16 نومبر، 2018

اچھی بات : چار خوبصورت باتیں - #سنہرے_اقوال #اچھے_الفاظ #اچھی_بات

وقت دوست اور رشتے یہ وہ چیزیں ہیں جو ہمیں مفت میں‌ملتی ہیں مگر ان کی قیمت کا تب پتہ چلتا ہے جب یہ کہیں کھو جاتی ہیں۔
⇲✿✿⇱
سو دوستوں سے بہتر وہ اِک دُشمن ہے جو دل میں نفرت تو رکھتا ہے لیکن منافقت نہیں رکھتا۔


⇲✿✿⇱
اتنظار کرنے والوں کو صرف اُتنا ہی ملتا ہے جتنا کوشش کرنے والوں بچ جاتا ہے۔


⇲✿✿⇱
جس طرح جسم کو بیماری کی موجودگی میں کھانے کی لذت حاصل نہیں‌ہوتی اُسی طرح گناہوں کی موجودگی میں دل کو عبادت کی لذت نصیب نہیں ہوتی۔


⇲✿✿⇱





ایک اور چترالی نوجوان وطن پر قربان ہوگیا، ناصر حسین دفاع وطن میں شہید ہوگئے

ایک اور چترالی نوجوان وطن پر قربان ہوگیا، ناصر حسین دفاع وطن میں شہید ہوگئے

چترال (ٹائمزآف چترال نیوز )‌ کشمیر کا محاذ ہو، یا سیاچین کے گلیشرز، شہر ہو یا قصبہ چترالی نوجوان دفاع وطن سے اور شہادت سے بے خوف پاک فوج اور مختلف سیکیوریٹی اداروں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔  پاک فوج کے مجاہد فورس سے تعلق رکھنے والا چترالی جوان ناصر حسین دفاع وطن میں شہید ہوگئے۔ وہ آزاد کشمیر کی  سرحد پر خدمت سرانجام دے رہے تھے، متوفی کا تعلق مستوج کے نواحی گاؤں سرغوز سے تھا۔ شہید کے والد بھی چترال سکاؤٹ سے صوبیدار ریٹائر ہوئے ہیں۔ شہید کی جسد خالی چترال کے لئے روانہ کردی گئی۔ ذرائع کے مطابق عنقریب شہید کی منگنی ہونا طے تھا۔

یاد رہے اس سے قبل محمند کے علاقے محمد گیٹ میں زمینی سرنگ کے دھماکے میں کیپٹن زرغام فرید شہید ہوگئے تھے جبکہ سپاہی ریحان شدیدی زخمی ہوئے تھے۔ 25 سالہ کیپٹن زرغام کاتعلق سرگودھا سے اور یہ غیر شادی شدہ تھے۔



پشاور ہائی کورٹ پشاور نے صحافی گل حماد فاروقی کے بیٹے محمد فرحان کے موت میں ذمہ دار ڈاکٹر کے حلاف FIR درج کرنے کا حکم دے دیا۔

پشاور ہائی کورٹ پشاور نے صحافی گل حماد فاروقی کے بیٹے محمد فرحان کے موت میں ذمہ دار ڈاکٹر کے حلاف FIR درج کرنے کا حکم دے دیا۔

چترال(گل حماد فاروقی) پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل ڈویژن بنچ نے حیات آباد میڈیکل کمپلکس کے سرجیکل اے یونٹ کے انچارج کی درخواست مسترد کرتے ہوئے FIR درج کرنے کا حکم دے دیا۔ اس سے پہلے سیشن جج پشاور نے محمد فرحان کے غلط اور تاحیر سے آپریشن کرنے کے باعث اس کے موت واقع ہونے پر پروفیسر ڈاکٹر خان کے حلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا جسے پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا مگر پشاور ہائی کورٹ نے ڈاکٹر مظہر خان کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سابقہ فیصلہ کو برقرار رکھا اور حسب قانون سابقہ فیصلہ میں حیات آباد پولیس کو ہدایت کی گئی کہ وہ پروفیسر ڈاکٹر مظہر خان انچارج سرجیکل A یونٹ حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے حلاف مقدمہ درج کرے جو قتل باالسبب کے تحت ہوگا۔



پشاور ہائی کورٹ میں گل حماد فاروقی کی جانب سے معروف قانون دان محب اللہ تریچوی ایڈوکیٹ پیش ہوکر انہوں نے عدالت کو دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میرے موکل کے بیٹے محمد فرحان کو پہلے نصیر اللہ خان بابر میموریل ہسپتال کوہاٹ روڈ پشاور لے گئے جہاں ڈاکٹروں نے اسے معدے کی زحم قرارد یکر گھر بھیج دیا اس کے بعد اسی ہسپتال میں اسی دن چلڈرن او۔ پی۔ ڈی ۔ میں ڈاکٹر سپین گل کو دکھایا جنہوں نے الٹرا ساؤنڈ کرنے کے بعد اسے گھر بھیج دیا ۔ اس کے بعد اگلے دن اسے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے چلڈرن سرجیکل یونٹ لے گئے جہاں ڈاکٹر نے ایکسرے کرنے کے بعد اسے گھر بھیج دیا اسی رات فرحان کی درد مزید زیادہ ہوا تو اسے رات گیارہ بجے ایک بار پھر لیڈی ریڈنگ ہسپتال لے گئے مگر ڈاکٹر نے اس کا اپریشن نہیں کی اور رات ایک بجے اسے گھر بھیج دیا۔

پانچویں بار اسے حیات آباد میڈیکل کمپلکس میں صبح کے وقت OPD میں لے گئے مگر ڈاکٹروں نے اس کی بروقت آپریشن نہیں کی اور اس کا اپنڈکس پھٹ گیا مگر ڈاکٹروں کو معلوم ہونے کے باوجود اس کی فوری اپریشن نہیں کی اور شام تک روکے رکھا شام کے بعد چند جونیر ڈاکٹروں نے اس کا غلط آپریشن کیا جس کے بعد اس کی حالت غیر ہوگئی اسے ICU ریفر کیا گیا مگر انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں کوئی بیڈ حالی نہیں تھی اسے اگلے روز خیات ٹیچنگ ہسپتال لے جایا گیا جہاں ایک گھنٹے کے بعداس کا انتقال ہوا۔ 

محب اللہ تریچوی ایڈوکیٹ کی جانب سے پشاور کے سیشن کورٹ میں 22-A کے تحت کیس دائیر کیا گیا تھا جس میں عدالت سے درخواست کی گئی تھی کہ ڈاکٹر صدیق احمد چترالی، پروفیسر ڈاکٹر مظہر خان، ڈاکٹر نعیم گل افریدی، ڈاکٹر فرح عذیر شاہ، ڈاکٹر حکمت اللہ، ڈاکٹر ناصر حسن، ڈاکٹر عین الہادی، ڈاکٹر شاہد افریدی، ڈاکٹر شہزاد، ڈاکٹر ناصر حسن افریدی، ڈاکٹر نقیب وغیرہ کے حلاف مقدمہ درج کرنے کی استدعاکی گئی تھی جس پر فاضل عدالت نے 06.12.2016 کو فیصلہ سناتے ہوئے حیات آباد پولیس کو حکم دیا تھا کہ وہ HMC کے سرجیکل اے یونٹ کے انچارج پروفیسر ڈاکٹر مظہر خان کے حلاف فرحان کے موت میں قتل بالسبب اور مجرمانہ غفلت کے تحت مقدمہ درج کرے مگر حیات آباد پولیس نے ایک ماہ گزرنے کے باوجود بھی مقدمہ درج نہیں کیا تھا۔ 

تاہم اسے ڈاکٹر مظہر خان نے پشاور ہای کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس پر ڈویژن بنچ پر مشتمل چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم نے وکیل کی دلائل سنتے ہوئے اس کی اپیل کو مسترد کی اور سابقہ فیصلے کو برقرار رکھا جس کے تحت متعلقہ پولیس کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ ڈاکٹر مظہر خان کے حلاف مقدمہ درج کرے۔ 

واضح رہے اسی کیس میں ایڈیشنل سیشن جج عثمان ولی ٰخان نے نصیر اللہ خان بابر میموریل ہسپتال کوہاٹ پشاور کے ڈاکٹر سپین گل اور ڈاکٹر محمد ذہین جبکہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ڈاکٹر کفایت اللہ خان انچارج چلدڑن سرجیکل یونٹ، ڈاکٹر محمد فیاض، ڈاکٹر جہانگیر، ڈاکٹر اصغر نواز اور ڈاکٹر محتیار زمان میڈیکل ڈایریکٹر کے حلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا۔ فاضل جج نے 18.03.2017 کو ایس ایچ او خان رازق شہید کو حکم دیا تھا کہ وہ ان ڈاکٹروں کے حلاف FIR چاکے مگر ایس ایچ او نے ہسپتال کے عمارت کے حلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ 

پشاور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو صحافی برادری نے نہایت سراہا اور اسے حق اور انصا ف کی جیت قرار دیا۔ اس موقع پر سینیر صحافی گل حماد فاروقی نے میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ میرا بیٹا تو کسی قیمت پر واپس نہیں آسکتا مگر ان ڈاکٹروں کے حلاف اگر قانونی کاروائی کی جائے اور ان کو سزا مل جائے تو آئندہ یہ لوگ مریضوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کی زندگیوں سے نہیں کھیلیں گے۔


15 نومبر، 2018

پت جھڑ سے گِلہ ہے نہ شکایت ہوا سے ہے

پت جھڑ سے گِلہ ہے نہ شکایت ہوا سے ہے
پھولوں کو کچھ عجیب محبت ہوا سے ہے

سرشاریِ شگفتگیِ گل کو ہے کیا خبر
منسوب ایک اور حکایت ہوا سے ہے

رکھا ہے آندھیوں نے ہی ہم کو کشِیدہ سر
ہم وہ چراغ ہیں جنہیں نِسبت ہوا سے ہے

اس گھر میں تِیرگی کے سِوا کیا رہے جہاں
دل شمع پر ہیں اور ارادت ہوا سے ہے

بس کوئی چیز ہے کہ سُلگتی ہے دل کے پاس
یہ آگ وہ نہیں، جسے صحبت ہوا سے ہے

صرصر کو اذن ہو جو صبا کو نہیں ہے بار
کُنجِ قفس میں زیست کی صورت ہوا سے ہے

گُلچِیں کو ہی خرامِ صبا سے نہیں ہے خار
اب کے تو باغباں کو عداوت ہوا سے ہے

خوشبو ہی رنگ بھرتی ہے تصویرِ باغ میں
بزمِ خبرمیں، گُل کی سیادت ہوا سے ہے

دستِ شجر میں رکھے کہ آ کر بکھیر دے
آئینِ گُل میں خاص رِعایت ہوا سے ہے

اب کے بہار دیکھیے کیا گُل کِھلائے گی
دل دادگانِ رنگ کو وحشت ہوا سے ہے​​

پروین شاکر



14 نومبر، 2018

شاہی داس گشٹ میں مسافر وین کھائی میں جاگری، اٹھارہ افراد سوار تھے

شاہی داس گشٹ میں مسافر وین کھائی میں جاگری، اٹھارہ افراد سوار تھے

چترال، ہرچین (نمائندہ ٹی او سی) کل صبح ہرچیں سے مستوج جاتے ہوئے شاہی داس گشٹ کے نزدیک مسافر وین گہری کھائی میں جا گیری، ویلی لاسپور کے مشہور سماجی و سیاسی شخصیت و سابق ممبر یونین کونسل نگاہ بن شاہ، چیرمیں ویلج کونسل ہرچین پونار خان اور خواتین سمیت اٹھارہ مسافر سوار تھے، تمام مسافر معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔ کچھ مسافرون کے معمولی زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ امدادی کاموں میں مقامی لوگوں اور اغاخان ایجنسی فار ہبیٹاٹ (Aga Khan Agency for Habitat) کے نمائیندون نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ 






گورنمنٹ ہائی سکول کوغزی کا طالب علم "علی رضا" نے اردو تقریری مقابلوں میں پہلی پوزیشن حاصل کرلی اور صوبائی سطح پر اردو تقریری مقابلوں کے لئے منتخب ہوا

گورنمنٹ ہائی سکول کوغزی کا طالب علم "علی رضا" نے اردو تقریری مقابلوں میں پہلی پوزیشن حاصل کرلی اور صوبائی سطح پر اردو تقریری مقابلوں کے لئے منتخب ہوا



کوغزی: (ایم۔فاروق ) تفصیلات کے مطابق گزشتہ دنوں چترال شہر کے اگورنمنٹ ہائی سکول کوغزی کا طالب علم "علی رضا" نے اردو تقریری مقابلوں میں پہلی پوزیشن حاصل کرلی اور صوبائی سطح پر اردو تقریری مقابلوں کے لئے منتخب ہوا۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ دنوں چترال شہر کے ایک سرکاری سکول میں  چترال کے مختلف بین المدارس کے طلباء کے مابین ہونے والی ضلعی سطح کی اردو تقریری مقابلوں میں گورنمنٹ ہائی سکول کوغزی کا طالبعلم علی رضا نے پہلی پوزیشن حاصل کرلی اور یہ ایوارڈ اپنے نام کرلیا۔ اس کامیابی پر موصوف کے والدین، اساتذہ اور ہم جماعت طلباء میں خوشی کا سماں ہے اور اسی سلسلے میں GHS کوغزی میں ایک تقریب منعقد ہوئی جسمیں سکول کے اساتذہ کرام اور طلباء نے کامیاب طالبعلم علی رضا کو مبارکباد پیش کیے اور حوصلہ افزائی کی۔

واضح رہے کہ پچھلے سال بھی یہ ایوارڈ علی رضا کو ہی حاصل تھا۔ وہ اس سال بھی یہ ایوارڈ اپنے نام کرنے کے بعد صوبائی سطح کی تقریری مقابلوں کے لئے منتخب ہوا اور آئندہ ہفتے پشاور میں صوبہ خیبر پختونخواہ کے مختلف اضلاع کے سکولوں سے آئے ہوئے طلباء کے ساتھ مقابلہ کریگا۔یک سرکاری سکول میں  چترال کے مختلف بین المدارس کے طلباء کے مابین ہونے والی ضلعی سطح کی اردو تقریری مقابلوں میں گورنمنٹ ہائی سکول کوغزی کا طالبعلم علی رضا نے پہلی پوزیشن حاصل کرلی اور یہ ایوارڈ اپنے نام کرلیا۔ اس کامیابی پر موصوف کے والدین، اساتذہ اور ہم جماعت طلباء میں خوشی کا سماں ہے اور اسی سلسلے میں GHS کوغزی میں ایک تقریب منعقد ہوئی جسمیں سکول کے اساتذہ کرام اور طلباء نے کامیاب طالبعلم علی رضا کو مبارکباد پیش کیے اور حوصلہ افزائی کی۔ 

واضح رہے کہ پچھلے سال بھی یہ ایوارڈ علی رضا کو ہی حاصل تھا۔ وہ اس سال بھی یہ ایوارڈ اپنے نام کرنے کے بعد صوبائی سطح کی تقریری مقابلوں کے لئے منتخب ہوا اور آئندہ ہفتے پشاور میں صوبہ خیبر پختونخواہ کے مختلف اضلاع کے سکولوں سے آئے ہوئے طلباء کے ساتھ مقابلہ کریگا۔


13 نومبر، 2018

کابل میں خودکش حملہ، 30 پولیس اہلکاروں سمیت 48 افراد جان کی بازی ہار گئے، دھماکہ احتجاج کے دوران ہوا

کابل میں خودکش حملہ، 30 پولیس اہلکاروں سمیت 48 افراد جان کی بازی ہار گئے، دھماکہ احتجاج کے دوران ہوا



کابل(این این آئی) افغان دارالحکومت کابل میں خودکش بم دھماکہ میں 10 افراد جاں بحق اورپولیس اہلکاروں سمیت 16 دیگر زخمی ہوگئے جبکہ مغربی صوبہ فرح میں طالبان نے ایک گائوں پر حملہ کرکے 30 پولیس اہلکاروں اور 8 شہریوں سمیت 38 افرادکو ہلاک کردیا۔ ادھر صوبہ غزنی میں طالبان کے حملے میں ہلاک سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کی تعداد25 سے بڑھ کر70 ہوگئی جن میں 26 سیکیورٹی اہلکار اور 44 افغان شہری شامل ہیں۔افغان وزارت دفاع کے ترجمان نجیب دانش کے مطابق پیر کے روزبعدازدوپہرکابل شہر میں احتجاجی مظاہرے کے دوران ایک خودکش بمبار نے پولیس چیک پوسٹ اور استقلال ہائی سکول کے قریب خود کو دھماکہ سے اْڑادیا جس کے نتیجے میں 10افراد ہلاک اور 16 دیگر زخمی ہوگئے۔ہلاک و زخمیوں میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔بتایاجاتا ہے کہ دھماکہ کے وقت کابل شہر کے مصروف اور پوش علاقے میں سینکڑوں مظاہرین صوبہ غزنی میں عدم تحفظ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کررہے تھے۔ دھماکہ کی ذمہ داری فوری طورپر کسی تنظیم نے قبول نہیں کی۔ ادھر مغربی صوبہ فراہ کے ضلع خاک سفید کے گائوں خوست پر طالبان نے حملہ کرکے علاقہ پر قبضہ کرلیا جبکہ حملہ میں 30 افغان پولیس اہلکار اور8 شہری ہلاک ہوگئے۔ ضلعی پولیس سربراہ عبدالجبار کے مطابق طالبان نے کئی گھروں کو نذرآتش کردیا۔صوبائی کونسل کے ممبر خیرمحمدنورازئی کے مطابق طالبان نے دس پولیس اہلکاروں کو یرغمال بھی بنالیا۔دریں اثناء گزشتہ روز صوبہ غزنی کے ضلع جغوری میں طالبان کے حملے میں ہلاک افراد کی تعداد25 سے بڑھ کر70 ہوگئی ہے جن میں26 سیکیورٹی اہلکار اور 44 افغان شہری شامل ہیں۔



عوامی نیشنل پارٹی، پارٹی مخالف سرگرمیوں سینئر رہنماؤں افراسیاب خٹک اور مرکزی نائب صدر بشریٰ گوہر کی پارٹی رکنیت معطل کر دی

عوامی نیشنل پارٹی، پارٹی مخالف سرگرمیوں سینئر رہنماؤں افراسیاب خٹک اور مرکزی نائب صدر بشریٰ گوہر کی پارٹی رکنیت معطل کر دی



پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک) پارٹی مخالف سرگرمیوں ، کارکنوں میں انتشار پیدا کرنے اور پارٹی کو نقصان پہنچانے پر عوامی نیشنل پارٹی ( اے این پی) نے پارٹی  کے سینئر رہنماؤں افراسیاب خٹک اور مرکزی نائب صدر بشریٰ گوہر کی پارٹی رکنیت معطل کر دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے مرکزی دونوں مرکزی رہنماؤں کی رکنیت معطل کر دی۔پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے دونوں رہنمائوں کی رکنیت معطلی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ قبل ازیں افراسیاب خٹک اور بشریٰ گوہر کی طرف سے شوکاز نوٹس کا تفصیلی جواب پارٹی سیکرٹریٹ کو موصول ہوا، جس میں دونوں نے ان ہی نکات کی وضاحت کی جو وہ مرکزی کونسل میں بیان کر چکے تھے اور ان ہی نکات کا ذکر وہ وقتاً فوقتاً پارٹی فورمز پر کرتے چلے آرہے تھے اور کئی بار مشاورتی کمیٹی میں بھی اس کا ذکر کیا گیا تھا۔ 

پارٹی بیان میں کہا گیا کہ تاکید کے باوجود دونوں رہنمائوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں جس سے کارکنوں کے ذہنوں میں انتشار پیدا کیا گیا۔ دونوں رہنمائوں کے جواب سے پارٹی مطمئن نہیں ہوئی اور مرکزی صدر نے پارٹی آئین کے تحت اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے ان کی بنیادی رکنیت معطل کر دی۔



علی بابا گروپ کی ٹیلی نار مائیکروفائنانس بینک میں 45 فیصد حصص کے حصول کی منظوری

اسلام آباد: کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان نے مشہور کمپنی علی پے ہولڈنگ لمیٹڈ کی ٹیلی نار مائیکرو فائنانس بینک لمیٹڈ میں 45% شیئرز کے حصول کی درخواست منظور کر لی ہے جس سے دنیا کے سب سے بڑے موبائل پیمنٹ پلیٹ فارم کی پاکستان میں داخلے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔علی پے 2004 میں جیک ما کی
سربراہی میں بنائی گئی تھی جو کہ چین کے کثیرالقومی علی با با گروپ کا حصہ ہے اور ای کامرس ، ریٹیل، انٹر نیٹ اور ٹیکنالوجی میں خاص مہارت رکھتا ہے۔

جبکہ ٹیلی نار مائیکروفائنانس بینک پاکستا ن کا پہلا Scheduled مائیکروفائنانس بینک ہے جو کہ پاکستان میں مائیکروفائنانس اور متعلقہ مالیاتی خدمات فراہم کر رہا ہے۔کمپیٹیشن کمپیشن آف پاکستان نے رواں سال ابتک مختلف سیکٹرز میں 66 مرجرز، ایکووزیشنز اور جوائنٹ وینچرز کی منظوری دی ہے۔

ان سیکٹرز میں پاور جنریشن ،آٹوموٹیو، انفارمیشن ٹیکنالوجی، آئل اور گیس اور فوڈ سیکٹرز شامل ہیں۔

اس سال کی گئی خاص ٹرانزیکشنز میں علی بابا سنگا پور ہولڈنگ کی جانب سے دراز۔کام کا حصول، ڈریگن پرائم ہانگ کانگ لمیٹڈ کی جانب سے OMV Pakistan Exploration GMBH کا حصول، ریاض بوٹلرز پرائیویٹ لمیٹڈ اور Lotte Chilsung Beverages میں جوائنٹ وینچر، پاک عرب ریفائنری کی جانب سے ٹوٹل پارکو لمیٹڈ میں شئیر ز کا حصول شامل ہیں ۔



خیبر پختونخواہ میں نسوار کے استعمال پر پابندی لگا دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے

خیبر پختونخواہ میں نسوار کے استعمال پر پابندی لگا دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے



پشاور (ویب ڈیسک) خیبر پختونخواہ میں نسوار کے استعمال پر پابندی لگا دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا کے تعلیمی اداروں میں نسوار کے استعمال پر پابندی عائد کردی گئی۔ نجی ٹی وی کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے بھر کے تعلیمی اداروں میں نہ صرف طلبا بلکہ اساتذہ پر بھی نسوار کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے اقتدار میں آنے کے بعد صحت اور تعلیم کے شعبوں میں اصلاحات کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں۔ حال ہی میں سرکاری تعلیمی اداروں کا معیار بہتر بنانے کے لیے خیبر پختوانخوا میں نئی پالیسی بنائی گئی جس کے تحت سرکاری اساتذہ اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں ہی تعلیم حاصلکروانے کے پابند ہوں گے۔عوام نے حکومت کے اس فیصلوں کو سراہا ہے۔


12 نومبر، 2018

واپڈا کالونی کوغزی میں گولین گول پاور کمیٹی کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ، کوغزی کے متاثرہ عوام کے اہم مطالبات پیش کئے گئے

واپڈا کالونی کوغزی میں گولین گول پاور کمیٹی کی جانب  سے احتجاجی مظاہرہ، کوغزی کے متاثرہ عوام کے اہم مطالبات پیش کئے گئے



 چترال، کوغزی : (ایم۔ فاروق) واپڈا کالونی کوغزی میں گولین گول پاور کمیٹی کی جانب  سے احتجاجی مظاہرہ، کوغزی کے متاثرہ عوام کے اہم مطالبات پیش کئے گئے۔  تفصیلات کے مطابق پیر کے روز کوغزی میں واپڈا کالونی گیٹ کے سامنے کوغزی کے عوام کی جانب سے ایک احتجاجی جلسہ منعقد کیا گیا جس میں علاقے کے سیاسی و سماجی شخصیات سمیت مقامی لوگوں نے بھرپور تعداد میں شرکت کی۔ 

اس جلسے کی صدارت گولین گول پاؤر کمیٹی کے چئیرمین جناب شریف حسین نے کی۔ بعد اذان انہوں نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گولین گول پراجیکٹ کے آغاز سے لے کر اختتام تک یہاں کے عوام کے ساتھ دھوکا کیا گیا، شروع کے دنوں میں متعلقہ ادارہ واپڈا اور سامبو کنسٹرکشن کمپنی کی جانب سے وعدے اور دعوے کیے گئے تھے لیکن وہ وعدے ابھی دھرے کے دھرے رہ گئے۔ انہوں نے کہا کہ کوغزی کے متاثرہ لوگوں کو اعتماد میں لینے کے لئے واپڈا کی طرف سے علاقے کے لوگوں کے لئے تین کروڑ روپے کی منظوری  ہوئی تھی اور اس سدباب میں پاور کمیٹی نے جو منصوبہ جات پراجیکٹ ڈائریکٹر جاوید آفریدی کو تحریری طور پر دی تھی اس پر جلد کام شروع کیا جائے۔ یہاں پر ٹرانسمیشن لائن کی ترسیلی کے دوران لوگوں کے پھلدار وغیر پر دار درختوں کی بے دریغ کٹائی کی گئی اور درختوں کا صحیح معاوضہ ادا کیا جائے۔ محکمہ واپڈا میں وعدے کے مطابق مقامی لوگوں کو ملازمتیں دی جائے۔ گولین گول پاور پراجیکٹ پر کام کرنے والی سامبو کنسٹرکشن کمپنی گولین کے مقام پر پلانٹ لگایا تھا اور متعلقہ جگہ کے لئے ساٹھ لاکھ روپے کرایہ ادا کرنے کا بھی وعدہ ہوا تھا وہ رقم جلد از جلد عوام کو ادا کی جائے اور اس جگہ کو دوبارہ سے ہموار کر دی جائے۔ وہاں پر موجود پتھر، بجری، ریت اور دوسری میٹیریل عوام کی ملکیت ہے ۔  انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہمارے مطالبات نہ مانے گئے توہم بھرپور انداز میں احتجاج کریں گے جس کا ذمہ دار چترال کا انتظامیہ ہوگا۔






9 نومبر، 2018

چترالیوں کا دیرینہ خواب پورا ہوگیا، کابینہ نے چترال کو دو اضلاع میں تقسیم کرنے کی منظوری دے دی




چترالیوں کا دیرینہ خواب پورا ہوگیا، کابینہ نے چترال کو دو اضلاع میں تقسیم کرنے کی منظوری دے دی



پشاور(ٹائمزآف چترال نیوز) خیبر پختونخواہ کابینہ نے جمعرات کو چترال کو دو اضلاع میں تقسیم کرنے کی منظوری دے دی۔ کابینہ نے کے پی کے کے انرجی اور پاور ڈپارٹمنٹ کو 135 بلین سالانہ نیٹ ہائیڈل پروفٹ کیس کو کونسل آف کومن انٹریسٹ (سی سی آئی) میں پیش کرنے اور صوبے کے سب سے بڑے ضلع، چترال کو بہتر انتظام کے لئے 2 اضلاع میں تقسیم کرنے کی بھی منظوری دے دی ہے۔ کابینہ اجلاس کی صدارت چیف منسٹر محمود خان نے کی۔

اجلاس کے بعد سول سیکریٹٹری، سنیٹین کمرہ میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے خیبر پختونخواہ کے وزیر اطلاعات شوکت یوسف زئی نے کہا کہ کابینہ نے دو اضلاع لوئرچترال اور اپر چترال کی منظوری دے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چترال صوبے کا سب سے بڑا ضلع ہے، 2 اضلاع بنانا چترالیوں کا دیرینہ مطالبہ تھا، دو اضلاع کی منظوری2017 میں ہوئی تھی۔ تاہم اس ضمن میں کوئی نوٹی فی کیشن جاری نہ ہوسکا تھا کیونکہ صوبائی کابینہ نے اس کی منظوری نہیں دی تھی۔

آن لائن اشتہارات کے لئے مشہور ویب سائیٹ OLX نے اپنی ویب سائیٹ یکسر تبدیل کردی، لوگو بھی نیا بنادیا

کراچی (ٹیکنالوجی ڈیسک) اولیکس OLX سنہ 2006ء سے آن لائن کلاسیفائیڈ اشتہاروں کا مارکیٹ لیڈر ہے اور دنیا بھر میں کسٹمرز کو تقریباً ہر شے کی خریداری، فروخت اور تبادلے میں مدد فراہم کرتا ہے۔عالمی سطح پر OLX پینتیسسے زائد مارکیٹوں اور پچاس سے زائد زبانوں میں لاکھوں کسٹمرز کو خدمات فراہم کرتا ہے۔گزشتہ روز، OLXنے اپنے قیام کے وقت سے اب تک کا سب سے بڑا اپ ڈیٹ جاری کیا ہے اورپوری ایپ اور ویب کے تجربہ کو تبدیل کرنے کے ساتھ برانڈ کی نئی شناخت متعارف کرائی ہے۔

دنیا بھر میں سے پاکستان وہ پہلا ملک ہے جہاں OLX نے اپنا نیا برانڈ اور پلیٹ فارم متعارف کرایا ہے ؛ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں OLX استعمال کرنے والے باقی دنیا کے OLXاستعمال کرنے والوں سے بھی پہلے ان تبدیلیوں کا تجربہ حاصل کر سکیں گے۔

اس تبدیلی سے کلاسیفائیڈ اشتہاروں کے تجربہ کو جدید بنانے اور پاکستان کے بارے میں ایک اہم مارکیٹ کاتصور اجاگر کرنے کے لیی OLX کے ارادے کا اظہار ہوتا ہے۔

 آن لائن اشتہارات کی ویب سائٹ نے لگ بھگ 12 سال بعد اپنی سب سے بڑی اپ ڈیٹ کرتے ہوئے لوگو، ایپ اور ویب سائٹ کو مکمل طور پر تبدیل کردیا ہے۔ کمپنی کے مطابق دنیا بھر میں سے پاکستان پہلا ملک ہے جہاں او ایل ایکس نے اپنا نیا برانڈ اور پلیٹ فارم متعارف کرایا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی پاکستان کو ایک اہم مارکیٹ کے طور پر اجاگر کرنے، روایتی کلاسیفائیڈ اشتہاروں کو جدید بنانے کا حصہ ہے، اس نئی اپ ڈیٹ کے ذریعے زیادہ اینڈ-ٹو-اینڈ سروسز پیش کی گئی ہیں

جبکہ استعمال کرنے والوں کو خریدو فروخت کے لیے زیادہ آپشنز فراہم کیے گئے ہیں۔ تاہم کمپنی کے نئے لوگو کو پہلے کے مقابلے میں برکشش قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ اگر پہلے لوگو 3 رنگوں کے ساتھ زیادہ نمایاں تھا، تو اب تینوں الفاظ یعنی او ایل ایکس کے پس منظر کو نیلا کر دیا گیا ہے جبکہ ایل کو اس طرح تحریر کیا گیا ہے کہ آئی کی طرح نظر آ رہا ہے، جو کہ صارف کو الجھن میں ڈال سکتا ہے کہ یہ او ایل ایکس (OLX) ہے یا او آئی ایکس (OIX)۔ کمپنی کے مطابق یہ نیا لوگو لندن کی ڈیجیٹل ایجنسی کی مدد سے تیار کیا گیا مگر جیسا اوپر لکھا جاچکا ہے کہ یہ دیکھنے میں کچھ متاثرکن نہیں، ویسے آپ کیا سوچتے ہیں یہ بتانا مت بھولیں۔ اس موقع پر کمپنی کے کنٹری منیجر بلال باجوہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم اپنے پلیٹ فارم میں بڑی تبدیلیاں لا رہے ہیں، ان تبدیلیوں میں چیٹ، پوسٹنگ، براؤزنگ اور سوشل ایکسپیرینس شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ متعدد ایسے نئے فیچرزشامل کیے گئے ہیں جو اس سروس کو استعمال کرنے والوں کے لیے اشیاءکی خرید و فروخت کو زیادہ آسان اور تیزتر بناتے ہیں۔

OLXکے اعلان کے مطابق یہ تبدیلی روایتی کلاسیفائیڈ اشتہاروں سے بڑھ کر توسیع کی خواہش کا حصہ ہے۔ اس میں زیادہ اینڈ-ٹو-اینڈ سروسز پیش کی گئی ہیں اور استعمال کرنے والوں کو خریدو فروخت کے لیے زیادہ دانشمندانہ آپشنز فراہم کیے گئے ہیں۔اس موقع پر OLX Pakistan کے کنٹری منیجر، بلال باجوہ نے کہا،’’یہ ہمارا سب سے بڑا پلیٹ فارم ہے اور اس میں ہم بڑی تبدیلیاں لا رہے ہیں۔
ان تبدیلیوں میں چیٹ، پوسٹنگ، براؤزنگ اور سوشل ایکسپیرئینس شامل ہیں جب کہ ایپ کا سائز 40 فیصد چھوٹا ہو گیا ہے۔‘‘ بلال باجوہ نے مزید کہا،’’یہ نیا ورژن، استعمال کرنے والوں کے تجربہ کو نمایاں طور پر بہتر بنائے گا۔ اس میں متعدد ایسے نئے فیچرزشامل کیے گئے ہیں جو استعمال کرنے والوں کے لیے خریدنا، اوربیچنا زیادہ آسان اور تیزتر بناتے ہیں۔



8 نومبر، 2018

دادو: انڈس ہائی وے پر بس اور ٹرالر میں تصادم، 8 افراد ہلاک، 28 زخمی

دادو: انڈس ہائی وے پر بس اور ٹرالر میں تصادم، 8 افراد ہلاک، 28 زخمی

دادو، سندھ (ویب ڈیسک) ٹریفک کے بد ترین حادثے میں 8 افراد جان بحق ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق صوبہ سندھ کے علاقے دادو کے قریب مسافر بس اور ٹرالر میں تصادم کے درمیان 8 افراد جاں بحق اور 28 زخمی ہوگئے۔ ٹریفک حادثہ دادو شہر سے 15 کلو میٹر دور شہید مخدوم بلاول ٹاؤن میں انڈس ہائی وے پر ہوا۔

ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی شناخت 45 سالہ شبیر احمد ولد صاحب خان شابرانی، 42 سالہ محمد اسلم، 40 سالہ ارشد ولد احمد نواز کھوسو، 36 سالہ نور محمد ولد عبدالرشید، 43 سالہ وزیر علی ولد علی گوہر، 29 سالہ غلام شبیر ولد احمد خان شابرانی، طارق علی ولد علی بخش مورو کے نام سے ہوئی جبکہ جاں بحق ہونے والوں میں ایک 40 سالہ نامعلوم خاتون بھی شامل ہیں۔

پلاسٹک سے پھیلنے والی آلودگی ختم کرنے کے لئے، پلاسٹک کی ری سائیکلنگ کاجدید مقابلہ ' دی داسانی ڈسکوری چیلنج '

پلاسٹک سے پھیلنے والی آلودگی ختم کرنے کے لئے، پلاسٹک کی ری سائیکلنگ کاجدید مقابلہ  ' دی داسانی ڈسکوری چیلنج ' 



کراچی: کوکا۔کولا کمپنی کے بوتل میں پینے کے صاف پانی کے برانڈ داسانی (Dasani) ملک گیر سطح پر پلاسٹک کی ری سائیکلنگ کاجدید مقابلہ منعقد کروارہا ہے، اس مقابلہ کا عنوان ' دی داسانی ڈسکوری چیلنج ' ہے۔ اس مقابلہ کا اعلان کراچی میں ٹیکنالوجی انکیوبیٹر اور کمیونٹی مرکز پاکستان سوفٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (پاشا) میں دی نیسٹ آئی/او کی جانب سے دو روزہ دوسری سالانہ ٹیکنالوجی کانفرنس 021 ڈس رپٹ (021Disrupt)میں کیا جائیگا جو 10نومبر سے شروع ہوکر11نومبر کو اختتام پذیر ہوگی۔ اس اوپن مقابلے میں کمپنی کے عالمی عزم 'کچرے سے پاک دنیا ' پر کام میں ہم آہنگی کے ساتھ جدید، موثر، قابل عمل اور کم لاگت کے آئیڈیاز کے ذریعے ہر طرح کے پلاسٹک کچرے کو کم کرنے اور اسے ری سائیکل کرنے کے طریقوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ 

داسانی ڈسکوری چیلنج میں شرکاء کو اپنے بہترین نئے آئیڈیاز سامنے لانے کے لئے مدعو کیا جائے گا جو پلاسٹک سے پھیلنے والی آلودگی سے نمٹنے کے لئے قابل عمل اور انتہائی موثر ہوں گے۔ یہ آئیڈیاز چاہے پلاسٹک ویسٹ مینجمنٹ کے وسیع شعبہ میں کسی بھی حصہ سے تعلق رکھتے ہوں، جیسے پلاسٹک کے استعمال میں کمی، پلاسٹک کچرا جمع کرنا، ترتیب سے ان کا انتظام اور ری سائیکلنگ وغیرہ شامل ہیں ۔ اس مقابلہ کے شرکاء کے لئے بنیادی توجہ اس بات پر ہوگی کہ وہ جدید آئیڈیاز سامنے لائیں، جن میں پولی تھائی لین ٹیرفتھالیٹ (پی ای ٹی) پلاسٹک کو جمع کرنے کا ماڈل اور آگہی پیدا کرنے کی حکمت عملیاں، پی ای ٹی کو ترتیب کے ساتھ منظم رکھنے کا ماڈل، کوکا۔کولا کی پی ای ٹی بوتلوں کو عام پلاسٹک کچرے سے الگ کرنا (شاپنگ بیگز، ریپرز، لیبلز، فوڈ پیکجنگ وغیرہ) اور پی ای ٹی کیلئے موثر اور ماہرانہ ری سائیکلنگ ماڈلز شامل ہیں۔ 

کوکا۔کولا کمپنی پاکستان و افغانستان کے جنرل منیجر رضوان خان نے اس سرگرمی کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا، "ایک ذمہ دار کاروباری ادارہ ہونے کے طور پر کوکا۔کولا کمپنی ماحولیاتی تحفظ کے لئے وسیع اقسام کے مختلف اقدامات میں پہل کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ اس ہدف کے حصول کے لئے کمپنی مقامی تنظیموں، این جی اوز، انڈسٹری، حکومت اور صارفین کے ساتھ فعال انداز سے اشتراک کر رہے ہیں۔ ہم اکھٹے ہو کر اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ فیکٹری اور گھروں سے نکلنے کے بعد پیکیجنگ کو تلف ہونے کیلئے اس مقام تک پہنچنے سے روکیں جہاں سے اس کا تعلق نہیں ہے ۔"

ویسٹ مینجمنٹ کے عالمی بحران کے تناظر میں کوکا۔کولا کمپنی نے 19 جنوری 2018 کو اپنی پروڈکٹ پیکیجنگ پالیسی 'کچرے سے پاک دنیا ' کا آغاز کیا ہے جس میں کمپنی بھرپور انداز اور پر عزم ہدف کے ساتھ سال 2030 تک ہر ایک کے لئے بوتل یا کین واپس لینے میں معاونت کرے گی۔ کمپنی کا ہدف یہ ہے کہ سال 2030 تک ری سائیکلنگ کو مزید قابل رسائی بنا کر 100 فیصد کچرا جمع اور ری سائیکل کیا جاسکے، جس سے لوگوں میں آگہی پیدا ہو کہ یہ کچرا کہاں اور کس طرح سے ری سائیکل کیا جاتا ہے ، ہم اپنی پیکیجنگ کو 100 فیصد د وبارہ قابل استعمال بنانے کے لئے مسلسل کوشاں ہیں ۔ 

کوکا۔کولا کی جانب سے انفرادیت اور ماحول دوستی پر مبنی اس مقابلہ کا اعلان ٹیکنالوجی کانفرنس 021 ڈس رپٹ کے دوسرے روز 11 نومبر 2018 کو کیا جائے گا اور اس سلسلے میں انٹریز 11نومبر سے لیکر 11 دسمبر 2018 تک وصول کی جائیں گی۔ اس مقابلے میں حصہ لینے اور مقابلے سے متعلق مزید تفصیلات اس لنک (www.coca-colajourney.com.pk) پر دستیاب ہوں گی۔ اس مقابلے کے بارے میں مزید سوالات کے لئے شرکاء اس ای میل (cpakistanpac@coca-cola.com) پر رابطہ کرسکتے ہیں۔ 




حبیب بینک نے اپنے صارفین کو ڈیٹا محفوظ ہونے کی یقین دہانی کرادی، بینک کے مطابق سسٹم پر کوئی سائبر حملہ نہیں ہوا

حبیب بینک نے اپنے صارفین کو ڈیٹا محفوظ ہونے کی یقین دہانی کرادی، بینک کے مطابق سسٹم پر کوئی سائبر حملہ نہیں ہوا



کراچی : دنیا بھر بشمول پاکستان میں ای کامرس اور پلاسٹک منی (کارڈز) کے استعمال کا بڑھتا ہوا رجحان دیکھنے میں آیا ہے،جس کے بعد کسٹمرز کے فنانشل ڈیٹا کو نقصان پہنچانے کی کوششوں اور واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔جہاں دنیا بھر میں مالیاتی ادارے اپنے کسٹمرز کو محفوظ اور باسہولت ماحول فراہم کرنے کے لیے ان چیلنجز سے نبردآزما ہورہے ہیں ، HBL بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ 

سائبر حملوں سے متعلق حالیہ خبروں کے پیشِ نظر ، HBL اپنے کسٹمرز کو یقین دہانی کراتا ہے کہ HBL اور اس کے کسٹمرز اِن حملوں سے محفوظ ہیں۔ ہمارے تمام سسٹم باخوبی آپریٹ کررہے ہیں اسی لیے اب تک کسٹمرز کی معلومات کو نقصان پہنچنے کا کوئی واقع پیش نہیں آیا۔ برائے مہربانی HBL کی تمام سروسز اور پروڈکٹس بلا جھجک اور پُراعتماد انداز میں استعمال کرتے رہیں۔

پاکستان کا سب سے بڑا بینک ہونے کی حیثیت سے ،HBL اپنے کسٹمرز کی معلومات کو محفوظ بنانے کے لیے ریگولیٹرز اور گلوبل پیمنٹ سروس فراہم کنندگان کے ہمراہ کام کرتا ہے۔اپنے کسٹمرز کے اعتماد اور بھروسے کو قائم رکھنے کے لیے ہم مسلسل مصروفِ عمل ہیں۔ ہم اپنے کسٹمرز کے تحفظ اور سیکورٹی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل اپنے سسٹم کو بہتر بنانے میں کوشاں ہیں۔ ہم اپنے کسٹمرز کو دھوکہ دہی کی سرگرمیوں سے بچنے کی آگاہی اوررہنمائی کے لئے باقاعدگی سے بذریعہ ایس ایم ایس، ای میلز ، سوشل میڈیا، لیف لیٹس/بروشرز اور معلوماتی پیغامات بذریعہ اپنے ڈیجیٹل پلیٹ فارمزکئی اقدامات کررہے ہیں ۔

HBL اپنے کسٹمرز کی فنانشل سیکورٹی کو اوّلین ترجیح دیتا ہے اور HBL کی مینجمنٹ اپنے تمام کسٹمرز کو اس بات کی یقین دہانی کراتی ہے کہ ہم اپنے سسٹم کو اس قسم کے چیلنجز سے نبردآزما ہونے اور اپنے کسٹمرز کی معلومات اور ڈیٹا کو محفوظ بنانے کے لیے مسلسل بہترین اقدامات کررہے ہیں۔ 


تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں