20 اکتوبر، 2018

چترال یونیورسٹی میں ’’چترال مستقبل میں سیاحت اور کاروباری رابطوں کا مرکز‘‘ کے موضوع پر علاقائی کانفرنس کا اہتمام

چترال یونیورسٹی میں ’’چترال مستقبل میں سیاحت اور کاروباری رابطوں کا مرکز‘‘ کے موضوع پر علاقائی کانفرنس کا اہتمام

سیاحت پر علاقائی کانفرنس چترال یونیورسٹی میں منعقد کیا گیا۔

چترال(گل حماد فاروقی) چترال میں سیاحت اور تجارت کو فروغ دینے کیلئے جامعہ چترال میں ایک علاقائی کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ کانفرنس کا موضوع تھا Chitral- The Future Hub of Tourism and Trade Connectivity
کانفرنس میں مقررین نے اظہار حیال کرتے ہوئے کہا کہ چترال ملک کا وہ حطہ ہے جو اپنی مثالی امن، مہما ن نوازی، تہذیب اور محصوص ثقافت اور روایات کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ انہوں نے کہا کہ چترال میں تریچ میر جیسے ہزاروں فٹ بلند چوٹیاں، کیلاش جیسے محصوص ثقافت کے حامل قبیلے، برف پوش پہاڑ، قدرتی طور پر صاف پانی کے چشمے، جنگلی حیات پر مبنی جنگل مارخور، برفانی چیتا وغیرہ اور کئی ایسی چیزیں موجود ہیں جو ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کو کھینچ لاتی ہیں۔ 


مقررین نے کہا کہ چترال کے سڑکوں کی حالت اگر بہتر بنایاجائے اور سیاحوں کی قیام و طعام کا بندوبست کی جائے تو یہاں کے جنت نظیر وادیوں میں سیاحوں کا تانتا بندھے گا اور ان پہاڑوں کے بیچ میں واقع خوبصورت وادیوں میں کثیر تعداد میں غیر ملکی سیاح آئیں گے جو یقینی طور پر اس پسماندہ ضلع کی معیشت پر مثبت اثرات ڈالیں گے۔

علاقائی کانفرنس کا اہتمام چترال ایسوسی ایشن برائے ہیلتھ اینڈ ایجوکیشن نے کیا تھا۔ کانفرنس میں پروفیسر ڈاکٹر تاج الدین نے پاک چین راہداری اور تجارت پر مقالہ پیش کیا۔ پروفیسر ڈاکٹر ظاہد انور نے CPEC کے باعث سیاحت اور نوجوان طبقہ کیلئے روزگار کے مواقع پر مقالہ پیش کیا۔ 

ڈاکٹر احسان اللہ، پروفیسر ڈاکٹر فضل الرحمان، پرنسپل اسلام الدین نے سیاحت چترال کی ترقی کا زینہ پر مقالہ جات پیش کئے۔ بین الاقوامی سیاحت اور سیاحت کے راہ میں رکاوٹ کے موضوع پر پروفیسر فضل رحمان اور کیپٹن ریٹائر ڈ شہزادہ سراج الملک نے مقالے پیش کئے۔ 

ماحولیاتی سیاحت کے موضوع پر پروفیسر ڈاکٹر سردار الملک نے مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ چترال میں کئی ایسے مقامات اور مواقع موجود ہیں جہاں ماحولیاتی سیاحت کو فروغ مل سکتا ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر زاہد انور، پروفیسر ممتاز حسین پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج چترال نے سیاحت اور تجارت چترال کی ترقی کی راز پر مقالہ جات پیش کئے۔ 

پروفیسر رحمت کریم بیگ نے چترا ل میں واقع محتلف پہاڑی چوٹیوں ، ٹریکنگ کے موضوع پر مقالہ پیش کیا۔ کیلاش ثقافت پر لوک رحمت کیلاش نے پریزنٹیشن پیش کیا۔ 

فضل رقیب نے سیاحت کی ترقی میں چترالی اقدار کی اہمیت پر، عنایت اللہ اسیر نے مشرقی اور مغربی راہوں کے تقابلی جائزہ پر مقالہ جات پیش کئے۔ 

ڈاکٹر تاج الدین اور محمد جلال الدین نے کانفرنس کے اعلامیہ او ر سفارشات پیش کئے۔ پروفیسر ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری نے شرکاء میں شیلڈ تقسیم کئے۔کانفرنس میں مطالبہ کیا گیا کہ سی پیک کو چترال سے بھی گزارا جائے تاکہ اس کی رابطے کی سڑک سے یہ پسماندہ علاقہ بھی ترقی کرے جو نہایت پر امن ہے۔ چترا ل میں منعقد ہونے والے محتلف تہواروں کو مقامی اور غیر مقامی سرمایہ کاروں کی تعاون سے باقاعدہ طور پر منایا جائے تاکہ یہاں کے اقدار کو زندہ رکھا جاسکے۔

کانفرنس میں مطالبہ کیا گیا کہ چترال میں ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی توجہ کی بہت ساری مواقع موجود ہیں مگر حکومت ان وادیوں تک جانے والی سڑکوں کی حالت بہتر بنائے تاکہ سیاحوں کو آنے جانے میں مشکلات کا سامنا نہ ہو۔ کانفرنس میں کثیر تعداد میں طلباء و طالبات کے علاو ہ مقامی اور غیر مقامی سکالرز اور ماہرین نے شر کت کی۔ کانفرنس کے آحر میں نجی سکول کے طلباء نے ثقافتی شو اور قومی نغمہ بھی پیش کرکے شرکاء کو محظوظ کیا۔


18 اکتوبر، 2018

سپریم کورٹ آف پاکستان کا ملک بھر کے تمام سول اور کنٹونمنٹ علاقوں سے بل بورڈز اور ہورڈنگز ہٹانے کا حکم

سپریم کورٹ آف پاکستان کا ملک بھر کے تمام سول اور کنٹونمنٹ علاقوں سے بل بورڈز اور ہورڈنگز ہٹانے کا حکم


اسلام آباد (این این آئی) سپریم کورٹ آف پاکستان نے ڈیڑھ ماہ میں ملک بھر کے تمام سول اور کنٹونمنٹ علاقوں سے بل بورڈز اور ہورڈنگز ہٹانے کا حکم دیدیا۔ بدھ کو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے لاہور میں بل بورڈز کے معاملے کی سماعت کی۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ریلوے، پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی (پی ایچ اے)، کنٹونمنٹ بورڈ اور ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) کی حدود میں بل بورڈز لگے ہیں، بتائیں کس انتظامی حصے میں بل بورڈز کا مسئلہ ہے؟چیف جسٹس نے کہا کہ کراچی میں آرڈر کیا تھا کہ سڑکوں سے بل بورڈ ہٹائے جائیں، وہاں کیا گیا آرڈر یہاں بھی لاگو ہوگا۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ پبلک پراپرٹی پر بل بورڈز نہیں لگائے جاسکتے، اگر کسی نے لگانے ہیں تو ذاتی پراپرٹی پر لگائے ۔چیف جسٹس نے کہا کہ فٹ پاتھ عوام کے چلنے کیلئے ہیں ان پر بل بورڈز کے لئے بڑے بڑے کھمبے لگا دیئے گئے، روڈز پر کیسے بل بورڈز کی اجازت دے سکتے ہیں؟



جاپانی سیاح لڑکی نے چترال میں اسلام قبول کیا، کن چیزوں سے متاثرہوئیں: جاننے کے لئے پڑھیں

جاپانی سیاح لڑکی نے چترال میں اسلام قبول کیا، کن چیزوں سے متاثرہوئیں: جاننے کے لئے پڑھیں



چترال (ٹائمزآف چترال نیوز) جاپان سے تعلق رکھنے والی سیاح لڑکی نے چترال میں اسلام قبول کرلیا۔ مشرف بہ اسلام ہونے والی لڑکی کا کہنا ہے کہ وہ چترال کے لوگوں کی تہذیب اور اخلاق سے متاثر ہوئی، اور دین اسلام کو مذہب کے طور پر اپنایا۔ لڑکی کا کہنا ہے کہ ان پر کسی نے زور زبردستی نہیں کی بلکہ وہ اپنی منشا کے مطابق اسلام قبول کرلیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے جاپان میں اپنے خاندان کواپنے فیصلے سے مطلع کیا ہے۔ خاندان میں انکے والدین اور ایک بھائی ہے۔ 

معروف عالم دین اور مذہبی سکالر مولانا حبیب اللہ نے انہیں کلہ حق پڑھایا۔ انہوں نے نو مسلم خاتون کا نام ذہرہ رکھ لیا جو کہ خاتون نے خود تجویز کیا تھا۔ 



بحریہ ٹاؤں دراصل کس کا ہے، ملک ریاض کا اہم ترین کاروباری شراکت دار کون ہے؟ کس طرح پاکستان کی زمینوں کو ملک ریاض کے حوالے کیا جاتا ہے اور کون کرتا تھا

بحریہ ٹاؤں دراصل کس کا ہے، ملک ریاض کا اہم ترین کاروباری شراکت دار کون ہے؟ کس طرح پاکستان کی زمینوں کو ملک ریاض کے حوالے کیا جاتا ہے اور کون کرتا تھا

بحریہ ٹاؤں دراصل کس کا ہے، ملک ریاض کا اہم ترین کاروباری شراکت دار کون ہے؟ کس طرح پاکستان کی زمینوں کو 
ملک ریاض کے حوالے کیا جاتا ہے اور کون کرتا تھا


سائنسدان ثرمبارک کے سارے دعوے جھوٹ نکلے، تھر کو سے قومی خزانے کو اربوں کا نقصان پہنچایا، آڈٹ کا حکم

 سائنسدان ثرمبارک کے سارے دعوے جھوٹ نکلے، تھر کو سے قومی خزانے کو اربوں کا نقصان پہنچایا، آڈٹ کا حکم



اسلام آباد (مانیڑنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے تھرکول گیسی فیکشن منصوبہ کے فرانزک آڈٹ کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹر ثمر مبارک نے پروجیکٹ کے حوالے سے غلط بیانی کی۔

یاد رہے سال 2011 میں ڈاکٹر ثمر مبارک نے دعویٰ کیا تھا کہ  تین سے 4 سینٹ فی یونٹ کی بجلی بنے گی جبکہ کوسٹ  ایک ڈالر فی کلو واٹ خرچے  پر بجلی پیدا ہوگی ۔ اور یہ سستی ترین کیپیٹل انوسٹمنٹ ہے۔ اور یہ سب سے سستی بجلی ہوگی۔ہم  وہاں 500 سال تک 50 ہزار میگاواٹ بجلی سالانہ بنانا سکتے ہیں۔ 

سپریم کورٹ میں تھرکول منصوبہ کیس کی سماعت ہوئی۔  سپریم کورٹ نے آڈیٹر جنرل کو تھر کول گیسی فیکشن منصوبہ کا فرانزک آڈٹ کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ آڈیٹر جنرل جنگی بنیادوں پر آڈٹ مکمل کریں، پیشرفت سے ہر پندرہ دن بعد عدالت کو آگاہ کیا جائے، عدالتی معاونین کی رپورٹ کے مطابق خزانہ کو اربوں کا نقصان ہوا، نیب انکوائری کر کے اپنی رپورٹ پیش کرے۔

چیف جسٹس نے عدالتی معاونین کی رپورٹ پر ڈاکٹر ثمر مبارک، وفاق اور سندھ حکومت سے 15 دن میں جواب طلب کرلیا۔ سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کو منصوبے کی مشینری اور دیگر سامان تحویل میں لینے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ مشینری، گاڑیوں اور دیگر سامان کی تصاویر بھی بنائی جائیں، جبکہ ملازمین کو ہر صورت تنخواہیں دلوائی جائیں۔

دوران سماعت نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ بادی النظر میں زیرزمین گیسی فیکشن منصوبہ قابل عمل نہیں۔ عدالتی معاون سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ منصوبے سے 30 سال تک 10 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ منصوبے سے سستی بجلی پیدا ہونے کے دعوے کیے گئے، اس کام کے لیے اربوں روپے پتوں کی طرح بانٹے گئے، جو چار ارب روپے ضائع ہوئے اسکا ذمہ دار کون ہے؟ کیا ڈاکٹر ثمر مبارک مند رقم واپس کریں گے یا کوئی اور؟، خود کو بڑا سائنسدان کہتے تھے اتنا پیسہ منصوبہ پر لگوا دیا، ڈاکٹر ثمر مبارک نے منصوبے کے حوالے سے غلط بیانی کی، غلط رہنمائی پر یہ منصوبہ شروع کیا گیا، کیا اس طرح کے کام کر کے پیسہ ضائع کردیں، کسی کو جوابدہ ٹھہرانا پڑے گا۔

عدالتی معاون سلمان اکرم نے کہا کہ تھرڈ پارٹی آڈٹ نے مزید فنڈنگ نہ دینے اور سندھ حکومت کو منصوبہ نجی شعبے کو دینے کی سفارش کی ہے، تھرکول کے اکاوئنٹس کا آڈٹ کرایا جائے، آڈٹ میں منصوبے کی بے ضابطگیوں کا جائزہ لیا جائے۔ کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی گئی۔



17 اکتوبر، 2018

دنیا میں ہر منٹ میں 380 خواتین حاملہ ہوتی ہیں ،190 خواتین کے پاس نئی زندگی کیلئے کوئی منصوبہ بندی نہیں: ہر منٹ میں ایک خاتون زچگی کے دوران فوت ہوجاتی ہے: ڈاکٹرانیلا عطاء الرحمن

دنیا میں ہر منٹ میں 380 خواتین حاملہ ہوتی ہیں ،190 خواتین کے پاس نئی زندگی کیلئے کوئی منصوبہ بندی نہیں: ہر منٹ میں ایک خاتون زچگی کے دوران فوت ہوجاتی ہے: ڈاکٹرانیلا عطاء الرحمن

خواتین غیر محفوظ طریقے سے بچے زچگی کرواتی ہیں ، دنیا میں ہر منٹ میں ایک خاتون زچگی کے دوران موت کے منہ میں چلی جاتی ہے، سیمینار سے خطاب

لاڑکانہ (مانیٹرنگ ڈیسک) لاڑکانہ میں خاندانی منصوبہ بندی کے عالمی دن کے موقع پر شیخ زید وومن اسپتال میں منعقدہ سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے لیڈی ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ دنیا میں ہر منٹ میں 380 خواتین حاملہ ہوتی ہیں جن میں سے 190 خواتین کے پاس نئی زندگی کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہیں، 40 خواتین غیر محفوظ طریقے سے بچے زچگی کرواتی ہیں جبکہ دنیا میں ہر منٹ میں ایک خاتون زچگی کے دوران موت کے منہ میں چلی جاتی ہے۔

شہید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر انیلا عطاالرحمٰن کی زیر صدارت شیخ زید وومن اسپتال میں ایسوسی ایشن آف آبسٹریٹیشن اینڈ گائنو کولاجسٹ پاکستان کے مشترکہ تعاون سے منعقدہ سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے خواتین کی پروفیسر ڈاکٹر رفیعہ بلوچ اور ماہر ڈاکٹر شاہدہ مگسی نے کہا کہ ہمارے مذہب میں بھی کہا گیا ہے کہ ایک ماں پر اس کے بچے کا حق ہے تو اس بچے کو کم از کم دو سال تک ماں کا دودھ پلایا جائے اس کے پیچھے ایک فلسفہ ہے کہ دوسرے بچے کے لیے بھی کم از کم دو سال کا وقفہ لازمی ہونا چاہیے۔

سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر شہید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر انیلا عطاالرحمٰن نے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ میں پاکستان میں موجود میڈیکل یونیورسٹیوں میں پہلی خواتین وائس چانسلر ہوں، آج سیکھنے اور سکھانے کے معیار مٹتے جارہے ہیں اور ہماری بھی کوشش ہے کہ دنیا میں جو طب کے حوالے سے معیار ہیں ان کی پاسداری کریں۔

سیمنار میں ڈاکٹر شائستہ حفاظ ابڑو، پروفیسر ڈاکٹر سعیداحمد شیخ، پی ایس مشتاق احمد میرانی، میڈیا کوآرڈینیٹر عبدالصمد بھٹی اور دیگر نے بھی شرکت کی۔ بعد ازاں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر انیلا عطاالرحمٰن نے شیخ زید وومن اسپتال کا دورہ بھی کیا جہاں پر انہیں یونیورسٹی کی ڈین اور یونٹ انچارج پروفیسر ڈاکٹر رفیعہ بلوچ نے تفصیلی بریفنگ بھی دی۔



کاشتکاروں کو فصلوں میں اضافے اور نقصانات سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے لئے ٹیلی نار اور راک انٹرنیشنل کی شراکت

کاشتکاروں کو فصلوں میں اضافے اور نقصانات سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے لئے ٹیلی نار اور راک انٹرنیشنل کی شراکت




ٹیلی نار پاکستان اور ون راک انٹرنیشنل کے مابین کاشتکاروں کی معلومات ..

کراچی: ٹیلی کام اور ڈیجیٹل سروسز فراہم کرنے والے ملک کے اہم ترین ادارے ٹیلی نار پاکستان نے سماجی، زرعی اور ماحولیاتی حل فراہم کرنے والے مایہ ناز ادارے وِن راک انٹرنیشنل کے ساتھ شراکت داری کے ایک معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔ معاہدے کے تحت ٹیلی نار پاکستان اپنی فلیگ شپ m-agri سروس ’’خوشحال زمیندار‘‘ کے ذریعے وِن راک انٹرنیشنل کے ساتھ مل کر صوبہ پنجاب اور سندھ کے 12 اضلاع میں جدید طریقے اور ٹیکنالوجی متعارف کراتے ہوئے کسانوں کو پیداوار میں اضافہ اور فصلوں کے نقصانات کے بارے میں سہولیات فراہم کرے گا۔
خوشحال زمیندار ایک ڈیجیٹل آڈیو پلیٹ فارم ہے جس میں کسانوں کو موبائل فونز کے ذریعے موسم کی صورتحال، فصلوں کی موثر کٹائی کے طریقوں اور براہ راست بصری مشاورتی خدمات تک رسائی فراہم کی جاتی ہے۔

معلومات پر مبنی یہ مہم ون راک انٹرنیشنل پاکستان ایگریکلچر ڈویلپمنٹ (پی اے ڈی) منصوبہ کا حصہ ہے۔ پاکستان ایگریکلچر ڈویلپمنٹ کی ٹیکنیکل ٹیم نے اس مہم کے لئے جو مواد تیار کیا ہے اس میں فصلوں و باغبانی سے متعلق منصوبہ بندی، سائیٹ کا انتخاب، نرسری پلاننگ اور بوائی، بیج کی قیمت، کیڑے مکوڑوں اور بیماری پر قابو پانا، کھاد کا استعمال، کٹائی کیلئے ضروریات، بنچ مینجمنٹ، پھولوں کے کاروبار، پیکنگ، انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ، مالیاتی آگاہی اور مارکیٹنگ سے متعلق معلومات شامل ہیں۔

یہ مواد ٹیلی نار پاکستان خوشحال زمیندار پلیٹ فارم کے ذریعے 4 لاکھ کسانوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ شراکت داری پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹیلی نار پاکستان کی چیف ڈیجیٹل آفیسر دردانہ اچکزئی نے کہا کہ درست اور جدید کاشتکاری سے متعلق معلومات تک رسائی تمام چھوٹے اور بڑے کسانوں کا حق ہے اور ٹیلی نار معاشرے کو بااختیار بنانے کے اپنے وژن کے ساتھ ’’خوشحال زمیندار‘‘ کے ذریعے معلومات کے خلاء کو کم کرنے میں اپنا کردار جاری رکھے گا۔
کسانوں کو زرعی فیصلے کرنے میں مدد فراہم کرنے کے علاوہ وِن راک انٹرنیشنل کے ساتھ ہماری شراکت داری زرعی شعبہ میں جدت کیلئے راہ ہموار کرے گی جو پاکستان جیسے ملک کی زراعت پر مبنی معیشت کیلئے انتہائی ضروری ہے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے PAD پروجیکٹ کے چیف آف پارٹی فرخ بیگ مرزا نے کہا کہ پاکستان میں زرعی ترقی کیلئے چھوٹی سطح پر کسانوں کو جدید تکنیک اور آلات متعارف کرانا بہت اہمیت کا حامل ہے اور ٹیلی نار کے ساتھ ہماری شراکت داری اس جانب ایک اہم قدم ہے۔
ان کمیونٹیز میں ڈیجیٹل سروسز میں اپنے تجربہ بالخصوص ’’خوشحال زمیندار‘‘ کے ساتھ ٹیلی نار پاکستان کی رسائی کی بدولت ہمیں یقین ہے کہ ہم آئندہ دو سالوں میں بالواسطہ یا بلاواسطہ چار لاکھ کسانوں کو اس سروس کے فواد پہنچانے کے قابل ہوں گے۔ یہ سروس سندھ میں ٹھٹھہ، میرپور خاص، حیدر آباد، مٹیاری، عمر کوٹ، ٹنڈو الہٰ یار اور خیرپور اور پنجاب میں شیخوپورہ، ملتان، مظفر گڑھ، خانیوال، بہاولپور اور لودھراں میں کسانوں کے لئے علاقائی زبانوں میں فراہم کی جائے گی۔




16 اکتوبر، 2018

حبیب بینک HBL کے صدرمحمد اورنگزیب کا آئی ایم ایف ، سی پیک اور ڈیجیٹلائزیشن پراظہارِخیال



بالی، انڈونیشیاء : HBL کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد اورنگزیب کوHBL کے صدر اور پاکستانی بینکنگ سیکٹر کے واحد نمائندے کی حیثیت سے اپنے خیالات کے اظہار کیلئے اجلاس میں شرکت کیلئے مدعو کیا گیا۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ محمد اورنگزیب پاکستان سے واحد چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ آپ واحد پاکستانی ہیں جنہوں نے ڈاؤ جونز گروپ (وال اسٹریٹ جرنل) کے زیرِ اہتمام گلوبل سی ای او کونسل میں شمولیت کو قبول کیا۔ 

اجلاس کے موقع پر بلومبرگ کے ساتھ ایک انٹرویو میںHBL کے صدر اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومتِ پاکستان نے مالی خسارے کو محدود کرنے، ملک کے ٹیکس بیس اور برآمدات میں اضافے کی حوصلہ افزائی کیلئے بعض مشکل فیصلے کئے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ زرمبادلہ کے کم ہوتے ہوئے ذخائر کے ساتھ بحالی کے اقدامات کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ تخفیف پاکستان اور برآمدات کیلئے معاون ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی پالیسیوں کو طویل المدت اور پائیداربنانا ہے تو ’میڈ اِن پاکستان ‘اور برآمدی ماڈل آگے بڑھنے کا راستہ ہونگے۔

چین کے ’ون بیلٹ ون روڈ‘اقدام کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سی پیک پاکستان میں سرمایہ کاری کے لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے، توانائی کا شعبہ، سڑکوں اور دیگر انفراسٹرکچر منصوبے پاکستان کیلئے سود مند ہیں جبکہ درمیانی مدت سے طویل المدت یہ منصوبے پاکستان کی برآمدات میں اضافے کے ساتھ ساتھ ادائیگیوں کے توازن پر طویل المدت مثبت اثرات مرتب کریں گے۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ تر اِن منصوبوں کی انوائس چینی کرنسی (آر ایم بی) میں ہونی چاہئے اور بالخصوص توانائی کے منصوبوں کو RMB میں سیٹل کرنا چاہئے۔ ان منصوبوں کو ڈالر انڈیکس میں نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ RMB انڈیکس پاکستانی ترقی کیلئے ایک شاندار موقع ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ HBL واحد پاکستانی بینک ہے جس کی چین میں حقیقی معنوں میں موجودگی ہے۔ 

مستقبل کے تناظر اور ڈیجیٹلائزیشن میں انہوں نے کہا کہ’HBL خود کو بینکنگ لائسنس کے ساتھ ایک آئی ٹی کمپنی تصور کرتا ہے‘۔

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے بورڈ آف گورنرز اور ورلڈ بینک گروپ (ڈبلیو بی جی) کا سالانہ اجلاس 12اکتوبر سے 14 اکتوبر 2018ء تک انڈونیشیاء کے شہر بالی میں منعقد ہوا۔ دونوں اداروں آئی ایم ایف اور ڈبلیو بی جی نے مرکزی بینکوں کے گورنرز، وزراء برائے خزانہ ، سینئر پارلیمنٹیرینز،ماہر صنعتکاروں، نجی شعبہ کی شخصیات، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور تعلیمی اداروں کو عالمی معاشی صورتحال، غربت کے خاتمہ، اقتصادی ترقی اور مؤثر امداد بشمول عالمی معیشت، بین الاقوامی ترقی اور عالمی مالیاتی نظام پر توجہ مرکوز کرنے والے بہت سے دیگر عوامل پر بحث کیلئے مدعو کیا۔ 




چترال کی خوبصورت وادی کیلاش کا تہوار ’پھولڑ تہوار‘ ۔ کیا ہوتا ہے اس تہوار میں جاننے کے لئے پڑھیں


چترال کے وادی بریر میں کیلاش قبیلے کے لوگ پھولڑ تہوار منارہے ہیں ۔ اس تہوار میں پھولوں سے بنی ہوئی ٹوپیاں ان بچیو ں کے سروں پر رکھا جاتا ہے جن کی عمریں دس سال ہوجاتی ہے۔



چترال(گل حماد فاروقی) چترال کے پہاڑوں کے دامن میں رہنے والے کیلاش قبیلے کے لوگ اپنی محصوص ثقافت، رسم و رواج، مذہبی تہوار اور نرالی لبا س کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔

کیلاش قبیلے کے لوگ سال میں دو بڑوں اور دو چھوٹے تہوارو ں کے علاوہ ایک حاص تہوار بھی مناتے ہیں جنہیں پھولڑ تہوار کہا جاتا ہے۔ پھولڑ یا پھول تہوا ر صرف وادی بریر میں منایا جاتا ہے باقی دو وادیوں یعنی رمبور اور بمبوریت میں اسے نہیں منایا جاتا۔ 

اس تہوار میں پھولوں سے ایک حاص قسم کی ٹوپیاں بنائی جاتی ہیں جو ان بچیوں کے سروں پر رکھا جاتا ہے جن کی عمریں دس اور گیارہ سال تک پہنچ جاتی ہیں۔ اس تہوار میں وادی کے لوگ اخروٹ اور انگور بھی درختوں سے اتا ر کر گھروں میں سردیوں کیلئے ذحیرہ کرتے ہیں۔ 

حسب معمول اس سال بھی پھولڑ کی تہوار وادی بریر میں نہایت زور و شور سے منائی گئی جس میں پھول جیسے بچیوں کے سروں پر پھولوں سے بنی ہوئی ٹوپیاں رکھ کر پھول تہوار کی مزے کو دوبالا کیا گیا۔ جبکہ کیلاش خواتین ایک دوسرے کے کندھے پر ہاتھ ڈال کر قدم سے قدم ملاکر گول دائرے میں رقص پیش کرتی ہیں جبکہ مرد حضرات ڈھولک بجاتے ہیں۔ تہوار کے دوران کیلاش قبیلے کے مذہبی رہنماء جن کو اپنی زبان میں قاضی کہا جاتا ہے جو مرد اور خواتین پر مشتمل ہوتے ہیں وہ مذہبی گیت گاتے ہیں جب کہ ادھیڑ عمر کی عورتیں ان کے سر پر ٹوپی میں پچاس، سو، پانچ سو او ر ایک ہزار روپے کا نوٹ رکھ کر ا ن کی ٹوپیوں کو نوٹوں سے سجاتے ہیں جو عزت کی نشانی سمجھی جاتی ہیں چند کیلاش خواتین ان گانے والے قاضیوں کے جیب میں بھی پیسے رکھ دیتی ہیں۔

تہوار کے دوران مرک اور عورتیں اکٹھے بھی رقص پیش کرتے ہیں۔ اس دوران کیلاش کی بوڑھیاں ان بچیوں کو رقص کے میدان سے باہر ایک جگہہ بٹھاتے ہیں اور ان کے سروں پر پھولوں سے بنی ہوئی ٹوپیاں رکھتے ہیں اور ان کو روایتی پکوان بھی پیش کی جاتی ہے اس تہوار میں ان بچیوں کو زرد رنگ کے زرق برق کپڑے سے بنے ہوئے گاو ن بھی پہنایا جاتا ہے جو عام طور پر اس چمکیلے کپڑے سے بنے ہوئے یہ چوغہ صر ف کیلاش کے مذہبی رہنماؤں یعنی قاضیوں کو پہنایا جاتا ہے۔ مگر اس تہوار میں یہ چوغہ صرف ان بچیوں کو پہنا یا جاتا ہے اور بعد میں ان کو رقص گاہ لے جاکر ان کو رقص سکھایا جاتا ہے۔

یہ بچیاں کچھ دیر تک اس میدان میں رقص کرتی ہیں اس کے بعد ایک فرد آکر ان کی ٹوپی سر سے اتار کر کسی کو پھینک دیتا ہے جسے اٹھا کر وہ اس بڑے میدان میں جاتا ہے جو پہاڑی کے قریب اونچائی پر واقع ہے اور یہ سب لوگ اس کا پیچھا کرتے ہوئے وہاں چلے جاتے ہیں جہاں مرد اور خواتین اکھٹے رقص پیش کرتے ہیں اس رقص میں اسلام آباد سے آنے والے دو سیاح لڑکیوں نے بھی بھر پور حصہ لیا۔ یہ چھوٹے پھول جیسے بچیاں یہاں بھی رقص پیش کرتی ہیں جن کو ان کے بڑے سکھاتی ہیں 

رنگ اور رقص کا یہ سلسلہ جاری رہتا ہے جبکہ مرد ڈھولک بجاتے ہیں عصر کے بعد ایک اور مرد آکر ان بچیوں سے یہ ٹوپی لیکر پہاڑ کی طرف دوڑتا ہے اور باقی ٹوپیاں بھی ایک ایک کرکے اوپر پھینک دیا جاتا ہے

پھول تہوا ر کو چین، سکاٹ لینڈ ، برطانیہ اور امریکہ وغیرہ کئی ممالک سے سیاح آئے تھے۔چند مقامی سیاحوں نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ انہوں نے اتنی پر رونق تہوار پہلی بار دیکھا ہے مگر وادی بریر کا راستہ نہایت حراب ہے اگر اس وادی تک جانے والا سڑک پحتہ ک یا جائے تو یہ سیاحوں کی تعداد میں مزید اضافے کا باعث بنے گا۔ اس رنگارنگ تقریب میں کثیر تعداد میں ملکی اور غیر ملکی سیاحوں نے شرکت کرے اس سے محظوظ ہوئے۔









سرگودھا میں تیز رفتار بس اور وین میں تصادم کے نتیجے میں 5 طالبات سمیت 7 افراد جان بحق ہوئے

سرگودھا میں تیز رفتار بس اور وین میں تصادم کے نتیجے میں 5 طالبات سمیت 7 افراد جان بحق ہوئے



سرگودھا (ویب ڈیسک) تیز رفتار بس اور وین میں تصادم، 5 طالبات سمیت 7 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔ صوبہ پنجاب کے شہر سرگودھا میں تیز رفتار بس اور کالج وین میں تصادم ہوا ہے جس کے نتیجےمیں 5 طالبات، استانی اور ڈرائیور سمیت 7 افراد جاں بحق جبکہ 4 زخمی ہوگئے ہیں۔  حادثہ سرگودھا کی تحصیل بھلوال میں  اس وقت پیش آیا جب وین طالبات کو لے کر کالج جارہی تھی کہ سالم انٹر چینج کے قریب سامنے سے آنے والی بس نے وین کو کچل دی۔  خوفناک حادثے میں وین میں کالج جانے والی 5 طالبات، ایک استانی اور ڈرائیور موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔ 
جاں بحق ہونے والوں میں وین ڈرائیور ذوالفقار، استانی انعم زہرہ، طالبات ایمان سعید ،عروبہ ریاض، فاطمہ شجاع، امنہ ملک اور زینب شامل ہیں۔ تصادم کے فوری بعد مشتعل افراد نے بس کو آگ لگا دی، تاہم اس دوران بس ڈرائیور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ پولیس کے مطابق حادثہ تیز رفتاری کے باعث پیش آیا جبکہ عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ حادثہ اس قدر شدید تھا کہ متعدد طالبات کو وین کاٹ کر نکالنا پڑا۔



15 اکتوبر، 2018

اشو فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام سیمنیار کا انعقاد، چترال میں قدرتی آفات کے نقصانات کو کم سے کم کرنے غور خوض کیا گیا

عوام پر زور دیا گیا کہ وہ ایسے طریقے اپنائے کہ ان حادثات کے دوران نقصان کا شرح کم سے کم ہو۔



چترال(گل حماد فاروقی) ہم قدرتی آفات کو نہیں روک سکتے مگر ان کی نقصانات کو بہتر حکمت عملی کے ذریعے کم سے کم کرسکتے ہیں ان حیالات کا اظہار ماہرین نے قدرتی آفات کے نقصانات کو کم کرنے کا عالمی دن منانے کے موقع پر کی۔ اس سلسلے میں ہاشو فاؤنڈیشن نے اپنے مین آفس بلچ میں ایک سیمنار کا اہتمام کیا اس موقع پر منیجر اے کے آر ایس پی سجاد احمد مہمان حصوصی تھے جبکہ رحمت غفور بیگ چئیرمین سٹیزن کمیونٹی نیٹ ورک نے صدارت کی۔ 

سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے ماہرین نے کہا کہ دنیا بھر میں تیرہ اکتوبر کو Disater Reduction کے عالمی دن کے طو ر پر مناتے ہیں۔ اس دن کا آغاز اقوامی متحدہ نے 1998 میں کیا تھا کیونکہ ہر سال دنیا کے محتلف ممالک میں قدرتی آفات آتے ہیں جس میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں اور اربوں روپے کا مالی نقصان بھی ہوتا ہے اس دن منانے کا بنیادی مقصد عوام میں آگاہی اور شعور پیدا کرنا ہے کہ وہ ایسے طریقے اپنائے کہ کسی بھی قدرتی آفت کی صورت میں مالی او ر جانی نقصان کا شرح کم سے کم ہو۔ 

منیجر خالد خان نے اپنے ادارے کے اعراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہاشو فاوئنڈیشن 24 دیہات میں کمیونٹی بیسڈ ڈیزاسٹر ریسک منیجمنٹ پر کام کرتا ہے جس میں نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو تربیت دینا ہے کہ وہ قدرتی آفت کے صورت میں اپنا، اپنے اہل و عیال اور اپنے علاقے میں دوسرے لوگوں کی جانیں اور مال کیسے بچائے۔ 

پروفیسر اجمل سعید جو ماحولیاتی سائنس پڑھاتا ہے نے کہا کہ ہمیں اپنے بچوں کو شروع ہی سے سلیبس میں ماحولیات پر مضامین شامل کرنا چاہئے او ر ان کو اس سلسلے میں ابتداء ہی سے پڑھانا چاہئے کہ ماحولیات کیا ہے اور قدرتی آفات میں حطرات سے کیسے نمٹا جاسکتا ہے۔ ظفر احمد نے ریسکیو 1122 کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ادارہ ہر قسم کی ہنگامی صورت حال میں پیش پیس ہے اور ان کو موبائل یا ٹیلیفون سے ایک کال کرے تو ان کا عملہ حاظر ہوگا مگر بغیر ضرورت کے ان کے تنگ کیا جائے اور ادارے کے اراکین کا قیمتی وقت ضائع نہ کی جائے۔ 

رحمت غفور بیگ نے اسلامی نقطہ نظر سے قدرتی آفات پر روشنی ڈالی کہ جتنے بھی نقصانات ہوتے ہیں وہ انسان کے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے ہوتی ہے اور ہمیں چاہئے کہ اپنے پالیسی ایسے بنائے تاکہ اس میں ہم ماحول کو نقصان سے بچائے۔ سجاد احمد نے کہا کہ ہمارے پاس جو بھی علم ہے اور ہم دوسرو ں کو بچانے کے جتنے بھی مہارت جانتے ہیں ان کو دوسروں کو منتقل کرنا چاہئے۔ 

سیمنار کے دوران عام بحث او ر سوال وجواب کا بھی نشست ہوا۔ ایک مقامی صحافی گل حماد فاروقی نے نقطہ اٹھایا کہ چترال میں لو گ کھانا پکانے اور خود کو گرم رکھنے کیلئے لکڑیاں جلاتے ہیں جس سے جنگلات حتم ہوتے ہیں جو سیلابوں کا باعث بنتا ہے اگر حکومت چترال کے لوگوں کو درگئی، ملاکنڈ اور ہنزہ کے طرز پر مفت یا سستی بجلی دے تو لوگ بجلی کے ہیٹر کو استعمال کریں گے اور جنگلات پر بوجھ کم ہوگا۔ 

سجاد احمد او ر نظام علی نے کہا کہ آگاہی سے ایک قدم آگے بڑھنا ہوگا بلکہ ہمیں Sensitization پر زور دینا ہوگا اگر ہمیں کسی چیز کے نقصان یا حطرے کا ادراک ہوگا تو ہم اس سے خود کو بچانے کی تدابیر احتیار کریں گے۔ 

نگاہ حسین ڈپٹی ایریا کوآرڈینیٹر ACTED نے کہا کہ ہم سب نے مل کر قدرتی آفات سے بچنے اور اس کے نقصانات کو کم سے کم کرنے کیلئے کام کرنا ہوگا۔ چترال ایک ریڈ زون ہے یہاں کسی بھی وقت زلزلہ آسکتا ہے تو ہم اپنے عمارات ایسے طرز پر بنائے جس میں زلزلہ کی صورت میں نقصان کا شرح کم سے کم ہو۔ 

سیمنار میں کثیر تعداد میں ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔


13 اکتوبر، 2018

چترال کے DHO کے تبادلے کے بعد ابھی تک نہ نئے ڈی ایچ او کو چارج دیا اور نہ دروش ہسپتال کا چارج سنبھالا۔ عوامی حلقوں کا وزیر اعلےٰ سے کاروائی کا مطالبہ

چترال کے DHO کے تبادلے کے بعد ابھی تک نہ نئے ڈی ایچ او کو چارج دیا اور نہ دروش ہسپتال کا چارج سنبھالا۔ عوامی حلقوں کا وزیر اعلےٰ سے کاروائی کا مطالبہ



چترال (گل حماد فاروقی) ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر اسراراللہ کے پانچویں
بار تبادلے کے حکم کا انہوں نے دھجیاں اڑادی۔ دروش کے سماجی کارکنوں نے
سماجی رابطوں کے ویب سائٹ فیس بک پر ایک پوسٹ لگایا ہے جس میں موقف
احتیار کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر اسرا راللہ کو پاکستان تحریک انصاف کے چند
مفاد پرست عناصر کی آشیر باد حاصل تھی جس کی وجہ سے چار مرتبہ اس کے
تبادلے کا حکم منسوح ہوا۔ انہوں نے وضاحت کی ہے کہ ڈاکٹر اسرار اللہ کی
وجہ سے چترال کے ہسپتالوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے کیونکہ ڈاکٹر
موصوف زیادہ تر اپنے ٹی اے ڈی اے لینے کیلئے ہر ماہ پندہ سے بیس مرتبہ
پشاور کا چکر لگاتا رہا جب کہ اس کی غیر موجودگی میں بروغل اور بالائی
چترال سے آنے والے درخواست گزاروں اور عوام کو نہایت مشکلات کا سامنا
پڑتا تھا۔

سماجی کارکنوں نے مزید لکھا ہے کہ ڈاکٹر اسر ار اللہ کا 4 اکتوبر کو
تبادلہ ہوا ہے مگر وہ اسی دن سے سرکاری گاڑی اور سرکاری ڈرائیور لیکر
پشاور میں ڈھیرے ڈالے ہوئے ہیں اور اس کوشش میں لگا ہے کہ پاکستان تحریک
انصاف کی کسی ایم پی اے یا وزیر کی سفارش پر وہ دوبارہ DHO کے پوسٹ پر
آئے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ اس نے نہ نئے ڈی ایچ او ڈاکٹر افتحار الدین کو
چارج دیا ہے اور نہ اس نے خود دروش ہسپتال کے بطور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ
(میڈیکل آفیسر انچارج) کا چارج لیا ہوا ہے اور دروش ہسپتال میں آنے والے
ہزاروں مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ہمارے نمائندے نے ڈی ایچ او دفتر جاکر نئے ڈی ایچ او ڈاکٹر افتحار سے
دریافت کیا جنہوں نے تصدیق کرلی کہ وہ ابھی تک بغیر چارج لئے ہوئے کام
کرر ہا ہے کیونکہ اگر وہ ایسا نہ کرتا تو ان کے دفتر کے تمام عملہ کو اس
ماہ تنخواہ بھی نہیں ملتا نیز انہوں نے انکشاف کیا کہ ڈاکٹر اسرا ر اللہ
نے دفتر کا سرکاری گاڑی بھی لے گیا ہے اور ایک ڈرائیور بھی جس کی وجہ سے
نئے ڈی ایچ او کو اپنے فرض منصبی نبھانے میں نہایت مشکلات کا سامنا کرنا
پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تبادلے کے حکم کی پیروی کرتے ہوئے انہوں نے 5
اکتوبر کو کام شروع کیا ہے مگر اسے ابھی تک باقاعدہ طور پر چارج نہیں دیا
گیا ہے

ان سے جب یہ پوچھا گیا کہ سابق ڈاکٹر اسر ار اللہ کے دور میں کئی ڈاکٹر،
پیرا میڈیکل سٹاف اور درجہ چہارم سٹاف گھر بیٹھے تنخواہ لے رہے تھے تو
انہوں نے جواب دیا کہ ڈاکٹر اسماعیل جو ڈی ایچ او دفتر میں تعینات تھے
اور پچھلے ڈیڑھ سال سے پشاور میں تھے وہ اب ڈاکٹر اسرار کے جانے کے بعد
چترال پہنچ گیا اور اسے چترال کے کسی ہسپتال میں تعینات کیا جائے گا
آزاد ذرائع نے بتایا کہ ڈاکٹر اسماعیل کا تعلق عشریت سے ہے جو چلڈرن
اسپیشلسٹ بھی ہے اور وہ پچھلے ڈیڑھ سال سے پشاور میں بیٹھ کر بغیر کسی
ڈیوٹی کے تنخواہ لے رہے تھے اور مزے کی بات یہ کہ وہ ڈی ایچ او آفس کے
عدالتی کیسوں کی پیروی کرنے کیلئے پشاور جانے کا باقاعد ہ ٹی اے ڈی اے
بھی لیتا رہا مگر اس نے ایک دن بھی ڈیوٹی نہیں کی ہے۔ اس کے علاوہ ا س
بات کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ کئی دیگر عملہ ڈاکٹر اسرار کے دور میں گھر
بیٹھ کر تنخواہ لیتے رہے اور عوام یہ شک کرتے ہیں کہ شائد ان عملہ سے
ڈاکٹر موصوف کو ماہوا ر کچھ ملتا رہا۔

نئے ڈی ایچ او نے بتایا کہ اس کے علاوہ ڈاکٹر یحیٰ خان، ڈاکٹر شجاع او ر
ڈاکٹر شہلا بھی DHO آفس کے Strenght میں ہیں مگر وہ ڈی ایچ کیو ہسپتال
میں ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں تاہم ڈاکٹر اسماعیل اور دیگر عملے کے بارے
میں کچھ معلوم نہیں کہ وہ دو سالوں سے کہاں ڈیوٹی کرتے رہے ۔ اس سلسلے
میں جب سابق ڈی ایچ او ڈاکٹر اسرا ر سے پوچھا گیا تھا تو ان کا جواب تھا
کہ ڈاکٹر اسماعیل ان کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ میں عدالتی کیس نمٹا رہے
ہیں۔
اس سلسلے میں کچھ عرصہ پہلے چترال کے ضلعی اسمبلی(ضلعی کونسل) میں ایک
معزز رکن نے یہا ں تک کہاتھا کہ پرویز خٹک کا بطور وزیر اعلےٰ چترال پر
ایک عذاب یہ تھا کہ انہوں نے ڈاکٹر اسرار کو چار مرتبہ تبادلے کے باوجود
DHO لگایا جس کی وجہ سے محکمہ صحت کا نظام درہم برہم ہوا۔
اس کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف کے چند محلص اراکین نے گزشتہ روز چترال پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی کے چند
مفاد پرست ٹولہ صرف اپنے ذاتی مقاصد اور کام نکلوانے کیلئے ڈاکٹر اسرار
اللہ کو پانچویں مرتبہ DHO کے طور پر لارہے ہیں جس سے چترال کو ناقابل
تلافی نقصان پہنچے گا انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر ڈاکٹر اسر ار کو
پھر ڈی ایچ او لایا گیا تووہ اس کے حلاف راست قدم اٹھانے پر مجبور ہوں
گے۔
ایک کارکن نے نام نہ بتانے کی شرط پر ہمارے نمائندے کو بتایا کہ سابق DHO
ڈاکٹر اسرار اللہ اپنی ملازمت بچانے کیلئے پی ٹی آئی کے چند رہنماؤں کو
اپنا سرکاری گاڑی دیا کرتا تھا جس میں اکثر وہ رمبور ، کیلاش وادی سے
عمارتی لکڑی بھی لایا کرتے تھے اور اس کے بدلے وہ ا س کے تبادلے کو بار
بار منسوح کرتے تھے۔
چترال کے سیاسی اور سماجی طبقہ فکر نے وزیر اعلےٰ خیبر پحتون خواہ اور
سیکرٹری ہیلتھ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں تحقیقات کرے کہ ڈاکٹر
اسرار کے دور میں ڈاکٹرز اور دیگر عملہ کیوں گھر بیٹھے تنخواہیں لیتے رہے
اور ان کو کس کے حکم پر گھر بیٹھنے کی اجازت دی تھی نیز مالی اخراجات اور
ٹی اے ڈی اے کا بھی تحقیقات ہونا چاہئے۔


پی ٹی اے کا نیا قانون آگیا، آپ کا موبائل فون کسی کام کا نہیں رہے گا اگر آپ نے 20 اکتوبر 2018 سے پہلے یہ کام نہیں کیا

پی ٹی اے کا نیا قانون آگیا، آپ کا موبائل فون کسی کام کا نہیں رہے گا اگر آپ نے 20 اکتوبر 2018 سے پہلے یہ کام نہیں کیا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے غیررجسٹرڈ موبائل  اور جی ایس ایم ڈیوائسز کے حوالے سے نئی پالیسی کا اعلان کردیا، صارفین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 20 اکتوبر 2018 سے قبل اپنے موبائلز و دیگر مواصلاتی ڈیوائسز کی تصدیق کرلیں۔

آپ کا موبائل بند ہونے والا ہے؟

اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی (PTA) نے غیررجسٹرڈ موبائل  اور جی ایس ایم ڈیوائسز کے حوالے سے نئی پالیسی کا اعلان کردیا، صارفین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 20 اکتوبر 2018 سے قبل اپنے موبائلز و دیگر مواصلاتی ڈیوائسز کی تصدیق کرلیں۔ بصورت دیگر 20 اکتوبر کے بعد وہ بند کردی جائیں گی

پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی سے تصدیق کرانے کا طریقہ

اپنے موبائل کا IMEI نمبر چیک کرنے کے لیے *#06# ڈائل کریں اور اسکرین پر لکھے نمبر کو میسج میں لکھ کر 8484 پر بھیجیں۔

اگر آپ کا موبائل رجسٹرڈ ہے تو تصدیقی پیٖغام آئے اگر نہیں ہے اور موبائل کا IMEI  نمبر درست ہے یعنی جعلی نہیں ہے تو رجسٹرڈ کروانے کی درخواست موصول ہوگی، تو آپ اپنا موبائل فوری طور پر رجسٹرڈ کروائیں ورنہ 20 اکتوبر کے بعد یہ کال کرنے کے قابل نہیں ہوگا۔


پاکستان ٹیلی مواصلات اتھارٹی (پی ٹی اے) نے صارفین کو متنبہ بذریعہ ایس ایم ایس کرنا شروع کردیا ہے کہ وہ 20 اکتوبر سے پہلے اپنے فون کی تصدیق کرلیں بصورت دیگر یہ مواصلاتی کام کے استعمال کے قابل نہیں رہے گا۔

پی ٹی اے کے مطابق صرف تصدیق شدہ موبائل فون اور GSM ڈیوائسز  ہی 20 اکتوبر کے بعد قابل استعمال ہوں گے جبکہ غیر رجسٹرڈ فونز پر کالز موصول نہیں ہو گی البتہ اس پر بذریعہ وائی فائی نیٹ استعمال کیا جاسکے گا۔

پی ٹی اے نے صارفین کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ 20 اکتوبر کے بعد رجسٹرڈ موبائل خرید کر استعمال کریں، مذکورہ تاریخ سے قبل اگر کسی صارف کو میسج نہ بھی ملے تو وہ بذریعہ ویب سائٹ، ایس ایم ایس یا موبائل ایپ سے اپنے فون کا اسٹیٹس چیک کرسکتا ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی نے تصدیق کے تین طریقے رکھے۔

پہلا ایس ایم ایس کے ذریعے
دوسرا موبائل (اینڈائیڈ) ایپلیکیشن کے ذریعے
تیسرا ویب سائٹ کے ذریعے
طریقہ کار

اپنے موبائل کا IMEI نمبر چیک کرنے کے لیے *#06#ڈائل کریں اور اسکرین پر لکھے نمبر کو میسج میں لکھ کر 8484 پر بھیجیں، اسی طرح ان نمبرز کو ویب سائٹ اور اینڈرائیڈ ایپلیکشن پر بھی چیک کیا جاسکتا ہے۔

تینوں طریقوں سے رجسٹریشن چیک کرنے پر پی ٹی اے کی جانب سے صارف کو جواب میں درج ذیل میں سے کوئی ایک پیغام موصول ہوگا۔

پہلا: آئی ایم ای آئی کمپیلینٹ (IMEI Compliant) یعنی صارف کا موبائل نیٹ ورک سے رجسٹرڈ اور تصدیق شدہ ہے، یہ موبائل بلاک نہیں ہوگا۔

دوسرا: ویلڈ آئی ایم ای آئی (Valid IMEI) یعنی صارف کے موبائل کا IMEI کوڈ GSMA سے تصدیق شدہ ہے مگر PTA میں اس کا کوئی ریکارڈ نہیں لہذا اسے رجسٹرڈ کروائیں وگرنہ یہ 20 اکتوبر کے بعد قابل استعمال نہیں ہوگا۔

تیسرا: ان ویلڈ آئی ایم ای آئی (Invalid IMEI) یعنی صارف کا موبائل GSMAاور  PTA دونوں سے رجسٹرڈ اور منظور شدہ نہیں ہے کیونکہ آپ جعلی IMEI والا موبائل استعمال کررہے ہیں جو 20 کے بعد کالنگ کے لیے استعمال نہیں ہوگا۔

گوگل پلے اسٹور ایپلیکشن لنک: https://play.google.com/store/apps/details?id=pk.gov.dirbs.dvspublic …

ویب سائٹ لنک: https://dirbs.pta.gov.pk/

موبائل ایپلیکیشن یا ویب سائٹ کے ذریعے تصدیق کرنے والے صارفین اپنا IMEI نمبر ایپلیکیشن کے سرچ باکس میں لکھ کر submit کا بٹن دبائیں۔




12 اکتوبر، 2018

ایل جی الیکٹرانکس نے 5 کیمروں والا اسمارٹ فون اور پہلی ہائبرڈ اسمارٹ واچ متعارف کرادی

ایل جی الیکٹرانکس نے 5 کیمروں والا اسمارٹ فون اور پہلی ہائبرڈ اسمارٹ واچ متعارف کرادی

کراچی:- ایل جی الیکٹرانکس (ایل جی) نے ڈبلیو 7 (W7) کے نام سے پہلی ہائبرڈ اسمارٹ واچ اور اپنا نیا پانچ کیمروں والا اسمارٹ فون متعارف کرادیا ہے۔ ایل جی کی جانب سے اسکی وی سیریز کے جدید ترین ایڈیشن وی 40 تھنک (V40 ThinQ) ایک طاقتور ملٹی میڈیا پاور ہاو ¿س ڈیوائس ہے جسے آج کی نسل کے لئے تیار کیا گیا ہے جو وژیولز اور ویڈیوز کے ذریعے رابطوں بالخصوص سوشل میڈیا کو ترجیح دیتی ہے ۔ 



ایل جی کے V40تھنک میں اسکی Vسیریز کے تصور کو برقرار رکھا گیا ہے جس کے ساتھ 6.4 انچ کا فل ویژن اولیڈ ڈسپلے اور پہلے کے مقابلے میں زیادہ پتلا ہے۔ یہ کوالکم اسنیپ ڈریگن 845 موبائل پلیٹ فارم سے چلتا ہے جس کے ساتھ 6GBریم اور 64GBیا 128 GB انٹرنل اسٹوریج شامل ہوگی۔ ایل جی کا V40تھنک ایک بار پھر ایسی نئی جدت فراہم کرتا ہے جس کی وجہ سے ایل جی کی وی سیریز صارفین میں انتہائی مقبول ہے۔ 

ایل جی وی 40 کی اہم خصوصیات: کول کوم سنپ ڈرگن 845 موبائل پلیٹ فارم، 6.4 کیو ایچ ڈی + اولیڈ فل ویڑن ڈسپلے، 64 جی بی۔ ایل پی ڈی ڈی آر4 ایکس ریم، 64 جی بی اور 128 جی بی یو ایس ایف 2.1 روم، مائکرو ایس ڈی 2 ٹیرا بائیٹ تک سپورٹڈ، 16 میگا پکسل سپر وائیڈ، 12 میگا پکسل سٹینڈرڈ، 12 میگا پکسل ٹیلی فوٹو ریئر کیمرے، اور 8 میگا پکسل سٹینڈرڈ اور 5 میگا پکسل وائیڈ فرنٹ کیمرے، 3300 ایم اے ایچ بیٹری، انڈرائیڈ 8.1 اوریو ا?پریٹنگ سسٹم سمیت بے شمار خصوصیات کا حامل ہے۔

آج کے دور میں مواد تخلیق کرنے والی نسل کے لئے الگ سے نظر آنے والے اسمارٹ فون کی فراہمی کے لئے ایل جی نے V40تھنک ڈیوائس تیار کی ہے جس کا کیمرا حقیقی طور پر تمام چیزوں کا احاطہ کرتا ہے۔ ایل جی کے V40تھنک میں بیک کیمرا ماڈیول تین مختلف لینسز 16 میگا پکسل سوپر وائیڈ اینگل، 12 میگا پکسل اسٹینڈرڈ اینگل اور 12 میگا پکسل ٹیلی فوٹو شامل ہیں۔ یہ تین لینسز تصویر کی پوزیشن تبدیل کئے بغیر شٹر بگز سے مختلف فریم شاٹس لئے جاسکتے ہیں۔ اس میں 107 ڈگری کا سپر وائیڈ اینگل لینس تصویر کے پس منظر کی بہت آسانی سے شاٹ لیتا ہے جبکہ ٹیلی فوٹو کے ساتھ 2 ایکس آپٹیکل زوم کے ذریعے تصویر کے معیار پر کسی سمجھوتہ کے بغیر دور سے بھی انتہائی واضح تصویر لی جاسکتی ہے۔ اس میں ٹرپل شاٹ فیچر تینوں لینسز سے کھینچی گئی تصاویر کو اکھٹی ایک مختصر ویڈیو فائل بنادیتا ہے تاکہ اسکی آسانی سے شیئرنگ ہوسکے۔ 

اس میں فرنٹ کیمرا ماڈیول پانچ میگا پکسل کے چوڑے زاویئے کے لینس اور 8 میگا پکسل کے اسٹینڈرڈ زاویئے کے ساتھ کام کرتا ہے تاکہ بہترین انداز سے اسکرین سلائیڈ پر پس منظر کو دھندلا کرکے بوکے ایفکٹ لایا جاسکے۔ دیگر فیچرز کے ذریعے سیلفی کے شوقین اپنی تصویروں میں منفرد لائٹنگ اور اسپیشل ایفکٹس کے ساتھ خصوصی طور پر تبدیلی لاسکتے ہیں۔ 

اس کے بیک کیمرے کے سینسر میں پکسل سائز V30اسمارٹ فون کے مقابلے میں 40 فیصد تک بہتر ہوچکا ہے۔ اس میں V30اسمارٹ فون کے مقابلے میں امیج سینسر 18 فیصد زیادہ بہتر ہے۔ ایل جی کے کسی بھی اسمارٹ فون کے مقابلے میں یہ سب سے روشن اور سب سے اچھی تصاویر لینے کے ساتھ اس کا F1.5 اپرچر منظر کی گہرائی سے تصویر لیتا ہے۔ 

V40اسمارٹ فون میں ڈوئل پی ڈی اے ایف (فیز ڈیٹکشن آٹو فوکس) خودکار فوکسنگ میں 50 فیصد زیادہ تیز ہے اور انڈسٹری کی اوسط سطح کے مقابلے دو گنا تیز ہے۔ اس میں جدید ایچ ڈی آر فیچر بہترین انداز سے روشن مناظر تخلیق کرنے کے لئے بالکل درست ایکسپوژر کا تعین کرتا ہے اور ضرورت سے زائد نمایاں پس منظر اور چیزوں کو پس پشت ڈالتا ہے۔ اس میں منظر کا ہمیشہ بہترین فوکس آتا ہے کیونکہ کیمرا مستقل طور پر منظر میں اس وقت تک رنگوں کا جائزہ لیتا رہتا ہے جب شٹر بٹن نہیں دب جاتا۔ 

ایل جی نے V40تھنک اسمارٹ فون میں کیمرے کو اپ گریڈ کرکے اسے پہلے کے مقابلے میں بہترین رنگوں، کمپوزیشن، وائٹ بیلنس اور شٹر اسپیڈ کے اعتبار سے مزید طاقتور اور باسہولت بنادیا ہے۔ آرٹیفشل انٹیلی جنس CAMکی نئی آرٹیفیشل انٹیلی جنس کمپوزیشن فیچر میں فون کی انٹیلی جنس سے فریم، کیپچر اور متبادل شاٹ تجویز کرتا ہے۔ اس میں آرٹیفیشل آٹو وائٹ بیلنس (اے آئی اے ڈبلیو بی) خودکار طور پر رنگوں کے مختلف حالات میں درجہ حرارت کو کنٹرول کرلیتا ہے۔ اس کے ساتھ آرٹیفیشل انٹیلی جنس شٹر کے ذریعے تیزی سے حرکت کرنے والی مناظر کی شٹر اسپیڈ بالکل درست رہتی ہے۔ 

دیگر نئے فیچرز میں سائن شاٹ،3Dلائٹ ایفکٹ، میک اپ پرو، کسٹم بیک ڈراپ، مائی ایواٹار اور اے آر ایموجی کے ذریعے V40اسمارٹ فون میں فوٹوگرافی بالکل نئی سطح پر پہنچ جائے گی۔ سائن شاٹ سے سنیما گرافکس، تصاویر کے ساتھ اینی میشن انتہائی آسان اور دلچسپی کا باعث ہے۔ فون کے تین بیک کیمروں سے مختصر ویڈیو شوٹ کرکے اس میں فیچرز کے استعمال کے بعد اسکے نتائج پر آپ حیران رہ جائیں گے۔ اس میں3Dلائٹ ایفکٹ تصویر کو پیشہ ورانہ انداز سے نظر آنے والی لائٹنگ کی بدولت میک اپ پرو یا پس منظر تبدیل کرکے کسٹم بیک ڈراپ کے ساتھ مختلف سیلفی تصاویر لی جاسکتی ہیں۔ وہ لوگ جو آگمنٹڈ ریالٹی کے شوقین ہیں وہ مائی ایواٹار اور اے آر ایموجی کے ساتھ اپنی تصویر یا کسی بھی تصویر پر فراہم شدہ کرداروں کے ذریعے اپنی خصوصی ایموجیز تیار کرکے شیئر کرسکتے ہیں۔ 

V40تھنک میں نیا اور پہلے سے بہتر 6.4 انچ کا کیو ایچ ڈی پلس (QHD+) اولیڈ فل ویژن ڈسپلے اور باٹم بیزل ہے جو گزشتہ ڈیوائس کے مقابلے میں زیادہ پتلا ہے۔ اس میں نیا پلاسٹک اولیڈ ڈسپلے کو اس طرح سے ڈیزائن کیا گیا ہے جو رنگ کو زیادہ درستی اور بہتر روشنی کو برقرار رکھتا ہے۔ اولیڈ ڈسپلے میں 4.5 ملین پکسلز آج کے کسی بھی کیو ایچ ڈی پلس اسمارٹ فون کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہیں جن کی بدولت اسکرین اور اسکا سسٹم روانی اور فعال انداز سے ایسے بہترین نتائج فراہم کرتا جس طرح ایل جی کا اولیڈ ڈسپلے ہوتا ہے۔ 

ایل جی نے ہمیشہ اپنے اسمارٹ فونز میں واضح آڈیو کو انتہائی زیادہ ترجیح دی ہے اور اس میں ایل جی کے V40کو کوئی استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔ یہ ایل جی کا پہلا فون ہے جو میری ڈیان لیبل کی جانب سے آڈیو ٹیون سرانجام دیتا ہوں۔ اس میں 32 بٹ ہائی فائی کواڈ ڈی اے سی متوازن ساو ¿نڈ سگنیچر پیدا کرتا ہے جو اصلی ریکارڈنگ کے معیار سے انتہائی زیادہ قریب ہوتا ہے۔ اس میں بوم بکس اسپیکر اصل میں ایل جی کے G7تھنک اسمارٹ فون میں متعارف ہوا جس میں روایتی اسمارٹ فونز کے اسپیکر کے مقابلے میں بیس دو گنا ہے، جب اسے ایل جی V40تھنک ووفر کے طور پر کام کرتا ہے۔ 

ایل جی کا V40تھنک کا سائز پتلا رکھا گیا ہے اور وی سیریز کے ہلکا ڈیزائن کو برقرار رکھا گیا۔ اس کا وزن 169 گرام اور چوڑائی 7.7 ملی میٹر ہے۔ V40تھنک اسمارٹ فون امریکی محکمہ دفاع کی پائیداری کے 14 ٹیسٹوں میں سرخرو ہوا ہے۔ 

ایل جی الیکٹرانکس موبائل کمیونکیشنز کمپنی کے صدر ہوانگ جیونگ ہوان نے کہا، ©"ایل جی V40تھنک کی تیاری کا مرکزی مقصد یہ ہے کہ وہ صارفین کو بہترین استعمال کی سہولت فراہم کرے۔ اس میں کیمرے کی اہم خصوصیات کے ساتھ صارفین کے لئے Vسیریز کا پریمیئم اسمارٹ فون V40ایک سنجیدہ انتخاب ہوگا۔ ©"

V40تھنک کے ساتھ ایل جی نے اپنی پہلی ہائبرڈ اسمارٹ واچ متعارف کرانے کا بھی اعلان کیا ہے۔ W7کے نام سے ایل جی واچ ایک پہنے جانے والی ڈیوائس ہے جو ڈیجیٹل آپشنز کے ساتھ میکانکی حرکت کے امتزاج سے کام کرتی ہے۔ یہ ایل کی پہلی پہنی جانے والی ڈیوائس ہے جس میں گوگل پلیٹ فارم نیا ویئر او ایس ایسے صارفین کے لئے تیار کیا گیا ہے جو نہ صرف روایتی ٹائم پیس کو اہمیت دیتے ہیں بلکہ وہ باسہولت کنیکٹڈ اسمارٹ واچ کے افعال بھی سرانجام دیتی ہے۔ 





11 اکتوبر، 2018

چترال میں واٹر اینڈ سینیٹیشن یونٹ کی اقربا ء پروری اور غفلت کی وجہ سے سینگو ر کا شاہ میراندہ کے رہایشی دو سالوں سے پانی سے محروم مگر پڑوسی گاؤں کو دن رات پانی مہیا کی جاتی ہے

چترال میں واٹر اینڈ سینیٹیشن یونٹ کی اقربا ء پروری اور غفلت کی وجہ سے سینگو ر کا شاہ میراندہ کے رہایشی دو سالوں سے پانی سے محروم مگر پڑوسی گاؤں کو دن رات پانی مہیا کی جاتی ہے۔




چترال(گل حماد فاروقی) چترا ل کا مضافاتی علاقہ شاہ میران دیہہ کے رہایشی پچھلے دو سالوں سے پینے کی صاف پانی سے محروم ہیں۔ اس گاؤں کو پہلے واٹر اینڈ سینٹیشن یونٹ WSU والے انگار غون (شاہ شاہ) کے واٹر سپلائی سکیم سے دن میں دو مرتبہ دو گھنٹوں کیلئے پانی فراہم کرتے تھے جس سے یہاں کے لوگ اپنا بالٹی اور برتن بھرکر اسے کھانا پکانے اور پینے کیلئے استعمال کرتے تھے ۔ عوامی نیشنل پارٹی کے حکومت میں بتیس کروڑ روپے کی لاگت سے گولین گول واٹر سپلائی سکیم پر کام کا آغاز ہوا اس وقت مقامی لوگوں کو یقین دہانی کرائی گئی کہ جب گولین کا منصوبہ مکمل ہوجائے تو چِیو پُل کے اوپر سے پانی کا پائپ جو دریا کے اس پار علاقوں کو پانی فراہم کرتا ہے اسے بند کیا جائے گا دنین وغیرہ کے علاقوں کو گولین کا پانی فراہم کی جائے گی اور انگار غون کا پانی دریا سے اِ س پا ر یعنی سینگور، بلچ، شاہ میران دہ وغیرہ کو فراہم کی جائے گی مگر جب یہ منصوبہ مکمل ہواتو شا ہ میران دہ کو دن میں صر ف دو گھنٹوں کیلئے دینے والا پانی بھی بند ہوا۔ مقامی لوگ شک کرتے ہیں کہ شاید WSU نے ان کو سبز باغ دکھایا اور اب بھی یہ پانی دنین کے علاقے میں فراہم کی جاتی ہے۔

اس سلسلے میں جب WSU کے منیجر منیر احمد سے پوچھا گیا کہ شاہ میران دہ میں دو سالوں سے پانی نہیں آتا تو ان کا کہنا تھا کہ چونکہ پانی کی شدید قلعت ہے اسلئے ٹینکی میں پانی پورا نہیں ہوتا مگر اس کے جھوٹ کا بھرم اس وقت کھلا کہ جب شاہ میران دہ کے اوپر سے دو انچ کا پائپ پڑوسی گاؤں سینجال کو دیا گیا ہے جس میں انگار غون ہی کا پانی ساری رات فراہم کی جاتی ہے اور یہ پانی اتنی دباؤ سے آتی ہے کہ اس سے پائپ پھٹ گیا اور اگلے روز یہ پائپ راستے میں پڑا تھا جس سے دریا کی طرح پانی تیزی سے نکل رہا تھا۔ 

شاہ میراندہ کے ایک معمر شحص حاجی سعید اللہ نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ ہمیں اس بات پر کوئی اعتراض نہیں ہے کہ سینجال گاؤں کو ساری رات دن دو انچ کے پائپ میں پانی دی جارہی ہے مگر میرا سوال یہ ہے کہ شاہ میران دہ کو کیوں پانی سے محروم کیا گیا ہے جبکہ WSU والے جھوٹ بول رہے ہیں کہ ان کے پاس پانی کا کمی ہے حالانکہ اس سے پہلے اسی منصوبے سے دریا کے اُس پا ر کے علاقوں کو بھی پانی فراہم کی جاتی تھی مگر جب سے گولین گول پانی کا منصوبہ مکمل ہوا تو یہ پانی زیادہ اور فالتو ہونے کی بجائے کم کیسے پڑا؟؟

اس سلسلے میں ہمارے نمائندے نے WSU اور تحصیل میونسپل انتظامیہ کے دفتر کا بھی چکر لگایا تاکہ ان کا موقف لیا جائے مگر WSU کا منیجر بھی موجود نہیں تھا اور تحصیل میونسپل آفیسر بھی کسی کام سے باہر گئے تھے۔ جبکہ تحصیل ناظم مولانا محمد الیاس کے نوٹس میں یہ بات لائی گئی کہ سین جال گاؤں کو پورا دن رات 2 انچ کے پائپ میں انگار غون سے پینے کا پانی فراہم کی جاتی ہے مگر شاہ میران دہ کے ایک ہزار کے آبادی کو مکمل طور پر د و سالوں سے محروم کیا گیا ہے اور ان سے پانی کی مد میں ماہوار ڈیڑ ھ سو روپے بل بھی وصول کی جاتی ہے 

شاہ میران دہ کیلئے محکمہ پبلک ہیلتھ انجنیرنگ کی جانب سے شمسی توانائی سے چلنے والے موٹر ک ذریعے پانی فراہم کرنے کے منصوبے پر پچھلے دو سالوں سے کام جاری ہے ایک مقامی سماجی کارکن سجاد احمد نے کہا کہ ہمارے علاقے میں انگار غون کا صاف پانی نہیں آرہا ہے اسلئے ہم لوگ کوٹی گول کے گندا پانی پینے پر مجبور ہیں جسے جانور بھی پیتے ہیں اور ہم بھی پیتے ہیں اور اس پانی میں بہت گند آتا ہے جس سے علاقے کے لوگ متعدد بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں انہوں نے کہا کہ محکمہ پبلک ہیلتھ کے زیر نگرانی شمسی توانائی سے چلنے والے ایک واٹر سپلائی سکیم پر کام جاری تھا اس کے بارے میں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ یہ منصوبہ چھ ماہ میں مکمل ہوگا اب ڈیڑھ سال ہوگیا مگر ابھی تک وہ مکمل نہیں ہوا اور اب تو کام بھی رکا ہوا ہے۔ 

یہا ں کے سماجی اور سیاسی طبقہ فکر نے صوبائی وزیر اعلےٰ اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ WSU کے حلاف انکوائری کرے کہ وہ پانی کی کمی کا بہانہ بناکر شاہ میراند ہ کو پچھلے دو سالوں سے پانی سے محروم کیا ہوا ہے مگر ساتھ والے گاؤں (سین جال) کو دو انچ کے پائپ میں دن رات پانی دی جاتی ہے جس کی ثبوت بھی موجود ہے یہ تضاد کیوں؟


منرل واٹر کے 9 معروف برانڈز کے ٹیسٹ، جراثیمی طورپر آلودہ نکلے، کمپنیوں کے نام جاری

منرل واٹر کے 9 معروف برانڈز کے ٹیسٹ، جراثیمی طورپر آلودہ نکلے، کمپنیوں کے نام جاری


اسلام آباد (آئی این پی) پینے کے صاف اور محفوظ پانی کی کمی کی وجہ سے ملک بھر میں بوتلوں میں بند پانی کی صنعت تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔ پاکستان کونسل برائے تحقیقاتِ آبی وسائل، حکومتِ پاکستان ، وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کی ہدایت پر بوتلوں میں بند پانی کی کوالٹی کو مانیٹر کر رہی ہے۔ ہر سہ ماہی کے اختتام پر پینے کے بوتل بند پانی کے مختلف برانڈزکی تجزیاتی رپورٹ پی سی آر ڈبلیو آر کی ویب سائٹ پر اور میڈیا میں شائع کر دی جاتی ہے۔

جولائی تا ستمبر 2018 کی سہ ماہی میں اسلام آباد ،راولپنڈی،گوجرانوالا، پشاور، ملتان، لاہور بہاولپور، رحیم یار خان، ٹنڈوجام،، کوئٹہ اور کراچی سے بوتل بند/ منرل پانی کے 118 برانڈز کے نمونے حاصل کیے گئے ۔ ان نمونوں کا پاکستان سٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (PSQCA) کے تجویز کردہ معیار کے مطابق تجزیہ کیا گیا۔ اس تجزیے کے مطابق9 برانڈز (پیورواٹر، پلس پیاس، 3 سٹار، ڈورو ، رئیل پلس، پیور اِٹ، ایلین پلس، کرسٹل مایا اور ایکواصاد) برانڈز کے نمونے کیمیائی طور اور جراثیمی طور پر آلودہ پائے گئے۔ ان میں1 نمونہ ( پلس پیاس ) میں سنکھیا کی مقدار سٹینڈرڈ سے زیادہ (15 پی پی بی ) تک تھی، جبکہ پینے کہ پانی میں اس کی حدِ مقدار صرف 10 پی پی بی تک ہے۔ پینے کے پانی میں سنکھیا کی زیادہ مقدار کی موجودگی بے حد مضرِ صحت ہے۔ کیونکہ اس کی وجہ سے پھیپڑوں ، مثانے، جلد، پراسٹیٹ، گردے، ناک اور جگر کا کینسر ہو سکتا ہے اس کے علاوہ بلڈ پریشر ، شوگر، گردے اور دل کی بیماریاں، پیدائشی نقائص اور بلیک فُٹ جیسی بیماریاں بھی ہو سکتی ہیں۔ جبکہ آلودہ برانڈز میں سے 3نمونے (ایلین پلس، کرسٹل مایا اور ایکواصاد) جراثیم سے آلودہ پایا گیا جس کی وجہ سے ہیضہ، ڈائریا، پیچش، ٹائفائیڈ اور یرقان کی بیماریاں ہو سکتی ہیں۔4 برانڈز ( پیور واٹر، 3 سٹار، ڈورو اور رئیل پلس)کے نمونوں میں سوڈیم کی مقدار سٹینڈرڈ سے زیادہ (60 سے لے کے115 پی پی ایم) پائی گئی ۔1 برانڈ (پیور اِٹ)کے نمونہ میں فلورائیڈ کی مقدار سٹینڈرڈ سے زیادہ 1.8 پی پی ایم پائی گئی۔ جبکہ پینے کہ پانی میں سوڈیم کی حدِ مقدار صرف 50 پی پی ایم اور فلورائیڈ کی حدِ مقدار صرف 0.7 پی پی ایم تک ہے۔



تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں