22 ستمبر، 2017

بھارت کی ورکنگ باونڈری پر بڑی جارحیت، گولا باری سے 4 خواتین سمیت 6 پاکستانی شہری شہید

راولپنڈی (ویب ڈسیک) بھارت کی اشتعال انگیزی جاری۔ ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی گولہ باری سے 4 خواتین سمیت 6 افراد شہید جبکہ 26 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فوج کی جانب سے مستقل سیزفائرکی خلاف ورزیاں ہورہی ہٰں اوربھارتی فوج نے ورکنگ باؤنڈری پر چارواہ اور ہرپال سیکٹرمیں شہری آبادی کونشانہ بنایا ہے، اس بھارتی اشتعال انگیزفائرنگ سے 4 خواتین سمیت 6 شہری شہید ہوئے یہں جبکہ 15 خواتین اور پانچ بچوں سمیت 26 سے زائد شہری زخمی ہوگئے ہیں۔ پاک فوج کے تعلقات عمہ کے ادارے کے مطابق بھارتی فائرنگ سے شہید ہونے والوں میں گاؤں کنڈن پورکا اشرف ولد مسعود، گاؤں بھینی سلیریاں کی مریم دختر اشفاق اورگاؤں گندیال کی شازیہ زوجہ احمد جب کہ چارواہ کے وسیم ولد انور، شکیلہ زوجہ ندیم اور نفیسہ دختر محمود بھی شامل ہیں۔

آئی ایس پی آر نے یہ بھی بتاہا ہے کہ بھارتی اشتعال انگیزی کا پنجاب رینجرز کی جانب سے موثر جواب دیا گیا ہے اور جوابی کارروائی میں بھارتی چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ڈی جی پنجاب رینجرز میجر جنرل اظہر نوید حیات نے ہرپال اور چارواہ سیکٹرز کا دورہ کیا۔ ڈی جی رینجرز نے ورکنگ باؤنڈری پر تعینات اہلکاروں اور بھارتی فائرنگ سے متاثرہ خاندانوں سے بھی ملاقات کی ۔ انہوں نے جوانوں کی جانب سے بھاعرتی اشتعال انگیزی کا موثر جواب دینے کی تعریف کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی فائرنگ کا ہمیشہ مؤثر جواب دیا اور آئندہ بھی دیں گے۔

سکول چپڑاسی نے سکول کی ننھی سی بچی کو درندگی کا نشانہ بنا ڈالا



بھارت (ٹائمز آف چترال نیوز ڈیسک 22 ستمبر 2017) سکولوں میں جنسی زیادتیوں کے واقعات جہاں ہر ملک میں کہیں نہ کہیں ہوتے رہتے ہیں لیکن بھارت اس معاملے میں سب سے آگے۔ بھارت کے پانی پت کے ایک سکول میں سکول چپڑاسی نے ایک 9 سال کی ننھی سی بچی کو جنسی درندگی کا نشانہ بنا ڈالا ہے، واقعے کی پوری خبر رکھنے کے باوجود جسے چھپانے کی سکول انتظامیہ نے سر توڑ کوشش کی۔ پانی پت کے دی میلینیم نامی سکول میں یہ واقعہ پیش آیا ہے جہاں سکول کے چپڑاسی نے ننھی بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا ہے۔ اس سے قبل ایک اور واقعے نے بھارت کو ہلا دیا تھا ایسے ہی ایک واقعے میں ایک 7 سال کی بچی جان بحق ہوئی تھی یہ واقعہ ریان انٹر نیشنل سکول میں پیش آیا تھا۔ 

سکول انتظامیہ واقعے کو دبانے کی کوشش کی لیکن گزشہ روز متاثرہ بچی کے ایک عزیز نے پولیس میں شکایت درج کی تو واقعہ کھل کر سامنے آگیا۔ جس کے بعد پولیس نے سکول کے5 میل سویپرز  سے پوچھ گچھ کی، تفیتیش کے بعد مجرم کی شناخت ہوگئی جسے پولیس نے گرفتار کرکے سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا۔ وقوعہ کے روز بچی کا میتھ کا امتحان تھا۔ والد نے بچی کو 7 بج 40 منٹ پر سکول ڈراپ کیا اور ساڑے 9 بجے سکول سے فون آیا کہ اس کی بچی سکول میں بہت رو رہی ہے۔ بچی امتحان بھی نہ دے سکی تھی، بچی کی حالت خراب تھی۔ والد اسے لیکر واپس گھر آیا تو والدہ نے بچی کا معائنہ کیا جس سے معلوم کے کہ بچی کے جسم پر خراش تھے یہ نشانات بچی کے حصہ مخصوصہ اور گردن پر تھے۔ ماں کے استفسار پر بچی نے سارا واقعہ بیان کیا۔ یہ سن کر ماں کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے

پسماندہ علاقوں کی غریب خواتین کے لئے ٹیف فاؤنڈیشن نے 3 ماہ پر مشتمل ٹریننگ کورس کا آغاز کردیا

کراچی: خواتین کو ووکیشنل ٹریننگ کے ادارے کے ذریعے بااختیار بنانے والے فلاحی ادارے ٹیف فاؤنڈیشن کی جانب سے کراچی کے مختلف پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کے باقاعدہ دوسرے گروپ کے لئے ساڑھے تین ماہ کی ٹریننگ کا آغاز کیا گیا ہے۔ سخت تربیت سے آراستہ اس کورس میں کھانے اور گھر کی دیکھ بھال سے متعلق کلاس روم اور عملی ٹریننگ شامل ہے، اس پروگرام کا مقصدزیر تربیت خواتین کو گھروں میں کام کے لئے بھرپور انداز سے پروفیشنل ڈومیسٹک ہیلپر زکے طور پر تیار کرنا ہے۔ 



ملک میں مخصوص مہارتوں کے ساتھ گھروں میں کام کرنے والی قابل اعتماد خواتین کی ضرورت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ پاکستانی معاشرے میں بہتری کی جانب گامزن سماجی و معاشی صورتحال میں اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے فلپائن، سری لنکا اور بنگلہ دیش جیسے ملکوں سے گھریلو کام کے لئے خواتین کو بلانا پڑتا ہے۔ ٹیف۔ وی ٹی آئی (TAFF-VTI)اس پوری صورتحال کو بدلنے کے لئے کوشاں ہیں تاکہ پاکستان کی اپنی خواتین کو تربیت و مہارت کی فراہمی کے ذریعے ادارہ جاتی بنیادوں پر گھریلو کام کرنے والی ان خواتین کی مدد کی جائے جو اس شعبے میں اپنا کیریئر بنانا چاہتی ہوں۔ اس ضمن میں پیشہ ورانہ مہارتوں کی حامل مقامی خواتین کو نہ صرف روزگار کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی جاتی ہے بلکہ معاشرے کے پسماندہ طبقے کی ان خواتین کے لئے روزگار کے بہترانداز سے آمدن کے بھی مواقع پیدا ہوں گے۔ 

ٹیف فاو ¿نڈیشن کی سی ای او عاتکہ لطیف نے بتایا، "ہمارا پروگرام تین سطحی ماڈل بھرتیاں، تربیت اور تعیناتیوں کے ذریعے خواتین کو منسلک کرتا ہے۔ اس لئے ہمارا مقصد صرف پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرنا نہیں ہے بلکہ بہترین معاوضے کے ساتھ تربیت یافتہ خواتین کے لئے ملازمتوں کو بھی یقینی بناتا ہے۔ یہ پروگرام پاکستانی خواتین کو نہ صرف پیشہ ورانہ مہارت کا اہل بنانے کے لئے تیار کرتا ہے بلکہ انہیں قانونی و مالیاتی طور پر بطور خاتون اپنے حقوق سے متعلق آگہی کے ذریعے بھی بااختیار بناتا ہے۔ ہم نے ملاحظہ کیا ہے کہ ان اضافی خوبیوں کی بدولت ان خواتین کی زندگیوں پر بڑا فرق پڑا ہے۔"

اس سے قبل ٹیف۔وی ٹی آئی نے دو گروپ متعارف کرائے جن میں خواتین کے پہلے گروپ کو آزمائشی بنیادوں طور پر ٹریننگ فراہم کی گئی ۔ آزمائشی طور پر کامیابی کے بعد ووکیشنل ادارے نے مزید خواتین کی تربیت کے لئے پہلا باقاعدہ گروپ ترتیب دیا ۔ تربیت مکمل ہونے کے بعد دونوں گروپوں کی بیشتر تربیت یافتہ خواتین پہلے سے کہیں زیادہ بہتر جگہ ملازمت سے وابستہ ہوگئیں۔ ٹیف۔ وی ٹی آئی کی ٹریننگ سے قبل وہ 4 ہزار سے 8 ہزار روپے ماہانہ کے حساب سے کما رہی تھیں لیکن اب کنٹریکٹ ملازمت کے ساتھ ماہانہ 20 ہزار سے 30 ہزار روپے کما رہی ہیں اور یہ کنٹریکٹ بھی پاکستانی لیبر قوانین کی بنیاد پر قائم کئے گئے ہیں جس کا انتظام وی ٹی آئی کا کیرئیر پلیسمنٹ سینٹر کرتا ہے۔ 

ٹیف۔ وی ٹی آئی کے آزمائشی گروپ کی ٹرینی خاتون سلطانہ بتاتی ہیں ،"ٹیف۔ وی ٹی آئی سے ٹریننگ کے حصول کے بعد میں خود کو انتہائی خوش قسمت سمجھتی ہوں۔ یہ میری زندگی تبدیل کرنے والا تجربہ ہے اور صرف وہی یہ بات سمجھ سکتا ہے جو ہمشہ پسماندگی میں رہا ہوں اور اسکی پوری زندگی استحصال کا شکار رہے۔ میرے کام کی مہارت اور معیار میں بہت زیادہ بہتری آچکی ہے، میرا اعتماد بہت بڑھ گیا ہے اور نہ صرف میرے خاندان بلکہ میرے سسرال اور علاقے میں بھی میری عزت و احترام میں اضافہ ہوگیا ہے۔" 

اس پروجیکٹ کو آہستہ آہستہ اہمیت مل رہی ہے اور پاکستان بھر کے کاروباری اداروں اور تنظیموں نے ٹیف وی ٹی آئی کے اقدام کو ملک میں جامع سماجی ترقی کے زیادہ جدت انگیز منصوبوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔ 


21 ستمبر، 2017

خالد شہنشاہ کے قتل کے منصوبہ بندی کے ہوئی: شاہد مسعود نے سب بتا دیا

خالد شہنشاہ کے قتل کے منصوبہ بندی کے ہوئی: شاہد مسعود نے سب بتا دیا

بھٹو خاندان کی تباہی کا ذمیہ دار زارداری ہے: پرویز مشرف

بھٹو خاندان کی تباہی کا ذمیہ دار زارداری ہے: پرویز مشرف 

بریکنگ: بے نظیربھٹو اور مرتضیٰ بھٹو کو کس نے قتل کیا۔ پرویز مشرف نے نام لیکر بتا دیا

دبئی (نیوز ڈیسک) اپنے اوپر عائد تمام الزام کو مسترد کرتے ہوئے سابق صدر اور آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ بے نظیر بھٹو کے قتل کا فائدہ کس کو ہوا ہے۔ ان کے قتل سے ان کو کیا فائدہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو اور ان کے بھائی مرتضیٰ بھٹو کو پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین آصف زرداری نے قتل کروایا ہے۔ بھٹو خاندان کی تباہی کا ذمہ دار زارداری ہے۔ بے ںظیر کے قتل سے مجھے فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہوا ہے۔

سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو کو 27 دسمبر 2007ء کو عام انتخابات کی مہم کے سلسلے میں راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ایک جلسے کے اختتام پر گاڑی میں سوار ہوتے ہوئے فائرنگ اور بم دھاکہ کے نتیجے میں شہید ہو گئی تھیں۔

اپنے ایک ویڈیو پیغام میں پرویز مشرف کا کہنا کہ آصف زاردی کی للکار میری برداشت سے بہار ہے اس جو جواب ضرور دوںگا۔ ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے بے نظیر بھٹو اوران کے بھائی مرتضیٰ بھٹو کے قتل کا ذمہ دار آصف علی زرداری کو قرار دیا۔

پرویز مشرف نے کہا کہ دیکھنا چاہیے کہ بے نظیر کے قتل کا فائدہ کس کو ہوا؟ کس نےبےنظیر کو ٹیلی فون کرکےگاڑی سے باہر نکلنے پر اکسایا؟ انہوں نے کہا کہ بے نظیر کے قتل کا فائدہ ایک ہی آدمی آصف زرداری کو ہوا، بیت اللہ محسود کو سازش کرکے استعمال کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ خالد شہنشاہ کو بینظیر بھٹو کا سیکورٹی انچارج آصف زرداری نے بنایا۔ وہ قتل کے وقت بینظیر بھٹو کی گاڑی میں دوسرے لوگوں کے ساتھ موجود تھا پھر کچھ دن بعد کراچی میں خالد شہنشاہ کو بھی مشتبہ حالات میں مروادیا گیا۔ پرویز مشرف نے قتل کی سازش میں سابق افغان صدر کرزئی اور بیت اللہ محسود کو شامل قراردیا۔
مشرف نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ بے نظیر بھٹو کی واپسی کا روٹ کس نے اور کیوں تبدیل کرایا۔ انہوں نے کہا کہ زارداری اور اہم شخص کی صدر کرزئی کے ساتھ اچھے تعلقات تھے۔
پرویز مشرف نے بے نظیر کے بچوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ بلاول، آصفہ اور بختاور کو بتانا چاہتے ہیں کہ بے نظیر کا اصل قاتل کون ہے۔


گرفتاری کے خوف سے اسحاق ڈار کا پاکستان آنے سے انکار، بیرون ملک موجوددیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک 21 ستمبر 17) وزیر خزانہ اسحاق ڈار گرفتاری کے خوف سے پاکستان آنے سے انکار کردیا ہے۔  وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اعلیٰ عدلیہ سے اپنی ضمانت قبل از گرفتاری کی منظوری تک اپنی وطن نہ آنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 

پاکستان کے سب بڑے اخبار ’’جنگ‘‘ کی رپورٹ کے مطابق آئندہ دو روز میں ان کے وکیل ضمانت قبل از گرفتاری کے لئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کریں گے۔ توقع ہے اسی روز ان کی ضمانت ہوجائے گی اور اس طرح وہ 25 ستمبر کو احتساب عدالت میں پیش ہو سکیں گے۔ معتبر ذرائع کے مطابق اسحاق ڈار کا بدھ 20 ستمبر تک وطن واپسی کا پروگرام تھا لیکن اپنے وکلاء سے مشورے کے بعد انہوں نے برطانیہ میں اپنا قیام طویل کردیا۔ ساتھ ہی آئندہ سماعت سے قبل احتساب عدالت میں ضمانتی بانڈ جمع کرادیئے جائیں گےاور جیسے ہی عدالت ضمانت منظور کرتی ہے وہ پاکستان واپس آجائیں گے۔ درخواست ضمانت قبل از گرفتاری مسترد ہونے کی صورت اسحاق ڈار وطن واپس نہیں آئیں گے اور ساتھ ہی وزارت خزانہ سے استعفیٰ بھی دے دیں گے۔واضح رہے کہ وفاقی کابینہ میں ان کے ساتھیوں نے اس منصب کے لئے دوڑ دھوپ شروع کردی ہے۔قومی احتساب بیورو(نیب) انہیں پہلے ہی نوٹس روانہ کرچکا ہے کہ وہ نیب آرڈیننس کی دفعہ۔23کے تحت اپنی جائیداد کسی دوسرے کو منتقل نہ کریں۔ اس حوالے سے متعلقہ حکام کو خطوط لکھ دیئے گئے ۔ نیب میں ذرائع نے بتایا کہ ملزم کی جانب سے جائیداد کی منتقلی آئندہ20سال بعد بھی منسوخ تصوّر کیا جائے گا۔


نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی اوراسکا تداراک: تحریر ایمان ملک

نورین لغاری کا داعش میں شامل ہونا،عبدالولی خان یونیورسٹی میں مشال خان کو تشدد کا نشانہ بنانا، سبین محمود کے قتل کے علاوہ اب دہشت گرد تنظیم 'انصار الشرعیہ پاکستان' میں اعلٰی تعلیم یافتہ نوجوانوں کا ملوث پایا جانا،ایسے واقعات ہیں جو ہماری نوجوان نسل کو دہشت گردقوتوں کی تشدد پسندانہ سوچ کے سامنے غیر محفوظ ثابت کرتے ہیں۔ اور یہی واقعات اس تلخ حقیقت کی بھی عکاسی کرتے ہیں کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کا انتہا پسندی کی طرف بڑھتا ہوا جھکاؤ،پاکستان کو درپیش سیکورٹی خطرات میں ایک نیا چیلنج بن کر ابھرا ہے جس سے نمٹنے کے لئے فی الفور کسی ایسی جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے جو کہ ایک مؤثر تحقیق پر مبنی ہو۔

یقیناً خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے۔ کیونکہ اب ہمارے سکولوں ،کالجوں، اور جامعات کو بھی نشانہ بنا کر ہماری نظریاتی سرحدوں پرتابڑ توڑ حملے کیئے جا رہے ہیں۔ جو کہ پاکستان کو درپیش ایک گھمبیر صورتحال کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ بظاہر پاکستان کی سرزمین سے ان شر پسند آماجگاہوں کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہے جس میں کلیدی کردار پاکستانی افواج کا ہے۔ مگر پھر بھی یہ خطرناک صورتحال ہمارے پالیسی ساز اراکین، سیاستدانوں،جامعات کے چانسلروں اور ماہرین تعلیم، دانشوروں اور ادیبوں کی کارکردگی پر سوال اٹھاتی ہے جو نظریاتی سرحدوں کے اولین سپاہی سمجھے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کی موجودہ اشکال فرقہ واریت، خطے کی سیاست، متفرق قومیتوں اور نسلی تضادات کا مجموعہ ہے جس کی بنیاد داخلی اور خارجی دونوں طرح کے محرکات سمجھے جاتے ہیں۔ اگر ہم تاریخ کا تنقیدی جائزہ لیں تو یہ تلخ حقیقت ہم پر آشکار ہوتی ہے کہ انتہا پسندی نے اپنی "پیدائش" سے لے کر "افزائش" تک ایک مکمل فطری راستہ اختیار کیا اور بدقسمتی سے ہم اس دوران گونگے اور بہرے بنے رہے۔ مثلاً اختلافات کا پیدا ہونا، پھر ان کا نفرتوں میں بدلنا،اور ان نفرتوں کا بتدریج انتہا پسندی کی شکل اختیار کرنا، پھر تشدد پسند انتہا پسندی اور آخرکارخودکش حملوں کا روپ دھار لینا۔ 

اگر سنہ1950ء سے سنہ 1990ء کی دہائی پر نظر دوڑائیں تو نہ صرف اساتذہ کا معاشرے میں تعمیری کردار نظر آتا ہے بلکہ پاکستان کے محلوں، قصبوں، سکول، کالج یونیورسٹیوں کے علاوہ فنون لطیفہ، تھیٹر، ثقافت، کھیلوں کے ذریعے ہمارے معاشرے میں مثبت سوچ کی افزائش ہوتی ہوئی بھی دکھائی دیتی ہے۔

ماضی کے برعکس،اب ہمارے معاشرے میں استاد اور طالبعلم کا رشتہ سرے سے یا تو غائب ہو چکا ہے یا پھر بدقسمتی سے سماجی اور معاشی رشتے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ایک دانشور بوب ٹیلبرٹ کا مشہور قول ہے کہ" اچھے استاد مہنگے ضرور ہوتے ہیں مگر برے استاد بہت مہنگے پڑتے ہیں۔"

علاوہ ازیں،اب ہمارا معاشرہ بچوں کی پرورش، اخلاقیات اور محتاط رویوں کو اپنانے سے متعلق ان کی تربیت سازی میں نہایت سست روی کا شکار ہے۔ نیز یہ عوامل والدین کی جانب سے اپنے فرائض میں برتے جانے والی کوہتائیوں کی قلعی کھول کر رکھ دینے کے لئے کافی ہیں۔ جس کے باعث بچوں کے رجحانات میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ اب کھیل، ثقافت، غرض فنون لطیفہ سب ناپید ہو گئے ہیں اورانکی جگہ انفرادی سرگرمیوں نے لے لی ہے جن میں انٹرنیٹ اور سماجی رابطے کی ویب سائٹس کا غیر ضروری اور بےجا استعمال شامل ہے۔

تحقیق سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ غربت اور دہشت گردی کی آپس میں کوئی مناسبت نہیں۔ اسی طرح گزشتہ دہائی کا یہ بیانیہ کہ مذہب اور دہشت گردی کا آپس میں گٹھ جوڑ ہے وہ بھی اب بے وزن اور بے وقعت ہوتا نظر آرہا ہے۔

اب طالب علموں اور اساتذہ میں شارٹ کٹ اختیار کرنے کا رجحان رواج پکڑتا جا رہا ہے۔ جس میں چھ ماہ کے سمسٹر کو تین ماہ میں مکمل کرنے کی روش شامل ہے۔ طالب علم اپنے اساتذہ کی ہدایات کے پیش نظر اپنے مطلوبہ نوٹس کے لئے فوٹو سٹیٹ کی دکانوں کی طرف بھاگتے ہیں۔ تحقیق اور کتب خانوں کا کلچر بھی بمشکل ہی کہیں کسی تعلیمی ادارے میں زندہ ہو۔ ہمارے ہاں ای پیپرز کی خاطر خواہ سہولت میسر ہونے کے باوجود اخبارت پڑھنے کے رجحان کا بھی فقدان پایا جاتا ہے۔

انہی مذکورہ بالا وجوہات کے پیش نظر کسی بھی معاشرے میں تنقیدی سوچ اور موذوں دماغوں کی افزائش میں کمی ایک فطری سی بات ہے۔ لہٰذا نوجوانوں کو انتہا پسندی سے محفوظ رکھنے کے لئے متوازن تعلیم کے ساتھ ساتھ والدین کے فعال کردار کی بھی ضرورت ہے۔ جامعات میں تشدد کے کلچر کے مکمل تدارک کے لئے وہاں سیاسی سرگرمیوں پر پابندی ہونی چاہیئے۔

نیز نصاب کی تبدیلی کی بجائے اس پر منصفانہ عمل درآمد کو یقینی بنایا جانا چاہیئے۔ نوجوانوں میں مثبت سوچ کو فروغ دینے کے لئے بحث و مباحثے کے کلچر کو عام کرنا بھی وقت کی پکار ہے۔ اس کے علاوہ ریاست کے ہر ایک ستون کواب نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اورانہیں پاکستان کا مفید شہری بنانے کے ضمن میں ریاست کا ساتھ دینا ہو گا کیونکہ اکیلی ریاست کچھ نہیں کر سکتی۔
_______________________

نوٹ: ادارے کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔


حامد میر نے ن لیگ کے بارے میں حیران کن انکشاف کرڈالا۔ دیکھئے وٹس اپ کالوں میں کیا کیا جاتا ہے

حامد میر نے ن لیگ کے بارے میں حیران کن انکشاف کرڈالا۔ دیکھئے وٹس اپ کالوں میں کیا کیا جاتا ہے

20 ستمبر، 2017

میراگرام میں ڈسپنسری کھولنے سے میراگرام کی عوام کو صحت کی بنیادی سہولتیں گھر کی دہلیز میں میسر آئیں گی۔ ڈاکٹر فیاض رومی


میراگرام(نامہ نگار) میراگرام ایک الگ تھلک گاؤں ہے خاص کر سردیوں میں بیماروں کو بہت مشکل کا سامنا ہوتا ہے اس لیے میراگرام میں عارضی ڈسپنسری کھولنے سے میراگرام کی عوام کو صحت کی بنیادی سہولتیں گھر کی دہلیز میں میسر آئیں گی ۔یہ بات ڈپٹی ڈی ایچ اور فیاض رومی نے میرگرام میں اے کے ایچ ایس پی کے سینٹرل ایشیا ء ہیلتھ سسٹم اسٹرنینتھینگ پراجیکٹ کے زیر اہتمام منعقدہ ٹی بی اور ذہنی صحت کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ اس ڈسپنسری میں ہفتے میں تین دن کے لیے سنوغر یا بونی سے ڈسپنسر آکے ڈیوٹی سر انجام دیں گے ۔

انہوں نے آغا خان ہیلتھ سروس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ ٔہذا گورنمنٹ کا پارٹنر ادار ہ ہے ۔اس ادارے کاز پراجیکٹ کے تحت چترال کے مختلف ہسپتالوں میں تقریباً ۴۰ کروڑ تک کا سامان فراہم کیا ۔ اس فیاضانہ مدد پر ہم ان کے مشکور ہیں ۔ انہوں نے پرجیکٹ کے زیر انتظام مختلف امراض کے حوالے سے آگاہی سیمینار کی کاوش کو بھی سراہا۔

سی-اے-ایچ-ایس-ایس پراجیکٹ کے سربراہ پراجیکٹ کے مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس پراجیکٹ کا پہلا مقصد چترال کے مختلف ہسپتالوں کو جدید آلات سے لیس کرنا تھا ۔ اس سلسلے میں ابھی تک مختلف ہسپتالوں کو ۴۰ کروڑ تک کے سامان مہیا کیے گئے ہیں جن میں سے ایک بونی میڈیکل سنٹرکا ایمبولینس بھی ہے جس کو مِنی ہسپتال کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا ۔جدید آلات دینے کے بعد دوسرا مرحلہ ان کے استعمال اور چلانے کا ہے اس سلسلے میں ڈاکٹرز،ٹیکنیشن، اور ایل ایچ ویز کو ٹرین کیا گیا جس میں پرائیویٹ کے ساتھ ساتھ گورنمنٹ اسٹاف بھی شامل ہیں ۔ 

اس پراجیکٹ کا تیسرا اہم مقصد آگاہی سیمینار ز ہیں ۔اور آج کا سیمینار بھی اس سلسلے کی ایک کڑ ی ہے ابھی تک تقریباً چترال کے تمام سکولوں،مسجدوں ، جماعت خانوں اور مختلف علاقوں میں کئی امراض کے حوالے سے آگاہی سیمینار منعقد کراچکے ہیں ۔

اس کے ساتھ ساتھ ہیلتھ کارڈ،اسکریننگ ٹیسٹ ،آغاخان ہسپتال بونی اور گرم چشمہ میں ای ہیلتھ کلنیک(E-Health Clinic ) وغیرہ مقاصد کے تحت یہ پراجیکٹ کام کرہا ہے ۔

سیمینار میں ذہنی صحت کے بارے میں آغاخان ہسپتال بونی کے سائیکلوجسٹ ناہیدہ نے پریزنٹیشن دی اور ذہنی و نفسیاتی بیماریوں کی علامات ،پہچان ،علاج کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو کی۔ جسے حاضرین نے خوب سراہا اور مذید اس قسم کے پروگرامات کے انعقاد پر زور دیا ۔ڈاکٹر فیاض رومی نے ٹی بی کی علامات اور اس کے بچاؤ کے حوالے سے حاضرین کو بتایا ۔ آخر میں معروف سماجی کارکن علی محمد نے تمام مہمانانِ گرامی کا شکریہ ادا کیا اور اسی طرح یہ سیمینار اپنے اختتا م کو پہنچا۔



چترال میں بجلی کا شدید بحران: عوام کا لوڈ شیڈینگ کے خلاف بڑا احتجاجی مظاہر، اہم شاہراہ کئی گھنٹوں تک معطل رہا


چترال (رپورٹ محکم الدین) چترال کے پانچ ویلج اور نائبر ہوڈ کونسلوں کے نمایندگان اور عوام نے لوڈ شیڈنگ کے خلاف زبردست احتجاج کرتے ہوئے مسئلے کے حل تک دھرنا جا ری کھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ منگل کے روز چترال ٹاؤن کے مختلف دیہات ، اورغوچ ، دنین ، جغور ، شیاقو ٹیک ، خورکشاندہ کے بلدیاتی نمایندگان اور عوام نے چیو پُل چترال میں واپڈا آفس کے سامنے احتجاجی جلسہ منعقد کیا ۔ اور چترال بونی روڈ کو کئی گھنٹوں تک بند کئے رکھا ۔ جس سے اپر چترال اور شہر کے اند ر لوگوں کو آمدورفت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ احتجاجی مظاہرین چترال میں دستیاب بجلی کو سابقہ شیڈول کے مطابق تمام ویلج کونسلوں میں تقسیم کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے ۔ جنہیں گذشتہ کئی دنوں سے مکمل طور پر بجلی سے محروم رکھا گیا تھا ۔ مقررین نے کہا ۔ کہ ہم چترال شہر کے ہسپتالوں اور بازار میں بجلی کی فراہمی کی حمایت کرتے ہیں ۔ لیکن دفتری اوقات کے بعد یہی بجلی دوسرے دیہات کو بھی دیا جائے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ہم بجلی استعمال کئے بغیر گذشتہ کئی عرصے سے بجلی کے بل ادا کر رہے ہیں ۔

مقررین نے ایس آر ایس پی ، واپڈا ، پیسکو اور پیڈو کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔ اُن کے خلاف نعرے لگائے ، اور کہا ۔کہ ان ناہل اداروں کی وجہ سے چترال اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ گولین میں ایس آر ایس پی کے زیر نگرانی بجلی گھر چترال ٹاؤن کیلئے بنائی گئی تھی ۔ لیکن ایس آر ایس پی نے خفیہ طور پر کوہ یوسی سے معاہدہ کرکے شہر کو اندھیروں میں رکھنے کا کردار ادا کیا ۔ اب کمیونٹی میں اختلافات پیدا کرنے کی کو شش کی جارہی ہے ۔ مقررین نے پاور کمیٹی کو بھی قصور وار ٹھہرایا ۔ اور کہا ۔ کہ اُس کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک کر اُسے دفن کیا جا چکا ہے ۔ اب کوئی بھی نپاور کمیٹی کا نام نہیں لے سکتا ، انہوں نے کہا کہ چترال ایک پُر امن ضلع ہے ۔ لیکن یہاں نااہل اداروں کی وجہ سے حالات بگڑتے جارہے ہیں ۔ اس کی ذمہ دار حکومت اور یہاں کے اداروں میں براجمان آفیسران ہیں ۔ جو عوام کے مسائل حل کرنے کی بجائے دانستہ طور پر اُنہیں مسائل سے دوچار کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ قوم کے منڈیٹ کی بے حرمتی کی جارہی ہے ۔ اور جو فیصلے کئے جاتے ہیں ۔ اُن پر ایک فیصد بھی عمل نہیں کیا جاتا۔ اُنہوں نے کہا ۔ کہ یہ کہاں کا انصاف ہے ۔ کہ بعض علاقوں کو چوبیس گھنٹے بجلی دی جائے اور بعض کو مکمل طور پر محروم رکھا جائے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ مسئلے کا واحد حل یہ ہے ۔ کہ جتنی بجلی دستیاب ہے ۔ اُسے دن کے وقت ہسپتالوں ، دفاتر اور بازار کو دی جائے ۔ لیکن شام پانج بجے کے بعد طے شدہ شیڈول کے مطابق محروم وی سیز میں تقسیم کیا جائے ۔ ااور جب تک منصفانہ تقسیم نہیں ہوگی ۔ احتجاج میں مزید شدت آئے گی ۔

احتجاجی جلسے سے صدر آل ناظمیں ایسوسی ایشن سجاد احمد ، امیر جماعت اسلامی مولانا جمشید احمد ، محمد کوثر ایڈوکیٹ ، صدر چترال چیمبر آف کامرس سرتاج احمد خان ،کونسلر شمس الرحمن ، ظاہرالدین ، قاضی سیف اللہ ، نائب ناظم اعجاز احمد اور ناظم نوید احمد بیگ نے خطاب کیا ، درین اثنا اسسٹنٹ کمشنر چترال عبد الاکرم نے دھرنا ملتوی کرنے اور اس مسئلے کو باہمی گفت و شنید کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ہے ۔ انہوں نے احتجاج کرنے والوں سے مذاکرات کئے ۔ اور چترال بونی روڈ کھول دی ۔ تاہم مسئلے کے حتمی حل کیلئے مظاہرین کے نمایندہ وفد اور ضلعی انتظامیہ کے مابین گذشتہ چار گھنٹوں سے بات چیت جاری ہے ۔ لیکن تا دم تحریر فیصلہ نہیں کیا جا سکا ہے ۔

کرتب دکھاتے ہوئے گر کر نوجوان پیرا گائیڈ جان بحق


یاسین:  غذرکا اکلوتا معروف نوجوان پیراگیلایئڈرہدایت اللہ بیگ گزشتہ روز گوپس کے مقام پر گلائڈنگ کے دوران چھتری (پیراشوت) سمیت گرکرجان بحق ہوگئے ۔
تفصیلات کے مطابق تحصیل یاسین کے گاوں گـِندائے سے تعلق رکھنے والے ہونہار نوجوان پیراگلائڈرہدایت اللہ بیگ گزشتہ روز گوپس یوتھ کی جانب سے یوم د فاع کے حوالے سے منعقدہ فٹ بال ٹورنامنٹ کے فائبل میچ سے قبل گراونڈ سے متصلہ پہاڑی کے اوپر سے چھتری کے ذریعے اترنے کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق، عین گراونڈ کے اوپر پہنچ کر وہ ہوا میں توازن برقرار نہ رکھ سکا، اورچھتری سمیت گروانڈ کے درمیان میں زور سے جاگرا ۔

گرونڈمیں موجود لوگوں نے فوری طور پر زخمی گلایئڈر کو قریبی ہسپتال منتقل کیا، جہاں سے اسے آغاخان ہیلتھ سنیٹرسنگل منتقل کیا گیا۔ لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان بحق ہوگئے ۔

ہدایت خان نے اس سال شندور پولوفیسٹول کے دوران گلائڈنگ میں گلگت بلتستان کا نمائندگی کرتے ہوئے اپنے فن کا شاندار مظاہرہ کیا تھا۔

ٹیکنالوجی کمپنی لینوو نے پاکستان میں موٹو ای 4 اور موٹو ای 4 پلس سمارٹ فونز متعارف کردیئے


کراچی (ٹائمز آف چترال نیوز)  ٹیکنالوجی کمپنی لینوو (Lenovo) نے اپنے ذیلی ادارے موٹرولا موبلٹی کے ذریعے پاکستان میں موٹو ای 4 (Moto E4) اور موٹو ای 4 پلس (Moto E4 Plus) کے نام سے اسمارٹ فون متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔

آج مارکیٹ میں مختلف اقسام کے اسمارٹ فونز کی کوئی قلت نہیں ہے۔ ان ڈیوائسز میں بہت سے آپشنز یکساں ، ایک جیسے متوقع فیچرز اور مختلف معیار کے ساتھ مارکیٹ میں موجود ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ کے پاس اپنے معیار اور ضروریات پوری کرنے کے لئے محدود سے آپشنز رہ جاتے ہیں۔

تاہم موٹو ای 4 اور موٹو ای 4 پلس دیکھنے میں خوبصورت اور بڑی تبدیلیوں کے ساتھ آپ کو تمام اہم چیزیں اپنی مطلوبہ قیمت کے اندر فراہم کرتے ہیں جیسے پورے دن کی بیٹری، غیرمعمولی ڈسپلے اور جدید کیمرے کی خصوصیات ہیں۔ 

موٹو ای 4 میں شاندار 5 انچ کا ایچ ڈی ڈسپلے اور نفیس میٹل ڈیزائن ہے۔ یہ تیزی کے ساتھ اسٹیٹس اپ ڈیٹ کرتا ہے اور آسانی سے ویڈیوز کی اسٹریمنگ کرتا ہے اور یہ چیزیں کواڈکور پروسیسر اور موٹو ای 4 کی 4Gاسپیڈ سے چلتی ہیں۔ 

موٹو ای 4 میں 8 میگا پکسل کا آٹو فوکس کیمرا ہے، اس لئے آپ بہترین تصویر حاصل کرنے کا کبھی کوئی موقع ضائع نہیں کرپائیں گے۔ اس کے علاوہ اس کا 5 میگا پکسل کا فرنٹ کیمرا کم روشنی میں بھی بہترین سیلفی لینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ 

موٹو ای 4 میں 2800 ایم اے ایچ کی لمبی بیٹری ہے جس کی وجہ سے آپ کو دن بھر ری چارجنگ کی فکر نہیں ہونی چاہیئے۔ 

اسکا دوسرا اسمارٹ فون موٹو ای 4 پلس میں ایچ ڈی ڈسپلے اور مزید زیادہ بیٹری بھی ہے۔ موٹو ای 4 پلس میں 5.5 انچ کا ایچ ڈی ڈسپلے ہے، یہ اسمارٹ فون ہموار دھاتی سطح کا حامل ہے اور ایک بار ہاتھ میں پکڑنے کے بعد اسے واپس رکھنے کا دل نہیں کرتا ۔ اس کی 5000 ایم اے ایچ کی انتہائی طاقتور بیٹری ہے، اس وجہ سے اسکی چارجنگ سے صارف بالکل بے فکر ہوجاتے ہیں۔ جب چارجنگ کی ضرورت ہوتی ہے تو اس وقت موٹو ای 4 پلس 10 واٹ کے تیزرفتار چارجر کے ساتھ کام کرتا ہے اور چند منٹ کی چارجنگ سے ہی کئی گھنٹے استعمال کے لئے بیٹری حاصل ہوجاتی ہے۔ 

اس اسمارٹ فون کو تیز رفتاری سے ان لاک کرنے کے لئے انگلیوں کے فنگرپرنٹ استعمال کئے جاسکتے ہیں۔ جب یہ ایک بار کھل جاتا ہے تو موٹو ای 4 پلس میں شامل 13 میگا پکسل کے بیک کیمرا اور فلیش کی خصوصیت سے مزین 5 میگا پکسل کے فرنٹ کیمرے سے تصویر حاصل کرنے کا آپ پھر کوئی موقع ضائع نہیں کریں گے۔ اسکے کیمرے سے خوبصورت تصاویر ہلکی روشنی میں بھی لی جاسکتی ہیں۔ 

اپنے کواڈ کور پروسیسر اور 4Gاسپیڈ کے ساتھ موٹو ای 4 پلس اپنی پسندیدہ ویب سائٹس، گیم کھیلنے سمیت بہت سارے کام کرسکتے ہیں۔ دنیا کے سب سے مقبول آپریٹنگ سسٹم اینڈرائڈ 7.1 کے اپ ڈیٹ شدہ ورژن کے ساتھ آپ موٹو ای 4 پلس سے مزید بہترین کارکردگی کی توقع رکھیں۔ 

موٹو ای 4 اور موٹو ای 4 پلس پاکستان بھر میں ہمارے پاٹنرز گرین ٹیک اور ٹیک سیرات پر مختلف اقسام کی خوبصورت دھاتی باڈی کے ساتھ دستیاب ہیں۔ موٹو ای 4 گولڈن، گرے اور نیلے رنگ میں 14ہزار 999روپے جبکہ موٹو ای 4 پلس گولڈ اور گرے رنگ میں دستیاب ہے جس کی قیمت 19ہزار 999روپے سے شروع ہورہی ہے۔ 

دونوں سمارٹ فونز کی دیگر تفصیلات درجہ ذیل چارٹ میں ملاحظہ کریں




19 ستمبر، 2017

ان پیج استعمال کرنے والے ہوجائیں مختاط : ان پیج پاکستانیوں کی جاسوسی کررہا ہے، وزارت اطلاعات و نشریات کے خط میں دعویٰ

کرٹیسی: ماہنامہ کمپیوٹنک

اخباری اطلاعات کے مطابق پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات کے سائبر ونگ نے اپنی ہی وزارت کے تمام شعبوں کو بذریعہ خط مطلع کیا ہے کہ اردو ڈیسک ٹاپ پبلشنگ کے معروف سافٹ ویئر ان پیج کو جاسوسی کے لیے استعمال کیاجارہا ہے۔ یہ خط وزارت کے سائبر ونگ میں تعینات نیٹ ورک ایڈمنسٹریٹر محمد بلال ظفر کی جانب سے تحریر کیا گیا ہے۔


ان پیج صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں اردو، سندھی، پشتو اور دیگر نستعلیق طرز تحریر استعمال کرنے والی زبان بولنے اور لکھنے والے استعمال کرتے ہیں۔ صرف پاکستان میں ہی ایک کروڑ سے زیادہ لوگ اس سافٹ ویئر کو استعمال کرتے ہیں جبکہ بھارت ، برطانیہ اور امریکہ میں بھی یہ سافٹ ویئر استعمال کرنے والے لاکھوں کی تعداد میں ہیں۔ اگر صرف پاکستان کی بات کی جائے تو یہاں ان پیج تین دہائیوں سے بھی زیادہ عرصے سے استعمال کیا جارہا ہے۔

ان پیج تیار کرنے والی کمپنی Concept Software کا تعلق بھارت کی ریاست ہریانہ سے ہے اور وزارت اطلاعات و نشریات کے خط میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس کمپنی کا مبینہ تعلق بھارتی خفیہ ایجنسیوں سے ہے اور یہ ایجنسیاں ان پیج کی مدد سے پاکستانی صارفین کا ڈیٹا چرا رہی ہیں۔ خط میں اس حوالے سے مزید کوئی تفصیل نہیں دی گئی کہ یہ دعویٰ کس بنیاد پر کیا گیا ہے ۔ ماضی میں بھی ان پیج پر اس قسم کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں لیکن کبھی بھی کوئی ایسا تحقیقی مواد نہیں دیا گیا جو الزامات کو ثابت کرتا ہو۔

ماہنامہ کمپیوٹنگ نے جب کانسیپٹ سافٹ ویئر سے اس حوالے سے رابطہ کیا تو ان کی جانب سے تاحال کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

یہ خبر ماہنامہ کمپیوٹنگ سے شائع کی گئی۔ اصل سورس پر پڑھنے کے لئے لنک پر کلک کریں: ماہنامہ کمپیوٹنگ 


بینک آف چائنا لمیٹڈ کو پاکستان میں بینکاری کی اجازت دے دی گئی، بینک دنیا کے 50 ممالک میں کاروبار کررہا ہے

کراچی (نیوز ڈیسک) پاکستان میں چین کے 2 بینکوں کو کاروبار کی اجازت مل گئی۔ اس سے قبل دی انڈسٹریل اینڈ کمرشل بینک آف چائنا پاکستان میں کاروبار کا آغاز کرچکا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے لیے بینک آف چائنا لمیٹڈ کو بینکاری کاروبار شروع کرنے کی اجازت دینا باعثِ مسرت ہے۔ قبل ازیں، اسٹیٹ بینک نے مئی 2017 میں اس بینک کو بینکاری لائسنس جاری کیا تھا۔ بینک آف چائنا نے پاکستان میں بینکاری کاروبار شروع کرنے کے لیے درکار اسٹیٹ بینک کے اہم ضوابطی اور آپریشنل تقاضوں کو پورا کیا ہے۔

بینک آف چائنا ،چین کی حکومت کے سرمایہ کاری بازو چائنا سینٹرل ہوئی جن کا ایک ذیلی ادارہ ہے۔ سطح اول سرمائے اور مجموعی اثاثوں کے لحاظ سے بینک آف چائنا دنیا کا چوتھا اور پانچواں بڑا بینک ہے۔ یہ شنگھائی اسٹاک ایکس چینج اور ہانگ کانگ اسٹاک ایکس چینج میں لسٹڈ ہے۔ عالمی سطح پر بینک آف چائنا کا کاروبار دنیا کے 50 ممالک میں پھیلا ہوا ہے جس میں سے 19 چین کے ون بیلٹ ون روڈ پر واقع ہیں۔

بینک آف چائنا پاکستان میں داخل ہونے والا چین کا دوسرا بینک ہے۔ پاکستان میں بینک آف چائنا کے داخلے سے نہ صرف پاکستان اور چین کے درمیان دوطرفہ روابط مزید مضبوط ہوں گے بلکہ یہ ملک کے بینکاری شعبے اور مستحکم معاشی امکانات پر بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کو بھی ظاہر کرتا ہے۔بینک آف چائنا اپنے تجربے اور عالمی ٹیکنالوجی پلیٹ فارم کے ذریعے پاکستان میں پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) سے متعلق منصوبوں کی فنانسنگ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اسپیشلائزڈ بینکاری خدمات فراہم کرنا چاہتا ہے۔

ریلوں کی ٹکٹیں صارفین کو آن لائن فراہم کرنے کے لئے جاز کیش اور پاکستان ریلویز کے درمیان معاہدہ

کراچی: جاز کیش اور پاکستان ریلویز کسٹمرز کو ٹکٹوں کی آن لائن ادائیگی میں سہولت فراہم کریں گے۔ اس سہولت کی فراہمی کے لیے جاز کیش اور پاکستان ریلویز کے درمیان حال ہی میں ایک معاہدے پر دستخط کیے گیے ہیں جس کے تحت کسٹمرز اب پاکستان ریلویز کی ویب سائٹ یا پاکستان ریلویز موبائل ایپ کے ذریعے اپنے ٹکٹوں کی آن لائن بکنگ کرا سکیں گے اور جاز کیش موبائل اکاؤنٹس، جاز کیش ایجنٹس یا کسی بھی بینک کے ڈیبٹ/کریڈٹ کارڈکے ذریعے ادائیگی کر سکیں گے۔



یہ سولوشن پاکستان ریلویز میں آن لائن ٹکٹوں کی فیس کی مالی رپورٹنگ اور تصفیہ کے میکانزم میں بہتری لے کر آئے گا۔ اس سروس کو جاز کیش موبائل ایپلیکیشن میں ضم کر دیا جائے گا جس سے ویب پر کام کرنے والی انٹرفیس کے ذریعے کسٹمرز اپنے گھر کے آرام دہ ماحول میں سے ادائیگی کر سکیں گے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے، وفاقی وزیر برائے ریلویز، خواجہ سعد رفیق نے کہاکہ پاکستان ریلویز نے گزشتہ چار برسوں کے درمیان مثالی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور ہم نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ کوئی بھی ادارہ دنیا میں استعمال ہونے والی نئی ٹیکنالوجی اپنا کر ہی ترقی کرسکتا ہے ۔

پاکستان ریلویز میں بہتری کے ذریعے ہم 2 کروڑ سے زائد مسافروں کو راغب کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں اورانہیں مزید سہولتیں فراہم کرنے کی غرض سے ہم نے آئی ٹی سولوشنز کا انتخاب کیا ہے۔ ہم نے نہ صرف ای ٹکٹنگ کا نظام متعارف کرایا ہے بلکہ اسے اپنے مسافروں کے لیے مسائل سے پاک بھی بنایا ہے۔ یہ موجودہ ای ٹکٹنگ سسٹم کی کامیابی ہے کہ مارکیٹ کے ممتاز مالی ایجنٹس نے پاکستان ریلویز کا بزنس پارٹنرز بننے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

آج ہم جاز کیش کے ساتھ ڈیجیٹائزڈ پیمنٹ موڈ کے لیے شراکت داری قائم کر رہے ہیں جو کامیابی اور اپنے کسٹمرز کو سہولتیں فراہم کرنے کے ہدف کے حصول کی جانب ہمارے سفر کا اہم سنگ میل ہے۔ ہم پاکستان ریلویز کو علاقے میں ایک بہترین ٹرانسپوریٹیشن نیٹ ورک بنانے کے لیے پر عزم ہیں۔جاز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر ابراہیم نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ جاز کیش پبلک ٹو گورنمنٹ ادائیگیوں کو ڈیجیٹائز کرنے کے لیے پرعز م ہے۔

اس سولوشن کو پاکستان ریلویز سے سفر کرنے والوں کو سہولت فراہم کرنے کی غرض سے تیار کیا گیا ہے تاکہ انہیں ٹکٹوں کی خریداری کے لیے طویل قطاروں میں نہ کھڑارہنا پڑے۔ ڈیجیٹل کے اس عہد میں سہولت اب ضرورت بن گئی ہے اور جاز کیش نہ صرف اپنے کسٹمرز کے لیے بلکہ پوری قوم کے لیے اس بات کو یقینی بنانے میں رہنما کا کردار ادا کررہا ہے بلکہ پوری قوم کو اس ٹیکنالوجی سے پہنچنے والی سہولت سے بھی فائدہ پہنچانا چاہتا ہے۔

جاز کی چیف ڈیجیٹل اینڈ فنانشل سروسز آفیسر انیقہ افضل ساندھو نے کہاکہ ممتاز ڈیجیٹل کمپنی کی حیثیت سے ہمارے کسٹمرزکی مالی خدمات کو انتہائی ترجیح دینے کی ضرورت ہے اور ہم انہیں بہترین خدمات فراہم کرنے کے لیے اپنی سخت کوششیں جاری رکھیں گے۔ جاز کیش اپنے ڈیجیٹل پیمنٹس نیٹ ورک کو مزید وسعت دینے کے لیے مالی خدمات اور اس جیسی دیگر خدمات کی ڈیجیٹائزیشن کے لیے پرعزم ہے۔

اس سے قبل، جاز کیش ڈائریکٹوریٹ جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹ، کے پی کے ہائیر ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ، پاسپورٹ فیس کی ادائیگی کے لیے سندھ پولیس، اسٹوڈنٹس کالج ایڈمشن پروسیسنگ فیس پیمنٹ، ڈرائیونگ لائسنس فیس کلیکشن کے لیے ڈیجیٹائزیشن کی خدمات انجام دے چکا ہے اور اب پاکستان ریلویز جاز کیش کے پورٹ فولیو میں میں ایک اور اضافہ ہے۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget