30 مارچ، 2017

چترال کے علاقے شاہ بیار میں فیملی ویلفئیر سنٹر 2 سالوں سے بند۔ ترقیاتی کاموں میں نہایت ناقص میٹریکل کا استعمال۔


چترال(گل حماد فاروقی) چترال کے علاقے شاہ بیار کے لوگ گو ناگوں مسائل سے دوچار ہیں۔ اس وادی میں نہ تو بجلی ہے نہ ٹیلیفون یا موبائل ، یہاں کے لوگ ہسپتال، کالج، سڑک اور دیگر بنیادی حقوق سے بھی ابھی تک محروم ہیں۔ اس وادی میں عوامی نیشنل پارٹی کے دور حکومت میں فیملی ویلفئیر سنٹر یعنی خواتین کی فلاح و بہبود کیلئے ایک مرکز کھولا گیا تھا مگر یہ مرکز بھی دو سالوں سے بند پڑا ہے۔

علاقے کے ایک خاتون اختر نساء کا کہنا ہے وہ اس مرکز میں اسسٹنٹ کی آسامی کیلئے حقدار تھی مگر سابقہ صوبائی وزیر بہبود آبادی سلیم خان نے اپنے گاؤں گرم چشمہ سے ایک خاتون اور دیگر عملہ کو یہاں لاکر بھرتی کیا جو اتنی دور سے ڈیوٹی کیلئے آتے بھی نہیں ہیں۔اس سلسلے میں جب سلیم خان سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا ہے کہ ہماری دور حکومت میں ہم نے یہاں ایک مرکز کھولا تھا مگر انصاف کے دعویدار حکومت نے اسے بند کیا ۔

اس علاقے کو سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچانے کیلئے دریا کے کنارے حفاظتی پُشتیں اور دیواریں تعمیر کی گئی ہیں مگر اس کی معیار اتنی ناقص ہے کہ صرف پتھروں سے دیوار بھرا ہے۔ علاقے کے ناظم شیر محمد کا کہنا ہے کہ یہاں جتنے بھی ترقیاتی کام ہوئے ہیں یا بحال کاری کے منصوبے وہ سب کے سب ناقص ہیں اور ان کا معیار نہایت ناقص ہے انہوں نے مزید بتایا کہ ہم نے ضلعی انتظامیہ، ضلعی حکومت کو بھی بارہا شکایت کی کہ یہاں ہونے والے کام کا معیار ناقص ہے مگر کوئی بھی سننے کو تیار نہیں ہے۔ شیر محمد نے کہا کہ یہاں کوئی افسر یا حکام آتا نہیں ہے تاکہ ہونے والے کا م کی معیار کا جائزہ لے اور اس کی نگرانی کرے جبکہ ٹھیکدار وں کو کھلی چھٹی دی گئی ہے او ر وہ اپنی مرضی سے ناقص کام کر رہے ہیں۔

اس سلسلے میں جب محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس ( سی اینڈ ڈبلیو) اور محکمہ آبپاشی (یریگیشن) کے ایگزیکٹیو انجنئرز صاحبان سے ان کی موقف جاننے کی کوشش کی گئی تو ایک صاحب دفتر میں تشریف فرما نہیں تھے جبکہ دوسرے صاحب کا کہنا تھا کہ وہ ایکٹنگ ایکسیئن ہے او ر اس سلسلے میں کوئی بات نہیں کرسکتا۔

شاہ بیار گاؤں کے لوگوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ یہاں بنا ہوا فیملی ویلفئر مرکز کو فوری طور پر کھول دیا جائے اور اگر اس مرکز کا عملہ گھر بیٹھے تنخواہ لے رہے ہیں تو ان کے حلاف قانونی کاروائی کی جائے نیز انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومت اس وادی میں نیب، انٹی کرپشن یا صوبائی معائنہ ٹیم کے اراکین کو بھیجے تاکہ یہاں ہونے والے تمام منصوبوں اور کام کا تحقیقات کی جائے اور جن کاموں میں غبن ہوا ہے یا اس کا معیار ناقص ہے ان محکموں کے افسران، ٹھیکدار اور ذمہ داروں کو کڑی سزا دلوادیں تاکہ آئندہ یہ لوگ اس پسماندہ علاقے کے لوگوں کا حق ہڑپ نہ کرے۔

پاکستان کا مستقبل خطرے میں دیکھ رہا ہوں: سابق آرمی چیف اور صدر پاکستان کا بڑا انکشاف

(ویب ڈیسک)  آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ وسابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں امریکی اڈوں میں پاکستانیوں کو داخلے کی اجازت نہیں تھی ،امریکی اس معاملے میں بہت سخت تھے ، ملک کو گنوا دینا کوئی بہادری نہیں ہوتی ،شاہ عبداللہ نے شریف
برادران کو جانے دینے کا کہا ،شہباز شریف کیلئے میرے دل میں نرم گوشہ تھا ، سعودی عرب کی طرف سے ہمارے معاملات میں کوئی مداخلت نہیں تھی ، زرداری حکومت کو امریکہ سے کوئی خطرہ نہیں تھا پھر بھی وہ امریکیوں کو ویزے جاری کرتے رہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی طرف سے ہمارے معاملات میں کوئی مداخلت نہیں تھی ،شاہ عبداللہ نے شریف برادران کو جانے دینے کا کہا تھا۔پرویز مشرف نے کہا کہ پاکستان میں امریکی اڈوں میں پاکستانیوں کو داخلے کی اجازت نہیں تھی ،سابق صدر نے کہا کہ زرداری حکومت کو امریکہ سے خطرہ نہیں تھا اور حسین حقانی پر بھی کوئی دباؤ نہیں تھا ،ان کا کردار تو ایک ڈاکیے کا تھا ، پیپلزپارٹی کی حکومت نے امریکیوں کو دباؤ کے بغیر ہی ویزے جاری کئے۔

انہوں نے کہا کہ میں سپریم کورٹ کی اجازت سے باہر گیا، بدقسمتی سے ملک میں صرف طاقتور کو ہی انصاف ملتا ہے ،میرے ساتھ نا انصافی ہورہی تھی جس وجہ سے جنرل راحیل شریف نے میرے باہر جانے میں مدد کی ، اس ملک میں صرف اسی کو انصاف مل سکتا ہے جس کے پیچھے پاور ہو یا کوئی طاقت ور ادارہ ہو۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میرے پاس ملک سے باہر کوئی پراپرٹی نہیں تھی اس لئے سعودی عرب کے شاہ عبداللہ نے 2009 میں میرے اکاؤنٹ میں پیسے جمع کروائے ، ان کے ساتھ میرا تعلق بھائیوں کی طرح ہے۔پرویز مشرف نے کہا کہ ایم کیو ایم رہنماؤں سے ملنے کی خواہش میں نے ظاہر نہیں کی ، فاروق ستار خود مجھ سے ملنے آئے تھے ، میں علاقائی سیاست میں نہیں پڑنا چاہتا اور نہ ہی میری وزیراعظم بننے کی خواہش ہے ،میں پاکستان کا مستقبل خطرے میںدیکھ رہا ہوں۔انہوں نے کہا کہ مجھے مستقبل میں ڈکٹیٹر کے نام سے یاد کیا جائے گا مگر میں ڈکٹیڑ نہیں تھا میں نے پاکستان کو ترقی دی اور عوام کو حوصلہ دیا ،ڈکٹیٹر شپ تو اب ہے۔

کوئٹہ کے جان محمد کے 33 بچے : مردم شماری کا عملہ فارم بھرتے بھرتے چکرا گیا

کوئٹہ (ویب ڈیسک) کوئٹہ کے رہائشی جان محمد نے مردم شماری کے عملے کو مشکل میں ڈال دیا۔ تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں مردم شماری کا پہلا مرحلہ جاری ہے۔ مردم
شماری کی ٹیم جان محمد کے گھر پر پہنچی تو مشکل میں پھنس گئی۔ جان محمد کی تین  بیویاں اور 33 بچے ہیں جن میں 10 بیٹے اور 23 بیٹیاں شامل ہیں۔ مردم شماری کے فارم میں اتنے بچوں کے اندراج کا خانہ ہی موجود نہیں ہے۔ مردم شماری کے عملے نے کمشنر کوئٹہ کو اس سے متعلق آگاہ کر دیا ہے۔


مورٹین نے پاکستان میں خصوصی مچھر مار 'بل بورڈز' متعارف کرادیئے

کراچی:  مورٹین نے ملک میں ڈینگی سمیت مچھروں سے پھیلنے والی مختلف بیماریوں کے متاثرین کی تعداد میں کمی لانے کے لئے خصوصی بل بورڈز متعارف کرادیئے ہیں۔ یہ مچھر مار بل بورڈز مچھروں کے خاتمے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ قدم 'ڈینگی سے پاک پاکستان 'مہم کا تسلسل ہے جس کا مقصد پاکستان بھر سے ڈینگی سمیت دیگر مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کا خاتمہ ہے۔

گزشتہ چھ سالوں کے دوران پاکستان میں ڈینگی سے 65 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے۔ صرف سال 2016 کے دوران صوبہ پنجاب میں ڈینگی کے 3 ہزار واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ سندھ میں ڈینگی متاثرین کی تعداد 2 ہزار سے متجاوز تھی ۔ ڈینگی کے بیشتر واقعات بڑے شہروں اور نیم شہری علاقوں میں واقع ہوئے جبکہ منصوبہ بندی کے بغیر بننے والے علاقے اور دیہی علاقے ڈینگی کا خاص طور پر نشانہ بنے۔ 

مورٹین بنانے والے ادارے ریکٹ بنکیزر پاکستان کے چیف ایگزیکٹو ،شاہزیب محمود نے بتایا، 'ریکٹ بنکیزر ملک میں صحت و صفائی کی بہتر صورتحال کی جدید سہولیات کی فراہمی کے لئے ہمیشہ سے پرعزم ہے۔ اس وقت مچھروں سے پھیلنے والی ڈینگی جیسی بیماریوں کے واقعات اپنے عروج پر ہیں ۔ ڈینگی سے پاک پاکستان ہمارا عزم ہے اور یہ مچھر مار بل بورڈز ہمارے اس عزم کا ثبوت ہیں ۔ '

مچھروں کی پیدائش کے موسم میں ان بل بورڈز کی تنصیب کا مقصد یہ ہے کہ بیرونی ماحول کو بھی مچھروں سے پاک کیا جائے تاکہ ڈینگی جیسی بیماریوں سے روک تھام ممکن ہو۔ یہ بل بورڈز لوگوں کو مچھروں سے محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ اس بات کی یاد دہانی بھی کرائیں گے کہ انہیں مچھروں سے بچاﺅ کے لئے اپنے گھروں میں اور اپنے گھروں کے باہر احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہیئیں۔ 

یہ بل بورڈز مچھروں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں بالکل اسی طرح جیسے وہ انسانوں کی جانب متوجہ ہوتے ہیں۔ یہ بل بورڈ کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج کرتے ہیں جس سے انسانی سانس لینے کی کیفیت محسوس ہوتی ہے اور ان کے اندر موجود لیکٹک ایسڈ ، جس میں سے پسینے کی بو آتی ہے وہ مچھروں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے ۔ اس میں الٹرا وائلٹ روشنیاں مچھروں کے لئے اضافی کشش کا باعث ہیں۔ جیسے ہی مچھر بورڈ کی جانب متوجہ ہوتے ہیں تو وہ ایگزاسٹ فین کے اندر سے گزرجاتے ہیں اور پھر کمزور ہو کر بورڈ کے اندر ہی مرجاتے ہیں۔ 

28 مارچ، 2017

صدر ممنون حسین نے ہزہائنس پرنس کریم آغاخان کو پاکستان آنے کی دعوت دے دی



اسلام آباد (اے پی پی) صدر پاکستان ممنون حسین نے ہز ہائنس پرنس کریم آغاخان کو ان کے ڈائمنڈ جوبلی سیلبریشنز کے موقع پر پاکستان آنے کی دعوت دے دی۔ انہوں نے یہ دعوت گزشتہ دنوں آغاخان کونسل برائے پاکستان کے صدر حفیظ شیر علی سے ایوان صد میں ملاقات میں دی۔  صدر ممنون حسین نے پاکستان میں آغاخان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک، آغاخان فاؤنڈیشن اور آغاخان ہیلتھ سروس کی معاشی اور معاشرتی خدمات کو سراہا۔

کونسل برائے پاکستان کے صدر حفیظ شیر علی سے صدر پاکستان نے ہس ہائنس آغا خان کی جانب سے بھیجے گئے پاکستان ڈے کے موقع پر مبارک باد کا خط وصول کیا۔ 
صدر نے کہا کہ اے کے ڈی این کی پاکستان میں ، خاص طور پر ملک کے شمالی علاقوں میں لوگوں کی زندگیوں  اور ملک کے انفراسٹرکچر میں نمایاں تبدیلی لارہا ہے۔ انہوں نے ہزہائنس آغاخان کے دادا جان سر سلطان محمد شاہ آغاخان کی تحریک پاکستان میں آل انڈیا مسلم لیگ کے پہلے صدر کے طور پر خدمات کو سراہا۔ (ترجمہ افسرخان) 

27 مارچ، 2017

اسوس ما زبانا اے ما شییرین نان - ایک یہ خوبصورت کلام سن لیں اور پسند آئے تو اپنے اپنے والز پر شیئر کرکے اپنی ماؤوں کو خراق عقیدت پیش کریں : شکریہ

اسوس ما زبانا اے ما شییرین نان  - ایک یہ خوبصورت کلام سن لیں اور پسند آئے تو اپنے اپنے والز پر شیئر کرکے اپنی ماؤوں کو خراق عقیدت پیش کریں : شکریہ 

Play this #Khowar / #Chitrali songs play list - which has more than 30 video songs

25 مارچ، 2017

چترال اور دیر میں ٹریفک حادثات میں 7 افراد جان بحق ہوئے

چترال /دیر (نمائندہ ٹائمز آف چترال) اپر دیر میں ایک تبلیغی جماعت کی گاڑی کے حادثے میں تبلیغی جماعت کے 5 ارکان جان بحق ہوگئے جبکہ 6 زخمی ہوگئے ہیں۔ گاڑی  اپر دیر کے صاحب آباد سے تبلیغی جماعت کے ارکان کو لیکر واپس جارہی تھی کہ دسلاور کے مقام پر گاڑی سڑک سے سلپ ہوتی ہوئی دریائے پنجکورا میں جاگری۔ حادثے کے بعد مقامی افراد فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور امدادی کاروائیاں کرنے لگے۔ وقوعہ والے دن شام تک دریا سے ایک لاش نکالنے میں کامیاب ہوگئے تھے جمعہ کو باقی لاشیں نکال لی گئیں۔ 


ادھر چترال کے علاقے آرکاری میں گاڑی حادثے میں 2 افراد جان بحق اور 6 زخمی ہوگئے۔ مذکورہ گاڑی سفید آرکاری سے اویر آرکاری جاری تھی۔ گاڑی گہری کہائی میں جاگری۔ ذرائع کے مطابق برفانی راستے کی وجہ سے گاڑی پھسل کر ڈرائیور کے قابل سے باہر ہوگئی اور حادثے کا شکار ہوگئی۔ حادثے ڈرائیور اور زوجہ درانی جان بحق ہوئے، اور زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہید کوارٹر ہسپتال منتقل کیا گیا۔

صوبے کے 27اضلاع : ایک نیا ضلع بننے کا مطلب ہے۔۔۔۔۔ ڈاکٹر عنایت للہ فیضیؔ

صوبے کے 27اضلاع :  ڈاکٹر عنایت للہ فیضیؔ

کو ہستان میں دو نئے ضلعے بننے کے بعد خیبر پختونخوا کے اضلاع کی تعداد 27 ہوگئی ہے پاکستان ائیر بک کے مطابق 1969 میں خیبر پختونخوا کے اضلاع کی تعداد 3تھی ملا کنڈ کا نیا ڈویژن صوبے میں ضم ہوا تو اس ڈویژن میں چا ر
اضلاع تھے سوات ایک ضلع تھا دیر ایک ضلع تھا چترال کے دو ضلعے تھے انضمام کے وقت چترال کے ایک ضلع کو توڑ دیا گیا تین اضلاع بنا کر ملاکنڈ ڈویژن کو ضم کر دیا گیا اس طرح اضلاع کی کل تعداد 6ہوگئی آپ پاکستان ائیر بکس اٹھا کر ملا حظہ کرینگے تو پتہ لگیگا کہ 16دسمبر 1971ء کو بنگلہ دیش بنتے وقت ہزارہ ایک ضلع تھا بنوں ایک ضلع تھا پشاور ایک ضلع تھا ہزارہ ایک ضلع تھا مر دان ،ڈی آئی خان،مانسہر ہ کے اضلاع نئے بنائے گئے پھر چارسدہ ، نو شہرہ ،کو ہاٹ ،ہری پور ، صوابی ،لکی مروت اور کرک کے اضلاع بنائے گئے ملاکنڈ ڈویژن میں سوات کے 3اور دیر کے 3اضلاع بن گئے ہزارہ ڈویژن میں ہری پور بٹگرام ،کو ہستان اور تورغر کے نئے اضلاع بن گئے بونیر ،شانگلہ ،ملاکنڈ ،دیر لوئر ،دیر اپر ، چترال اور کوہستان کے دو نئے اضلاع کو ملا کر خیبر پختونخوا میں اضلاع کی کل تعداد 27 ہوگئی۔

ایک نیا ضلع بننے کا مطلب کیا ہے؟ 

یہ خالی اعلان نہیں ہوتا ہر نئے ضلع میں 8 ہزار نئی ملازمتیں دی جاتی ہیں ایک ضلع کو سالا نہ ترقیاتی پروگرام میں کم از کم 3 ارب روپے کا ترقیاتی فنڈ دیا جاتا ہے کم از کم ڈیڑھ ارب روپے کاانتظامی بجٹ دیا جاتا ہے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی میں نمائندگی دی جاتی ہے صوبائی کیڈر کے سر کاری ملازمتوں میں زونل کوٹہ دیا جاتا ہے اضلا ع کو بنیا د بنا کر نئے ڈویژن بنائے جاتے ہیں ایک ڈویژنل ہیڈ کوارٹر کو کم از کم ڈیڑھ ارب روپے کا بجٹ ملتا ہے پشاور اور جنوبی اضلاع میں دو ڈویژن بن چکے ہیں ہزارہ میں اب دو ڈویژن بن جائینگے ملاکنڈ کو بھی دو ڈویژنوں میں تقسیم کیا جائیگا یہ اقدامات انتظامی سہولت کیلئے اٹھائے جاتے ہیں نیا ضلع بناتے وقت تین امور کو مدنظر رکھا جاتا ہے سب سے پہلے رقبے کو دیکھا جاتا ہے اس کے بعد آبادی کو دیکھا جاتا ہے اس کے بعد امن وامان کی صورت حال کو دیکھا جاتا ہے یہ تین عوامل بنیادی حیثیت رکھتے ہیں ان عوامل کو سامنے رکھے بغیر نیا ضلع نہیں بنتاکسی تحصیل یا سب ڈویژن کو ضلع بناتے وقت ایک رپورٹ تیا ر کی جاتی ہے یہ رپورٹ اوپر تک جاتی ہے رپورٹ کا ہر لحاظ سے جائزہ لیا جاتا ہے نیا ضلع بنا نے کا جو از ڈھونڈ لیا جاتا ہے تورغر کو ضلع کا درجہ دیتے وقت جو رپورٹ تیا ر کی گئی وہ کئی حوالوں سے بیحد اہم تھی اس میں جواز یہ پیش کیا گیا کہ تورغر 600مر بع کلومیٹر پر پھیلا ہوا وسیع علاقہ ہے اس کی ابادی 95ہزارنفوس پر مشتمل ہے ما نشہرہ ضلع کا ڈپٹی کمشنر انتظامی لحاظ سے اتنے بڑے علاقے کا کنٹرول نہیں سنبھال سکتا اس لئے امن و امان کی صورت حال ہمیشہ خراب رہتی ہے تورغر کو الگ ضلع بنائے بغیر امن وامان کا مسئلہ حل نہیں کیا جا سکتا چنانچہ تورغر ضلع بن گیا ۔ 

اس طرح جنرل فضل حق کے زمانے میں کوہستان کو بٹ گرام سے الگ کر کے ضلع بنا یا جا رہا تھا تو نئے ضلع کا ایسا ہی جو از پیش کیا گیا پالس کی دوسب تحصیلوں کو نیا ضلع بنانے کے لئے جو سمری بھیجی گئی اس میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورت حال کو پہلا نمبر دیا گیا دیامر بھا شا ڈیم اور داسو ڈیم کی تعمیر میں رکاوٹوں کا ذکر کیا گیا سی پیک کی شاہراہ کے حوالے سے کو ہستان میں ممکنہ بدامنی کا حوالہ دیا گیا اس کے بعد لکھا گیا کہ 480مر بع کلو میٹر رقبے پر محیط وسیع وعریض علا قے کی 80ہزار آبادی کو اگر نیا ضلع نہیں بنا یا گیا تو نہ دا سوڈیم بنے گا نہ سی بیک کی نئی شا ہراہ تعمیر ہو گی اس لئے ہنگامی طور پر کو ہستا ن میں دو نئے ا ضلا ع کا بننا ملکی مفاد میں ہے چنا نچہ ملکی مفاد میں دو نئے اضلا ع بنا ئے گئے یہ ا لگ با ت ہے کہ جے یو آئی (ف)کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے ایم پی اے شیخ الحد یث حضرت مولا نا عصمت اللہ نے اپنی نشست سے مستعفی ہو کر پی ٹی آئی میں شا مل ہونے اور عمران خا ن کے دست حق پر ست پربیعت کرنے کا زور دار ا علا ن کیا یہ سیاسی مصلحت تھی اور شیخ سعدیؓ نے کہا ہے’’دروغ مصلحت انگیزبہ ازراستی قننہ انگیز ‘‘اورخواجہ حا فظ شیرازی ؒ نے فر ما یا تھا ’’بہ دوستاں تلطُف بہ دشمنان مدارا‘‘یہ بھی الگ با ت ہے کہ2011میں تورعز کو ضلع بنانے کے بعد صوبائی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ چھٹی مردم شما ری سے پہلے کوئی نیا ضلع نہیں بن سکتا یہ قا نونی اور آئینی رکا وٹ ہے عدالت عظمیٰ نے پا بندی لگائی تھی اس پر بھی غور ہو نا چاہیے کہ چھٹی مردم شماری شروع ہونے سے ایک ہفتہ پہلے آئینی رکا وٹ کیوں ختم کی گئی ؟انتظا می امور کے ما ہرین اور محفقین کی توجہ کے لئے وہ رپورٹ بھی لائق تحسین ہے جو مئی 1969میں چترال کے اندر ضلع مستوج کو توڑنے کے جواز میں اُس وقت کے پولیٹکل ایجنٹ افتخار الدین خٹک نے حکومت کو بھیجی تھی رپورٹ میں لکھا گیا تھا کہ مستوج کا ضلع آٹھ ہزار نو سو (8900) مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے اس کی آبادی 67 ہزار ہے افغانستان کے ساتھ اس کی 370 کلومیٹر سرحد لگی ہے علاقے میں تین (3) پولیس اسٹیشن قائم ہیں ان میں قتل ،اقدام قتل ،اغوا ،ڈکیتی وغیرہ کی ایک بھی ایف آئی آر نہیں ہے اس ضلع پر سالانہ بجٹ خر چ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں اس کو توڑ کر ملازمین کو فارغ کیا جائے اور علاقے کو چترال ضلع میں شامل کیا جائے مئی 1969اور مارچ 2017 ء کے درمیان جو عرصہ گذرا ماہ و سال کے حساب سے 48سال بیت گئے رقبہ وہی ہے البتہ آبادی 67ہزار سے بڑھ کر دو لاکھ 73ہزار ہوگئی افغان مہاجر ین کے آنے کے بعد قتل ،اقدام قتل ،اغوا ، ڈکیتی وغیرہ کی وارداتیں بھی ’’حسب منشا‘‘ہونے لگیں مگر کوہستان آخر کو ہستا ن ہے چترال اس طرح کی وارداتوں میں کوہستان کا مقابلہ نہیں کر سکتا 48 سال پہلے ملاکنڈ ڈویژن میں ضم ہوتے وقت چترال کے دو ضلعے تھے اور خیبر پختونخوا ہ کے3 ضلعے تھے۔ اب خیبر پختونخوا کے ضلعوں کی تعداد 27ہوگئی ہے چترال کا پرانا ضلع بحال نہیں ہوا چترال کے چا ر اضلاع ہونے کے بجائے ایک ہی ضلع رہ گیا ہے اور یہ بھی غنیمت ہے۔

22 مارچ، 2017

کھوار ویڈیو باشونو - انجوئے کورور

بحالی ریشن پاور ہاؤس جلسہ: بجلی گھر بحال کرنے کا مطالبہ پورا نہ کرنے کی صورت میں مردم شماری کا بائیکاٹ کیا جائے گا، اور اگلہ جلسہ ہر گز پر امن نہیں ہوگا

بحالی ریشن پاور ہاؤس جلسہ: بجلی گھر بحال کرنے کا مطالبہ پورا نہ کرنے کی صورت میں مردم شماری کا بائیکاٹ کیا جائے گا، اور اگلہ جلسہ ہر گز پر امن نہیں ہوگا



چترال ، ریشن ( افسر خان ) اپر چترال کے 50 فیصد سے زائد حصے کو بجلی فراہم کرنے والا واحد ہائیڈل پاور ہاؤس ریشن بجلی گھر کو ایک چھوٹا سا حصہ جولائی 2015 کے سیلاب میں جزوی طور پر تباہ ہوگیا تھا۔ جس کے بعد چترال کا یہ حصہ اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے۔ عوام کئی بار بجلی گھر کی بحالی کے لئے سڑکوں پر آئے مگر صوبائی حکومت ، پیڈو اور شیڈو کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگی۔ چترالی عوام اپنی روایتی شرافت کا مظاہر کرکے پر امن احتجاج کرتے ہیں جس میں کوئی نہ کوئی حکومتی نمائندہ آکر دلاسہ دے کر چلا جاتا ہے اور مظاہرین یقین کرکے گھر چلے جاتے ہیں ۔ چترالی عوام کو یہ سمجھ کیوں نہیں آتی کہ جب سیدھی انگلی سے گھی نہ نکلے تو انگلی ٹیڑھی کرنی پڑتی ہے۔ 

ریشن بجلی گھر کو بند ہوئے 3 سا ل کاعرصہ گزر گیا، لیکن صوبائی اور وفاقی حکومت نہ تو کوئی متبادل بجلی کا انتظام کیا اور نہ بجلی گھر پر کام شروع کرایا۔ بجلی گھر 20 ہزار سے زائد گھرانوں ، کمرشل اداروں، دکانوں اور لکڑی کا کام کرنے والے کارپینٹرز کے چھوٹے کارخانوں کو بجلی فراہم کرتا تھا۔ جس سے لوگوں کا ذریعہ معاش وابستہ ہونے کے ساتھ ساتھ ماحول پر بھی اچھا اثر پڑا تھا۔ چترال میں جلانے کی لکڑی کے لئے درختوں کا بے دریغ کٹاؤہوتا ہے، بجلی گھر سے اس میں کافی حد تک کمی آئی تھی۔ لیکن تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کوان سے کیا لینا دینا۔ چترالیوں نے ووٹ جو نہیں دیا ہے۔ 

دوسری جانب تحریک انصاف کی حکومت بلین ٹری سونامی جیسے دعوے کرتی ہے، چترال میں درخت لگانے اور جنگلات کو دوبارہ آباد کرنے کی بات کرتی ہے لیکن جنگلات کے کٹاؤ کی وجہ بننے والے اصل مسئلے کی جانب کوئی توجہ نہیں۔ چترال پانی کے وسائل سے مالامال خطہ ہے لیکن بد نصیبی سے یہاں کئی جگہوں پر پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں، اس کی بڑی مثال ریشن ہے جو پانی کے وسائل کے لئے چترال کا جانا مانا گاؤں ہے لیکن پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں۔ بوسیدہ رسائی آب کا ضیاء دور کا نظام ٹوٹ پھوٹ چکا ہے ۔ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت پانی کا بندو بست کرتے ہیں لیکن یہ پانی بھی پینے لائق نہیں ہے مگر کیا کریں پانی کے بغیر زندہ بھی تو نہیں رہ سکتے ۔ 

آئیے دوبارہ بجلی گھر کے مسئلے کی جانب: ریشن بجلی گھر کی بحالی کے لئے ہونے والا اختجاجی جلسہ 19 مارچ 2017 دوبارہ منقعد کیا گیا جس میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ جس میں ریشن اور دیگر علاقوں سے آئے ہوئے نام گرامی سیاسی، سماجی شخصیات نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ جلسے میں فیصلہ ہوا کہ اگر حکومت نے فوری طور پر پاور ہاؤس کی بحالی کا کام شروع نہ کیا تو مردم شماری کا بائیکاٹ کیا جائے گا، اور اگلا مظاہرہ پر امن نہیں ہوگا۔
جلسے 2 اپریل 2017 کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے برخاسٹ کیا گیا کہ اگر دی گئی تاریخ تک کام شروع نہ کیا گیا تو حکومت یہ توقع نہ کرے کہ اگلا اختجاجی جلسہ پر امن ہوگا، مقررین نے حکومت کو متنبہ کیا کہ اگلا جلسہ پر تشدد اور غیر محدود مدت کے لئے ہوگا۔ 19 مارچ کے جلسے کی صدارت ریشن کے حاجی بلبل امان نے کی۔ ولیج ناظم شہزادہ منیر، ابولیس، محمد اسلم، انیس الرحمٰن، اعجاز احمد، شاہ عالم، شیر مراد خان، افسر علی شاہ، حاجی گل، شاہ گنج، سردارحسین، عارف اللہ، نادر جنگ، خیر بیگ اور دیگر اکابرین نے خطاب کیا۔ 

مقررین نے تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی سرد مہری کو شرمناک قرار دیا خاص طور پر چترال کی جانب ۔ مقررین نے کہا کہ ریشن پاور ہاؤس کی پیداوری گنجائش 4.2 میگاواٹ ہے اور اس سے 20 ہزار سے زائد گھرانے مستفید ہورہے تھے۔ حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے عمائدین نے کہا کہ اسلام آباد دھرنے میں وقت اور پیسہ ضائع کرنے، اور پاناما لیکس کے پیچھے لگنے کے بجائے حکومت کو اپنے صوبے پر توجہ دینی چاہئے تھی۔ صوبائی حکومت تحصیل مستوج کے اس اہم اور بڑے بجلی گھر کو کیوں ابھی تک بحال نہیں کیا ہے، آخر اس میں رکاوٹ کیا ہے۔ نئے نئے بجلی گھروں کی تعمیر کے دعوے تو کرتی ہے لیکن ایک تیار بجلی گھر کو جس کا مکمل یعنی 70انفراسٹرکچر موجود ہے ۔ صرف مشینوں میں سیلابی پانی داخل ہوگیا تھا جس سے مشینیں خراب ہوئیں ہیں ، کیوں ان مشینوں کو صحیح کر کے بجلی بحال کرتی ہے؟ 

مقررین نے کہ کہ پیڈو کے کرپٹ اور بدعنوان افسران اپنے منافع اور کمیشن کی خاطر بجلی گھر کو مکمل تباہ پیش کرتے ہیں حالانکہ ایسا ہر گز نہیں ہے۔ بجلی گھر کا 70 فیصد انفراسٹرکچر موجود ہے معمولی خرچے اور کام سے بجلی گھر دوبارہ اصلی حالت میں بحال ہوسکتا ہے۔

سی ڈی ایل ڈی چترال کے حالیہ پراجیکٹس ناانصافی غیر ترجیحی بنیادوں اور تنظیمات کے اصولوں پر نہیں ہیں: عوام شیشی



سی ڈی ایل ڈی چترال کے حالیہ پراجیکٹس ناانصافی غیر ترجیحی بنیادوں اور تنظیمات کے اصولوں پر نہیں ہیں: عوام شیشی

 سی ٹی ڈی ایل چترال کی شدید مزمت کی جاتی ہے کہ نہرشیشی 2نہیں بلکہ  3یوسیز کی زراعت اور پینے کے پانی کا واحد ذریعہ ہے عوام کا مطالبہ ہے کہ CTDL کی تمام رقوم اس نہرپرلگائی جائے سیڑھی و کیواں و سکولوں وغیرہ کام SRSP درویش کرتا ہے۔ نمبر 2 ہسپتال جو تمام تحصیل درویش کیلئے ضروری ہے جو آپ  نےنظر انداز کیا ہے ظاہر سے CTDL کرپشن کاگڑھ ہے اور با اثر ملازمین اپنے اور اپنے رشتہ داروں میں بانٹتے ہیں لہٰذا یہ پراجیکٹس منسوخ کرکے عوامی اور قومی مفاد میں ایسا کام کیا جائے جس سے زیادہ سے زیادہ لوگ مستفید ہوں ۔

جناب ایم پی اے اور ایم این اے ، ضلع ناظم چترال خاصکرجناب ڈپٹی کمشنر صاحب چترال سے گزارش ہے کہ کمیٹی کے اس فیصلے کو مسترد کرکے خود تشریف لاکر کھلے عام عوام کو جمع کرکے عوامی فیصلے کے مطابق پراجیکٹس منظور کرائیں فارم بھر نے کا بہانہ عوام کو منظور نہیں کسی کو فارم بھرنے کی ٹریننگ نہیں دی گئی ہے جو اداروں کی ذمہ داری ہے ان سے پو چھا جائے ورنہ عوام اور زمیندار CTDL کے خلاف سنگین قدم اٹھانے کیلئے تیارہیں۔ 
صارفین نہر شیشی درویش بذریعہ   VC نائب ناظم آمیر فیاض شیشی / یوتھ کونسلرفہیم اللہ فہمی شاہ نگاہ

21 مارچ، 2017

یوٹیلٹی سٹورز پر دالوں کی قیمتیں 3 سے 42 روپے تک کم کردی گئیں

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) یوٹیلٹی سٹورز پر دالوں کی قیمتیں 3 سے 42 روپے تک کم کردی گئیں ۔یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن پاکستان نے مختلف دالوں کی قیمتوں میں 3 سے 42 روپے تک کمی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ماش،
مسور، مونگ ، دال چنا اور کالے چنے کی قیمتیں کم کردی گئی ہیں جس کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا گیا ۔ یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کے ترجمان کے مطابق یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن نے مختلف دالوں کی قیمتوں میں کردی ہے جس کے مطابق مونگ دھلی ہوئی کی قیمت میں3 روپے ، دال مسور کی قیمت میں 5 روپے،کالے چنے کی قمیت میں 10روپے ، دال چنا کی قیمت میں 10 روپے ، ما ش دھلی ہوئی کی قیمت میں 38 روپے ، مونگ ثابت کی قیمت میں 5 روپے ، مسور ثابت کی قمیت میں 15روپے ، ماش ثابت کی قمیت میں 30 روپے اور ماش چھلکہ والے دال کی کی قیمت میں 42 روپے کی کمی کر دی گئی ہے۔

اب مونگ دھلی ہوئی کی قیمت 108روپے سے 105روپے فی کلو، دال مسور 110روپے سے 105روپے فی کلو، دال چنا 120روپے سی110روپے فی کلو ، کالا چنا 110روپے سی100 روپے فی کلو، ماش دھلی ہوئی 198روپے سے 160روپے فی کلو، مونگ ثابت 110روپے سی105روپے فی کلو ، مسور ثابت 110سے 95روپے فی کلو، ماش ثابت 180سے 150روپے فی کلو، مونگ چھلکہ 125سی110روپے فی کلو جبکہ ماش چھلکہ کی قیمت 252روپے سے 210روپے فی کلو کمی کر دی گئی ہے۔واضح رہے کہ چند دن پہلے کارپوریشن مختلف کمپنیوں کے برانڈڈگھی ،کوکنگ آئل، چائے اوردیگر اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں بھی کمی کر چکی ہیں تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولت دی جائے۔ یوٹیلٹی سٹورز پر تمام اشیاء بازار سے کم قیمت میں مہیا کی جاتی ہے جو معیار کے اعتبار سے اعلی ہوتی ہے۔

17 مارچ، 2017

پی پی اے ایف کی کمیونٹی خاتون، چترال وادی کیلاش کی گل نظر نے لیڈیز فنڈ ایوارڈ جیت لیا، گل کے کاموں کو سراہا گیا


اسلام آ باد: چترال کی وادی کیلاش سے تعلق رکھنے والی پاکستان پاورٹی ایلیوئیشن فنڈ (پی پی اے ایف) کی ایک کمیونیٹی ریسورس پرسن گل نظر نے داو ¿ود گلوبل فاو ¿نڈیشن لیڈیز فنڈ آئیڈل ایوارڈ 2017 حاصل کر لیا۔ یہ ایوار ڈ ہر اس شخص کو دیا جاتا ہے جس نے پسماندہ علاقے کی خواتین کواپنے انفرادی کام سے بااختیار بنانے میں کارہائے نمایاں انجام دیا ہو۔ ایوارڈ گورنر ہاو ¿س کراچی میں منعقد ہونے والی ایک تقریب کے دوران گورنر سندھ محمد زیبر نے پیش کیا ۔ 



گل نظر کے پی پی اے ایف کے غربت مٹاو ¿ پروگرام کے تحت غذائیت، بیماریوں سے بچاو ¿، صحت ، صفائی و پانی، حَفظانِ صحت اور ماں اور بچے کی صحت کے حوالے سے انجام دیئے جانے والے اقدامات کو بے حد سراہا گیا۔ ان کی لگن اور ان کی کوشش کی بدولت وادی کیلاش میں خواتین اور بچے کئی امراض سے محفوظ رہے۔ 

گل نظر ماسٹر زڈگری ہولڈر ہونے کی وجہ سے تعلیم کی اہمیت کو سمجھتی ہیں اور انہیں یقین ہے کہ یہی ترقی اور کامیابی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا ”نوجوانوں خصوصاً پاکستان کے شمالی علاقوں کی لڑکیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے اور ان کے بہتر مستقبل کے لئے اعلیٰ تعلیمی ادارے قائم کئے جانے چاہئیں“

ایک سرگرم کمیونیٹی ریسورس پرسن ہونے کے علاوہ گل نظر کالاشا پیپل ڈیولپمنٹ نیٹ ورک اور کالاشا کلچر سیونگ سوسائیٹی کی چیرپرسن بھی ہیں۔ گل نظر کیلاش ویلی گورنمنٹ مڈل سکول میں رضاکار استاد کے طور پربھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔

غربت مٹاو ¿ پروگرام (پروگرام برائے پا ورٹی ریڈکشن ) کو اطالوی حکومت کے ڈائریکٹوریٹ جنرل فار ڈیولپمنٹ کوپریشن کے ذریعے مالی معاونت حاصل ہے اور اس کی نگرانی عالمی بینک کر رہاہے۔ پی پی اے ایف اس پروگرام کو اپنے شریک اداروں کے ذ ریعے سے صوبہ بلوچستان اور خیبرپختونخواہ کے 14 اضلاع کے 38 یونین کونسلوں اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) میں چلارہا ہے۔ پروگرام کا مقصد غریب اور کم مراعا ت یافتہ طبقات کی زندگیوں کو تبدیل کرنا ہے ، اس مقصد کے لئے مستحکم معاشرتی اور پیداواری بنیادی ڈھانچے قائم کئے جا رہے ہیں ۔ 

کمیونیٹی کے ذریعے ترقی کے طریقہ کار کو استعمال کرتے ہوئے پی پی اے ایف نے یونین کونسلوں میں کمیونیٹی اروابط مالیاتی اور پروکیورمنٹ منجمنٹ اور ڈیولپمنٹ کے لئے 350 سے زائد کمیونیٹی ریسورس پرسنز تیار کئے ہیں۔ یہ کمیونیٹی ریسورس پرسنز پاکستان پاورٹی الیوئیشن فنڈ کے شریک اداروں کے ساتھ ملکر کمیونیٹیز کی ترقی کے لئے اہم ایشوز کی نشاندہی کرنے اور ان پر کام کرنے کے لئے سہولت فراہم کرتے ہیں تاکہ صحت مند معاشروں کا قیام ممکن ہوسکے۔

 اب تک 287 ولیج ڈیولپمنٹ پلانز تیار کئے گئے ہیں ، جن کی روشنی میں ضرورت کے تحت مکمل پروگرامنگ کی بنیاد رکھتے ہیں، جس کی بدولت دیہا ت کی کمیونیٹی کے ذریعے فزیکل انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت و غذا، قدرتی آفات سے بچاﺅ کے لئے تیاری وانتظام اور ذریعہ معاش، خودمختاری اور کاروباری ترقی کو ممکن بنایا جاتا ہے۔

15 مارچ، 2017

اڈے دروش شہر سے باہر دور منتقل کرکے عوام کو پریشانی میں مبتلا نہ کیا جائے: یوتھ کونسلر فہیم اللہ

ﺩﺭﻭﺵ ‏( ﻧﻤﺎﺋﻨﺪﮦ ٹائمز آف ﭼﺘﺮﺍﻝ‏) ﻭﯾﻠﺞ ﮐﻮﻧﺴﻞ ﺷﺎﮨﻨﮕﺎﺭ ﮐﮯ ﯾﻮﺗﮫ ﮐﻮﻧﺴﻠﺮ ﻓﮩﯿﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺩﺭﻭﺵ ﻣﯿﮟ ﻧﯿﺎ ﺍﮈﺍ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻓﯿﺼﻠﮯ ﭘﺮ ﺗﻨﻘﯿﺪ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺩﺭﻭﺵ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﭘﮩﻠﮯ ہی ﺳﮯ ﺍﮈﮮ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺏ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﺳﮯ ﮐﺎﻓﯽ ﻣﺴﺎﻓﺖ ﭘﺮ ﻧﯿﺎ ﺍﮈﺍ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﮐﮯ ﺗﺤﺼﯿﻞ ﺍﻧﺘﻈﺎﻣﯿﮧ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﻮ ﻣﺸﮑﻼﺕ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ۔ 

ﺍﭘﻨﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﺧﺒﺎﺭﯼ ﺑﯿﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﻓﮩﯿﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺗﺤﺼﯿﻞ ﺍﻧﺘﻈﺎﻣﯿﮧ ﺍﮈﺍ ﻣﻨﺘﻘﻞ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮦ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﭘﺸﺎﻭﺭ، ﺗﯿﻤﺮﮔﺮﮦ ﺍﻭﺭﺭﺍﻭﻟﭙﻨﮉﯼ ﮐﮯ ﺍﺳﭩﯿﻨﮉ ﻭﮨﺎﮞ ﭘﺮ ﻣﻨﺘﻘﻞ ﮐﺮﮮ ، ﭼﺘﺮﺍﻝ ﺍﻭﺭ ﻣﻘﺎﻣﯽ ﻋﻼﻗﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﺳﭩﯿﻨﮉ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻮﺟﻮﺩﮦ ﻣﻘﺎﻣﺎﺕ ﭘﺮ ﺑﺮ ﻗﺮﺍﺭ ﺭﮐﮭﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔ ﺍﮔﺮ ﻣﻘﺎﻣﯽ ﺍﺳﭩﯿﻨﮉ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﺍﮈﮮ ﻣﯿﮟ ﻣﻨﺘﻘﻞ ﮐﺌﮯ ﮔﺌﮯ ﺗﻮﻋﻮﺍﻡ ﮐﻮ ﺷﺪﯾﺪ ﻣﺸﮑﻼﺕ ﮐﺎ ﺳﺎﻣﻨﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﯾﮕﺎ ﺍﻭ ﺭ ﯾﮧ ﺍﻗﺪﺍﻡ ﺗﺤﺼﯿﻞ ﻣﯿﻮﻧﺴﭙﻞ ﺍﻧﺘﻈﺎﻣﯿﮧ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﻋﻮﺍﻡ ﺩﺭﻭﺵ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺷﺪﯾﺪ ﻧﺎ ﺍﻧﺼﺎﻓﯽ ﺍﻭﺭ ﻇﻠﻢ ﮐﮯ ﻣﺘﺮﺍﺩﻑ ﮨﮯ۔

ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﺎﺯﺍﺭﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﮐﻨﺪﮬﻮﮞ ﭘﺮ ﺍﭨﮭﺎﮐﺮ ﺩﻭﺭ ﻭﺍﻗﻊ ﺍﮈﮮ ﺗﮏ ﺁﻧﺎ ﭘﮍﯾﮕﺎ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺍﺿﺎﻓﯽ ﺭﻗﻢ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﮐﮯ ﭨﯿﮑﺴﯽ ﺑﮏ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﻮﮔﺎ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺗﺤﺼﯿﻞ ﻧﺎﻇﻢ ﭼﺘﺮﺍﻝ ﺳﮯ ﺍﺱ ﻓﯿﺼﻠﮯ ﭘﺮ ﻧﻈﺮﺛﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻓﯿﺼﻠﮯ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﻋﻮﺍﻣﯽ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯽ ﺟﺎﺋﯿﮕﯽ ۔ ﻓﮩﯿﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﻣﺰﯾﺪ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺗﺤﺼﯿﻞ ﺍﻧﺘﻈﺎﻣﯿﮧ ﮐﺎ ﯾﮧ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﺗﻤﺎﻡ ﺑﻠﺪﯾﺎﺗﯽ ﻧﻤﺎﺋﻨﺪﮔﺎ ﻥ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﺪ ﻧﺎﻣﯽ ﮐﺎ ﺑﺎﻋﺚ ﺑﻨﮯ ﮔﺎ۔

14 مارچ، 2017

انتظام بہتر طور پر چلانے اور عوامی مسائل کے حل کے لئے چترال میں ایک اور ضلع بنایا جائے: عوامی مطالبہ

(ٹائمز آف چترال رپورٹ ) رقبے کے لحاظ سے چترال خیبر پختونخواہ کا سب سے بڑا ضلع ہے۔ 14850 کلومیٹر تک پھیلا ہوا دور دراز اور کم مراغات یافتہ اور پسماندہ ضلع ہے۔ مشرق میں گلگت بلستان اور شمال، مغرب میں افغانستان سے ملا ہوا ہونے کی وجہ سے یہ جغرافیائی لحاظ سے ملک کا اہم ترین ضلع ہے۔ یہ ضلع ملک کو تاجکستان سے بھی ملا لیتا ہے۔ 

اہمیت کے اعتبار سے اس علاقے کو ترقی نہیں دی گئی۔ پاکستان کا حصہ بننے کے بعد سے لیکر آج تک اس خطے کو اپنے واجب الادا حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔ لوری ٹنل کی تعمیر میں تاخیر سے لیکر توانائی کے مسائل تک۔ نظام مواصلات سے لیکر انفارمیشن ٹیکنالوجی تک۔ اس خطے کو جان بوجھ کر پسماندہ رکھاگیا ہے۔ 

گزشتہ روز چترال سے قومی اسمبلی کے رکن شہزادہ افتخار الدین نے خیبرپختونخوہ حکومت سے سوال اور مطالبہ کیا ہے کہ اگر کوہستان میں تین ضلعے بنائے جاسکتے ہیں تو چترال میں کیوں نہیں۔ چترال صوبے کا سب سے بڑا ضلع ہے ، بہتر انتظام کے لئے چترال میں ایک ضلع بنایا جائے۔ ایم این اے نے کہا ہے کہ موجودہ وقت خطے کی بڑھتی ہوئی جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے نیا ضلع بنانا ناگزیر ہے، پاکستان چین اکنامک کوریڈور نے اس خطے کی اہیمت کو بڑھا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیا ضلع بنانا چترال کے عوام کا دیرینہ مطالبہ ہے۔ مجھے امید ہے کہ اس سے قبل کہ لوگ اپنے حق کے لئے سڑکوں پر نکل آئیں وزیر اعلیٰ خیبرپختوںخواہ اس جانب توجہ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چترال میں ہائیڈرو پاور جنریشن کی پے پناہ گنجائش موجود ہے۔ اس کے علاوہ بہترین اور پر امن سیاحتی مقام بھی ہے۔ اس ضلع پر توجہ مرکوز کرکے اسے صوبے کے لئے اہم ذرائع آمدن بنایا جاسکتا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ اگر اس ضلعے کے مسائل پر توجہ نہ دی گئی تو لوگوں میں احساس محرومی بڑھی گی۔ ایم این اے نے وزیراعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ بونی بوزند روڈ کے لئے وفاقی حکومت کی جانب سے دیئے کئے گئے فنڈز فوراً جاری کردیں۔ اگر صوبائی حکومت نے فنڈز جاری نہیں کئے تو تورکہو اور موڑ کہو کے مختلف علاقوں میں تباہ شدہ پل تعمیر نہیں کئے جاسکیں گے۔ انہوں نے زور دیکر کہا کہ برف پگھلنے کا عمل شروع ہونے سے پہلے فنڈز دے دیئے جائیں تاکہ دریاؤں میں پانی کی کمی کے وقت یہ پل تعمیر کیے جاسکیں۔


مشہور اشاعتیں


تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget