21 مئی، 2018

گجرات کے حسین کالونی کے ہزاروں مکین گٹر کے پانی کے بیچ میں رہنے پر مجبور۔ گندا پانی کی نکاسی کا کوئی انتظام موجود نہیں ہیں ۔ علاقے کے مکین محتلف بیماریوں میں مبتلا۔

گجرات (گل حماد فاروقی) پنجاب کا صنعتی شہر گجرات اونچا دکان پھیکا پکوان کے مصداق پر پورا اترتا ہے اس شہر میں پڑھو پنجاب بڑھو پنجاب کی بھی کوئی اثرات نظر نہیں آئے۔ گجرات شہر کے حسین کالونی کے ہزاروں مکین ایسے جگہہ رہنے پر مجبور ہیں جہاں چاروں طرف چار سے پانچ فٹ گہرا گندھے پانی کے جوہڑ ہیں ان گندے پانی پر آبی پودے اگے ہیں جو عام لوگوں کیلئے ایک دھوکے میں اس پر چلنے کا باعث بنتا ہے۔ 



حسین کالونی میں تین ایسے مکانات بھی دیکھنے میں آئے جس کے چاروں طرف ان آبی پودوں کے بڑے بڑے کھیت ہیں جس کے نیچے چار فٹ گہرا گندا پانی کھڑا ہے۔ یہ مکانات اکثر حالی ہیں ان کے مکینوں نے اپنی تئیں کوشش کرکے بوریوں میں مٹی، ریت، بجری رکھ کر اپنے گھروں تک جانے کا راستہ بنانے کی کوشش کی ہے مگر جب وہ ناکامی سے دوچار ہوئے تو غنیمت اس میں جانی کہ گھر ہی چھوڑ کر دوسری جگہہ ہجرت کرے اور اب یہ مکانات حالی پڑے ہیں اس کے دروازیں بھی کھلی پڑی ہیں پوچھنے پر بتایا گیا کہ دروازہ بند کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہاں چور تو کیا کوئی جانور بھی نہیں جاسکتا اگر کوئی جانے کا کوشش بھی کرے گا تو اس چار فٹ گہرے گندے پانی کے دلدل میں پھنس جائے گا۔ 

ہمارے نمائندے نے رضاکارانہ طور پر چترال سے جاکر گجرات کے ان بدقسمت مکینوں کی رہنے والی جگہہ کا دورہ کیا جہاں لوگوں نے شکایات کے انبھار لگائے۔ 



اس کالونی کے بیچ میں جو سڑک گزرتا ہے اس سڑک کے اوپر ہی گندا پانی گزرتا ہے سائکل پر چلنے والا عبدالجبار روزانہ اس راستے سے گزرتا ہے مگریہاں آکر وہ اپنا دھوتی اٹھاتا ہے تاکہ گندے پانی کی چینٹیں نہ پڑے۔ 

الطاف حسین ایک نوجوان لڑکا بھی اسی راستے سے گزررہا تھا اس نے ان مکانات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ نہایت غریب لوگ ہیں بڑی مشکل سے پیسہ پیسہ جمع کرکے مکان بنایا ان کو یہ امید تھی کہ حکومت ان کی حال پر رحم کرتے ہوئے ان کیلئے راستہ ضرور بنائے گا مگر جب ان کو کوئی راستہ نہیں ملا تو مجبوراً اپنے مکانات چھوڑ کر دوسری جگہہ کرائے کے مکان میں رہنے پر مجبو ر ہیں۔ 

حسین کالونی میں ایک ایسا مکان بھی دیکھا گیا جن کے چاروں طرف گندا پانی کھڑا تھا جس سے نہایت غلیظ قسم کی بدبو بھی آرہی تھی وہاں ایک بوڑھی مائی نے کہا کہ ہم روز اللہ سائیں سے دعا مانگتی ہیں کہ گجرات میں بارش نہ ہو کیونکہ ایک تو پہلے سے گندا پانی کھڑا ہے اور جب بارش برستا ہے تو بارش کا پانی ہمارے گھروں کے اندر گھس کر ہمارا جینا حرام کردیتا ہے۔ 

جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کا منتحب رکن صوبائی یا قومی اسمبلی نے ان کیلئے کچھ نہیں کیا تو جواب ملا کہ اس حلقے سے پاکستان مسلم لیگ ن کا ایم پی اے منتحب ہوا ہے اور اس کو انتحابات کے بعد ان لوگوں نے دیکھا بھی نہیں۔ بدقسمتی سے اس علاقے میں کوئی خاکروب، میونسپل کارپوریشن کی جانب سے گند اٹھانے والی ٹرالی یا کوئی عملہ بھی نہیں ہیں اور لگتا یوں ہے کہ یہ لوگ گھر بیٹھے تنخواہیں لے رہی ہیں۔

اس گندے پانی کی وجہ سے اس علاقے میں بہت زیادہ مچھر ہیں اور لوگ پنکھا لگانے کے باوجود بھی مچھر دانی میں لیٹنے پر مجبور ہیں۔ایک بچے نے بتایا کہ ان کو روز مچھر کاٹتا ہے جس کی وجہ سے وہ اکثر بیمار پڑتا ہے مگر یہاں مچھر مار سپرے بھی نہیں کی جاتی نہ اس گندا پانی کو نکالنے کیلئے کوئی نالی بنائی گئی ہیں۔

ہمار ے نمائندے نے گجرات کے میئیر ، ڈپٹی کمشنر اور ایم پی اے سے بھی رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر کوشش بسیار کے باجود انہوں نے بات کرنا گوارا نہیں کی۔ 

علاقے کے مکین مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کی حالت پر رحم کی جائے اور یہاں سینیٹیشن اور نکاسی آب کا باقاعدہ انتظام کرکے نالیاں بنایا جائے تاکہ یہ گندا پانی باہر نکل سکے اور یہ لوگ اپنے گھروں کو واپس آجائے۔


چترال میں ایک اور خاتون نے خودکشی کرلی، واقعات میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے

چترال (گل حماد فاروقی) چترال کے علاقے موری سے تعلق رکھنے والی ایک اور خاتون نے خودکشی کرلی۔ ایس ایچ او حسن اللہ تھانہ کوغذی کے مطابق موری سے تعلق رکھنے والی نور الاسلام کی بیٹی نے اتوار کے روز گلے میں پھندا ڈال کر زندگی کا حاتمہ کرلیا۔ پولیس کے مطابق افسانہ بی بی دختر نور الاسلام شادی شدہ ہے۔

کچھ عرصہ قبل اس خاتون کا شوہر بھی بمبوریت میں دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق ہوا تھا جس کا صدمہ برداشت نہ کرتے ہوئے اس کی بیوی نے بھی آج زندگی کا حاتمہ کرلیا۔ پچھلے سات مہینوں میں خودکشیوں کا یہ پچیسواں کیس ہے۔ متوفیہ کی لاش کو پوسٹ مارٹم کیلئے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال چترال لایا گیا۔ نورا لاسلام نے فون پر ہمارے نمائندے کو ہسپتال سے فون پر بتایا کہ انہوں نے لاش کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال چترال لایا ہے مگر پوسٹ مارٹم کرنے کیلئے کوئی ڈاکٹر موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاش کو صبح گیارہ بجے ہسپتال لایا گیا مگر ہسپتال کا میڈیکل سپرنٹنڈنٹ بھی گھر سے باہر نہیں نکلتا نہ کوئی ڈاکٹر موجود ہے تاکہ اس کی پوسٹ مارٹم کرکے لاش کو ہمارے حوالہ کرے۔ 

واضح رہے کہ چترال کے ہسپتالوں میں ایک طرف ڈاکٹروں کی شدید کمی ہے جبکہ دوسری طرف اکثر ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر عملہ گھر بیٹھے بغیر کسی ڈیوٹی کے تنخواہ لے رہے ہیں گزشتہ روز ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر غلام اللہ نے اپنے ٹیم کے ہمراہ محتلف ہسپتالو ں پر چھاپے مارے جہاں پتہ چلا کہ کئی ڈاکٹر پچھلے سال ڈیوٹی نہیں کرتے اور گھر بیٹھے تنخواہ لے رہے ہیں ۔ مقامی لوگوں نے شکایت کہ انہوں نے کئی بار ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر اسراراللہ کے نوٹس میں لانے کیلئے ان کے دفتر گئے مگر پتہ چلا کہ DHO پشاور گئے ہیں انہوں نے الزام لگایا کہ ڈی ایچ او کو پاکستان تحریک انصاف کی آشیر باد حاصل ہے یہی وجہ ہے کہ اس کا عوامی شکایات پر تین بار تبادلہ ہوا مگر تینوں بار پی ٹی آئی کے ایک اہم سربراہ نے اس کا تبادلہ منسوح کراکے دوبارہ چترال کا ڈی ایچ او لگایا۔ لوگوں نے یہ بھی الزا م لگایا کہ وہ اپنے دفتر میں کم بیٹھتا ہے مگر اپنے ٹی اے ڈی اے لینے کیلئے ہمیشہ چترال سے باہر میٹنگ وغیرہ کیلئے جاتا رہتا ہے جبکہ اس سے قبل کسی ڈی ایچ او نے اتنی بار مہینے میں دفتر نہیں چھوڑا۔ 

نور الاسلام نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں ڈاکٹروں کی کمی کو پورا کرتے ہوئے جن کی ڈیوٹی لگی ہیں ان کو پابند کی جائے کہ وہ اپنا فرض منصبی ایمانداری سے نبھائے۔ تاکہ مریضوں اور عوام کو مشکلات کا سامنا نہ ہو


18 مئی، 2018

گزشتہ دنوں کوئٹہ میں شہید ہونے والے کرنل سہیل عابد کے بیٹے کو آرمی چیف گلے لگا رہے ہیں۔

گزشتہ دنوں کوئٹہ میں شہید ہونے والے کرنل سہیل عابد کے بیٹے کو آرمی چیف گلے لگا رہے ہیں۔

جب بھی میرا کوئی جوان شہید ہوتا ہے تو ایسا لگتا ہے کہ میرے جسم کا ایک حصہ مجھ سے جدا ہوگیا ہو: جنرل قمر باجوہ




جب بھی میرا کوئی جوان شہید ہوتا ہے ایسا لگتا ہے کہ میرے جسم کا ایک حصہ مجھ سے جدا ہوگیا : جنرل قمر باجوہ


وہاڑی (مانیٹرنگ ڈٰیسک) بلوچستان کوئٹہ میں سرچ آپریشن کے دوران شہید ہونے والے کرنل سہیل عابد کی نماز جنارہ کے موقع پر آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے کہا کہ جب بھی میرا کوئی جوان شہید ہوتا ہے ایسا لگتا ہے کہ میرے جسم کا ایک حصہ مجھ سے جدا ہوگیا ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ رات گزارنا میرے لیے بہت مشکل ہوتی ہے، ہم وطن کے دفاع کیلئے کسی بھی قسم کی قربانی کے لیے پر عزم ہیں۔ 

کوئٹہ میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے دوران شہید ہونےوالے کرنل سہیل عابد کو مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کردیا گیا۔ شہید کرنل سہیل عابد کا تعلق پنجاب کے علاقے وہاڑی سے تھا جو گزشتہ شب بلوچستان کے علاقے کلی الماس میں خفیہ اطلاع پر ہونے والے آپریشن کے دوران شہید ہوئے۔شہید کی نماز جنازہ جنرل ہیڈکوارٹرز راولپنڈی میں ادا کی گئی جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ، سول و فوجی افسران اور شہید کے رشتے داروں نے شرکت کی۔بعد ازاں شہید سہیل عابد کو بارہ کہو کے قریب گاؤں بوبری میں مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کردیا گیا۔اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ’جب بھی میرا کوئی جوان شہید ہوتا ہے لگتا ہے میرے جسم کاایک حصہ جدا ہوگیا‘۔انہوں نے مزید کہا کہ ’وہ رات گزارنا میرے لیے بہت مشکل ہوتی ہے، ہم وطن کے دفاع کیلئے کسی بھی قسم کی قربانی کے لیے پرُ عزم ہیں‘۔

قبل ازیں شہید سہیل عابد کے جسدِ خاکی کو ویہاڑی میں ان کے آبائی گاؤں پہنچایا گیا تھا اور وہاں بھی ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی تھی۔نماز جنازہ میں ان کے عزیز و اقارب، اہل علاقہ، پاک فوج اور سول افسران نے شرکت کی۔کرنل سہیل عابد شہید کے سوگواروں میں 3 بیٹیاں اورایک بیٹا شامل ہیں، شہید کے گھر پر تعزیت کے لیے آنے والوں کا سلسلہ جاری ہے۔ شہید کرنل کےبھائی اور والد کا کہنا ہےکہ سہیل عابد نے قوم کے لیے قربانی دی، ان کی شہادت پر سرفخر سے بلند ہے۔دوسری جانب وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بلوچستان میں دہشت گردوں سے مقابلے میں شہید ہونے والے کرنل سہیل عابد کی شہادت پر اظہار افسوس کیا ہے۔وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ بہادر افواج سرزمین پاک سے آخری دہشت گرد کے خاتمے تک پر عزم ہو کر لڑتی رہیں گی، آخری دہشت گرد کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے شہید کرنل سہیل کے اہلخانہ کے ساتھ دلی تعزیت اور شہید کے درجات کی بلندی کی دعا بھی کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم بطور قوم بزدل دشمن کے خلاف سینہ سپر اور متحد ہیں، دھرتی کی حفاظت کے لیے اپنے خون کی بھاری قربانیاں دیں جس کی کوئی مثال نہیں۔یاد رہے کہ گزشتہ روز آپریشن ردالفساد کے تحت سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے علاقے کلی الماس میں آپریشن کیا جس کے نتیجے میں لشکر جھنگوی بلوچستان کے سربراہ سمیت تین دہشت گرد ہلاک ہوئے۔دہشت گردوں سے فائرنگ کے تبادلے میں ملٹری انٹیلجنس کے کرنل سہیل عابد شہید جبکہ 4 جوان زخمی ہوگئے تھے جن میں سے دو کی حالت تویشناک بتائی جاتی ہے۔






اسٹینڈرڈ چارٹرڈ پاکستان نے یونٹوں کی تقسیم کے لیے بطورسیکیورٹیز ایڈوائرز کام کرنے کا لائسنس حاصل کر لیا

اسٹینڈر چارٹرڈ بینک (پاکستان) لمٹیڈ نے سیکیورٹیز ایڈوائزر کے طور پر کام کرنے کا لائسنس کر لیا ہے، اس طرح یہ پہلا کمرشل بینک ہے جسے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی جانب سے اجتماعی سرمایہ کاری کی اسکیموں اور/یا رضاکارانہ پنشن فنڈ ز کے یونٹوں کی تقسیم کے لیے سیکیوریٹیز ایڈوائزرز کے طور پر کام کرنے کا لائسنس جاری کیا گیا ہے۔


اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک (پاکستان)لمٹیڈ ، اس وقت اپنی شاخوں کے ذریعہ دیگر تھرڈ پارٹی پروڈکٹس کے علاوہ اپنے ویلتھ مینجمنٹ فنکشن کی صورت میں بھی فنڈز کی تقسیم کر رہا ہے۔اسٹینڈرڈ چارٹرڈ پاکستان میں تین ایسیٹ مینجمنٹ کمپنیوں ، المیزان انویسٹمنٹ مینجمنٹ لمٹیڈ، ایم سی بی-عارف حبیب سیونگز اینڈ انویسٹمنٹس لمٹیڈ اور یو بی ایل فنڈ مینجرز لمٹیڈ ،کیلییفنڈز تقسیم کر رہا ہے۔

اس لائسنس کے اجراء کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے اسٹینڈرڈ چارٹرڈ پاکستان کے ہیڈ آف ویلتھ مینجمنٹ، مسلم رضا مومان، ایف سی اے نے کہا،’’ہمیں اس بات پر خوشی ہے کہ ہمیں متعدد ایسیٹ منیجمنٹ کمپنیوں کی اجتماعی سرمایہ کاری اسکیموں اور/یا رضاکارانہ پنشن فنڈز کے یونٹوں کی تقسیم کے لیے بطور سیکیورٹیز ایڈوائزز کام کرنے کا لائسنس جاری کیا گیا ہے۔

یہ لائسنس ہمیں اپنے کلائنٹس کے لیے سرمایہ کاری کے سولوشنز کی وسیع ترین رینج کے لیے کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ ہم اپنے کلائنٹس پر زور دیں گے کہ وہ اس سے فائدہ اٹھائیں اور ہماری انویسٹمنٹ ایڈوائزر پر مشتمل ٹیم کے ساتھ ملاقات کا وقت طے کریں جو انہیں ،ان کی ضرورت کے مطابق، سولوشنز تیار کر نے میں مدد دے سکتی ہے۔‘‘

اسٹینڈرڈ چارٹرڈپاکستان ویلتھ مینجمنٹ میں کام کرنے کا دس سال سے زیادہ کا تجربہ رکھتا ہے اور اس کے پاس ایڈوائزرز اور اسپشلسٹس پر مشتمل ایک ماہر ٹیم موجود ہے جسے ایسے کلائنٹ پورٹ فولیوتیار کرنے پر فخر ہے جس میں کلائنٹ کے لیے موزونیت پر زور دینے کے علاوہ رسک پروفائلنگ بھی کی گئی ہو۔

بینک ویلتھ مینجمنٹ کے مختلف آپشنز پیش کرتا ہے جن میں میوچوئل فنڈز، فکسڈ انکم، بینک ایشورنس، گورنمنٹ سیکیوریٹیز اور فارن ایکسچینج سولوشنز شامل ہیں۔


پاکستان ڈیری ایسوسی ایشن کے وفد کی وفاقی وزیر خزانہ سے ملاقات


اینگرو فوڈز لمیٹڈ پاکستان کی ڈیری انڈسٹری کااہم رکن ہے جس کا ملکی معیشت میں بہت بڑ ا حصہ ہے اور اس نے متعدد اقدامات کے ذریعہ پاکستان کے ساتھ اپنی گہری وابستگی کا ثبوت دیاہے۔ڈیری فارمرز کی تربیت سے لے کر اُن کے روزگار میں بہتری تک اور دنیا کی چھٹی بڑی ڈیری کمپنی، رائل فریز لینڈ کیمپنیا کی جانب سے 486 ملین کی غیر ملکی سرمایہ کاری تک اینگرو فوڈز لمیٹڈ کی جانب سے کیے گئے اقدامات کی وسیع رینج ہے ۔

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے حال ہی میں پاکستان ڈیری ایسوسی ایشن کی نمائندگی کر نے والے اینگروفوڈز لمیٹڈ کے اعلیٰ اہلکاروں سے ملاقات کی جو وفاقی حکومت کی سطح پر اینگروفوڈز لمیٹڈ کے سماجی و اقتصادی کردار کا اعتراف ہے۔
وفد کی قیادت پاکستان ڈیری ایسوسی ایشن کے چیئرمین، یاور علی نے کی جبکہ اینگرو فوڈز لمیٹڈکی نمائندگی چیف کارپوریٹ اینڈ ریگولیٹری افیئرز ڈائریکٹر، نوید سعید، چیف فنانس آفیسر، عمران حسین اور جنرل منیجر پبلک افیئرز، ریحان سعید نے کی۔

اس موقع پر اینگروفوڈز نے حال ہی میں متعارف کرائی گئی کافی بک 'کلرز آف دیوسائی'وفاقی وزیر خزانہ کو پیش کی۔یہ دوسری کتاب ہے جو اینگروفوڈز نے اپنی سسٹین ایبلٹی مہم ط کلرزآف پاکستان طکے تحت متعارف کرائی ہے۔ اس کتاب کے متعارف کرانے کا مقصد ملکی اور غیر ملکی سطح پر پاکستان کے بارے میں پر امن تاثر قائم کرنا ہے۔اس ملاقات کے بارے میں نوید سعید نے بتایا؛ ’نجی اور سرکاری شعبہ کے لیے یہ بات بہت اہم ہے کہ دونوں اپنی حکمت عملی یکجا کر کے پاکستان کی زیادہ طویل المیعاد ترقی کے لیے کام کریں۔

’وفاقی وزیر نے کافی بک ’کلرز آف دیوسائی‘ اور پاکستان کا پر امن تاثر اجاگر کرنے کے لیے اینگرو فوڈز کی کوششوں کو سراہا۔یہ کتاب اینگروفوڈز کی جانب سے کی گئی طویل الاثر کوششوں میں سے اہم ترین کوشش ہے جو عالمی سطح پرپاکستان کی اور اندرون ملک رائل فریز لینڈ کیمپینا کی نمائندگی کرتا ہے۔اینگرو فوڈز آئندہ نسلوں کے لیے ڈیری سیکٹر کو زیادہ پائیدار بنانے کی غرض سے مضبوط کردار ادا کرنے پر یقین رکھتا ہے۔ حال ہی میں مقرر کیے گئے وزیر خزانہ نے پاکستان کے سماجی و اقتصادی خوشحالی کی غرض سے کیے گئے اہم اقدامات میں اپنی دلچسپی ظاہر کی۔ انہوں نے متعدد کامیاب پروجیکٹس میں اینگرو فوڈز کے کردار کو سراہا جن کا مقصد پاکستان کی ڈیری انڈسٹری کی ترقی کو تیز کرنا تھا۔


کیلاش قبیلے کا چار روزہ موسم بہار کا جشن چیلم جوش احتتام پذیر، جشن دیکھنے کے لئے ہزاروں کی تعداد میں ملکی اور غیر ملکی سیاح وادی میں آئے تھے: رپورٹ گل حماد فاروقی

کیلاش قبیلے کا چار روزہ موسم بہار کا جشن چیلم جوش احتتام پذیر۔ ٹورزم کارپوریشن آف خیبر پحتون خواہ کی تعاون سے منانے والا اس جشن کو دیکھنے کیلئے ہزاروں کی تعداد میں ملکی اور غیر ملکی سیاح آئے تھے۔


چترال (گل حماد فاروقی) جنت نظیر واد ی کیلاش میں دنیا کے نہایت قدیم قبیلے کے لوگ رہتے ہیں جو اپنی محصوص ثقافت اور طرز زندگی کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ کیلاش قبیلے کے لوگ اپنی نرالی اور انوکھی رسم و رواج کی وجہ سے دنیا بھر کی سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ کیلاش قبیلے کے لوگ ہر سال دو بڑے اور دو چھوٹے جشن مناتے ہیں جو ان کی مذہبی رسومات پر مبنی ہوتی ہے۔ یہ تہوار ان کی مذہبی تہوار یں بھی ہیں۔ 

حسب سابق امسال بھی کیلاش قبیلے کے لوگوں نے سالانہ مذہبی تہوار چیلم جوش جسے جوشی بھی کہتے ہیں نہایت جو ش و خروش سے منایا۔ اس دفعہ اس جشن کو منانے کیلئے کیلاش قبیلے کے لوگوں سے تعاون اور اس کی اشتہارات دینے کیلئے ٹورزم کارپوریشن خیبر پحتون خواہ نے مالی مدد کی تھی۔اس دفعہ چیلم جوش کی تہوار کو دیکھنے کیلئے اتنی بڑی تعداد میں ملکی اور غیر ملکی سیاح آئے تھے کہ پورے وادی کے ہوٹلو ں میں رہنے کی جگہہ نہیں ملی اور اکثر لوگ حیموں میں لیٹ گئے جبکہ TCKP نے ان کو سہولت فراہم کرنے کیلئے اقدامات کئے تھے ۔

فرانس سے آئی ہوئی بابرہ نے کہاکہ وہ یہاں آکر بہت خوش ہوئی کیونکہ یہ نہایت نرالی اور محصوص ثقافت کے حامل لوگ ہیں اور یہ نہایت اچھے لوگ ہیں ہمیں چاہئے کہ ان کی اقدار اور مذہبی عقائد کی قدر کرے۔

وزیر زادہ ایک سماجی کارکن ہے جن کا تعلق کیلاش قبیلے سے ہے ان کا کہنا ہے کہ کیلاش واحد اقلیت ہے کہ یونیسکو کے لسٹ کے مطابق کیلاش واحد انڈیجنیس قوم ہے جو کئی ہزار سالوں سے اپنی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے ان وادیوں میں آباد ہیں۔ 

چیلم جوش کے تہوار میں کیلاش کے مرد ڈھولک بجاتے ہیں جبکہ عورتیں، مرد، لڑکے، لڑکیاں اور بچے بھی ٹولیوں کی شکل میں روایتی رقص پیش کرتے ہوئے مذہبی گیت گاتی ہیں۔ جبکہ نوجوان لڑکے بھی لڑکوں اور لڑکیوں کی کندھوں پر ہاتھ ڈالتے ہوئے وہ بھی گول دائرے میں رقص پیش کرتے ہیں۔ کیلاش لوگ صبح کے وقت مشرقی میدان میں رقص کرتی ہیں جبکہ دوپہر کے بعد ان کی خواتین ایک محصوص راستے سے گزرتے ہوئے ہاتھوں میں پھول یا اخروٹ کی ٹہنیاں پکڑ کرے ان کو ہلا ہلا کر گزرتی ہیں اور اس جگہہ جمع ہوتے ہیں جہاں یہ مذہبی رسومات کے طور پر رقص پیش کرتی ہیں ان کو چرسو بھی کہا جاتا ہے۔

سہ پہر کے بعد کیلاش قبیلے کے مذہبی رہنماء قاضی کے حکم پر مرد حضرات سب الگ ہوکر ایک کھیت میں جمع ہوتے ہیں جبکہ ان کے بعض قاضی جو مذہبی رہنماء ہوتے ہیں وہ گندم کے فصل میں دودھ چڑھکاتے ہیں تاکہ اس میں برکت پیدا ہو۔ 

یہ مرد ہاتھوں میں پتے اور اخروٹ کے ٹہنی پکڑ کے ان کو مسلسل ہلاتے ہیں اور محصوص آواز میں گیت بھی گاتے ہیں ایک قاضی ان کی سربراہی کرتے ہوئے ان اس راستے کی نشادندہی کراتا ہے جہاں سے ان لوگوں نے گزرنا ہو۔ تاہم اس دوران کسی مسلمان یا باہر سے آیا ہوا کیلاش بھی ان کے سامنے اس راستے پر کھڑ ا ہونے کی اجازت نہیں ہوتی جہاں سے انہوں نے گزرنا ہوتا ہے۔ یہ لوگ دھیمے دھیمے چل کر اس میدان میں جمع ہوتے ہیں جہاں پہلے سے ان کی خواتین (لڑکیاں) ان کی انتظار کرتی ہیں اور وہ بھی جواب میں ہاتھوں میں پھول، پتے پکڑ کر ان کو مسلسل ہلاکر گیت گاتی ہیں جب یہ لوگ خواتین کے باالکل سامنے پہنچ جاتے ہیں تو ہاتھوں میں پکڑے ہوئے پتے ان پر نچاور کرتے ہیں جو انتہائی محبت کا اظہار ہوتا ہے۔ جواب میں عورتیں بھی ان پر وہ پتے پھینکتے ہیں۔ او ر ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر بانہوں ملاکر مشترکہ رقص پیش کرتے ہیں۔ چند لڑکیاں رنگین دھاگے سے بنی ہوئی پٹی ہاتھوں میں باندھ کر جسے دوسری لڑکی پکڑتی ہیں اور یوں ہاتھوں کی زنجیر کا لمبا قطار بن جاتا ہے جو اس میدان سے گول دائرے میں گھوم کر ناچتی ہیں جہاں دوسر ے لوگ ایک دوسرے کے کندھوں پر ہاتھ ڈال کر ناچتی رہتی ہیں۔ 

یہ سلسلہ شام تک جاری رہتا ہے اور شام کے بعد جن چلے اپنے چاہنے والیوں کو پکڑ کر دوسرے وادی میں بھاگتے ہیں جہاں وہ شادی کا اعلان کرتے ہیں۔ لاہور سے آئی ہوئی مس جمیلہ نے کہا کہ یہ نہایت خوبصورت لوگ ہیں مگر قدرے شرمیلے ہیں ان کی لباس اور سروں پر ٹوپیاں بہت اچھی لگتی ہیں ان کا کہنا ہے کہ جس نے کیلاش نہیں دیکھا اس نے کچھ بھی نہیں دیکھا۔ کراچی سے آئی ہوئی مس حنا ء کا کہنا ہے کہ زندگی میں کیلاش کا تہوار ایک مرتبہ ضرور دیکھنا چاہئے۔ 

سکھ قبیلے سے تعلق رکھنے والے سردار ولن سنگھ جو لاہور سے اس تہوار کو دیکھنے کیلئے آیا تھا اس کا کہنا ہے کہ یہاں آکر اسے بہت مزہ آیا۔ شانگلہ سے آیا ہوا عباد اللہ کا کہنا ہے کہ اگر کیلاش وادیوں کی سڑکوں کو بہتر بنائے تو مزید سیاح یہاں آئیں گے اور ان سیاحوں کی آمد سے ان غریب لوگوں کی بھی معاشی حالت بہتر ہوگی۔

سید گل کیلاش جو پہلی کیلاش ماہر آثار قدیمہ خاتون ہے ان کا کہنا ہے کہ وہ تین ہزار سالوں سے یہ رسم مناتے چلے آرہے ہیں اور کیلاش لوگ نہایت پر امن لوگ ہیں جو نیچر یعنی قدرتی حسن کو بہت پسند کرتے ہیں اور تھوڑے پر بھی گزارہ کرتے ہیں ان کی ان محصوص ثقافت اور رسم و رواج کو دیکھنے کیلئے دنیا بھر سے سیاح ان وادیوں میں آتے ہیں جس سے ملک کی معیشت پر مثبت اثرات پڑتے ہیں تاہم مقامی لوگوں کو مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے تاہم وہ پر امید ہے کہ آنے والی حکومت ان کیلئے کچھ کرے گی۔

شمائلہ ایک ماہر نفسیات ہے جو ملتا ن سے اس تہوار کو دیکھنے کیلئے آئی ہوئی ہے ان کا کہنا ہے کہ وہ پہلی بار چترال اور وادی کیلاش آئی ہے یہاں آکر اسے بہت مزہ آیا اور یہ لوگ نہایت ملنسار ہیں جو سب سے ہنس کر ملتے ہیں۔ 

جرمنی سے آیا ہو ا ایک سیاح اینگلو کا کہنا ہے کہ یہ بہت خوبصورت جگہہ ہے اور نہایت پرامن بھی۔ ان کا کہنا ہے کہ میں دنیا بھر کے سیاحوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ ضرور یہاں آئے اور اس پر امن ناحول اور قدرتی حسن سے لطف اندوز ہوجائے۔ 

کیلاش قبیلے سے تعلق رکھنے والے قانون دان نابیگ ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ حکومتی ادارے ہمارے نام پر فنڈ تو لیتا ہے مگر ہمیں کچھ بھی نہیں ملتا ۔ ہمارا جو بنیادی رقص گاہ ہے اسے بھی ایک غیر سرکاری ادارے اے وی ڈی پی نے بنا یا ہے تو پھر سرکار کیا کرتی ہے۔اس نے کہا کہ ہم خود کو محفوظ کرتے ہیں اور اپنی ثقافت کو بچاتے ہیں مگر حکومت کی طرف سے ان کے ساتھ کوئی حاطر خواہ مدد نہیں ہوتا۔ 

چیلم جوش کا تہوار وادی رمبور سے شروع ہو ا تھا اور بمبوریت سے ہوتے ہوئے وادی بریر میں حتم ہوا۔جسے دیکھنے کیلئے کثیر تعداد می سیاح آئے تھے جن میں بڑی تعداد غیر ملکی سیاحوں کا بھی تھا۔ضلعی انتظامیہ نے کیلاش لوگوں کو ون ڈش یعنی چاول مفت میں فراہم کی جو رقص کرنے والے مرد و خواتین کھاکر چلے جاتے۔



16 مئی، 2018

لطیفے پڑھئے اور ہنسئے ☺ ☺

دو بہن بھائی کھیل رہے تھے۔ بھائی نے کہا۔ 
”آوٴ ہم ریڈیو کا کھیل کھیلیں“۔ 
بہن:”میں ریڈیو پر کہانی سناوٴں گی“۔ 
بھائی :”نہیں‘ تم اناوٴنسر بنو میں کہانی سناوٴں گا“۔ 
بہن (کچھ دیر سوچتے ہوئے) :”اچھی بات ہے‘ یہ ریڈیو پاکستان 
کراچی ہے اب ہمارا آج کا پروگرام ختم ہوتا ہے“۔

_____ ☺☺_______


ایک شکاری کو اپنے نشانے پر بڑا زعم تھا‘ 
ایک دن شکار کے موقعے پر اس کے ساتھیوں نے اس کے نشانے کی آزمائش کے لئے ایک اڑتے ہوئے باز کی طرف اشارہ کر کے کہا۔ 

”اگر تم واقعی اتنے بڑے نشانچی ہو تو اس باز کا شکار کر کے دکھاوٴ۔“ 

”یہ بھی کوئی مشکل ہے۔“ 

یہ کہتے ہوئے شکاری نے باز کا نشانہ لے کر فائر کر دیا‘ شو مئی قسمت نشانہ خطا ہو گیا لیکن شکاری اپنی ڈھٹائی سے باز نہ آیا‘ 

کہنے لگا۔ 
”دوستو! یہ پہلا موقعہ ہے کہ مرا ہوا باز بھی اڑ رہا ہے۔“





اورنگی ٹاﺅن میں شمسی توانائی سے چلنے والے تیسرے واٹر فلٹریشن پلانٹ کا افتتاح کردیا گیا

کوکا ۔ کولا کے اشتراک سے زندگی پروجیکٹ کے تحت اورنگی ٹاﺅن میں شمسی توانائی سے چلنے والے 5واٹر فلٹریشن پلانٹس تعمیر ہونگے 


کراچی:  کوکا۔کولا نے پروجیکٹ ’ زندگی‘ کیلئے روٹری پاکستان نیشنل پولیو پلس کمیٹی اور اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈ ی پی )کے ساتھ ملک میں پینے کے لئے صاف پانی کی فراہمی اور گندے پانی سے منتقل ہونے والی بیماریوں کی روک تھام کیلئے معاہدہ کیا ہے۔ اس پروجیکٹ پر کوکا۔کولا فاﺅنڈیشن کی جانب سے 80,000 ڈالر سرمایہ فراہم کیا گیا ہے ۔اس منصوبے کے تحت دنیا کی سب سے بڑی کچی بستیو ںکی فہرست میں پانچویں نمبر پر موجود اورنگی ٹاﺅن جس کی آبادی 25لاکھ آبادی پر مشتمل ہے ، وہاں شمسی توانائی سے چلنے والے پانچ فلٹریشن پلانٹس نصب کئے جائیں گے اور ان میں سے تیسرے واٹر فلٹریشن پلانٹ کا افتتاح کیا گیا ہے۔ اس پلانٹ کا افتتاح روٹری نیشنل چیئر عزیز میمن، ڈی جی اویس کہاری اور قطر اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عنایت اللہ کنڈیرو نے مشترکہ طور پر کیا۔

اس منصوبے کے دوسرے مرحلے کا آغاز رواں سال کے اوائل میں ہوا جس کے تحت سندھ اور پنجاب کی کچی بستیوں کے 140,000 افراد کو پینے کے لئے صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ ہر پلانٹ ایک دن میں دو شفٹوں میں پانی فراہم کرے گا اور ایک شفٹ میں پلانٹ سے 3ہزار گیلن پانی حاصل ہوگا۔ اس سے قبل ملیر میں سال 2014میں نصب کئے گئے ریورس اوسموسس پلانٹ کی بدولت خراب پانی سے پھیلنے والی بیماریوں میں 70فیصد تک کمی آئی تھی۔ اورنگی میں سندھ گورنمنٹ قطر اسپتال میں نصب شمسی توانائی سے چلنے والے اس واٹر فلٹریشن پلانٹ سے 55,000 لوگوں کو پینے کا صاف پانی دستیاب ہوگا اور ان کو صحت اور صفائی سے متعلق تربیت بھی فراہم کی جائے گی۔ 

کوکا۔کولا اور روٹری کے اشتراک کے بارے میں تبادلہ خیال کرتے ہوئے کوکا۔کولا ایکسپورٹ کارپوریشن پاکستان اور افغانستان کے جنرل منیجر رضوان خان نے کہا، ” ہمارے لئے یہ بات انتہائی باعث تشویش ہے کہ پاکستان دنیا کے ان دو ملکوں میں شامل ہے جہاں پولیو کا مرض موجود ہے۔ اس لئے ایک ذمہ دار کاروباری ادارے کے طور پر ہم نے خراب پانی کے ذریعے منتقل ہونے والی بیماریوں کی روک تھام کیلئے اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ پاکستان کی فلاح اور بہبود کے بھرپور عزم کے تحت ہم پائیدار ترقی کیلئے کوشاں ہیں اور یہ ترقی ہماری قوم کی صحت سے منسلک ہے۔“

افتتاحی تقریب کے دوران پلانٹ کے آپریشن کے ذمہ دار ڈاکٹر عنایت اللہ کنڈیرو کو ایک علامتی چابی پیش کی گئی۔ پلانٹ کے افتتاح کے موقع پر روٹری نیشنل چیئر عزیز میمن نے کہا ” شہر کراچی میں اورنگی ٹاﺅن انتہائی زیادہ مسائل کا سامنا کرنے والے علاقوں میں شامل ہے ۔ پینے کے صاف پانی کی فراہمی سے علاقہ مکینوں کو درپیش صحت کے مسائل حل ہوں گے اور گندے پانی کے استعمال سے بچوں میں منتقل ہونے والی بیماریوں سے سے تحفظ حاصل ہوگا ۔ ہمیں ” زندگی“ پروجیکٹ جیسی مزید شراکت داریوں کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنی مستقبل کو پولیو سے پاک پاکستان دے سکیں۔ سال 2018 میں اب تک پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے اور ہم 2019میں بھی پاکستان کو پولیو سے پاک ملک بنانے کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔

پینے کے صاف پانی تک رسائی کی بدولت شرح اموات میں نمایاں کمی آئے گی اور لوگوں کا معیار زندگی بھی بہتر ہوگا اور دور دراز علاقوں سے پانی لانے کے لئے خواتین کے وقت کی بھی بچت ہوگی ۔ مقامی لوگوں میں صفائی اور طبی تعلیم کے بارے میں آنے والی آگہی کی بدولت علاج معالجہ پر ہونے والے اخراجات میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔ 



ٹیلی نار مائیکروفنانس بینک کا رکشہ فنانسنگ کے لیے کریم کے ساتھ اشتراک

پاکستان کے صف ِ اول کے مائیکروفنانس ادارے، ٹیلی نار مائیکروفنانس بینک نے آسان اقساط پر رکشہ فنانسنگ کے لیے ملک کی سب سے بڑی ٹیکسی سروس کریم کے ساتھ اشتراک قائم کرلیا ہے۔ یہ اشتراک ٹیلی نار مائیکروفنانس بینک اور کریم کے معاشی اور مالیاتی شمولیت کے فروغ کے ذریعے نئے اور آسان ذرائع آمدن سے لوگوں کو بااختیار بنانے کے عزم کا تسلسل ہے۔

اس اشتراک کے تحت صارفین بائیس ماہ کی مدت کے لیے آسان اقساط پر نئے رکشے خرید سکیں گے ۔ ڈرائیوروں کو اثاثے کی ملکیت کی فراہمی کے علاوہ یہ اشتراک کریم کے پلیٹ فارم کے ذریعے انھیں متوازن اورمسلسل آمدن کا ذریعہ بھی فراہم کرے گا۔ ایک کفایتی اور باسہولت سفر کا ذریعہ ہونے کے ناتے پاکستان میں رکشہ کی مارکیٹ مسلسل ترقی کررہی ہے تاکہ طلب و رسد کے فرق کو کم کیا جاسکے۔

اس صورتحال میں ٹیلی نار بینک اور کریم جیسے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے حامل اداروں کے پاس مواقع ہیں کہ وہ جدید سہولیات کی تشکیل کے ذریعے اپنے کیپٹنز کو فائدہ پہنچا سکیں۔ ٹیلی نار مائیکروفنانس بینک کے صدر و سی ای او شاہد مصطفی نے معاہدے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: ’’اس اشتراک سے پاکستان میں ملازمت کے شاندار مواقع پیدا ہونگے، جن سے لوگوں کو آمدن اور اثاثوں کے حصول کے ذریعے بے روزگاری کے مسئلے سے موثر طور پر نمٹنے میں مدد ملے گی۔

ہمیں رکشہ فنانسنگ کے لیے کریم کے ساتھ اشتراک کی خوشی ہے جس سے لاکھوں پاکستانیوں کو سفر کی آسان اور سستی سہولیات دستیاب ہونگی جنھیں پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے سفر میں مشکلات درپیش ہیں۔‘‘کریم کے منیجنگ ڈائریکٹر جنید اقبال کا کہنا تھا: ’’ پاکستان کو کاروباری افراد کی ضرورت ہے اور کریم لوگوں کو اس ضمن میں مواقع کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کررہا ہے۔

ہماری کوشش ہے کہ ہمارے کیپٹن مالیاتی استحکام کی جانب بڑھیں اور ہمارا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو مواقع کی فراہمی جاری رکھنا ہے۔ ہمیں رکشہ لون اسکیم پر فخر ہے جو ایک اور معاشی گروہ کو خدمات فراہم کرے گا اور ہمیں امید ہے کہ یہ زیادہ سے زیادہ کیپٹنز کی مدد کر سکے گا۔‘‘کریم نے ملک میں رکشوں کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر 2016میں اپنی رکشہ سروس متعارف کرائی ۔

تب سے اب تک اس سروس کی طلب میں مسلسل اضافہ ہوا ہے اور اس نے ہزاروں ڈرائیوروں کو ایک متوازن ذریعہ آمدن فراہم کیا ہے۔ ٹیلی نار مائیکروفنانس بینک مالیاتی خدمات کے ذریعے ہزاروں بے روزگار لوگوں کو ذاتی تھری وہیلر رکشہ خریدنے کا موقع فراہم کررہا ہے اور لوگوں کے لیے ان کی منزل تک باسہولت اور سستے سفر کی سہولیات بھی پیدا کررہا ہے۔



جاوید ہاشمی زہر اگلنے لگا : پاک فوج پرغصہ، کہا کہ 5 سال سے نواز شریف کے پیچھے پڑے ہیں

جاوید ہاشمی زہر اگلنے لگا :  پاک فوج پرغصہ، کہا کہ 5 سال سے نواز شریف کے پیچھے پڑے ہیں ، انہوں نے ملک تباہ کر دیا پھر کہتے ہیں ہم مالک ہیں ، ہمارے پیسوں پر نوکری کرتے ہیں،ہمیں ہی آنکھیں دکھاتے ہیں فوج کو سر جھکانا ہو گا


15 مئی، 2018

ماہ رمضان میں عطیات بڑھانے کے لئے کوکا۔کولا کی ایدھی فاؤنڈیشن کے ساتھ ایک بار پھر شراکت داری

کراچی: کوکا۔کولا پاکستان نے گزشتہ سال ایدھی فاو ¿نڈیشن کے عطیات بڑھانے کی مہم میں عوام کی پرجوش انداز سے شرکت کے بعد رواں سال بھی اس ماہ رمضان میں ایک بار پھر پاکستان کے صف اول کے سماجی بہبود اور امدادی کام کرنے والے ادارے ایدھی فاو ¿نڈیشن کے ساتھ شراکت داری کا اعلان کیا ہے۔ اس مہم کا عنوان 'ایدھی کیلئے عیدی 'ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ ملک بھر میں لوگوں کے اندر وسعت قلبی سے زیادہ عطیات دینے کی جامع انداز سے حوصلہ افزائی کی جائے۔ 


کوکا۔کولا پاکستان و افغانستان کے جنرل منیجر رضوان یو خان نے کہا، "ایک زمہ دار کاروباری ادارے کے طور پر کوکا۔کولا نے گزشتہ سال اس بات کو محسوس کیا کہ یہ ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے کہ ایسے وقت میں ایدھی فاو ¿نڈیشن کے ساتھ ہر ممکن انداز سے تعاون کریں جب انہیں عطیات کی وصولی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اپنی بنیادی اقدار سے وابستگی کے ساتھ ہم نے گزشتہ سال ایک بھرپور رابطہ مہم چلائی اور اس سال بھی ہم اس مہم کو چلانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ مجھے اس بات کا اعلان کرتے ہوئے خوشی ہے کہ گزشتہ سال کے تجربات کو بروئے کار لاتے ہوئے ہم اس سال زیادہ وسیع اور موثر مہم چلائیں گے۔" 

ایدھی فاو ¿نڈیشن نے اپنے آغاز سے ہی عوامی حمایت اور روایتی عطیات بشمول زکوٰة اور صدقات پر انحصار کیا ہے۔ ماہ رمضان کے دوران اسکے عطیات کی وصولی میں غیرمعمولی اضافہ ہوجاتا ہے۔ عبدالستار ایدھی مرحوم جیسی قد آور شخصیت کی رہنمائی کے بغیر ایدھی فاو ¿نڈیشن کو ماہ رمضان میں پہلی بار عطیات میں کمی کا سامنا رہا۔ اسی طرح گزشتہ سال عطیات کی وصولی کے لئے کوکا۔کولا کی بوٹل آف چینج مہم بھی ایدھی فاو ¿نڈیشن کے لئے کارآمد ثابت ہوئی۔ اس مہم میں لوگوں نے ایدھی فاو ¿نڈیشن کو پہلے سے زیادہ عطیات دیئے اور اس سے انہیں ایدھی صاحب کے عظیم کام کو جاری رکھنے میں مدد ملی۔ اس سال بھی اس مہم کا بنیادی پیغام یہی ہے اور اس کا عنوان 'ایدھی کیلئے عیدی' ہے تاکہ عوامی شعور اجاگر ہو اور لوگ اس بڑے کام میں تعاون کے لئے مل جل کر آگے بڑھیں۔ 

عبدالستار ایدھی مرحوم کے صاحبزادے فیصل ایدھی اس وقت ایدھی فاو ¿نڈیشن کے سربراہ ہیں، فیصل ایدھی بتاتے ہیں، "گزشتہ سال کوکا۔کولا کی مہم سے بہت اچھے نتائج نکلے اور ایدھی فاو ¿نڈیشن کو ماہ رمضان کے دوران زیادہ تعداد میں عطیات وصول ہوئے۔ یہ عطیات ایدھی فاو ¿نڈیشن کے امدادی کاموں کو پسماندہ طبقے کے افراد تک پھیلانے کے لئے استعمال ہوئے۔ گزشتہ سال کی کامیابی کی بنیاد پر ایدھی فاؤنڈیشن اس ماہ رمضان میں بھی کوکا۔کولا کا پارٹنر بننے پر بہت خوشی محسوس کر رہی ہے ۔" 

فیصل ایدھی نے دیگر اقدامات کے لئے مختلف فلاحی اداروں کے ساتھ کوکا۔کولا کی شراکت داری کو بھی سراہا جن میں تعلیم کے لئے دی سٹیزنز فاو ¿نڈیشن ، ماحولیاتی تحفظ کے لئے ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان، خواتین کی بااختیاری کے لئے کشف فاو ¿نڈیشن، پولیو کے خاتمے کے لئے روٹری انٹرنیشنل اور پانی سے متعلقہ منصوبوں کے لئے انڈس ارتھ ٹرسٹ شامل ہیں۔ 



سیلفی کے شوق نے کئی قیمتی جانیں لے لی: پیدل کے کمزور پل پر بڑی تعداد میں لوگ کھڑے ہوکر سیلفی لینے لگے تو پل بدداشت نہ کرسکا: اس وقعے کی ریئر ویڈی ملاحظہ کریں

سیلفی کے شوق نے کئی قیمتی جانیں لے لی: پیدل کے کمزور پل پر بڑی تعداد میں لوگ کھڑے ہوکر سیلفی لینے لگے تو پل بدداشت نہ کرسکا: اس وقعے کی ریئر ویڈی ملاحظہ کریں 

14 مئی، 2018

نوجوانون کی آواز کو دھمکیوں سے خاموش نہیں کیا جاسکتا


کراچی(پریس ریلیز) چترال اسٹوڈنٹ اینڈ سوشل ویلفئر ایسوسی ایشن اور چترال اسماعیلی یوتھ فورم کراچی کا ایک مشرکہ اجلاس جناب میر شجاع  کی صدارت میں گزشتہ روز کراچی میں منعقد ہوئی جس میں چترال میں پیدا ہونے والے صورت حال جو کہ جماعتی یوتھ اور اداروں کے درمیاں خلا پیدا کر رہی ہے، پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ظہران شاہ سابق جنرل منیجر آغاخان ایجوکیشن سروس چترال اور موجودہ سیکورٹی انچارچ دربار، کی جانب سے چترال میں موجود نوجوانون کے سرگرم نمائندوں کے خلاف عدالت میں کیس درج کرنا انتہائی غیر سنجیدہ فعل ہے۔ اگر موصوف اپنے آپ کو ابھی بھی اسماعیلی لیڈر سمجھتے ہیں تو ان کو یہ کیس اسماعیلی اداروں میں لے جانا چائیے تھا مگر یہ بد نیتی پر مبنی فعل ہے کہ اپنے اداروں کو چھوڑ کر عدالت سے رجوع کرتے ہیں اور اس کا مطلب یہ لیا جائے گا کہ موصوف اور عملداران اپنے آپ کو اداروں سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ 

یہ بات واضح کی جاتی ہے کہ اگر ہمارے نمائندوں کے خلاف یہ دھمکی آمیز یا ڈرانے یا پھر عدالت کا یہ سلسلہ جاری رہا تو ہم کراچی میں موجود جماعتی اداروں کے باہر دھرنا دینے پر مجبور ہونگے۔ اور شوسل میڈیا میں اجتجاج ریکارڈ کرین گے۔ اداروں میں موجود افراد کو یہ سمجھ لینا چائیے کہ وہ اقرابا پروری، رشتہ پروری کے جنجٹ سے نکل کر جماعتی اداروں کے آئین کے مطابق خدمت انجام دیں اور سارے مسائل کو مصالحت کی میز پر لائیں اور جلد از جلد حل کریں ورنہ بدمزگی پیدا ہوگی اور اس کے ذمہ دار وہ خود ہونگے۔ آج کے دور کے نوجوان یہ جان چکے ہیں کہ اداروں میں پچھلے 40 سال قابض لوگ اپنے مفادات کے تحت اداروں کو چلا رہے ہیں اور اب اسے مزید نہیں چلنے دیا جائے گا۔ بہت جلد کراچی ریجن کے تمام ایریا صدور اور ان کے کبینٹ کا اجلاس بلایا جائے گا جس میں ایکشن پلان تشکیل دی جائے گی۔



قائد تحریک انصاف کا کراچی میں 12 مئی 2018 کے جلسے سے خطاب : خان کراچی کے عوام کے لئے10 نکاتی دے دیئے: مکمل خطاب سنیں

قائد تحریک انصاف کا کراچی میں 12 مئی 2018 کے جلسے سے خطاب : خان کراچی کے عوام کے لئے10 نکاتی دے دیئے: مکمل خطاب سنیں



کھلاڑی عامرلیاقت حسین کا کراچی میں دھوان دار انتہائی جذبائی خطاب

کھلاڑی عامرلیاقت حسین کا کراچی میں دھوان دار انتہائی جذبائی خطاب


کھلاڑی عامرلیاقت حسین کا کراچی میں جذبائی خطاب
کھلاڑی عامرلیاقت حسین کا کراچی میں جذبائی خطاب

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں