-->
اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔
اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

30 جولائی، 2021

فیصل آباد کی ایک مسجد کے امام کےموبائل سے نوجوان طالبات کی ہزاروں تصاویر پکڑیں گئیں،امام مسجد لڑکیوں کی تصویر وائرل کرنے کی دھمکی دے کر بلیک میل کرتا تھا : امام گرفتار

فیصل آباد  کی ایک مسجد کے امام کےموبائل سے نوجوان طالبات کی ہزاروں تصاویر پکڑیں گئیں،امام مسجد لڑکیوں کی تصویر وائرل کرنے کی دھمکی دے کر بلیک میل کرتا تھا  : امام  گرفتار



فیصل آباد(این این آئی/آن لائن  30 جولائی 2021) فیصل آباد میں امام مسجد کے موبائل فون سے نوجوان طالبات کی ہزاروں تصاویر پکڑیں گئیں، امام مسجد لڑکیوں کو تصویر وائرل کی دھمکی دے کر بلیک میل کرتا تھا، پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لی۔تفصیلات کیمطابق پولیس نے فیصل آباد میں ایک امام مسجد کو گرفتار کیا ہے، جس کے موبائل فون سے سکول اور کالج میں پڑھنے والی ہزاروں طالبات کی تصاویر پکڑی گئیں، پولیس نے اپنی تفتیش کے دوران بتایا ہے کہ ملزم لڑکیوں کی تصاویر وائرل کرنے کی دھمکی دیتا تھا، ایک خاتون کی جانب سے شکایت پر پولیس نےملزم کو گرفتار کر لیا-

 امام مسجد کی شناخت عنایت رسول کے نام سے ہوئی ہے- فیصل آباد پولیس نے بلیک ملینگ کا مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کیا ہے- ملزم کے خلاف مزید تفتیش کی جارہی ہے- اس واقعے کا انکشاف ہونے کے بعد علاقہ مکین کافی مشتعل ہو گئے اور انہوں نے ملزم کو فوری بنیادوں پر سزا دینے کا مطالبہ کیا- علاقے میں حالات کی کشیدگی کو دیکھتے ہوئے پولیس نے ملزم کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔تفصیلات کے مطابق خواتین کی بے ہودہ تصاویر بنانے پر امام مسجد کیخلاف مقدمہ درج، پولیس نے مزید تفتیش شروع کر دی۔

 تھانہ چک جھمرہ میں رسول پور کے رہائشی عبداﷲ نے مقدمہ نمبر 544/21 جرم 592،509 ت پ کے تحت درج کروائے موقف اختیار کیا کہ مسجد لاثانی گلزار مدینہ ڈوگرانوالہ میں 132 کا رہائشی عنایت رسول امام مسجد ہے لیکن شرعی لباس کے لبادہ میں عنایت رسول انتہائی بے شرم اور اخلاق یافتہ کام کرتا اپنے موبائل فون میں آتی جاتی خواتین کی تصاویر بنواتا مذکورہ ملزم سکول جاتی لڑکیوں اور بازار جاتی عورتوں کی تصاویر اپنے موبائل فون میں محفوظ کر لیتا تھا بعدازاں بلیک میل کر کے اپنی غیر مناسب خواہشات کو باور کرنے کے لیے انکی مختلف حالت میں تصاویر بناتا شک پڑنے پر اس کا موبائل فون چیک کیا تو اس کے پاس مختلف تصاویر محفوظ کرنے والی ڈیوائسز بھی برآمد ہوئیں، عورتوں کی مختلف زاویوں سے تصاویر بنا کر عزت نفس کو مجروع کرتا رہا۔

مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے پیٹر سجن9 سال بعد بھی واپس نہ آسکے، انہیں اغواء برائے تاوان کے لئے پشاور سے 2012 کو اغواء کیا گیا تھا

مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے پیٹر سجن9 سال بعد بھی  واپس نہ آسکے، انہیں اغواء برائے تاوان کے لئے پشاور سے 2012 کو اغواء کیا گیا تھا



چترال (گل حماد فاروقی 29 جولائی 2021) مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے  پیٹر سجن  پشاور  کے بھانہ مانڑی بازار میں سینیٹری کا کاروبار کررہے تھے۔ 4 جون 2012 کو چند نامعلوم اغواء کار اس کے دکان پر آکر اسے کام کے  بہانے اپنے پاس لے گئے۔ گھر والوں نے شام تک انتظار کیا مگر جب وہ گھر واپس نہ لوٹے تو تھانہ بھانہ مانڑی میں ا س کی گمشدگی کا روزنامچہ درج کروایا۔ اس دوران اغواء کاروں نے پیٹر سجن کی ہی موبائیل فون سے اس کے اہل حانہ سے رابطہ کرکے بیس لاکھ روپے بطور تاوان مانگے۔ یہ غمزدہ خاندان  یہ رقم دینے کو بھی تیار تھے  مگر اغواء کاروں نے پہلے پیسوں کا مطالبہ کیا کہ اسے ایک حاص جگہہ میں رکھ دیا جائے اور بعد میں پیٹر سجن کو چھوڑ دیا جائے گا۔ تاہم اس کے گھر والوں کو اغواء کاروں پر بھروسہ نہیں تھا کہ وہ ایڈوانس میں تاوان کا رقم لیکر اسے چھوڑ بھی دیں گے یا نہیں۔

متاثرہ حاندان نے ا س کی گمشدگی کا روزنامہ پولیس اسٹیشن بھانہ مانڑی میں درج کروایا تھا اور 17 اگست 2012 کو باقاعدہ تعزیرات پاکستان کے دفعہ 365 کے تحت FIR کٹوایا۔ اس کے بیٹے جانگیر پیٹر کا کہنا ہے کہ پولیس نے ابھی تک اس کیس میں  سوائے ہمیں تنگ کرنے کے اور ٹال مٹول سے کام لینے کے علاوہ کچھ بھی نہیں کیا۔  پیٹر سجن کی بیوی  نسرین پیٹر کا کہنا ہے کہ جب سے ان کی میاں اغواء ہوا ہے  ہمارا پورا خاندان غم سے نڈھال ہے اور وہ اس کی غم میں بیمار پڑ چکی ہے۔ اس کی بیٹی شہلا پیٹر کا کہنا ہے کہ ہم روز ابو کی بازیابی کیلئے دعا مانگتے ہیں مگر ہم ابو کو دیکھنے کو بھی ترس گئے۔  عادل پیٹر اس کا چھوٹا بیٹا ہے ان کا کہنا ہے کہ وہ ابو کے غم میں ڈپریشن کا مریض بن چکا ہے اور ہر روز ابو کے انتظار میں ان کی راہ تکتے ہیں۔

مناہم کی عمر چھ سال ہے جو اس کی پوتی ہے وہ صرف اپنے دا دا کی تصویر ہی سے پیار کرسکتی ہے جسے دیکھ کر اس کی آنکھوں میں آنسوں بھر آتی ہے۔  اس کے چھوٹے بھائی اعمانیول سجن کا کہنا کہ وہ پولیس کی کارکردگی سے نہایت مایوس  ہے۔ پیٹر سجن کی بہو  نداء جانگیر کا کہنا ہے کہ اس کی سسر کے اغواء کے بعد ا ن کی کوئی  بھی دن خوشی سے نہیں گزرتی اور کوئی بھی اہم دن ہم نہیں منا سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں تھانہ بھانہ مانڑی کے تفتیشی آفیسر انسپکٹر واجد شاہ سے جب پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ کیس کاونٹر ٹیریریزم  ڈیپارٹنمنٹ CTD کے پاس گیا ہے اور اس میں دو مشکوک بندے گرفتار بھی ہوئے تھے جو بعد میں ضمانت پر رہا ہوگئے۔ پولیس کا موقف جاننے کیلئے ایس ایس پی انویسٹی گیشن شہزادہ کوکب سے  بار بار رابطہ کرکے ان  کا موقف جاننے کی کوشش کی مگر انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس کے بیٹے جانگیر پیٹر نے بتایا کہ اغوا ء کاروں نے میرے ابو کی موبائل نمبر 033391354197 سے ہی ہمیں پشاور کے محتلف مقامات سے اور ایک بار جہلم سے بھی فون کرکے بیس لاکھ روپے مانگے مگر ابھی کافی عرصہ گزرگیا کہ انہوں نے رابطہ نہیں کیا۔

پیٹر سجن کا غمزدہ خاندان وزیر اعظم پاکستان،چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف آف آرمی سٹاف سے اپیل کرتے ہیں کہ  پیٹر سجن کو  اغواء کاروں کی چنگل سے  بازیاب  کرایا جائے  تاکہ اس کے گھر والے سکھ کا سانس لے اور ان کے ہاں بھی خوشیاں  لوٹ آئے۔




گزشتہ کئی روز سے کورونا کا شکار جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی طبیعت زیادہ بگڑ گئی

گزشتہ کئی روز سے کورونا کا شکار جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی طبیعت  زیادہ بگڑ گئی

(ویب ڈیسک ) گزشتہ کئی روز سے  کورونا وائرس کا شکار سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی طبیعت ناساز ہو گئی، ڈاکٹرز نے ان کا 2 بار معائنہ کیا ہے۔عدالتی ذرائع کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو بولتے ہوئے تکلیف کا سامنا ہے، وہ کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آنے پر گھر میں قرنطینہ کیئے ہوئے ہیں۔ عدالتی ذرائع کا کہنا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو گزشتہ رات اسکین کیلئے اسپتال بھی لے جایا گیا، ان کی اہلیہ سرینا عیسیٰ کی طبیعت بھی گزشتہ روز بگڑ گئی تھی۔عدالتی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ڈاکٹرز نے گزشتہ روز مسز سرینا عیسیٰ کا بھی معائنہ کیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آن لائن ڈھائی گھنٹے تک جوڈیشل کمیشن کا اجلاس اٹینڈ کیا تھا۔عدالتی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اجلاس کے بعد سے بولتے وقت سینے میں شدید دکھن شروع ہوئی جس پر انہیں اسکین کیا گیا، جبکہ مسز سرینا عیسیٰ کو ڈرپ کے ذریعے 2 بار دوا دی گئی۔  

28 جولائی، 2021

خیبر پختونخواٹیکنالوجی بورڈاور ڈیمو کی جانب سے خواتین انٹرپرنئیرزکیلئے پہلی خصوصی ٹریننگ ورکشاپ کا آغاز کردیا گیا

خیبر پختونخواٹیکنالوجی بورڈاور ڈیمو کی جانب سے خواتین انٹرپرنئیرزکیلئے پہلی خصوصی ٹریننگ ورکشاپ کا آغاز کردیا گیا



 خیبر پختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ(KPITB)  اور ڈیمو (Demo) نے درشلز، خیبر پختونخوا میں SheMeansBusiness ٹریننگ ورکشاپ کا آغا ز کردیا ہے۔ یہ سہ روزہ ڈیجیٹل مارکیٹنگ اینڈفنانشل منیجمنٹ ورکشاپ درشل پشاور میں منعقد کی گئی۔

2016میں شروع ہونے والے فیس بک کے SheMeansBusiness پروگرام نے ہنرمندی کی ٹریننگ اور کاروبار کی تحریک کے ذریعے خواتین انٹرپرینئرزکو ڈیجیٹل اکنامی میں شامل کرنے کیلئے تعاون کیا۔ عالمی تحقیق نے اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کے فروغ دینے میں خواتین انٹر پرینئرز فعال کردار ادا کرتی ہے۔ اس مشن کو آگے بڑھانے کیلئے DEMO نے  KPITBکے  اشتراک سے درشلز کمیونٹی کی سات جگہوں پر سہ روزہ کیپسٹی بلڈنگ ٹریننگ ورکشاپس کی سیریز کا اہتمام کیا۔ درشلز، خیبرپختونخوا میں کمیونٹی کے مخصوص جگہیں ہیں، جن کا مقصدنوجوانوں کواشتراک، جدت، ٹریننگ تک رسائی اور نئے کاروبارکے آغاز کیلئے مواقع فراہم کرنا ہے۔

 ٹریننگ پروگرام میں میزبانی اور تفریح سے لے کرہیلتھ کیئر اور تعلیم تک مختلف صنعتوں سے تعلق رکھنے والی خواتین انٹرپرینئرز نے شرکت کی۔ ان کو پریزنٹیشنز اور عملی مظاہروں کے ذریعے سوشل میڈیا کے ذرائع کے استعمال، مواد کی تخلیق، آن لائن مارکیٹنگ اور فنانشل منیجمنٹ سے متعلق ہنر اور صلاحیتوں کے بارے میں تربیت فراہم کی گئی۔

ڈیمو کے سی ای او،محمد بن مسعود نے ورکشاپ میں خطاب کرتے ہوئے کہا،" مجھے اپنے شرکاء کی دلچسپی اور جذبے کو دیکھ کر بہت خوشی ہورہی ہے۔SheMeansBusinessپروگرام سے کے۔ پی۔ کے  کی خواتین کو عالمی معیار کے نصاب سے سیکھنے اور ڈیجیٹل اور فنانشل علم کے حصول سے اپنے کاروبار کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔مجھے یقین ہے کہ ڈیجیٹل ہنرمندی آج کی اور مستقبل کی ضرورت ہے اور خواتین انٹرپرنئیرز کے باصلاحیت گروہ کو علم کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کرنے میں خوشی محسو س کررہا ہوں۔میں بہت پرجوش ہوں اور مجھے توقع ہے  بقیہ درشلز میں ہونے والی آئندہ ورکشاپس میں زیادہ پذیرائی حاصل ہوگی۔"

اس موقع پر (کے پی آئی ٹی بی)کے منیجنگ ڈائریکٹر، ڈاکٹر صاحبزادہ علی محمود نے اپنی تقریر میں کہا،" اس پروگرام کا آغازان انٹرپرنیئرزکیلئے بہت خوشی کا موقع ہے جو کاروباری افراد، خصوصاََ خواتین، ڈیجیٹل دور میں کا میابی کے حصول کیلئے مطلوبہ صلاحیتوں کے حصول کے خواہشمند ہیں۔ اس ٹریننگ کی پذیرائی دیکھ کر میں بہت پر امید ہوں کہ اس قدم سے کے پی کے کی خواتین انٹرپرینئرز میں ڈیجیٹل ہنرکو فروغ دینے میں مدد ملے گی جس سے ہماری معیشت میں نمایاں تبدیلی آئے گی۔"

اگلی ور کشاپ آنے والے مہینوں میں ایبٹ آباد، سوات، صوابی، بنوں اور مردان کے درشلز میں منعقد کی جائے گی۔

درشل (پشتو میں اس کے معنی "داخلی دروازہ("، خیبر پختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ(KPITB)کا ایک پروجیکٹ ہے جو صوبے بھرمیں کمیونٹی کی مخصوص جگہوں کے نیٹ ورک کے قیام کے ذریعے خیبرپختونخواکے ڈیجیٹل میں تبدیلی کے لئے تشکیل دیا گیا ہے۔ پروجیکٹ کا مقصد نوجوانوں کواشتراک، جدت، ٹریننگ تک رسائی اور نئے کاروبارکے آغاز کیلئے مواقع فراہم کرنا ہے۔درشلز خیبر پختونخوا کے 7اضلاع میں کام کررہا ہے اور کئی طرح کی سہولتیں، فنانس تک رسائی، نیٹ ورکنگ کے مواقع، انکیوبیشن سائیکلز، ورکشاپس اور بوٹ کیمپس، سکھانے اورکوچنگ اور بین الاقوامی ایکسپوژر پیش کرتاہے۔

DEMO ایک منیجمنٹ ایجنسی ہے جو مختلف النوع خصوصیات، جیسے جدت اور انٹرپرینئرشپ، اسکل ڈیولپمنٹ، ٹیکنالوجی ایجوکیشن، سوشل میڈیااور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کیلئے مشاورت، ٹریننگز، سروسز اور تخلیق فراہم کرتی ہے۔  www.demo.org.pk

27 جولائی، 2021

موبی لنک مائیکروفنانس بینک کے ریونیو میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 98 فیصد اضافہ ہوا

موبی لنک مائیکروفنانس بینک کے ریونیو میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 98 فیصد اضافہ

اسلام آباد، 27جولائی، 2021 ۔ پاکستان کے سب سے بڑے ڈیجیٹل بینک، موبی لنک مائیکروفنانس بینک لمیٹڈ (ایم ایم بی ایل) نے 30 جون 2021 کو اختتام پذیر ہونے والے مالی سال کی پہلی ششماہی کے مالیاتی نتاءج کا اعلان کیا ہے ۔ بینک نے صف اول کے ڈیجیٹل بینک کے طور پر مارکیٹ میں اپنی ساکھ کو مجموعی ریونیو میں 98 فیصد اضافے کے ساتھ مزید مستحکم بنایا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی ،بینک کے قبل از ٹیکس منافع میں سال 2020 کی پہلی ششماہی کے مقابلے میں 14601 فیصد اضافہ ہوا ۔ بینک نے کرونا سے منسلک غیریقینی حالات کے باوجود گزشتہ سال کے مقابلے میں تمام شعبوں کے اندر کامیابی سے ترقی کا سفر جاری رکھا ۔

انڈسٹری میں 50 ہزار روپے کی اوسط کے برخلاف، ایم ایم بی ایل کی پہلی ششماہی کے دوران کا اوسط لون ٹکٹ 168,000 روپے رہا اور اسکے آگے بڑھنے کا سلسلہ جاری ہے ۔ بینک کے بنیادی بینکنگ ریونیو میں 80 فیصد اضافہ ہوا جبکہ برانچ لیس بینکنگ کا ریونیو اسی مدت کے دوران 27 فیصد بڑھا ۔ اسی طرح، بنیادی اور برانچ لیس بینکنگ کا قبل از ٹیکس منافع 467 فیصد اور 285 فیصد بالترتیب بڑھا ۔

بینک کی کارکردگی پر اظہار خیال کرتے ہوئے ایم ایم بی ایل کے پریذیڈنٹ اور سی ای او ، غضنفر عزام نے کہا، ;34;اپنی مستحکم کاروباری کارکردگی اور خدمات کی فراہمی میں اعلیٰ ترین معیار برقرار رکھنے کے عزم کی وجہ سے ہم تمام شعبوں میں متاثرکن کارکردگی پیش کرنے پر خوش ہیں ۔ تاہم، ہماری کاوشوں کو صارفین کے بینک پر غیرمتزلزل اعتماد اور پسندیدگی سے حوصلہ ملتا ہے ۔ ہ میں خوشی ہے کہ ایم ایم بی ایل ملک گیر سطح پر مسلسل پھیل کر مارکیٹ میں اپنی ساکھ کو مستحکم بنا رہا ہے ۔ میں بھی ایم ایم بی ایل کی پوری ٹیم کی محنت، عزم اور شاندار کارکردگی کا اعتراف کرتا ہوں جس کی بددولت ہمارا بینک دیگر ڈیجیٹل بینکوں میں نمایاں انداز سے ابھر کر ہمیشہ سامنے آیا ہے ۔ ;34;

ایم ایم بی ایل کے چیف فنانس اینڈ ڈیجیٹل آفیسر، سردار محمد ابوبکر نے کہا، ;34; موجودہ مالیاتی نتاءج اس بات کا ثبوت ہیں کہ تیزرفتار کاروباری ماڈلز اور صارفین کے لئے خصوصی سہولیات سے نمایاں اہمیت پیدا کرنے پر ہماری بہترین انداز سے توجہ ہے ۔ کرونا سے منسلک غیریقینی حالات میں یہ انتہائی کارآمد رہے ہیں ، اسکے نتیجے میں مجموعی طور پر انڈسٹری کو آنے والے دنوں اور مہینوں میں منفرد انداز سے سہولیات کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہوگی ۔ ;34;

اپنے صارفین کو ڈیجیٹل سہولیات کی فراہمی کے لئے بینک نے حال ہی میں اپنی مکمل ڈیجیٹل بینکنگ ایپلی کیشن ;39;دوست;39; متعارف کرائی ہے تاکہ صارفین کو ملک بھر میں کسی بھی مقام سے کسی بھی وقت اپنے وسیع ڈیجیٹل اور مالیاتی ایکو سسٹم کی باسہولت رسائی فراہم کی جائے ۔

ایم ایم بی ایل ملک کے دور دراز علاقوں تک اپنے برانچ اور برانچ لیس نیٹ ورک کے ذریعے اپنی تمام وسیع اقسام کی ڈیجیٹل اور مالیاتی خدمات پہنچانے کے لئے پرعزم ہے ۔ بینک معیاری مالیاتی خدمات کی باسہولت رسائی کے ذریعے بنکاری سے محروم افراد ، بالخصوص خواتین اور چھوٹے و درمیانی کاروباری اداروں پر خصوصی توجہ دیتا ہے ۔ یہ خدمات کاروباری امور میں بہترین انداز سے سہولت فراہم کرتی ہیں اور عوام کے سماجی و معاشی حالات میں بہتری کے سلسلے میں مالی انتخاب پر انہیں زیادہ اختیار حاصل ہوتا ہے ۔

چترال میں افغان آرمی کے 5 افسروں سمیت 46 جوانوں نے پاکستان آرمی سے سے محفوظ راستے کی درخواست کردی

چترال میں افغان آرمی کے 5 افسروں سمیت 46 جوانوں نے پاکستان آرمی سے سے محفوظ راستے کی درخواست کردی 




ویب ڈیسک (26 جولائی 2021)  افغان نیشنل آرمی کے لوکل کمانڈرز کا چترال میں پاکستان آرمی سے رابطہ ہوا ہے۔ جس میں انہوں نے پاکستان سےمحفوظ راستے کی درخواست کی ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق افغان فوج نے 5 افسروں سمیت 46 جوانوں کیلئے محفوظ راستے کی درخواست کی تھی جس کے لئے انہیں پاکستان میں پناہ اور محفوظ راستہ دیا گیا۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق افغان نیشنل آرمی کے جوان چترال میں ارندو سیکٹر میں رات گئے پہنچے تھے، افغان فوج کے 5 افسروں سمیت 46 جوانوں کوپاکستان میں پناہ اورمحفوظ راستہ دیا گیا۔

افغان کمانڈر کے مطابق موجودہ صورتحال میں سرحد پر چوکیاں برقرار نہیں رکھ سکتے، افغانستان سے پناہ کی درخواست کرنے والوں میں بارڈر پولیس کے اہلکار بھی شامل ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق پاک آرمی نے معلومات اور ضروری کارروائی کے لیے افغان آرمی سے رابطہ کیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج نے افغان فوجیوں کو کھانا، پناہ اور طبی امداد دی گئی، افغان فوجیوں کو ضروری طریقہ کار کے بعد افغان حکومت کے حوالے کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی یکم جولائی کو بھی 35 افغان فوجیوں نے محفوظ راستے کی درخواست کی تھی، پاکستان نےاس وقت بھی پناہ اورمحفوظ راستہ دینے کے بعد افغان فوجیوں کوافغان حکام کےحوالے کیا۔

24 جولائی، 2021

سینٹر فار چائینیز لیگل اسٹڈیز ، لمز یونیورسٹی میں پاک چین تعلقات اور سی پیک کے موضوع پر ورچوئل کانفرنس کا انعقاد ، مقررین کا خطاب

 سینٹر فار چائینیز لیگل اسٹڈیز ، لمز یونیورسٹی میں پاک چین تعلقات اور سی پیک کے موضوع پر ورچوئل کانفرنس کا انعقاد  ،  مقررین کا خطاب 

گوادر پورٹ کا سی پیک پر انحصار ہے، یہ بحیرہ عرب کا  روٹر ڈیم بننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ سینیٹر مشاہد حسین سید 

لاہور، 23 جولائی، 2021۔ لمز یونیورسٹی کے شیخ احمد حسن اسکول آف لاء (ایس اے ایچ ایس او ایل) کے سینٹر فار چائینیز لیگل اسٹڈیز (سی سی ایل ایس) نے حال ہی میں "سی پیک: پاک چین سیکورٹی و اسٹریٹجک تعاون" کے موضوع پر ورچوئل کانفرنس کا انعقاد کیا۔ اس کانفرنس میں چیئرمین دفاعی کمیٹی سینیٹر مشاہد حسین سید، ایس اے ایچ ایس او ایل کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ پروفیسر عذیر جے کیانی، اور سی سی ایل ایس کے ڈائریکٹر پروفیسر سکندر اے شاہ نے شرکت کی۔ اس پروگرام میں پاک چائنا انسٹی ٹیوٹ کے ممبرز اور لمز کمیونٹی سے وابستہ افراد بھی شریک ہوئے۔ 

پروفیسر عذیر کیانی نے سینیٹر مشاہد حسین سید کا خیرمقدم کیا جو پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات کے فروغ اور ایسے وقت میں انکی اہمیت کو نمایاں انداز سے سامنے لائے جب دنیا پالیسی میں غیرمعمولی تبدیلی کا مشاہدہ کررہی ہے۔ پروفیسر سکندر شاہ نے اس پروگرام میں ماڈریٹر کے فرائض سرانجام دیئے اور سی پیک سے متعلق سیکورٹی چیلنجز اور مواقع پر تبادلہ خیال کیا۔

سینیٹر مشاہد حسین سید نے پاک چین تعلقات کا اجمالی جائزہ پیش کیا اور واضح کیا کہ یہ تعلقات صرف سی پیک کے بنیادی پروجیکٹ تک محدود نہیں ہیں۔ انہوں نے صدر بائیڈن کی کثیر الجہتی طریقہ کار پر بھی گفتگو کی جس کا مقصد دنیا بھر میں اور خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو کنٹرول کرنا ہے۔ انہوں نے امریکہ، جاپان، آسٹریلیا اور بھارت کے درمیان چہار فریقی سیکورٹی ڈائیلاگ، جی 7 ممالک کے اجلاس، امریکہ۔ نیٹو اجلاس، اور امریکہ۔ یورپی یونین اجلاس پر اظہار خیال کیا اور ہر اجلاس میں واضح طور پر چین کو عالمی سیکورٹی چیلنج کے طور پر پیش کیا گیا۔ 

انہوں نے چائنا گلوبل ٹیلی ویژن نیٹ ورک پر وزیر اعظم عمران خان کے حالیہ انٹرویو کا بھی حوالہ دیا جس میں اس عزم کا ایک پھر اظہار کیا گیا کہ پاکستان کسی بیرونی دباؤ پر چین کے ساتھ اپنے تعلقات میں کمی نہیں لائے گا۔ 

انہوں نے افغانستان سے امریکی انخلاء اور اسکے نتیجے میں تشدد بڑھنے، اور انٹرا افغان ڈائیلاگ میں تعطل پر بھی اظہار خیال کیا۔ انہوں نے سی پیک سے متعلق پروجیکٹس پر تفصیل سے روشنی ڈالی جو خطے میں تعاون، تجارت، کامرس اور کنکٹویٹی بڑھانے اور پاکستان کی توجہ جیو پالیٹکس سے جیو اکنامکس کی جانب منتقل کرنے کے لئے انتہائی اہم ہیں۔ انہوں نے گوادر پورٹ کا بھی حوالہ دیا جس کا انحصار سی پیک پر ہے اور چیف جیوپالیٹیکل انالسٹ رابرٹ کیپلن کے الفاظ میں یہ بندرگاہ بحیرہ عرب کا  روٹر ڈیم بننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ 

انہوں نے واضح کیا کہ سی پیک کے پہلے مرحلے کے پروجیکٹس کی تکمیل سے پسماندہ اور سہولیات سے محروم علاقوں جیسے تھر میں تاریخ ساز تبدیلیاں آئیں۔ انہوں نے سی پیک کے دوسرے مرحلے پر بھی اظہار خیال کیا جس میں زراعت، تعلیم، سماجی و معاشی ترقی، اسپیشل اکنامک زونز اور چھوٹے و درمیانی چینی  اداروں کی نقل مکانی پر توجہ دی جائے گی جس سے پاکستان میں معاشی و انسانی ترقی میں مزید اضافہ ہوگا۔ 

انہوں نے پاکستان اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک تعاون پر بھی اظہار خیال کیا اور بتایا کہ چین نے اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں متعدد مسائل سے متعلق پاکستان کی کاوشوں کی پشت پناہی کی۔ انہوں نے پاکستان اور چین کو اپنے حریفوں سے درپیش ہائبرڈ جنگ کے مشترکہ چیلنج پر بھی اظہار خیال کیا جن پر سی پیک سے متعلق غلط فہمیوں کا خاتمہ کرکے قابو پایا جاسکتا ہے۔ 

سینیٹر مشاہد حسین نے اختتام پر پاکستان کی خارجہ پالیسی میں چین کے اہم کردار کا حوالہ دیا اور پاکستان میں انفراسٹرکچر اور انسانی ترقی میں سی پیک کے غیرمعمولی مواقع کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ چیلنجز کے باوجود پڑوسی ممالک سے بڑھتے تعلقات کے ساتھ ساتھ خطے میں سی پیک کے اعتبار سے پاکستان کی تزویراتی اہمیت مسلمہ ہے۔ 

پروفیسر سکندر شاہ نے کانفرنس کے شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے سی پیک اور آزمائش کی ہر گھڑی میں ثابت قدم پاک چین تزویراتی تعاون سے متعلق تعلیمی مباحثوں اور اس موضوع پر تعلیمی مواد کی تیاری کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ 

پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 10 لاکھ سے تجاوز کر گئی، مثبت کیسز کی شرح 5.56 فیصد رہی

پاکستان میں کورونا وائرس  سے متاثرہ افراد کی تعداد 10 لاکھ سے تجاوز کر گئی، مثبت کیسز کی شرح 5.56 فیصد رہی

کراچی  (ویب ڈیسک ) پاکستان میں عالمی وبا کورونا کے باعث گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 11 افراد سے انتقال کر گئے اور 1425 نئے مریض بھی سامنے آئے۔ پاکستان میں کورونا کے اعداد و شمار بتانے والی ویب سائٹ (covid.gov.pk) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا کے 25215 ٹیسٹ کیے گئے جس میں سے 1425 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی جبکہ وائرس سے مزید 11 افراد انتقال کر گئے۔ سرکاری پورٹل کے مطابق ملک میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 5.56 فیصد رہی۔ این سی او سی کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں کورونا سے اموات کی تعداد 22939 ہو چکی ہے جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد 10 لاکھ34 تک پہنچ چکی ہے۔

اس کے علاوہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 543 افراد کوورنا سے صحتیاب بھی ہوئے جس کے بعد ملک میں وبا سے شفایاب ہونے والے افراد کی تعداد 9 لاکھ 23 ہزار 472 ہو گئی ہے جبکہ ملک میں فعال کیسز کی تعداد 53623 ہو گئی ہے۔

نامور سینئر صحافی عارف نظامی انتقال کر گئے ، لاہور میں تدفین ، اہم شخصیات کی شرکت

نامور سینئر  صحافی عارف نظامی انتقال کر گئے ، لاہور میں تدفین ، اہم شخصیات کی شرکت

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) نامور پاکستانی صحافی اور سابق نگراں وفاقی وزیر عارف نظامی انتقال کر گئے۔عارف نظامی انگریزی اخبار پاکستان ٹوڈے کے بانی و ایڈیٹر اور نوائے وقت اخبار گروپ کے بانی حمید نظامیکے بیٹے تھے۔عارف نظامی گزشتہ دو ہفتوں سے لاہور کے مقامی ہسپتال میں زیر علاج تھے جہاں وہ آج خالق حقیقی سے جا ملے ہیں۔عارف نظامی کے بھانجے بابر نظامی نے بھی سینئر صحافی کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وہ عارضہ قلب میں مبتلا تھے۔

وزیراعظم عمران خان اور وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے عارف نظامی کے انتقال پر دکھ کا اظہار کرتےہوئے ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی ہے۔عارف نظامی نے خاندانی اختلافات کے باعث 2010 میں انگریزی اخبار 'دی نیشن' کو خیر باد کہہ کر 'پاکستان ٹو ڈے' کی بنیاد رکھی تھی۔

2013 میں عارف نظامی کو نگراں وفاقی وزیر برائے اطلاعات و پوسٹل سروسز بنایا گیا اور 2015 میں آپ نجی ٹی وی چینل 'چینل 24' کے سی ای او بنے جہاں سے آپ ایک پروگرام کی میزبانی بھی کرتے تھے۔

عارف نظامی ایک نامور  پاکستانی صحافی اور نگراں وفاقی وزیر تھے  اور پاکستان ٹوڈے کے بانی تھے۔ اس سے قبل ، وہ دی نیشن کے ایڈیٹر رہ چکے ہیں ، اور نگراں وزارت میں وزیر اطلاعات و پوسٹل سروس کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔ 14 اکتوبر 1948 میں پیدا  ہوئے  اور 21 جولائی 2021 کو وفات پاگئے۔

23 جولائی، 2021

چترال کے تحصیل میونسپل انتظامیہ کے عملہ نے عید کے دوسرے دن بھی قربانی کی جانوروں کی آلائشیں اٹھانے کا کام جاری رکھا

چترال کے تحصیل میونسپل انتظامیہ کے عملہ نے عید کے دوسرے دن بھی قربانی کی جانوروں کی آلائشیں اٹھانے کا کام جاری رکھا

چترال (گل حماد فاروقی)  ٹی ایم اے چترال کے عملہ نے تحصیل میونسپل آفیسر مصباح الدین کے زیر نگرانی چترال کے محتلف علاقوں سے قربانی کی جانوروں کی آلائشیں اٹھاکر چترال کو صاف رکھنے کی روایات برقرار رکھی۔ TMA کے عملہ نے جانوروں کی اجڑی وغیرہ اٹھاکر اسے تلف کیا۔ ٹی ایم کے عملہ نے عید کے پہلے سے صفای کا عمل جاری رکھا۔ TMOچترال نے محتلف علاقوں میں عملہ اور ٹرالی بھیج کر جانوروں کی آلاشیں اٹھا دی ۔ ٹی ایم اے کے عملہ نے گندگی اٹھاکر چترال کو صاف رکھنے کی روایات برقرار رکھا۔

چترال کا علاقہ نہایت وسیع ہونے کی وجہ سے اسے صاف رکھنا نہایت مشکل ہے کیونکہ  TMAکے پاس گاڑیوں اور دیگر وسائل کی نہایت کی نہایت کمی ہے جس کی وجہ سے روزانہ کی بنیاد پر چترال کو صاف رکھنا نہایت مشکل ہوتا ہے ۔ ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوۓ تحصیل میونسپل آفیسر مصباح الدین نے کہا کہ وسایل کی کمی کے باوجود ہمارا عملہ نہایت دلفشانی سے کام کرتے ہوۓ چترال کو صاف ستھرا رکھنے کی کوشش کرتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ چترال رقبے کی لحاظ سے صوبے کا بڑا ضلع ہے مگر ہماری کوشش ہے کہ اسے گندگی کی بجاۓ پھولوں کا شہربںاۓ ۔ دریں اثناء چترال کے سیاسی اور سماجی طبقہ فکر نے ٹی ایم کی کوششوں کو سراہتے ہوئے صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ TMA  چترال کے لیے گاڑیوں اور دیگر جدید مشنری اور سامان کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ چترال کو حقیقی معنوں میں پھولوں کا شہر بنا سکے اور ہسپتال سمیت چترال کے ہر علاقے سے روزانہ کی بنیاد پر کوڑا کرکٹ اٹھایا کرے۔

جوبلی لائف انشورنس نےپاکستان ڈیجیٹل ایوارڈز 2021 دو اہم ایوارڈز جیت لئے

جوبلی لائف انشورنس نےپاکستان ڈیجیٹل ایوارڈز 2021  دو اہم ایوارڈز   جیت لئے 



کراچی:  پاکستان میں نجی شعبے کی صف اول کی لائف انشورنس کمپنی، جوبلی لائف انشورنس نے لگاتار تیسرے سال پاکستان ڈیجیٹل ایوارڈز 2021 کی تقریب میں دو اہم ایوارڈز اپنے نام کرلئے۔ اس سلسلے میں جوبلی لائف نے پی ایس ایل 5 کی مہم کے لئے غیرمعمولی رسائی پر بیسٹ کیمپین آف دی ایئر (اسمال بجٹ) کی کٹیگری کا اہم ایوارڈ اور بیسٹ سوشل میڈیا کیمپین (فیس بک) کٹیگری میں اپنی بے فکر لاؤنج کیمپین پر دوسری پوزیشن کا ایوارڈ جیت لیا۔ مسٹر بے فکر بلال اشرف اور فواد عالم جوبلی لائف کی دونوں کیمپینز کے برانڈ کے نمائندے ہیں۔ اس موقع پر بلال اشرف نے برانڈ ٹیم کے ہمراہ ایوارڈ وصول کیا۔ 

پاکستان ڈیجیٹل ایوارڈز منفرد اور غیرمعمولی آئیڈیاز کی بناء پر برانڈز کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ ان ایوارڈز میں ایسی کیمپینز کی نشاندہی کی جاتی ہے جو موثر انداز سے اپنی آڈینس کو ٹارگٹ کرتی ہیں اور انکے ساتھ شامل ہوجاتی ہیں۔ ہر اندراج کے جائزے کے لئے پاکستان ڈیجیٹل ایسوسی ایشن کی جانب سے سخت اور شفاف جانچ پڑتال کے ذریعے اہلیت کا تعین کیا جاتا ہے جس میں کیمپینز کی افادیات اور نتائج کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ 

بلال اشرف، جوبلی لائف کے ہیڈ آف مارکیٹنگ اینڈ برانڈ مینجمنٹ، سید عثمان قیصر، جوبلی لائف کے برانڈ منیجر عبدالقادر بھٹی، پرسٹیج کمیونکیشنز کے ہیڈ آف اسٹریٹجک پلاننگ محمد ذوہیب ایاز، اور جوبلی لائف کے ڈپٹی منیجر برانڈ ایکٹیویشن اینڈ پی آر عمیر شاہ ایوارڈ وصول کررہے ہیں۔ 

عائشہ بانو اور شرمیلا فاروقی کا پاکستان کی تعلیمی ایمرجنسی سے نمٹنے کے لئے قومی کمیٹی تشکیل دینے پر اتفاق

 عائشہ بانو اور شرمیلا فاروقی کا پاکستان کی تعلیمی ایمرجنسی سے نمٹنے کے لئے قومی کمیٹی تشکیل دینے پر اتفاق



"وباء سے قبل بھی پاکستان کے تعلیمی اعدادوشمار کچھ بہت حوصلہ افزاء نہیں تھے لیکن کورونا وائرس کی وباء کے بعد ملک بھر میں بچوں کے لیے تعلیم تک رسائی اور بھی مشکل ہو گئی ہے۔" ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی زرار کھوڑو نے پاکستان یوتھ چینج ایڈوکیٹس (پی۔وائے۔سی۔اے) کے زیراہتمام ایک ویبینار کے دوران کیا۔

ویبینار کے شرکاء میں ممبر سندھ اسمبلی، شرمیلا فاروقی اور ممبر خیبر پختونخواہ اسمبلی، عیشہ باننو شامل تھیں۔

ایم۔پی۔اے عائشہ بانو نے خیبر پختونخواہ حکومت کی جانب سے تعلیمی بحران پر قابو پانے کے لیے، لیے جانے والے حالیہ اقدامات پر روشنی دالتے ہوئے بتایا "اس سال کے صوبائی بجٹ میں تعلیم اور صحت میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کا اعلان کیا گیا ہے۔ اسکول سے باہر لڑکیوں کی تعداد ہمارے صوبے میں لڑکوں کی نسبت زیادہ ہے، لہذا تعلیمی ترقیاتی بجٹ کا 70 فیصدحصہ لڑکیوں کی تعلیم کے لیے مختص کیا گیا ہے۔"

عائشہ بانو نے آٹزم سے متاثرہ بچوں اور اسٹریٹچلڈرن کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی۔"ہم نے ایک قرارداد منظور کی ہے تاکہ یہیقینی بنایا جاسکے کہ صوبے کے ہر اسکول میں کسی ماہر نفسیاتیا مشیرکی بھرتی کی جا سکے۔تقریبا 1،000 کے قریب اساتذہ کو ٹرین بھی کیا جا چکا ہے تاکہ وہ سیکھنےسے معذور بچوں کی شناخت کر سکیں اور ایسے بچوں کو وہ خصوصی توجہ اور مدد فراہم کی جاسکے جسکے وہ مستحق ہیں۔"

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ، سندھ میں اسکول جانے والی عمر کے قریب 40 فیصد بچے اسکولوں میں نہیں ہیں۔ اس صورتحال میں بہتری لانے لئے حکومت سندھ کی کوششوں پر روشنی ڈالتے ہوئے ، ایم۔پی۔اے شرمیلا فاروقی نے کہا، "سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی مدد سے ہم نے کمیونٹی اسکول تشکیل دئے ہیں۔یہ اسکول کمیونٹی کی شراکت کے ساتھ چلائے جاتے ہیں۔ اسی طرح، ہم  بیٹیوںکا اسکول میںداخلا کرانے پر انکے خاندانوں کو 450 روپے مہانہ اور بیٹوں کے داخلے پر 350 روپےمہانہوظیفہ بھی دے رہے ہیں۔"

شرمیلا فاروقی نے پاکستان کی تعلیمی ایمرجنسی سے نمٹنے کے لئے قومی ٹاسک فورس یا این۔سی۔او۔سی جیسے ادارے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ “ہمیں اپنے بچوں کی حفاظت بھی اسی طرح کرنی ہو گی جس طرح ہم اپنے جوہری اثاثوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی نمائندگی کے ساتھ ایک قومی کمیٹی تشکیل دینے کی ضرورت ہے تاکہ ہم تعلیمی بحران سے نمٹنے کے لئے قومی سطح پر اجتماعی اقدامات کرسکیں۔"

یہ تشویشناک صورتحال تعلیم کے ترقیاتی بجٹ میں مستقل اضافے کا مطالبہ کرتی ہے تاکہ تعلیم سے متعلقہ اقدامات پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد کو ممکن بنایا جا سکے۔

20 جولائی، 2021

محکمہ زراعت کی کاشتکاروں کو چقندر کی کاشت وسط اگست سے شروع کر نے کی ہدایت

محکمہ زراعت کی کاشتکاروں کو چقندر کی کاشت وسط اگست سے شروع کر نے کی ہدایت



فیصل آباد  (اے پی پی 20 جولائی 2021) محکمہ زراعت نے چقندر کی کاشت وسط اگست سے شروع کر نے کی ہدایت کی ہے۔ محکمہ زراعت نےکاشتکاروں سے کہا ہے کہ وہ چقندر کی فی ایکڑ بہترین پیداوار حاصل کرنے کیلئے چقندر کی کاشت کا عمل وسط اگست سے شروع کر کے ستمبر کے آخر تک مکمل کر لیں۔محکمہ کے ترجمان نے اے پی پی کو بتایا کہ چقندر ایک انتہائی اہم، منافع بخش اور نقد آورفصل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ زرعی تحقیقی اداروں کی سالہا سال کی محنت، تجربات اور مشاہدات کے باعث جدید پیداواری ٹیکنالوجی کے استعمال سے چقندر کی فی ایکڑ پیداوار 7سو من سے بڑھ کر 12سو من تک پہنچ گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اگر کاشتکار چقندر کی کاشت کے دوران جدید سائنسی طریقہ کاشت سے استفادہ کریں تو یہ پیداوار بآسانی 15سو من فی ایکڑ تک پہنچائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاشتکار چقندر کی کاشت کیلئے مزید معلومات و رہنمائی کی غرض سے ماہرین زراعت یا محکمہ زراعت کے عملہ کی خدمات بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

کارفنانسنگ کے تحت بینکوں سے قرضوں کی فراہمی میں 11 ماہ کے دوران 41 فیصد اضافہ ہوا : سٹیٹ بینک

کارفنانسنگ کے تحت بینکوں سے قرضوں کی فراہمی میں 11 ماہ کے دوران 41 فیصد اضافہ ہوا : سٹیٹ بینک

اسلام آباد (اے پی پی 20 جولائی 2021) کارفنانسنگ کے تحت بینکوں کی جانب سے قرضوں کی فراہمی میں گزشتہ مالی سال کے پہلے 11 ماہ کے دوران 41 فیصد اضافہ ہوا ہے۔سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال میں جولائی تا مئی 2020-21 کے دوران کارفنانسنگ کی مد میں قرضوں کا اجرا279.5 ارب روپے تک بڑھ گیا جبکہ مالی سال 2019-20 کے اختتام پر قرضوں کی فراہمی کا حجم 211.11 ارب روپی رہا تھا۔

اس طرح مالی سال 2020 کے مقابلہ میں گزشتہ مالی سال 2021 کے پہلے گیارہ مہینوں کے دوران گاڑیوں (کاروں) کی خریداری کے لئے بینکوں کی جانب سے قرضوں کی فراہمی 86.5 ارب روپے یعنی 41 فیصد اصافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کاروں کی خریداری کے لئے اسلامک بینکوں کی طرف سے قرضوں کی فراہمی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور مجموعی قرضہ جات میں اسلامی بینکاری کے شعبہ کے فراہم کردہ قرضوں کی شرح 60 فیصد تک بڑھی ہے۔

عارف حبیب لمیٹڈ کے شعبہ ریسرچ کے سربراہ طاہر عباس نے اس حوالہ سے کہا ہے کہ کووڈ۔19 سے متاثر معاشی سرگرمیوں کی بحالی کے لئے مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں کمی کے فیصلہ سے مقامی معیشت میں نمایاں بہتری ہوئی ہے جس کی وجہ سے قرضوں کے اجرا میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے اقدامات کے نتیجہ میں زرعی معیشت کی ترقی سے کارفنانسنگ کی شرح میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

برادر اسلامی ملک ملائیشیا میں کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد تعداد 9 لاکھ سے تجاوز کر گئی

برادر اسلامی ملک ملائیشیا میں کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد  تعداد 9 لاکھ سے تجاوز کر گئی

کوالالمپور (اے پی پی 19 جولائی 2021) ملائیشیا میں کورونا وائرس کے مجموعی کیسز کی تعداد 9 لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ اتوار کو ملائیشین وزارت صحت کی طرف سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 12528 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد ملک میں مجموعی کیسز کی تعداد 9 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ وائرس سے متاثرہ مزید 138 مریض چل بسے جس کے بعد ملک میں اموات کی تعداد 6866 تک پہنچ گئی ہے۔

وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل نور ہشام عبداللہ نے اپنے بیان میں کہا کہ نئے سامنے آنے والے 12528 کیسز میں سے 19 کیسز دوسرے ممالک سے آئے ہیں جبکہ 12509 مقامی سطح پر منتقل ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ویکسی نیشن کے مثبت نتائج نظر آنا شروع ہو گئے ہیں، عوام کو چاہیے کہ وہ جلد از جلد ویکسین لگائیں تاکہ مہلک وبا پر مکمل قابو پایا جا سکے۔

چینی سفیر نونگ رونگ کیبری کی آرمی چیف جنرل قمر باجوہ سے ملاقات ملاقات ، امن و استحکام کی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق

چینی سفیر نونگ رونگ کیبری کی آرمی چیف جنرل قمر باجوہ سے ملاقات ملاقات ، امن و استحکام کی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق



اسلام آباد (اے پی پی 19 جولائی 2021)  ری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے پاکستان میں چینی سفیر نونگ رونگ نے پیر کو جنرل ہیڈ کوآرٹرز میں ملاقات کی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ اآئی ایس پی اآر کی طرف سے جاری پریس ریلیز کے مطابق بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے چینی شہریوں کے ساتھ پیش آنے والے داسو بس کے حالیہ واقعے کے تناظر میں ، چین کی حکومت اور عوام اور خاص طور پر سوگوار خاندانوں سے دلی ہمدردی اور گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

بری فوج کے سربراہ نے کہا کہ پاک فوج آزمودہ دوست چین کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور پاکستان میں کام کرنے والے چینی شہریوں کو مکمل تعاون فراہم کرنے اور ان کی بھرپور سکیورٹی کی بھی یقین دہانی کرائی۔

انہوں نے کہا کہ جب ہم امن کے لئے کام کرتے ہیں ، ہمیں عزم کے ساتھ ان دشمن قوتوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کے لئے مستحکم رہنے کی ضرورت ہے جو خاص طور پر چین پاکستان اسٹریٹجک تعاون کے لئے خطرہ ہیں۔ دونوں نے خطے میں امن و استحکام کے لئے ملکر کوششیں جاری رکھنے کی پر اتفاق کیا۔

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

www.myvoicetv.com

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں