بازار کے وسط میں ایک غیر قانونی اڈہ کو بند کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر دروش عبد الولی خان اپنے عملے کے ہمراہ دروش بازار میں گاڑیوں کے اڈہ گئے جہاں سے فلائنگ کوچ، غواگئی، فیلڈر، رافور وغیرہ گاڑیاں دیر، چترال کیلئے نکلتی ہیں۔ اے سی دروش نے اڈہ کے منشی سے کہا کہ تحصیل میونسپل انتظامیہ نے کروڑوں روپے کی لاگت سے سرکاری اڈا بنایا ہے جہاں ہر قسم کی سہولت موجو د ہے تو پھر ان غیر قانونی اڈوں کی کیا تھوک بنتی ہے۔انہوں نے اڈا منشی کو ہدایت کی کہ وہ ابھی اور اسی وقت تمام گاڑیوں کو یہاں سے نکال کر سرکاری اڈے میں لے جائے مگر منشی نے کہا کہ گاڑیوں کے ڈرائیور موجود نہیں ہیں اور چابی بھی ان کے پا س نہیں ہے۔ تاہم اے سی دروش نے اڈہ کے دفتر کو تھالہ لگاکر اسے سربمہر یعنی سِیل کردی اور حکم دیا کہ آئند ہ یہا ں سے کوئی گاڑی نہ نکلے۔ 

ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے عبد الولی خان نے بتایا کہ سرکار نے پہلے سے ٹرانسپورٹ اڈہ بنایا ہے اور یہ اڈہ بازار کے وسط میں ہے جہاں سے گاڑی نکلتے وقت اور داحل ہوتے وقت ٹریفک کو جام کرنے کا باعث بنتا ہے اور راہگیروں کو بھی تکلیف ہے اسلئے اسے بند کردیا گیا اور اسے بازار سے باہر سرکاری اڈہ منتقل کیا جارہا ہے



5 دسمبر، 2018

میں جیو اور جنگ چھوڑ دوں گا اگر انہوں نے میرے کالم اور میرے پروگرام میں….. حسن نثار نے بڑا اعلان کردیا

میں جیو اور جنگ چھوڑ دوں گا اگر انہوں نے میرے کالم اور میرے پروگرام میں….. حسن نثار نے بڑا اعلان کردیا

یہ ادارہ تو یہ ملک اور تم ہو اس میں۔ یہ تم نے خلائی مخلوق خلائی مخلوق لگا رکھا ہے: اگر میرا  پروگرام سینسر ہوا تو میں ادارہ چھوڑ دوں گا اور میرے کالم میں ایکل لفظ بھی کم کردیا گیا تو ادارہ چھوڑ دوں گا: حسن نثار کا تبصرہ ملاحظہ فرمائیں



4 دسمبر، 2018

چترال میں خصوصی افراد کا عالمی دن منایا گیا۔ معزور افراد کیلئے کمپلکس کی تعمیر کا مطالبہ۔

چترال میں خصوصی افراد کا عالمی دن منایا گیا۔ معزور افراد کیلئے کمپلکس کی تعمیر کا مطالبہ۔ 



چترال (گل حماد فاروقی) ملک کے دیگر حصوں کی طرح چترال میں بھی حصوصی افراد کا عالمی دن منایا گیا۔ اس سلسلے میں ڈسٹرکٹ کونسل ہال میں ایک تقریب بھی منعقد ہوئی جس میں ڈپٹی کمشنر چترال 

خورشید عالم محسود مہمان حصوصی تھی جبکہ تقریب کی صدارت ضلع ناظم مغفرت شاہ کر رہے تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ضلعی خطیب مولانا فضل مولا نے کہا کہ اسلام میں معزورافراد کے ساتھ حصوصی مہربانی او ر نرم برتاؤ کی تاکید کی گئی ہے انہوں نے حلفائے راشدین کا مثال دیتے ہوئے کہ امیر المؤ منین ایسے معزور افرا د کی خود خدمت کیا کرتے تھے۔ 

ڈسٹرکٹ سوشیل ویلفئیر آفیسر مسز نصرت جبین نے کہا کہ وہ ایسے معذور افراد کا ڈیٹا اکٹھا کررہی ہے اور اب تک تین ہزار معزوروں کا بایو ڈیٹا اکٹھا ہوچکا ہے جن کی باقاعدہ رجسٹریشن ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے محکمے میں ان معذور لوگوں کیلئے کوئی فنڈ نہیں دیا گیا ہے ۔

معزور افراد کے لئے کام کرنے والے ایک غیر سرکار ی تنظیم کے صدر ثناء اللہ نے کہا کہ معزوروں کے چار اقسام ہیں مگر بدقسمتی سے چترال میں صرف ایک ہی سکول ہے جس میں ان سب نوعیت کے معزوروں کو پڑھایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں خود بھی ایک معذور شحص ہوں جب ہم کسی دفتر میں افسر کے پاس جاتے ہیں تو وہاں ہمارا ویل چئیر نہیں جاسکتی اور اکثر دفاتر دوسرے منزل پر ہونے کی وجہ سے وہ وہاں چڑھ بھی نہیں سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان سے گاڑی والے ان کے ویل چئیر کے بھی کرایہ مانگتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کہ چترال میں پانچ ہزار معزور لوگوں کیلئے ایک کمپلکس تعمیر کیا جائے جہاں وہ نہ صرف ہنر یا کوئی فن سیکھے بلکہ ان کیلئے کھیل کود بھی سامان ہو اور وہ بھی صحت مند لوگوں کی طرح زندگی کے مزے لے سکے۔

ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ وہ تمام محکموں کے سربراہان کو ایک خط جاری کریں گے کہ جب بھی ان کے دفتر میں کوئی معزور شحص آئے تو و ہ خود اپنی کرسی سے اٹھ کر ان کے پاس آئے جہاں ان کی ویل چئیر نہیں جاسکتی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سرکاری ملازمتوں میں ان کی دو فی صد کوٹہ یقینی بنایا جائے اور ان کو ان محصوص نشستوں پر ملازمت دلوائی جائے۔ 

ضلع ناظم نے اعلان کیا کہ وہ ان کیلئے ایک ٹورنمنٹ کا بھی انتظام کرے گا اور اس کیلئے پانچ لاکھ روپے کا فنڈ بھی دے گا۔ 

دروش کالدام سے آنے والے وقار احمد نے بتایا کہ دروش اور دیگر علاقوں میں معزوروں کیلئے کوئی سکول بھی نہیں ہے صرف چترال ٹاؤن میں ایک سکول ہے جو ناکافی ہے ہر علاقے میں ان حصوصی افراد کیلئے ایک سکول کا بندوبست کیا جائے۔ 

فضل نادر اور شفیق افضل بھی دونوں پیدائیشی طور پر معزور ہیں جو اس پروگرام میں شرکت کیلئے آئے تھے انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ تقریب اپنی مدد آپ کے تحت منعقد کیا ہے اس کیلئے ہمارے ساتھ کسی نے مدد نہیں کیا ہے اعلانات تو سب بڑے بڑے کرتے ہیں مگر عملی طور پر ہم معزوروں کیلئے کوئی بھی کچھ نہیں کرتا۔

حصوصی افراد میں بہترین کارکردگی کے حامل کو انعامات بھی دئے گئے۔ آحر میں حصوصی افراد کا عالمی دن منانے کے نسبت سے کیک بھی کاٹاگیا۔ اس تقریب میں کثیر تعداد میں معزور لوگوں نے شرکت کی جو اپنے وسائل پر دور دراز علاقو ں سے یہاں آئے تھے۔ 


3 دسمبر، 2018

آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی جانب سے چترال میں دانشورانہ حقوق کے موضوع پر ایک روزہ آگاہی ورکشاپ کا اہتمام۔ آگاہی پروگرام میں سوال و جواب کا نشست بھی ہوا۔


آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی جانب سے چترال میں دانشورانہ حقوق کے موضوع پر ایک روزہ آگاہی ورکشاپ کا اہتمام۔ آگاہی پروگرام میں سوال و جواب کا نشست بھی ہوا۔



چترال (گل حماد فاروقی) آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے ماہرین کی جانب سے چترال کے ایک مقامی ہوٹل میں دانشورانہ حقوق Intellectual Property Rights کے موضوع پر ایک روزہ آگاہی نشست کا اہتمام ہوا جس میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے ماہرین نے اپنے کتابوں کے بہترین معیار پر مفصل بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا پریس اعلے ٰ معیار کی کتب چھاپ رہے ہیں مگر بعض نا عاقبت اندیش لوگ ان کی نقل کر رہے ہیں اور جعل سازی سے ان کے طرز پر کتابیں چھاپتے ہیں جو غلط ہے۔ انہوں نے جعل سازی کے مطابق آگاہ کیا کہ جعل سازی کے ذریعے ایک رجسٹرڈ فرم کو کتنا نقصان پہنچتا ہے۔ 

ماہرین نے کہا کہ جعلی پریس میں چاپ شدہ کتابیں صحت پر منفی اثرات ڈالتے ہیں۔ دانشورانہ حقوق پر فیاض راجہ ڈائیریکٹرآکسفورڈ یونیورسٹی پریس، اسسٹنٹ کمشنر عالمگیر خان، ملک بلال حیدر منیجر اور دیگر نے اظہار حیال کیا۔ مقامی صحافی (گل حماد فاروقی) نے سوال کیا کہ آکسفورڈ یونیورسٹی کی کتب بہت مہنگی ہیں انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی انگلش ٹو انگلش ڈکشنری ہزاروں روپے میں بکتی ہے جبکہ وہی ڈکشنری پڑوسی ملک ہندوستا ن میں نصف قیمت پر ملتی ہے ایران ایک چھوتائی نرح پر بیچتا ہے جبکہ بیروت اور دیگر ممالک سے بھی بہت سستی ملتی ہے ۔ اسی طرح آکسفورڈ یونیورسٹی پریس پریس کی کتابیں ایک کلاس کی دو ہزار روپے میں ملتی ہے جبکہ آفاق اور دیگر پبلشروں کی کتابیں ایک ہزار میں ملتی ہے کم از کم سکول کی سطح پر ان کتابوں کی قیمت تو کم رکھنا چاہئے تھا تاکہ غریب بچے بھی اس سے استفادہ حاصل کرسکے 

جس پر ماہرین نے جواب دیا کہ چونکہ ہندوستان میں ڈالر کی قیمت بہت کم ہے اور پاکستان میں زیادہ اسلئے وہا ں سستی ہے اور پاکستان میں مہنگی ہے۔ 

ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی نے سوال پوچھا کہ بازار میں جب کتب فروش کے دکان پر نقل شدہ کتابیں برآمد ہوتی ہے تو صرف اسے سزا ہوتی ہے جبکہ مڈ ل مین کو کوئی سزا نہیں ہوتا کہ کتاب کہاں سے ملا ہے اور کس نے چاپا ہے۔ 

نابیگ کیلاش ایڈوکیٹ نے کہا کہ ان کی فیملی اور بچوں کا ذاتی تصویر آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے سکول کی کتاب میں چھپ چکا ہے جس کا اس سے اجازت نہیں لی گئی ہے اور یہ میرا کاپی رایٹ ہے۔ اس دانشورانہ حقوق سے متعلق آگاہی پروگرام میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی جن میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی کتابوں کی فہرست پر مبنی کتب بھی لوگو ں میں تقسیم کیے۔ 








1 دسمبر، 2018

بالائی چترال کو اپر چترال کے ضلع کا درجہ دیا گیا۔ عوام میں خوشی کی لہر۔

بالائی چترال کو اپر چترال کے ضلع کا درجہ دیا گیا۔ عوام میں خوشی کی لہر۔

چترال (گل حماد فاروقی) خیبر پحتونخواہ کے سب سے بڑے ضلعے چترال کو دو ضلعوں میں تقیسم کیا گیا۔ ضلع اپر چترا ل کے نوٹیفیکیشن جاری ہونے پر پاکستان تحریک انصاف اور بالائی چترال کے عوام میں خوشی کا لہر دوڑ گیا۔ اس سلسلے میں پورے ضلع میں جشن کا سماء ہے چھوٹے بڑے سب اس فیصلے پر خوشی کا اظہار کررہے ہیں۔ 



اس سلسلے میں پاکستان تحریک انصاف کے ضلعی جنرل سیکرٹری اور سابق امیدوار برائے صوبائی اسمبلی اسرا ر الدین صبو ر نے جب نوٹیفیکیشن حاصل کرکے چترا ل آیا جن کے ہمراہ سابق تحصیل ناظم سرتاج احمد خان ، سابق تحصیل ناظم مستوج شہزادہ سکندر الملک، سیکرٹری ریٹائریڈ رحمت غازی وغیرہ بھی موجود تھے۔ دروش کے سینکڑوں کارکنوں اور عوام نے گاڑیوں کے بڑے قافلے کی شکل میں عشریت کے مقام پر جاکر ان کا استقبال کیا جہاں ایک محتصر تقریب بھی منعقد ہوئی۔

یہ قافلہ آگے بڑھتا گیا اور دروش کے مین چوک میں ایک بار پھر جلسے کی شکل احتیار کرلی۔اس قافلے پر راستے میں کھڑے ہوئے لوگ پھول اور مٹھایاں نچاور کرتے رہے۔ قافلے میں صوبائی اسمبلی سے محصوص نشست پر مقرر شدہ رکن وزیر زادہ کیلاش بھی قیادت کر رہے تھے۔ خوشی کا پیغام لیکر یہ قافلہ اپنے منزل مقصود کی طرف اپر چترال کے ہیڈ کوارٹرز بونی رواں دواں تھا کہ راستے میں بچوں، بڑوں نے ان کا استقبال کرتے ہوئے ا ن پر پھول برساتے رہے اور مٹھائی تقسیم کرتے رہے۔ بونی میں بہت بڑے جلسے کی اہتمام کی گئی جس سے محتلف سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ہم سیاست سے بالاتر ہوکر پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی اور مرکزی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے عوام کا ایک دیرینہ مطالبہ پورا کرتے ہوئے بالائی چترال کو الگ ضلعے کا درجہ دیا۔ جلسہ میں رحمت غازی نے صوبائی حکومت کا نوٹیفیکیشن باقاعدہ طور پر دکھایا۔ 

ہمارے نمائند سے باتیں کرتے ہوئے شہزادہ سکندر نے کہا کہ عمران اور سابق وزیر اعلےٰ پرویز خٹک نے اپنا وعدہ پورا کیا اور چترال کے بالائی علاقے کو ضلعے کا درجہ دیا۔ 

رات کو یوتھیوں نے ثقافی شو کا بھی اہتمام کیا جس میں چھوٹے بڑوں نے یکساں طور پر روایتی رقص پیش کرتے ہوئے اپنی خوشی کا اظہار کیا۔بالائی چترال کے عوام نے اس فیصلے کو ان کی ترقی کا پہلا زینہ قراردیا کہ اب ان کو معمولی کاموں کیلئے بروغل سے بارہ گھنٹے سفر طے کرکے چترال جانا نہیں پڑے گا بلکہ ان کا کام اب بونی یا مستوج میں پورا ہوگا۔ رحمت غازی نے کہا کہ اس علاقے میں نہایت قیمتی معدنیات ہیں، وافر مقدار میں پانی ہے جس سے پن بجلی گھر بن سکتے ہیں اور اس فیصلے سے نئی نوکریاں ملے گی لوگوں کو روزگار میسر ہوگی اور یہاں سے غربت کا حاتمہ ہوگا۔ 















30 نومبر، 2018

گولین گول پاور کمیٹی کے چیئرمین کی کوششوں سے کوغزی اور گولین متاثرین کے مطالبات منظور

گولین گول پاور کمیٹی کے چیئرمین  کی کوششوں سے کوغزی اور گولین متاثرین کے مطالبات منظور، پراجیکٹ ڈائریکٹر جاوید آفریدی کا چئیرمن گولین گول پاور کمیٹی شریف حسین کو پراجیکٹ شروع کرانے کے حوالے سے خط ارسال



چترال، کوغزی (ایم۔فاروق ) گولین گول پاور پراجیکٹ کے متاثرین کےلئے جو کہ اس پراجیکٹ کے آغاز سے ابتک اپنے مطالبات کے حق میں آواز اٹھاتے رہے اور "کوغزی پوسٹ" ٹیم بھی ان کی آواز بنی رہی، بار بار خبر شائع کی گئی اور وقت کے ساتھ ساتھ گولین گول پاؤر کمیٹی بھی متحرک رہی ۔ کئی بار جلسے جلوس کئے گئے لیکن کسی کا بھی  ٹس سے مس نہیں ہورہا تھا ۔کچھ روز قبل واپڈا گیٹ کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرہ بھی ہوا تھا جس میں متعلقہ محکمہ کو CBM کی ادائیگی کیلئے ڈیڈ لائن دی گئی تھی۔ 

آخر کار ان متاثرین کی محنت رنگ لے آئی۔ گزشتہ روز ممبر صوبائی اسمبلی چترال مولانا ہدایت الرحمان نے گولین گول پراجیکٹ ڈائریکٹر محمد جاوید افریدی سے ملاقات کی تھی جس میں گولین گول پراجیکٹ کی متاثرہ عوام کی بنیادی مطالبات(مقامی لوگوں کی ملازمتیں، بجلی کی رائیلٹی، فنڈ  کی منظوری اور دیگر مسائل ) سمیت خصوصی طور پر سی۔بی۔ایم (  CONFIDENT BUILDERING MEASURE) فنڈ کے حوالے سے تفصیلی بات چیت ہوئی۔ جس کے بعد ایم۔پی۔اے مولانا ہدایت الرحمان نے گولین گول پاور کمیٹی کے چیئرمین شریف حسین سے بھی انکے دولت خانے پر ملاقات کی اور مندرجہ بالا مسائل پر گفتگو ہوئی ۔ 

واضح رہے کہ اس کامیاب میٹنگ کے بعد پراجیکٹ ڈائریکٹر جاوید آفریدی نے واپڈا کے افسران بالا کی مشاورت سے گولین گول پاور کمیٹی کے چیئرمین شریف حسین کو خط ارسال کیا جس میں انھوں نے لکھا ہے کہ تمام پراجیکٹ کا تخمینہ تیار کیا گیا اور اور عنقریب اس پر غور کرکے حتمی شکل دی جائے گی۔


ایم۔پی۔اے چترال مولانا ہدایت الرحمان کا یو۔سی کوہ کا دورہ، گولین گول پراجیکٹ ڈائریکٹر جاوید افریدی سے ملاقات ،اہم امور پر بات چیت اور کوغزی میں شریف حسین کے دولت خانے پر عوام کیساتھ نشست

ایم۔پی۔اے چترال مولانا ہدایت الرحمان کا یو۔سی کوہ کا دورہ، گولین گول پراجیکٹ ڈائریکٹر جاوید افریدی سے ملاقات ،اہم امور پر بات چیت اور کوغزی میں شریف حسین کے دولت خانے پر عوام کیساتھ نشست



چترال، کوغزی ( ایم۔فاروق )  تفصیلات کیمطابق جمعرات کے سہ پہر ممبر صوبائی اسمبلی چترال مولانا ہدایت الرحمان کوغزی کا مختصر دورہ کیا ۔ اس دوران ان کے ہمراہ پارٹی کے ارکان بھی موجود تھے۔ وہ آج یو۔سی کوہ کے دورے پر تھے ۔اس دوران واپڈا آفس کوغزی میں گولین گول ہائیڈرو پاور کے پراجیکٹ ڈائریکٹر جاوید آفریدی اور واپڈا آفیشل سٹاف کے ساتھ بھی ملاقات کی ۔ اس ملاقات میں گولین گول پراجیکٹ کی عوام کی بنیادی مطالبات(مقامی لوگوں کی ملازمتیں، بجلی کی رائیلٹی، فنڈ کی منظوری اور دیگر مسائل ) کے حوالے سے اظہار خیال کیا گیا۔

بعد ازاں ایم۔پی۔اے مولانا ہدایت الرحمان نے گولین ویلی ، مروئی ،موری لشٹ اور برنس سمیت یوسی کوہ کے دیگر دیہات کی عوام سے ملاقات کے بعد واپسی پر کوغزی میں پاکستان پیپلز پارٹی ضلع چترال کے سینئر وائس پریزیڈنٹ جناب شریف حسین کے دولت خانے پر کوغزی کے لوگوں سے ملاقات کی ۔ 

کوغزی کی عوام نے اپنے مہمان کا پر رونق استقبال کیا اور شریف حسین صاحب کے دولت خانے پر ایک مختصر نشست ہوئی ۔ اس اجلاس کا آغاز باقاعدہ طور پر تلاوت قرآن پاک سے ہوا جسکی مہتمم جامعہ تعلیم القرآن کوغزی قاری بشیر احمد نے حاصل کرلی۔ بعد ازاں چئیرمن گولین گول پاور کمیٹی کوغزی شریف حسین نے اپنے مہمان کا خصوصی طور شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کوغزی میں تعمیر شدہ گولین گول پراجیکٹ سے علاقے میں ترقی تو ہوئی لیکن متاثرین اپنے حقوق کےلئے ابھی تک در بدر ٹھوکریں کھا رہے ہیں ،انکے بنیادی مطالبات منظور نہیں ہوئے جن میں لائن بچھاتے کے دوران درختوں کی بے دریغ کٹائی کے جائز معاوضے، مشیلیک کی زمینات مکمل ادائیگی ، واٹر چینلز کی بحالی ، رائیلٹی بنیاد پر بجلی کی فراہمی اور CBM کے تحت منظور شدہ تین کروڑ رقم شامل ہیں جو کہ ابھی تک کوغزی کے متاثرین کو ادا نہیں کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ ایم۔پی۔اے مولانا ہدایت الرحمان نے کہا کہ واپڈا میں دوسرے اضلاع کے لوگوں کو ملازمت دینے کے حوالے سے من گھڑت باتوں کی یقین دہانی کے لیے تمام ریکارڈ چیک کرلیا جس میں کچھ روز قبل چترال کے دوسرے علاقوں کے دو افراد کو بھرتی کیا گیا ہے باقی سٹاف کو سزا کے طور پر دیگر اضلاع سے کوغزی تبادلہ ہوا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ CBM فنڈ(3 کروڑ) کے حوالے سے پی۔ڈی جاوید آفریدی کے بقول کوغزی کی عوام کی نا اتفاقی کی وجہ سے یہ فنڈ تاخیر کا شکار ہے جبکہ گولین کی عوام کو عنقریب ادا کی جائے گی ۔ تاہم حتمی طور پر یہ فیصلہ طے ہوا کہ پاور کمیٹی کی میٹنگ کے بعد ایم۔پی۔اے چترال مولانا ہدایت الرحمان پراجیکٹ ڈائریکٹر سے ملاقات کرکے یہ فنڈ اور دیگر مسائل حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گا جس پر شرکاء نے ان کا شکریہ ادا کیا۔



28 نومبر، 2018

چترال میں موسم سرما کی آتے ہی لوگ گرم لباس خریدنا شروع کرتے ہیں جسے نہ صرف خود بڑے شوق سے پہنتے ہیں بلکہ دوست احباب کو بھی تحفے میں پیش کرتے ہیں۔

چترال (گل حماد فاروقی) چترال میں موسم سرما کے آتے ہی لوگ چترالی سوغات خریدنا شروع کرتے ہیں جس میں زیادہ تر اون سے ہاتھ کے بنے ہوئے کپڑے بہت پسند کئے جاتے ہیں جو نہ صرف خریداروں کو سردی سے بچاتے ہیں بلکہ آرائش او ر زینت کیلئے بھی بطور فیشن پہنے جاتے ہیں۔ 



لاہور سے آئے ہوئے ایک گروپ بھی چترال کے شاہی بازار میں 52 سال سے موجود چترال پٹی سٹور میں موجود تھے جو یہاں سے چترال کے گرم پوشاک خرید رہے تھے ۔ ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے ذوار علی نے بتایا کہ لاہور میں ان کے خاندا ن میں شادی ہونے والی ہے اس نے یہاں سے چترالی واسکٹ اور شال خریدا جسے وہ شادی کے موقع پر پہنے گا۔ 

اسی سٹور میں فرانس سے آئی ہوئی ایک سیاح خاتون بھی موجود تھی جو اپنے لئے کوئی گرم لباس اور گرم چترالی ٹوپی خریدنا چاہتی تھی۔Isabelle جو ایک سیاح ہے وہ بھی چترال پٹی سٹور میں گرم پوشاک خریدنا چاہتی تھی اس نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ وہ مجھے چترال کی روایات اور روایاتی لباس بہت پسند آیا جو نہ صرف سردی سے بچاتی ہے بلکہ خوبصورت بھی لگتی ہے اس نے حاجی ظاہر خان کا شکریہ ادا کیا جو چترال پٹی سٹور کے مالک ہے اور انہوں نے اس سیاح خاتون سے چترالی پکول یعنی گرم ٹوپی کا کوئی قیمت نہیں لیا بلکہ اسے یہ کہہ کر تحفے میں پیش کی کہ وہ ہمارے ملک میں مہمان ہے۔

یہاں چترالی پٹی سے بنی ہوئی چترالی ٹوپی، واسکٹ، کوٹ، چوغہ، شال وغیرہ موجود ہیں جو محتلف انواع اور اقسام میں پائے جاتے ہیں۔ ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے حاجی محمد ظاہر خان نے بتایا کہ وہ پچھلے 52 سالوں سے یہ کاروبار کررہے ہیں مگر انہوں نے کبھی بھی کوالٹی یعنی معیا ر پر سمجھوتہ نہیں کیا اور یہی وجہ ہے کہ اتنے طویل عرصے میں لوگوں کا اعتماد آج بھی برقرار ہے ا ور آج تک ہمارے کسی مصنوعات یاکسی آیٹم میں کوئی نقص نہیں آیا اور نہ کسی گاہک نے ہمیں کوئی شکایت کی ہے نہ کوئی چیز واپس کی ہے۔ حاجی ظاہر خان کا کہنا ہے کہ اس کاروبار سے لاکھوں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ چترال کی یہ مشہور مصنوعات جو گرم کپڑے یعنی چترالی پٹی سے بنتی ہے اس کیلئے پہلے لوگ بھیڑ بکریاں پالتے ہیں ان کا اون کاٹتے ہیں اس اون کو چرحے کے ذیعے کانت کر اس سے دھاگہ بنائی جاتی ہے اس دھاگہ بنانے میں دس ہزار گھرانے مشعول ہوتے ہیں اور ان خواتین کو گھر بیٹھے باعزت روزگارکے طور پر رزق حلا ل ملتی ہے۔ اس دھاگے سے پھر روایتی کھڈیوں کے ذریعے چترالی پٹی یعنی کپڑا بنتی ہے اسے پھر ایک گرم چشمہ کے مقام پر اس مقام پر لے جاتے ہیں جہاں زمین سے قدرتی طور پر گرم پانی چشموں سے نکلتی ہیں اس گرام پانی میں جو ایک حاص درجہ حرارت میں پائی جاتی ہے اس میں اس پٹی کو دھویا جاتا ہے جسے بغیر نچوڑ کئے ہوئے دھوپ میں سکایا جاتا ہے ۔ اس چترالی پٹی کو محتلف رنگ بھی دیا جاتا ہے جس میں اخروٹ کے چھلکے کا رنگ بہت مشہور ہے جو کیمل کلر کا ہوتا ہے اس کے بعد اس پٹی کو بازار لے جاکر درزی حضرات اس سے محتلف چیزیں بناتی ہیں جن میں چترالی ٹوپی، واسکٹ، کوٹ، چوغہ وغیرہ مشہور ہیں 

جاوید حسین بھی یہاں موجود تھا جس نے ایک چوغہ پسند کیا اور اپنے ایک عزیز کو بھی ایک چوغہ تحفے میں دینا چاہتا ہے۔ 

اگر حکومتی ادارے اس صنعت کو فروغ دینے کیلئے ان مرد اور خواتین کاریگروں کے ساتھ مالی یا تیکنیکی مدد کرے ان کیلئے جدید مشنری فراہم کرے او ر ان کے ساتھ مالی مدد بھی کرے تو نہ صرف یہ صنعت پورے ملک میں پھیلے گا اور اس سے بنے ہوئے مصنوعات دنیا کے کونے کونے میں پہنچ جائیں گے بلکہ اس پسماندہ علاقے سے یہ صنعت غربت کے خاتمے میں بھی کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے۔ 


اسلام آباد میں سڑک حادثے میں زخمی ہونے والے جماعت اسلامی چترال کے ناظم مالیات نثار احمد شاھنوی کے جوان سال فرزند ٹھیکدار الطاف احمد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے

اسلام آباد میں سڑک حادثے میں زخمی ہونے والے جماعت اسلامی چترال کے ناظم مالیات نثار احمد شاھنوی کے جوان سال فرزند ٹھیکدار الطاف احمد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے



اسلام آباد ( ایم۔فاروق) جماعت اسلامی ضلع چترال کے ناظم مالیات نثار احمد شاھنوی(آیون) کے جوان سال فرزند ارجمند ھردل عزیز نوجوان اور جماعت کے سرگرم کارکن الطاف احمد شاھنوی  اسلام آباد میں روڈ ایکسیڈنٹ میں شدید زخمی ہوا تھا ،گذشتہ رات 8 بجے قائد اعظم ھسپتال میں انتقال کرگیے ہیں۔ 

تفصیلات کے مطابق اتوار کی صبح اسلام آباد میں ایک تیز رفتار گاڑی کی ٹکر سے آیون چترال کے رہائشی ٹھیکدار الطاف احمد شدید زخمی ہوئے تھے جسے جائے وقوعہ پر موجود لوگوں نے پمز ہسپتال پہنچا دیا تھا جہاں پر وہ رات گئے بیہوشی کی حالت میں پڑے رہے ۔اس حادثے کی اطلاع ملتے ہی انکے رشتے دار اور دوست چترال سے اسلام آباد پہنچ گئے ۔ڈاکٹروں کے مشورے کے مطابق انکے دماغ میں خون جمع ہوگیا تھا جسکی باعث بروقت آپریشن نہیں کیا گیا ۔بعدازاں انکو اسلام آباد کے ایک پرائیویٹ ہسپتال" قائد اعظم ہسپتال" میں ان کا باقاعدہ طور پر آپریشن ہوا تھا۔ تاہم آخری اطلاعات کے مطابق وہ گزشتہ شب زخموں کا تاب نہ لاتے ہوئے جان کی بازی ہارگئے ۔


تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں