26 ستمبر، 2017

ایل جی الیکٹرانکس نے بہترین سمارٹ V30 کی فراہمی کا آغاز کردیا، یہ فون 26 ایورڈز جیت چکا ہے


کراچی:  ایل جی الیکٹرانکس (ایل جی) نے رواں ہفتے V30کے نام سے اپنے بہترین اسمارٹ فون کی فراہمی کا آغاز کردیا ہے۔ اس کے بعد آنے والے دنوں اور ہفتوں میں یہ اسمارٹ فون شمالی امریکہ، یورپ اور دنیا کی دیگر اہم مارکیٹوں میں پیش کیا جائے گا۔ 

ایل جی کا V30اسمارٹ فون اب تک 26 ایوارڈز جیت چکا ہے۔ ٹیکنالوجی ماہرین کو اسکے شاندار ڈیزائن اور انواع اقسام کے جدت انگیز فیچرز کو سراہتے ہوئے پیشنگوئی کررہے ہیں کہ یہ وہ فون ہے جس کا پیشہ ورانہ مواد کی تخلیق کے مقابلے میں کوئی ثانی نہیں ہے۔ 


صارفین کی ترجیحات کو مدنظر رکھتے ہوئے بڑی اسکرین کے ساتھ چھوٹے سائز کو ایل جی کے انجینئرز نے 6 انچ مختصر کیا، فریم میں 18:9 کا فل ویژن ڈسپلے کا فریم بنایا جو پچھلے اسمارٹ فون کے مقابلے میں 8 ملی میٹر زیادہ چھوٹا اور 3 ملی میٹر مزید سکڑاو ¿ کا حامل ہے۔ اس کے خصوصی گلاس میں فرنٹ اور بیک پر خصوصی شیٹ چڑھی ہوئی ہے اور اسکے کنارے خم دار ہیں۔ یہ صرف 158 گرام وزنی ہے۔ یہ 6 انچ کٹیگری میں سب سے ہلکا اسمارٹ فون ہے۔ 

ایل جی الیکٹرانکس موبائل کمیونکسیشن کمپنی کے پریذیڈنٹ جونو چو نے کہا، " V30اسمارٹ فون کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ صارفین کی زندگی کے مختلف لمحات کو محفوظ بنانے کے لئے مدد کرے۔ جب اس کو دیکھنے کا معاملہ آتا ہے تو اس کے افعال اور خصوصیات ہمارے بصری، سماعتی اور لمس کے احساسات سے خوش ہوں۔ یہ اب تک کا سب سے زیادہ خوبصورت اسمارٹ فون ہے جو ہم نے تیار کیا ہے۔" 


ایل جی اسمارٹ فون فوٹوگرافی کے شعبے میں رہنما کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس فون کی خصوصیات میں انڈسٹری کی جدتیں جیسے پہلے F1.6 اپرچر اور گلاس لینسز شامل ہیں جس کی مدد سے پیشہ ورانہ سطح کی فلمیں اور ویڈیوز ایل جی سائن لاگ فارمیٹ اور فل ویژن فارمیٹ کے ساتھ اسمارٹ فون انڈسٹری کے پہلے اولیڈ ڈسپلے میں شوٹ کی جاسکتی ہیں۔ 

F1.6 اپرچر لینس بنیادی طور پر مرکزی کیمرے سے لی جانے والی تصویر کو زیادہ روشن بناتا ہے۔ یہ انتہائی شفاف لینس گلاس سے بنا ہے جو صرف انتہائی جدید ترین کیمروں میں ہی استعمال ہوتا ہے اور یہ زیادہ بہتر انداز سے تصویر میں رنگ بھرتا ہے اور روایتی پلاسٹک کے لینسز کے مقابلے میں انتہائی جاندار تصاویر کھینچتا ہے۔ 

ویڈیو ریکارڈنگ کے لئے V30اسمارٹ فون سائن ویڈیو کے آپشن سے آراستہ ہے اور پرو سائن ایفکٹس کے فیچرز کی بدولت کسی بھی طرح شوٹ کرسکتے ہیں۔ اسمارٹ فون انڈسٹری میں پہلی بار پوائنٹ زوم فیچر کی بدولت تصویر کے فریم میں کسی بھی چیز کو مزید زوم کیا جاسکتا ہے۔ ان سب چیزوں کو جب کیو ایچ ڈی پلس (2880 x 1440) اولیڈ فل ویژن ڈسپلے کے ساتھ ملایا جاتا ہے تو وہ زیادہ تیزرفتاری کے ساتھ کام کرتا ہے اور گوگل ڈے ڈریم وی آر کی بدولت تصویر مثالی بن جاتی ہے۔ اس اسمارٹ فون کی ہر مارکیٹ میں دستیابی اور قیمت کے بارے میں مقامی طور اعلان کیا جائے گا۔ 


بریکنگ: کوئٹہ میں بچوں کی سکول بس نشانے پر، زور دار دھماکہ

کوئٹہ (ویب ڈیسک) کوئٹہ کے ہنہ روڈ کے علاقے پی ایم ڈی
سی کے قریب زور دار دھماکہ ہوا ہے دھماکے کی آواز دور تک سنی گئی ہے۔  دنیا نیوز کے مطابق کوئٹہ کے علاقے ہنہ روڈ کے قریب پی ایم ڈی سی کے قریب زور دار دھماکے کی آواز سنی گئی ہے جس کے بعد امدادی ٹیمیں دھماکے کی جگہ پر روانہ ہو گئی ہیں۔ ابھی تک دھماکے کی نوعیت یا اس سے ہونے والے نقصان کی تفصیلات کا پتا نہیں چل سکا ہے۔ تاہم بتایا جاتا ہے کہ سکول بس کو نشانہ بنایا گیا تھا لیکن بس اور بس میں سوار بچے محفوظ رہے۔

نوجوانوں کی کاروبار میں شمولیت کے لئے چترال چیمبر آف کامرس اور گورننمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج منجمنٹ سائنسز میں معاہدہ

چترال (ابوالحسین: ٹائمزآف چترال ‏26‏ ستمبر‏ 2017) نوجونواں کو پشہ ورانہ سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لئے چترال چیمبر آف کامرس اور گورننمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج آف منجمنٹ سائنسز میں مفاہمتی یاد داشت پر دستخط ہوا ہے۔ 


چترال چیمبر آف کامرس کے نمائندگان کا اس موقع پر کہنا تھا کہ نوجوانوں کی بے روزگاری ایک معاشرتی مسئلہ بن چکا تھا، نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باجود سرکاری اداروں میں کلاس فور کی نوکریاں کرنے پر مجبور ہیں۔ اس مسئلے کو سامنے رکھتے ہوئے ہم نے یہ قدم اٹھایا ہے کہ تعیلم یافتہ نوجوانوں کو چھوٹے چھوٹے کاروباروں کی جانب راعب کریں تاکہ چھوٹے ملازمت کے بجائے یہ لوگ کاروبار کرکے اپنی آمدن میں اضافہ کرسکیں۔

مفاہمتی یاد داشت پر  سی سی سی کی جانب سے سرتاج احمد خان اور کالج کی جانب سے پروفیسر صاحب الدین سید نے دستخط کئے، اس موقع پر سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے کورڈینیٹر حبیب خان بھی موجود تھے۔  

سرتاج احمد نے اس موقع پر کہا کہ لواری ٹنل کی تکمیل کے بعد اور ممکنہ طور پر پاک چائنا کوریڈور کے چترال سے گزر جانے سے چترال ایک بزنس ہب میں تبدیل ہوجائے گا، ہمیں آج ہی اس وقت کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاہدے کے تحت دونوں ادارے کامرس گریجویٹس کو کاروباری سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لئے طویل مدتی اور قلیل مدتی ایک جامع حکمت عملی ترتیب دیں گے۔ اس سلسلے میں  چترال چیمبر آف کامرس (سی سی سی)  پہلے ہی تاجروں، میڈیا ہاؤسز، قانون دانوں، مقامی اداروں، سیاحتی اداروں، ہوٹل مالکان، اساتذہ اور ٹرانسپورٹ باڈیز سے معاہدے کرچکی ہے۔ 


پاکستان کا مالیات اور تجارتی خسارہ تشویشناک ہے: عالمی مالیاتی ادارہ

کراچی(این این آئی) عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے پاکستان کے مالیاتی اورتجارتی خسارے میں اضافے کو تشویش ناک قراردیتے ہوئے کہاہے کہ ملک کو معاشی
اصلاحات کی ضرورت ہے۔آئی ایم ایف کے پاکستان میں مقیم نمائندے طوخیر میرزاوی نے کہاکہ پاکستان کے معاشی منیجرز کو فوری طور ان مسائل کی طرف توجہ دینی ہوگی۔انہوں نے کہاکہ کہ پاکستان کو اب نئے پروگرام کیضرورت نہیں اور اس میں اندورنی اور بیرونی معاشی مسائل کو سنبھالنے کی صلاحیت بھی موجود ہے ۔ البتہ معیشت کو درپیش مسائل کوحل کرنے کے لیے فوری اور درست اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔انہوں نے واضح کیاکہ موجودہ صورت حال میں پاکستان کو آئی ایم ایف کی مدد کی ضرورت نہیں ہے بلکہ تجارتی خسارے پر قابو پانا اور معاشی اصلاحات اس وقت پاکستان کی ضرورت ہیں۔


جوبلی انشورنس کمپنی دبئی میں ہونے والے پاکستان، سری لنکا کرکٹ سیریز کو اسپانسر کررہی ہے


کراچی (پریس ریلیز) پاکستان میں نجی شعبے کی سرفہرست لائف انشورنس کمپنی جوبلی لائف نے رواں ماہ متحدہ عرب امارات میں منعقد ہونے والی پاکستان اور سری لنکا کے درمیان کرکٹ سیریز کے لئے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے ساتھ کو اسپانسر زکے معاہدے پر رضامند ی ظاہر کردی ہے۔ 

دونوں ایشیائی ٹیمیں اس ٹور میں دلچسپ پرفارمنس کا مظاہرہ کرنے کے لئے بے تاب ہیں۔ اس ٹور میں 3 ٹیسٹ میچز، 5 ایک روزہ میچز اور تین ٹوئنٹی 20 انٹرنیشنل میچز شامل ہیں۔ پہلا ٹیسٹ میچ ابوظہبی کے شیخ زید اسٹیڈیم میں 28 ستمبر کو شروع ہوگا۔ 

اس بات کا اعلان لاہور میں پی سی بی کی جانب سے پریس کانفرنس میں کیا گیا۔ اس پریس کانفرنس میں پی سی بی کے چیف سیلیکٹر انضمام الحق اور پی سی بی کے ڈائریکٹر میڈیا، کورآڈی نیشن اینڈ امپلی منٹیشن امجد حسین کے ہمراہ جوبلی لائف کے چیف منیجر مارکیٹنگ سید عثمان قیصر بھی موجود تھے۔ 

سید عثمان قیصر نے بتایا، "اس ٹور کے لئے کو اسپانسرزکے طور پر معاہدہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جوبلی لائف پاکستان میں کھیلوں کے فروغ کے فلسفے کو آگے بڑھانے کے لئے کوشاں ہے۔ حال ہی میں ورلڈ الیون سیریز کی تکمیل کے بعد ملک میں کرکٹ کے لئے دلچسپ ماحول نظر آرہا ہے۔ بطور کواسپانسرز ہماری خواہش ہے کہ پاکستان میں کرکٹ کے لئے پورا تعاون فراہم کریں ،امید ہے کہ کرکٹ کی بحال کا یہ عمل جاری رہے گا اور ہم منفرد سنگ میل عبور کرتے رہیں گے۔" 

جوبلی لائف پاکستان میں کھیلوں کے فروغ کے لئے طویل عرصے سے کوشاں ہے ۔ وہ پاکستان سپرلیگ (پی ایس ایل) کے گزشتہ سیزن میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا مرکزی اسپانسر تھا۔ کرکٹ کے علاوہ جوبلی لائف نے پاکستان میں دیگر کھیلوں کے لئے بھی اپنی خدمات پیش کی ہیں جن میں اسنوکر اور گالف شامل ہیں۔ یہ پہلا موقع ہوگا جب جوبلی لائف کسی بین الاقوامی دورے کے لئے پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ اسپانسر بنا ہے۔ 

پاکستان کرکٹ بورڈ کے ترجمان نے بتایا، "اس دورے کے لئے کواسپانسرز کے طور پر جوبلی لائف کا ساتھ ہمارے لئے خوش آئند ہے۔ یہ دیکھنا انتہائی باعث مسرت ہے کہ مقامی کاروباری ادارے آگے بڑھ رہے ہیں اور پاکستان میں کرکٹ کے فروغ کے لئے اپنا مالی تعاون بڑھا رہے ہیں۔ ہم ملک میں کرکٹ کی بحالی کے راستے پر گامزن ہیں اور جوبلی لائف جیسے اداروں کے تعاون کی وجہ سے ان اہداف کے حصول میں بھرپور کامیابی حاصل ہوگی۔ ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستانی ٹیم کا دورہ کامیاب ہو ۔" 

جوبلی انشورنس آغا خان فنڈ فار اکنامک ڈیولپمنٹ (AKFED) کا عالمی برانڈ ہے جو زندگی، صحت اور جنرل کے شعبوں میں انشورنس کے منفرد منصوبے پیش کرتا ہے ۔جوبلی لائف بینک اشورنس کی فراہمی کا آغاز کرنے والا اولین ادارہ ہے اور پاکستان میں نجی شعبے کی لائف انشورنس کمپنیوں میں سب سے نمایاں ہے۔ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران 38 فیصد اوسط ترقی کے ساتھ جوبلی لائف اسٹاک ایکسچینج میں سب سے زیادہ منافع بخش اور سب سے اہم لائف انشورنس کمپنی ہے۔ 


25 ستمبر، 2017

امیر جماعت اسلامی سراج الحق چترال دروش میں اجتماع سے خطاب کریں گے

چترال(نیوز ڈیسک)  امیر جماعت اسلامی سراج الحق یکم اکتوبر پہنچیں گے۔ ذرائع کے مطابق سراج الحق دروش میں بڑے شمولیتی اجمتماع سے خطاب کریں گے۔ تیاریوں کے سلسلے میں جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما مولانا عبدلاکبر چترالی، ضلعی امیر مولانا جمشید احمد دیگر رہنماؤں کے ساتھ پیر کے دن کرنل مراد اسٹیڈیم دروش کا معائنہ کیا ہے جہاں سراج الحق بڑے اجتماع سے خطاب کریں گے اور یہاں بڑی تعداد میں سیاسی شخصیات اور کارکنان کا جماعت اسلامی میں شمولیت کا امکان ہے۔ 



جمعیت علماء اسلام چترال کے ضلعی کابینہ کا اجلاس، اہم فیصلے

چترال (ٹائمزآف چترال نیوز) جمعیت علماءاسلام چترال کے ضلعی کابینہ کا اجلاس زیر صدارت قاری عبدالرحمن قریشی ہوا جس میں سیاسی صورت حال پر سیر حاصل بحث ہوئی اور کئی اہم  فیصلے ہوئے۔ 


فیصلہ ہوا کہ جذبہ خیرسگالی کے طور پر معطل اراکین کو بحال کیا جائے گا۔  اہم اہم سیاسی شخصیات نے ضلعی قیادت کے ساته جمعیت میں شامل ہونے کیلئے رابطے کئے ہیں، بحث مباحثے کے بعد فیصلہ ہوا کہ ضلعی قیادت باضابطہ طور پر ان شخصیات کو جے یو آئی میں شامل کرنے کیلئے عملی قدم اٹهائے گی۔   حاجی غلام محمد کی پیپلزپارٹی میں شمولیت کے بعداب ان کا جے یو آئی کے ساته سیاسی وابستگی نہیں رہی، لہذا تمام جماعتی ساتهی ان سے سیاسی وابستگی ختم کردیں۔ 

اجلاس میں 22 اکتوبر بروز اتوار ضلعی مجلس عمومی کے اجلاس بلانے کا فیصلہ ہوا ہے اور 8 اکتوبر کوتحصیل ارندو کے مجلس عمومی کا اجلاس بلایا جائے گا۔ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جوناراض ساتهیوں کومناکر جماعتی صفوں میں شامل کرنے کی کوشش کرے گی۔ تمام تحصیل جماعتوں کو هدایت کی گئی کہ وہ15 دن کے اندر اپنے اپنے یوسیز کو بحال اور فعال کرکے ضلعی جماعت کو تحریری طور پر رپورٹ کریں۔ 


چترال : پیپلز پارٹی مستوج نے 9 ستمبر کے اجلاس اور فیصلوں کو مسترد کردیا

چترال (ٹائمز آف چترال نیوز ڈیسک) پیپلز پارٹی سب ڈویژن مستوج کے سینئر کارکنان کا بونی میں پی پی تحصیل توکہو کے سابق صدر محمد نادر خان کے زیرصدارت اجلاس ہوا۔ اجلاس میں تینوں تحصیلوں تحصیل مستوج، توکہو اور تحصیل موڑکہو اور دیگر علاقوں سے پارٹی کے سینئر ارکان شریک ہوئے۔ ارکان نے 9 ستمبر کو ہونے والے اجلاس اور یہاں ہونے والے فیصلوں کو مسترد کریا ہے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ پیپلز کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کی گئی ہے، دوسری جماعتوں کے لوگ پارٹی کو ہتھیانہ چاہتے ہیں، اس اجلاس میں پارٹی کی دیرین کاکنوں کے بجائے دوسری جماعتوں کے لوگوں کو لایا گیا تھا۔


اجلاس کے شرکاء نے پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو اور صوبائی صدر سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ دوسری جماعتوں کے ایجنٹوں پارٹی میں شامل نہ کیا جائے، یہ لوگ پارٹی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچائیں گے۔ یہ لوگ گزشتہ بلدیات انتخابات میں دیگر جماعتوں کے آلہ کار بنے اور پارٹی پلیٹ فارم سے منتخب کونسلروں کو دوسری جماعتوں کے حوالے کیا۔ اس اجلاس میں مستنصرالدین، ابولیث رامداسی، سردارحسین، محمد نواب، سید برہان شاہ، شمس الرحمٰن لال، محمد ذاہد، میر ایوب خان، دوردانہ شاہ اور دیگر رہنما شریک تھے۔

چترال کا شاہی بازار سیاحوں کی توجہ کا مرکز۔ ملکی اور غیر ملکی چترالی سوغات کو نہایت شوق سے خریدتے ہیں


چترال (گل حماد فاروقی) چترال کا تاریحی شاہی بازار ان دنوں سیاحوں کا توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ چونکہ چترال پہلے ایک آزاد ریاست تھا جہاں مہتر خاندان کی حکومت تھی اور شاہی حاندان کے لوگ اسی بازار میں خریداری کرتے تھے جس کی وجہ سے اس کا نام شاہی بازار پڑ گیا۔

ہمارے نمائندے گل حماد فاروقی نے شاہی بازار میں چند افراد سے بات کی ان لوگوں کا کہنا ہے کہ چترال شاہی بازار کی مشہور سوغات خشک اور تازہ پھلوں کے علاوہ ہاتھ سے بنے ہوئے اونی کپڑے ہیں۔ یہاں بھیڑ بکریوں کی اون سے دھاگہ بنایا جاتا ہے اور دھاگے سے کڈی کے زریعے کپڑے کی میٹریل تیار ہوتی ہے۔گھروں میں بھیٹے ہوئے خواتین چرحی (چرخہ) کے زریعے اس اون سے ہاتھوں کے ذریعے دھاگہ بناتی ہیں۔

اس کپڑے سے چترالی ٹوپی، (پکول)، چوغہ، کوٹ، واسکٹ ، شال اور خواتین کی ملبوسات تیار کی جاتی ہے۔جسے نہ صرف مقامی لوگ شوق سے خریدتے ہیں بلکہ غیر مقامی سیاحوں کے علاوہ بیرون ممالک سے آئے ہوئے سیاح بھی ان سوغات کو خریدتے ہیں۔

اب تو چترالی ٹوپی اتنی مشہور ہوگئی کہ ہندوں طبقے کے لوگ بھی اپنی شادی بیاہ میں اسی ٹوپی کو استعمال کرتے ہیں۔

گھریلوں خواتین شاہ توت کو خشک کرکے بیچتے ہیں کیونکہ اس توت میں بیچ نہیں ہوتا اور اسے بے دانہ توت کہتے ہیں جو نہایت میٹھے ہوتے ہیں

تاہم حکومتی سطح پر اس صنعت کو کوئی پذیرائی یا اسے ترقی دینے کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت چترال کے اس صنعت کو ترقی دیکر خقیقی معنوں میں غربت کا حاتمہ ہوسکتا ہے۔

بے نظیر بھٹو کا قتل کس نے کیا اور گولی کس نے چلائی ؟ کون کے ہے اصل را کا ایجنٹ ذوالفقار مرزا نے دھماکہ خیز انکشافات کئے

کراچی (ویب ڈیسک ) ایک نجی ٹیلی ویژن پر گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر داخلہ سندھ اور پیپلز پارٹی کے  سابق اہم کارکن ذوالفقار مرزا نے کہا ہے کہ میں جانتا ہوں بے نظیر بھٹو کو قتل کس نے کیا ، اس شخص کا نام بتانے پر جو رد عمل آئے گا اس کے بارے میں بھی جانتا ہوں اور میں اس کے لیے تیار ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ بے نظیر بھٹو کو محمد خان چانچڑ نے فائرنگ کر کے قتل کیا ، اس کی گاڑی سلو نامی پیپلز پارٹی کا کارکن چلا رہا تھا جو جنوبی افریقہ میں مارا گیا ۔

نجی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید  کہا کہ بی بی کو قتل کرنے کا پیغام جاوید خان جیل سے لے کر آئے تھے اور یہ جیل میں ڈاکٹر تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے منہ نہ کھولنا میری غلطی تھی، کچھ وجوہات اور دوستی کے باعث میں نے پہلے اپنا منہ نہیں کھولا۔ ذوالفقار مرزا نے کہا مجھے نہیں پتہ تھا کہ آصف زرداری ملک توڑنا چاہتے ہیں اور یہ ایک بھارتی ایجنٹ ہے لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ میں یہ سب جان کر اپنا منہ نہیں کھولوں گا ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اور چند ایک باتوں کا علم ہے جو میں وقت آنے پر عوام کوبتاؤں گا۔ واضح رہے چند روز قبل سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے بھی الزام عائد کیا ہے کہ بینظیر بھٹو کا قتل آصف علی زرداری نے کروایا۔

پاکستان پیپلز پارٹی ملک کی سب سے بڑی وفاق پرست جماعت ہے ۔ پی پی میں شمولیت کے بعد حاجی غلام محمد کا پہلا انٹرویو


چترال (ٹائمز آف چترال : رپورٹ: کریم اللہ) میں نے پاکستان پیپلز پارٹی میں بالکل ہی غیر مشروط طورپر شمولیت کا فیصلہ کیا ہے ۔ ابھی انتخابات کے لئے بہت وقت باقی ہے، الیکشن اور ٹکٹوں کے حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا ، ان خیالات کا اظہار سابق ایم پی اے مستوج حاجی غلام محمد نے اپنے ایک انٹرویومیں کیا ۔ان کا کہنا تھا کہ میں نے پی پی پی میں شمولیت پر کسی قسم کی شرط عائد نہیں کی ، ایک سوال پر کہ آپ نے اپنے پچھلے انٹریومیں کہا تھا کہ میرے کچھ تحفظات ہے جن کا اگر آزالہ کیاگیا تو میں پی پی پی میں شمولیت اختیار کروں گا حاجی غلام محمد کا کہنا تھا کہ میرے کوئی تحفظات اور ڈیمانڈ نہیں تھے بالکل ہی غیر مشروط طورپر میں نے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نہ کسی دھڑے بندی کا حصہ ہوں اور نہ ہی دھڑے بندی کی حمایت کرونگابلکہ میں پاکستان پیپلز پارٹی کو سب ڈویژن مستوج کی حد تک مضبوط بنانے کے لئے اپنا کردار اداکرتارہونگا ۔اگلے عام انتخابات میں پی کے 90 کی ٹکٹ کے حوالے سے بار بار استفسار کے باؤجود حاجی غلام محمد کا موقف تھا کہ ابھی انتخابات کے لئے کافی وقت درکار ہے اور اس حوالے سے ابھی تک نہ کسی سے بات ہوئی ہے اور نہ اس وقت ٹکٹ کے حوالے سے بات کرنا مناسب سمجھتاہوں ۔

''پیپلز پارٹی کے سارے نظریاتی اورمخلص کارکنوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں "

پیپلز پارٹی میں شمولیت کی وجوہات سے متعلق پوچھے گئے سوال پر سابق ایم پی اے کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی ملک کی سب سے بڑی وفاق پرست نظریاتی جماعت ہے میں بہت پہلے اس جماعت میں شمولیت کا ارادہ کیا تھا لیکن حالات نے ساتھ نہیں دیا ۔اوراب میں غیر مشروط طور پر پی پی پی میں شمولیت کرکے فخر محسوس کرتا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ پی پی پی کے نظریاتی اور مخلص کارکن پارٹی کا سرمایہ ہے ۔ 2018ء کے الیکشن سے پہلے پارٹی کے اندرونی ناراضگیوں کو ختم کر کے تمام کارکنوں کو ایک پلیٹ فارم میں لاکر پارٹی مخالفین کی نیندین حرام کریں گے ۔ان کا کہنا تھا کہ ذرائع ابلاغ اورسوشل میڈیامیں 9ستمبر کو میرے بیان کو(باقو اور رحمت سلام وغیرہ سے متعلق ) غلط انداز میں میڈیا پر پیش کیا گیا ۔ اس کی بھر پور مذمت کرتا ہوں ۔ پی پی پی کا ہر کارکن میرے لئے محترم ہے ۔

''ایم پی اے سردار حسین صاحب کابالکل ہی الگ طرز بیان ہے وہ کچھ بھی کہہ کر لوگوں کو ہنساتے رہتے ہیں''

اس سوال پر کہ سن 2013ء کے انتخابات میں سردارحسین کا موقف تھا کہ اگر عوام کو دنیاوی فائدے کی ضرورت ہے تو مجھے، اگر اُخروی فائدے کی ضرورت ہے تومولانا صاحبان کو ووٹ دیا جائے،اور اگر غلام محمد کو ووٹ دیا تو آپ کی دنیا بھی تباہ اور آخرت بھی برباد ہوجائے گی ، کیا یہ ایک سیاسی نعرہ تھا کے جواب میں حاجی غلام محمد کا کہنا تھا کہ شاہ صاحب کابالکل ہی الگ طرز بیان ہے وہ کچھ بھی کہہ کر لوگوں کو ہنساتے رہتے ہیں البتہ میں نے کبھی بھی شاہ صاحب کے خلاف کوئی نازیبا اورغلط الفاظ ادا نہیں کئے۔

'' جے یو آئی ایف کے ضلعی قیادت سے اختلافات کی وجہ سے میں اس جماعت کو خیر باد کہنے پہ مجبور ہوا،،

جمعیت علمائے اسلام (ف) کو خیر باد کہنے سے متعلق پوچھے جانے والے سوال پر حاجی غلام محمد کا کہنا تھا کہ جے یو آئی ف ایک دینی جماعت ہے اور جے یو آئی ایف کے کارکن بڑے ہی مدبر اور اعلی صفات کے حامل ہے میں اس صدق دل سے معترف ہوں البتہ مختلف معاملات پر میرے اور جے یو آئی ایف کے ضلعی قیادت کے درمیان اختلافات چل رہے تھے جس کی وجہ سے میں جے یو آئی ایف کو خیر باد کہنے پہ مجبور ہوا۔ ایک اور سوال پر کہ آپ نے خود جے یو آئی ایف کو تو خیر باد کہہ دیا لیکن آپ کا بیٹا اسی جماعت کی ٹکٹ پر ڈسٹریکٹ یوتھ کونسلر ہے کیا یہ تضادات پر مبنی لائحہ عمل نہیں ،سابق ایم پی اے نے کہا کہ سیاست ایک لچک کا کھیل ہے اور ضروری نہیں کہ خاندان کے سارے افراد ایک ہی جماعت میں ہو جس طرح اسد عمر پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہے اور اس کا بھائی زبیر عمر مسلم لیگ (ن) کے زیر سایہ اب سندھ کے گورنر ہے، دونوں ایکدوسرے کے زبردست مخالف بھی ہے ۔لہذ ا یہ کوئی معنی نہیں رکھتا ہے۔ میں پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کیا ہوں اور میرا بیٹا جے یو آئی ایف ہی میں موجود ہے اور وہ جے یو آئی ایف کی ٹکٹ سے ضلع کونسل میں یوتھ کونسلر بھی ہے ، مختلف جماعتوں میں ہونا جمہوریت کا حسن ہے ۔ اسے دشمنی کے تناظر میں نہ لیا جائے۔

''میرے اور سلیم خان صاحب کے ایک دوسرے پر لگائے گئے کرپشن کے الزامات محض سیاسی بیانات تھے "

ایک اور سوال پر کہ سن 2014ء میں آپ جے یو آئی ایف میں شمولیت کے موقع پرپی پی پی کے ضلعی صدر اور سابق صوبائی وزیر سلیم خان پر کرپشن اور لوٹ مار کے بے تحاشہ الزامات لگائے تھے جس پر سلیم خان نے بھی جوابی الزامات لگائے کیا وہ محص سیاسی بیانات تھے یا اس میں کوئی حقیقت کا عنصر بھی موجودتھا ،پر حاجی غلام محمد کا کہنا تھا کہ سیاست میں کوئی چیز حرف آخر نہیں ہوتی ، اس وقت میرے لگائے گئے الزامات اور سلیم خان کے جوابی الزامات وقت وحالات کے تناظر میں بالکل درست تھے ۔اب ہم دونوں ایک ہی کشتی میں سوار ہے۔ اب ہمارے درمیان کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں۔آپ لوگوں کے ایکدوسرے پرلگائے گئے کرپشن کے سنگین الزامات محض سیاسی بیان تھے پر سابق ایم پی اے نے یہ کہتے ہوئے بات ٹال دی کہ اس وقت اور اسی حالات کے تناظر میں وہ بیانات بالکل ٹھیک تھے ،اس وقت سلیم خان اپنی سیاست کررہے تھے میں اپنی ۔ اب ہم دونوں ایک ہی جماعت کا حصہ ہے تو ہمارے درمیان کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں ۔

''پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کا اتحاد آگ اور پانی کے ملاپ کے مترادف ہے میں نہیں سمجھتا کہ آگ اور پانی کا کبھی ملاپ ہوجائے''

چترال کی سطح پر اگلے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی ممکنہ انتخابی اتحاد سے متعلق چلنے والی خبروں سے متعلق جب حاجی غلام محمد سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ مجھے اس حوالے سے فی الحال کوئی علم نہیں۔
البتہ وفاقی سطح پر پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کا اتحاد آگ اور پانی کے ملاپ کے مترادف ہے میں نہیں سمجھتا کہ آگ اور پانی کا کبھی ملاپ ہوجائے۔

موبائل فون کمپنی اوپو نے پاکستان فور جی سمارٹ فون مارکیٹ میں دوسری پوزیشن بنالی، کمپنی کے فون انتہائی مقبول

کراچی (ٹائمز آف چترال نیوز)  صف اول کے اسمارٹ فون برانڈ اوپو (OPPO) نے پاکستان میں سال 2017 کی پہلی دو سہ ماہی کے دوران سب سے زیادہ فروخت کا نیا ریکارڈ بنایا ہے۔ تحقیقی ادارے جی ایف کے (GFK) کی تازہ ترین تحقیقی کے مطابق ہمیشہ سے جدت کے لئے کوشاں اسمارٹ فون برانڈ اوپو اب پاکستان کی 4Gاسمارٹ فون مارکیٹ میں دوسرے نمبر پر آگیا ہے۔ اس بات کا اعلان لاہور کے مقامی ہوٹل میں میڈیا کے سامنے کیا گیا۔ 



صف اول کی مارکیٹ ریسرچ ایجنسی جی ایف کے (GFK) کی تازہ ترین تحقیق کے مطابق جولائی 2017 میں اوپو A57اور اوپو A37 اسمارٹ فون پاکستانی 4Gاسمارٹ فون مارکیٹ میں اینڈرائڈ سے چلنے والے سب سے مقبول پانچ اسمارٹ فونز کی فہرست میں موجود رہے۔ اس سے اوپو R11اور اوپو A57کی عالمی کامیابی نظر آتی ہے۔ خودمختار تحقیقی ادارے کاو ¿نٹر پوائنٹ ٹیکنالوجی مارکیٹ ریسرچ کے مطابق جولائی 2017 کے دوران دنیا میں سب سے مقبول اینڈرائڈ فونز کی فہرست میں دو پوزیشنیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ 

پاکستان میں سب سے زیادہ اینڈرائڈ فونز کی خریداری میں اوپو کا F3بھی شامل ہے کیونکہ یہ پہلا اسمارٹ فون تھا جس نے پاکستانی صافین کے لئے ڈوئل سیلفی کیمرا متعارف کرایا اور ملک بھر میں سیلفی رجحان پیدا کیا۔ 

اوپو پاکستان میں سب سے زیادہ تیزی سے ترقی پانے والا اسمارٹ فون برانڈ ہے جس میں اسکے بنیادی اسمارٹ فون ماڈلز اوپو F3، اوپو A37اور اوپو A57شامل ہیں۔ اوپو کے تیزی سے فروغ پانے کی وجہ اس کا ڈیزائن، مینوفیکچرنگ استعداد کار اور دیگر بہت سارے فیچرز ہیں۔ اس کے علاوہ اوپو سیلز کے مختلف انداز، صارفین تک رسائی بڑھا کر برتری حاصل کرنے کی حکمت عملی اور مارکیٹنگ کے ترغیبی طریقوں کے ساتھ حریفوں پر سبقت حاصل کرتا ہے۔ 

16 میگا پکسل کے فرنٹ کیمرے اور طاقتور ترین خصوصیات کا حامل اوپو A57نوجوانوں میں تیزرفتاری سے سیلفی لینے کے باعث انتہائی مقبول ہے جبکہ اوپو A37اسمارٹ فون 16 ہزار 899 روپے کے ساتھ جدید ترین سہولیات کی پیشکش کرتا ہے۔ 

تحقیقی ادارے جی ایف کے کی تازہ ترین تحقیق کے ساتھ ایک اور خودمختار تحقیقی ادارے آئی ڈی سی (IDC) کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سال 2016 میں عالمی سطح پر اوپو چوتھی پوزیشن پر برا جمان تھا۔ سال 2016 کی پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں 153 فیصد کی نمایاں ترقی کے ساتھ اوپو پہلی بار اسمارٹ فونز فروخت کرنے والے صف اول کے پانچ اداروں کی فہرست میں شامل ہوگیا ہے۔ 

آئی ڈی سی کی تحقیق کے مطاق سال 2016 کی پہلی سہ ماہی میں اوپو نے 18.5 ملین یونٹس فروخت کے لئے پیش کئے جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں انکی تعداد 7.3 ملین یونٹس تھی۔ صف اول کے پانچ اسمارٹ فون برانڈ کی فہرست میں اوپو کی کارکردگی گزشتہ سال کے مقابلے میں سب سے بہترین تھی۔ 

اب تک اوپو دنیا بھر میں 20 کروڑ سے زائد افراد بشمول نوجوانوں کو شاندار کیمرا فون فوٹوگرافی کے استعمال کی سہولت فراہم کررہا ہے۔ 



کراچی: فش فیکٹری کے کیمکل ٹینک میں گرکر 3 چترالی نوجوان جان بحق، دو سگے بھائی تھے


کراچی (ٹائمزآف چترال ‏25‏ ستمبر‏، 2017) بروز ہفتہ 23 ستمبر 2017 کی شام کو کراچی کے ابراہیم حیدری میں واقع فش فیکٹری کے کیمکل ٹینک میں گر کر 2 سگے بھائیوں سمیت 3 افراد جان بحق ہوگئے۔ جان بحق تینوں افراد کا تعلق چترال کے تحصیل لوٹ کوہ سے ہے۔ تفصیلات کے مطابق بہادر، بہادر اللہ اور رحیم بالاجی ایک دوسرے کو بچاتے ہوئے ٹینک میں گر گئے۔ بہادر اور بہادر اللہ سگے بھائی تھے۔ سگے بھائیوں کا تعلق چترال کے علاقے گرم چشمہ جبکہ رحیم بالاجی کا تعلق کریم آباد بریش گام اورعوچ سے ہے۔ بہادر اور بہادر اللہ ولد یمبو خان گرم چشمہ کے رہائشی، یمبو چترال سکاؤٹ سے ریٹائرڈ ہیں۔ پہلے جب ایک بھائی بہادر پاؤں پھسل جانے سے ٹینک کے اندر جا گرا اسے بچانے کے لئے دوسرا بھائی ٹینک میں کودا، پھر دونوں کو بچانے کے لئے رحیم بالاجی کودے چونکہ ٹینکی میں کیمکل ملے اسٹیم ہوتی ہے اس وجہ سے فوراً دم گھٹنے سے تینوں افراد جان بحق ہوئے۔ تینوں کا بچانے کے لئے کودنے والا بنگالی شخص آدھا ٹینکی میں اور آدھا حصہ باہر رہ جانے سے زندہ تو بچا لیکن آدھا جسم مفلوج ہوگیا۔ بہادر کی عمر 30 سال۔ بہادر اللہ 40 اور بالاجی کی عمر 35 سال بتائی جاتی ہے۔

تینوں افراد کی جسد خاکی قانونی کاروائی کے لئے جب جناح ہسپتال لائی گئیں تو سندھ پولیس نے اپنا روایتی طرز عمل اپنایا اور لواحقین کو ڈیتھ سرٹیفیکیٹ دینے سے انکار کیا اور کھلم کھلا رشوت کا مطالبہ کرڈالا۔ جس کے بعد لواحقین، فیکٹری انتظامیہ اور پولیس میں کافی جھگڑا ہوا۔ پولیس رشوت پر ڈٹی رہی ۔ جس کے بعد لوحقین معاملہ لیکر فوراً آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کے رہائشی گاہ واقع کلفٹن پہنچ گئے اور پولیس کے رویے سے خواجہ صاحب کو آگاہ کیا۔ آئی جی اے خواجہ نے فوراً نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ پولیس ڈپارٹمنٹ فون کیا تو وہی پولیس بعد ازاں لواحقین کے پاؤں پڑھ گئی اور فوری طوری پر سرٹیفیکٹس بناکر دیئے اور معافی بھی مانگی۔ اور مزید کوئی کاروائی نہ کراونے کی منتیں کرنے لگی۔ 

غم سے نڈھال لوحقین کے ساتھ پولیس کا یہ رویہ انتہائی افسوسنال اور محکمہ پولیس کے باعث شرم ہے۔ بجائے لواحقین کو کمپنسیٹ کرنے کے انہی سے رشوت کا مطالبہ کرنا کہاں کا انصاف ہے۔ جناح ہسپتال میں متعین مذکورہ راشی پولیس افسران اور ان کے ماتحت عملے پر فوری کاروائی ہونی چاہئے۔ ہم آئی جی سندھ اور سندھ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مذ کورہ پولیس عملے کے خلاف فوری کاروائی کریں۔ 

23 ستمبر، 2017

چترال آوی میں پیش آنے والے دل دہلانے دینے والے واقعے پر انتہا پسندانہ رویہ (فکر فردا) کریم اللہ

آج سے کوئی 15 روز قبل چترال کے خوبصورت گاؤں بونی سے متصل آوی میں حسنہ پروین نامی ایک پندرہ سالہ لڑکی کی خود کشی کا واقعہ پیش آیا ، مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی خبروں میں اس واقعے کو اغواء،اجتماعی ریپ اور قتل کا واقعہ قرار دیا گیا ۔ البتہ اس حوالے سے ابھی تک کوئی مفصل رپورٹ سامنے نہیں آئی۔ اس سلسلے میں خاکسار نے کئی دنوں کی کوششوں کے بعد ایک رپورٹ تیار کی تھی ۔ جس میں ہم نے علاقے کے معتبر افراد ، لڑکی کے والد اورپولیس ذرائع سے کیس کی جڑ تک پہنچنے کی کوشش کی ۔ رپورٹ کے شائع ہونے کے بعد جہاں اس پرخاصی تنقید ہوئی وہیں بعض لوگوں نے حوصلہ آفزائی بھی فرمائیں۔ ان ساری باتوں سے ہٹ کر آج گزشتہ رپورٹ میں موجود چند خامیوں کو درست کرنے کے علاوہ سوشل میڈیا میں چلنے والی تعصب پر مبنی انتہا پسندانہ رویوں پر بھی نگاہ ڈالنے کی کوشش کرونگا ۔

اس سلسلے میں ایک ملزم کے بھائی نے فون کرکے کئی ایک شکایت کی ان کا موقف تھا کہ چونکہ ان کا بھائی کم سن یعنی پندرہ سالہ ہے وہ ایساگھناؤنا جرم نہیں کرسکتے ۔ اس کے علاوہ ان کا موقف تھا کہ کیس پولیس کے زیر انتظام تفتیش کے مراحل میں ہے لہذا ان کے بھائی کو مجرم کہنا انتہائی زیادتی ہے۔ 

اس کیس میں نامزد چارملزمان پولیس تحویل میں ہے ابھی تک انہوں نے اقبال جرم کیا ہے یا نہیں اور ان پر کوئی جرم ثابت ہو گیا ہے یا نہیں ہمیں اس کا کوئی علم نہیں۔کیونکہ پولیس اس حوالے سے کچھ بھی بتانے سے قاصر ہے۔ ان چاروں افرادکو قانون کی نگاہ میں اس وقت تک بے گناہ تصور کیا جائے گا جب تک کہ ان پر جرم ثابت نہ ہو۔ میں اپنی رپورٹ میں بھی کہیں انہیں مجرم نہیں البتہ ملزم ضرور لکھا تھا۔ اس سلسلے میں چترال پولیس پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس کیس میں جن جن دفعات کے تحت مقدمات درج کئےہیں ان کے متعلق ہمیں آگاہی دیں ۔اس کے علاوہ لڑکی کے پوسٹ ماٹم رپورٹ کاابھی تک منظر عام پر نہ آنا بھی بہت سارے سوالات کا باعث بن رہے ہیں ۔

سوشل میڈیا ئی دانشوروں کا تعصب:

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم میں سے ہر انسان کے اندر کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی نفرت ،عداوت اور تعصب کا عنصر پایا جاتا ہے ۔جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا نے اس نفرت کو تشت ازبام کرکے رکھ دیا ہے ، اور آج ہم سب سوشل میڈیا کے بابرکت دنیا کے سامنے بے نقاب اور ننگے گھوم پھر رہے ہیں ۔ یہی کچھ آوی میں پیش آنے والے اس اندوہناک واقعے کے بعد سوشل میڈیا میں دیکھنے کو ملا جب کچھ انتہا پسندوں نے ان مجرموں کے خاندانی پس منظر کو لے کر پورے چترال کے رہائشی سادات فیملی کو بدنام کرنے کی مذموم کوشش شروع کی ۔یہی نہیں بلکہ ایم پی اے مستوج سردارحسین کو بھی پروپیگنڈے کے دلدل میں گسیٹھنے کی کوشش ہوئی ۔

جرم تو جرم ہوتا ہے اس میں معاشرے کا کوئی فرد بھی شامل ہوسکتا ہے ۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایک ایسی نسل پروان چڑھ چکی ہے جو توڑ پھوڑ اورجرائم کے ارتکاب کے بعد خوشی محسوس کرتی ہیں اور خاندان کے افراد ایسے بچوں کی حوصلہ شکنی کے بجائے مزید ان کی حوصلہ افزائی کررہے ہوتے ہیں ۔ جرائم کے مرتکب ہونے والے افراد میں رنگ ونسل ،مذہب ومسلک سے ہٹ کر نوجوان نسل کی بڑی کثیر تعداد ملوث ہے ۔ جو لوگ آوی میں پیش آنے والے واقعے کا الزام سادات برادری پر ڈال رہے ہیں وہ اپنی ذاتی نفرت وعداوت کا اظہار کررہے ہوتے ہیں۔جبکہ خاکسار نے اپنی رپورٹ کی تیار ی کے دوران اس لڑکی کے والد مومن نظار بیگ سے بار بار استفسار کیا کہ آپ پر کسی قسم کی سماجی یا سیاسی دباؤ تو نہیں تو ہر بار مومن نظار بیگ نے نفی میں جواب دیا ۔ ایم پی اے سردارحسین پر لگائے گئے الزامات کے بابت پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ نہ سردارحسین صاحب نے میرے ساتھ رابطہ کیا ہے اور نہ ہی مجھے ان کے اس کیس میں ٹانگین لڑانے کی کوئی اطلاع ہے ۔ جو باتین گردش کر رہی ہے وہ سراسر جھوٹ ہے۔ 

جو لوگ اس کیس کو نسلی تعصب کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کررہے ہیں وہ اپنی ذاتی انا کے لئے دوسروں پر الزامات لگارہے ہیں ان الزامات سے کیس کی نوعیت پر کوئی مثبت اثر تو نہیں پڑے گا البتہ نفرت وعداوت کی فضاء مزید بڑھ سکتی ہے ۔ ذاتی پسندوناپسند یا نفرت وعداوت کو لے کر تعصب پھیلانے کا یہ سلسلہ اب بند ہونا چاہئے ۔

عمران خان کے سخت ترین سیاسی مخالف نے ان کے گوشواروں کی تفصیلات سپریم کورٹ میں جمع کرادی

اسلام آباد (این این آئی) لیگی رہنما حنیف عباسی نے عمران خان کے گوشواروں کی تفصیلات سپریم کورٹ میں جمع کرادیں ۔ دستاویزات میں 2003 سے 2006 کے دوران عمران خان کی الیکشن کمیشن میں داخل کی گئی مالی تفصیلات شامل ہیں ۔سپریم کورٹ میں جمع کردہ گوشواروں کے مطابق عمران خان نے دستاویزات میں لندن فلیٹ کی 2004 میں فروخت، بنی گالہ کیلئے جمائمہ سے قرضہ لینے کا ذکر نہیں ۔دستاویزات میں عمران خان کا پیشہ کل وقتی سیاستدان لکھا ہوا ہے ۔ دوسری جانب چیئرمین تحریک انصاف عمران خان ٗسیکرٹری جنرل پی ٹی آئی جہانگیر ترین کی نااہلی کیلئے

دائردرخواستیں سماعت کے لیے مقررکردی گئیں۔درخواستوں کی سماعت منگل( 26 ستمبر کو) چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ کرے گا ،بینچ کے ممبران میں جسٹس عمرعطا بندیال اور جسٹس فیصل عرب شامل ہیں عدالت نے عمران خان، جہانگیر ترین، الیکشن کمیشن اور دیگر فریقین کونوٹسز جاری کردئیے ہیں ۔یاد رہے کہ عدالت نے عمران خان سے بنی گالامیں زمین خریداری کی منی ٹریل میں موجود خلا اورعدالتی سوالات پر وضاحت مانگ رکھی ہے۔


ملکی اور بین الاقوامی حالات پر تبصرہ: آئندہ دنوں میں کس کس سیاسی شخصیت کو جیل میں ڈالا جاسکتا ہے: ایان علی کے کس سے تعلقات تھے اور بھی بہت کچھ: سنیئے لائیو ود شاہد مسعود

ملکی اور بین الاقوامی حالات پر تبصرہ: آئندہ دنوں میں کس کس ساسی شخصیت کو جیل میں ڈالا جاسکتا ہے: ایان علی کے کس سے تعلقات تھے اور بھی بہت کچھ: سنیئے لائیو ود شاہد مسعود 

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget