فروری 20, 2018

جماعت اسلامی کے رہنما مولانا عبدالاکبر چترانی نے بھی خواتین کے لئے علیحیدہ بازار کے قیام کو، ناقابل قبول قرار دے دیا


پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک) چترالی خواتین کو بااختیار بنانے کی غرض سے کچھ روز قبل چترال میں کاروباری خواتین کا ایک اجلاس ہوا تھا، جس میں سرتاج احمد خان نے خواتین کے لئے الگ شاپنگ سنٹر کے قیام کی تجویز دی تھی، تاکہ خواتین باعزت طریقے سے کاروبار کرسکیں اور شاپنگ کرنے والی خواتین خریداری کرسکیں۔

الگ شاپنگ سینٹر کے قیام کی تجویز کو چترال میں دینی جماعتوں نے سخت تنقید کا نشانا بنایا ہے۔ جمیعت علما اسلام چترال کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں اس تجویز کو مسترد کرکے پریس ریلیز جاری کردی گئی تھی۔ 


اب جماعت اسلامی کے رہنما اور سابق ممبر قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی نے اپنے ایک بیان میں چترال میں خواتین کے لئے الگ بازار کی تجویز کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ چترال کی ثقافت اسلامی ثقافت ہے چترالی ثقافت میں عورت کو وہ حقوق حاصل ہیں جو اسلام نے بحیثیت خاتون عورت کو دیے ہیں عورت کو مادر پدر آزادی دیکر اور گھسیٹ کر با زاروں کی زینت بنانا مغرب کا ایجنڈا ہے اسلام کا نہیں۔ 

انہوں نے کہا ہے کہ  اسلام عورت کو حیا اور پاک دامنی کا درس دیتا ہے اور ہر وہ کام جو بے حیائی کے زمرے میں آتا ہے اسلام میں اس کو حرام قرار دیا گیا ہے ۔ایک سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت چترال کی خواتین کو بازاروں کی زینت بنانے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے ہم کسی بھی صورت خواتین بازار کے نام پر چترالی خواتین کو بے توقیر نہیں ہونے دیں گے ۔  

مولانا چترالی نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے  کہ وہ خواتین کے لیے الگ بازارکو وجود میں نہ آنے دے بصورت دیگر امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو گا اور ہم اس کے خلاف بھر پور تحریک چلائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بعض این جی او ز چلانے والے لوگ جو چترالی نہیں ہیں چترال کی ثقافت کو نہ جانتے ہوئے تباہ کرنے پر تُلے ہو ئے ہیں ان لوگوں کو ہر گز یہ حق انہیں پہنچتا کہ وہ ہماری ثقافت میں مداخلت کر یں ۔



فروری 19, 2018

شندور یوٹیلیٹی کمپنی کے نا قدین کے نام : تحریر آمیر نیاب



شیر جماعت خان کا تعلق وادی لاسپور کے خوبصورت گاوں ہرچین سے ہے، یہ فوج سے صوبیدار ریٹائرڈ اور نہاےت خوش مزاج طبیعت کا مالک ہے، شا زو نادر غصہ ان پر غا لب آتا ہے لیکن یہ ہمیشہ دوسروںکی تنقید اور الزامات کو بھی خندہ پیشا نی اور صبر و تحمل سے جواب د ینے کا ہنر جا نتے ہیں۔ 

موصوف نے ریٹایرڈ منٹ کے بعد علاقے کے لیے سماجی کاموں میں بھرپور حصہ لینا شروع کیا اور اپنے گاوں ہرچین میں دو بڑے کام سر انجام د ئےے؛ گاوں کے ایک حصے کو پینے کا صاف پانی مہیا کر نے میں کلیدی کر دار ادا کیا اور کامیاب رہا اس نے دن بھر محنت کرکے آغاخان واٹر ایند پلاننگ بلڈنگ کے ذاریعے اس اہم پرا جیکٹ کو پایہ تکمیل پہ پہنچانے میں کا میاب رہے جس کا فائدہ ابھی لوگوں کو صاف پانی کی صورت میں مل رہا ہے۔ دوسرا بڑا کا رنا مہ ہرچین میں آغاخان ایجوکیشن سروس اور کمیونیٹی کے تعاون سے کمیونٹی بیسڈ سکول کا قیام عمل میں لاےا اور دو منزلہ سکول ادارے اور لو گو ں کی با ہمی تعاون کا ایک شاندار اور منہ بو لتاثبوت ہے۔

مذکورہ با لا پراجیکٹس کے دوران رقم بھی اپنے آبا ئی گا وں میں ہی مو جود تھا اس لئے تمام عوا مل کا بخو بی ادراک اور اندازہ ہے کہ مو صوف کو ان پراجیکٹس کی تکمیل میں کیا کیا پا پڑ بھیلنے پڑے اور کن مشکلات کا سا منا کر نا پڑا لیکن انہوں نے جس تدبر اور والہانہ جذ بے کیساتھ خدمات پیش کی وہ قا بل تحسین ہے۔ انہوں نے دن بھر محنت کی، سکول کی تعمیر میں مصروف مزدورں کے لئے طعام و قیام کا بندوبست بھی ا پنے گھر میں ہی کر رکھا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ دن میں کم از کم چھ سے سات مہمان روزانہ اس پراجیکٹس کے سلسلے میں ان کے ہاں ٹھہرتے تھے۔ 

ان تمام مشکلات کے باوجود دونوں پراجیکٹس کو تکمیل تک پہنچانے میں کامیاب رہا لیکن افسوسناک امر ےہ ہے کہ اس شاندار کام کے باوجود بے بنیاد کرپشن کے الزامات کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہے۔ تنقید کرنے والے وہ لوگ ہیں جو نہ ان پراجیکٹس کو کامیاب دیکھنا چاہتے تھے، خود کچھ کر گزر نے کے قابل تھے اور نہ ہی دوسروں کو کام کرنے دیتے تھے۔ان ہی لوگوں نے سکول کے تعمیر کے بعد جماعت خان کو اس کے عہدے جنرل سیکر ٹری سے الگ کرنے کے لیے جھوٹے الزامات افواہوں پر سہارا لینے لگے ، جبکہ جماعت خان کے پاس ہر چیز کا ریکار مو جود تھا اس کے باوجود اس کو ہٹانے کی تگ دو اور بد نام کر نے کی سازش جا ری رہی اور اخر کار انہوں نے اپنا عہدہ چھوڑ دیا ۔ 

شور مچا نے وا لے لوگ ا پنی سا زشوں اور الزا مات سے ان کو ہٹا نے میں کا میاب تو ہو ئے لیکن جوسکول کی حا لت ہو ئی افسوس ناک امر ہے ،دیوار تعمیر کرنا دور کی بات ہے ایک پتھر بھی نہیں اٹھا سکے اور یوں وہ سکول بند ہو گےا اور عمارت خا لی پڑی رہی ۔ میں حےران ہوں کہ گاوں سطح پر جو افسوسناک اور شر مناک سےاست اور منا فقت سے اخر لوگ چا ہتے کیا ہیں۔ ا سکی وجہ کیوں تلاش نہیں کی جا تی کہ لوگ کیوں چا ہتے ہیں کہ مل جل کر کام کر نے کا رواج ختم ہو ؟ اخر کیوں اچھا کام کر نے ولا رسوا اور برا سو چنے والا جزا پا تا ہے ےقناً ےہ ایسے لوگ ہیں جو نہ خود کام کر تے ہیں اور نہ ہی دوسروں کی کسی کا میاب کو شش اور کام کو ہضم کر سکتے ہیں۔

اب میں اپنے اصل مو ضو ع کی جانب آتا ہوں ، آج گا وں سطح کی پسماندہ سیاست اور سیاسی غلا ظت کا نشانہ شندور یوٹییلٹی کمپنی بنا ہوا ہے اور لوگ ہر آئے دن اس کو ہدف تنقید بنا تے ہیںحا لا نکہ یہ بھی علاقے کا سب سے بڑا منصوبہ ہے، یہ اپنی صارفین کے لیے بجلی کی فروانی کی تگ و دو میں ہے اور نہ صرف بجلی کی کمی کو پورا کرےگی بلکہ اس کا براہ راست فائدہ بھی صا ر فین کو ہی ہو گا، یہ پاکستان Securities & Exchange Comission of Pakistan کے ساتھ رجسٹرد کمپنی ہے جو کہ اس پسما ندہ خطے میں اپنی نوعیت کا پہلا پروجیکٹ ہے اور اس کے روح رواں منصوبے کا صدر نگہبان شاہ، بورڈ آف ڈائریکٹرمنظور علی شاہ اور جنرل سیکریٹری حاصل مراد ہیں۔ انہوں نے اپنی پوری ٹیم کے ساتھ ملکر اپنے ذاتی مصروفیات کو چھوڑکر عوام کی فلاح کے لیے بہت زیادہ محنت و تگ و دو کر رہے ہیں ۔ پروجیکٹ کے آغاز سے ہی اس پروجیکٹ کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی جا رہی تھی اور لوگوں کو روشنی سے کسی طرح محروم رکھنے کی مزموم کوشش و خو اہش میں لگے ہوے تھے۔ جب پروجیکٹ میں کام شروع ہوا تب بھی کسی طرح لوکل لیڈر شپ کو متنازعہ بناکر لوگوں میں نا اتفاقی کو پروان چر ھا نے میں میں لگے رہے اور سلسلہ ہنو ز بھی جا ری ہے ۔ اس منصوبے کا صدر نگہبان شاہ ابتدا سے ہی بہت سی مشکلات، الزامات اور افواہوں کا سا منا کر تا رہا لیکن بھرپور انداز میں اس پروجیکٹ کو لیڈ کر تے ہو ئے کا میابی کا سفر طے کیا جو کہ آسان نہیں تھا ان پر سازشی عناصر نے حملے کر وائے ،گالیاں دی اوررکا وٹی حر بے آزما ئے گئے لیکن انہوں نے اپنا مشن چھوڑا نہیں ہے۔قا بل صد افسو امر یہی ہے کہ ان سما جی ہیروں کو عوامی تا ئد نہیں مل رہی کیونکہ اس منصو بے کو پا یہ تکمیل دینا جو ئے شےر لا نے کا مترادف ہے ۔ صدر شندور یوٹیلیٹی کمپنی، ڈایریکٹر ، جنرل سیکریٹری اور ان کی ٹیم کا ہر فرد داد کا مستحق ہے ان کو گلے کاہار پہناکر شکریہ ادا کر نا عوامی فرض ہے جو کہ ابھی عوام پر قرض ہے ، کیو نکہ سیا سی منا فقت ، عوام دشمن پا لیسی اور سا زشوں نے پچھلے کئی اہم منصو بوں کو زبوں حا لی کا نشا نہ بنا تے رہے اور ان کو بر با د کئے گئے ۔ اللہ نہ کرے کہ سا زشی لوگ اس کا حال بھی کمیونیٹی بیسڈ سکول جیساکر نے میں کا میاب ہو ۔

اس پروجیکٹ کی فنڈنگ آغاخان رورل سپورٹ پروگرام دوسرے ڈونر ایجنسیز یعنی سوئس حکو مت اور ورلڈ بنک کر رہے ہیں۔ یہ بڑا پروجیکٹ ہونے کی وجہ سے مکمل ہونے میں زیادہ وقت لگا اس کے کئی وجوہات ہوسکتی ہیں، مثلا © ڈونر کو فنڈ کے لیے پروپوزل دینے میں ، اپروویل ہونے اور فنڈ ریلیز ہونے تک وقت در کا ر ہو تا ہے اور یہ عرصہ کا فی لمبا عمل ہے ۔ بہر حال کافی سال لگنے کے بعد اب شندور یوٹیلیٹی کمپنی جو کے اپنے صارفیں کو بجلی مہیا کرنے کے مقام تک پہنچا ہے کسی بھی بڑے پروجیکٹ میں چھوٹی مو ٹی تکنیکی غلطیاں ہوجاتی ہیں اس میںبھی ہو گئی ہونگی، مثال کے طور پر انجینئرنگ فا لٹ کی وجہ سے دو دفعہ بجلی کی تر سیل میں میں بڑی خرابی پیدا ہو ئی جو کہ ایک انسانی غلطی کی وجہ سے ہو ئی ہو گی اس کو بنےاد بنا کر الزام ترا شی اور لوکل لیڈرز کو تبدیل کرنے کی ایک مہیم شروع کر نا افسوسناک عمل ہے۔ اب بجلی کا یہ اہم منصوبہ تیار ہے لوکل لیڈرز نے دن رات بھرپور محنت کرکے اس پروجیکٹ کوتکمیل تک لیکر آ ئے ہیں ان پر بے بنیاد الزامات لگا کر ان کی تبدیلی کا مطالبہ بھی اس مطا لبے کی ایک کری ہے جس کی وجہ سے کمیونٹی سکول کے لیڈرشپ کو تبدیل کرکے سکول کو ہی بند کردیا گیا ہے۔ کسی بھی پراجیکٹ میں تکنیکی غلطی کا لوکل لیڈرشپ کیسے ذمہ دار ہوسکتا ہے ؟ الزام لگانے والوں کے پاس اگر کرپشن کا کوئی ایک بھی ثبوت ہے وہ سامنے لیکر ا ٓئے ہم سب انکے ساتھ مل کر ان لوگوں کے خلاف آواز اٹھایںگے۔ جو لوگ کرپشن کا الزام لگا رہے ہیں ان کو یہ پتہ ہونا چاییے کہ اے۔کے۔ار۔ایس۔پی اور سو ئس گورنمنٹ کا آڈٹ سسٹم ہے کرپشن کی گنجائش نہیں ہے۔ موجودہ لیڈرشپ، الزامات لگانے والوں کو بار بار اڈیٹ فارم سے فیر اڈیٹ کرانےکی پیش کش بھی کر رہے ہیںجو کہ ان کے پاک دامنی کا بہترین ثبوت ہے۔ الزام لگا کر لیڈرشپ کو تبدیل کرنے والوں کا متبادل لیڈر ز کے پروفائل موجودہ لیڈرز سے بہتر ہونا چاہیے اور پتہ بھی چلے گا کہ یہ اس پروجیکٹ اور عوام کے ساتھ کتنے مخلص ہیں۔ مثال کے طور پر وہ صدر جو کہ سماجی اور سیاسی طور پر ایک پہجان رکھتا ہے اس کا متبادل کس کو لیکر آ رہے ہیں ؟ دوسرا بورڈ اف ڈایریکٹر ایک اعلیٰ تعلیم ےافتہ نوجوان ہے پشاور یونیورسٹی کے قابل ترین طالب علم رہا ہے اور علاقے کے لیے اس کی خدمات ہیں اس کا متبا دل کون ہوگا ؟ باقی جنرل سیکریٹری اور باقی ٹیم کے لوگ محمد شریف خان، حاضرجان بھی تعلیم ےافتہ شخصیات ہیں آغاخان سکول کے ریٹایرڈ اساتذہ ہیں ، ان کے متبادل کون ہیں؟ ہم امید کرتے ہیں متبادل لیڈرز ان سب سے بہترین پروفایل کے لوگ ہوںگے۔ اس بات سے خوب پتہ چل جا ئے گا کہ یہ لوگ عوام کےساتھ بہت مخلص اورانصاف کرنے نکلے ہیں۔ 

کسی ایک فنی خرا بی کو جواز بنا کر شندور یوٹیلیٹی کمپنی کے لوکل لیڈر شپ کی تبدیلی کا مطالبہ کرنے والے دو ستوں سے گزارش اورتجویز ہے کہ کسی کی نیت پر شک نہ کر ے اور ان کے ایک قابل تقلید کر دار کو سیا ست مت بنا یئے گا اگر کسی کو لیڈر بننا یا بنا نے کا شو ق ہے تو کو ئی اور منصوبہ لیکر آئے اور کا میاب بنا کر دیکھا ئے تا کہ لوگ اُن کو لیڈر بھی بنا ئیں گے اور بھر پورسا تھ بھی دیں گے۔ مو جودہ لیڈر شپ کو پرو پیگنڈا اور سازشی تھیو ریز استعمال کر نے والوں کے خلاف قا نو نی چارہ جوئی کا حق بھی استعمال کر نا چا ہئے تا کہ” دودھ کا دودھ پا نی کا پا نی“ ہو سکے ۔

-------------------------------------

’ٹائمزآف چترال‘ کا کالم نگار کی رائے اور کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کالم نگار اور کمنٹر اپنے الفاظ کا مکمل طور پر خود ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا ’ٹائمزآف چترال‘ کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔


فروری 18, 2018

جمعیت علماء اسلام چترال کی مجلس عاملہ کے اجلاس چترال میں خواتین کے لئے الگ شاپنگ سنٹر کے قیام کو مسترد کردیا گیا

چترال (پریس ریلیز)  جمعیت علماء اسلام چترال کی مجلس عاملہ کا اجلاس مؤرخہ 17 فروری 2018 ء بمقام جامعہ اسلامیہ ریحانکوٹ چترال زیر صدارت ضلعی امیر قاری عبدالرحمن قریشی منعقدہوا۔ جسمیں ضلعی عاملہ کے اراکین شریک ہوئے اور ذیل فیصلے ہوئے۔

1۔ JUI چترال کی مجلس شوری کا اجلاس 24فروری 2018 بروز ہفتہ ہوگا۔

2۔ تحصیل چترال کے امیر اور ناظم عمومی کے انتخاب کے لئے تحصیل عمومی کا اجلاس 4مارچ 2018 بروزاتوار ہوگا۔

3۔ 28 فروری 2018 کو JUI یوتھ کنونشن پشاور میں چترال سے بھرپور شرکت ہوگی اور اس کے لئے لائحہ عمل طے کیا گیا۔

4۔ یکم اپریل 2018 غلبہ اسلام کانفرنس پشاور کی کامیابی کے حوالے سے چندہ مہم ،چترال بھر میں اجتماعات کا انعقاد اور مختلف کانر میٹنگیں ہونگی۔

اجلاس میں متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی گئی۔

کہ چترال میں خواتین کے لئے الگ شاپنگ سنٹر کے قیام کو مسترد کردیا جاتا ہے اور قرارداد ھذا کے ذریعے مسلمانان چترال سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کریں جو اسلامی اقدار اور چترالی روایات کو ختم کرکے یورپی تہذیب کو چترال میں رواج دینا چاہتے ہیں ، الگ شاپنگ سنٹر کا قیام کے پی کے کے کسی ضلع میں نہیں ہے چترال میں اس کا قیام خواتین کوسرعام بازاروں کی طرف نکلنے کی دعوت ہے ،جوہمیں کسی طور پرقبول نہیں۔

لہذا انتظامیہ اور متعلقہ افراد کو بروقت آگاہ کرنا چاھتے ہیں کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں،خصوصا انتظامیہ متعلقہ افراد کو بلاکر ان کو سمجھائیں کہ وہ الگ کاروبار کا سوچیں ، بصورت دیگر چترال کے امن وآمان کی ذمہ داری متعلقہ افراد پر ہوگی۔

اجلاس میں مولانا عبدالسمیع صاحب فیض آباد ہون کی ہمشیرہ کے لئے فاتحہ خوانی اور دعا کی گئی۔



لطیفے

ٹیچر: سٹوڈنٹ سے سناؤabc 
سٹوڈنٹ :ABC 
ٹیچر : اور سناؤ
سٹوڈنٹ : اور اللہ کا شکر ہے آپ سنائیں


ٹیچر نے سٹوڈنٹ سے پانچ جانوروں کے نام پوچھے
سٹوڈنٹ :ہاتھی
ٹیچر شاباش اور۔۔

ایک ہاتھی دی ماں اک ہاتھی دا باپ ایک ہاتھی دی دادای تے اک باتھی دا دادا
پانج پورے ۔۔۔۔ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا


استاد:بیٹا تم کب سے کمرہ امتحان میں بیٹھے سوالیہ پیپر دیکھتے جارہے ہو۔ کیا پیپر مشکل ہے؟
شاگرد:نہیں سر جی یہ بات نہیں ہے میں یہ سوچ رہا تھا کہ اس سوال کا جواب کس جیب میں رکھا تھا



دو دوست جنگل میں گھوم رہے تھے اچانک سے شیر آگیا۔
ایک دوست درخت پر چڑھ گیا
دوسرا دوست سانس بند کر کے زمین پر لیٹ گیا
شیر ہاہاہاہا کاکا یہاں زبیدہ آپا کے ٹوٹکے نہیں چلنے۔ 


ٹیچر نے سٹوڈنٹ سے پانچ جانوروں کے نام پوچھے
سٹوڈنٹ :ہاتھی
ٹیچر شاباش اور۔۔۔۔
ایک ہاتھی دی ماں اک ہاتھی دا باپ ایک ہاتھی دی دادای تے اک باتھی دا دادا
پانج پورے ۔۔۔۔ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا





فروری 16, 2018

چترال ، بروک لاسپو رآگ لگنے سے گھر جل کر خاکستر۔ گھر کے اندر سارا سامان بھی جھل گیا


چترال/ لاسپور (نمائندہ ) گزشتہ شب آٹھ بجے لاسپور کے گاوں بروک میں آگ لگنے سے مرزہ نادر شاہ کا گھر جل کر خاکستر ہوگیا، جس کے نتیجے میں گھر مکمل طور پر تباہ،گھر کے اندر موجود تمام سامان بھی جل کر خاکسترہوگیا ہے اور گھر میں موجودپانج لاکھ کیش رقم کے ساتھ بیس لاکھ روپے سے ذیادہ کا نقصان ہوا۔

ہمارے نمائندے سے بات کرتے ہوئے میزہ نادر شاہ نے بتایا کہ آگ لگنے کا وقعہ رات آٹھ بجے پیش آیا ، جب اس کا بیٹا رات آٹھ بجے پڑھنے کے لیے کمرے میںگیا تو وہاں آگ لگی ہوئی تھی، اس نے دیکھ کر گھر والوں کو اطلاع دی ، آگ بہت تیزی سے گھر کو اپنے لپیٹ میں لیا، اور پورے گھر کو خاکسترکرکے رکھ دیا۔علاقے کے لوگون نے رات بھر پانی کے ذریعے اگ پر قابو پانے کی بھرپور کوشش کی۔

 مرزہ نادر شاہ کے مطابق وہ اپنے فیملی کو لیکر اپنے رشتہ دارون کے گھر رہتا ہے۔



فوج کے خلاف پروپیگنڈا کریں آپ کو اور آپ کے والد صاحب کو سینیٹ کا ٹکٹ دے دیا جائے گا: عائشہ گلالئی نے ن لیگ پر خطرناک الزام لگا دیا

فوج کے خلاف پروپیگنڈا کریں آپ کو اور آپ کے والد صاحب کو سینیٹ کا ٹکٹ دے دیا جائے گا: عائشہ گلالئی نے ن لیگ پر خطرناک الزام لگا دیا




فروری 15, 2018

ان للہ و ان الیہ رجعون : اداکارہ میرا کے پرستاروں کے لئے بری خبر آگئی

لاہور(ویب ڈیسک) میری دادی میری سب سے بڑی سپورٹر تھیں، ہر مشکل وقت میں مجھے دلاسہ دیتی تھیں۔ یہ باتیں اداکارہ میرا نے اپنی دادی کے انتقال پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہیں۔

اداکارہ میراکی دادی 90 برس کی عمرمیں انتقال کرگئیں۔ مرحومہ کچھ عرصہ سے شدید بیمار تھیں۔ انہیں گلبرگ کے قبرستان میں سپرد خاک کردیاگیا۔  نمازجنازہ میں شوبزسے تعلق رکھنے والوں کے علاوہ مختلف افراد نے شرکت کی۔میراکی دادی مکہ کالونی گلبرگ میں مقیم تھیں۔ انتقال کے بعد میرا اپنی والدہ شفقت زہرہ اوروالد سرورشاہ کے ہمراہ اپنی دادی کے گھرپہنچ گئیں۔ شوبزسے وابستہ افرادنے اداکارہ میراسے انکی دادی کے انتقال پرتعذیت اور افسوس کااظہارکیا ہے۔



خادم اعلیٰ کے پنجاپ میں خواتین کا ساتھ۔۔ مدد کا جہانسہ دیگر 90 سے زائد خواتین کی ریڑھ کی ہڈیوں سے کیا نکالا گیا: تفصیل پڑھیں

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان میں جہاں گردہ چوری اور دیگر جرائم کے بارے میں تو سنا ہے ہوگا۔ لیکن خادم اعلیٰ کے پنجاپ میں ان کی ناک کے نیچے یہ مکروں دھندہ بھی ہورا تھا جو انہیں معلوم تک نہ تھا۔ پنجاب کے حافظ آباد میں جہیز پیکیج کا لالچ دے کر غریب گھرانوں کی لڑکیوں کی ریڑھ کی ہڈی کا گودہ اور دیگر مواد نکال کر فروخت کرنے والے، مکروہ دھندہ کرنے والے گروہ کا انکشاف ہوا ہے۔ 
غریب گھرانوں کی لڑکیوں کی ریڑھ کی ہڈی کا گودا بیچنے والے گروہ کو گرفتار کرلیا گیا اور ملزمان میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔



تفصیلات ک مطابق حافظ آباد میں جہیز پیکیج کا لالچ دے کر غریب گھرانوں کی لڑکیوں کی ریڑھ کی ہڈی سے بون میرو اور دیگر مواد نکالنے کا مکروہ دھندہ کرنے والے گروہ کا انکشاف ہوا ہے ۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے خاتون سمیت متعدد ملزمان کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرتے ہوئے تفتیش شروع کردی ہے۔

تھانہ سٹی پولیس کو مخبری ہوئی کہ محمد اسلم ہنجرا، اس کی بیوی آمنہ بی بی اور ملزم ندیم نے گھر میں اپنا دھندہ شروع کر رکھا ہے۔ وہ ان پڑھ لڑکیوں اور دیہاتی خواتین کو جہیز پیکیج کا جھانسہ دے کر ورغلاتے اور ان کے میڈیکل نمونے لینے  کی آڑ میں ریڑھ کی ہڈی سے بون میرو اور دیگر قیمتی مواد سرنج کے ذریعے نکال کر آگے مہنگے دام  فروخت کرتے ہیں۔


پولیس کے مطابق محلہ شریف پورہ كا رہائشی ندیم خود كو ڈی ایچ كیو اسپتال كا ملازم ظاہر كرتا ہے۔ ملزمہ آمنہ بی بی نے اعتراف كیا كہ وہ ایک گروہ كی شكل میں طویل عرصہ سے یہ کام كررہے ہیں اور اب تک 90 كے قریب غریب لڑكیوں  كے جسموں  سے مواد نكالا جا چكا ہے۔ ذرائع كے مطابق متاثرہ لڑكیاں شدید جسمانی تكلیف میں  مبتلا ہیں اور علاج معالجہ كے باوجود تندرست ہونے كی بجائے دن بہ دن مزید کمزور اور  نیم اپاہج ہو چكی ہیں۔ پولیس نے کارروائی کے دوران خاتون سمیت متعدد ملزمان کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرتے ہوئے تفتیش شروع کردی ہے۔




اگلے ویزراعظم کے لئے ایسا نام سامنے آگیا کہ جس پر مریم صفدر شدید برہم

اسلام آباد (ٹی او سی مانیٹرنگ ڈیسک) سوشل میڈیا اور بعض اخبارات میں خبریں گردش کررہی ہیں کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے مابین چوہدری نثار علی خان کو عبوری وزیراعظم بنانے پر خفیہ مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔ دونوں جماعتیں چوہدری نثار علی خان پر متفق نظر آتی ہیں تاہم پاکستان پیپلزپارٹی کی طرف سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ذرائع بتاتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف کے مابین چوہدری نثار علی خان کو عبوری وزیراعظم بنانے کے معاملہ پر خفیہ مذاکرات جاری ہیں۔ چوہدری نثار علی خان نے بھی عبوری وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے پر رضا مندی ظاہر کردی ہے۔ تاہم پیپلزپارٹی کی طرف سے چوہدری نثار علی خان کی شدید مخالفت کی جائے گی. ملک کی اسٹیبلشمنٹ بھی چوہدری نثار کے نام پر راضی ہے جس کے بعد مسلم لیگ (ن) نے یہ مذاکرات شروع کئے ہیں عبوری وزیراعظم آئین کے تحت تین ماہ کی مدت کیلئے ہونا ہے جس کی بنیادی ذمہ داری ملک میں انتخابات منعقد کرانا ہے۔ موجودہ حکومت اپنی مدت پوری کرنے والی ہے اور سینیٹ انتخابات کے بعد عبوری حکومت کے قیام بارے حتمی فیصلے کئے جائیں گے۔



فروری 14, 2018

مسلسل بارشوں اور شدید برف باری کے باعث لواری سرنگ روڈ دو دن تک بند رہا۔ راستے کی بندش کی وجہ سے چترال بازار میں تازہ مرغیوں، گوشت، سبزی اور آشیائے خوردنوش کی قلعت پیدا ہوئی۔

چترال (گل حماد فاروقی) چترال میں مسلسل بارشوں اور لواری ٹاپ پر شدید برف باری کے باعث لواری سرنگ کا راستہ بھی دو دنوں تک بند رہا جس کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پیر کے روز پشاور سے چترال آنے والے سینکڑوں مسافروں کو چھ سے آٹھ گھنٹوں تک لواری سرنگ کے سامنے دیر کی جانب انتظار کرنا پڑا۔ چترال پولیس اور چترال سکاؤٹس کے جوانوں نے لواری سرنگ کے سامنے سڑک پر برف پر پھنسے ہوئے گاڑیوں کو نکالا۔ 

راستے کی بندش اور حراب موسم کی وجہ سے پی آئی اے کی پروازیں بھی منسوح ہونے سے چترال ایک بار پھر قدرتی جیل کا منظر پیش کر نے لگا۔ بازار میں چکن (مرغی)، تازہ گوشت، تازہ پھل و سبزیاں اور دیگر آشیائے خوردنوش کی بھی قلعت پیدا ہوئی۔سڑکیں بھی سنسان رہی زیادہ تر لوگ گھروں کے اندر خود کو گرم کرنے لگے۔

مرغیوں ، چوزوں کی دکان پر ہوں کا سماں تھا۔ کڑوپ رشت بازار میں سیف اللہ نامی ایک دکاندار کا کہنا ہے کہ راستے کی بندش کی وجہ سے راولپنڈی اور پشاور سے چوزے یعنی چکن نہیں آتے جس کی وجہ سے نہ صرف ہمار ا کاروبار متاثر ہوا ہے بلکہ لوگوں کو بھی سخت مشکلات کا سامنا ہے۔اسی طرح ایک سبزی فروش گل آغا کا کہنا ہے کہ تازہ سبزی نہ ہونے کی وجہ سے گاہک بھی ان کی دکان کا رح نہیں کرتا۔ 

ایک اور قصائی سے جب پوچھا گیا کہ دکان میں گوشت کیوں نہیں ہے تو ان کا کہنا تھا کہ چونکہ لواری سرنگ کا راستہ بند ہے اور چترال کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے لہذا راستے کی بندش کی وجہ سے نیچے اضلاع سے جانور بھی گاڑی میں نہیں لایا جاسکتا جس کی وجہ سے وہ گوشت نہیں کرسکے۔

تاہم بدھ کے روز نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے عارضی طور پر راستہ کھول دیا مگر مسافر شکایت کرتے ہیں کہ راستے میں اب بھی بر ف پڑی ہے او ر وہاں موجود سیکورٹی والے اور NHA کا عملہ بلا وجہ لوگوں کو سرنگ میں نہیں چھوڑتے ہوئے تنگ کرتے ہیں۔ ایک بااثر شحصیت نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ جب وہ پشاور سے دیر پہنچا تو لواری سرنگ کے سامنے سکاؤٹس کے ایک جوان نے اسے یہ کہتے ہوئے روک دیا کہ اندر کام ہورہا ہے مگر اس نے جب بالائی حکام سے سفارش کروائی تو اسے لواری ٹنل کے اندر جانے کی اجازت مل گئی مگر جب اندر سے گزرتے ہوئے باہر نکلات تو پتہ چلا کہ اندر تو کوئی کام ہی نہیں ہورہی ہے اور سکاؤٹس والے خواہ محواہ لوگوں کو تنگ کررہے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے چئیرمین این ایچ اے کے ساتھ انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور سے بھی اپیل کی کہ وہ لوار ی سرنگ کے سامنے ڈیوٹی پر مامو ر سیکورٹی عملہ کو ہدایت کرے کہ بلا وجہ غریب عوام کو تنگ نہ کرے اور صرف سفارشی لوگوں کو سرنگ میں نہ چھوڑے بلکہ عا م لوگوں کو بھی اندر جانے کی اجازت دیا کرے تاکہ وہاں انتظار اور سردی کی صعوبت سے بچاجاسکے۔ 



تصویر: شاہنواز علی

فروری 12, 2018

حلیب فوڈز کا انٹرنیشنل برانڈز لمیٹڈ کے ساتھ ڈسٹری بیوشن کا معاہدہ



کراچی (پی آر) حلیب فوڈز اور انٹرنیشنل برانڈز لمیٹڈ (IBL) کے درمیان شراکت داری کا معاہدہ طے پاگیا اور آئی بی ایل کراچی آفس میں اس معاہدے پر خصوصی تقریب کے دوران دستخط کئے گئے۔ 

اس شراکت داری پر اظہار خیال کرتے ہوئے حلیب فوڈز کے سی ای او میموش خواجہ نے کہا، 
"ہمیں آئی بی ایل کا پارٹنر بننے پر انتہائی خوشی ہے جو ملک میں صف اول کا ڈسٹری بیوشن ہاوس ہے۔ حلیب ڈیری انڈسٹری کی بنیاد رکھنے والوں میں شامل ہے اور اس کا عزم ہے کہ وہ انتہائی متاثرکن ڈیری و مشروب ساز پاکستانی ادارہ بنے اور آئی بی ایل کے ساتھ شراکت داری سے ہمیں اپنے ڈسٹری بیوشن نیٹ کو مزید مستحکم بنانے میں مدد ملے گی۔" 

آئی بی ایل کے ایم ڈی ارشد انیس نے کہا، 
"مجھے یاد ہے جب حلیف فوڈز نے 1948 میں پہلے پیکجڈ ملک پروسیسنگ یونٹ کا آغاز کیا تھا اور یہ وہ وقت تھا جب صرف حلیب ہی کے پاس ڈبے کا دودھ دستیاب تھا اور یقینا یہ دودھ کا انتہائی پسندیدہ اور بااعتماد برانڈ ہے ، جو شاندار کارکردگی کے ساتھ تابناک ماضی کا حامل ہے۔ " 

انہوں نے مزید کہا، 
"یہ ہمارے لئے خوشی کی بات ہے اور حلیب فوڈز کے ساتھ ڈسٹری بیوشن پارٹنرز کے طور پر کام کرنا انتہائی اعزاز کی بات ہے۔ ہم روایتی ڈسٹری بیوٹر کے بجائے اپنے معزز کلائنٹس کے لئے ذمہ دار کاروباری پارٹنر کے طور پر کام کرنے پر فخر کرتے ہیں۔ ہماری ڈسٹری بیوشن کا جامع نیٹ ورک اور معیاری دیکھ بھال کے واحد کام کی بدولت آئی بی ایل اس مقام پر پہنچ گیا ہے جہاں وہ کامیابی کے ساتھ صف اول کے برانڈز کی نمائندگی کرے اور حلیب فوڈز کے ساتھ شراکت داری اس کا منہ بولتا 


فروری 11, 2018

معفروف پاکستانی اداکار قاضی واجد کراچی میں انتقال کرگئے


کراچی (ٹائمزآف چترال نیوز) پاکستان کے معروف ٹلی ویژن آرٹسٹ قاضی واجد کراچی میں انتقال کرگئے۔  مرحوم کی عمر 65 برس تھی۔ لیجنڈ ادارکار قاضی واجد کراچی میں انتقال کرگئے۔ خاندانی ذرائع کے مطابق انہیں گزشتہ رات دل میں تکلیف کے باعث نجی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ حالق حقیقی سے جا ملے۔ 

قاضی واجد عمر 65 برس تھی۔ وہ  26 مئی 1930 کو پیدا ہوئے، انہوں نے اپنی فنی زندگی کا آغاز ریڈیوپاکستان سے بطور ڈرامہ آرٹسٹ کیا اور اپنے 65 سالہ فنی کیریئر میں سیکڑوں ڈراموں، ٹی وی تھیٹر سمیت فن کے تمام شعبوں میں اپنی فنی مہارت کا جلوہ دکھایا،  1988 میں حکومتِ پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی سے بھی نوازا۔ قاضی واجد کے مشہور ڈراموں میں خدا کی بستی، حوا کی بیٹی، تنہائیاں، پل دو پل اور تعلیم بالغاں شامل ہیں۔


سینئر قانون دان #عاصمہ_جہانگیر انتقال کر گئیں



لاہور (ٹائمزآف چترال نیوز) سینئر قانون دان اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر 66 برس کی عمر میں حرکت قلب بند ہوجانے سے انتقال کرگئیں۔ گزشتہ رات دل میں تکلیف کی وجہ سے نجی ہسپتال لے جایا گیا ڈاکٹروں کے مطابق انہیں دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔

عاصمہ جہانگیر 27 جنوری 1952 کو لاہور میں پیدا ہوئیں، عاصمہ جہانگیر سماجی کارکن ہونے کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کے لیے بھی کام کرتی رہی تھیں، اس کے علاوہ عدلیہ بحالی تحریک میں بھی انہوں نے فعال کردار ادا کیا۔ عاصمہ جہانگیر کے سوگواران میں ایک بیٹا اور 2 بیٹیاں شامل ہیں۔

ان کی وفات پر سیاسی و سماجی رہنماوں نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ صدر مملکت ممنون حسین اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ممتاز قانون دان عاصمہ جہانگیر کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔  چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار سمیت دیگر سینیئر وکلا نے بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

سابق وزرائےاعظم نواز شریف، چوہدری شجاعت اور یوسف رضا گیلانی سمیت سابق صدر زارداری نے بھی ان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ عمران خان، خورشید شاہ، چوہدری پرویز الہٰی اور شاہ محمود  قریشی سمیت دیگر سیاست دانوں نے بھی عاصمہ جہانگیر کی رحلت پر اظہار افسوس کیا اور دعائے مغفرت کی۔



فروری 10, 2018

سینیٹ سیٹ کے لئے ووٹ دینے کے لئے مسلم لیگ ن کے ایک رہنما نے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایم این اے کو 50 کروڑ کی پیشکش کردی : حامد میر کا انکشاف

سینیٹ سیٹ کے لئے ووٹ دینے کے لئے مسلم لیگ ن کے ایک رہنما نے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایم این اے کو 50 کروڑ کی پیشکش کردی : حامد میر کا انکشاف



پابندی کے بعد عامر لیاقت پہلی بار ٹیلی ویژن پروگرام میں: وسیم بادامی کے چبھتے سوالات پر عامر پریشان ہوگئے، کلپ دکھا دکھا کر سوالات کئے: دیکھئے

پابندی کے بعد عامر لیاقت پہلی بار ٹیلی ویژن پروگرام میں: وسیم بادامی کے چبھتے سوالات پر عامر پریشان ہوگئے، کلپ دکھا دکھا کر سوالات کئے: دیکھئے

فروری 9, 2018

سیلفی ایکسپرٹ اوپو موبائل ایچ بی ایل - پی ایس ایل 2018 کا آفیشل اسمارٹ فون پارٹنر بن گیا، رنگا رنگ تقریب میں اعلان


لاہور: اسمارٹ فون اور سیلفی ایکسپرٹ کے شعبے میں رہنما اوپو (OPPO) نے ایچ بی ایل پاکستان سوپر لیگ (پی ایس ایل) 2018 میں آفیشل اسمارٹ فون پارٹنر بن کر نئی تاریخ رقم کردی۔ اس شراکت داری کا اعلان آج ایک شاندار تقریب میں صحافیوں کے سامنے کیا گیا۔ اس تقریب میں بہت سی قابل ذکر اسپورٹس و میڈیا شخصیات بشمول حسن علی، پاکستانی قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کے ساتھ اوپو کی سینئر انتظامیہ، ، پی سی بی حکام اور صحافی موجود تھے۔ اس موقع پر معروف اسپورٹس صحافی زینب عباس نے ایک خصوصی سیشن کیا جس میں حسن علی کا انٹرویو بھی کیا گیا۔ اس اہم تقریب میں دستخط کے موقع پر اوپو پاکستان کے سی ای او جارج لانگ اور پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی ڈائریکٹر سیلز اینڈ مارکیٹنگ نائلہ بھٹی بھی موجود تھے جنہوں نے اس معاہدے پر دستخط کئے۔ 


انڈسٹری رپورٹس (جی ایف کے) کے مطابق اوپو 17 فیصد مارکیٹ شیئر کے ساتھ پاکستان میں دوسرا سب سے بڑا اسمارٹ فون برانڈ ہے۔ اوپو ایف 5 اور اوپو اے 37 اسمارٹ فون پاکستان میں دسمبر 2017 کی ٹاپ تین اسمارٹ فونز فہرست میں شامل ہیں۔ اوپو ہمیشہ سے ہی عالمی سطح پر کھیلوں اور انٹرٹینمنٹ کے ساتھ وابستہ رہا ہے اور کمپنی نے پی ایس ایل کا پہلا بین الاقوامی اسمارٹ فون برانڈ بن کر کرکٹ کے شعبے میں ایک بار پھر نیا معیار قائم کردیا ہے۔ ایچ بی ایل پی ایس ایل 2018 کا تیسرا سیزن ٹوئنٹی 20 کرکٹ لیگ کی فرنچائز ہے جسے پاکستان کرکٹ بورڈ نے 2015 میں قائم کیا۔ اس کا آغاز 22 فروری کو دبئی میں ہوگا۔ اوپو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کا گزشتہ چار سال سے اب تک گلوبل پارٹنر بھی رہا ہے۔ 


اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اوپو پاکستان کے سی ای او جارج لانگ نے کہا، "یہ میرے لئے اعزاز کی بات ہے کہ اوپو ایچ بی ایل پاکستان سوپر لیگ کے ساتھ پہلے بین الاقوامی اسمارٹ فون برانڈ کے طور پر شراکت داری کررہا ہے۔ بطور برانڈ اوپو نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور یہ ہمارا عزم ہے کہ ہر وہ چیز فراہم کریں اور اسے فروغ دیں جس میں نوجوان دلچسپی لیتے ہیں اور اس میں مشغول ہوتے ہیں۔ پاکستانی نوجوانوں کے لئے کرکٹ محض ایک کھیل نہیں بلکہ ایک طرح کا کلچر ہے جو اسپورٹس، گلیمر اور انٹرٹینمنٹ سمیت سب کا ایک منفرد امتزاج فراہم کرتا ہے۔ پی ایس ایل اور نوجوان پاکستانی کرکٹر حسن علی سے شراکت داری کے ساتھ میں پرامید ہوں کہ اوپو ملک میں کرکٹ سے محبت کرنے والے لاکھوں نوجوانوں کے دلوں کے مزید قریب آئے گا۔" 

پی سی بی کی ڈائریکٹر سیلز اینڈ مارکیٹنگ نائلہ بھٹی نے کہا، "پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے مجھے ایچ بی ایل پاکستان سوپر لیگ 2018 کے لئے اوپو کے ساتھ بطور آفیشل اسمارٹ فون پارٹنر کی شراکت داری پر انتہائی خوشی ہے۔ یہ ہمارے لئے انتہائی اعزاز کا مقام ہے کہ ہم پی ایس ایل کی تاریخ میں انٹرنیشنل اسمارٹ فون برانڈ کے طور پر پہلی بار شراکت داری کررہے ہیں جو پی ایس ایل کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ نوجوانوں میں کرکٹ اور اوپو بہت مقبول ہے اور مجھے یقین ہے کہ اس وابستگی سے پاکستان کے نوجوانوں میں کرکٹ کی حقیقی روح کو مزید فروغ دینے میں مدد ملے گی۔" 


پاکستان میں نوجوانوں میں کرکٹ کا جذبہ اور دلچسپی رکھنے کی زیادہ سے زیادہ کوششیں کرنے کے ساتھ اوپو نے پاکستان میں باصلاحیت نوجوان کرکٹ حسن علی پر مبنی پہلا ٹی وی کمرشل بھی متعارف کرایا ہے۔ اس تقریب میں زینب عباس کے ساتھ خصوصی سیشن میں انتہائی دلچسپ گفتگو کے دوران حسن علی نے اوپو کے ساتھ شراکت داری پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا، "میں تھوڑا نروس تھا، یہ ایک مختلف نوعیت کی پرفارمنس تھی لیکن میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ تجربہ شاندار رہا۔ مجھے امید ہے کہ میرے پرستار میرا پہلا ٹی وی کمرشل پسند کریں گے جس کے اندر میں نے اپنا بھرپور جذبات کا اظہار کیا ہے۔"

دنیا کے صف اول کے کیمرا فون برانڈ کے ساتھ شراکت داری پر گفتگو کرتے ہوئے حسن علی نے کہا، "میں اوپو کی نمائندگی کرنے پر انتہائی خوش ہوں، کیونکہ اس سے پاکستان کے نوجوانوں کی ترجمانی ہوتی ہے۔ میں نے اوپو ایف 5 استعمال کیا ہے اور میں اپنے نئے اوپو ایف 5 میں متاثر کن سیلفی فیچرز کا انتہائی مداح ہوں۔ شائقین کے لئے اوپو کی آرٹیفیشل انٹیلیجنس بیوٹی ریکاگنیشن ٹیکنالوجی، 20 ایم پی سیلفی کیمرا فل اسکرین اور دیگر نمایاں فیچرز کی بدولت کرکٹ کی دنیا میں اسے ویژول ڈیوائس کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔"


تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں