3 دسمبر، 2016

چترال میں جنگلات کی بے دریغ کٹائی کے خلاف احتجاج

چترال (نیوز ڈیسک) پشاور میں چترال میں جنگلات کی غیر قانونی اور بے دریغ کٹائی کے خلاف اختجاجی مظاہری کیا گیا۔ اختجاج میں تحریک انصاف کی حکومت سے اس اہم مسئلے کی جانب توجہ دینے اور اس کا سختی سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔ ایسے نہ کرنے کی صورت میں صوبے بھر میں اختجاجی مظاہرے کئے جائیں گے۔  مظاہرین شیرشاہ سوری روڈ پر جمع ہوگئے تھے اور مختلف بینر اٹھائے ہوئے تھے، بینر میں مطالبات درج تھے۔ 

جماعت اسلامی چترال کے مرکزی لیڈر اور سابق ممبر قومی اسمبلی  مولانا عبدالکبر چترالی اختجاجی مظاہری کی سربراہی کررہے تھے۔ مظاہرین نے میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ تحریک انصاف کی حکومت میں چترال کے جنگلات کی بے دریغ اور بے رحمانہ کٹائی ہورہی ہے جسے فوری طور پر بند ہوجانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے نمائندے ایک منظم سازش کے تحت چترال کے جنگلات کی بے دریغ کٹائی شروع کر رکھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت 'انڈس کوہستان پالیسی' چترال میں لاگو کررہی ہے جس کے تحت چترال تحصیل  دروش اور  تحصیل چترال میں جنگلات کی بے رحمانہ کٹائو کروارہی ہے۔


2 دسمبر، 2016

بھارت میں فیکٹری کے اندر دھماکہ، آگ بھڑک اٹھی 15 مزدور ہلاک


نئی دلی(ویب ڈیسک) بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت کی ایک ریاست تامل ناڈو میں واقع ایک فیکٹری میں زور دار دھماکہ
ہوا ہے، جس کے نتیجے میں فیکٹری میں آگ بھڑک اٹھی آگ کی زد میں آکر 15 مزدور ہلاک ہوگئے ہیں۔ بھارت کی جنوبی ریاست تامل ناڈو میں فیکٹری میں اچانک دھماکہ ہوا جس کے بعد آگ فیکٹری میں بھڑک اٹھی جو دیکھتے ہی دیکھتے فیکٹری کی پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ کی شدت کی وجہ سے تمام فکٹری میں موجود تمام چیزیں جل کر خاکستر ہوگئیں اورفیکٹری میں کام کرنے والے 15 مزدور بھی جل کر ہلاک ہوگئے۔ متعدد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ فیکٹری انتظامیہ کے مطابق دھماکے کے وقت فیکٹری میں 18 ملازمین کام کررہے تھے تاہم دھماکے کی وجوہات کا ابھی تک تعین نہیں ہوسکا ہے۔

1 دسمبر، 2016

ایسے جرنیل کی شدت سے ضرورت تھی | نصرت جاوید

بشکریہ نوائے وقت 28 نومبر 2016

تین ہفتے قبل جب جنرل قمر جاوید باجوہ کے ایمان پر سوالات اٹھانے والی گھنائونی مگرمنظم مہم شروع ہوئی تو مجھے سمجھ آ گئی۔ یہ بات عیاں ہوگئی کہ پاکستان کے تیسری بار منتخب ہوئے وزیراعظم کسی سازشی گروہ کی دھونس میں نہیں آ رہے۔

2014ء کے اختتامی ایام میں ایک اہم ترین اجلاس ہوا تھا۔ اس اجلاس میں موجود کئی وزراء جنرل راحیل شریف کے انتہائی شکرگزار نظر آئے وہ بضد رہے کہ عمران خان کا دھرنا آرمی چیف کو اقتدار پر قبضہ کرنے کی طرف راغب نہیں کرپایا۔ وزیر اعظم نے ان وزراء کی سوچ سے ہرگز اختلاف نہیں کیا۔ ایک بات مگر دھیمے انداز میں کھول کر بیان کردی کہ وہ جنرل راحیل شریف کے ’’احسان‘‘ کا بدلہ ان کی مدتِ ملازمت میں توسیع کی صورت ادا نہیں کریں گے۔ انہیں وقتِ معینہ پر ریٹائرہونا ہے۔

نواز شریف اپنے دل کی بات شاذہی زبان پر لاتے ہیں۔ ان کی اس بات کی اہمیت کو سمجھے بغیر 2015ء کا پورا سال ہم نے ’’تھینک یو راحیل شریف‘‘ کی نذر کردیا۔ ان کی مدتِ ملازمت میں توسیع سے کہیں بڑھ کر جنرل راحیل شریف کو ’’فیلڈمارشل ‘‘ بنانے کی بات بھی شروع ہوگئی۔

اپنے مستقبل کے بارے میں برپا شور سے تنگ آکر جنرل راحیل شریف نے 2016ء کے آغاز ہی میں باقاعدہ اعلان کردیا تھا کہ وہ اپنی مدتِ ملازمت میں توسیع کے ہرگز خواہاں نہیں۔ ریاست کے استحکام کے لئے افراد نہیں ادارے اہم ہوا کرتے ہیں اور پاکستان آرمی اس ملک کا طاقت ور ترین ادارہ ہے۔ اس ادارے کا نظم اور اجتماعی سوچ ان کی نظر میں اہم ترین ہے۔

لاہور کی گلیوں میں لیکن کہا جاتا ہے کہ نوجوان بیوہ اپنی بیوگی کو کسی ویران کونے میں دبک کر خاموشی سے گزارناچاہے تو بھی محلے کے اوباش لونڈے اسے چین سے رہنے نہیں دیتے۔ نواز شریف کے طرز حکمرانی پر مجھے بھی شدید اعتراضات ہیں۔ سب سے زیادہ گلہ اس حقیقت کی وجہ سے کہ ووٹ کی طاقت سے تیسری بار منتخب ہوئے وزیر اعظم نے اپنی جماعت اور پارلیمان کو متحرک رکھتے ہوئے جمہوری اقداروروایات کو مستحکم نہیںبنایا ہے۔ریاستِ پاکستان کے بارے میں بنیادی فیصلے کرنے کا اختیار مسلسل ریاست کے غیر منتخب اداروں کی طرف منتقل ہوجاتا چلا جارہا ہے۔ وہ اس بارے میں قطعاََ بے نیاز نظر آتے ہیں ان کی فیصلہ سازی،سازشیوں کے گروہوں میں گرفتار دربار میں تخت پر بیٹھے شاہ کے احکامات کی صورت ہمارے سامنے آتی ہے۔

نواز شریف مگر خوش نصیب اس لئے بھی ہیں کہ ان کی اصلی تے وڈی اپوزیشن یعنی عمران خان اور ان کی تحریک انصاف کوبھی متحرک اور توانا سیاسی عمل کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی وہ اس گماں میں مبتلا ہیں کہ قلعہ بنی گالہ کی فصیل پر چند پش اپس لگاکر دکھائی جائیں تو ’’ایمپائر‘‘ اُنگلی کھڑی کردے گا۔ نواز شریف کو سیاسی میدان سے باہر نکال کر نئے انتخابات کچھ اس انداز میں ہوتے نظر آئیں گے جو عمران خان کو وزیر اعظم بنانے کی راہ بنائیں۔
لاہور کے ایک ملامتی فقیر شاہ حسین نے صدیوں پہلے سمجھا دیا تھا کہ تخت مانگنے سے نہیں ملا کرتے۔اسے جدوجہد کے ذریعے چھینا جاتا ہے۔ ویسے بھی نواز شریف کو ریاست کا دائمی اور منظم ادارہ عمران خان کی سہولت کے لئے کیوں ہٹائے گا؟’’میرے عزیز ہم وطنو‘‘ کہنے کے بعد ریاستی معاملات کو خود ہی سنبھالنا پڑتا ہے۔

جنرل کیانی کے 6 سالوں کے دوران ویسے بھی یہ ادارہ اپنے Leverageکی خوب شناخت کرچکا ہے۔ مشرف کے انجام کے بعد اسے سمجھ آچکی ہے کہ اس ملک کی سیاست کوایک خاص سمت پر رواں رکھنے کے لئے صبر اور وقت درکار ہے۔ خود سامنے آنا بھی ہرگز ضروری نہیں۔ سیاست دان اگر بنیادی فیصلے کرنے کی صلاحیت وجرأت سے محروم ہیں تو ان کی نااہلی خلقِ خدا کے سامنے پوری طرح عیاں ہونی چاہیے وہ مسلسل تنقید کی زد میں رہتے ہوئے ہی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھ پائیں گے اور شاید بالآخر انہیں وہ اختیار استعمال کرنے کا ہنر بھی آجائے جو ان کا حق ہوا کرتا ہے۔
ہماری سیاست اور میڈیا پر حاوی’’اوباش لونڈوں‘‘ کا گروہ مگر ان حقیقتوں کا ادراک کرنے میں قطعاََ ناکام رہا۔ جنرل راحیل شریف میں ’’دیدہ ور‘‘ ڈھونڈنے کا سلسلہ جاری رہا۔ بالآخر بات بنتی نظر نہ آئی تو ایک نئی گیم لگادی گئی۔ نواز شریف کو بے بس ومعطل ثابت کرنے کے لئے بڑے اعتماد سے اپنی پسند کے حق گو صحافیوں کو سمجھ دیا گیا کہ فلاں شخص کو ’’ادارے‘‘ نے اس ملک کے اہم ترین عہدے کے لئے ’’چن‘‘ لیا ہے۔ اس فلاں کی متوقع ٹیم کے اسماء اور ان کے لئے ممکنہ عہدوں کا ذکر بھی شروع ہوگیا۔

مجھے وحشت ناک حیرت مگر اس وقت ہونا شروع ہوئی جب بہت ہی جہاندیدہ صحافی اور مبصرین نے بھی ’’فیصلہ ہوچکا ہے‘‘والی داستان پھیلانا شروع کردی۔ ایسا کرتے ہوئے انہیں اس بنیادی حقیقت کا احساس تک نہیں ہوا کہ پاکستان میں آئین نام کی بھی ایک شے ہوا کرتی ہے۔ یہ دستاویز وزیر اعظم کو آرمی چیف کا نام طے کرنے کا ’’کلی اختیار‘‘ فراہم کرتی ہے۔
’’فیصلہ ہوچکا ہے‘‘ کی گردان کرتے غلامانہ ذہنوں کو یہ بھی یاد نہ رہا کہ جنرل کیانی بھی اپنی رخصت کو یقینی ہوتا دیکھ کر ایک ’’ٹیم‘‘ تیار کرچکے تھے اس کے قائد اور اہم اراکین کا ’’تعین‘‘ بھی ہوچکا تھا۔ نواز شریف نے مگر جنرل راحیل شریف کو چن کر ہم سب کو حیران کردیا تھا۔ ان کی تعیناتی کے چند ہی ہفتے بعد ’’تھینک یو راحیل شریف‘‘ کی دھن الاپنے والوں کو یاد ہی نہ رہا کہ 2013کے وسط میں جب جنرل کیانی کے ممکنہ جانشینوں کے نام اخبارات میں زیر بحث تھے تو جنرل راحیل شریف کو "Mediocre General"پکارکرریس سے باہر گردانا گیا تھا۔
چند ٹھوس اشاروں کی بنیاد پر تقریباََ تین ماہ قبل مجھے اندازہ ہوگیاتھا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ جنرل راحیل شریف کے بعد پاک فوج کی کمان سنبھالیں گے۔ وجہ ان کے انتخاب کی صرف وہ کردار نہیں تھا جو راولپنڈی کا کور کمانڈر ہوتے ہوئے انہوں نے دھرنے کے دنوں میں ادا کیا تھا۔ بنیادی وجہ یہ تھی کہ اپنے ملک کو عالمی اور علاقائی سطح کا تھانے دار بنانے کے جنون میں مبتلا نریندر مودی لائن آف کنٹرول کو مسلسل حالتِ جنگ میں رکھنا چاہ رہا ہے۔ اسے یقین ہے کہ گلگت سے پنجاب کے قلب تک پہنچتی طویل ترین سرحد پر مسلسل کشیدگی کو برقرار رکھنا شاید پاکستان کے لئے معاشی اعتبار سے طویل عرصے تک ممکن نہیں ہوگا۔

ہمیں ایک ایسے جنر ل کی شدید ضرورت تھی جو لائن آف کنٹرول سے جڑی حقیقتوں سے بخوبی آشنا ہو۔ جسے سفارت کاری کے ہنر کی بھی خوب سمجھ ہو۔ قمر جاوید باجوہ اس حوالے سے ایک انتہائی تجربہ کار شخص ہیں۔ اقوام متحدہ کے ایک امن مشن کے لئے فوجی خدمات سرانجام دیتے ہوئے وہ نام نہاد عالمی برادری کی ترجیحات اوربھارتی عسکری قیادت کے ذہن کو بھی خوب جانتے ہیں لائن آف کنٹرول پر جس نوعیت کا دبائو بھارت اپنے جنون میں بڑھاسکتا ہے، اسے جنرل باجوہ وقت سے کہیں پہلے بھانپ سکتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ان کے ذہن میں کچھ ایسی چالیںبھی ضرور ہوں گی جو بھارت کو لائن آف کنٹرول پر کشیدگی بڑھاتے ہوئے اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام بناسکیں۔

ان کے انتخاب کو مشکل بنانے والی سازش مگر بہت گھنائونی تھی۔ اپنے مفادات کی تکمیل کی خاطر اندھے ہوئے سازشیوں کو یہ احساس بھی نہ ہوا کہ جنرل باجوہ کے ایمان پر سوالات اٹھاتے ہوئے درحقیقت پاکستان کے منظم ترین ادارے کی ساکھ کو نقصان پہچایا جارہا ہے۔ یہ ادارہ جب سیاسی گند میں دانستہ یا نادانستہ طورپر درآتا ہے تو میں ہمیشہ معترض ہوتا ہوں۔
پاک آرمی کا متعصب ترین نقاد بھی لیکن یہ بات تسلیم کرنے پر مجبور ہے کہ اس ادارے میں بھرتی کے پہلے دن سے اعلیٰ ترین عہدوں تک پہنچنے کے تمام تر مراحل شفاف ترین انداز میں صرف اور صرف میرٹ کی بنیاد پر طے ہوتے ہیں۔
جنرل باجوہ ان تمام مراحل کی چھلنی سے گزرکر لیفٹیننٹ جنرل بنے تھے۔ ان کے کیرئیر کے حتمی مرحلے پر ان کے ایمان پر سوالات اٹھانا ایک سفاکانہ عمل تھا۔ اس عمل کے ذمہ داروں کی نشاندہی ضروری ہے۔انہیں بے نقاب کرتے ہوئے سزا کے عمل سے نہ گزارا گیا تو آئندہ ہونے والی سازشیں کہیں زیادہ تباہ کن ثابت ہوسکتی ہیں۔

29 نومبر، 2016

چین نے تیور بدل لیا، مسلمانوں کی ایک ایسی چیز پر سخت پابندی لگا دی، کہ مسلمان پریشان

بیجنگ (ویب ڈیسک) چین کے حلال کھانوں پر پابندی سخت کرنے کے فیصلے نے مسلمانوں کو بے چین کرکے رکھ دیا ہے۔ چین میں 2 کروڑ 30لاکھ سے زائد مسلمان رہتے ہیں اس کے باوجود چینی حکومت نے مسلمانوں کی اہم چیز یعنی حلال خوراک پر پابندیاں سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ یہ فیصلہ جان کر چین میں رہنے والے اور چین کا سفر کرنے والے مسلمانوں کو دکھ ہوا ہے۔ 

بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق چینی حکومت نے ملک میں حلال کھانوں کے پابندیاں سخت کرکے اعلان جنگ کر دیا ہے۔ چینی حکومت کا خیال ہے کہ حلال اشیاء کا پھیلتا ہوا دائرہ ملک میں شدت پسندانہ رجحان پیدا کر رہا ہے، لہٰذا اسے محدود رکھنے کے اقدامات پر غور ہورہا ہے ۔ بیجنگ کی یونیورسٹی منزو کے ایک پروفیسر ژیانگ کن کا خیال ہے کہ ”بعض غیرملکی کمپنیاں حلال فوڈ کے نام پر ایسے خیالات ہوا دے رہی ہیں جو چین کی قومی سلامتی، معاشرتی استحکام اور شہری اتحاد کے لیے خطرہ ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین کے شعبہ مذہبی امور کے اعلیٰ عہدیدار وینگ ژﺅن کا کہنا تھا کہ 

”حکومت اس معاملے پر بہت پریشان ہے کہ مذہب ملک کی سیکولر زندگی میں بہت زیادہ مداخلت کر رہا ہے۔ لہٰذا ہم حلال فوڈ کے تصور کو پھیلانے کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ مسلمانوں کوبھی مذہبی شدت پسندی کی مخالفت کرنی چاہیے۔ چین میں اسلام کی ترقی چینی خصوصیات کے حامل نظام اشتراکیت کے ساتھ جڑی ہونی چاہیے۔“

وینگ ژﺅن نے مزید کہا ہے کہ حلال فوڈ کی بعض بیرونی کمپنیاں حلال کھانوں کے تصور کو کچھ اس ڈھنگ سے بڑھاوا دے رہی ہیں کہ اس سے انتہاء پسندی کو فروغ ملنے کا خطرہ ہے۔ 

پاک فوج کی کمان جنرل راحیل شریف نے نئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو سونپ دی



راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) آج راولپنڈی میں ایک پروقار روایتی تقریب میں پاک فوج کی کان جنرل راحیل شریف نے نئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو سونپ دی۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک فوج کی کمان باضابطہ طور پر سنبھال لی وہ پاک فوج کے 16 ویں آرمی چیف ہیں۔ 

راولپنڈی کے آرمی ہاکی اسٹڈیم میں سبکدوش ہونے والے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے پاک فوج کی کمان کی تبدیلی کی پروقار تقریب سے خطاب کیا اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ’میں اللہ کا شکر گزار ہوں جس نے مجھے دنیا کی بہترین فوج کی قیادت کا موقع دیا‘۔ جنرل راحیل شریف نے اس موقع پر سیاسی قیادت اور میڈیا کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ ان کا تعاون بھی فوج کی کوششوں میں شامل رہا۔ 

سبکدوش ہونے والے جنرل راحیل شریف نے کہا کہ ملک کو پیچیدہ چیلنجز کا سامنا ہے اور ہمیں درپیش خطرات ابھی ختم نہیں ہوئےمکمل امن کے حصول کے لیے ہمارا سفر قدم بقدم جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے جارحانہ اقدام نے خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ شریف نے بھارت کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ہماری تحمل کی پالیسی کو کمزوری سمجھنا خود بھارت کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں امن و خوشحالی کی واضح مثال چائنا پاکستان اقتصادی راہداری ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ سی پیک کے دشمن اپنی دشمنی ترک کرکے اس کے ثمرات میں شریک ہوں۔ جنرل راحیل شریف نے کہا کہ ’پاک فوج سے رخصت ہوتے ہوئے مجھے خوشی ہے کہ میری زندگی سب سےعظیم قوم اور سب سے باوقار ادارے کی خدمت کے لیے وقف رہی‘۔ جنرل راحیل نے مزید کہا کہ میں بھارت پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہماری تحمل کی پالیسی کو کمزوری سمجھنا بھارت کے لیے خطرناک ثابت ہوگا۔ 

28 نومبر، 2016

بھارت صرف خواب میں سرجیکل سرائیک کرسکتا ہے، فضل الرحمٰن کو کشمیر کمیٹی سے استعفیٰ دے دینا چاہئے: لارڈ نذیر

بھارت صرف خواب میں سرجیکل سرائیک کرسکتا ہے، فضل الرحمٰن کو کشمیر کمیٹی سے استعفیٰ دے دینا چاہئے: لارڈ نذیر

پاکستانی سیاست کا بڑا نام اور سابق وفاقی وزیر کی تحریک انصاف میں شمولیت


سرگودھا (ویب ڈیسک) مسلم لیگ ق کے ایک اہم رہنما اور سابق وزیر سینئر سیاستدان مخدوم فیصل صالح حیات نے تحریک انصاف میں شامل ہوگئے ہیں، اور ان کی جانب سے باقاعدہ اعلان جلد ہی بھی متوقع ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ فیصل صالح حیات سے اس ضمن میں تحریک انصاف کے مرکزی رہنما شاہ محمود قریشی نے 2 ملاقاتیں کی ہیں اورانھیں تحریک انصاف میں شمولیت کی دعوت دی تھی، فیصل صالح حیات نے شاہ جیونہ میں جلسہ کرکے پی ٹی آئی میں شمولیت کا اعلان کرنے کا عندیہ دیا ہے اور اس جلسے میں تحریک انصاف کے چیرمین سمیت پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت شرکت کریگی جب کہ شاہ محمود قریشی مخدوم کو پیشکش کی ہے کہ وہ اسلام آباد یا لاہور میں کسی ایک مقام پرپارٹی قیادت کے ہمراہ تحریک انصاف میں شمولیت کااعلان 
کریں۔


فیصل صالح حیات کا تعلق جھنگ سے اور 1952 میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ 2002 میں پیپلزپارٹی پارلیمینٹرین کی ٹکٹ پر ممبر نیشنل اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ بعد ازاں مسلم لیگ ق میں شامل ہوگئے۔ مختلف وزارتوں پر رہے۔ بعد میں سابقہ وزیر دفاع راؤ سکندرکے ذریعے (ق) لیگ میں شمولیت اختیارکی تھی اور جنرل پرویز مشرف کے کہنے پرانہوں نے سابق وزیراعظم میرظفراللہ خان جمالی کو ووٹ دے کر وزیر اعظم بنوایا تھا۔

ایک نظر ادھر بھی : چترال میں موبائل اور موٹر سائیکلوں کا بے جا استعمال: تحریر انجنیئر وسیم سجاد

میرا تعلق چترال کے ایک دورآفتادہ علاقہ کھوت سے ہے کہنے کو تو یہ ایک پیارا گاؤں ہے اور اسی گاؤں نے بہت سے نامورشخصیات اپنے گود سے جنم دے چکا ہے جن میں ڈاکٹرز، انجنیئرز، سیاستدان، مایائےناز سوشل ورکرز، اساتذہ اور دیگر شعبون سے تعلق رکھنے والے نامور لوگ شامل ہیں۔ سرسبز پہاڑوں کے بیچوں بیچ واقع یہ وادی اپنی خوبصورتی اور مہمان نوازی سے بہی پہچانا جاتا ہے اور موجودہ دور میں یہ تیزی سے ترقی کرنے والے علاقوں میں سرفہرست ہے۔ 

لیکن آج میں آپکی توجہ اس پیارے سے گاؤں کے ایک بہت بڑے مسئلے کی طرف دلانا چاہتا ہوں۔ میرا مطلب کھوت اور اسکے آس پاس کے علاقوں میں موبائل سروس کا آغاز، انٹرنیٹ کا بےمقصد استعمال، موٹرسائیکلوں کی تعداد میں بےانتہا اضافہ، ہماری نوجوانان نسل اور انکا مستقبل۔ 

کہنے کو تو موبائل سروس کا آغاز اور انٹرنیٹ کا استعمال ہمارے گاؤں اور ضرورت مندوں کے لئے بہت خوشی کا باعث ہے جس سے ہمارے کئ کام گھر بیٹھے بیٹھے ھو جاتے ہیں اور اسی کی بدولت ھم خود کو ترقی یافتہ لوگوں میں شامل کر سکتے ہیں۔ جسکے لئے ھم Telenor ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

لیکن اس علاقے کے نوجوانوں کی بربادی میں اسکا بھت بڑا کردار ہوگا اور بچی کچی کثر موٹرسائیکل سواری کا رجحان پورا کرے گی۔ کافی عرصے بعد اپنے گاؤں واپس آنے کا شرف حاصل ہوا لیکن یہاں آکر یہاں کے حالات دیکھ کر بہت دکھ ہوا کہ ہماری نوجوان نسل ایک مکمل غلط سمت پر جارہی ہے اور اسی راستے سے نہ تو انکو کوئی روکنے والا ہے اور نہ ہی کسی کی روک ٹوک ان پر کوئی اثر رکھتی ہے۔ میرا ایسے بچوں سے بھی واسطہ پڑا جو سکول کالج چھوڑ کہ مزدوری کرتے ہیں جب ان سے وجہ جاننے کی کوشش کی تو جواب ملا کہ پڑھائی میں کیا رکھا ہے مزدوری کا اچھا ریٹ مل رہا ہے اور انہی پیسوں سے موٹرسائیکل اور موبائل فون خریدنا ہے۔ اور جو اسکول کالج جاتے بھی ہیں ان میں پڑھائی کا کوئی جذبہ نہیں حال یہ ہے کہ بستے کی جگہ موٹرسائیکل اور ھاتھ میں کتابوں کی جگہ موبائل پکڑے اسکول کالج آتے جاتے ہیں اور وژن انکا یہ ہے کہ بڑے ہو کر اس سے جدید موٹرسائیکل اور بڑا والا ٹچ اسکرین موبائل لینا ہے۔ ڈاکٹر انجنیئر پائلٹ کپٹیں اور کسی بڑے عہدے پر فائز افسر کی وژن رکھنے والا شاید ہی کوئی ملے۔ اسکول سے واپس آکر پڑھائی تو دور کی بات یہ ہوم ورک کرنے سے بھی کتراتے ہیں کیونکہ انکا قیمتی وقت ضائع ہو جاتا ہے کیونکہ اس وقت انکو موٹرسائیکل پر سیروتفریح کے لئے جانا ہوتا ہے۔ تو یہ اپنا قیمتی وقت پڑھائی کی بجائے بایک چلانے انڈین ڈرامے فلمیں دیکھنے میں گزارنا پسند فرماتے ہیں۔ اور سونے پہ سہاگہ اب آیا Telenor اب رات کی پڑھائی بھی گئی اب پیکیج لیا اور ساری رات دوستوں سے گپوں میں گزار دیا۔ وہ کہتے ہیں نہ کہ خربوزہ خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے بس یہاں یہی حال ہے ایک دوسرے کو دیکھا دیکھی ماڈرن بننے کی کمپیٹیشن لگی ہوئی ہے لیکن افسوس صد افسوس یہی کمپیٹیشن تعلیم کی میدان میں ہوتا تو کتنا اچھا ہوتا۔ اور مجھے ان والدین سے بھی گلہ ہے جو اپنے بچوں کی ہر غیرضروری خواہش پوری کرنے میں ایک لمحہ بھی نہیں سوچتے اگر اپنے بچوں کے لئے موٹرسائیکل موبائل فون اور ایسی بگاڑنے والی چیزیں خریدنے کی بجائےاگر یہی پیسہ انکی تعلیم و تربیت پر لگائیں تو انکا آنے والا کل بہتر ہوسکتا ہے۔ لیکن ہمارا یہ معاشرہ جس سمت میں اتنی تیزی سے جا رہی ہے اگر یہی حال رہا تو مجھے انکا مستقبل نہایت ہی تاریک نظر آرہا ہے۔اور آنے والے وقت میں تعلیم کے میدان میں ہم کسی بھی ترقیافتہ ممالک کا مقابلہ نہیں کرپائین گے۔اور کل کو یہ ایک نہایت بےکار شہری ثابت ہونگے۔ کوئی بھی کامیابی آسانی سے نہیں ملتی اسکے لئے محنت شرط ہے اور ایک بات دعوے سے کھ سکتا ہوں ڈاکٹر انجنیئر پائلٹ افسر کپٹیں بننا صرف کچھ لوگوں کا میراث نہیں انسان محنت کرے تو کچھ بھی مشکل نہیں۔ 

اب یہ آپ پر ہے کہ آپ خود کو یا اپنی اولاد کو مستقبل میں کہاں دیکھنا پسند کروگے۔ ایک ڈاکٹر انجنیئر پائلٹ کپٹیں افسر کی روپ میں یا اجرت پر کام کرنے والے مزدور یا پھر ایک ناکارہ شھری کی روپ میں۔ ایک بیکار کی زندگی یا معاشرے میں عزت و مقام کی زندگی۔ فیصلہ آپکے ھاتھ میں۔

کچھ بننا ہے تو اپنا آج بدل ڈالو۔


26 نومبر، 2016

کھوار باشونو: کھوارو مشہور باشیاکان ہوازا 17 بو مشہور باشونو

چترال ویدیوز کی پلے لسٹ جس میں ہرقسم کی ویڈیو دیکھنے کو ملیں گی

خوبصورت چترالی ستار،


25 نومبر، 2016

دوست ملک چین میں پیش آیا بڑا حادثہ ، 74 افراد ہلاک کئی زخمی

بیجنگ (ویب ڈیسک) دوست پڑوسی ملک چین کے جنوبی صوبے جیانگ ژی میں ایک پاور پلانٹ کے قریب تعمیر کردہ پلیٹ فارم کی عمارت گر گئی جس کی وجہ سے 75 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے ہیں۔ پلیٹ فارم مرمتی کام کے دوران
گر گیا۔ چینی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق جنوبی صوبے جیانگ ژی کے شہر فینگ چینگ میں کولنگ پاور پلانٹ کے نزدیک تعمیر یہ پلیٹ فارم مرمتی کام کے دوران گر گیا جس سے 40 افراد ہلاک اور کئی افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ چین کے سرکاری حکام کے مطابق پلیٹ فارم گرتے وقت درجنوں مزدور مرمتی کام میں مصروف عمل تھے۔ کئی افراد تاحال مبلے تلے دبے ہوئے ہیں جن کو نکالنے کی کوششیں جاری ہیں، ریسکیو حکام امدادی کاروائیوں میں مصروف ہیں۔ گرنے کی وجوہات کو جاننے کی بھی کوشش ہورہی ہے۔

عراق میں زائرین خود کش حملہ، 73 افراد ہلاک 40 ایرانی شامل

بغداد (مانیٹرنگ ڈیسک) عراق میںش شیعہ زائرین پر کار بم دھماکہ کیا گیا ہے جس میں 73 زائرین ہلاک اور درجنوں
زخمی ہوگئے ہیں جان بحق افراد میں 40 کا تعلق ایران سے ہے ۔  داعش نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔  غیر ملکی نیوز ایجنسی  کے مطابق عراق کے دارالحکومت بغداد سے 100 کلو میٹر دور علاقے الہیلا میں زائرین پر کار میں باردی مواد اور بم رکھ کر دھماکہ کیا گیا زائرین کربلا سے روضہ امام حسین ؓ کی زیارت کے بعد واپس آرہے تھے کہ ایک پیٹرول پمپ کار کو دھماکے سے اڑا دیا گیا جس کے نتیجے میں 73 افراد موقع پر ہی جان بحق ہوگئے اور ایک درجن سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔ دھماکے کی وجہ سے قریبی ہوٹل اور پیٹرول پمپ کو بھی شدید نقصان پہنچا جب کہ داعش نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ہلاک افراد کی تعداد اس سے بھی کہیں زیادہ ہے ۔ عراقی حکام کے مطابق زائرین حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے روضہ مبارک کی زیارت کے بعد واپس آرہے تھے کہ الہیلا کے علاقے انہیں ٹارگٹ کیا گیا جب کہ متاثرہ افراد میں ایران اور بحرین سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں۔

24 نومبر، 2016

بھارتی در اندازی میں پاک فوج کے کیپٹن سمیت 3 فوجی شہید ہوگئے

راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت کو امن راس نہیں آتی۔ لائن آف کنٹرول بلا اشتعال کاروائیوں سے پاک فوج برہم ۔ بھارتی فوج کی اشتعال انگیزی بدستور جاری ہے اور پاک فوج اینٹ کا جواب پتھر سے دے رہی ہے۔ بھر پور اور موثر جواب نتیجے میں دشمن کے مزید 7 فوجی جہنم واصل ہوئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے جاری بیان کے مطابق لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج شہری آبادی پر گولہ باری کر رہی ہے، جس کے جواب میں پاک فوج بھی انتہائی موثر انداز میں منہ توڑ جواب دے رہی ہے۔ کنٹرول لائن پر حالیہ جھڑپ کے نتیجے میں پاک فوج کے 3 اہلکار شہید ہوگئے تھے۔ لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت پر دفاع وطن میں استور سے تعلق رکھنے والے کیپٹن تیمورحسین اور سکردو کے دو سپاہی مشتاق اور غلام حسین شہید ہو گئے جبکہ غذر سے تعلق رکھنے والے کیپٹن زاہد شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ موثر جوابی کارروائی میں بھارت کے 7 فوجی بھی مارے گئے اور ان کی کئی چوکیوں کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔

مقبوضہ کشمیر میں جاری حق خود ارادیت کے لیے جاری جدو جہد کو دبانے میں ناکامی کے بعد بھارت نے لائن آف کنٹرول، ورکنگ باؤنڈری پر پر اشتعال انگیزی اور اندرون پاکستان مختلف مذموم کاروئیاں کروارہا ہے ۔

میر ولی استاذو ہوازا 2 بو شیلی با شونو

آرمی چیف کی جانب سے جاتے جاتے شاہد آفریدی کو بڑا تخفہ

آرمی چیف جنرل راحیل شریف جاتے جاتے شاہد خان آفریدی کو بڑا تخفہ دے گئے۔ خیبر ایجنسی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد خان آفریدی اسٹیڈیم کا افتتاح کردیا۔


شاہد آفریدی کے کرکٹ کے میدان میں خدمات کے اعتراف میں آرمی چیف نے ان کے آبائی گاوں میں اسٹیڈیم کی تعمیر کا آغاز کردیا ہے۔ شاہد آفریدی نے بھی اس بات کا اعلان سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیا۔ جبکہ آئی ایس پی آر نے تصویریں بھی جاری کردیں۔

شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ جنرل راحیل شریف پاکستان کے ہیرو ہیں، ساتھ ہی انھوں نے تعاون کرنے پر جنرل راحیل شریف کا شکریہ بھی ادا کیا۔

مشہور اشاعتیں


تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget