اپریل 22, 2018

قصور کے بعد اب چترال میں بھی بچی کے ساتھ زیادتی کا واقعہ، ملزم فرار : رپورٹ گل حماد فاروقی

قصور کے بعد اب چترال میں بھی بچی کے ساتھ زیادتی کا واقعہ پیش آیا۔ عشریت گاؤں میں پانچویں جماعت کی طالبہ کے ساتھ زبردستی زیادتی۔ ملزم فرار۔ 



چترال(گل حماد فاروقی) قصور کے بعد اب چترال میں بھی بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتیوں کے واقعات شروع ہوئے۔ گیارہ سالہ بچی کے ساتھ زبردستی زیادتی۔ ملزم حسب روایت فرار ہونے میں کامیاب۔ تھانہ عشریت کے ایس ایچ او محمد مظفر الدین کے مطابق تھانہ عشریت کے حدود میں ایک گیارہ سالہ بچی کے ساتھ زیادتی ہوئی۔ پولیس کے مطابق عشریت کے ایک شحص مسمی (ث) نے تھانہ آکر رپورٹ درج کی کہ اس کی گیارہ سالہ بچی جو پانچویں جماعت کی طالبہ تھی جب وہ گھر آرہی تھی تو ملزم مقبول احمد سکنہ عشریت نے اسے زبردستی اٹھاکر قریبی جنگل میں لے گئے اور اس کے منہ میں دوپٹہ ڈال کر منہ بند کرائی۔ اس کے بعد اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔ 

بچی بے ہوشی کی حالت میں پڑی تھی جب کافی دیر تک گھر نہیں پہنچی تو والدین نے بچی کی تلاش شروع کی جب بچی کے والد مشکوک جگہہ پہنچ گیا تو ملزم مقبول احمد اس کے بچی کے ساتھ زیادتی کررہا تھا اور جب اس نے بچی کی باپ کو دیکھا تو اپنے زیر تن کپڑے بھی چھوڑ کر فرار ہوگیا جسے اٹھا کر تھانہ عشریت لایا گیا او ر پولیس کو شکایت کی۔ 
تھانہ عشریت کے پولیس نے مستغیث ثاقب احمد کے رپورٹ پر ملزم مقبول احمد کے حلاف علت نمبر 56 زیر دفعہ 376/53 CPA چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ تعزیرات پاکستان کے تحت مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی۔ بچی کو بے ہوشی کی حالت میں فوری طور پر تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال دروش لایا گیا جہاں اس کی میڈیکل معائنہ کیا گیا تاہم میڈیکل رپورٹ ابھی تک پولیس کو موصول نہیں ہوا ہے ۔ ایس ایچ او تھانہ عشریت کے مطابق ہسپتال سے میڈیکل رپورٹ کے وصولی کے بعد FIR میں مزید دفعات کی بھی اضافہ ہوگا۔ ملزم ابھی تک روپوش ہے اور عشریت پولیس اس کی گرفتاری اور اس کیس میں مزید تفتیش کررہی ہے۔

آزاد ذرائع کے مطابق بعض حلقے اس واقعے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کررہے ہیں اور ملزم کو بچانے کی مذموم کوشش کررہے ہیں۔ چترال میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا واقعہ ہے کہ کسی معصوم بچی کے ساتھ زیاتی ہوئی ہو۔ اس واقعے کے بعد چترال کے لوگوں میں کافی خوف و ہراس پایا جاتا ہے اور اب چھوٹے بچیاں سکول جاتے وقت ا کو ڈرلگتی ہیں۔ سیاسی اور سماجی طبقہ فکر نے چترال پولیس نے مطالبہ کیا ہے کہ بغیر کسی سیاسی دباؤ کے ملزم کو گرفتار کرکے اسے عدالت سے قرا ر واقعی سزا دلوادیں تاکہ آئندہ کوئی ملزم چترال کی مثالی پر امن ماحول کو حراب نہ کرے۔ 
دریں اثناء وادی کریم آباد کے پرسان گاؤں سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ شجاع الدین ولد زیر بلی خان اپنے بندو ق کا صفائی کررہا تھا کہ اچانک گولی لگنے سے جاں بحق ہوا۔ اس کی میت کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال چترال لایا گیا جہاں اس کی پوسٹ مارٹم کے بعد ورثاء کے حوالہ کیا بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ شجاع الدین نے خودکشی کرلی مگر اس کے والدین نے اس کی تردید کی اور اسے اتفاقی واقعہ قرار دیتے ہیں۔



اپریل 21, 2018

چترال کے معروف و مشہور گلوکار منصور علی شباب چند منتخب گانے: گانوں سے محظوظ ہونے کے لئے لنک پر جائیں

چترال کے معروف و مشہور گلوکار منصور علی شباب چند 
منتخب گانے: گانوں سے محظوظ ہونے کے لئے لنک پر جائیں

چترال کے معروف و مشہور گلوکار منصور علی شباب چند 
منتخب گانے: گانوں سے محظوظ ہونے کے لئے لنک پر جائیں  







چترالی گانا : کھوارو بو پرانو بو شیلی باشونو، شجاع الحق و ہواراز

چترالی گانا : کھوارو بو پرانو بو شیلی باشونو، شجاع الحق و ہواراز  

چترال میں ایک اور نوجوان کی خود کشی


چترال (ویب ڈیسک) چترال میں خود کشیوں کا نہ تھمتا سلسلہ جاری ہے۔ چترال کے علاقے پرسن میں ایک اور نوجوان نے خود کشی کرلی ہے۔ چترال شہر سے کوئی 65 کلومیٹر دور واقع پرسن گاؤں میں ایک شادی شدہ نوجوان جاوید  ولد  زیربلی نے بارہ بور بندوق سے خود پر گولی چلائی اور مبینہ طور پر خودکشی کرلی۔ متوفی خود کو کمرے میں بند کرکے خود پر گولی چلائی۔ پولیس لاش کی پوسٹ مارٹم کے بعد ورثا کے حوالے کیا۔ خودکشی کی وجہ معلوم نہ ہوسکی، پولیس واقعے کی تفتیش کر رہی ہے۔ 


اوپو نے رنگ رنگ تقریب میں اپنا نیا سمارٹ فون ایف 7 کا اجرا کردیا، شوبز اور کھیلوں کی اہم شخصیات شریک تھے


لاہور(نمائندہ ٹائمزآف چترال)  سیلفی ایکسپرٹ اور لیڈر اوپو (OPPO)نے آج اپنا نیا F7اسمارٹ فون متعارف کرادیا ہے۔ اسمارٹ فون ٹیکنالوجی کو نئی حدتک پہنچانے کے ساتھ F7اسمارٹ فون میں سیلفی فوٹوگرافی کے لئے اب پہلے سے بہتر آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹیکنالوجی ہے جبکہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے چلنے والے مزید آپریشنل فیچرز بھی شامل ہیں۔ سوپر فل اسکرین اور پہلے سے بہتر ملٹی ٹاسکنگ سافٹ ویئر کے امتزاج کے ساتھ F7اسمارٹ فون اپنے صارفین کو پہلے سے بہتر استعمال کی سہولت پیش کرتا ہے۔ آج پاکستان میں متعارف ہونے والا اوپو F7 اسمارٹ فون 4GB RAMاور 64GB کے ساتھ 21اپریل سے ملک بھر میں تین رنگوں سولر ریڈ، مون لائٹ سلور اور ڈائمنڈ بلیک میں 39,899روپے میں دستیاب ہوگا۔ اسی طرح اوپو F7 اسمارٹ فون 128GBاور 6GB کے ساتھ سولر ریڈ اور ڈائمنڈ بلیک رنگوں میں 49,899 روپے میں دستیاب ہوگا۔ 





پاکستان کی مشہور شخصیات نے لاہور میں منعقدہ اس رنگا رنگ تقریب میں شرکت کی جہاں ان کے پرستاروں نے ان کے ساتھ یادگار سیلفیاں بنائیں اور پرستار اپنی پسندیدہ شخصیات سے ملے۔ ان شخصیات میں عمران عباس، منیب بٹ، ایمن خان، اقراءعزیز، حنا الطاف، رامشا خان، علیزہ گبول اور پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد شامل ہیں۔

اس شاندار افتتاحی قریب میں معروف پاکستانی فوٹوگرافر حسیب صدیقی نے اپنے اوپو F7اسمارٹ فون سے حیران کن تصاویر لیں۔ 

اوپو پاکستان کے سی ای او جارج لانگ نے بتایا، "ہم پاکستان میں اوپو F7اسمارٹ فون متعارف کرانے پر انتہائی پرجوش ہیں۔ F7اسمارٹ فون میں غیرمعمولی کیمرا ریزولوشن اور انتہائی جدت آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹیکنالوجی کے ساتھ اسمارٹ فون سیلفی کے شعبے میں مکمل طور پر نیا اضافہ ہوگا۔ یہ فون دیگر بہت سی خصوصیات سے آراستہ ہونے کے ساتھ طاقتور، رواں اور پرکشش ڈیزائن کا بھی حامل ہے۔ ہم جب بھی نئے فون پر کام کرتے ہیں تو اپنے صارفین کی ضروریات اور خواہشات کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور اسی وجہ سے ہمیں یقین ہے کہ پاکستانی نوجوان افراد کو اوپو F7اسمارٹ فون لازمی پسند آئے گا۔ " 

F7اسمارٹ فون میں 25 میگا پکسل کا فرنٹ کیمرا ہے جس میں رئیل ٹائم ہائی ٹائنامک رینج (ایچ ڈی آر) سینر نصب ہے۔ F7اسمارٹ فون سے لی گئی تصاویر میں وسیع اقسام کی تفصیلات، لومیننس اور کلر لیولز ہیں چاہے دھوپ میں تصویر لی گئی ہو یا پھر سائے میں تصویر لی گئی ہے۔ یہ اچھے معاری ڈیجیٹل کیمرے سے لی گئی تصاویر کے مساوی ہے۔ 

اوپو کی آرٹیفیشل انٹیلی جنس بیوٹی 2.0 ٹیکنالوجی آپ کی بیوٹی مہارت میں اضافہ کرتا ہے جس میں صنف اور عمر کے مطابق چہرے کی شناخت میں مزید درستگی کی صلاحیت اور پہلے سے بہتر بیوٹیفکیشن ایفکٹس سمیت نئی خصوصیات شامل ہیں۔F7ان چند گنے اسمارٹ فونز میں سے ایک ہے جس میں 19:9 ایسکپیکٹ ریشو ہے ۔ F7اسمارٹ فون میں پہلے سے بہتر ریزولوشن 2280 بائی 1080 ہے ، جس کی بدولت 6.23انچ ایف ایچ ڈی پلس سوپر فل اسکرین سے بصری منظری کشی میں خوبصورتی کے ساتھ روانی بھی آئے گی ۔ 

F7میں جدید ترین 64 بٹ 4جی بی اوکٹا کور پروسیسر ہے جس میں پہلے سے کافی بہتر آپریٹنگ سسٹم ہے۔ اینڈرائڈ 8.1 کی بنیاد پر کلر او ایس 5.0 میں بہتر سسٹم کے انتظام کے لئے آرٹیفیشل انٹیلی جنس بنایا گیا ہے۔ F7اسمارٹ فون بیک وقت مختلف ایپلی کیشنز چلانے کے مقابلے میں اپنے سابقہ F5اسمارٹ فون کی بنسبت 80 فیصد زیادہ تیز رفتار ہے۔ یہ توانائی کو مناسب انداز سے استعمال کرتا ہے اور روزمرہ استعمال میں اوسط بیٹری لائف میں اضافہ کرتا ہے۔ 

اس میں اسپیشل ایڈیشن 6GB RAMکے ساتھ 128GB روم کی خصوصیات کے ساتھ سولر ریڈ اور ڈائمنڈ بلیک میں دستیاب ہیں۔ ان خصوصیات کے ساتھ ڈائمنڈ بلیک اور سولر ریڈ اسپیشل ایڈیشن نفاست اور ٹیکنالوجی کی مہارت کا شاہکار ہیں۔ اس میں انتہائی احتیاط اور مہارت کے ساتھ کٹنگ اور پولشنگ ڈائمنڈز کے طور پر ہر ڈیوائس میں استعمال ہوئی ہے۔ اس میں مختلف سطح کی دھاتی اور گلاس بیک پر روشنی پڑنے سے ایسا لگتا ہے جیسے ہیرا چمک رہا ہے اور روشنی بکھر رہی ہے۔ اس میں تکونی پیٹرن ہیں اور جب مختلف زاویوں سے دیکھا جائے تو وہ روشن اور تاریک ہوجاتے ہیں۔ ایف 7 اسپیشل ایڈیشن میں ڈائمنڈ بلیک اور سولر ریڈ اپریل سے پاکستان بھر میں دستیاب ہوں گے۔ 





نیلی آنکھوں والی گڑیا ہر رات جنسی درندگی کا شکار بنتی رہی : دیکھئے سرعام میں ایک دل دہلانے والی سچی کہانی

نیلی آنکھوں والی گڑیا ہر رات جنسی درندگی کا شکار بنتی رہی : دیکھئے سرعام میں ایک دل دہلانے والی سچی کہانی 


چیف جسٹس کے دورہ پشاور اور تحریک انصاف کی حکومت پر تنقید کے بعد جاوید چوہدری کا خیبر پختونخواہ پر تجزیہ

چیف جسٹس کے دورہ پشاور اور تحریک انصاف کی حکومت پر تنقید کے بعد جاوید چوہدری کا خیبر پختونخواہ پر تجزیہ، ن لیگ نے پنجاپ میں انفراسٹرکچر بچھایا سندھ میں تھر کول بنا اور آپ نے کے پی کے میں کیا کیا؟


ن لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق نیب کے راڈار کے نیچے، نیب نے گھیرا تنگ کردیا، ایک اور انکوائری کا فیصلہ

ن لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق نیب کے راڈار کے نیچے، نیب نے گھیرا تنگ کردیا، ایک اور انکوائری کا فیصلہ





چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا 20 ارکان کو نکالنے کا فیصلہ جرات مندانہ اقدام ہے: عارف نظامہ

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا 20 ارکان کو نکالنے کا فیصلہ جرات مندانہ اقدام ہے: عارف نظامہ


اپریل 20, 2018

موبائل کمپنی زونگ نے ”گریجویٹ ٹرینی پروگرام “ کے لئے درخواستیں وصول کرنا شروع کردیا




اسلام آباد: ملک کے ٹیلی کام سیکٹر میں نمایاں کمپنی  زونگ نے ”گریجویٹ ٹرینی پروگرام “کے لئے آج سے درخواستیں وصول کرنے کے سلسلے کا آغاز کردیا جس کی آخری تاریخ 06 مئی 2018ہے۔

ادارے کی جانب سے پریس ریلیز کے مطابق ملک میں نوجوان طبقے کو اپنی صلاحتیوں میں مزید نکھارلانے کے لئے”گریجویٹ ٹرینی پروگرام “ کے لئے آج سے درخواستوں کا آغاز کردیا جس کی آخری تاریخ06مئی 2018ہے۔18ماہ کے دورانیہ کے اس پروگرام میں کلاس روم ٹریننگ ،آن جاب ٹریننگ اور ماہرین کی جانب سے خصوصی لیکچرز دئیے جائیں گے۔

پروگرام میں کمرشل (سیلز اینڈ مارکیٹنگ)،انجینئر نگ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سے منسلک طلباکو پروفیشنل ٹریننگ دی جائے گی۔ٹریننگ پروگرام میں اہلیت کے لئے آپ کی زیادہ سے زیادہ عمر26سال ہونی چاہیے جبکہ بی بی اے/ایم بے اے،انجینئر نگ(ٹیلی کام ،الیکٹریکل،الیکٹرونکس)اور انفارمیشن ٹیکنالوجی میں بیچلز اور ماسٹر ڈگری ہولڈر اپلائی کرسکتے ہیں ۔ادارے کے مطابق درخواست دہندہ کا سی جی پی اے 2.5یا70فی صد مارکس ہونے لازمی ہیں اور کسی بھی جگہ پر ملازمت کرتے ہوئے بھی ایک سال سے کم کا دورانیہ ہوا ہو۔



پاکستان کا وہ علاقہ جہاں خواتین کا موبائل رکھنا موت ہے، کوئی شکایت بھی نہیں کرتا : بی بی سی کی رپورٹ




کوہستان میں خواتین کے لیے موبائل فون موت کی علامت

خیبر پختونخواہ کے شمالی ضلع کوہستان میں خواتین کو موبائل فون رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔

علاقائی روایات کے مطابق اس ضلع میں خواتین کے لیے موبائل فون کا استعمال ممنوع ہے جبکہ اس کی سزا موت بتائی جاتی ہے جسے غیرت کے نام پر قتل قرار دیا جاتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اب تک اس علاقے میں ایسے کئی واقعات سامنے آئے ہیں لیکن سزا آج تک کسی کو نہیں ہوئی ہے۔

پٹن کے علاقے پالس سے تعلق رکھنے والے فیاض نے بی بی سی کو بتایا کہ چند سال قبل ان کے چچا زاد بھائی قاری الیاس اور ایک لڑکی کو موبائل فون پر بات کرنے کے الزام میں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا۔ جس کے بعد اب یہ ایک بڑا تنازع بن گیا ہے جس میں اب تک فریقین کے سات افراد قتل ہو چکے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ملزمان جیل سے باہر ہیں جبکہ کیس تا حال عدالت میں زیر سماعت ہے جس میں عنقریب راضی نامہ ہونے کا امکان ہے

کوہستان لوئر کے ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ اس علاقے میں ایسے کئ واقعات پیش ائے ہیں۔ تاہم علاقائی روایات کو جواز بنا کر کوئی بھی مقدمے کے اندراج کے لیے تھانے میں نہیں آتا اور نہ پولیس کے ساتھ تعاون کرتا ہے۔

پولیس اہلکار کا مذید کہنا تھا کہ پولیس اس روایت کو ختم کرنے کے لیے اسی صورت میں اقدامات کر سکتی ہے جب کوئی متاثرہ خاندان یا خاتون پولیس کو رپورٹ کریں۔ چونکہ اس علاقے میں خواتین کا بغیر مردوں کے گھروں سے نکلنا بھی ممنوع ہے اس لیے آج تک کسی نے پولیس کے پاس شکایت درج نہیں کی۔

محمد حفیظ کا تعلق کوہستان کے علاقے داسو سے ہے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ کوہستان میں خواتین کے خلاف جرائم کی شرح دیگر اضلاع کی نسبت اسی وجہ سے کم ہے کہ یہاں خواتین کو موبائل فون رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔ لیکن یہاں کی خواتین اپنے شوہر کے موبائل سے اپنے والدین سے بات تو کر سکتی ہیں لیکن اِس کے علاوہ وہ موبائل فون استعمال نہیں کر سکتیں۔ محمد حفیظ کا کہنا تھا کہ اگر کسی خاتون کے پاس موبائل فون مل جاتا ہے اور تحقیق سے پتہ چل جاتا ہےکہ یہ باہر سے آیا ہے تو پھر معاملہ سنگین صورت حال اختیار کر لیتا ہے۔

کوہستان پولیس کے ڈپٹی سپرینٹینڈنٹ الطاف مشوانی نے بی بی سی کو بتایا کہ غیرت کے نام پر قتل کے چار کیسز پولیس کے پاس آئے ہیں لیکن یہاں زیادہ تر کیس مقامی طور پر بنے ہوئے جرگے ہی حل کرتے ہیں اور اس میں راضی نامے ہو جاتے ہیں۔ اس سوال پر کہ اب تک غیرت کے نام پر قتل میں ملوث کسی ملزم کو گرفتار کیا گیا اور سزا ہوئی ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ پولیس کوشش تو کرتی ہے کہ گرفتاریاں ہوں لیکن علاقے دور دراز اور پہاڑی ہیں جہاں پہنچنے کے لیے دس دس گھنٹے لگتے ہیں تو واقعے کے بعد ملزم فرار ہو جاتے ہیں۔

دوبیر سے تعلق رکھنے والے جاوید کہتے ہیں کہ اب بدلتے وقت کے ساتھ رویوں میں بھی تبدیلی آ رہی ہے اور اب بعض دیہات میں کچھ لوگ گھروں میں موبائل رکھنے لگے ہیں لیکن زیادہ تر گھر کی بڑی عمر کی عورتیں ہی استعمال کرتی ہیں۔

پٹن میں سڑک کنارے کھڑے چند نوجوانوں نے بتایا کہ پہلے یہاں موبائل فون کے استعمال کی اتنی سختی سے ممانعت نہیں تھی لیکن چند واقعات اور خصوصا ایک ویڈیو سکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد صورتحال یکسر تبدیل ہوئی۔

خیال رہے کہ سنہ 2012 میں صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کوہستان کے ایک گاؤں میں ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں کچھ لڑکے رقص کر رہے تھے اور پانچ لڑکیاں تالیاں بجا رہی تھیں جنھیں مبینہ طور پر مقامی جرگے کے فیصلے کی روشنی میں قتل کر دیا گیا تھا۔

اصل سورس پر پڑھیں



ہنسنا بھی ضرورہے، لیجیے ہنسئے جوکس پڑھیئے #لطیفے

نگینہ: آئسکریم کھاتے ہوئے جانو، مجھے ایسا کہو
 کہ میرے دل کی دھڑکن تیز ہوجائے۔
شیدا: میرے پاس پیسے نہیں ہیں…

*-☺-*

بیوی : ہماری پڑوسن ہر مہینے اپنے شوہر کے
 ساتھ گھومنے جاتی ہے۔
شوہر : تو پھر؟
بیوی : بیوی تو آپ بھی کبھی لے جایا کریں نا !
شوہر :  میں نے 3 چار بار کہا ہے، پر وہ مانتی ہی نہیں ہے..

*-☺-*

لڑکی : یار میں اپنا پرس گھر بھول آئی ہوں، مجھے
 ایک ہزار روپے چاہئے تھے۔
لڑکا :  دوست ہی دوست کے کام آتا ہے، یہ لو 40 روپے
 رکشہ پکڑ اور پرس لے آؤ۔

*-☺-*

ایک شخص شادی کا خواہش مند تھا اور اس لئے 
وہ ایک شادی دفتر گیا…. 
دفتر بند تھا اور باہر بورڑ پر لکھا تھا

دفتر دو پہر ایک بجے سے شام 5 بجے تک بند رہے گا تب تک آپ ایک بار پھر سے سوچ لیں….

*-☺-*





اپریل 19, 2018

جمعت علماء اسلام ضلع چترال کی مجلس شوری، مختلف مقامات پر غلبہ اسلام کانفرنس منقعد کرنے کا فیصلہ


چترال (پی آر) جمعت علماء اسلام ضلع چترال کی مجلس شوری، تحصیل امراء ونظماء اور منتخب نمائندگان ضلع وتحصیل کونسل کامشترکہ اہم اجلاس مدرسہ تحفیظ القرآن دنین چترال میں ضلعی امیر قاری عبدالرحمن قریشی کی زیرصدارت منعقد ہوا۔

اجلاس میں چترال کے اہم شخصیات کی جے یو آئی میں شمولیت کے حوالے سے پیغامات زیربحث آئے ، شوری کے اراکین نے کہا کہ جے یو آئی ایک سیاسی جماعت ہے اس کے دروازے بلا تفریق سب کے لئے کھلے ہیں تاہم جے یو آئیمیں شامل ہونے والے شخصیات چاہے سیاسی ہوں یا مذہبی مشروط طور پر آنے کے بجائے دینی وسیاسی خدمت کے جذبے کی بنیاد پر شامل ہوجائیں۔ جے یو آئیاپنے کارکنوں کی صلاحیت ،قابلیت اور خدمات کو پیش نظر رکھ کر ٹکٹوں کا فیصلہ کرتی ہے۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ ہوا کہ جےیوآئی چترال ضلع کے مختلف مقامات پر غلبہ اسلام کانفرس کے نام سے کانفرنسیز منعقد کرے گی جس کے شیڈول کا اعلان عنقریب کیا جائے گا۔

اجلاس میں متفقہ طور پر ایک قرارداد کی منظوری دی گئی۔کہ سی ڈی ایل ڈی کے ذریعے چترال کو کافی فائدہ پہنچ رہاہے اب اس کی موبیلائزیشن AKRSP کے ذریعے کرانے کی کوشش کی جارہی ہے جوکہ چترال کے عوام کے فائدے میں نہیں کیونکہ AKRSP ایک متنازعہ ادارہ ہے ،لہذا اس کا موبیلائزیشن کسی غیر متنازعہ ادارے کے ذریعے کرایا جائے تاکہ عوام کو بغیر کسی پریشانی کے استفادہ کرنے کا موقع مل سکے۔

اجلاس میں ضلع نائب ناظم مولانا عبدالشکور ،سابق ایم پی اے و سابق امیر مولانا عبدالرحمن ،شاہی خطیب مولانا خلیق الزمان ،مولانا حسین آحمد،قاری جمال عبدالناصر،تحصیل ناظم مولانامحمد الیاس اور دیگر اراکین شریک ہوئے۔







شاید ندیم افضل چن پارٹی چھوڑنے کے لئے موقع کے انتظار میں تھے: کائرہ ، پارٹی نے ہمیشہ ان کو عزت دی

شاید ندیم افضل چن پارٹی چھوڑنے کے لئے موقع کے انتظار میں تھے: کائرہ ، پارٹی نے ہمیشہ ان کو عزت دی


اوریا مقبول نے عائشہ گلالئی کے لئے ایسی زبان استعمال کی کہ بس ۔ ۔ سب سے زیادہ ...... ؟

اوریا مقبول نے عائشہ گلالئی کے لئے ایسی زبان استعمال کی کہ بس ۔ ۔  سب سے زیادہ ...... ؟


آزادی صحافت: ’سینسرشپ سے خبر دبنے کے بجائے زیادہ پھیل جاتی ہے‘ : بی بی سی اردو سے

جب اس ماہ آٹھ اپریل کو صوبائی دارالحکومت پشاور میں وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کے عوام کے بنیادی حقوق کی آواز اٹھانے والی تنظیم پشتون تحفظ تحریک (پی ٹی ایم) نے اپنا جلسہ کیا تو ملک میں ہونے والے دیگر سیاسی جلسوں اور دھرنوں کے برعکس الیکٹرانک میڈیا پر اس کی کوریج خال خال ہی رہی۔



اس جلسے میں شرکت کرنے والوں کی تعداد محتاط اندازوں کے مطابق 20 سے 30 ہزار افراد پر مشتمل تھی لیکن اس کے بارے میں کچھ جاننے اور دیکھنے کے لیے صرف سوشل میڈیا ہی واحد راستہ تھا۔

اگلے روز اخبارات میں بھی، ماسوائے انگریزی اخبار ڈان کے، پی ٹی ایم کے اس جلسے کی خبریں دبے لفظوں میں صرف اندرونی صفحات پر نظر آئیں۔

جلسے کے چار روز بعد راولپنڈی میں پاکستانی فوج کے مرکزی دفتر جی ایچ کیو میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے پی ٹی ایم کا نام لیے بغیر تنظیم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’جب سے فاٹا میں امن آیا ہے لوگوں نے ایک اور تحریک شروع کر دی ہے اور باہر اور اندر سے کچھ لوگ پاکستان کی سالمیت کے درپے ہیں۔‘

آرمی چیف کے بیان کے دو روز بعد جنگ گروپ سے تعلق رکھنے والے انگریزی اخبار دی نیوز کے کالم نویس اور وکیل بابر ستار نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’میڈیا پر پی ٹی ایم کے بارے میں بات کرنے پر پابندی ہے اور جنگ اور جیو کو حکم دیا گیا ہے کہ حساس موضوعات کو ہاتھ نہ لگائیں تو میرا ہفتہ وار کالم اس بار نہیں چھپا۔‘

ایک دن بعد دی نیوز اخبار میں ہی اتوار کو شائع ہونے والے جریدے ’دی نیوز آن سنڈے‘ کا پی ٹی ایم کے بارے میں خصوصی ضمیمہ شائع ہوا لیکن جب وہ مضامین ویب سائٹ پر لگے تو جریدے کی مدیر فرح ضیا کو انتظامیہ سے پیغام ملا کہ انھیں وہاں سے ہٹایا جائے۔

اس حوالے سے کیے جانے والے سوال پر فرح ضیا نے بی بی سی کو بتایا: ’اتوار کو جب پشتون تحفظ تحریک کے بارے میں ہمارے مضامین اخبار میں شائع ہونے کے بعد ہماری ویب سائٹ پر لگے اور سوشل میڈیا پر ان کا چرچا ہوا تو ہمیں انتظامیہ کی جانب سے پیغام ملا کے انھیں ویب سائٹ سے ہٹایا جائے۔‘

انھوں نے کہا کہ ایسا غالباً پہلی دفعہ ہوا ہے کہ ہمارے کسی مضمون کو ویب سائٹ سے ہٹائے جانے کے بارے میں پیغام ملا ہو لیکن وہ یقین سے نہیں کہہ سکتی کہ اس کی وجہ کیا ہے۔

’یہ قدم ایک رد عمل ہے لیکن اس کی وجوہات کے بارے میں واضح نہیں ہے کہ آیا ہماری انتظامیہ پر کوئی بیرونی دباؤ تھا یا انھوں نے صرف حفظ ماتقدم کے تحت یہ فیصلہ کیا۔‘ فرح ضیاء کے مطابق آج کل کے دور میں اس قسم کی سنسرشپ سے خبر دبنے کے بجائے زیادہ پھیل جاتی ہے اور اس فیصلہ کے بعد بھی ایسا ہی ہوا۔

’سوشل میڈیا پر لوگوں نے اخبار کے تراشوں کی تصویر لگائی اور کئی نے تو یہ بھی کہا کہ اس کے بعد اخبار کی فروخت میں اضافہ ہو گیا ہوگا۔ اور پھر انٹرنیٹ پر کئی ایسے ذرائع ہیں جہاں آپ اپنے مضمون لگا سکتے ہیں اور سینسر کی زد میں آنے والے مضمون تو لوگ اور بھی زیادہ پڑھنا چاہتے ہیں۔۔

مکمل مضمون پڑھیں بی بی سی اردو  پر




تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں